پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 400

عرس خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا باضابطہ آغاز پیر کو پرچم بلند کرنے کے ساتھ ہوگا

0
عرس خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا باضابطہ آغاز پیر کو پرچم بلند کرنے کے ساتھ ہوگا
عرس خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا باضابطہ آغاز پیر کو پرچم بلند کرنے کے ساتھ ہوگا

خواجہ معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی 809 ویں سالانہ عرس نماز عصر کے بعد درگاہ کے بلند دروازے پر عرس کے جھنڈے کو بلند کرنے کے ساتھ  باضابطہ آغاز ہوگا۔ عرس کے دوران درگاہ میں داخلے کے لئے آن لائن رجسٹریشن کے عمل کے لئے ایک ویب سائٹ بھی جاری کی گئی ہے۔

اجمیر: راجستھان کے اجمیر میں خواجہ معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی 809 ویں سالانہ عرس شام نماز عصر کے بعد درگاہ کے بلند دروازے پر عرس کے جھنڈے کو بلند کرنے کے ساتھ باضابطہ آغاز ہوگا۔

روایتی طور سے بھیلواڑہ کا گوری خاندان پرچم کی تقریب انجام دے گا۔ عالمی وبائی مرض کووڈ کی وجہ سے درگاہ کے غریب نواز گیسٹ ہاؤس سے جھنڈے کا جلوس چنندہ افراد کے ساتھ درگاہ شریف پہنچنے اور پرچم پیش کرنے کے لئے روانہ ہوگا۔ عرس کے پیش نظر انتظامیہ، پولیس، درگاہ کمیٹی، انجمن اور درگاہ کے دیوان وغیرہ متحرک ہیں۔

درگاہ میں داخلے کے لئے آن لائن رجسٹریشن

عرس کے دوران درگاہ میں داخلے کے لئے آن لائن رجسٹریشن کے عمل کے لئے ایک ویب سائٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ درگاہ میں اندراج کے بعد ہی عرس کے دوران داخلہ دستیاب ہوگا۔ نیز، کورونا کی نگیٹیو رپورٹ بھی پیش کرنی ہوگی۔

درگاہ کمیٹی نے زائرین کی آمد کے پیش نظر ریسٹنگ سائٹ پر انتظامات کرنا شروع کردیئے ہیں۔ کمیٹی نے پبلک مقامات پر عارضی دکانیں لگانے کے لئے عوامی اشتہار کے ذریعہ ایک تجویز بھی طلب کی ہے۔

مختار عباس نقوی کا 17 فروری کو اجمیر کا دورہ

درگاہ کمیٹی کے صدر امین پٹھان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کا 17 فروری کو اجمیر کے دورے کا پروگرام ہے۔ وہ یہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے چادر چڑھا سکتے ہیں اور درگاہ کمیٹی کے ذریعہ درگاہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا افتتاح کرسکتے ہیں۔

بائیڈن نے کہا، ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی نہیں ہونی چاہئے

0
بائیڈن نے کہا، ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی نہیں ہونی چاہئے
بائیڈن نے کہا، ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی نہیں ہونی چاہئے

وائٹ ہاؤس فی الحال اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مسٹر ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی حاصل کرنی چاہئے یا نہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ (ٹرمپ) اس کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی حاصل نہیں ہونی چاہئے۔

جو بائیڈن نے جمعہ کو سی بی ایس نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’’مجھے یقین نہیں ہے…. کیونکہ ان کا غیر یقینی رویہ بغاوت سے متعلق ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ ان (مسٹر بائیڈن) کو یقین ہے کہ ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس حقیقت کے علاوہ اس کی کوئی دوسری اہمیت نہیں ہے کہ وہ خفیہ معلومات کا انکشاف کرسکیں۔

قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاؤس فی الحال اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مسٹر ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی حاصل کرنی چاہئے یا نہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ (ٹرمپ) اس کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔

خیال رہے امریکہ میں سابق صدور کے پاس پالیسی سازی کے ایک بڑے ایشوز تک خفیہ انٹیلی جنس بریفنگ تک رسائی ہے۔

امریکہ کا یمن کے حوثی باغیوں کو  غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے پر غور و خوض

0
امریکہ کا یمن کے حوثی باغیوں کو  غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے پر غور و خوض
امریکہ کا یمن کے حوثی باغیوں کو  غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے پر غور و خوض

ٹرمپ کی سابقہ ​​انتظامیہ نے حوثی گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں رجسٹر کیا تھا۔

واشنگٹن: امریکہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کو غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے نکالنے پر غور کر رہا ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکی کانگریس اور محکمہ خارجہ کے عہدیداروں کے حوالہ سے یہ اطلاع دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر اس تناظر میں کانگریس کو آگاہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ان کے دور میں ٹرمپ کی سابقہ ​​انتظامیہ نے حوثی گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں رجسٹر کیا تھا۔ اس گروپ کے رہنما عبدالمالک الحوثی اور اس کے بھائی اور فوج کے کمانڈر عبد الخالق الحوثی اور دیگر انصار اللہ کمانڈر عبداللہ یحیی الحکیم کو بھی عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

ورجینیا میں سزائے موت کے خاتمے کے بل کو منظوری

0
ورجینیا میں سزائے موت کے خاتمے کے بل کو منظوری
ورجینیا میں سزائے موت کے خاتمے کے بل کو منظوری

ایوان سے منظور شدہ بل 2263 دولت مشترکہ میں سزائے موت کو ختم کرے گا اور موجودہ موت کی سزا کو بغیر کسی پیرول کے قید کی سزا میں بدل دے گا۔

واشنگٹن: امریکہ میں ورجینیا کے مرکزی قانون ساز ایوان نے ریاست میں سزائے موت ختم کرنے کے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔

ورجینیا کے قانون ساز ایوان نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ’’آج ورجینیا ہاؤس آف ڈیلیگیٹس نے سزائے موت کے التزام کو مسترد کرنے والے ایک بل کی منظوری دے دی۔ ایوان سے منظور شدہ بل 2263 دولت مشترکہ میں سزائے موت کو ختم کرے گا اور موجودہ موت کی سزا کو بغیر کسی پیرول کے قید کی سزا میں بدل دے گا‘‘۔

ریاستی گورنر رالف نورتھم کے دستخط کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا کیونکہ ایوان بالا کی سینیٹ نے اس ہفتہ کے شروع میں ہی یہ بل منظور کرلیا تھا۔

اسے بھی پڑھیں:

بائیڈن کو بین الاقوامی معاہدوں میں امریکہ کی فیصلہ کن پوزیشن کو ختم کرنا ہوگا: ڈیوڈ

بائیڈن کو بین الاقوامی معاہدوں میں امریکہ کی فیصلہ کن پوزیشن کو ختم کرنا ہوگا: ڈیوڈ

0
بائیڈن کو بین الاقوامی معاہدوں میں امریکہ کی فیصلہ کن پوزیشن کو ختم کرنا ہوگا: ڈیوڈ
بائیڈن کو بین الاقوامی معاہدوں میں امریکہ کی فیصلہ کن پوزیشن کو ختم کرنا ہوگا: ڈیوڈ

مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ مسٹر بائیڈن کے پیشرو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس’تنہا چلو‘ کی پالیسی نے امریکہ کو عالمی معاہدوں اور تنظیموں سے الگ کردیا ہے۔

واشنگٹن:ورلڈ بیانڈ وار پیس موومنٹ‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نوبل انعام کیلئے نامزد امیدوار ڈیوڈ سوانسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو امریکہ کی ’تنہا چلو‘ کی پالیسی میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

مسٹر سوانسن نے کہا کہ مسٹر بائیڈن کے پیشرو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس’تنہا چلو‘ کی پالیسی نے امریکہ کو عالمی معاہدوں اور تنظیموں سے الگ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا ’’نئی امریکی حکومت سے بہت سے مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی چودراہٹ کی پوزیشن کو بہتر بنائے اور معاہدوں میں سنجیدگی کے ساتھ تعاون کرے، باقی دنیا کے ساتھ باہمی تعاون اور نتیجہ خیز تعلقات ہوں‘‘۔

مہاراشٹر وقف بورڑ میں دو مسلم اراکین پارلیمنٹ امتیاز جلیل اور فوزیہ خان کی تقرری

0
مہاراشٹر وقف بورڑ میں دو مسلم اراکین پارلیمنٹ امتیاز جلیل اور فوزیہ خان کی تقرری
مہاراشٹر وقف بورڑ میں دو مسلم اراکین پارلیمنٹ امتیاز جلیل اور فوزیہ خان کی تقرری

امتیاز جلیل ریاست کے اورنگ آباد شہر سے مجلس اتحادالمسلمین سے لوک سبھا کے رکن ہیں جبکہ فوزیہ خان راشٹروادی کانگریس پارٹی سے حال ہی میں راجیہ سبھا کی ممبر بنائی گئی ہیں۔

ممبئ: مہاراشٹر ریاستی وقف بورڑ میں دو مسلم اراکین پارلیمنٹ امتیاز جلیل اور فوزیہ خان کی بطور رکن تقرری عمل میں آ ئی ہے۔

وزیر اقلیتی امور نواب ملک نے یہ اطلاع دی-

امتیاز جلیل ریاست کے اورنگ آباد شہر سے مجلس اتحادالمسلمین سے لوک سبھا کے رکن ہیں جبکہ فوزیہ خان راشٹروادی کانگریس پارٹی سے حال ہی میں راجیہ سبھا کی ممبر بنائی گئی ہیں۔

امریکی مفاد میں ہم چین کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں: بائیڈن

0

امریکی مفاد میں چین کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں جو بائیڈن۔ انہوں نے چین پر انسانی حقوق اور دانشورانہ املاک کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے مفاد میں ہوگا تو ہم چین کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔
مسٹر بائیڈن نے جمعرات کو وزارت خارجہ کی غیر ملکی پالیسی پر اپنے پہلے خطاب کے دوران یہ باتیں کہیں۔
انہوں نے کہا ’’ہم چین کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں، اگر وہ امریکہ کے مفاد میں ہو‘‘۔ انہوں نے چین کو امریکہ کا سب سے بڑا مدمقابل بتایا۔
انہوں نے چین پر انسانی حقوق اور دانشورانہ املاک کی خلافورزی کا الزام عائد کیا اور چین کے چیلنجوں خصوصی طور پر معاشی شعبے میں چین کے چیلنج کا سامنا کرنے کا وعدہ کیا۔
انہوں نے کہا ’’ہم اپنی خوشحالی، سلامتی اور جمہوری اقدار سے متعلق چیلنجوں کا براہ راست سامنا کریں گے۔

کسان تحریک کا حکومت کو پیغام: ” تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا”

0
کسان تحریک کا حکومت کو پیغام: " تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا"
کسان تحریک کا حکومت کو پیغام: " تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا"

شاہراوں پر خندقیں کھود کر، کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرکے، خاردار تاراور سڑکوں پر نکیلی کیلیں لگا کر کیا کسانوں کی تحریک کو روکا جاسکتا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

26 جنوری کی شام جس کسان تحریک کو تقریباً ختم مان لیا گیا تھا، کسان رہنماؤں کے چہرے مرجھانے لگے تھے، ان کے حامیوں میں مایوسی پھیلنے لگی تھی، خود سرکار اور اس کے ’کارندوں‘ نے ہی بازی پلٹ دی۔ اب اسی تحریک میں پہلے سے زیادہ شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ کسانوں کے عزائم اور حوصلے پہلے سے کہیں زیادہ بلند نظر آ رہے ہیں۔ وہیںحکومت کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس تحریک سے کیسے نمٹا جائے۔

اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ پچھلے تقریباً دوماہ سے جاری یہ کسان تحریک حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ نہ صرف مرکزی حکومت بلکہ ہریانہ اور یو پی سرکار کے لئے بھی یہ تحریک نیک شگون نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی کسانوں کو دباؤ میں لینے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لیکن جتنا دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تحریک میں اتنی ہی شدت آتی جا رہی ہے۔

26 جنوری کا لال قلعہ واقعہ

26 جنوری کو لال قلعہ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے بعد کسان لیڈران اور غیر جانب دار میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعہ جس طرح کے انکشافات کیے گئےاور جو الزامات لگائے گئے۔ ان سے حکومت کی منصوبہ بندی اور عزائم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

لال قلعہ کے واقعہ اور دہلی کے مختلف علاقوں میں ہوئے تشدد کو کسی بھی طرح سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ واقعی ایک قابل مذمت عمل تھا۔ لیکن ان واقعات کے پس منظر میں جن خداشت کا اظہار کیا گیا ہے، ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

در اصل 26 جنوری کو ’میڈیا‘ کی بھرپور مدد سے شام تک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ جیسے کسان لیڈران نے ’ٹریکٹر پریڈ‘ کے بہانے لال قلعہ پر حملہ کر دیا ہے اور قومی پرچم کی دانستہ طور پر بے حرمتی کی ہے۔ انہی واقعات کی روشنی میں حکومت اور پولیس انتظامیہ انتہائی سخت موڈ میں نظر آئی اورکسانوں پر کریک ڈاؤن کی تیاری کر لی گئی۔

وہ تو بھلا ہو حکمراں طبقہ کا کہ جس نے پہلے سنگھو بارڈر اور پھر غازی پور بارڈر پر کسانوں کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے تحت ان پر یلغار کردی۔ حکومت کا یہ داؤ بظاہر اُلٹا پڑ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے بعد مغربی یو پی میں ایک بار پھر کسان سڑکوں پر آ گئے اور راکیش ٹکیت ان کے مسیحا بن گئے۔

پھر راکیش ٹکیت لیڈر بن گئے

دیکھتے ہی دیکھتے پورے مغربی یوپی میں کسانوں کی مہا پنچایتیں ہونے لگیں۔ مظفر نگر، متھرا، بجنور اور باغپت وغیرہ کی ان مہا پنچایتوں میں ہزاروں اور لاکھوں لوگ شامل ہونے لگے۔ ایک آواز میں سب نے راکیش ٹکیت کو اپنا لیڈر مان لیا۔

اس مظفر نگر میں بھی ٹکیٹ لیڈر مان لیے گئے جہاں تقریباً سات سال پہلے سیاسی فصل کاٹنے کے لئے بی جے پی نے ہندو مسلم کے نام پر نفرت کا جو بیج بویا تھا، وہاں بھی مذہب اور ذات پات کو بھلا کر سب ایک پلیٹ فارم پر آ گئے۔

مرکز کے ساتھ ساتھ ہریانہ، پنجاب، راجستھان اور یو پی کی حکومتیں تمام تر کوششوں کے باوجود کسانوں کے حوصلوں کو توڑ نہیں سکیں۔ نتیجتاً مختلف ریاستوں سے ایک بار پھر کسانوں نے بڑی تعداد میں دہلی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اس بار انہیں احساس کرایا گیا کہ دہلی پہنچنا اتنا آسان نہیں ہے، جتنا کہ چین کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں داخل ہونا۔ جب کسان دہلی کی سرحد پر پہنچے تو انہیں ایسا محسوں ہوا کہ وہ اپنے ملک کی راجدھانی میں نہیں، کسی دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو رہے ہیں۔

خاردار تاراور نکیلی کیلوں سے تحریک روکنے کی کوشش

در اصل حکومت کو لگتا ہے کہ شاہراوں پر خندقیں کھود کر، کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرکے، خاردار تاراور سڑکوں پر نکیلی کیلیں لگا کر کسانوں کی تحریک کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ حکومت کی غلط فہمی ہے۔

ایک جمہوری نظام میں انٹرنیٹ بند کرکے، میڈیا پر بندشیں لگا کر، سوشل میڈیاپر قدغن لگا کر یا غیر جانبدار صحافیوں کو ہراساں کرکے ان کی آواز کو کبھی دبایا نہیںجا سکتا۔اگر حکومت ایسا ہی چاہتی ہے تو بہتر ہوگا کہ ملک میں ایرجنسی کا اعلان کر دیا جائے۔ حکومت نے اپنے جابرانہ اقدامات سے کسانوں میں غم و غصہ تو پیدا کیا ہی ہے، ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع دے دیا ہے۔

26 جنوری سے پہلے غازی پور بارڈر کا دھرنا کسان تحریک کا محض ایک حصہ تھا، لیکن راکیش ٹکیت کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد پوری کسان تحریک کا مرکز غازی پور بارڈر بن گیا اورسب کی نگاہیں راکیش ٹکیت پر مرکوز ہو گئیں۔

سیاسی جماعتوں کی حمایت

26 جنوری کے بعد غازی پور بارڈر پر بی جے پی کے علاوہ تقریباً سبھی پارٹیوں کے لیڈر یہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ بی جے پی کی ایک لمبے عرصے تک حلیف رہی شیو سینا اور شرومنی اکالی دل کے لیڈران نے بھی راکیش ٹکیت سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

راہل گاندھی نے بھی مرکزی حکومت پر طنز کیا۔ راہل گاندھی نے مظاہروں کی جگہ پر کی جا رہی ناکہ بندی کی تصویروں کو ٹوئیٹ کیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا، "حکومت ہند، دیواریں نہیں، پُل بنائے۔” ساتھ ہی حکومت جس طرح کسانوں کی تحریک سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، اس سے غم و غصہ اور بڑھ رہا ہے۔ وہ اس لئے کیونکہ کسانوں کے احتجاج کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مظاہرہ گاہوں کو قلعہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے اطراف میں کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے اورخاردار تاروں کو بچھادیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف غازی پور میں ہو رہا ہے، بلکہ سنگھو اور ٹکری بارڈر پر بھی ایسی ہی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

سڑک پر سیمنٹ کی بڑی بڑی سلیب رکھی گئی ہیں اور اس میں بیرکیڈز کے ساتھ کیلیں لگائی گئی ہیں۔لیکن حکومت کو یاد نہیں کہ تقریباً دو ماہ قبل کسان اسی طرح کی رکاوٹوں کو عبور کرکے دہلی کی سرحد پر پہنچے تھے۔

دو ماہ قبل جب کسانوں نے دہلی کوچ کیا تھا تو شدید سردی میں کسانوں پر پانی کی بوچھار کی گئی، لاٹھی چارج ہوا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، راستوں میں خندقیں کھودی گئیں، بڑی تعداد میں سلامتی دستوں کو تعینات کیا گیا، اس کے باوجود کسان اپنے عزائم پر قائم رہے اور آگے بڑھتے رہے۔آج بھی تمام تر پریشانیوں اور صعوبتوں کے بعد بھی وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش

ایسا نہیں ہے کہ صرف کسانوں پر پہرہ بٹھایا جا رہا ہے، بلکہ کسانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کی آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ یعنی جن علاقوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں، وہاں انٹر نیٹ بند کیا جا رہا ہے، غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں پر شکنجہ کسا جا رہا ہے، ان پر مقدمے ہو رہے ہیں، گرفتار کیا جا رہا ہے۔

کسانوں کی حمایت میں آوازاٹھانے اور حکومت کی تنقید کرنے والوں کے ٹوئٹر ہینڈلس کو بند کیا جا رہا ہے۔ اگر کہا جائے کہ آج ہم لوگ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے دور میں ہیں، تو بیجا نہ ہوگا۔

یکم فروری کو دن میں ٹوئٹر نے اچانک تقریباً 250 اکاؤنٹس کو بند کر دیا، حالانکہ زبردست دباؤ کے بعد شام تک انہیں بحال کر دیا گیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ دہلی بارڈر پر کسانوں کی تحریک میں شامل ہونے کے لئے پنجاب سے کسان جس ٹرین سے آرہے تھے، اس کو دوسری طرف موڑ دیا گیا۔

سوراج انڈیا کے رہنما یوگیندر یادو نے ٹوئٹ کیا کہ فیروز پور-ممبئی پنجاب میل کو روہتک سے ریواڑی کے راستے موڑ دیا گیا، تاکہ تقریباً ایک ہزار کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روکا جاسکے۔

ان تمام حالات کو دیکھ کرکیا ایسا نہیں لگتا کہ اب ہندوستان فاشزم اور تاناشاہی کی طرف بڑھ رہا ہے؟ اگر چہ ہندوستان میں جمہوریت کی بنیادیں اتنی گہری ہیں کہ انہیں کھودنا اتنا آسان نہیں ہے۔ آج بھی ملک میں جمہوریت اور انصاف پسندوں کی اکثیرت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ملک میں فاشزم اپنے پیر جما چکا ہے اور وہ دھیرے دھیرے خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

مخالفین کی آواز دبانے کو اسی زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ لہذا وقت رہتے اگر اسے نہیں روکا گیا تو یہ ہمارے ملک کی تاریخ اور اقدار و روایات کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ پھر بھی حکمرانوں کوتاریخ پر نظر رکھنی چاہئے۔ بقول حبیب جالبؔ؎

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ

وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

 

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں

کسانوں کے ساتھ حکومت کا سلوک سرحد پر مقابلہ جیسا: منوج جھا

0
کسانوں کے ساتھ حکومت کا سلوک سرحد پر مقابلہ جیسا: منوج جھا
کسانوں کے ساتھ حکومت کا سلوک سرحد پر مقابلہ جیسا: منوج جھا

حکومت دہلی کی سرحد پر مظاہرہ کررہے کسانوں کے ساتھ ایسا سلوک کررہی ہے گویا سرحد پر مقابلہ کیا جارہا ہو۔ کسانوں کے احتجاج کے مقام پر خاردار تاروں، باڑوں اور بیرکیڈنگ کی گئی ہے۔

نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے جمعرات کے روز ایوان بالا میں کسانوں کی تحریک سے نمٹنے کے حکومتی طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت سننے اور سنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ منوج جھا نے صدر کے خطاب پر شکریہ کے ووٹ پر بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ کسان اور کاشتکار اب بھی ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور مودی حکومت جس طرح سے تحریک چلانے والے کسانوں کے ساتھ سلوک کررہی ہے وہ مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’’حکومت دہلی کی سرحد پر مظاہرہ کررہے کسانوں کے ساتھ ایسا سلوک کررہی ہے گویا سرحد پر مقابلہ کیا جارہا ہو۔ کسانوں کے احتجاج کے مقام پر خاردار تاروں، باڑوں اور بیرکیڈنگ کی گئی ہے۔ تحریک سے نمٹنے کا کیا یہ مناسب طریقہ ہے؟ کسانوں کے لئے کہا گیا ہے کہ تحریک میں دہشت گرد، نکسلی، ماؤنواز اور خالصتانی شامل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بات سنی جانی چاہئے۔ کسان جتنے بہتر طریقے سے اپنی بات سمجھتے ہیں اتنا نہ تو لیڈر، نہ ہی حکمران جماعت اور نہ ہی حزب اختلاف سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سننے اور سنانے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ کسان تحریک اب دہلی کی حدود تک ہی محدود نہیں رہی۔ اب یہ تحریک ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل رہی ہے۔

اس سے قبل راجیہ سبھا کی آج کی کارروائی شروع ہوتے ہی پارلیمنٹری کمیٹیوں اور دیگر دستاویزات کی رپورٹس ایوان کے ٹیبل پر رکھی گئیں۔

لگاتار کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی میں تیسرے دن بھی خلل

0
لگاتار کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی میں تیسرے دن بھی خلل
لگاتار کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی میں تیسرے دن بھی خلل

بجٹ اجلاس کے تیسرے روز بھی کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہو سکا۔ ایوان کے وسط میں آکر اپوزیشن ممبران نے زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

نئی دہلی: لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے تیسرے روز لگاتار کسانون کے معاملے پر حزب اختلاف کے ممبران نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہو سکا شام 4 بجے، اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوال شروع کردیا اور بی جے پی کے رمیش بدھوڑی کا نام سوالات کرنے کے لئے پکارا۔ دوسری طرف، ایوان کے وسط میں آکر حزب اختلاف کے ممبران نے زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

نعرے بازی کے درمیان، روڈ ٹرانسپورٹ قومی شاہراہ کے وزیر نتن گڈکری نے اس محکمہ سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ مسٹر بدھوڑی، جنہوں نے معذور افراد کی سہولت سے متعلق سوالات کئے تھے، اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وہ معذور افراد کی دلچسپی کے بارے میں سوالات اٹھائیں اور ایوان میں خلل نہ ڈالیں۔

جب دو سوال ہونے کے بعد نعرہ بازی بند نہیں ہوئی تو اسپیکر برلا نے اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وقفہ سوال اپوزیشن کے لئے بہت اہم ہے۔ اس میں حکومت عوامی دلچسپی کے موضوعات پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ لہذا، وقفہ سوال میں خلل نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن حزب اختلاف کے ممبروں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی چار بجے تک ملتوی کردی۔