پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 398

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی: سینیٹ

0
ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی: سنیٹ
ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی: سنیٹ

سینیٹ نے منگل کے روز 56-44 تناسب سے مسٹر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور بدھ کی سہ پہر اس مواخذے پر دوبارہ بحث ہوگی۔

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی ہے۔

سینیٹ نے منگل کے روز 56-44 تناسب سے مسٹر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور بدھ کی سہ پہر اس مواخذے پر دوبارہ بحث ہوگی۔

اس سے قبل سابق صدر کے وکلاء نے سینیٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ مواخذے کو غیر آئینی اور واضح طور پر جھوٹا الزام قرار دے کر مسترد کریں، لیکن سینیٹروں نے ان کی اپیل مسترد کردی اور مواخذہ کو آئینی قرار دے دیا۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ مسٹر ٹرمپ کا 6 جنوری کو کیپٹل ہل میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ مسٹر ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری کو واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی بلڈنگ کیپٹل ہل پر حملہ کرکے املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ پُرتشدد واقعہ مسٹر ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس کے قریب ہزاروں حامیوں سے خطاب کرنے کے بعد پیش آیا تھا۔

مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ پر کیپٹل ہل میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف مواخذہ کی تحریک لائے جانے کی بات کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم

مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم

0
مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم
مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم

ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں جیسے بل کیسڈی، جان کارنن اور ٹیڈ کروز نے پہلے ہی اس بات پر مسٹر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی سرعام تنقید کی ہے کہ وہ سماعت کے دوران ٹھوس دلیل نہیں پیش کرسکی کہ سابق صدر کے خلاف مواخذہ کی سماعت آئینی ہے یا نہیں۔

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مواخذے کے مقدمہ پر بحث کے پہلے دن اپنے دفاعی وکیل کے دلائل پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سی این این نے اس معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ مسٹر ٹرمپ اپنے وکیل بروس کینٹر کی ابتدائی دلیل سے اتنے مایوس ہوگئے تھے کہ وہ تقریبا چیخ اٹھے تھے۔ ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں جیسے بل کیسڈی، جان کارنن اور ٹیڈ کروز نے پہلے ہی اس بات پر مسٹر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی سرعام تنقید کی ہے کہ وہ سماعت کے دوران ٹھوس دلیل نہیں پیش کرسکی کہ سابق صدر کے خلاف مواخذہ کی سماعت آئینی ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ سنیٹ میں مسٹر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی سماعت کو آئینی قرار دینے کے لئے منگل کے روز ووٹ ہوا، جس میں مواخذے کے حق میں 56 ووٹ اور اس کے خلاف 44 ووٹ پڑے۔ ریپبلکن پارٹی کے چھ قانون سازوں نے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں ووٹ دیا۔

بہار میں 17 وزراء کی حلف برداری کے ساتھ محکموں کی بھی ہوئی تقسیم

0
بہار میں 17 وزراء کی حلف برداری کے ساتھ محکموں کی بھی ہوئی تقسیم
بہار میں 17 وزراء کی حلف برداری کے ساتھ محکموں کی بھی ہوئی تقسیم

نتیش کابینہ کی تشکیل 16 نومبر کو ہوئی تھی۔ تب وزیراعلیٰ سمیت 15 لوگوں نے حلف لیا تھا۔ کابینہ تشکیل کے 85 دنوں بعد کابینہ کی توسیع میں 17 نئے وزیر بنائے گئے ہیں۔

پٹنہ: بہار کی نتیش حکومت کے کابینہ توسیع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نو، جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے سات اور آزاد رکن اسمبلی کو جگہ دیئے جانے کے ساتھ ہی آج وزراء کے مابین قلمدانوں کی تقسیم بھی کر دی گئی۔

گورنر ہاﺅس میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب

گورنر ہاﺅس میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں گورنر پھاگو چوہان نے سب سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سید شاہنواز حسین کو وزارتی عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ مسٹر حسین نے اردو میں عہدہ اور رازداری کا حلف لیا۔ اس کے بعد جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے شرون کمار نے وزارتی عہدہ کا حلف لیا۔

ان دونوں لیڈران کے بعد مدن سہنی (جے ڈی یو)، پرمود کمار (بی جے پی)، سنجے کمار جھا (جے ڈی یو)، لیثی سنگھ (جے ڈی یو)، سمراٹ چودھری، نیرج کمار سنگھ ببلو، سبھاش سنگھ، نتین نوین (سبھی بی جے پی)، سمت کمار سنگھ (آزاد)، سنیل کمار (جے ڈی یو)، نارائن پرساد (بی جے پی)، جینت راج (جے ڈی یو)، آلوک رنجن (بی جے پی)، محمد زماں خان (جے ڈی یو)، جنک رام (بی جے پی) نے وزارتی عہدہ او ر رازداری کا حلف لیا۔ مسٹر سنجے جھا اور آلوک رنجن نے میتھلی زبان میں حلف لیا۔

شاہنواز حسین کو صنعت محکمہ کی ذمہ داری

سید شاہنواز حسین کو صنعت، شرون کمار کو دیہی ترقیات، مدن سہنی کو سماجی فلاح، پرمود کمار کو گنا صنعت اور قانون، سنجے کمار جھا کو آبی وسائل اور اطلاعات و رابطہ عامہ محکمہ، لیثی سنگھ کو خوراک اور صارفین تحفظ اور سمراٹ چودھری کو پنچایتی راج محکمہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اسی طرح نیرج کمار سنگھ عرف نیرج ببلو کو ماحولیات و جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی، سبھاش سنگھ کو کو آپریٹیو، نیتن نوین کو سڑک تعمیرات، سمت کمار سنگھ کو سائنس و ٹیکنالوجی، سنیل کمار کو امتناع منشیات، ایکسائز اور رجسٹریشن، نارائن پرساد کو سیاحت، جینت راج کو دیہی ورکس، آلوک رنجن کو فن و ثقافت و امور نوجوان، محمد زماں خان کو اقلیتی فلاح اور جنک رام کو کانکنی و آثار قدیمہ محکمہ کی ذمہ داری ملی ہے۔اس کے ساتھ ہی اب جنرل ایڈمنسٹریشن، داخلہ، کابینہ سکریٹریٹ، نگرانی، الیکشن اور ایسے سبھی محکمے جو کسی وزیر کو الاٹ نہیں کئے گئے ہیں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے پاس ہیں۔ وہیں نائب وزیراعلیٰ تارکشور پرساد کے ذمہ مالیات کمرشیل ٹیکس اور شہری ترقیات اور رہائش محکمہ اور نائب وزیراعلیٰ رینودیوی کے پاس آفات مینجمنٹ، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ فلاح، وجے کمار چودھری کے پاس تعلیم اور پارلیمانی امور، بجیندر پرساد یادو کے پاس توانائی، پلاننگ اور ترقیات، اشوک چودھری کے پاس عمارت تعمیرات، شیلا کماری کے پاس ٹرانسپورٹ، سنتوش کمار سمن کے پاس چھوٹی آبی وسائل، درج فہرست ذات وقبائل فلاح، مکیش سہنی کے ذمہ مویشی اور ماہی پروری، منگل پانڈے کے پاس محکمہ صحت، امریندر پڑتاپ سنگھ کے پاس زراعت، رام پریت پاسوان کے پاس پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، جیویش کمار کے پاس لیبر وسائل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور رام صورت کمار کے پاس محصولات اور اصلاحات اراضی محکمہ ہیں۔

غور طلب ہے کہ نتیش کابینہ کی تشکیل 16 نومبر کو ہوئی تھی۔ تب وزیراعلیٰ سمیت 15 لوگوں نے حلف لیا تھا۔ جن میں سے ایک میوالال چودھری نے بعد میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ کابینہ تشکیل کے 85 دنوں بعد کابینہ کی توسیع میں 17 نئے وزیر بنائے گئے ہیں۔

بہار اسمبلی میں 243 سیٹیں ہیں۔ کل تعداد کی 15 فیصد حصہ داری کابینہ میں ہوسکتی ہے۔ اس کے مطابق بہار میں وزیراعلیٰ سمیت کل 36 وزیر ہوسکتے ہیں۔ آج کی توسیع کے بعد نتیش حکومت میں وزراء کی تعداد 31 ہوگئی ہے۔

غلام نبی آزاد اپنے الوداعی خطاب میں ہوئے جذباتی

0
غلام نبی آزاد اپنے الوداعی خطاب میں ہوئے جذباتی
غلام نبی آزاد اپنے الوداعی خطاب میں ہوئے جذباتی

راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد جموں و کشمیر کے سری نگر میں گجرات سے سیاحوں کو لے جانے والی بس پر 2005 میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد منگل کو ایوان میں اس وقت جذباتی ہو گئے جب وہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں گجرات سے سیاحوں کو لے جانے والی بس پر 2005 میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کررہے تھے۔

محترم آزاد نے دہشت گردوں کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے اور دارالحکومت سری نگر پہنچے تو دہشت گردوں نے اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لئے گجرات کے سیاحوں سے بھری بس پر حملہ کیا۔ بہت سارے لوگ اس میں مارے گئے۔

انہوں نے کہا "جب وہ جائے واقعہ پر پہنچے تو پولیس نے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔” اس وقت کے وزیر اعلی گجرات نریندر مودی اور میری درخواست پر مرکز کا ایک خصوصی طیارہ سیاحوں کو گجرات لے جانے کے لئے سری نگر ایئرپورٹ پہنچا۔ میں وہاں ان بچوں سے ملاقات کی جن میں کسی کے والد اور کسی کی ماں اس حملے میں مارے گئے تھے۔ ان بچوں نے بھی مجھے گلے لگایا اور رونے لگے۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے محترم آزاد ایوان میں جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایوان میں جذباتی ہو گئے تھے۔ ان کے گلے میں تکلیف تھی اور انہوں نے کئی بار پانی پیا۔ وہ اپنی بات پوری نہیں کرسکے اور انہوں نے انگلیوں کے اشارے سے ممبروں کو اپنی بات بتائی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنسو بھی پونچھے۔

ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت ہے

جناب غلام نبی آزاد نے دہشت گردی کے خاتمے کو ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت ہے۔ ہمسایہ ملک پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان بہتر حالت میں ہیں کیونکہ ان کی سوچ مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک میں مسلمان کسی ہندو یا عیسائی سے نہیں لڑ رہے بلکہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ خوشحالی لائے گا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، خواتین بیوہ ہوئیں اور بچے یتیم ہوگئے۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا "گذر گیا وہ، جو چھوٹا سا فسانہ تھا، پھول تھے، چمن تھا اور آشیانہ تھا، نہ پوچھ اجڑے چمن کی داستاں، تھے چار تنکے، لیکن آشیانہ تو تھا۔

انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے اور لوگوں کی بحالی کے لئے اپنی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا "دل ناامید نہیں ہے، یہ ناکامی ہی تو ہے، صبح تو ہوگی کبھی، لمبی ہی صحیح، شام ہی تو ہے۔

راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے والے ممبران میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے میر محمد فیاض اور نذیر احمد لوائے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے شمشیر سنگھ منہاس شامل ہیں۔

جون پور: جلال پور میں سڑک حادثہ میں چھ لوگوں کی موت

0

 

جون پور-بنارس سرحد پر لہنگ پور گاؤں کے نزدیک ٹرک اور پک اپ کے آمنے سامنے ٹکرانے کے حادثے میں 6 افراد ہلاک اور 6 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔

جون پور: اتر پردیش میں ضلع جون پور کے جلال پور علاقے میں منگل کی صبح ٹرک اور پک اپ کے ٹکرانے سے کم از کم چھ افراد کی موت ہوگئی اور چھ دیگر شدید زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جون پور-بنارس سرحد پر لہنگ پور گاؤں کے نزدیک ٹرک اور پک اپ کے آمنے سامنے ٹکرانے کے حادثے میں 6 افراد ہلاک اور 6 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس حادثے کی اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور زخمیوں کو باہر نکال کر انہیں علاج کے لئے اسپتال بھیج دیا۔

ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سنجے کمار نے بتایا کہ سرائے خواجہ تھانہ علاقہ کے گاؤں جلال پور کے رہنے والے ایک شخص کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے گاؤں کے لوگ پک-اپ سے بنارس گئے تھے۔ واپسی پر جون پور -بنارس سرحد پر جلال پور تھانہ علاقہ کے لہنگ پور گاؤں کے نزدیک ٹرک اور پک اپ کے درمیان زبردست تصادم ہوا۔ حادثے میں پانچ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک نے اسپتال کے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔

حادثے میں پک- اپ پر سوار 5 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں علاج کے لئے ڈسٹرکٹ اسپتال جون پور میں داخل کیا گیا ہے اور ایک کو بنارس بھیجا گیا ہے۔ پولیس نے حادثے کے بعد ٹرک کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو گرفتار

0
ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو گرفتار
ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو گرفتار

یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو کو گرفتار کرنے میں دہلی پولیس کامیاب ہوگئی۔

نئی دہلی: دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو کو گرفتار کیا۔
خصوصی سیل کے ایک سینئر افسر نے منگل کے روز بتایا کہ ساؤتھ ویسٹ رینج کی ٹیم ملزم دیپ سدھو کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، جو 26 جنوری سے مفرور تھا۔ دہلی پولیس نے دیپ سدھو کی گرفتاری پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ 26 جنوری کو دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے واقعے اور لال قلعے پر جھنڈے لہرانے کے پیچھے پنجابی اداکار دیپ سدھو کا نام سامنے آیا تھا۔

راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری

0
راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری
راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری

جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل میں پڈوچیری میں نافذ آئین کے آرٹیکل 239A کو جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی لاگو کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا نے ریاست جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات سے متعلق جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2021 کو پیر کو منظوری دے دی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ جے کشن ریڈی نے ایوان میں مختصر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں نو تشکیل شدہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ اپنے بیان میں مسٹر ریڈی نے جموں و کشمیر اور لداخ میں ترقیاتی کاموں کی تفصیلات بتائی۔

یہ بل ایوان میں جمعرات کو جموں کشمیر تنظیم نو (ترمیم) آرڈیننس کی جگہ پیش کیا گیا تھا اور یہ جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی جگہ لے گا۔

اس بل میں پڈوچیری میں نافذ آئین کے آرٹیکل 239A کو جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی لاگو کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بل میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں تعینات انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس، انڈین پولیس سروس اور انڈین فاریسٹ سروس کے افسران دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ م میں تعینات رہیں گے۔ مستقبل میں دونوں علاقوں کے افسران ’اروناچل پردیش، گوا، میزورم یونین ٹیریٹری کیڈر‘ سے آئیں گے۔ اس بل میں جموں و کشمیر کیڈر کا ’اروناچل پردیش، گوا، میزورم یونین ٹیریٹری کیڈر‘ میں انضمام کا التزام کرتا ہے۔

 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری

0
 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری
 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری

وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی تحریک واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت غریبوں کے لئے وقف ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو تینوں زرعی قوانین پر جاری کسانوں کی تحریک واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت غریبوں کے لئے وقف ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری ہیں۔

مسٹر مودی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب کے شکریہ کے ووٹ سے متعلق تین روز تک چلنے والی چرچا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 12 کروڑ کسانوں کے پاس دو ایکڑ سے بھی کم اراضی ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے دی جارہی امداد کا کوئی فائدہ نہیں مل پاتا، سرکار کا ارادہ ان امداد کو ان کسانوں تک پہنچانا ہے۔

کاشتکاروں کو اپنا احتجاج واپس لے لینا چاہئے

انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات گزشتہ حکومتوں کی بھی ہمیشہ سے ترجیحات میں رہی ہیں۔ انہوں نے اس کے لئے سابق وزرائے اعظم لال بہادر شاستری اور چودھری چرن سنگھ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو اپنا احتجاج واپس لے لینا چاہئے۔ کوئی قانون حتمی نہیں ہے۔ ان میں بہتری کی وسیع گنجائش ہے اور بعد میں بھی بہتری لائی جائے گی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی ایک بار جب قانون نافذ ہوجائے تو ان میں جو بھی کمی ہے اسے دور کردیا جائے گا۔

پورنیہ: ٹرک کی زد میں آنے سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوانوں کی موت

0
پورنیہ: ٹرک کی زد میں آنے سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوانوں کی موت
پورنیہ: ٹرک کی زد میں آنے سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوانوں کی موت

موٹر سائیکل پر سوار تین افراد اتوار کی رات بارات تقریب میں شرکت کیلئے ضلع کے دھمداہا تھانہ علاقہ کے رائے پورا گاﺅں جارہے تھے تبھی فریانی گاﺅں کے نزدیک ٹرک کی زد میں آنے سے ان کی موت ہوگئی۔

پورنیہ: بہار میں پورنیہ ضلع کے مرنگا تھانہ علاقہ میں ٹرک کی زد میں آنے سے تین نوجوانوں کی موت ہوگئی۔

پولیس ذرائع نے سموار کو یہاں بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار تین افراد اتوار کی رات بارات تقریب میں شرکت کیلئے ضلع کے دھمداہا تھانہ علاقہ کے رائے پورا گاﺅں جارہے تھے تبھی فریانی گاﺅں کے نزدیک ٹرک کی زد میں آنے سے ان کی موت ہوگئی۔

مرنے والوں کی شناخت کٹیہار ضلع کے پھلکا تھانہ علاقہ باشندہ شمبھو محلدار، سورج رشی دیو اور گیانی رشی دیو کے طور پر کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ٹرک ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہوگیا۔ واقعہ کی جانکاری کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی ہے.

اتراکھنڈ میں تباہ شدہ سرنگ ملبے سے ٹھپ، 170 افراد لاپتہ، اب تک 10 لاشیں برآمد

0
In Uttarakhand, 170 people are missing and 10 bodies have been recovered so far
In Uttarakhand, 170 people are missing and 10 bodies have been recovered so far

چمولی میں اتوار کے روز قدرتی گلیشیر ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پیر کی صبح تک نجات نہیں مل سکی، جہاں اب تک لگ بھگ 170 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

چمولی / دہرادون: اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں اتوار کے روز قدرتی گلیشیر ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پیر کی صبح تک نجات نہیں مل سکی، جہاں اب تک لگ بھگ 170 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) نے آج صبح پھر سے سرنگ کے اندر کا راستہ کھولنے کا کام شروع کیا۔

دریں اثنا ء، الکانندا ندی سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔

ایس ڈی آر ایف کے کمانڈنٹ نونیت بھلر نے بتایا کہ ملبے کی وجہ سے سرنگ کے اندر کا راستہ ابھی بھی بند ہے جسے جے سی بی کے ذریعہ کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیلا گاؤں کے نزدیک الکانندا ندی میں نامعلوم لاش ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-چین سرحد کو جوڑنے والا وشنو پریاگ پل تباہ ہوگیا ہے۔

مسٹر بھلر نے بتایا کہ اب تک تقریبا 170 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں بان گنگا پروجیکٹ کے 22 افراد اور این ٹی پی سی پروجیکٹ کے 148 افراد شامل ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر دس لاشیں نکالی گئی ہیں، جب کہ ہند- تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے تعاون سے 12 افراد کو بچایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 30 افراد سرنگ کے اندر پھنس گئے ہیں، جنہیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔