پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 397

ٹویٹر سرکاروں، عہدیداروں سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کرے گا شناخت

0
ٹویٹر سرکاروں، عہدیداروں سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کرے گا شناخت
ٹویٹر سرکاروں، عہدیداروں سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کرے گا شناخت

ٹویٹر زیادہ تر ممالک میں سرکار اور عہدیداروں کے آن لائن اکاؤنٹس کی شناخت کرے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے اکاؤنٹس بھی شامل

واشنگٹن: مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر زیادہ تر ممالک میں سرکار اور عہدیداروں کے آن لائن اکاؤنٹس کی شناخت کرے گا۔

ٹویٹر نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ "اگست 2020 میں ہم نے دو اضافی زمرے میں اکاؤنٹس کو وسعت دی ہے۔ پہلا اہم سرکاری عہدیداروں کے اکاؤنٹس اور دوسرا ریاست سے وابستہ میڈیا اداروں سے متعلق اکاؤنٹس۔ اس ابتدائی کارروائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبروں میں نمائندگی والے ممالک کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔”

کمپنی نے اپنے بیان میں بتایا کہ ٹویٹر 17 فروری سے جی 7 ممالک میں اس کو وسعت دے گا۔ گزشتہ سال اگست میں ٹویٹر نے پہلے مرحلے میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کے آن لائن عام اکاؤنٹس کی شناخت کی تھی۔

اگلے ہفتے دوسرے مرحلے میں کنیڈا، کیوبا، ایکواڈور، مصر، جرمنی، ہونڈوراس، انڈونیشیا، ایران، اٹلی، جاپان، سعودی عرب، سربیا، اسپین، تھائی لینڈ، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے اکاؤنٹس کی نشاندہی کا پروگرام کر ے گا۔

زرعی قوانین کے خلاف آر پار کی جنگ رہے گی جاری: ٹکیت

0
زرعی قوانین کے خلاف آر پار کی جنگ رہے گی جاری: ٹکیت
زرعی قوانین کے خلاف آر پار کی جنگ رہے گی جاری: ٹکیت

راکیش ٹکیت نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جب تک ایم ایس پی پر قانون نہیں بنے گا اور تینوں قوانین واپس نہیں ہوں گے تب تک کسانوں کی گھر واپسی نہیں ہوگی۔

الور: زرعی قوانین کے تعلق سے جاری کسان تحریک کا اہم چہرہ بننے والے راکیش ٹکیت نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جب تک ایم ایس پی پر قانون نہیں بنے گا اور تینوں قوانین واپس نہیں ہوں گے تب تک کسانوں کی گھر واپسی نہیں ہوگی۔

مسٹر ٹکیت نے آج الور ضلع کے کشن گڑھ باس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کسان مخالف تینوں قوانین واپس لے۔ ان قوانین کو آمریت کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے۔ کسانوں کی فصلیں آدھی قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔ یہ کالا قانون ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک صورتحال صارف کی ہوگی۔ جب اناج، سبزیاں، دالیں تالے میں بند ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایم ایس پی پر گارنٹی قانون بنادے کہ اگر کوئی تاجر سرکاری خریداری سے کم پر خریدتا ہے تو اسے جیل ہوگی۔

ملک بھر کے کسان اس تحریک کے ساتھ

مسٹر ٹکیٹ نے کہا کہ ملک بھر کے کسان اس تحریک کے ساتھ ہیں۔ قانون پورے ملک کے لئے بنایا گیا ہے۔ ایم ایس پی کو پورے ملک میں لاگو ہونا چاہئے۔

راہل گاندھی کے راجستھان کے دورے سے ایک دن قبل ٹکیت کے الور میں اجلاس میں شرکت کے سوال سے وہ گریز کرتے نظر آئے، لیکن انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی سے ہمارا کوئی تال میل نہیں ہے۔ اس تحریک کے ذریعے سیاست چمکانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات نہیں لڑیں گے اور نہ ہی ووٹ کے لئے تحریک چل رہی ہے۔ 40 آدمیوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وہ حکومت سے بات چیت کرکے ہی فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت تینوں قوانین کو واپس لے لے اور ایم ایس پی پر بھی قانون بنادے اس کے بعد وہ اپنا احتجاج ختم کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری

راجستھان اسمبلی: بجٹ اجلاس کے دوسرے دن بی جے پی ارکان اسمبلی کا ہنگامہ

0
راجستھان اسمبلی: بجٹ اجلاس کے دوسرے دن بی جے پی ارکان اسمبلی کا ہنگامہ
راجستھان اسمبلی: بجٹ اجلاس کے دوسرے دن بی جے پی ارکان اسمبلی کا ہنگامہ

بی جے پی کے اسمبلی اراکین نے ایوان میں ہنگامہ اس وقت برپا کیا جب انہیں کوٹہ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کارکن پر حملے کے معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ ویل میں آکر دھرنے پر بیٹھ گئے۔

جےپور: راجستھان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوسرے دن آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ارکان اسمبلی نے کوٹہ میں راشٹریہ سویم سویک سنگھ (آر ایس ایس) کارکن پر حملے کے معاملے پر بحث کرنے کی منظوری نہ ملنے پر ایوان میں ہنگامہ کیا اور ویل میں آکر دھرنے پر بیٹھ گئے۔

بی جے پی رکن اسمبلی واسودیو دیونانی نے تحریک جاری رکھنے کی تجویز کےتحت یہ مسئلہ اٹھانے کی اپیل کی لیکن اسپیکر ڈاکٹر سی پی جوشی نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی زور زور سے بولنے لگے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ وہ ویل میں آکر نعرے بازی کرنے لگے۔ مسٹر جوشی نے بی جے پی ارکان اسمبلی سے اپنی سیٹ پر جانے کے لئے کہا لیکن وہ ویل میں ڈٹے رہے۔

دھاری وال پر جرائم کو تحفظ دینے کا الزام

بی جے پی ارکان اسمبلی نے پارلیمانی امور کے وزیر شانتی دھاری وال پر جرائم کو تحفظ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے مسٹر دھاری وال کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر جوشی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بڑھتے جرائم کے سلسلے میں بولنے کی اجازت دی، اس وقت اس مسئلے کو اٹھایا جا سکتا تھا۔ رکن اسمبلی نہیں مانے۔ ہنگامہ کم نہ ہوتا دیکھ کر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 12 بج کر 22 منٹ تک کے لئے ملتوی کردی۔

ایوان کی دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر راجیندر پارک نے ایوان کی کارروائی ایک بج کر تیس منٹ تک کے لئے پھر ملتوی کردی۔ بعد میں ڈیڑھ بجے ایوان کی کارروائی پھر سے شروع ہونے پر مسٹر جوشی نے بی جے پی رکن اسمبلی کو ان کے جذبات سے واین کے رہنما کو مطلع کرانے کی یقین دہانی دینے کے بعد تعطل ٹوٹا اور بی جے پی کے رکن اسمبلی اپنی سیٹوں پر واپس آگئے۔

سانحہ چمولی سے متاثرہ خاندانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا سنجے سنگھ  نے کیا مطالبہ

0
سانحہ چمولی سے متاثرہ خاندانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا سنجے سنگھ  نے کیا مطالبہ
سانحہ چمولی سے متاثرہ خاندانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا سنجے سنگھ  نے کیا مطالبہ

مسٹر سنجے سنگھ نے جمعرات کے روز وقفہ صفر کے دوران کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے سانحہ چمولی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے، جو ناکافی ہے۔

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا میں اتراکھنڈ میں پیش آنے والے سانحہ چمولی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

مسٹر سنجے سنگھ نے جمعرات کے روز وقفہ صفر کے دوران کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے اس سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے، جو ناکافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چمولی میں رونما ہونے والی قدرتی آفت میں جاں بحق 34 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں جبکہ 173 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سیکیورٹی اہلکار پن بجلی پروجیکٹ کی سرنگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں ترقیاتی کام ہونے چاہئیں لیکن دریاؤں کے بہاؤ کو نہ روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس تباہی کی وجہ سے 13 دیہاتوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ریلیف اور ریسکیو کا کام تیزی سے کرنے کی ضرورت ہے۔

چیک جمہوریہ میں اگست تک 70 لاکھ افراد کو ٹیکے لگائے جانے کی توقع: وزارت صحت

0
چیک جمہوریہ میں اگست تک 70 لاکھ افراد کو ٹیکے لگائے جانے کی توقع: وزارت صحت
چیک جمہوریہ میں اگست تک 70 لاکھ افراد کو ٹیکے لگائے جانے کی توقع: وزارت صحت

چیک جمہوریہ کی آبادی 1.07 کروڑ ہے۔ ملک کے 60 فیصد شہریوں نے ٹیکے لگوانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ فی الحال ٹیکہ کاری کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔

پراگ: چیک جمہوریہ میں اگست 2021 تک تقریبا 70 لاکھ افراد کو کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جانے کی توقع ہے۔

وزیر صحت جان بلاٹنی نے بتایا کہ وزارت صحت کو اگست تک 70 لاکھ کے قریب ٹیکے لگانے کی امید ہے۔

چیک جمہوریہ کی آبادی 1.07 کروڑ ہے۔ ملک کے 60 فیصد شہریوں نے ٹیکے لگوانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ فی الحال ٹیکہ کاری کا پہلا مرحلہ جاری ہے، اس دوران 80 سال سے زائد عمر کے افراد، نرسنگ ہوم کے مریض اور طبی عملہ اور کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ کام کرنے والے معالجین کو ٹیکے دیئے جارہے ہیں۔

مسٹر بلاٹنی نے کہا "اب تک 382416 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں، جن میں سے 116633 کو ٹیکے کی دوسری خوراک دی گئی ہے۔ ہمیں اپریل میں ویکسین کی فراہمی تیز ہونے کی توقع ہے، جس سے اگست تک ہمارے 70 لاکھ شہریوں کو ٹیکے لگائے جاسکیں گے۔

میانمار کے فوجی حکام پر امریکہ نے عائد کی پابندی

0
میانمار کے فوجی حکام پر امریکہ نے عائد کی پابندی
میانمار کے فوجی حکام پر امریکہ نے عائد کی پابندی

امریکی صدر جو بائیڈن نے میانمار کے فوجی حکام پر پابندی کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کی منظوری دی۔ ان پابندیوں کے تحت میانمار کے فوجی لیڈروں، ان کے افراد خاندان اور ان سے وابستہ تمام کاروبار کو نشانہ بنایا جائے گا۔

واشنگٹن: امریکہ نے میانمار میں گز شتہ ہفتے تختہ پلٹ کر جمہوری طور سے منتخب حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے فوجی حکام پر پابندی عائد کردی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز میانمار کے فوجی حکام پر پابندی کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کی منظوری دی۔ ان پابندیوں کے تحت میانمار کے فوجی لیڈروں، ان کے افراد خاندان اور ان سے وابستہ تمام کاروبار کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ میں رکھے گئے میانمار کے ایک ارب ڈالر کے سرکاری فنڈ تک ان کی رسائی کو روکنے کے لئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

متعدد فوجی لیڈران روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے پہلے ہی بلیک لسٹ میں شامل

مسٹر جو بائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس ہفتے پابندیوں کے دائرے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کرے گی۔ جبکہ میانمار کے چند فوجی لیڈران روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے پہلے ہی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔

واضح ر ہے کہ میانمار میں تختہ پلٹ کے خلاف مظاہرے کے دوران ایک خاتون کے سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہونے کے بعد امریکہ نے یہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ منگل کے روز اس خاتون کو اس وقت گولی لگی تھی، جب پولیس کے جوان مظاہرین کو واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں چلا کر اور فائرنگ کرکے منتشر کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

میانمار فوج کی طرف سے ایک مقام پر پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی اور رات کے وقت کرفیو نافذ ہونے کے باوجود ہزاروں افراد گزشتہ ہفتے کے تختہ پلٹ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اس دوران متعدد افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کیونکہ پولیس نے طاقت کے استعمال میں اضافہ کیا ہے اور جھڑپیں ہورہی ہیں۔

زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت

0
زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت
زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت

مسٹر چودھری نے کہا کہ ان نئے قوانین کا کچھ بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ملے گا۔ اگر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں تو ملک کا کسان برباد ہوجائےگا۔

بلند شہر: راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے نائب صدر جینت چودھری نے تینوں زرعی قوانین کو کسانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کسانوں سے اس ضمن میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر چودھری نے آج یہاں ضلع کے کھرجا تحصیل کے فیروز پور گاؤں میں منعقد کسان مہاپنچایت میں کہا کہ ان نئے قوانین کا کچھ بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ملے گا۔ اگر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں تو ملک کا کسان برباد ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے کسان اس کی مخالفت کررہے ہیں تو مرکزی حکومت ان قوانین کو کیوں نافذ کرنے کے ضد پر ہے۔

آر ایل ڈی نائب صدر نے الزام لگایا کہ مرکز میں جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے تبھی سے کسان و یومیہ مزدور کی اندیکھی جاری ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ چودھری صاحب کہتے تھے کہ کسان کو اپنی ایک آنکھ اقتدار پر اور دوسری آنکھ کھیتی پر رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وجوہات کی وجہ سے کسانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ان کا سیاسی طاقت ختم ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت اب کسانوں کے خلاف قانون بنا رہی ہے۔

انہوں نے کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لکشمن ریکھا کھینچ لیں اور اس بات پر غور کریں کہ کون ان کا اپنا ہے اور کون ان کا مخالف۔ کسان اب متحد ہوکر اپنی کھوئی ہوئی سیاسی طاقت کو حاصل کرتے ہوئے ملک کو اس کا احساس کرائیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے ’’آندولن جیو‘‘ نامی نئی جماعت کھڑی ہونے کے طنز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا کسان ’’آندولن جیو‘‘ نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے فکر میں دھرنے پر بیٹھا ہے۔

ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس

0
ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس
ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس

حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کے بعد، اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے آج الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کے بعد اب عقبی دروازے سے ملک کی اہم بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے۔

کانگریس کے شکتی سنگھ گوول نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ’میجر پورٹس اتھارٹی بل 2020‘ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مسودہ تیار کرتے ہوئے بہت سے امور کو پیش نظر نہیں رکھا گیا، جس سے اس میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی دے دی تھی لیکن لوک سبھا تحلیل ہونے کی وجہ سے اس بل کو واپس لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو دوبارہ پیش کردہ بل میں شامل نہیں کیا گیا۔ لہذا اس بل کو دوبارہ قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے اور بندرگاہوں کی نجکاری سے متعلق تمام خدشات دور کئے جائیں۔

لال قلعہ ہنگامہ: سدھو کے بعد ایک اور ملزم اقبال سنگھ گرفتار

0
لال قلعہ ہنگامہ: سدھو کے بعد ایک اور ملزم اقبال سنگھ گرفتار
لال قلعہ ہنگامہ: سدھو کے بعد ایک اور ملزم اقبال سنگھ گرفتار

اسپیشل سیل کی ٹیم نے منگل کی رات کو لال قلعہ کیس میں مفرور اقبال سنگھ کو پنجاب کے ہوشیار پور سے گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اقبال کی گرفتاری پر 50 ہزار روپے کا انعام رکھا تھا۔

نئی دہلی: دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ میں ہنگامہ کرنے کے ایک اور ملزم اقبال سنگھ کو گرفتار کرلیا۔

سیل کے ایک سینیئر افسر نے بدھ کے روز بتایا کہ ناردرن رینج کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے منگل کی رات کو لال قلعہ کیس میں مفرور اقبال سنگھ کو پنجاب کے ہوشیار پور سے گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اقبال کی گرفتاری پر 50 ہزار روپے کا انعام رکھا تھا۔ ہنگامہ آرائی کے معاملہ میں ملوث دیپ سدھو کو پولیس نے پیر کی شب ہریانہ کے کرنال سے گرفتار کیا تھا۔

گذشتہ ہفتہ پولیس نے دیپ سدھو، جوگراج سنگھ، گرجوت سنگھ اور گرجنت سنگھ کے بارے میں معلومات دینے والوں کو ایک لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے ججبیر سنگھ، بوٹا سنگھ، سکھ دیو سنگھ اور اقبال سنگھ کے بارے میں معلومات دینے والوں کو 50،000 روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال ر ہے 26 جنوری کو کسانوں کی تنظیموں نے مرکز کے تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے کی حمایت میں ٹریکٹر پریڈ کی تھی۔ اس دوران ان کی پولیس سے پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور کچھ مظاہرین لال قلعہ کی فصیل تک پہنچ گئے۔ انہوں نے لال قلعہ کی فصیل پر کسان تنظیموں اور مذہبی جھنڈے لگا دیئے تھے۔

مہوا موئترا نے پارلیمنٹ میں اپنی زور دار تقریر میں اٹھایا کمزور پڑتے جمہوریت کے اہم ستونوں کا مسئلہ

0
مہوا موئترا نے پارلیمنٹ میں اپنی زور دار تقریر میں اٹھایا کمزور پڑتے جمہوریت کے اہم ستونوں کا مسئلہ
مہوا موئترا نے پارلیمنٹ میں اپنی زور دار تقریر میں اٹھایا کمزور پڑتے جمہوریت کے اہم ستونوں کا مسئلہ

ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس پر جنسی ہراسانی کے الزامات کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ عدلیہ اب قابل احترام نہیں رہ گئی ہے اور میڈیا بھی ناکام ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تقدیر یہ نہیں ہے کہ بزدلوں کی جماعت اس پر برسر اقتدار ہو

نئی دہلی: پیر کے روز ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے سابق چیف جسٹس کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی بات زور شور سے کہی جس کے بعد لوک سبھا میں کافی شور شرابہ ہوا اور ایوان کی کارروائی میں افراتفری پیدا ہوئی۔

موئترا نے مزید کہا "وہ مقدس گائے جو عدلیہ تھی اب مقدس نہیں ہے۔ اسے اس دن مقدس ہونے سے روکا گیا جب اس ملک کے ایک چیف جسٹس پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا، اور اس نے اپنے مقدمے کی صدارت خود کی، خود کو بےگناہ ثابت کیا اور پھر زیڈ پلس زمرے کی سیکیورٹی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے تین ماہ کے اندر ہی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے نامزد کیے گئے۔”

موئترا نے مزید کہا "جب عدلیہ نے آئین کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرنے کا موقع ضائع کیا تو اس نے اپنا تقدس بھی کھو دیا۔” موئترا نے اپنی تقریر میں کہا کہ عدلیہ اب قابل احترام نہیں رہ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تبصرہ کو بعد میں ایوان کے ریکارڈ سے نکال دیا گیا۔

ٹی ایم سی رہنما نے کہا کہ آج بھارت کا المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ برسر اقتدار حکومت نے اسے ناکام بنادیا ہے، بلکہ جمہوریت کے دیگر اہم ستون میڈیا اور عدلیہ بھی ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے ارنب گوسوامی کے اس واٹس ایپ چیٹ لیک کا بھی تذکرہ کیا جس میں ملک کی سیکوریٹی سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔ موئترا نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی حکومت پر "نفرت، عداوت اور تعصب” کو اپنے بیان کا ایک حصہ بنانے پر سختا الفاظ میں تنقید کی اور اسے "واضح فاشسٹ فیشن” قرار دیا۔

اس تقریر کے دوران ٹریژری ممبروں نے موئترا کے بیانات کی سختی سے مخالفت کی اور ان پر پارلیمنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ اراکین نے کہا کہ اعلی اتھارٹی کے فرد پر پیشگی اطلاع اور منظوری کے بغیر اس طرح بات نہیں کی جاسکتی ہے۔

مرکزی وزیر ارجن رام میگوال نے سابق چیف جسٹس کے خلاف موئترا کے تبصرے کو "شرمناک” قرار دیا۔ وہیں انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹی ایم سی کے سوگتا رائے نے تاہم اس بات کی نشاندہی کی کہ موئترا نے کسی کا نام نہیں لیا اور سابق چیف جسٹس کو ریٹائر ہونے کے بعد ’’اعلی اتھارٹی‘‘ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

مہو موئترا نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گوکہ نیتاجی کی وراثت کو ہائی جیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حکومت کا نیتاجی کی وراثت سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے کہ "جے ہند” اور "دلی چلو” نیتا جی کا نعرہ تھا مگر مرکزی حکومت نے کسان قانوںوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کا راستہ دلی آنے کے لیے سنگور بارڈر پر ہی روک رکھا ہے۔

انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے رکن این کے پریما چندرن، جو چیئر پر موجود تھے، نے موئترا کو اپنی تقریر ختم کرنے کی اجازت دی لیکن متنبہ کیا کہ اگر انھیں قابل اعتراض سمجھا گیا تو ان کے ریمارکس کو برخاست کردیا جائے گا۔

ٹی ایم سی رہنما مہوا موئترا  نے مزید کہا کہ سچائی کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس ضمن میں جمہوریت سے متعلق کئی معاملوں میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گوکہ نیتاجی کی وراثت کو ہائی جیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حکومت کا نیتاجی کی وراثت سے کوئی واسطہ نہیں۔

انہوں نے کہ "جے ہند” اور "دلی چلو” نیتا جی کا نعرہ تھا مگر مرکزی حکومت نے کسان قانوںوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کا راستہ دلی آنے کے لیے سنگور بارڈر پر ہی روک رکھا ہے۔

موئترا نے کہا کہ نیتاجی نے کہا ہے بھارت کی تقدیر پر اپنا اعتماد کبھی نہ کھویا جائے اور پھر موئترا نے کہا کہ "بھارت کی تقدیر یہ نہیں ہے کہ بزدلوں کی جماعت اس پر برسر اقتدار ہو۔”