پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 390

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مرکزی فورسوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی

0
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مرکزی فورسوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مرکزی فورسوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی

27 مارچ کو ہونے والے پہلے مرحلے کی پولنگ سے قبل مرکزی فورسز کی کل 944 کمپنیاں بنگال پہنچ جائیں گی۔ اس سے قبل بنگال میں انتخابات کے موقع پر اتنی کمپنیوں کی تعیناتی نہیں ہوئی تھی۔ کچھ کمپنیوں کو بوتھوں پر تعینات کرنے کے بجائے علاقے میں پٹرولنگ اور فلائنگ اسکواڈ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

کلکتہ: الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق 25 مارچ تک بنگال میں مرکزی فورسز کی 650 کمپنیاں پہنچ جائیں گی۔ جب کہ 125 کمپنیاں پہلے ہی بنگال میں تعینات ہو چکی ہیں۔ جب کہ 169 کمپنیوں کے اس ہفتے میں پہنچنے کا شیڈول ہے۔

27 مارچ کو ہونے والے پہلے مرحلے کی پولنگ سے قبل مرکزی فورسز کی کل 944 کمپنیاں بنگال پہنچ جائیں گی۔ اس سے قبل بنگال میں انتخابات کے موقع پر اتنی کمپنیوں کی تعیناتی نہیں ہوئی تھی۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر (امن و امان) جگ موہن نے بی ای ایف اور سی آر پی ایف کے اعلی افسران کے ساتھ بنگال کے چیف انتخابی افسر عریض آفتاب سے ملاقات کی۔

بنگال میں پہلے اور دوسرے مرحلے کی پولنگ 27 مارچ اور یکم اپریل کو ہوں گے۔ مغربی مدنی پور اور مشرقی مدنی پور، جھاڑ گرام، بانکوڑا اور جنوبی 24 پرگنہ کے اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ ان میں سے کئی حلقے ماؤنوازوں سے متاثر ہے۔ ان علاقوں میں سنٹرل فورسز کی لگ بھگ 43 کمپنیاں تعینات ہیں۔ ان کمپنیوں کو بوتھ پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس ہفتے آنے والی 169 کمپنیوں میں سے 70 کمپنیوں کی سی آر پی ایف اور 13 بی ایس ایف کی ہوں گی۔ 20 آئی ٹی بی پی سے ہوں گی، 25 سی آئی ایس ایف سے اور 41 کمپنیوں کی ایس ایس بی سے ہوگی۔

کچھ کمپنیوں کو بوتھوں پر تعینات کرنے کے بجائے علاقے میں پٹرولنگ اور فلائنگ اسکواڈ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

بیٹیوں کو جہیز نہیں، بلکہ اسلام کے بموجب وراثت میں حصہ دیا جائے: مفتی جمیل الرّحمٰن

0
بیٹیوں کو جہیز نہیں، بلکہ اسلام کے بموجب وراثت میں حصہ دیا جائے: مفتی جمیل الرّحمٰن
بیٹیوں کو جہیز نہیں، بلکہ اسلام کے بموجب وراثت میں حصہ دیا جائے: مفتی جمیل الرّحمٰن

آج مسلم معاشرے کو عائشہ کی خود کشی و ایسے رجحانات کی تشویشناک صورتحال پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں پھیلی ظالمانہ رسومات و غیر انسانی رواجوں کے بت کو آج توڑنے کے ساتھ معاشرے میں زندگی کو اسلام کے اصولوں کے بموجب گزاریں، جس سے پھر کوئی عائشہ جہیز استحصال سے عاجز آکر خودکشی نہ کر سکے۔

پرتاپ گڑھ: اسلام ایک ایسا مذہب ہے جہاں زندگی سے لے کر موت تک کا ضابطہ ہے، جس پر عمل پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اسلام نے شادی کو بہت آسان بنایا ہے تاکہ کسی غریب کی بیٹی شادی سے محروم نہ رہے، لیکن آج غیروں کی راہ پر گامزن مسلم طبقہ جہیز لینے میں غیروں سے آگے نکل گیا ہے، جس کے سبب جہیز استحصال سے عاجز گجرات کی عائشہ خان کو خودکشی کرنی پڑی۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ بیٹیوں کو جہیز نہیں بلکہ وراثت میں حصہ دیا جائے جس سے غریب امیر کا توازن برابر رہے۔

جمیعۃ علماء ہند کے ضلع صدر و مدرسہ جامعتہ الصالحات کے ناظم اعلی مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی نے جاری پریس ریلیز کے ذریعہ مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔

معاشرے کو عائشہ کی خودکشی جیسی پریشان کن صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت

مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ آج مسلم معاشرے کو عائشہ کی خودکشی و ایسے رجحانات کی تشویشناک صورتحال پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں پھیلی ظالمانہ رسومات و غیر انسانی رواجوں کے بت کو آج توڑنے کے ساتھ معاشرے میں زندگی کو اسلام کے اصولوں کے بموجب گزاریں، جس سے پھر کوئی عائشہ جہیز استحصال سے عاجز آکر خودکشی نہ کر سکے۔

نکاح کے ساتھ وابستہ جہیز، بارات و تمام غیر اسلامی رسومات کے خلاف ایک مہیم چلا کر لوگوں کو بیدار کیا جائے کہ جہیز نہیں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیا جائے جو اسلام کا ضابطہ ہے۔ وراثت کو عام کرنے سے شادی آسان ہوگی کسی غریب کی بیٹی جس کے پاس دینے کو جہیز نہیں ہے اس کی بھی شادی ہو جائے گی۔

سادگی سے نکاح کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں

جہیز کے خلاف شہروں، قصبوں، مساجد و چوراہوں پر بیداری پروگرام منعد کیا جائے۔ شریعت میں موجود نکاح کے حقیقی مفہوم کو اکثر مسلمانوں تک پہونچانے و خوشگوار ازدواجی زندگی کی طرف رہنمائی کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس جہیز جیسی ظالمانہ رسومات کا خاتمہ ہو سکے۔ سادگی سے نکاح کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں جس سے لوگ راغب ہوں۔

جہیز مانگنے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے

خاندانی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے مساجد کو مرکز بنایا جائے و مساجد کے ائمہ کو شرعی و نفسیاتی روشنی میں لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار کیا جائے۔ مسلمانوں کی تعلیم یافتہ خواتین کی ذہن سازی کی جائے۔ معاشرے میں جہیز مانگنے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کیا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے ضابطہ کے بموجب گزاریں تاکہ پھر کوئی عائشہ جہیز استحصال سے پریشان ہوکر خودکشی نہ کر سکے۔

پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے ماحول میں کانگریس کی اندرونی کشمکش غیرذمہ دار حزب اختلاف کی آئینہ دار

0
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے ماحول میں کانگریس کی اندرونی کشمکش غیرذمہ دار حزب اختلاف کی آئینہ دار
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے ماحول میں کانگریس کی اندرونی کشمکش غیرذمہ دار حزب اختلاف کی آئینہ دار

راہل اور پرینکا گاندھی بھلے ہی شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک مہم میں مصروف ہیں اور پارٹی کی مضبوطی کے لئے مسلسل تگ و دو کر رہے ہیں، لیکن وہیں دوسری جانب پارٹی کے سینئر ترین اور پرانے لیڈران پارٹی کے خلاف ہی محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

پانچ اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ یہ اہم ریاستیں ہیں مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری۔ اس کے علاوہ کچھ حلقوں میں ضمنی انتخاب بھی ہونا ہے۔ کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات 6 اپریل کو ایک ہی مرحلہ میں ہوں گے۔ جبکہ آسام میں تین مرحلوںاور مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 8 مراحل میں ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ جبکہ 2 مئی کو سبھی ریاستوں کے نتیجے منظر عام پر آ جائیں گے۔

سیاسی جماعتوں اور اس کے لیڈران و کارکنان کے لئے یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی کامیابی کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں اور سب لوگ دل و جان سے انتخابی مہم میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ لیکن کانگریس میں فی الحال ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ یہاں تو تصویر اس کے بالکل بر عکس نظر آتی ہے۔

راہل اور پرینکا گاندھی بھلے ہی شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک مہم میں مصروف ہیں اور پارٹی کی مضبوطی کے لئے مسلسل تگ و دو کر رہے ہیں، لیکن وہیں دوسری جانب پارٹی کے سینئر ترین اور پرانے لیڈران پارٹی کے خلاف ہی محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔

ان میں اکثر وہ لیڈر ہیں جو ماضی میں پارٹی سے لے کر حکومت تک میں اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ بظاہر یہ لیڈر پارٹی کی بہبود اور مضبوطی کے لئے مہم چلا رہے ہیں، لیکن حقیقتاً ان کے اقدامات سے لگتا ہے کہ یہ لوگ پارٹی کے اقتدار سے باہر ہونے کے سبب خود کو ’خالی‘ محسوس کر رہے ہیں۔

کانگریس کا خراب دور

اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس اس وقت اپنے سب سے خراب دور سے گزر رہی ہے، لیکن اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اپنے اور پرائے کی پہچان برے وقت میں ہی ہوتی ہے۔ لہذا جی 23 کے نام سے مشہور لیڈران نے اس وقت جو مہم چلائی ہے، کیا یہ وقت ان کے لئے مناسب تھا؟ کیا عوامی سطح پر مسائل کو اٹھا کر وہ پارٹی کا کچھ بھلا کر سکتے ہیں؟ سیاسی پارٹیوں میں عروج و زوال اور باہمی اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی جماعت ہمیشہ اقتدار میں ہی رہے۔ ایسا جمہوری نظام کے لئے مناسب بھی نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ تو بالکل نہیں کہ انتخابات کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر آپ محاذ آرائی میں مصروف ہو جائیں۔

یہ وقت تو کانگریس کے لئے بہت نازک ہے۔ اس سے پہلے سب نے دیکھا ہے کہ کس طرح پارٹی لیڈران کی اسی رسہ کشی کے سبب کرناٹک، مدھیہ پردیش اور پڈوچیری میں کانگریس اقتدار گنوا چکی ہے۔ راجستھان کا معاملہ بھی کب کیا رخ اختیار کر لے، کہا نہیں جا سکتا ہے۔

پانچ ریاستوں کے انتخابات اور کانگریس

فی الحال تو پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سر پر ہیں۔ یہاں اگر چہ کانگریس کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے، لیکن اگر پارٹی لیڈران متحد ہو کر کوشش کریں تو یہ برے وقت میں کانگریس کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔

تمل ناڈو اور آسام میں کانگریس کے لئے راہیں کافی ہموار نظر آ رہی ہیں۔ جبکہ کیرالہ اورپڈوچیری میں بھی کانگریس کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں، مغربی بنگال میں ضرور کانگریس کی پوزیشن بہت زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ انتخابات بی جے پی کے لئے ’واٹر لو‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہذا کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے یہ انتخابات کافی اہم ہیں۔

انتخابی مہم کو دیکھیں تو بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی صدر جے پی نڈا سمیت پارٹی کے بڑے بڑے لیڈر ان ریاستوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ وہیں کانگریس میں راہل اور پرینکا کے علاوہ کوئی بڑا لیڈر نظر ہی نہیں آ رہا ہے۔ جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں وہاں کی موجودہ صورت حال پر نظر ڈالیں تو مغربی بنگال میں اسمبلی کی 294 سیٹیں ہیں۔ یہاں پچھلے اسمبلی انتخابات 2016 میں ترنمول کانگریس کو211، کانگریس کو44، بایاں محاذ کو 32، بی جے پی کو تین اور دیگر کو4 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

ریاستوں کے انتخابی رجحانات

رجحان بتا رہے ہیں کہ ترنمول کانگریس ایک مرتبہ پھر اقتدار میں واپسی کرے گی۔ آسام میں 124 سیٹیں ہیں۔ یہاں تین مرحلوں میں ووٹنگ کرائی جائے گی۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے60  سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اے جی پی نے14 ، کانگریس نے26 ، اے آئی یو ڈی ایف نے13 ، بی او پی ایف نے  12اور دیگر نےایک سیٹ حاصل کی تھی۔ لیکن اس مرتبہ بی جے پی کے ہاتھ سے بازی نکلتی نظر آ رہی ہے اور بہت ممکن ہے کہ کانگریس اپنے اتحادیوں کے ساتھ اقتدار میں واپسی کر لے۔

کیرالہ کی اگر بات کریں تو یہاں اسمبلی کی 140 سیٹیں ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقابلہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے درمیان ہی رہے گا۔2016  کے اسمبلی انتخابات میں ایل ڈی ایف نے84 سیٹیں حاصل کی تھیں، جبکہ یو ڈی ایف کو47 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

مغربی بنگال کے بعد تمل ناڈو ایک بڑی ریاست ہے۔ یہاں اسمبلی میں 234 نشستیں ہیں۔ 2016 میں اے آئی اے ڈی ایم کے نے135  نشستیں حاصل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا، لیکن اس بار ڈی ایم کے اور کانگریس سے اسے سخت چیلنج کا سامناہے۔ اس کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام ریاست پڈوچیری میں 30 نشستیں ہیں۔ یہاں اس وقت صدر راج نافذ ہے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 15  سیٹیں، آل انڈیا این آر کانگریس نے 8، اے آئی اے ڈی ایم کے نے4  اور دیگر نے ایک سیٹ حاصل کی تھی۔

کانگریس کی خانہ جنگی

اس وقت کانگریس میں جو کچھ ہو رہا ہے، کیا وہ بی جے پی میں ممکن ہو سکتا ہے، شاید نہیں۔ نہ تو مودی اور امت شاہ کے دور میں اورنہ ہی اٹل اور اڈوانی کے دور میں کبھی ایسا کچھ دیکھنے کو ملا۔ ایک دو مفاد پرست تو کہیں بھی اور کسی بھی سیاسی جماعت میں ہو سکتے ہیں۔ لیکن کانگریس میں یہ ایک روایت سی بن گئی ہے۔

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس میں مودی اور امت شاہ جیسے سخت فیصلے لینے والی قیادت کا فقدان ہے؟ یا پھر نہرو گاندھی خاندان کی فطرت میں یہ نہیں ہے کہ وہ سخت گیری کا مظاہرہ کریں۔ شاید اسی بات کا ناجائز فائدہ کانگریس کے بڑے بڑے لیڈر اٹھاتے رہے ہیں۔ ورنہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جیسے ہی کسی عہدے سے ہٹایا جاتا ہے یا مدت کار پوری ہو جاتی ہے، اس کے بعد پارٹی میں خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ کانگریس کے لیڈران کی یہی سب سے بڑی پریشانی ہے۔

کانگریس لیڈران بنام نہرو خاندان

یاد کریں 2004 سے پہلے کا زمانہ، جب کانگریس کو تقریباً ختم مان لیا گیا تھا۔ پارٹی کے پرانے پرانے سپاہی کانگریس کو ڈوبتی کشتی سمجھ کر کودنے لگے تھے۔ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی حکومت اور بی جے پی میں انھیں اپنا مستقبل نظر آرہا تھا۔ این ڈی اے حکومت کے ’شائننگ انڈیا‘ کے پُر فریب نعرے میں ایسے کھوئے کہ وہ اپنا ماضی بھلا بیٹھے۔ ایسے موقع پر بھی نہرو گاندھی خاندان نے ہمت نہیں ہاری اور جن سونیا گاندھی کو غیر ملکی کے تمغے سے نوازا جا رہا تھا، انہی کی قیادت میں پارٹی نے اقتدار میں شاندار واپسی کی۔

پارٹی کے اندر اور باہر جب گاندھی خاندان کی بہو سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کو ایشو بنایا گیا، تو انہوں نے ایثار اور قربانی کی شاندار مثال پیش کی۔ جب سونیا گاندھی کے وزیر اعظم بننے پر سوال اٹھائے گئے توانھوں نے بلا تاخیر پارٹی کے مفاد کی خاطر وزیر اعظم کے عہدے کو قربان کر دیا اور ایک انتہائی قابل اور خاموش مزاج ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کر دیا۔

ہندوستانی سیاست میں ایثار و قربانی کی ایسی مثال شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ 2009 میں ایک بار پھر عام انتخابات میں کانگریس کی قیادت والے یو پی اے کو اقتدار میں واپسی ہوئی۔ اس کے بعد بھی اگر سونیا گاندھی چاہتیں تو اپنے بیٹے راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنا سکتی تھیں، لیکن ایک بار پھر منموہن سنگھ پر ہی اعتماد کیا۔

پچھلے تیس سال سے نہرو گاندھی خاندا ن کا کوئی فرد وزیر اعظم نہیں بنا، جبکہ کانگریس کئی مرتبہ اقتدار میں رہی۔ اب پارٹی میں ہر کوئی تو وزیر اعظم نہیں بن سکتا، لہذا سینئر لیڈران کو چاہئے کہ اگر وہ واقعی گاندھی کے نظریات کی جنگ لڑ رہے ہیں تو متحد ہو کر کانگریس کے لئے کام کریں۔

فرانسیسی صدر میکرون کا ایران کے فیصلے پر اظہار تشویش

0
فرانسیسی صدر میکرون کا ایران کے فیصلے پر اظہار تشویش
فرانسیسی صدر میکرون کا ایران کے فیصلے پر اظہار تشویش

فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے 2015 کے ویانا معاہدے کی خلاف ورزی کے ایران کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس ملک کو اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرنے کے لئے اس معاہدے پر واپس آنے کی ضرورت ہے۔

پیرس: فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے ایران کی مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے) کی خلاف ورزی کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امانوئل میکرون نے منگل کے روز ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران اس معاملہ پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ معلومات فرانسیسی حکومت کے جاری کردہ ایک بیان میں دی گئیں۔

بیان میں کہا گیا ہے ’’فرانسیسی صدر (امانوئل میکرون) نے 2015 کے ویانا معاہدے کی خلاف ورزی کے ایران کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس ملک کو اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرنے کے لئے اس معاہدے پر واپس آنے کی ضرورت ہے۔‘‘

سلامتی کونسل میں میانمار کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کا فیصلہ

0
سلامتی کونسل میں میانمار کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کا فیصلہ
سلامتی کونسل میں میانمار کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے چیئرمین نے میانمار کے معاملہ پر تبادلہ خیال کے لئے اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ سے جمعہ کی صبح ایک اجلاس طلب کرنے کو کہا ہے۔

اقوام متحدہ: میانمار کی تازہ ترین صورتحال پر آنے والے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔ امریکی درخواست کے بعد میانمار پر تبادلہ خیال کے لئے یہ اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک سفارتی ذرائع نے منگل کو یہ اطلاع دی۔

ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے چیئرمین نے میانمار کے معاملہ پر تبادلہ خیال کے لئے اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ سے جمعہ کی صبح ایک اجلاس طلب کرنے کو کہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ میانمار میں فوج نے موجودہ حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد برطرف کردیا اور یکم فروری سے ملک میں ایک سال کے لئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے اس اقدام کے خلاف ہزاروں افراد ملک میں احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین اور فوج کے مابین ہونے والے تشدد میں اب تک 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سمیت دیگر اعلی سرکاری افسران کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ فوج نے ان کی پارٹی پر نومبر کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔

بنگال میں آر جے ڈی کا امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ، ممتا بنرجی کے لئے پارٹی ورکر کریں گے کام: شیام رجک

0
بنگال میں آر جے ڈی کا امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ، ممتا بنرجی کے لئے پارٹی ورکر کریں گے کام: شیام رجک
بنگال میں آر جے ڈی کا امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ، ممتا بنرجی کے لئے پارٹی ورکر کریں گے کام: شیام رجک

بہار کے سابق وزیر شیام راجک نے کہا کہ پارٹی کے کارکن اور بہار سے کارکن ٹی ایم سی امیدواروں کے لئے انتخابی مہم چلائیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ امیدوار ٹی ایم سی کا ہے یا آر جے ڈی کا۔

کلکتہ: راشٹریہ جنتادل نے ممتا بنرجی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال میں امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ تیجسوی یادو نے کل وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ریاستی سیکریٹریٹ نو بنو میں ملاقات کی تھی۔

تیجسوی یادو نے بہار کے شہری جو مغربی بنگال میں مقیم ہیں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی کے حق میں ووٹنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی سیکولر اقدار کو بچانے کے لئے ہے۔ یادو نے کہا کہ لالو پرساد یادو نے ممتا بنرجی سے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

آر جے ڈی کے قومی پرنسپل جنرل سکریٹری اور سابق وزیر عبدالباری صدیقی جنہوں نے تیجسوی کے ساتھ ممتا کے ساتھ ملاقات میں شرکت کی، نے بتایا کہ پارٹی نے کسی بھی قسم کے الجھنوں سے بچنے کے لئے امیدوار کو نامزد نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی جے پی کی شکست کے لئے ترنمول کانگریس کو  حمایت

انہوں نے کہا کہ پارٹی شروع میں پانچ سے چھ نشستیں لڑنا چاہتی تھی لیکن بی جے پی کو شکست دینے کے لئے ترنمول کانگریس کو ہم نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ مغربی بنگال میں جس طرح کی سیاست کی جارہی ہے وہ اگر انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ صدیقی نے کہا کہ آر جے ڈی ایسی فرقہ وارانہ قوتوں سے لڑ رہا ہے اور اسے ہرا رہا ہے اور مغربی بنگال میں بھی جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیدواروں کو کھڑا کرنا اہم نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم مل کر لڑیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ترنمول کانگریس کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ہماری حمایت کا خیرمقدم کیا ہے اور ممتا بنرجی نے قومی سطح پر فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف جنگ میں تیجسوی پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

فرقہ وارانہ قوتوں کو روکنا مشترکہ مقصد

آر جے ڈی کے مغربی بنگال کے انتخابی انچارج اور بہار کے سابق وزیر شیام راجک نے کہا کہ پارٹی کے کارکن اور بہار سے کارکن ٹی ایم سی امیدواروں کے لئے انتخابی مہم چلائیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ امیدوار ٹی ایم سی کا ہے یا آر جے ڈی کا۔ ہمارا مشترکہ مقصد فرقہ وارانہ قوتوں کو روکنا ہے۔ ہمارے اہم رہنما جن میں تیجسوی جی بھی شامل ہیں، اس اہم انتخاب میں انتخابی مہم چلائیں گے۔

مغربی بنگال میں کانگریس کے ساتھ "فاصلے” کے بارے میں پوچھے جانے پر آر جے ڈی کے ترجمان تیواری نے کہا کہ ہر ریاست میں سیاسی منظر نامہ مختلف ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ ممتا بنرجی اتنے مضبوط ہیں کہ انہوں نے مغربی بنگال میں بی جے پی کو شکست دی۔ اس لئے ہم نے ترنمول کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

بنگال میں کانگریس نے امیدواروں کے انتخاب کے لئے اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی

0
بنگال میں کانگریس نے امیدواروں کے انتخاب کے لئے اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی
بنگال میں کانگریس نے امیدواروں کے انتخاب کے لئے اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی

بنگال میں امیدواروں کے انتخاب کے لئے کانگریس نے اسکریننگ کمیٹی کی تشکیل دی۔ کمیٹی میں اے آئی سی سی انچارج جیتن پرساد، ریاستی کانگریس کے صدر چیف ادھیر رنجن چودھری اور سی ایل پی رہنما عبدالمنان کے علاوہ مغربی بنگال کے انچارج اے آئی سی سی کے سیکریٹری بھی شامل ہیں۔

کلکتہ: مغربی بنگال کانگریس نے دہلی پردیش کے چیئرمین جے پی اگروال کی قیادت میں امیدواروں کے انتخاب کے لئے اسکریننگ کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔

اس کمیٹی میں دیگر ممبران مہیش جوشی اور نسیم خان شامل ہیں۔ اس پینل میں ریاستی پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے صدر اور مغربی بنگال کے اے آئی سی سی انچارج سمیت کچھ سابق اہلکار شامل ہیں۔

کانگریس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئے اسکریننگ کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔ جے پی اگروال کو چیئرمین بنایا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں اے آئی سی سی انچارج جیتن پرساد، ریاستی کانگریس کے صدر چیف ادھیر رنجن چودھری اور سی ایل پی رہنما عبدالمنان کے علاوہ مغربی بنگال کے انچارج اے آئی سی سی کے سیکریٹری بھی شامل ہیں۔

یہ پینل پارٹی کے امکانی امیدواروں کی اسکریننگ کرے گی اور پارٹی سربراہ سونیا گاندھی کی زیر صدارت کانگریس کی مرکزی الیکشن کمیٹی کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ کانگریس بائیں بازو کی جماعتوں اور ہندوستانی سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے ساتھ اتحاد میں مغربی بنگال کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور اب تک 294 ممبران اسمبلی کی 92 نشستوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

حیدرآباد: بی جے وائی ایم رہنماؤں و کارکنوں نے پبلک سروس کمیشن کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی

0
حیدرآباد: بی جے وائی ایم رہنماؤں و کارکنوں نے پبلک سروس کمیشن کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی
حیدرآباد: بی جے وائی ایم رہنماؤں و کارکنوں نے پبلک سروس کمیشن کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی

بھارتیہ جنتا یووا مورچہ لیڈروں نے ریاست میں خالی دو لاکھ ملازمتوں کو پُر کرنے کیلئے فوری اعلامیہ جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت بے روزگار نوجوانوں کے لئے الاؤنس کا اعلان کرے، جس کا قبل ازیں وعدہ کیاگیا تھا۔

حیدرآباد: سرکاری ملازمتوں کو پُرکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے لیڈروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے آج حیدرآباد میں تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاجیوں نے خالی دو لاکھ ملازمتوں کو پُر کرنے پر زور دیا۔ پولیس نے ان ہاتھوں میں پرچم اور پلے کارڈس تھامے احتجاجیوں کو روک دیا جو حکومت کے خلاف اور اپنے مطالبہ کی حمایت میں نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر ان کی پولیس کے ساتھ بحث و تکرار ہو گئی۔ پولیس نے ان کو حراست میں لے لیا۔ بی جے پی کے دفتر سے پبلک سروس کمیشن کے دفتر تک یہ احتجاج کرتے ہوئے دفتر پبلک سروس کمیشن کے محاصرہ کی کوشش کی گئی۔

ان لیڈروں نے ریاست میں خالی دو لاکھ ملازمتوں کو پُرکرنے کیلئے فوری اعلامیہ جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت بے روزگار نوجوانوں کے لئے الاؤنس کا اعلان کرے، جس کا قبل ازیں وعدہ کیاگیا تھا۔ انہوں نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بے روزگارنوجوانوں سے دھوکہ کررہی ہے۔ پولیس نے ان کو روکنے کے لئے قبل ازیں ہی بیریکیڈس لگائے تھے۔

مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کرنے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی: مختار عباس نقوی

0
مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کرنے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی: مختار عباس نقوی
مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کرنے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی: مختار عباس نقوی

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہر حال میں دونوں (شیعہ اور سنی) وقف بورڈ قائم کئے جائیں گے۔ اس سے ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سری نگر: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کرنے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے یہ بات یو این آئی اردو کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر میں ہر حال میں دونوں (شیعہ اور سنی) وقف بورڈ قائم کئے جائیں گے۔ اس سے ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے’۔

نقوی نے شیعہ وقف بورڈ میں آنے والی پراپرٹیز کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ‘جموں و کشمیر میں شیعہ پراپرٹیز فکس ہیں’۔ تاہم انہوں نے ‘فکس’ کی وضاحت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا: ‘شیعہ وقف بورڈ کے تحت جو پراپرٹیز ہیں وہ فکس ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ وقف پراپرٹی کون ہے کون نہیں ہے’۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کرنے کا کام سرکاری طور پر شروع ہو چکا ہے اور اس حوالے سے مستقبل قریب میں متعلقین کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ کے علاوہ خطہ لداخ میں بھی ایک وقف بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے جو شیعہ مسلمانوں کے لئے ہوگا۔

شیعہ تنظیموں کا جموں وکشمیر میں شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار

وادی کشمیر میں اکثر شیعہ تنظیموں نے مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر میں شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کشمیر کی سب سے بڑی شیعہ تنظیم ‘انجمن شرعی شیعیان’ کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حال ہی میں یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کا شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے کا اقدام وقف بورڈ کے بارے میں طے شدہ شرعی قواعد و ضوابط کی پامالی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے اوقاف کا اپنا ایک مستقل بورڈ ہوتا ہے جو شرعی قواعد و ضوابط کے عین مطابق اس کو چلا کر مستحقوں کی مدد و معاونت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کا یہ اقدام اگر شریعت کے ساتھ متصادم ہوگا تو اس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

"مرکزی حکومت کا یہ اقدام اگر شریعت کے ساتھ متصادم ہوگا تو اس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا: سید حسن الموسوی الصفوی۔” سید حسن الموسوی الصفوی


قبل ازیں رواں برس جنوری کے اواخر میں آغا سید حسن موسوی کی صدرات میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر پر علما کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس اجلاس میں چھ رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو اس ضمن میں علما و مفکرین کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرے گی۔

اجلاس میں شیعہ وقف بورڈ بنانے کے بارے میں اتفاق رائے

اجلاس میں مجلس علماء کی تشکیل کے بارے میں بھی حتمی فیصلہ لیا گیا تھا اور ایک آزاد و خودمختار شیعہ وقف بورڈ بنانے کے بارے میں اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا تھا جسے جموں و کشمیر میں شیعہ اوقاف کو منظم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس سے قبل مختار عباس نقوی نے نئی دہلی میں مرکزی وقف کونسل کی جانب سے وقف بورڈ کے افسران کے لئے منعقد اورینٹیشن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری میں وقف بورڈ قائم کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں تشکیل ہونے والے بورڈ کی جانب سے وقف جائیداد کا بہتر استعمال یقینی ہوگا اور ان جائیدادوں کے سماجی، معاشی، تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کے لیے ‘پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم’ (پی ایم جے وی کے) کے تحت حکومت کی جانب سے مکمل مدد کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں ‘جے اینڈ کے مسلم وقف بورڈ’ نامی ادارہ موجود ہے جو مساجد اور زیارت گاہوں کی ایک بڑی تعداد کا انتظام و انصرام سنبھالتا ہے۔

جے اینڈ کے مسلم وقف بورڈ کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ نے سن 1932 میں قائم کیا تھا اور اس کو مبینہ طور پر اب ‘سنی وقف بورڈ’ میں ضم کر لیا جائے گا۔

بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نند کمار چوہان کا انتقال

0
بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نند کمار چوہان کا انتقال
بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نند کمار چوہان کا انتقال

مدھیہ پردیش کے کھنڈوا سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نند کمار سنگھ چوہان کا انتقال ہو گیا۔ مسٹر چوہان کھڈوا سے لوک سبھا کے لئے چھٹی بار جیتے تھے۔ وہ 2015 میں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر بنائے گئے تھے۔

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے کھنڈوا سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نند کمار سنگھ چوہان کا منگل کی صبح یہاں گوروگرام میں واقع میدنتا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔

مسٹر چوہان 68 سال کے تھے۔ وہ گزشتہ تقریبا ایک ماہ سے اسپتال میں داخل تھے۔ 11 جنوری کو کورونا پازیٹو پائے جانے کے بعد بھوپال کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ صحت مزید بگڑنے کی وجہ سے انہیں گورو گرام کے میدنتا اسپتال لایا گیا تھا۔\

مسٹر چوہان کےخاندانی ذرائع نے بتایا کہ ان کے جسد خاکی کو دوپہر میں ان کے آبائی شہر کھنڈوا لے جایا جائے گا۔

مسٹر چوہان کھڈوا سے لوک سبھا کے لئے چھٹی بار جیتے تھے۔ وہ 2015 میں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر بنائے گئے تھے۔