پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 389

کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘

0
کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘
کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘

کسان تنظیم آج ’یوم سیاہ‘ منا رہے ہیں۔ اس درمیان تحریک کار کسانوں نے پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے۔ ایکسپریس وے آج 11 بجے سے 4 بجے تک جام رہے گا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے ہفتے کے روز 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان تنظیم اس دن (چھ مارچ) کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منا رہا ہے۔ 

اس درمیان تحریک کار کسانوں نے آج پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے۔ ایکسپریس وے آج 11 بجے سے 4 بجے تک جام رہے گا۔ 

سنیُکت کسان مورچہ (ایس ایم پی) نے کسان تحریک کے 100 دن پورے ہونے کے موقع پر چھ مارچ (ہفتے) کو ’یوم سیاہ‘ کے بطور منانے اور کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو پانچ گھنٹوں کے لیے جام کرنے کا اعلان ہفتے کے روز کر دیا تھا۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن دونوں کے درمیان ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ کسان رہنما زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت قوانین واپس لینے کو بالکل تیار نہیں ہے۔ 

کسانوں کی تحریک 26 نومبر کو شروع ہوئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں خصوصی طور پر پنجاب اور ہریانہ کے کسان دہلی سے متصل سرحدوں کے آس پاس دھرنا-مظاہرہ اور تحریک چلا رہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:

زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا

0
سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا
سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا

چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادئ اظہار اور آزادئ مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے کیا۔

لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سوئزرلینڈ میں چہرے کے نقاب پر مجوزہ پابندی کی بات امتیازی اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے اتوار کے روز ملک میں مسلم خواتین کے نقاب پر پابندی سے متعلق عوامی ریفرنڈم کے تناظر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادئ اظہار اور آزادئ مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا ان مسلم خواتین پر خاص طور پر اثر پڑے گا جو نقاب یا برقعہ پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، اگر ہم واقعی خواتین کا احترام کرنا چاہئے ہیں تو ہمیں خواتین کو یہ فیصلہ کرنے دینا چاہیے کہ وہ کیا پہنتی ہیں۔

اس نوعیت کی پابندی امتیازی سلوک شمار ہوگی

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنے اعلامیہ میں خواتین کیلئے حقوق کے سیکشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ اگر اس ریفرنڈم کا ارادہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر کیا جا رہا ہے تو یہ درست نہیں بلکہ اس کے ذریعے خواتین کو اپنے پہننے کے لباس کی دوسروں سے منظوری لینے کے مترادف سمجھنا چاہئے۔ یہ عمل سوئزرلینڈ میں تصور آزادی مجروح کرنے کے برابر ہوگا۔

انہوں نے مزید زور دیکر کہا کہ اس نوعیت کی پابندی امتیازی سلوک شمار ہوگی۔ اس سے معاشرے میں ان خواتین کو بدنام کرنے کا ایک اور موقع حاصل ہوجائے گا، جنہیں پہلے ہی پسماندہ گروہ سے تعلق رکھنے والا خیال کیا جاتا ہے۔ اس سے دقیانوسی خیالات اور معاشرے میں عدم رواداری میں اضافے کا بھی خطرہ ہے۔

زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

0
زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد
زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

زرعی قوانین کے بارے میں ملک گیر بیداری پیدا کرنے کے لئے پنجاب سے دو نوجوان حیدرآباد پہنچے۔ دونوں نوجوان گاؤں گاؤں پھر کر کھیتوں میں جاتے ہیں اور کسانوں کو ان قوانین کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں۔

حیدرآباد: زرعی قوانین کے سلسلہ میں ملک گیر بیداری پیدا کرنے کے لئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان حیدرآباد پہنچے۔ کسانوں کے یہ دونوں بیٹے اس قانون کے خلاف مختلف ریاستوں میں بیداری پیدا کرنے کے بعد اپنی اسکارپیو گاڑی میں تلنگانہ کے دارالحکومت پہنچے۔ اس گاڑی پر بیداری مہم انگریزی میں لکھا گیا ہے۔

شہر کی سرکردہ عثمانیہ یونیورسٹی میں ان نوجوانوں مجیندر سنگھ، سکھویندر سنگھ نے مشہور آرٹس کالج عمارت کے قریب طلبہ سے تبادلہ خیال کیا۔ بیداری پروگرام کے حصہ کے طور پر اب تک تقریبا 15 ریاستوں کا احاطہ کرنے والے ان نوجوانوں نے ان زرعی قوانین کو کسانوں کے خلاف قرار دیا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلز کسانوں کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گاؤں گاؤں پھر کر کھیتوں میں جاتے ہیں اور کسانوں کو ان قوانین کے نقصانات کے بارے میں واقف کرواتے ہیں۔

انہوں نے نہ صرف کسانوں بلکہ عام آدمی کے لئے بھی ان بلز کو نقصان دہ قراردیا۔ اب تک اس مہم کے دوران 11000 کلومیٹر کا سفر انہوں نے طے کرلیا ہے۔

بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ

0
بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ
بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ

ایران کے سلسلہ میں قومی ہنگامی ایکٹ کے سیکشن 202 ڈی کے تحت 15 مارچ 1995 کو نافذ قومی ایمرجنسی 15 مارچ 2021 سے آگے ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 1995 میں نافذ کئے گئے ایران سے متعلق قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک قسم کی قانونی بنیاد ہے جس کے ذریعہ ایران پر جوہری ہتھیاروں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے۔
جمعہ کے روز امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی۔
صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ایران کے سلسلہ میں قومی ہنگامی ایکٹ کے سیکشن 202 ڈی کے تحت 15 مارچ 1995 کو نافذ قومی ایمرجنسی 15 مارچ 2021 سے آگے ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔
مسٹر بائیڈن نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں اور اس کی پالیسیاں امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔ انہوں نے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

دلت معاملے پر عام آدمی پارٹی کا قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ

0
دلت معاملے پر عام آدمی پارٹی کا قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ
دلت معاملے پر عام آدمی پارٹی کا قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ

اپوزیشن لیڈر ہرپال چیمہ نے کہا کہ کانگریس حکومت میں غریب دلت طلبہ کا مستقبل خراب ہوچکا ہے، ہزاروں دلت طلبہ اسکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے ڈگریاں حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور سیکڑوں کالج بند ہونے کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن کیپٹن کو ان طلبہ کی پرواہ نہیں ہے۔

چنڈی گڑھ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ممبران نے اسکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے دلت طلبہ کو ہونے والی پریشانی اور دلتوں کے حقوق کے معاملے کو آج اسمبلی میں اٹھایا۔

عآپ کے ممبران نے ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل دلتوں کی آواز بلند کرتے ہوئے ایم ایل اے ہاسٹل سے قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ کیا۔ مارچ میں انہیں دلت حقوق کے متعدد کارکنوں کا ساتھ ملا. کارکنوں اور اراکین اسمبلی نے دلتوں کے حق میں نعرے بازی کی اور امریندر حکومت پر دلتوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

اپوزیشن لیڈر ہرپال چیمہ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے دلت طلبہ کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اکالی – بی جے پی کے دور حکومت میں دلتوں کے فلاحی فنڈ میں کروڑوں روپے کا گھپلہ کیا گیا تھا۔ اب کانگریس حکومت بھی گھپلہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی حکومت نے میٹرک کے بعد کے اسکالرشپ کے لئے پنجاب حکومت کو 1423 کروڑ روپئے جاری کیے ہیں، لیکن ریاستی حکومت نے ابھی تک سیکڑوں کالجوں کو 1853 کروڑ روپئے کے بقایاجات نہیں دیئے ہیں۔ حکومت نے پنجاب کے عوام سے جھوٹ بولا کہ مرکزی حکومت نے ریاست کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے تحت ملنے والے فنڈ روک رکھے ہیں۔ لیکن آر ٹی آئی کی درخواست کا جواب صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو اسکالرشپ فنڈ دے دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں غریب دلت طلبہ کا مستقبل خراب ہوچکا ہے، ہزاروں دلت طلبہ اسکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے ڈگریاں حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور سیکڑوں کالج بند ہونے کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن کیپٹن کو ان طلبہ کی پرواہ نہیں ہے۔

میانمار: 6 صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کے کوریج کا الزام

0
میانمار: 6 صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کے کوریج کا الزام
میانمار: 6 صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کے کوریج کا الزام

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ (آئی ایف جے) نے حراست میں لیے گئے تمام صحافیوں کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے اور میڈیا کی آزادی کا احترام کرنے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی ہے۔

نیپیڈا: میانمار میں فوجی افسران نے چھ صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کی کوریج کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ (آئی ایف جے) نے حراست میں لیے گئے تمام صحافیوں کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے اور میڈیا کی آزادی کا احترام کرنے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی ہے۔

رواں ہفتے چھ صحافیوں کو مبینہ طور پر ’خوف زدہ کرنے، جھوٹی خبر پھیلانے یا سرکاری اہلکاروں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر تحریک کے لیے مشتعل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان سبھی صحافیوں کو 27 اور 28 فروری کو احتجاجی مظاہرے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ افسران نے پہلے 10 صحافیوں کو حراست میں لیا تھا۔

اسے بھی پڑھیں:

میانمار: مظاہرین کے ساتھ پولیس کی خونی جھڑپیں، مزید 38 افراد ہلاک، 300 گرفتار

بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر موہر سنگھ کا انتقال

0
بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر موہر سنگھ کا انتقال
بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر موہر سنگھ کا انتقال

مسٹر ٹھاکر موہر سنگھ 1980 سے 1998 کے دوران چار بار ودیشہ سے مقبول رکن اسمبلی رہے ہیں، اس کے بعد ان کی اہلیہ ششیلا سنگھ بھی ودیشہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔

ودیشہ: مدھیہ پردیش میں ودیشہ سے چار مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی رہے ٹھاکر موہر سنگھ کا دوران علاج بھوپال کے پرائیوٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ 72 سال کے تھے۔

سابق رکن اسمبلی مسٹرسنگھ کو پانچ دن قبل ہی سانس کی تکلیف کے سبب بھوپال کے پرائیوٹ اسپتال میں علاج کے لئے داخل کیا گیا تھا، جہاں سے تشویشناک حالت میں انہیں گزشتہ شام دوسرے پرائیوٹ اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ وہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔

مسٹر سنگھ 1980 سے 1998 کے دوران چار بار ودیشہ سے مقبول رکن اسمبلی رہے ہیں، اس کے بعد ان کی اہلیہ ششیلا سنگھ بھی ودیشہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔

مسٹر سنگھ سادہ اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ رکن اسمبلی رہتے ہوئے جیب میں ایم ایل اے کی مہر لے کر چلنے سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

میانمار: مظاہرین کے ساتھ پولیس کی خونی جھڑپیں، مزید 38 افراد ہلاک، 300 گرفتار

0
میانمار: مظاہرین کے ساتھ پولیس کی خونی جھڑپیں، مزید 38 افراد ہلاک، 300 گرفتار
میانمار: مظاہرین کے ساتھ پولیس کی خونی جھڑپیں، مزید 38 افراد ہلاک، 300 گرفتار

نیویارک میں واقع اقوام متحدہ میں میانمار کے خصوصی ایلچی کرسٹین شرینر برگنر نے کہا کہ ’’یکم فروری سے بغاوت کے بعد آج کا دن سب سے خونریز دن تھا، آج ایک ہی دن میں 38 افراد ہلاک ہوئے‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہیں‘‘۔

ینگون: یکم فروری کو میانمار میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر قابض ہونے والے فوجی حکمرانوں کے خلاف شدید احتجاج و مظاہرہ کے آغاز سے اب تک کے سب سے پر تشدد دن میں پولیس کی فائرنگ سے مزید 38 مظاہرین ہلاک ہوگئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس اور جوانوں نے معمولی تنبیہ کرتے ہوئے مظاہرین پر براہ راست اندھا دھند فائرنگ کھول دی۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین اور میڈیا کا کہنا تھا کہ ریلی میں شریک 38 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک روز قبل ہی تحمل کا مطالبہ کرتے ہوئے بحران کے حل کے لئے تعاون کی پیش کش کی تھی۔

نیویارک میں واقع اقوام متحدہ میں میانمار کے خصوصی ایلچی کرسٹین شرینر برگنر نے کہا کہ ’’یکم فروری سے بغاوت کے بعد آج کا دن سب سے خونریز دن تھا، آج ایک ہی دن میں 38 افراد ہلاک ہوئے‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہیں‘‘۔

فوجی حکومت کی جانب سے اس تعلق سے رابطہ کے باوجود کوئی بیان نہیں دیا گیا

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ کئی شہروں اور قصبوں میں فورسز نے پہلے تنبیہ کے طور پر معمولی فائرنگ کی اور فوجی حکمران یکم فروری کے مقابلے میں مظاہرین کو کچلنے کے لیے زیادہ مستعد نظر آئے۔

میانمارکے شہر می ینگون کے مرکزی علاقے میں مظاہرین کی قیادت کرنے والے سی تھوماؤنگ کا کہنا تھا کہ وہ ہماری طرف بڑھ رہے تھے اور آنسو گیس فائر کر رہے تھے پھر دوبارہ آئے اور ہم پر گرینیڈ پھینکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس کے بعد انہوں نے ہم پر واٹر کینن سے اسپرے کیا حالانکہ منتشر ہونے کے لیے کوئی وارننگ بھی نہیں دی اور اپنی بندوقوں سے فائرنگ شروع کردی‘‘۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق فوجی حکومت کے ترجمان کی جانب سے اس حوالہ سے رابطہ کے باوجود کوئی بیان نہیں دیا گیا۔

’مونیوا گزٹ‘ کے ایڈیٹر کو تھٹ سار کا کہنا تھا کہ می ینگون میں ایک نوجوان مارا گیا لیکن ہلاکتوں کی تعداد دوسرے قصبے مونیوا میں زیادہ تھی جہاں 4 مرد اور ایک خاتون ہلاک ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہلاکتوں کی تصدیق ان کے لواحقین اور ڈاکٹروں سے کی ہے جنہوں نے کہا کہ 5 افراد ہلاک ہوئے۔

ینگون میں احتجاج کر رہے مظاہرین میں سے 300 زیر حراست

انہوں نے بتایا کہ میانمار کے مختلف شہروں اور قصبوں میں کی گئی فائرنگ سے 30 افراد زخمی بھی ہوئے، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ایک اور عینی شاہد نے 1989 میں بیجنگ میں طلبا کے احتجاج کے خلاف کئے گئے سخت اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اکثر شہر تیانمن اسکوائر کی طرح ہیں۔

میانمار مظاہرین پر فائرنگ اور ہلاکتوں کے واقعات ایک ایسے وقت میں دوبارہ پیش آئے ہیں جب ایک روز قبل ہی ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے تحمل سے معاملات چلانے پر زور دیا تھا لیکن وہ آنگ سان سوچی کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے مطالبہ پر اتحاد میں ناکام ہوئے تھے۔

میانمار ’ناؤ نیوز‘ ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے تقریباً 300 مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے جو ینگون میں احتجاج کر رہے تھے۔ اس سے قبل 28 فروری کو بھی میانمار بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور اس دوران پولیس کی فائرنگ سے 18 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

ینگون میں مرنے والے 5 افراد میں انٹرنیٹ نیٹ ورک انجینئر شامل

ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی تصاویر میں متعدد زخمیوں کو ان کے ساتھی مظاہرین کی جانب سے گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا اور ان کے جسم سے نکلتے خون کے نشان بھی سڑکوں پر نظر آئے جبکہ ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک شخص سینے پر گولی لگنے کی وجہ سے اسپتال آنے کے بعد دم توڑ گیا۔

’میڈکس‘ کا کہنا تھا کہ ینگون میں مرنے والے 5 افراد میں انٹرنیٹ نیٹ ورک انجینئر نائی نائی آنگ حتیٹ نائنگ بھی تھے جنہوں نے ایک روز قبل ہی فیس بک پر بڑھتے کریک ڈاؤن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ان ہلاکتوں کے بعد رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شورش زدہ میانمار میں اب تک ان مظاہروں میں 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فوج کا کہنا تھا کہ ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔

یاد رہے کہ میانمار میں یکم فروری کو فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے اور منتخب رہنما آنگ سان سوچی اور ان کی پارٹی کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ ان کی جماعت نے بھاری اکثریت سے کامیابی کے لیے نومبر انتخابات میں دھوکا دہی کی۔

مذکورہ فوجی بغاوت جس نے تقریباً 50 سال کی عسکری حکمرانی کے بعد جمہوریت کی طرف اٹھنے والے عارضی اقدامات کو روک دیا تھا، پر عوام کا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے بھی اس کی مذمت کی گئی۔

عراق میں فوجی فضائی حملے میں داعش کے 4 دہشت گرد ہلاک

0
عراق میں فوجی فضائی حملے میں داعش کے 4 دہشت گرد ہلاک
عراق میں فوجی فضائی حملے میں داعش کے 4 دہشت گرد ہلاک

خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عراقی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے دارالحکومت بغداد سے 135 کلومیٹر دور واقع جلالہ شہر میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا، جس میں داعش کے چار دہشت گرد مارے گئے۔

بغداد: عراق کے مشرقی صوبہ دیالہ میں فوج کے فضائی حملے میں داعش کے چار دہشت گرد مارے گئے۔ صوبائی پولیس کے ذرائع نے یہ اطلاع دی۔

صوبائی پولیس کے افسر السعدی نے بتایا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عراقی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے دارالحکومت بغداد سے 135 کلومیٹر دور واقع جلالہ شہر میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا، جس میں داعش کے چار دہشت گرد مارے گئے۔

صوبہ دیالہ میں فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے باوجود داعش کے دہشت گرد ایران سے متصل علاقوں میں اپنے ٹھکانے قائم کئے ہوئے ہیں۔

بنگال میں 282 ارکان اسمبلى میں سے 104 نے حلف نامے میں اپنے خلاف مجرمانہ معاملوں کو تسلیم کیا

0
بنگال میں 282 ارکان اسمبلى میں سے 104 نے حلف نامے میں اپنے خلاف مجرمانہ معاملوں کو تسلیم کیا
بنگال میں 282 ارکان اسمبلى میں سے 104 نے حلف نامے میں اپنے خلاف مجرمانہ معاملوں کو تسلیم کیا

ترنمول کانگریس کے 205 ارکان اسمبلی سے 68 ایم ایل اے (33 فیصد)، کانگریس کے 39 میں سے 20 (51 فیصد)، سی پی آئی (ایم) کے 24 میں سے 11 (46 فیصد)، بی جے پی کے چھ میں سے تین (50 فیصد) اور سی پی آئی کے ایک ہی رکن اسمبلی کے خلاف سنگین معاملوں کی حلف نامے میں جانکاری خود انہوں نے ہی دی ہے۔

کولکاتا: مغربی بنگال میں سبکدوش ہونے والے 282 ایم ایل اے میں سے 104 نے حلف نامے میں اپنے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہونے کی بات تسلیم کی ہے۔ الیکشن واچ اینڈ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ان 282 میں سے 104 (یعنی 37 فیصد) نے حلف نامے دیکر خود کے خلاف درج کئے گئے سنگین مجرمانہ معاملوں کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے 90 کے خلاف سنگین مجرمانہ معاملے، کم از کم سات کے خلاف قتل، 24 کے خلاف اقدام قتل، کم از کم 10 ارکان اسمبلی کے خلاف خواتین کے تئیں جرم کے معاملے مختلف تھانوں میں درج ہیں۔

ان میں کہا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے 205 ارکان اسمبلی سے 68 ایم ایل اے (33 فیصد)، کانگریس کے 39 میں سے 20 (51 فیصد)، سی پی آئی (ایم) کے 24 میں سے 11 (46 فیصد)، بی جے پی کے چھ میں سے تین (50 فیصد) اور سی پی آئی کے ایک ہی رکن اسمبلی کے خلاف سنگین معاملوں کی حلف نامے میں جانکاری خود انہوں نے ہی دی ہے۔