پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 387

کسانوں کے معاملے پر ایوان بالا میں ہنگامہ، نہیں ہوسکا وقفہ صفر و سوالات

0
کسانوں کے معاملے پر ایوان بالا میں ہنگامہ، نہیں ہوسکا وقفہ صفر و سوالات
کسانوں کے معاملے پر ایوان بالا میں ہنگامہ، نہیں ہوسکا وقفہ صفر و سوالات

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کی مشکلات پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن کی نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: بدھ کے روز کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کی مشکلات پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کی کارروائی نہیں ہو سکی۔

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے وقفہ صفر کے دوران ہنگامہ برپا کرنے والے اراکین سے بار بار اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں اور کارروائی کو آسانی سے چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شور مچا کر کسانوں کا بھلا نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی حزب اختلاف کے اراکین کسانوں کے معاملے پر فوری چرچا کا مطالبہ کرتے رہے۔

دوپہر 12 بجے تک کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ جب کسانوں کے معاملے پر ایوان میں چرچا ہوگی تو وہ اپنے خیالات پیش کرسکتے ہیں، لیکن اپوزیشن ارکان ان کی تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے اور ہنگامہ شروع کردیا، جس پر مسٹر نائیڈو دوپہر 12 بجے تک کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

اس کے بعد جب دوپہر 12 بجے ایک بار پھر ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے وقفہ سوالات کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی حزب اختلاف کے اراکین نے ایک بار پھر شور مچانا شروع کردیا اور انہوں نے کسانوں کے معاملے پر فوری چرچا کرانے کا مطالبہ کیا۔ وہ ایوان کے وسط میں آئے اور حکومت مخالف نعرے لگانے لگے۔

ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

ہری ونش نے بار بار ممبروں کو اپنی نشستوں پر جانے اور وقفہ سوالات چلنے کی تاکید کی۔ اس دوران انہوں نے سوالات پوچھنے کے لئے کچھ ممبروں کے نام بھی پکارے لیکن شور میں کچھ بھی نہیں سنا گیا۔ جب اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی جاری رہی تو ڈپٹی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردی۔

تیرتھ سنگھ راوت ہوں گے اتراکھنڈ کے دسویں وزیر اعلی

0
تیرتھ سنگھ راوت ہوں گے اتراکھنڈ کے دسویں وزیر اعلی
تیرتھ سنگھ راوت ہوں گے اتراکھنڈ کے دسویں وزیر اعلی

قانون ساز پارٹی کے ممبروں کا اجلاس میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی تروندر سنگھ راوت نے مسٹر تیرتھ سنگھ راوت کے نام کی تجویز پیش کی، جسے مرکز کے نگراں رمن سنگھ اور پارٹی کے ریاستی انچارج دشینت گوتم کی موجودگی میں متفقہ طور پر قبول کرلیا گیا۔

دہرادون: بی جے پی قانون ساز پارٹی کی ایک میٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور پوڑی گڑھوال لوک سبھا حلقہ کے رکن پارلیمنٹ تیرتھ سنگھ راوت کو اتراکھنڈ کے دسویں وزیر اعلی کے طور پر منتخب کیا گیا۔

قانون ساز پارٹی کے ممبروں کا اجلاس بدھ کی صبح دس بجے دہرادون میں پارٹی کے ریاستی دفتر میں شروع ہوا۔ سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی تروندر سنگھ راوت نے مسٹر تیرتھ سنگھ راوت کے نام کی تجویز پیش کی، جسے مرکز کے نگراں رمن سنگھ اور پارٹی کے ریاستی انچارج دشینت گوتم کی موجودگی میں متفقہ طور پر قبول کرلیا گیا۔ بعد میں، نامہ نگاروں کو اس کے بارے میں بتایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ پارٹی کے جھگڑے کے بعد پارٹی کے اعلی رہنماؤں کے کہنے پر سبکدوش وزیر اعلی تریوندر سنگھ راوت نے منگل کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

تیونس میں مہاجرین کی دو کشتیاں ڈوبنے سے 39 لوگوں کی موت

0
تیونس میں مہاجرین کی دو کشتیاں ڈوبنے سے 39 لوگوں کی موت
تیونس میں مہاجرین کی دو کشتیاں ڈوبنے سے 39 لوگوں کی موت

 مہاجرین کی دو کشتیاں تیونس کی سمندری حدود میں ڈوبنے سے 39 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 165 مہاجرین کو بچالیا گیا۔

پیرس: غیر قانونی طور پر اٹلی جانے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی دو کشتیاں تیونس کی سمندری حدود میں ڈوبنے سے کم از کم 39 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 165 مہاجرین کو بچالیا گیا۔

عالمی میڈیا سے ملنے والی ا طلاعات کے مطابق تیونس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ مہاجرین اٹلی کے جزیرے لمپیڈوسا کی جانب جارہے تھے لیکن کشتیوں کو حادثہ پیش آگیا۔

وزارت دفاع کے ترجمان محمد ذکری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صفاقس کے ساحل پر پیش آنے والے حادثہ میں کوسٹ گارڈ نے 165 افراد کو بچالیا، جبکہ دیگر افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک تمام افراد کا تعلق افریقہ کے مختلف ممالک سے ہے۔
خیال رہے کہ تیونس کے ساحلی شہر صفاقس کے قریبی ساحلی پٹی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے بہتر مستقبل کی خاطر یوروپ جانے کا بڑا مرکز ہے۔

تیونس کے سمندر میں 2019 میں تقریباً 90 افریقی مہاجرین ڈوب گئے تھے جب ان کی کشتی لیبیا سے یوروپ کی جانب روانہ ہونے کے بعد حادثے سے دوچار ہوئی تھی اور یہ واقعہ تیونس کے حکام کے لیے بدترین حادثہ تھا جس سے ان کو نمٹنا پڑا تھا۔

انسانی حقوق کے ادارے نے تیونس میں معاشی بدحالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اٹلی میں تیونس سے آنے والے مہاجرین کی تعداد 2020 میں 5 گنا بڑھ کر 13 ہزار ہوگئی تھی۔

ہیرس اور سولبرگ کے مابین آرکٹک اور دیگر امور پر باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

0
ہیرس اور سولبرگ کے مابین آرکٹک اور دیگر امور پر باہمی تعاون پر تبادلہ خیال
ہیرس اور سولبرگ کے مابین آرکٹک اور دیگر امور پر باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

ریاستہائے متحدہ کی نائب صدر ہیرس اور ناروے کے وزیر اعظم سولبرگ نے کووڈ-19، تبدیلیٔ ماحولیات اور آرکٹک پر تعاون کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

واشنگٹن: ریاستہائے متحدہ کی نائب صدر کملا ہیرس نے ناروے کے وزیر اعظم ایرنا سولبرگ سے آرکٹک خطے میں کورونا وائرس سمیت دیگر ایشوز پر تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔
وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ’’نائب صدر ہیرس اور وزیر اعظم سولبرگ نے کووڈ-19، تبدیلیٔ ماحولیات اور آرکٹک پر تعاون کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عالمی صحت سے متعلق امور، جن میں خواتین اور بچیوں کی فلاح و بہبود شامل ہے، پر بھی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

اتراکھنڈ: ترویندر کا استعفیٰ، نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان کل ہوگا

0
اتراکھنڈ: ترویندر کا استعفیٰ، نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان کل ہوگا
اتراکھنڈ: ترویندر کا استعفیٰ، نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان کل ہوگا

اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ ترویندر سنگھ راوت نے گورنر کو استعفیٰ سونپ دیا۔ نئے وزیر اعلیٰ کے لیے بھگت سنگھ کوشیاری، رمیش پوکھریال نیشنک، انل بلونی، دھن سنگھ راوت اور اجے بھٹ کے ناموں کی چرچا ہے۔

دہرادون: اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ ترویندر سنگھ راوت نے آخر کار تمام قیاس آرائیوں پر قدغن لگاتے ہوئے منگل کے روز گورنر کو استعفیٰ سونپ دیا۔

ذرائع کے مطابق اتراکھنڈ کے نئے وزیراعلیٰ کا اعلان کل ہو جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک برس سے مسٹر راوت کو تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ گذشتہ دو دنوں میں ریاست میں تیزی سے بدلتے سیاسی حالات کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مشاہد رمن سنگھ اچانک دہرادون پہنچے اور انہوں نے تمام اراکین اسمبلی کی رائے لے کر رپورٹ اعلیٰ کمان کو بھیجی۔

مسٹر تریویندر ہائی کمان کو منانے میں ناکامیاب

مسٹر راوت بھی دہلی گئے تھے لیکن وہ ہائی کمان کو منانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور آج انہوں نے گورنر کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔

نئے وزیر اعلیٰ کے لیے بھگت سنگھ کوشیاری، رمیش پوکھریال نیشنک، انل بلونی، دھن سنگھ راوت اور اجے بھٹ کے ناموں کی چرچا ہے۔

اس طرح کی بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ ریاست میں آئندہ برس 2022 میں ہونے والے الیکشن کے پیش نظر کسی قد آور رہنما کو وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔

کل اراکین اسمبلی کے اجلاس میں نئے لیڈر کا انتخاب ہوگا

گورنر کو استعفیٰ دینے کے بعد مسٹر راوت نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہائی کمان کے کہنے پر انہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل اراکین اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں نئے لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلی تریویندر سنگھ راوت نے منگل کے روز گزشتہ چار دنوں سے جاری گہماگہمی کے درمیان آج اپنا اور کابینہ کے ممبروں کا استعفیٰ گورنر بیبی رانی موریہ کو سونپ دیا۔ تاہم، نئی کابینہ کی تشکیل ہونے تک یہ تمام اراکین اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ اس سلسلے میں غور و خوض کے لیے بدھ کی صبح بھارتیہ جنتا پارٹی کی قانون ساز پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

استعفی کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر تریویندر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی بھی فیصلہ اجتماعی غور و فکر کے بعد ہی ہوتا ہے۔

اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بعد مسٹر تریویندر نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "میں پارٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے چار سال تک دیوبھومی (اتراکھنڈ) کی خدمت کا سنہری موقع دیا ہے۔ یہ بی جے پی میں ہی ممکن تھا کہ پارٹی نے ایک چھوٹے سے گاؤں کے فوجی خاندان کے ایک عام کارکن کو اتنا بڑا اعزاز دیا”۔

مسٹر تریویندر کے دور اقتدار کے چار سال مکمل ہونے میں صرف نو دن باقی

انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ میری جگہ کسی دیگر فرد کو یہ موقع فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دور اقتدار کے چار سال مکمل ہونے میں صرف نو دن رہ گئے ہیں۔ میں ریاست کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی نے اپنے دور حکومت کے اہم کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خاص طور پر خواتین کے ذاتی روزگار، بچوں کی تعلیم اور کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے بہت سارے کام کیے ہیں۔ اگر پارٹی مجھے یہ موقع نہ دیتی تو میں یہ کبھی نہیں کرتا۔ کل جس کو بھی موقع ملے گا، وہ ان منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے۔

لیڈرشپ میں تبدیلی کی وجہ پوچھے جانے پر مسٹر تریویندر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی بھی فیصلہ اجتماعی غور و فکر کے بعد ہی ہوتا ہے۔ دوبارہ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اس سوال کے مزید اچھے جواب کے لیے انہیں دہلی جانا پڑے گا۔

ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی

0
ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی
ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی

صبح گیارہ بجے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے پٹرول اور ڈیزل نیز رسوئی گیس کے بڑھتے ہوئے داموں پر پھر سے ہنگامہ شروع کردیا۔ وہ ایوان کی بیچ میں آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے سلسلے میں منگل کے روز اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

صبح گیارہ بجے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے پٹرول اور ڈیزل نیز رسوئی گیس کے بڑھتے ہوئے داموں پر پھر سے ہنگامہ شروع کردیا۔ وہ ایوان کی بیچ میں آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے اپوزیشن کے ارکان سے خاموش رہنے اور اپنی سیٹیوں پر جانے کی بار بار اپیل کی لیکن ان کا ہنگامہ جاری رہا۔

اس سے قبل وقفہ صفر میں بھی اسی معاملے پر اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔

اس دوران اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ کچھ ارکان نے آج پھر ضابطہ 267 کے تحت کام ملتوی کرنے کی تحریک دی ہے۔ جس کی اجازت دی جانی چاہئے۔ مسٹر ہری ونش نے کہا کہ اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو اس پر اجازت دینے سے متعلق انتظام دے چکے ہیں، اس لئے وہ ان کے فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کرسکتے۔ مسٹر کھڑگے نے مسٹر ہری ونش سے کہا ’’آپ سپریم اتھارٹی ہیں، آپ اجازت دے سکتے ہیں لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ عزت مآب اسپیکر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسے تبدیل نہیں کرسکتے‘‘۔

اس کے بعد اپوزیشن ارکان ہنگامہ اور نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے سوالات پوچھنے کے لئے کچھ ارکان کے نام بھی لئے لیکن شور شرابے اور ہنگامے کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں دیا۔
اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ اور شور شرابہ جاری رہنے پر مسٹر ہری ونش نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

0
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

راجیہ سبھا میں اہم اپوزیشن کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ہنگامہ شروع کردیا۔ ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں اہم اپوزیشن کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی روز بروز بڑھتی قیمتوں کے سلسلے میں منگل کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

صبح گیارہ بجے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے، بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندر مشرا، شیو سینا کی پرینکا چترویدی اور ڈی ایم کے کے تروچی شیوا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ضابطہ 267 کے تحت کام ملتوی کرنے کی تحریک دی ہے۔

ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی

انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو نے کل ہی ضابطہ 267 پر انتظام دیا تھا۔ اسپیکر کی اجازت کے بغیر ضابطہ 267 پر بحث نہیں ہو سکتی۔ اس دوران اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان ایوان کے بیچ میں آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ تقریباً 20 منٹ کی کارروائی کے بعد ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

مسٹر ہری ونش نے اپوزیشن کے لیڈر سے خاموش ہونے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایوان سے نعرے بازی نہ کرنے اور اپنی نشستوں پر جانے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ صفر کے دوران ارکان اہم امور کو اٹھاتے ہین، اس لئے وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں۔

اسی دوران مسٹر تروچی شیوا نے انتظام کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے سبب ارکان ہنگامہ کررہے ہیں۔

بھارتیہ جنتاپارٹی کے بھوپیندر یادو نے کہا کہ ارکان کا ہنگامہ جائز نہیں ہے۔ وہ ایوان کی کارروائی چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈر کو اس معاملے پر کل بولنے کا موقع دیا گیا تھا۔

ہنگامے کے دوران ہی جنتادل (و) کے رام ناتھ ٹاھرک نے اپنا معاملہ اٹھایا۔ ارکان کے خاموش نہ ہونے پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کردی۔

کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر میں آتشزدگی، 9 افراد ہلاک

0
کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر میں آتشزدگی، 9 افراد ہلاک
کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر میں آتشزدگی، 9 افراد ہلاک

کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر کی 13 منزل پر آگ لگنے سے 9 لوگوں کی موت ہوگئی. ممتا بنرجی نے رات دس بجکر 15 منٹ پر واقعہ کا معائنہ کیا اور مرنے والوں کے کنبے کو دس دس لاکھ روپے اور کنبے کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا۔

کولکتہ: مغربی بنگال کے کولکتہ میں اسٹرینڈ روڈ پر واقع مشرقی ریلوے کے دفتر کی 13 منزل پر آگ لگنے سے کم از کم 9 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔

آگ لگنے کا واقعہ پیر کی شام 6 بجکر دس منٹ پر پیش آیا۔ مرنے والوں میں چار فائر بریگیڈ کے اہلکار، دو ریلوے کے ملازمین اور پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہیں۔

مشرقی ریلوے کے ایک ملازم نے بتایا کہ 13 ویں منزل پر اکاؤنٹنگ آفس ہے۔

وزیراعلی ممتا بنرجی نے رات دس بجکر 15 منٹ پر واقعہ کا معائنہ کیا اور مرنے والوں کے کنبے کو دس دس لاکھ روپے اور کنبے کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا۔

اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے مہلوکین کے کنبوں کو دو دو لاکھ روپے اور سنگین طور پر زخمیو کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوئے شامل

0
ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوئے شامل
ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوئے شامل

بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں چار مرتبہ کی رکن اسمبلی و سابق ڈپٹی اسپیکر سونالی گوہا، جو ایک زمانے میں ممتا بنرجی کی قریبی تھیں، سینگور تحریک میں ممتا بنرجی کے ساتھ رہنے والے 80 سالہ رابند ناتھ بھٹاچاریہ شامل ہیں ۔پارٹی نے ان دونوں کو اس مرتبہ امیدوار نہیں بنایا ہے۔

کلکتہ: ٹکٹ نہ ملنے سے مایوس ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی نے آج بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں چار مرتبہ کی رکن اسمبلی و سابق ڈپٹی اسپیکر سونالی گوہا، جو ایک زمانے میں ممتا بنرجی کی قریبی تھیں، سینگور تحریک میں ممتا بنرجی کے ساتھ رہنے والے 80 سالہ رابند ناتھ بھٹاچاریہ شامل ہیں ۔پارٹی نے ان دونوں کو اس مرتبہ امیدوار نہیں بنایا ہے۔

چار بار کے ایک اور رکن اسمبلی، 85 سالہ جتو لاہری اور سابق فٹ بالر دبندو بسواس، جو پہلی بار 2016 میں ممبرا سمبلی منتخب ہوئے تھے بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان چاروں کو 5 مارچ کو ترنمول کانگریس کے امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیا گیا ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش، مکل رائے اور شوبھندو ادھیکاری کی موجودگی میں ان لوگوں کو پارٹی میں شامل کرایا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے ایک اور ممبر اسمبلی سیتل سردار بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ مطلوبہ سیٹ نہیں ملنے کی وجہ سے حبیب پور سے ترنمول کانگریس کی امیدوار سرلا مرمو بھی پارٹی بدل رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس نے ان کی جگہ پردیہ باسکی کو صبح ہی امیدوار بنایا ہے۔

38 رکنی مالدہ ضلع پریشد پر بھی بی جے پی نے اپنا کنٹرول کرلیا ہے۔ بنگالی اداکارہ تنوشری چکرورتی بھی بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔

ریاست میں اسمبلی انتخابات آٹھ مراحل میں 27 مارچ سے 29 اپریل کے درمیان ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی 2 مئی کو ہوگی۔

حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے: کھڑگے

0
حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے: کھڑگے
حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے: کھڑگے

کانگریس حکومت سے ایوان میں مہنگائی پر بحث کرانے کی اپیل کر رہی ہے لیکن ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا ہے۔ حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے۔

نئی دہلی: ایوان بالا راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ آسمان چھوتی مہنگائی سے عام آدمی پریشان ہے اور کانگریس نے ایوان میں اس معاملے پر بحث کرانے کے لئے تحریک التوا پیش کردی ہے لیکن حکومت نے اسے مسترد کردیا ہے۔

مسٹرکھڑگے نے پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ مہنگائی اپنے شباب پر پہنچ چکی ہے اور کانگریس حکومت سے ایوان میں اس معاملے پر بحث کرانے کی اپیل کر رہی ہے لیکن ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا ہے۔ حکومت مہنگائی پر بحث سے بھاگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مہنگائی کے معاملے پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی جب تک ایوان میں ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

مہنگائی پر بحث کرنے سے حکومت کا انکار

کانگریس قائد نے کہا کہ عوام مہنگائی سے دوچار ہے اور اپوزیشن عوام کے مسئلے کو ایوان میں رکھنا چاہتی ہے لیکن حکومت نے اس پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اپوزیشن ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ایوان میں رکھنا اور حکومت کو اس سے آگاہ کرنا چاہتی ہے۔ لہذا حکومت کانگریس کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے، کانگریس کو ایوان میں مہنگائی پر تبادلہ خیال کرنے کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اجولا اسکیم کے تحت غریبوں کو رسوئی گیس کے سلنڈر دینے کی بات کرنے والی مودی حکومت ہر روز رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کررہی ہے، جو گھریلو بجٹ کو بگاڑ رہی ہے۔ مہنگے پٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے تمام ضروری اشیاء کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور اس مہنگائی کی وجہ سے عوام میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔