پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 386

برطانیہ میں تیار کورونا ویکسین ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ، اٹلی نے استعمال پر لگائی پابندی 

0
برطانیہ میں تیار کورونا ویکسین ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ، اٹلی نے استعمال پر لگائی پابندی 
برطانیہ میں تیار کورونا ویکسین ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ، اٹلی نے استعمال پر لگائی پابندی 

برطانیہ میں تیار کورونا ویکسین کے استعمال کے نتیجے میں خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات 30 لاکھ افراد میں سے 20 میں سامنے آئے۔ ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ اور اٹلی نے عارضی طور پر استعمال معطل کردیا ہے۔ 

بروسیلز: برطانیہ میں تیار کورونا ویکسین ایسٹرا زینیکا کے استعمال کے نتیجے میں خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعد ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ اور اٹلی نے اس ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے۔

خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات 30 لاکھ افراد میں سے 20 میں سامنے آئے۔

یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ ویکسین اور خون کی پھٹکیاں بننے کے درمیان بہرحال کسی تعلق کی علامات نہیں ملیں۔

فوج کا سوچی پر 6 لاکھ ڈالر اور 11 کلو سونے کی رشوت لینے کا الزام

0
فوج کا سوچی پر 6 لاکھ ڈالر اور 11 کلو سونے کی رشوت لینے کا الزام
فوج کا سوچی پر 6 لاکھ ڈالر اور 11 کلو سونے کی رشوت لینے کا الزام

جنٹا کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل جا من من تنگ نے کہا ہے کہ سوچی کے خلاف الزامات ینگون کے سابق وزیر اعلی فیو میاں تھیین نے لگائے تھے، جنھوں نے انہیں (محترمہ سوچی) کو پیسے دیئے تھے۔

نیپیڈاو: میانمار کے فوجی حکمرانوں نے بے دخل ہونے والی جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف اب تک کے سب سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 6 لاکھ ڈالر اور 11 کلو گرام سونا غیر قانونی طور پر لیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، تاہم، فوج نے اس الزام کی تصدیق کے لئے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی سوچی کی پارٹی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

جمعہ کے روز جنٹا کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل جا من من تنگ نے کہا ہے کہ سوچی کے خلاف الزامات ینگون کے سابق وزیر اعلی فیو میاں تھیین نے لگائے تھے، جنھوں نے انہیں (محترمہ سوچی) کو پیسے دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم سے بچاؤ کمیٹی ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے میانمار کے معزول صدر ون مائنٹ اور کابینہ کے متعدد وزرا پر بھی بدعنوانی کا الزام عائد کیا۔

وزیراعظم مودی نے سوامی چدبھوانند کی بھگوت گیتا کے کنڈل ایڈیشن کا اجرا کیا

0
وزیراعظم مودی نے سوامی چدبھوانند کی بھگوت گیتا کے کنڈل ایڈیشن کا اجرا کیا
وزیراعظم مودی نے سوامی چدبھوانند کی بھگوت گیتا کے کنڈل ایڈیشن کا اجرا کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گیتا ہمیں سوچنے کے لایق بناتی ہے، سوال کرنے کے لئے تحریک دیتی ہے، بحث کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ہمارے ذہن کو کھلا رکھتی ہے۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے سوامی چدبھوانند کی بھگوت گیتا کے کنڈل ایڈیشن کا آج ورچوول طریقے سے اجرا کیا وزیراعظم نے سوامی چدبھوانند کی بھگوت گیتا کو ای بُک کے فارمیٹ میں لانے کی ستائش کی اور کہا کہ اس سے نوجوان اور زیادہ تعداد میں گیتا کے نیک خیالات سے وابستہ ہوں گے انہوں نے کہا کہ یہ روایت اور تکنیک کا آپس میں ملن ہے۔ اس سے گیتا اور تمل ایڈشن کے درمیان رابطہ بھی گہرا ہوگا۔

سوامی چدبھوانند کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سوامی چدبھوانند کا ذہن، جسم، دل اور روح ہندوستان کی تعمیر نو کے تئیں وقف تھی۔ انہوں نے سوامی چدبھوانند پر سوامی وویکا نند کے مدراس لیکچر کا اثر پڑا، جس میں انہوں نے قوم کو ترجیح دینے اور لوگوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دی تھی۔

وہ ایک جانب سوامی چدبھوانند سوامی وویکانند سے متاثر تھے، دوسری جانب اپنے اچھے کاموں سے دنیاکوت حریک دیتے رہے۔ انہوں نے سماج کی خدمت، صحت اور تعلیم کے شعبے میں کئے گئے کاموں کے لئے سوامی چدبھوانند کے اچھے کاموں کوآگے بڑھانے کے لئے مسٹر رام کشن مشن کی تعریف کی۔

مسٹر مودی نے کہا کہ گیتا کی خوبصورتی اس کی گہرائی، تنوع اور لچکدار پن میں ہے۔ آچاریہ ونوبا بھاوے نے بھگوت گیتا کا ذکر ماں کے طور پر کیا ہے، جو بچے کی غلطی پر اسے اپنی گود میں لیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی، لوک مانیہ تلک، شاعر سبرا منیم بھارتی جیسے عظیم لیڈر گیتا سے متاثر ہوئے۔ گیتا ہمیں سوچنے کے لایق بناتی ہے، سوال کرنے کے لئے تحریک دیتی ہے، بحث کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ہمارے ذہن کو کھلا رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی شخص گیتا سے متاثر ہے، وہ رویہ سے رحم دل اور جمہوری مزاج کا ہوگا۔

بی جے پی اور ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن سے کی ملاقات

0

8 مارچ کو بی جے پی بنگال کے صدر نے فیس بک پر کہا کہ ممتا بنرجی کو زخمی حالت میں دیکھیں گے۔ 9 مارچ کو الیکشن کمیشن نے ڈی جی پی کو تبدیل کردیا اور 10مارچ کو بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ آپ سمجھ جائیں گے شام پانج بجے ہوگا اور اس کے بعد ممتا بنرجی کے ساتھ نندی گرام میں یہ حادثہ ہوگیا۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کی تین رکنی وفد جس میں پارٹی کے قومی ترجمان ڈیریک اوبرائن، پارتھو چٹرجی اور چندریمابھٹا چاریہ شریک تھے نے آج الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے کہا کہ ممتا بنرجی کے ساتھ حادثہ کوئی اتفاقی نہیں ہے بلکہ ایک سازش کے تحت انجام دیا گیا ہے۔

اوبرائن نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی لا اینڈ آرڈر الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہونے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے اخلاقیات کے تقاضے کو پامال کرتے ہوئے طنزیہ بیان دئیے ہیں کہ ممتا بنرجی جان بوجھ کر کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 8 مارچ کو بی جے پی بنگال کے صدر نے فیس بک پر کہا کہ ممتا بنرجی کو زخمی حالت میں دیکھیں گے۔ 9 مارچ کو الیکشن کمیشن نے ڈی جی پی کو تبدیل کردیا اور 10مارچ کو بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ آپ سمجھ جائیں گے شام پانج بجے ہوگا اور اس کے بعد ممتا بنرجی کے ساتھ نندی گرام میں یہ حادثہ ہوگیا۔ ہم اس طرز عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کی حقیقت سامنے آئے اور ہم میڈیا کی مدد چاہتے ہیں۔

ممتا بنرجی کے ساتھ ہوئے حادثہ کی ویڈیو جانچ کا مطالبہ

دوسری جانب آج الیکشن کمیشن سے بی جے پی کے وفد نے بھی ملاقات کی اور کہا کہ ممتا بنرجی کے ساتھ ہوئے حادثہ کی ویڈیو جانچ کی جائے۔ سبیاچی دتہ نے کہا کہ ممتا بنرجی کے ساتھ ہوئے حادثہ کی تمام فوٹیج کی جانچ ضروری ہے اگر ایسا نہیں ہوسکا تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہوگی۔

اتفاقی طور پر، بی جے پی قائدین بھی جمعرات کے روز کمیشن میں گئے تھے۔ سبیاچی دتہ، ششیر بجوریا کمیشن میں گئے اور واقعے کی فوٹیج لانے کا مطالبہ کیا۔ سبیاچی نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعے کی تمام فوٹیج جاری کرنا ضروری تھا۔ بصورت دیگر، اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ہی رہے گی۔

مغربی بنگال: ممتا بنرجی پر حملہ افسوس ناک: محبوبہ مفتی

0
مغربی بنگال: ممتا بنرجی پر حملہ افسوس ناک: محبوبہ مفتی
مغربی بنگال: ممتا بنرجی پر حملہ افسوس ناک: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر ہوئے حملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ملک پر کس حد تک نفرت کا غلبہ ہے۔

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر انتخابی تشہیر کے دوران ہونے والے مبینہ حملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ملک پر کس حد تک نفرت کا غلبہ ہے۔

انہوں نے ممتا بنرجی کی جلد صحتیابی اور ان کی انتخابی مہم کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے یہ باتیں اپنے ایک ٹویٹ میں کہیں۔

ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا: ’ممتا بنر جی پر انتخابی ریلی کے دوران حملہ ہونے پر سخت افسوس ہوا۔ اس سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ ملک پر کس حد تک نفرت کا غلبہ ہے۔ میں ان کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں اور ان کی انتخابی مہم کے لئے میری نیک خواہشات ہیں‘۔

دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی ممتا بنرجی پر مبینہ حملے کی پر زور مذمت کی ہے۔

عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہم (میں اور میرے والد) انتخابی مہم کے دوران ممتا بینرجی پر ہوئے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ انتخابی مہموں کے دوران ہونے والی گرما گرمی جسمانی تشدد پر منتج نہیں ہونی چاہئے۔ امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس مسئلے کی تہہ تک پہنچے گا‘۔

قابل ذکر ہے کہ ممتا بینرجی بدھ کے روز نندی گرام میں انتخابی تشہیر کے دوران زخمی ہوئی تھیں۔ ان کی پارٹی ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ان پر حملہ کیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پیر، کاندھوں اور گردن میں چوٹ آئی ہے۔

سری نگر میں بھیانک آتشزدگی، 6 رہائشی مکانات خاکستر

0
سری نگر میں بھیانک آتشزدگی، 6 رہائشی مکانات خاکستر
سری نگر میں بھیانک آتشزدگی، 6 رہائشی مکانات خاکستر

سرکاری ذرائع کے مطابق سری نگر کے نواب بازار علاقے میں ایک رہائشی مکان سے غالباً شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ نمودار ہوئی جس کے شعلوں نے فوراً متصل مکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

سری نگر: گرمائی دارالحکومت سری نگر کے نواب بازار علاقے میں جمعرات کی علی الصبح آگ کی ایک بھیانک واردات میں 6 رہائشی مکان خاکستر ہوگئے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے نواب بازار علاقے میں جمعرات کی علی الصبح قریب ساڑھے چار بجے ایک رہائشی مکان سے غالباً شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ نمودار ہوئی جس کے شعلوں نے فوراً متصل مکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

انہوں نے بتایا کہ فائر ٹنڈرس، پولیس اور مقامی لوگوں نے اگرچہ آگ کو قابو میں کر لیا لیکن چھ مکانوں کو خاکستر ہونے سے نہیں بچایا گیا۔

مکان مالکان کی شناخت معراج الدین خان اور غلام رسول (مشترکہ مکان)، عبدالمجید ڈار، نذیر احمد اور جاوید احمد ڈار (مشترکہ مکان)، عبدالقیوم، توحید شوکت ڈار، منیر احمد ڈار اور محمد شفیع ڈار (مشترکہ مکان) کے بطور ہوئی ہے۔

دریں اثنا پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔

عائشہ کی خود کشی نے معاشرے کو بیدار کرنے پر کردیا مجبور مگر۔۔۔

0
عائشہ کی خود کشی نے معاشرے کو بیدار کرنے پر کردیا مجبور مگر۔۔۔
عائشہ کی خود کشی نے معاشرے کو بیدار کرنے پر کردیا مجبور مگر۔۔۔

عائشہ کی خود کشی سے بظاہر معاشرہ بیدار ہو گیا ہے اور جہیز کے خلاف ایک پھر باتیں ہونے لگی ہیں، گوکہ عائشہ کے مبینہ سوسائڈ نوٹ سے خود کشی کی وجہ جہیز کی بجائے محبت میں بے وفائی بتائی جا رہی ہے مگر کیا قوم کی یہ عارضی بیداری کافی ہے یا اسے زندہ ہونے کی ضرورت ہے

تحریر: ڈاکٹر علیم خان فلکی

جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی کہہ رہا ہے خودکشی حرام ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے اس کے ماں باپ نے حریص لڑکے سے اس کی شادی کیوں کی؟کوئی کہہ رہا ہے کہ مرنا تھا تو مرجاتی، یہ ویڈیو بناکر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسری طرف ہر کوئی کہہ رہا ہے یہ جہیز واقعی ایک لعنت ہے، اس کو ختم ہونا چاہئے۔عائشہ کے واقعہ نے دماغوں میں ہلچل پیدا کردی۔ لیکن اِس سے کتنے لوگوں کے دل نرم پڑگئے، کتنے لوگوں کے ضمیر جاگ گئے، یہ کہنا مشکل ہے۔

آیئے، مرحومہ عائشہ جس کو جہیز کی وجہ سے سابرمتی ندی، احمدآباد میں ڈوب کر خودکشی کرنی پڑی، اُس کے والد لیاقت علی خان کے درد میں ڈوبے جملے پر غور کرتے ہیں کہ ”میری عائشہ تو چلی گئی، اب وہ واپس نہیں آئے گی۔ اگر اُس کے اُس کمینے شوہر کو پھانسی پربھی لٹکا دو تو عائشہ واپس نہیں آئے گی، اب اتنا تو کرو! میری قوم کی ہزاروں لاکھوں عائشاؤں کو بچالو۔”

وہ بہادر تھی۔ اس نے اپنی جان ضرور دے دی، لیکن جہیز اور کھانوں کی شوقین سوسائٹی پر لعنت کرگئی۔ جہیز کے لین دین کو خوشی سے جائز کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ مارگئی۔وہ ان بے شمار عائشاؤں کی آواز بن گئی جو اپنے معصوم بلکتے بچوں کو چھوڑ کر دنیا سے چلی گئیں۔ کسی کے شوہر نے ان کا گلا گھونٹ دیا، کسی کے ساس نے اسے جلا دیا۔ لیکن نہ وہ کسی اخبار کی خبر بن سکیں نہ پولیس تک ان کی رپورٹ پہنچ سکی۔

عائشہ ایک ہمت والی تھی۔ وہ تو ایک منٹ میں اس لالچی مردوں کی دنیا سے نجات پاگئی، لیکن جانے کتنی عائشائیں آج بھی ہر گھر میں ہیں، جو جان تو نہیں دے سکتیں، لیکن اِس جہیز کی وجہ سے ہر روز گُھٹ گھٹ کر مرتی ہیں۔ساسوں اور نندوں کے طعنے اور شوہروں کی مار کھاکر ایک زندہ لاش بن چکی ہیں۔ صرف عائشائیں نہیں، لاکھوں سیتائیں، اوشائیں اور ریکھائیں ہیں جن کو بچانے کی ذمہ داری عائشاؤں کے مسلمان شوہروں کی تھی، لیکن وہ مسلمان خود اسلام کے نام پر ایک دھبّہ ہیں۔ اور افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ یہی عائشائیں جو یہ ظلم سہتے ہوئے زندگی گزار لیتی ہیں،وہی اپنے بیٹے بڑے ہونے پر بجائے اس ظلم کو ختم کرنے کے، آنے والی بہوؤں سے بدلہ لیتی ہیں، اور عائشاؤں کا یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوتا۔

عائشہ کے واقعہ سے بیداری

عائشہ کے واقعہ نے علماء اور مشائخین کو بھی زبان کھولنے پر مجبور کردیا۔ اب کئی علماء جو کل تک جہیز کو حرام کہنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ نہ ایسی شادیوں میں شرکت کرنے کو ناجائز کہنے کے لئے تیار تھے اب کہیں کہیں وہ جہیز کو حرام کہہ رہے ہیں۔ لیکن دعوتوں میں شرکت کے تعلق سے اب بھی خاموش ہیں، گول مول باتیں کرکے چندہ دینے والے امیروں اور مریدوں کو ناراض کرنے کا رِسک لینا نہیں چاہتے۔

یاد رہے کہ جہیز کے سامان کی قمیت بمشکل ایک دو لاکھ ہوتی ہے لیکن منگنی کے دن کے کھانے، رخصتی کے دن کے کھانے اور جمعگی، نوروز، مبارکہ وغیرہ جیسی بدعات کے کھانوں میں لڑکی والوں کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ اسی کی وجہ سے لڑکی والے گھر بیچنے، سود پر قرض لینے یا پھر کئی غیراخلاقی طریقوں سے پیسہ لانے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔ ان کھانوں کو پہلے حرام کیا جائے تو بات بنے گی۔

لیکن علماء بے شمار عائشاؤں کی خودکشی یا قتل کے بعد اتنی مشکل سے جہیز کو حرام کہنے پر تیار ہوئے ہیں، ان کھانے کی دعوتوں کو حرام کہنے میں پھر انہیں پتہ نہیں کتنے سال لگیں گے،تب تک پتہ نہیں اور کتنی عائشائیں خودکشی کریں گی یا مارڈالی جائیں گی۔

ہماری قوم کی مشکل یہ ہے کہ لوگوں نے یہود و نصرٰی کی طرح پڑھنے، تدبر کرنے اور نافذ کرنے کا کام اپنے اپنے مسلک کے علماء اور مشائخین پر چھوڑ دیا ہے۔”اتّخذوا احبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ“۔ اگرچہ کہ سماجی تنظیمیں اور مصلحین کئی ہیں جو قوم کو جگانے کے لئے مسلسل کوشش کررہے ہیں، لیکن یہ کام منبر و محراب سے ہی ممکن ہے، لیکن اس منبر و محراب پر جن لوگوں کا قبضہ ہے، ان کی اصلاح کی پہلے ضرورت ہے، یہ کام کون کرے گا؟

فاتحہ، چہلم، برسی یا میلادالبنی کا کھانا جائز ہے یا ناجائزکے مسئلے پر مسجدیں اور مسلک الگ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ایسے کھانے کھلانے کی وجہ سے کسی کا گھر نہیں بِکتا، کسی کو قرض، چندہ یا بھیک مانگنا نہیں پڑتا۔ کسی کی لڑکی گھر سے بھاگنے پر مجبور نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی کئی لوگوں کے نزدیک یہ کھانا کھلانا بھی اور کھانا بھی جائز نہیں۔ پھر جن کھانوں کی وجہ سے پورے خاندان کی اکنامی تباہ ہوجاتی ہے، لڑکی کے بھائی سب کچھ بہن کی شادی کے لئے لٹا کر ڈرائیور اور معمولی میکانک، سیلزمین یا ملازم بننے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جن کھانوں کے دیئے بغیر کوئی دامادآپ کی بیٹی سے شادی کے لئے تیار نہیں ہوتا، ذہنوں پر اللہ کے خوف سے زیادہ لوگ کیا کہیں گے کا خوف طاری ہوجاتا ہے، ایسے شرک اور بدعات کی طرف لے جانے والے راستے کو بند کرنے کے لئے علماء احتیاط اور مصلحت کے تحت جہیز اور ان کھانوں کو مکمل حرام نہیں کہہ سکتے۔

اگرچہ کہ چند علمائے حق ہیں جنہوں نے ایسی شادیوں میں شرکت کو قطعی ناجائز اور حرام کہا ہے۔ لیکن علماء کی اکثریت آج تک جہیز یا کھانے اگر خوشی سے دیئے جائیں تو جائز ہے کا فتویٰ دیتے آئی ہے۔ یہ لوگ اس جواز کو اکثر فتاوٰی عالمگیری، درمختار، فتاوی نذیریہ یا فتوی ثنایہ سے ثاببت کرتے ہیں۔

فتاوے وحی نہیں ہوتے

فقہ کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ فتاوے یا اجماع کسی مخصوص وقت، مقام اور حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ اُس مخصوص وقت کے تقاضوں کے پیشِ نظر علماء و فقہا قرآن و حدیث سے تعبیر یا تاویل یا استنباط کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔وقت، حالات اور مقام بدل جانے کے باوجود وہی قدیم فتاوے یا اجماع اسی طرح نافذ ہوں ایسا ضروری نہیں۔ یہ بعد کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کے بدلنے کے ساتھ ہی قرآن و حدیث کی روشنی میں ازسرِنو جائزہ لیں، اور رہنمائی کریں۔

اگر بعد کے دور میں بھی ان قدیم فتوؤں کو جوں کا توں باقی رکھنے پر اصرار کیا گیا تو وہ مذہب، بدھ یا جین یا ہندومت کی طرح صدیوں پرانے احکامات کا پلندہ بن جاتا ہے۔ اور جدید نسل بغاوت پر اتر آتی ہے۔ اور ہماری تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ کا چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کو ملتوی کرنا، متعہ اور حلالہ کی سزا مقرر کردینا، اور ایسی بہت ساری مثالیں ہیں۔

ماضی قریب میں بھی پرنتنگ مشین پر قرآن کو پرنٹ کرنا، لاؤڈاسپیکر پر اذان دیناجائز نہیں تھا۔ تصویر حرام تھی۔ علماء کسی محفل میں اگر کیمرہ یا ویڈیوگرافر کو دیکھ لیتے تو سخت ناراض ہوجاتے اور واپس چلے جاتے، سعودی علماء نے شاہ فیصل کے زمانے میں ٹی وی حرام ہونے پر فتوے ہی جاری نہیں کئے بلکہ احتجاج بھی کیا۔ سعودی عرب میں ہی کچھ دہے قبل تک لائف انشورنس، میڈیکل انشورنس اور کار انشورنس حرام تھے۔ پردے کے معاملے میں سعودی میں اتنی سختی تھی کہ اگر کوئی عورت چہرے کا نقاب نہ کرتی تو اس کے شوہر کی شامت آجاتی، لیکن اب علماء نے ہی فیصلہ دیا کہ چہرے اور ہاتھ کو کھلا رکھنا جائز ہے۔

ایک دور تھا انگریزی تعلیم، انگریزی نوکری اور انگریزی لباس حرام تھے۔ سرسید پر بھی اور ان کے کالج میں پڑھنے والوں پر بھی کافراور مرتد کے فتوے تھے۔ لیکن یہی فتوے دینے والے علماء کی نسلیں آج اسی نظامِ تعلیم سے فراغت حاصل کرکے نکل رہی ہیں۔ مِسیار یعنی Contract marriage کبھی متعہ کے برابر تھا جس کی سزا زانی کی سزا تھی۔ لیکن اب پورے عالمِ عرب میں بالخصوص امیر خلیجی ملکوں کے علماء نے مِسیار کوجائز کردیا ہے۔

پہلے بغیر محرم کے عورت کے لئے سفرِ حج پر جانا جائز نہیں تھا، اب ٹراویلنگ ایجنٹ کسی بھی غیر مرد کو محرم بنا کر بھیج سکتا ہے۔ پہلے عورت کو تعلیم کی اجازت صرف اتنی تھی کہ وہ ماں کو خط لکھنے کے قابل ہوجائے۔ عورت ناقص العقل اور ساقط الاعتبار سمجھی جاتی تھی، اب عورت سرجن ہے، جج ہے، پروفیسر ہے، پائلٹ ہے، سعودی میں تو فوج، کھیل کود،میں آچکی ہے۔ اولمپک اور فٹبال کلب کی کمیٹیوں میں داخل ہوچکی ہے۔

اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ نکاح کے معاملے میں بھی اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ اب قدیم فتوؤں کو بنیاد بنا کر فتوے نہیں اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ نکاح کے معاملے میں بھی اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ اب قدیم فتوؤں کو بنیاد بنا کر فتوے نہیں دیئے جاسکتے۔ اصولاً جس دور میں تھوڑا بہت خوشی سے جہیز یا کھانا دینے کا بھی فتویٰ دیا گیاتھا وہ بھی غلط تھا۔ وہی سانپ کا بچہ اب ازدھا بن چکا ہے۔ ہوا یوں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے لے کر ائمہ کرام اور مشائخ اولین کے زمانے تک لڑکی والوں سے کوئی سامان یا کھانا لینے کا دور، دور تک کوئی تصور نہیں تھا۔

ہندوانہ رسمیں

اورنگ زیب عالمگیر کے عہد تک جب 1617ء میں فتاویٰ عالمگیری شائع ہوئی، وہاں تک آتے آتے مہارانی جودھابائی کی لائی ہوئی کئی رسمیں مسلمانوں میں داخل ہوگئیں۔ پھرفتاویٰ نذیریہ، ثنایہ جو بالترتیب 1913 اور 1973 میں مکمل ہوئیں، ان کے دور تک شادی کے دن کا کھانا اور تھوڑا بہت جہیز مسلمانوں میں عادت بن چکی تھی۔ لیکن اس وقت بھی خوف خدا کا وجود تھا۔

اگر کسی کو جہیز یا کھانا مل جائے تو وہ منع نہیں کرتا تھا اور اگر کچھ بھی نہ ملے تو وہ شکایت بھی نہیں کرتا تھا۔ لیکن تاریخ نے ایسا بدترین پلٹا کھایا کہ 1857 کے بعد شمالی ہندوستان کے مسلمان اور 1948 کے بعد حیدرآباد کے مسلمان جو کبھی بڑی بڑی جاگیریں، عہدے اور اختیارات رکھتے تھے، سب کچھ ان سے چِھن گیا۔ غربت و افلاس کا عذاب ان پر مسلّط ہوا۔ لگ بھگ یہی دور تھا جب بھوپال، ویجاپور، لکھنو وغیرہ کے مسلم نوابوں کا خاتمہ ہوگیا۔

مسلمانوں کا سب کچھ لوٹ لیا گیا، نوکریاں ختم کردی گئیں۔ جن کے پاس تھوڑی بہت جائدادیں تھیں انہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں ختم کردیا۔ جو تھوڑا بہت بچا تھا وہ بھی پوتیوں اور نواسیوں کی شادی میں لٹ گیا۔ جب مسلمانوں کے پاس کچھ نہ رہا تو انہیں جہیز کے ہندو رواج میں پناہ ملی جس میں لڑکی اپنے ساتھ سسرال کو مال لے کر آتی تھی۔

غربت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس میں سب سے پہلے ایمان بِکتا ہے۔ رزقِ حلال اور رزقِ حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ لڑکی کونقد مہر دینے کے بجائے الٹا اس سے مال وصول کرنا، اپنے مہمانوں کی ضیافت لڑکی والوں کے خرچ پر کرواناحرام ہے، حرام اس لئے کہ کسی کو مشقّت میں ڈالنا ظلم ہے، اور ظلم حرام ہے، یہ سب جانتے ہوئے بھی لوگ علماء کے فتوے کے مطابق خوشی سے دینے اور لینے کے نام پر سب کچھ وصول کرنے لگے۔

جہیز مانگنے والے بھکاری

دو قسم کے لوگ وجود میں آئے۔ ایک وہ مہذب بھکاری تھے جو مانگتے نہیں تھے لیکن لڑکوں کا رشتہ انہی لڑکیوں کے گھر بھیجتے تھے جہاں سے بغیر مانگے بہت کچھ مل جاتا تھا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جن کی حیثیت کو دیکھ کر کوئی نہ لڑکی دیتا تھا نہ مال۔ لیکن جب لڑکیوں کی شادیاں رُکنے لگیں تو پھر لڑکی والوں کو چاہے خوشی سے ہو یا نہ ہو، خوشی سے ہی کہہ کر جہیز اور کھانے دینے پڑے۔ اگرچہ کہ یہ ایک بدعت تھی، لیکن علماء نے نہ جانے کس مصلحت کی بنا یہ فتویٰ دیا کہ "اگر لڑکی کے ماں باپ خوشی سے دیں تو جائز ہے، مانگ کر لیا جائے تو ناجائز ہے“۔ یہ وہ تاریخی بنیادی غلطی تھی جس کی سزا آنے والی نسلوں کو آج مل رہی ہے۔ اس وقت کا بویا ہوا یہ اجازت کا بیچ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، جس کے زہریلے پھلوں سے پوری سوسائٹی تباہ ہے۔

اب یہ جہیز اورکھانے اس دور میں داخل ہوگئے جہاں یہ سب کچھ دیئے بغیر لڑکی کی شادی ناممکن ہے۔اگر شادی ہو بھی تو اس لڑکے سے نہیں ہوسکتی جو لڑکی کا آئیڈیل ہو۔ المعروف کالمشروط بن گیا۔ کیا لیڈر کیا علماء، کیا مرشِد کیا عام آدمی سب اس چلن کے گڑھے میں اس تیزی سے گرتے گئے کہ اب نکلنا ممکن نہیں۔

جو لوگ قوم کی تقدیر بدلنے والے سمجھے جاتے تھے، جب وہی اس گڑھے سے باہر نہیں نکل سکتے تو پھر عائشہ جیسی کمزور، بے سہارا لڑکیاں خودکشی کے علاوہ اور کیا کرسکتی تھیں۔ اس پوری تباہی کے ذمہ دار وہی علماء، مشائخین اور فقہا ہیں جنہوں نے پہلی بار امیروں اور نوابوں کی دل جوئی کے لئے خوشی سے دینے کا جواز پیش کیا بلکہ ایسی خرافات میں شرکت کرکے دلہا دلہن کو آشیرواد پیش کرنے کا ایک چلن بنادیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مدرسوں اور درگاہوں کو بڑانذرانہ دینے والے یہی نواب اور رئیس ہوا کرتے تھے، جن کے گھر کی عالیشان شادیوں، بے پناہ جہیز اور شاہانہ دسترخوانوں کوناجائز کہہ کر کوئی بھی مولوی یا مرشد اپنے چندے بند نہیں کرواسکتا تھا۔ اور یہی روش آج تک چل رہی ہے۔

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ سارے علماء، فقہا اور مشائخین جن کی ہربات کو عوام فتوی کے طور پر لیتی ہے، یہ لوگ پھر سے اجتہاد کریں اور امت کو اصل سنتِ نبوی کی طرف پلٹائیں؟ برکت صرف سنّت کو نافذ کرنے میں ہے۔ یہ سنت ہوہی نہیں سکتی کہ ایک گھر میں برکت ہی برکت آئے یعنی دلہا کے گھر میں گیارہ ہزار مہر، اور وہ بھی ادھار میں، ایک نوکرانی بھی آجائے ساتھ میں سارے گھر بھر کا سامان بھی لائے، لیکن دوسرے گھر میں مصیبت ہی مصیبت آئے۔ کیا یہ سنت ہوسکتی ہے؟

علماء فیصلہ کریں کہ اگر سنّت سے واقعی برکت آتی ہے تو پھر دونوں گھروں میں برکت کا نزول ہو۔ چند امیروں کے لئے یہ سنت اپنی شان دکھانے کے کام آئے تو اکثریت جو مفلوک الحال ہے ان کے گھروں میں بے برکتی، بے روزگاری اور افلاس داخل ہوجائے۔ صحیح سنت کی برکتوں کے نظام کو لانے کے لئے علماء فقہا اور مشائخین پر لازم ہے کہ ہر اس تقریب کو حرام کریں جو قرآن واضح طور پر اشارہ دیتا ہے۔”یاایھاالذین آمنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل” کہ ائے ایمان ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے یعنی جھوٹ اور دھوکہ کے ذریعے مت کھاو۔ خوشی سے دینے اور لینے کا بہانہ ایک دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے؟امیر جو دے رہے ہیں، وہ خوشی سے نہیں بلکہ دکھاوے، شان اور تکبر کی بنا دے رہے ہیں۔ اور جو لوگ استطاعت نہیں رکھتے، وہ پھر بھی دینے پر مجبور ہیں وہ ایک سوشیل بلیک میل ہے۔ دونوں غیر قوم کی نقل کررہے ہیں جو حرام ہے۔

جہیز اور علماء

بعض علماء اس لین دین کو مباح کہتے ہیں، یہ جھوٹ ہے۔ مباح اس عمل کو کہتے ہیں جو رسول ﷺ نے خود نہیں کیا لیکن منع بھی نہیں فرمایا۔ شادی مباح اس لئے نہیں ہوسکتی کہ آپ نے خود شادیاں کی ہیں، بیٹیوں کی شادیاں کی ہیں اور بڑے بڑے صحابہؓ نے بھی کی ہیں۔ جو طریقہ ان لوگوں کا تھا وہ قیامت تک کے لئے مسلمانوں کے لئے شریعت بن گیا۔ اس طریقے سے انحراف کرنا بغاوت ہے اور شریعت کے خلاف ہے۔ ایسی شادیوں میں جانے والے اصل مجرم ہیں جو سنتوں سے انحراف کے چلن کو مضبوط کرنے والے ہیں۔

بعض علماء شادی یا منگنی کے کھانوں کو جو لڑکی والوں سے وصول کیا جاتا ہے، مہمان نوازی کی احادیث سنا کر جائز کرتے ہیں۔ مہمان اورمدعوین میں فرق ہے۔ مہمان اچانک آجاتا ہے جس کی ضیافت کرنااخلاقی فرض ہے۔ لیکن جو لوگ خاص طور پر بلائے جاتے ہیں بالخصوص دلہا والوں کی طرف سے، وہ مہمان نہیں بلکہ باراتی ہیں، وہ مہمان اگر ہیں تو دلہا کے مہمان ہیں۔

ان کی ضیافت لڑکی کے باپ پر ہرگز واجب نہیں۔ لیکن چونکہ دلہاوالوں نے اسی شرط پر شادی کی ہے کہ اگر ہمارے اتنے باراتیوں کی ضیافت کروگے تو ہم یہ شادی کرینگے۔ ”کل شرطِِ لیس فی الکتاب فھو باطل“ یعنی حدیث ہے کہ ایسی ہر شرط جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے۔ ایسے باراتی جو دلہا کے مہمان ہیں لیکن لڑکی کے باپ کے خرچ پر دعوت اڑا رہے ہیں وہ ظالم ہیں

بعض علماء یہ بہانہ کرتے ہیں کہ جہیز یا کھانوں کی ممانعت کا قرآن میں صریح حکم موجود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو لمبی لمبی ڈاڑھیوں، ٹوپیوں، ہرے پیلے لال عماموں کا حکم بھی صریح طور پر قرآن میں نہیں ہے۔ اور نہ سگریٹ یا حشیش یا چرس کانام لے کر صریح حکم دیا گیا۔ قرآن میں نہ نماز کی رکعتوں کا تذکرہ ہے اور نہ اذان کاطریقہ۔ یہ تمام احکامات علماء نے "من یطع الرسول فقد اطاع اللہ” یعنی”جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی“سے اخذ کیے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہر ہر حکم رسول ﷺ کے عمل سے لے کر اس کو واجب، فرض، موکّدہ، غیرموکّدہ، نفل یا پھر حرام، ناجائز، مکروہ وغیرہ میں زمرہ بندی کردیا گیا لیکن شادی کے پورے طریقے کو سنّت سے خارج کرکے قبیلے، خاندان، عرف یا ماحول کے تابع کردیا گیا۔ یہاں پر سنّت واجب قرار کیوں نہیں پائی؟ رسول اللہ ﷺ کی شادی کے مکمل طریقے کو اپنانافرض ہے؟ واجب ہے؟ سنّت موکّدہ ہے؟ غیر موکّدہ ہے؟ نفل ہے؟ ضروری نہیں ہے؟

علماء بتائیں کہ شادی کا طریقہ کس زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر اس میں ہندوؤانہ رسمیں داخل کردے، ایسی شادی کی کسی بھی تقریب میں جانا حرام ہے، مکروہ ہے، ناجائز ہے، ثواب ہے یا کیا ہے یہ علماء اور فقہا کھل کر بتائیں۔

مضمون نگار سوشیوریفارمس سوسائٹی حیدرآباد کے صدر ہیں

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

برطانیہ میانمار کی فوج پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنے کے لئے تیار

0
برطانیہ میانمار کی فوج پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنے کے لئے تیار
برطانیہ میانمار کی فوج پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنے کے لئے تیار

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ’’میانمار کی فوج کے کمانڈر ان چیف کے خاندانی اور کاروباری مفادات کو نشانہ بنانے والی پابندیوں کے بارے میں مسٹر بلنکن کے خیالات کا خیرمقدم ہے۔‘‘

لندن: برطانیہ میانمار کی فوج کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ’’میانمار کی فوج کے کمانڈر ان چیف کے خاندانی اور کاروباری مفادات کو نشانہ بنانے والی پابندیوں کے بارے میں مسٹر بلنکن کے خیالات کا خیرمقدم ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’برطانیہ اضافی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ہم ایک دم واضح ہیں کہ حکومت کو اختیارات کا ناجائز استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے‘‘۔

ممتا بنرجی زخمی، سازش کے تحت دھکا دینے کا الزام

0
ممتا بنرجی زخمی، سازش کے تحت دھکا دینے کا الزام
ممتا بنرجی زخمی، سازش کے تحت دھکا دینے کا الزام

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج ہی نندی گرام اسمبلی حلقے سے پرچہ نامزدگی داخل کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ممتا بنرجی کو چار سے پانچ لوگوں نے دھکا دیا اس وقت ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھے۔

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا کہ نندی گرام میں کچھ لوگوں نے انہیں ڈھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے پاؤں میں شدید چوٹ لگی ہے۔

خیال رہے کہ آج ہی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نندی گرام اسمبلی حلقے سے پرچہ نامزدگی داخل کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ممتا بنرجی کو چار سے پانچ لوگوں نے دھکا دیا اس وقت ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھے۔

ممتابنرجی نے کہا کہ انہیں جان بوجھ کر دھکا دیا گیا ہے وہ کلکتہ لوٹ رہی ہیں اور ڈاکٹر کو دکھائیں گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے اس معاملے کی شکایت کی جائے گی۔ دوسری جانب بی جے پی نے کہا ہے کہ ممتا بنرجی عوامی ہمدردی لینے کے لئے ڈرامہ کررہی ہیں۔

تفصیلات کا انتظار ہے۔

بی جے پی کے تیرتھ سنگھ راوت نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا

0
بی جے پی کے تیرتھ سنگھ راوت نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا
بی جے پی کے تیرتھ سنگھ راوت نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا

گورنر ہاؤس میں شام 4 بجے چیف سکریٹری اوم پرکاش نے گورنر کی اجازت کے بعد حلف برداری پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا قومی ترانے کے بعد، محترمہ موریہ نے مسٹر راوت کو اپنے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

دہرادون: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ تیرتھ سنگھ راوت نے بدھ کے روز یہاں اتراکھنڈ کے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا گورنر بیبی رانی موریہ نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

گورنر ہاؤس میں شام 4 بجے چیف سکریٹری اوم پرکاش نے گورنر کی اجازت کے بعد حلف برداری پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا قومی ترانے کے بعد، محترمہ موریہ نے مسٹر راوت کو اپنے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

حلف برداری کے بعد مرکزی مبصر رمن سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جلد ہی عوامی امنگوں کے مطابق وزراء کونسل کے دیگر ممبران بھی حلف اٹھائیں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد، اتراکھنڈ میں یقینی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بنے گی۔