منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 375

شیئر مارکیٹ میں مچا کہرام، سینسیکس میں دو فیصد سے زیادہ کی کمی

0
شیئر مارکیٹ میں مچا کہرام، سینسیکس میں دو فیصد سے زیادہ کی کمی
شیئر مارکیٹ میں مچا کہرام، سینسیکس میں دو فیصد سے زیادہ کی کمی

شیئر بازار میں کہرام مچ گیا جس سے دونوں اہم انڈیکس میں ڈھائی فیصد سے زیادہ کی گراوٹ آئی۔

ممبئی: ملک میں ایک لاکھ سے زائد کورونا کیسز پائے جانے اور کئی طرح کی پابندیاں لگائے جانے کے خدشات کے درمیان شیئر بازار میں کہرام مچ گیا، جس سے دونوں اہم انڈیکس میں ڈھائی فیصد سے زیادہ کی گراوٹ آئی۔

بی ایس ای کا 30 حصص پر مشتمل انڈیکس ابتدائی کاروبار میں نو پوائنٹس کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 50020.91 پر کھلا۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تقریبا 1500 پوائنٹس کی گراوٹ سے 48638.62 پر آگیا۔

ابتدائی کاروبار میں سینسیکس 50028.67 پوائنٹس کے ساتھ اعلی ترین سطح پر پہنچا، لیکن اس کے بعد اس نے نیچے گرنا شروع کیا جس سے یہ 48638.62 پوائنٹس پر آگیا۔ فی الحال سینسیکس 2.84 فیصد یعنی 1188.05 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 48841.78 پر کاروبار کر رہا ہے۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی 30 پوائنٹس کی گراوٹ سے 14837.70 پر کھلا۔ شروع میں یہ 14849.85 پوائنٹس کی اعلی ترین سطح پر چلا گیا لیکن اس کے بعد فروخت کا دباؤ شروع ہوکر 14479.30 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ فی الحال یہ 323.10 پوائنٹس یعنی 2.17 کی گراوٹ سے 25. 14544 پر کاروبار کر رہا ہے۔

پاکستان میں فائرنگ سے جج، اہلیہ، بیٹی اور کمسن نواسہ ہلاک

0
پاکستان میں فائرنگ سے جج، اہلیہ، بیٹی اور کمسن نواسہ ہلاک
پاکستان میں فائرنگ سے جج، اہلیہ، بیٹی اور کمسن نواسہ ہلاک

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تعینات جج جسٹس آفتاب آفریدی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سوات سے اسلام آباد جا رہے تھے۔ صوابی کے انبار انٹرچینج کے پاس دریائے سندھ پل کے قریب نامعلوم ملزمان نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے۔

اسلام آباد: پاکستان میں پشاور موٹر وے پر ملزمان کی کار پر فائرنگ سے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس آفتاب آفریدی، اہلیہ، بیٹی اور شیرخوار بچے سمیت ہلاک ہوگئے۔

پاکستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تعینات جج جسٹس آفتاب آفریدی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سوات سے اسلام آباد جا رہے تھے۔ صوابی کے انبار انٹرچینج کے پاس دریائے سندھ پل کے قریب نامعلوم ملزمان نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے۔ فائرنگ کے سبب جسٹس آفتاب، ان کی اہلیہ بی بی زینب، بیٹی کرن اور اس کا 3 سالہ بیٹا محمد سنان شہید ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق فائرنگ میں ان کی گاڑی کا ڈرائیور اور گن مین شدید زخمی ہوگئے، تمام زخمیوں اور لاشوں کو باچہ خان میڈیکل اسپتال شاہ منصور منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں وہاں سے انہیں پشاور منتقل کردیا گیا۔ فائرنگ کے فوری بعد آئی جی خیبر پختون خوا ثناء اللہ عباسی سمیت دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن شروع کردیا۔

انڈونیشیا میں طوفانی بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 50 افراد ہلاک

0
انڈونیشیا میں طوفانی بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 50 افراد ہلاک
انڈونیشیا میں طوفانی بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 50 افراد ہلاک

انڈونیشیا میں گذشتہ دو روز کے دوران موسلادھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

جکارتہ: انڈونیشیا میں گزشتہ دو دنوں سے جاری طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک 50 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

عالمی میڈیا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق انڈونیشیا کے مشرقی صوبہ میں مسلسل ہونے والی طوفانی بارشوں نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سیلابی ریلے میں مٹی شامل ہوگئی اور اس کیچڑ کے سیلابی ریلے نے ہر طرف تباہی مچادی۔

ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاموں کا آغاز کردیا ہے اب تک بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی، جب کہ ف جزیرۂ فلوریس کے مشرقی علاقہ میں پل اور سڑکیں تباہ ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں مکانات تباہ ہوئے ہیں جن کے ملبہ تلے 9 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہرہ کیا گیا ہے، جب کہ کیچڑ کے سیلاب میں بھی کئی لاشیں موجود ہیں۔ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

اسپتالوں میں 50 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے اکثریت کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ 9 زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ یہاں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں اور خراب موسم کا سلسلہ اگلے ہفتہ بھی جاری رہے گا اس لئے سمندر پر جانے پر پابندی اور شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مختار انصاری کی ایمبولینس کے معاملے میں، بارہ بنکی کی پولیس پہنچی مئو

0
مختار انصاری کی ایمبولینس کے معاملے میں، بارہ بنکی کی پولیس پہنچی مئو
مختار انصاری کی ایمبولینس کے معاملے میں، بارہ بنکی کی پولیس پہنچی مئو

رکن اسمبلی مختار انصاری کو پنجاب کے موہالی کورٹ میں پیشی کے لئے لے جانے والی ایمبولینس کے معاملے میں اتوار کی صبح بارہ بنکی کی پولیس اور مئو کے شہر کوتوال ڈاکٹر الکا رائے کے شیام سنجیونی اسپتال پہنچ کر پوچھ گچھ کی۔

مئو: اترپردیش کے مئو اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی مختار انصاری کو پنجاب کے موہالی کورٹ میں پیشی کے لئے لے جانے والی ایمبولینس کے معاملے میں اتوار کی صبح بارہ بنکی کی پولیس اور مئو کے شہر کوتوال ڈاکٹر الکا رائے کے شیام سنجیونی اسپتال پہنچ کر پوچھ گچھ کی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پولیس پوچھ گچھ کررہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شیام سنجیونی اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر الکا رائے بی جے پی کی عہدیدار بھی ہیں۔ وہ صوبہ کی مہیلا مورچہ کی جنرل سکریٹری ہیں۔ گزشتہ دنوں جس بلیٹ پروف ایمبولینس سے مختار انصاری پنجاب کے روپڑ جیل سے موہالی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ اس گاڑی کا رجسٹریشن شیام سنجیونی اسپتال بارہ بنکی کے نام سے درج ہے۔ حالانکہ اس کے تعلق سے ڈاکٹر الکا رائے نے جمعہ کے روز اپنے اسپتال پر پریس کانفرنس کرکے صفائی پیش کی تھی کہ سال 2013 میں ایم ایل اے فنڈ سے اسپتال کو ایمبولینس دینے کے لئے کچھ کاغذات پر اسپتال کے ڈائریکٹر اور ان کے بھائی سے ایم ایل اے مختار انصاری کے نمائندہ مجاہد نے دستخط کرائے تھے۔

گزشتہ دنوں میڈیا کو دئے گئے ایک بیان میں ڈاکٹر الکا رائے نے مختار انصاری کے ذریعہ خود کے سر پر چھت مہیا کرانے کی بھی بات کہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ مختار انصاری کے ذریعہ ان سے ایمبولینس کے بارے میں ضروری کاغذات طلب کئے گئے تھے۔ اپنے ہی کئی بیانات سے ڈاکٹر الکا رائے الجھتی جارہی ہیں۔ اب تو یہ تحقیقات کا موضوع ہے۔ ضلع کے لوگوں کی نظریں شیام سنجیونی اسپتال پر مرکوز ہیں۔

لاکھوں سوگواروں کے درمیان امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی سپرد خاک

0
لاکھوں سوگواروں کے درمیان امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی سپرد خاک
لاکھوں سوگواروں کے درمیان امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی سپرد خاک

امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی نماز جنازہ میں ملک و بیرون ملک سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ حکومت کی نمائندگی ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کی اور سرکاری اعزاز و احترام کے ساتھ سپرد کیا گیا۔ نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور دیگر شعبہائے حیات کے وابستہ لوگوں نے شرکت کی۔

پٹنہ/مونگیر: مشہور عالم دین، خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں، جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ کے امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کو سرکاری اعزاز اور لاکھوں سوگوار کی موجودگی میں آج یہاں ان کے والد مولانا سید منت اللہ رحمانی کے پہلو میں سپرد کردیا گیا۔ نماز جنازہ مسلم پرسنل لاء بورڈکے سکریٹری مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے پڑھائی۔

مولانا رحمانی کی جسد خاکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ پٹنہ سے مونگیر تک لایا گیا۔ کئی اسکوڈ ایمبولینس کے ساتھ چلتی رہی۔ مونگیر میں مونگیر کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی نے مولانا کی جسد خاکی کو رسیو کیا۔

نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور دیگر شعبہائے حیات کے وابستہ لوگوں نے شرکت کی

مولانا ولی رحمانی کا کل دوپہر پٹنہ کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہوگیا تھا۔ انہیں سانس کی تکلیف کی وجہ سے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور بعد میں ان کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آئی تھی۔ ان کے نماز جنازہ میں ملک و بیرون ملک سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ حکومت کی نمائندگی ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کی اور سرکاری اعزاز و احترام کے ساتھ سپرد کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور دیگر شعبہائے حیات کے وابستہ لوگوں نے شرکت کی۔ رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا احمد اشفاق کریم، عبدالباری صدیقی، مولانا سید محمد ولی رحمانی کے انتہائی قریبی اور روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر خالد انور رکن قانون ساز کونسل، فراز فاطمی اور دیگر سیاسی لیڈروں نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ اہم دیگر شخصیات میں نائب امیر شریعت شمشاد رحمانی، فہد رحمانی فرزند مولانا ولی رحمانی، شبلی القاسمی، مفتی ثناء الہدی قاسمی، نظر توحید رانچی، ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے، ڈاکٹر فیاض احمد سابق رکن اسمبلی، قاضی انظار عالم، مفتی وسیع احمد، مولانا خالد غازی پوری دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو، مولانا محمود ندوۃ العماء، مفتی محمود مظاہر العلوم سہارن پور، ممبئی سے حافظ اقبال چونا والا، مولانا مجبتی حسین قاسمی استاذ دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ، مولانا قاری محمد شعیب وغیرہم نے شرکت کی۔ نماز جنازہ تا حد نظر سر ہی سر نظر آرہے تھے۔

نماز جنازہ پڑھانے کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ جب میں دس سال کا تھا والد ماجد کا سایہ سرسے اٹھ گیا، پھر حضرت امیر شریعت نے سرپر دست شفقت رکھا اور یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ آج حضرت چلے گئے تو میں پھر سے یتیم ہوگیا، نہ صرف یہ ناکارہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ یتیم ہوگئی۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کا تعزیتی پیغام

مولانا رحمانی کے انتقال پر مسٹر کمار نے ہفتہ کے روز یہاں اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے انتقال کی خبر سے بہت دکھی ہوں۔ اس کا نام بہار اور ملک کے مشہور عالم دین میں شامل تھا۔ رحمانی صاحب کے ساتھ ان کا بہت عرصہ سے گہرا تعلق رہا ہے اور بہت سے اہم امور پر ان کے ساتھ بات کرتے تھے۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں بھی تھے۔ وہ رحمانی 30 کے بانی تھے اور بہار قانون ساز کونسل کے ممبر بھی تھے۔ مسٹر کمار نے کہا کہ خدا سے دعا ہے کہ وہ انہیں جنت میں ایک اہم مقام دے اور اس کے ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لئے ان کے خاندان کو طاقت دے۔

ہمارا سماج کے ایڈیٹر اور رکن قانون ساز کونسل خالد انور نے مولانا کے انتقال پر انتہائی دکھ و تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے مربی اور رہنما تھے۔ ان کے انتقال سے پورے ملک میں ان جیسا بے باک اور نڈر اور حکومت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے نہیں ہے۔ انہوں نے مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا سید منت اللہ رحمانی کی سچی وراثت نبھائی تھی اور اسی بے باک اور حق گوئی پر عمل پیرا تھے جو ان کے خاندان کی شان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رحمانی نے عصری علوم اور خاص طور پر روزگار رخی تعلیم کے ذریعہ جہاں ایک طرف مسلمانوں کا رخ تعلیم کی طرف موڑ دیا وہیں انہوں نے مسلم نوجوانوں کو روزگار سے بھی جوڑ دیا۔ رحمانی 30 کے ذریعہ آج ہزاروں طلبہ پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور باروزگار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا رحمانی کے انتقال سے ایک خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کی آواز تھے اور ہر آڑے وقت میں سامنے آکر مسلمانوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں اور ان کے لئے بہترین خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں اور جو کام وہ کر رہے تھے اسے آگے بڑھائیں۔

بنگال میں این آر سی نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: کیلاش وجے ورگیہ

0
بنگال میں این آر سی نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: کیلاش وجے ورگیہ
بنگال میں این آر سی نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: کیلاش وجے ورگیہ

کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ ہمارے متعلق یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ ہم انتخابات جیتنے کے بعد بنگال میں این آر سی نافذ کریں گے۔ جب کہ ہم نے اپنے انتخابی منشور میں صرف شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے۔ این آر سی کے مشق کا کوئی اراد نہیں ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد این آر سی نافذ ہونے کے خدشات کے دوران بی جے پی کے جنرل سیکریٹری اور بنگال بی جے پی انچارج کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ انتخابات کے بعدبنگال میں این آر سی کے نفاذ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم شہریت ترمیمی ایکٹ نافد کیا جائے گا تاکہ جو شہری پڑوسی ممالک میں مذہبی بنیاد پر زیادتی کے شکار ہوکر ہندوستان میں رفیوجی کے طور پر مقیم افراد کو ہندوستانی شہریت دی جاسکے۔

کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ ہمارے متعلق یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ ہم انتخابات جیتنے کے بعد بنگال میں این آر سی نافذ کریں گے۔ جب کہ ہم نے اپنے انتخابی منشور میں صرف شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے۔ این آر سی کے مشق کا کوئی اراد نہیں ہے۔ بی جے پی کا خیال ہے کہ اگر شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ ہوتا ہے تو 1.5 کروڑ افراد کو ہندوستانی شہریت ملے گی جس میں 72 لاکھ کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔

ترنمول کانگریس سی اے اے کی مخالفت کررہی ہے

کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ ترنمول کانگریس بی جے پی اور این آر سی سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی رہی ہیں۔ جب کہ ترنمول کانگریس سی اے اے کی مخالفت کررہی ہے۔ جب کہ متوا سماج کے لاکھوں افراد مذہبی بنیاد پر ظلم کا شکار ہوکر بنگال ہجرت کرکے آئے ہیں۔ خیال رہے کہ ریاست کے چار لوک سبھا حلقہ اور 40 اسمبلی حلقے میں متوا سماج کا اثرہے۔

ترنمول کانگریس کو امید ہے کہ متوا سماج جو لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی طرف مائل ہوگیا تھا وہ اس مرتبہ سی اے اے کے نفاذ کو لے کر جاری بھرم کی وجہ سے ان کی طرف واپس آئیں گے۔

کیلاش وجے ورگیہ نے ترنمول کانگریس کے ذریعہ الیکشن کمیشن پر لگائے جارہے الزامات کو بدنصیبی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ ترنمول کانگریس کی حالت خراب ہے اور اسے شکست کا خوف ہے تو وہ کمیشن کو بدنام کرکے اپنی خفت کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ترنمول کانگریس کے دعوے مضحکہ خیز ہے۔ جب آپ کی جیت ہورہی تھی اس وقت الیکشن کمیشن کی کارکردگی ٹھیک تھی اور اب خراب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 200 سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔

انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ کے چہرہ کا تعین ہوگا

کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ بی جے پی میں کئی لیڈران وزارت اعلیٰ کا چارج سنبھالنے کے اہل ہیں، انتخابات کے بعد چہرہ کا تعین ہو جائے گا۔ ہم وزیر اعظم مودی کے چہرے پر انتخاب لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے عوام تبدیلی کے لئے تیار ہیں۔ کیوں کہ 2011 کے بعد ترنمول کانگریس تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آئے تھی مگر وہ تبدیلی آنے کے بجائے گزشتہ دس سالوں میں عوام کو مایوس کیا گیا۔ بدعنوانی اور بد انتظامی کا بول بالا ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کے باہری ہونے کا نعرہ کوئی کام نہیں کرے گا۔ ممتا بنرجی آئین کی توہین کررہی ہیں۔ بنگال ہندوستان کا حصہ ہے۔ یہاں ہر ایک کا حق ہے اور بنگال میں بنگال کا بیٹا ہی وزیر اعلیٰ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی بیٹی جیسے جذباتی نعرے کام نہیں کریں گے۔

انہوں نے ممتا بنرجی پر ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لئے ملک کی قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی کی وجہ سے جہاں ریاست میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے وہیں ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مولانا ولی رحمانی کا انتقال عالم اسلام کا عظیم خسارہ، بہار کے وزیر اعلی سمیت سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت

0
مولانا ولی رحمانی کا انتقال عالم اسلام کا عظیم خسارہ، بہار کے وزیر اعلی سمیت سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت
مولانا ولی رحمانی کا انتقال عالم اسلام کا عظیم خسارہ، بہار کے وزیر اعلی سمیت سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت

جمعیۃ علمائے ہند (محمود مدنی)، جمعیۃ اہل حدیث، جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، اسلامک پیس فاؤنڈیشن اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے مولانا محمد ولی رحمانی کے انتقال پر سخت رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ، امارت شرعیہ اور ملت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔

نئی دہلی: مشہور عالم دین، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کا گزشتہ کل پٹنہ کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ کچھ دن قبل انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور وہ آئی سی یو میں داخل تھے۔ ان کی عمر 77 سال تھی۔پسماندگان میں ایک بیٹا فہد رحمانی اور دو بیٹیاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق سانس لینے میں تکلف کی وجہ سے انہیں داخل اسپتال کیا گیا تھا۔ وہ شروع سے آئی سی یو میں تھے اور طبیعت زیادہ خراب تھی اور ان کی کورونا کی رپورٹ بھی مثبت آئی تھی۔

ان کے انتقال سے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ کا زبردست خسارہ ہوا ہے۔ وہ ذی استعداد عالم دین اور تمام حالات پر گہری نظر رکھنے والے تھے۔ وہ شروع سے ہی اس میں پیش پیش تھے اور اپنے والد مولانا منت اللہ رحمانی کے زمانے سے دونوں اداروں سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر بہار کی سرزمین کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔


مولانانے 1974 سے 1996 تک بہار قانون ساز کونسل کے ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور وہ کونسل کے ڈپٹی چیرمین بھی رہے۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991 کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے موجودہ سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست تھے۔ آپ کے دادا مولانا محمد علی مونگیری بانی ندوۃ العلماء ہیں۔ اس خانقاہ کے روحانی سلسلہ میں شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی بہت ہی اہم کڑی ہیں۔ وہ اس وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ رحمانی 30 کے بانی بھی ہیں، وہ پلیٹ فارم جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ اس ادارے سے ہر سال NEET اور JEE میں 100 سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔

حضرت مولانا سید ولی رحمانی عوامی تقریر، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت صاف گوئی و بیباکی اور دونوں ہی شعبوں میں تعلیم کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہیے۔


وہ حکومت وقت کے ساتھ سخت انداز میں بات کرنے کے لئے بھی جانے تھے۔ ان کے انتقال پر مسلم تنظیموں، سرکردہ شخصیات اور مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ لوگوں نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اظہار تعزیت کی ہے۔

سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت

جمعیۃ علمائے ہند (محمود مدنی)، جمعیۃ اہل حدیث، جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، اسلامک پیس فاؤنڈیشن اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے مولانا محمد ولی رحمانی کے انتقال پر سخت رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ، امارت شرعیہ اور ملت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری و جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امیر شریعت امارت شرعیہ بہار، جھارکھنڈ و اڈیشہ حضرت مو لانا سید محمد ولی رحمانی کی وفات پر گہر ے ر نج و الم کا اظہار کیا ہے۔

مولانا مرحوم دار العلوم دیوبند کے اجل فضلاء میں سے تھے۔ وہ عصر حاضر میں ملت اسلامیہ ہند کے مسائل کو لے کر کافی سنجیدہ اور فکر مند رہتے تھے اور وہ اس سلسلے میں مختلف فورم پرسرگرم تھے، تعلیمی میدان میں بھی انھوں نے کئی بڑے کام کیے ہیں۔ وہ مرکزی بہار میں واقع خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں، صاحب نسبت بزرگ اور ہزاروں تشنگان حق کے لیے چشمہ فیض تھے۔ ان کے والد حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانی ؒ،حضرت شیخ الاسلا م مولانا حسین احمد مدنی ؒکے شاگرد تھے۔ حضرت مولانا منت اللہ صاحب ؒحضرت مدنی ؒ سے گہرا تعلق رکھتے تھے اور حضرت مدنی ؒ کی ہدایت پر آزادی سے قبل اور بعد جمعیۃ علماء کی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔

مولانا منصورپوری اور مولانا مدنی صاحبان نے مولانا مرحوم کے انتقال کو ملت اسلامیہ ہند کے لیے بڑا خسارہ بتایا ہے اور کہا کہ اس سے ملی جہد و جہد کے میدان میں خلا پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اور اس کے خدام اس سانحہ عظیم پر گہرے رنج والم کا اظہار کرتے ہیں اور اہل خانہ بالخصوص صاحبزادہ محترم سید محمد فہد رحمانی صاحب، حضرت مولانا سیدمحمد رابع حسنی ندوی صاحب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ بہار و جھارکھنڈو اڈیشہ کے ذمہ داروں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کا تعزیتی پیغام

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے امارت شرعیہ بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے امیر شریعت اور سابق قانون ساز کونسلر حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر کمار نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے انتقال کی خبر سے میں بہت دکھی ہوں۔ اس کا نام بہار اور ملک کے مشہور عالم دین میں شامل تھا۔

رحمانی صاحب کے ساتھ ان کا بہت عرصہ سے گہرا تعلق رہا ہے اور چرچا بہت سے اہم امور پر ان کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور خانقاہ رحمانیہ، منجر کے سجادانشی بھی تھے۔ وہ رحمانی 30 کے بانی تھے اور بہار قانون ساز کونسل کے ممبر بھی تھے۔

وزیر اعلی نے مولانا رحمانی کے بیٹے سے فون پر بات کی اور سوگوار کنبے کو دلاسہ دیا۔ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کا سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کیا جائے گا۔

مسٹر کمار نے کہا کہ خدا سے دعا ہے کہ وہ انہیں جنت میں ایک اہم مقام دے اور اس کے ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لئے ان کے خاندان کو طاقت دے۔

مولانا سید ارشد مدنی کا گہرے رنج و غم کا اظہار

خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں، امیرشریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ،وجنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے انتقال پر ملال پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے گہرے رنج ودکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعتدال، توازن، توسع اور کشادہ نظری مولانامرحوم کا امتیازی وصف تھا۔ مولانا یہ بات آج یہاں جاری ایک تعزیتی بیان میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملت کے ہر طبقہ میں مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔ ایسی شخصیت کا داغ مفارقت دے جانا بلاشبہ ایک عظیم سانحہ ہے۔ اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے مولانا مدنی نے طالب علمی کے دوران مولانا ولی رحمانی کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کو یادکیا اور کہا کہ دارالعلوم کے طالب علمی کے دوران وہ میرے ساتھی بھی تھے اور ان کی صلاحیت اسی زمانہ سے اجاگر ہو رہی تھی۔ فراغت کے بعد مجھے ان کے ساتھ رہنے کا موقع نہیں ملا لیکن بعد میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگوں میں مولانا مرحوم جس زمانہ میں اس کے جنرل سکریٹری تھے انہیں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا اور تب یہ عقدہ بھی ہم پر کھلا کہ وہ ایک بہترین منتظم بھی ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ مولانا مسلم پرسنل لاء بورڈکی پالیسی کے مطابق ہی بورڈکی میٹنگ کو بہت ہی اچھے اندازمیں چلاتے تھے، تمام لوگوں سے گفتگو کرنا، بورڈ کے پروگراموں کو مؤثر طریقہ سے چلانا اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دینا یہ تمام خوبیاں ان کے اندر بدرجہ اتم موجودتھیں۔ اپنی ان تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اغراض و مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ مولانا رحمانی کی اچانک رحلت نے لاکھوں لوگوں کو سوگوار کردیا ہے، مگر خصوصا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر و سرپرست حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی صاحب کے لئے یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہے۔ میری یہ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ بورڈ کو مولانا مرحوم کا نعم البدل عطاء فرمائے اور حضرت مولانا کی سرپرستی اور صدارت میں بورڈ مزید ترقی کرے۔ بارگاہ خداوندی میں دعا ہے کہ اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کی نگہبانی فرمائے۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا اظہار تعزیت

اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری اور مشہور فقیہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مولانا ولی رحمانی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ایسا حادثہ ہے، جس کی تلافی بظاہر بہت دشوار ہے۔ اللہ تعالی نے ان کو گہرے علم، وسیع مطالعہ، خوبصورت قلم، شائستہ زبان کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیت اور اس سے بڑھکر قائدانہ جرأت و ہمت سے نوازا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ کے صرف نسبی ہی وارث نہیں تھے، بلکہ غیر معمولی جرأت اور حسن تدبر میں بھی ان کے سچے اور پکے جانشین تھے۔ انہوں نے بہت کامیابی کے ساتھ اپنے دادا حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے لگائے ہوئے پودے ’جامعہ رحمانی مونگیر‘ کو ایک سایہ دار تناور درخت بنادیا، تزکیہ و احسان کی نسبت سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے حلقہ کو وسعت دی۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی تاسیس کے وقت سے اس میں شریک تھے۔ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کی وفات کے بعد اس کے سکریٹری منتخب ہوئے اور حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب کی وفات کے بعد بہ اتفاق رائے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ان کا انتخاب عمل میں آیا۔ ان کا یہ دور ہندوستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے بہت ہی شورش اور آزمائش کا دور تھا۔

انہوں نے تدبر، حوصلہ مندی اور جرأت کے ساتھ ان حالات کا سامنا کیا اور ملت کے سفینہ کی ناخدائی کرتے رہے۔ انہوں نے قضاء کے نظام کو ملک کے چپہ چپہ میں پھیلایا۔ اصلاح معاشرہ کی کوششوں کو ایک تحریک بنادیا، قانون شریعت کی تفہیم کی کوششوں کو فروغ دیا اور ہر کام میں اپنے رفقاء کو ساتھ رکھا۔ وہ امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ساتویں امیر شریعت منتخب ہوئے اور مختصر وقت میں اس کے تمام شعبوں کو منظم اور منضبط کرنے کی کامیاب جدوجہد فرمائی۔ عصری تعلیم کے میدان میں رحمانی 30 کے ذریعہ انہوں نے جو خدمت انجام دی ہے، وہ ایک بڑا اور مثالی کارنامہ ہے۔

یقینا ان کی وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے نہایت صدمہ انگیز واقعہ ہے۔ اس حقیر کو ان سے تلمذ کا شرف بھی حاصل تھا، اس لئے یہ میرے حق میں ذاتی نقصان بھی ہے۔

ایسا باہمت عالم دین اب کہاں ملے گا؟: شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کے انتقال کا مطلب ایک دور کا خاتمہ ہے۔ ایک ایسے دور کا خاتمہ جس میں مولانا مرحوم جیسی شخصیات حق کو حق کہتی، باطل کو باطل مانتی اور سچ کو سچ بتاتی تھیں۔ جب فرقہ پرست اقتدار پر مکمل طور پر قابض ہوں اور نظام ان افراد کے ہاتھوں میں ہو جو اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے سوائے نفرت کے اور کوئی جذبہ نہیں رکھتے، تب حق کی آواز اٹھانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، لیکن مولانا مرحوم ناممکن کو ممکن بنانا خوب جانتے تھے۔ وہ وہی بولتے تھے جسے درست اور سچ سمجھتے تھے۔ حضرت مولانا ولی رحمانی کا انتقال اس معنیٰ میں کہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، اتنا افسوس ناک نہیں ہے کہ ہر ایک کی موت کا ایک دن مقرر ہے، یہ زیادہ افسوس ناک اس معنیٰ میں ہے کہ مولانا مرحوم نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے جو سرگرمیاں شروع کی تھیں اور بورڈ کو، معاملہ چاہے شریعت پر حملے کا رہا ہو یا بابری مسجد کی شہادت اور قرآن مجید کی توہین کا، انہوں نے جس طرح فعال کیا تھا، اس میں جو روح پھونکی تھی، وہ کہیں سرد نہ پڑ جائے۔ یہ خدشہ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بورڈ اپنے ابتدائی دنوں میں تو فعال تھا مگر پھر اس کی رفتار سست پڑ گئی تھی، اب جاکر مولانا مرحوم نے اس میں نئے سرے سے جان ڈالی تھی۔ میری مولانا مرحوم سے بہت زیادہ ملاقاتیں تو نہیں تھیں لیکن جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں، میں نے جتنے بھی حضرت کے انٹرویو کیے ان میں حضرت کو بورڈ اور شریعت اور ملک کے حالات کے تعلق سے متفکر ہی پایا۔
مولانا مرحوم نے حالیہ دنوں میں یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں کچھ باتیں کہی تھیں لیکن مجھے خوب یاد ہے کہ وہ عرصہ سے اس مسئلہ پر غور کرتے رہے ہیں۔ ایک ملاقات 2015 کی یاد آ رہی ہے. اس وقت مودی کی مرکزی سرکار اور سپریم کورٹ دونوں نے یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی بات کی تھی. اس تعلق سے میرے ایک سوال کے جواب میں حضرت نے کہا تھا ’’جب سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت نے ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے نفاذ کی بات کہی ہے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ عائلی قوانین کو خطرہ ہے۔ لیکن ایک بات مزید ہے، خود مرکزی وزیر قانون سدا نند گوڑا نے اس سلسلے میں یہ کہا ہے ’ ہم ’یونیفارم سول کوڈ‘ لاگو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں دشواریاں ہیں اس لیے تمام فرقوں سے بات کرکے ہی کوئی فیصلہ کیاجائے گا‘۔
لیکن چونکہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے قرآن مجید کے قوانین پر قرآن پاک کا نام لیے بغیر اُنگلی اُٹھائی ہے اور فاضل جج نے یہ بھی کہا ہے کہ نکاح، طلاق اور وراثت کا کوئی تعلق ’دین‘ سے نہیں ہے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’مسلم پرسنل لاء‘ کو خطرہ لاحق ہے، جج موصوف کی مذکورہ بات سے یہ خوب اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ’دین‘ کا بہت محدود تصور رکھتے ہیں، انہوں نے مسلم خواتین کے حق کی تو بات کی ہے مگر قرآن مجید کی واضح تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے‘‘۔ حضرت مولانا نے بہت ہی صاف اور واضح انداز میں مسلمانوں کے موقف کو سامنے رکھا تھا بغیر اشتعال انگیز لفظوں کے استعمال کے۔ اب ایسی باتیں کہنے والا، شریعت کے ہر عمل کو بچانے کے لیے کوششیں کرنے لوگوں کو سڑکوں پر اتارنے اور شرپسندوں کے نشانہ پر جو عبادت گاہیں ہیں ان کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی کے لیے تیار رہنے والا باہمت عالم دین کہاں ملے گا ۔ اللہ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل دے، آمین۔

امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کی ٹیکہ کاری

0
امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کی ٹیکہ کاری
امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کی ٹیکہ کاری

امریکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد، جنہیں ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے، کم سے کم 10 کروڑ ہوگئی ہے۔

واشنگٹن: امریکہ میں ٹیکہ کاری کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ یہاں 24 گھنٹوں کے دوران 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکہ لگایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے کووڈ – 19 ڈاٹا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سائرس شاہ پار نے سنیچر کو یہ اطلاع دی۔

اس سے قبل امریکہ کے وبائی امراض اور روک تھام کے مرکز نے سنیچر کو بتایا تھا کہ ایسے لوگوں کی تعداد، جنہیں ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے، کم سے کم 10 کروڑ ہوگئی ہے۔ جبکہ 57984785 لوگوں کو ویکسین کی دوسری خوراک بھی دی جا چکی ہے۔

ٹکیت پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار لوگوں کو بھیجا گیا دو دن کے ریمانڈ پر

0
ٹکیت پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار لوگوں کو بھیجا گیا دو دن کے ریمانڈ پر
ٹکیت پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار لوگوں کو بھیجا گیا دو دن کے ریمانڈ پر

راکیش ٹکیت پر حملہ کرنے کے معاملہ میں گرفتار 16 لوگوں کو آج کشن گڑھ باس عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے تمام کو دو دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا۔

الور: راجستھان میں الور ضلع کے تتار پور تھانہ علاقہ میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت پر حملہ کرنے کے معاملہ میں گرفتار لوگوں کو عدالت نے دو دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیجا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ کسان لیڈر راکیش ٹکیت پر حملہ کرنے کے معاملہ میں گرفتار 16 لوگوں کو آج کشن گڑھ باس عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے تمام دو دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ جمعہ کو بانسور میں میٹنگ کرنے جاتے وقت تتارپور چوراہے پر مسٹر ٹکیت کے قافلہ پر کچھ لوگوں نے حملہ کردیا تھا اور گاڑی کو نقصان پہنچایا تھا۔ مسٹر ٹکیت پر کالی سیاہی بھی پھینکی گئی تھی۔

اے آئی ایم آئی ایم کے اخترالایمان نے ترقیاتی کاموں سے متعلق اپنی سرگرمیوں کی بتائی تفصیلات

0
اے آئی ایم آئی ایم کے اخترالایمان نے ترقیاتی کاموں سے متعلق اپنی سرگرمیوں کی بتائی تفصیلات
اے آئی ایم آئی ایم کے اخترالایمان نے ترقیاتی کاموں سے متعلق اپنی سرگرمیوں کی بتائی تفصیلات

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بہار کے جناب اختر الایمان اپنے حلقے کے علاوہ عمومی طور پر بہار میں تعلیم صحت و دیگر ترقیاتی پروگراموں کے حوالے سے مسلسل ایوان میں آواز بلند کر رہے ہیں

کشن گنج: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر اور امور اسمبلی حلقہ سے منتخب ایم ایل نے آج اپنے حلقہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن جیتنے کے بعد کسی بھی سیاسی نمائندے کا جو بنیادی کام ہے وہ ہے اسمبلی میں اپنے اس حلقے کے مسائل کو اٹھانا جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے بہار کی اسمبلی میں اقلیتوں، دلتوں اور خصوصی طور پر اسمبلی حلقہ امور بیسا کے مسائل کو کافی مضبوطی کے ساتھ اٹھانے کی بات کہی۔

نامہ نگاروں سے بات چیت کرنے کے بعد انہوں نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا کہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے اسکول اور ہاسپیٹل کے کاموں سے متعلق خاص طور پر سوالات کئے گئے اور اس کے نتائج اب سامنے آنے لگے ہیں۔ اسکول کی کئی عمارتیں بند پڑی تھیں انہیں کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایوان میں تعلیمی پالیسی پر بحث کرتے ہوئے تعلیم، اردو اور مدارس سے متعلق مسلسل سوالات کئے گئے ہیں۔

حال ہی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر اور فلور لیڈر جناب اخترالایمان نے تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے ایوان میں حکومت بہار کی تعلیم سے متعلق کارکردگی پر کئی اہم سوال اٹھائے، اردو اور مدارس کے حوالے سے سرکاری کی پالیسیوں کو دوہرا رویہ قرار دیا۔

بہار کی تعلیمی پالیسی اور تعلیم کی کٹوتی بجٹ کے تعلق سے عوام کی تکلیف اور بہار میں موجودہ تعلیمی صورت حال پر اپنے خیالات کا اسمبلی میں پرزور اظہار کرتے ہوئے اس پر سوالات اٹھائے گئے۔

ایوان میں حکومت بہار سے سے بہار کے غریبوں، دلتوں، پچھڑے لوگوں کے بچوں کی تعلیم پر کام کرنے میں اپنا دیانت دارانہ رول ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن ساتھ ہی 2014-15 میں بجٹ کا 18.8 فیصد پیسہ دیا گیا تھا اور 2020 میں اس میں ایک فیصد کی کٹوتی پر بھی سوال اٹھایا گیا۔

تعلیم کی صورت حال سے متعلق اسمبلی میں سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا گیا کہ 2012-13 میں ایک سو چون لاکھ بچوں کا اندراج تھا جبکہ 2018-19 میں گھٹ کر ایک سو اکتالیس لاکھ رہ گیا ہے (یعنی ایک کروڑ اکتالیس لاکھ) بچے رہ گئے ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ بچوں کے اندراج میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر سرکار تعلیم پر کام کر رہی ہے تو یہ کمی کیوں کر آئی۔

نئی تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے اسمبلی میں کہا گیا کہ 30 بچوں پر ایک ٹیچر کی بات کہی جا رہی ہے، جبکہ پٹنہ میں 53 بچوں پر، مونگیر میں 51 بچوں پر، پورنیہ یں 75 بچوں پر ایک ٹیچر ہے، اور ہمارے حلقے کے ہفنیہ ہائی اسکول میں 600 بچوں پر صرف دو ٹیچر ہیں۔

ٹیچروں کی کمی سے متعلق ایوان میں اواز بلند کیا گیا  اور کہا گیا کہ جو لوگ ٹی ای ٹی کوالیفائی کیے ہیں ان کی بحالی کا راستہ صاف ہونا چاہیے اور جن کی بحالی اب تک نہیں ہوئی ان کو بحال کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی مراکز کی مدرسین کو نہ ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹریننگ کالجوں میں اردو ٹیچروں کی کمی کی بات کی گئی اور ان کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

مدرسہ ایجوکیشن اور اقلیت کی تعلیم سے متعلق حکومت کے موقف پر سوال کرتے ہوئے فلور لیڈر نے کہا کہ 2459 کے 814 زمرے کے مدارس جن کی رپورٹ آچکی ان کو بھی آج حکومت منطوری نہیں دی رہی ہے۔

ہائی کورٹ نے مدارس کے مدرسین کے پنشن کی بات کہی ہے اس کے باوجود حکومت پینشن دینے کے لیے تیار نہیں ہے، تو بہار کے تعلیمی نظام کی صورتحال کی کیا بات کریں۔

بہار میں اقلیتوں کے حالت اور اردو کی حالت سب سے خراب ہے۔ اردو بولنے والی آبادی کی حالت سب سے خراب ہے۔ اردو بولنے والی آبادی سے متعلق حکومت کا دوہرا رویہ ۔

2006 میں اسی حکومت نے فارسی کی تعلیم بند کردی اور اب مئی 2020 میں ایک لیٹر جس کا نمبر 779 ہے جاری کرکے اس کے ذریعہ اردو مضمون کو اختیاری مضمون قرار دیا گیا ہے، جس سے اردو کی تعلیم کا راستہ تقریبا مسدود ہو گیا ہے جب کہ اردو دوسری سرکاری زبان ہے اور بہار میں تقریبا دو کروڑ لوگوں کی مادری زبان ہے۔

ایوان میں اردو ذریعہ تعلیم کے حوالے سے کہا گیا کہ آئین ہند کا حوالہ دے کر کہا جا رہا ہے کہ بنیادی تعلیم اردو (مادری زبان) میں دی جائے گی لیکن اردو مشاورتی کمیٹی کی بحالی نہیں ہوئی، اردو لائبریری میں اب تک بحالی نہیں ہوئی۔ مدرسہ شمس الہدی جو ایک قدیم مدرسہ ہے وہاں پر بھی نو مدرسین کی جگہ صرف تین مدرسین ہیں اور جونیئر سیکشن میں بارہ مدرسین کی جگہ محض ایک مدرس بحال ہے۔ اردو تحقیقات عربی و فارسی میں میں اسٹاف ندارد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حلقے کے ایک مقام ہفنیہ میں 20 برس سے ایک ہسپتال بند پڑا تھا اسے کھولنے کا کام کیا جارہا ہے۔ اسی گاؤں میں ایک ہائی اسکول ہے جس میں محض دو اساتذہ تھے، وہاں ٹیچرز اضافہ کرکے چار کر دئے گئے ہیں۔

روٹا اور امور مارکیٹ کی جو تاریخی تبدیلی ہوئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے، جس میں ٹوائیلیٹ کا انتظام کرایا گیا ہے۔ ان مارکیٹوں میں بے جا وصولی کی جاتی تھی اسے روکنے کا کام کیا گیا ہے۔ بجلی سے متعلق کام بند پڑے تھے اب ان کاموں کو اس سر نو شروع کیا جا رہا ہے۔ در اصل بنیادی کاموں پر توجہ دی جارہی ہے۔

سیلاب میں جن کی زمینیں کٹ گئیں تھیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، اب ہماری کوشش سے حکومت نے حال ہی میں 30 لوگوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ سیلاب کے سبھی متاثرین کو معاوضہ ملے۔ کئی مقامات پر اس سلسلے میں ہم انکوائری بھی کروا رہے ہیں۔

بہار قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ، ایم ایل اے جانب اختر الایمان نے امور اسمبلی سے متعلق مسائل کو خاص طور پر بڑی طاقت کے ساتھ ایوان کے اندر حکومت کے سامنے پیش کیا، جو مندرجہ ذیل ہیں:

1) ڈی بی آر ۔27 آر۔ 250 (رسیلی گھاٹ پول کی تعمیر جس کی ڈی پی آر (ویلیٹڈ پروجیکٹ رپورٹ) بن رہی ہے۔

2) بی آر 128 بی (کھاڑی پل) ڈی پی آر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بن رہا ہے۔

3) نجی اراضی پر مٹی کاٹنے پر انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو کوئی پریشانی نہ ہو اس سے متعلق ایم ایل اے صاحب نے ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا ہے، لہذا جناب وزیر نے واضح کردیا ہے کہ رعیتی زمین پر مٹی کاٹنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

4) ہفنیہ ہائی اسکول میں پہلے صرف 02 اساتذہ مقرر تھے اب اساتذہ کی تعداد بڑھ کر 04 ہوگئی ہے۔

5) ہفنیہ اسپتال جو پچھلے 20 سالوں سے بند تھا، ایم ایل اے صاحب نے پہلے اسپتال کا تالا کھولا اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹروں اور نرسوں نے بھی اپنی خدمت آسانی سے فراہم کرنا شروع کردیا ہے۔

6) روٹا اور امور میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر اب تک زیر التوا تھی۔ جب یہ معاملہ منسٹر کے سامنے ایوان میں پیش کیا گیا تو محترم وزیر نے واضح کردیا ہے کہ دونوں ہاسٹلوں کی تعمیراتی کام مئی 2021 تک مکمل ہوجائے گا۔

7) امور اور بیسا بلاکوں میں، بجلی تاروں اور پولوں کی صورتحال بھی ایوان میں پیش کیا گیا جس کے جواب میں وزیر توانائی نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ کام جاری ہے اور باقی کام بھی جلد کیا جائے گا۔

8) ڈاکٹروں کی کمی کے بارے میں بھی ایوان میں ہونے والے سوال کے جواب میں، محترم وزیر نے کہا کہ محکمہ نے ڈاکٹروں کی تقرری کے سلسلے میں ریاستی ٹیکنیکل کمیشن کو ایک خط لکھا ہے، ڈاکٹروں کو بہت جلد بحال کردیا جائے گا۔

9) پورے بہار میں محصولاتی عملے کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جب یہ معاملہ معزز ایم ایل اے نے قانون ساز اسمبلی میں اٹھایا تو وزیر نے اس سوال کی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے اپنے جواب میں کہا کہ محصولات کے عملے کو جلد بحال کردیا جائے گا۔