جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 341

اختلاف رائے کی آواز دبانے کی کوشش میں اتنا ڈرایا کہ ڈر ہی ختم ہو گیا !

0
اختلاف رائے کی آواز دبانے کی کوشش میں اتنا ڈرایا کہ ڈر ہی ختم ہو گیا !
اختلاف رائے کی آواز دبانے کی کوشش میں اتنا ڈرایا کہ ڈر ہی ختم ہو گیا !

نتاشا، دیوانگنا اور آصف کے جیل سے باہر آتے وقت ایسا لگا کہ جیسے وہ جیل کی سیاہ کوٹھری سے باہر نہیں آ رہے، بلکہ کسی فاتحانہ مشن سے واپس آئے ہیں۔ اس سے محسوس ہوا کہ جب تک انصاف باقی ہے، حکمران اختلاف رائے کی آواز دبا نہیں سکتے۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

دہلی فسادات: دہلی فسادات کے الزام میں ایک سال سے جیل میں بند طالب علم اور سماجی کارکنان نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا جیل سے باہر آگئے۔ ان کے جیل سے باہر آتے وقت ایسا لگا کہ جیسے وہ جیل کی سیاہ کوٹھری سے باہر نہیں آ رہے، بلکہ کسی فاتحانہ مشن سے واپس آئے ہیں۔ نہ کوئی احساس جرم، نہ کوئی احساس ندامت اور نہ ہی کسی شکست خوردگی کا احساس۔ بھلا یہ احساس ہوتا بھی کیوں؟ ان کی خطا تو بس اتنی تھی کہ انھوں نے حکومت کی ناانصافیوں اور ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ انھوں نے تو بس ایک جمہوری ملک میں حاصل اپنے حقوق اور اختیارات کا استعمال کیا تھا۔ انھوں نے تو بس مظلومین کے حق میں آواز بلند کی تھی۔

ہاں! ان کی خطا یہ ضرور تھی کہ وہ یہ بھول گئے کہ اب وہ ’نیو انڈیا‘ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں نہ تو آپ حکومت کی غلط اور عوام مخالف پالیسیوں پر آواز بلند کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی جانے والی قانون سازی کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں۔ حکومت صحیح یا غلط جو کر رہی ہے، جیسا کر رہی ہے، وہی صحیح ہے۔ اب آپ حکومت سے کسی قسم کا سوال نہیں کر سکتے۔

در اصل یہ طالب علم اور سماجی کارکن ۲۰۱۴ء سے پہلے کا ہندوستان سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے اور حکومت کی متعصبانہ اور جابرانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ انھیں کیا معلوم کہ اب اس ملک میں اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا جرم ٹھہرا۔ وہ تو شکر منائیے کہ ابھی عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور آج بھی انصاف پسند لوگوں کی ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔ جس کے سبب انصاف کو دم توڑنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہندوستان کا مستقبل بہت تابناک نہیں ہے۔

ایک نہ ایک دن جھوٹ، فریب اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہوگا

نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کے جیل سے باہر آ جانے سے ایک امید ضرور پیدا ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں انہی کی طرح ابھی ان گنت سماجی کارکنان اور طالب علم جیلوں میں بند ہیں۔ ملک کے آئین پر اعتماد رکھنے والے ان سماجی کارکنان کو امید ہے کہ ایک نہ ایک دن جھوٹ، فریب اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہوگا۔ انصاف کا پرچم بلند ہوگا۔ نعرہ لگاتے ہوئے جیل کے اندر جانے اور نعرہ لگاتے ہوئے ہی جیل سے باہر آنے والے ان طالب علموں نے باقی ’سیاسی قیدیوں‘ کو حوصلہ بخشا ہے، جنھیں شاید انتقامی جذبے کے تحت قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہے۔

جیل سے باہر آنے کے بعد آصف اقبال، نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا نے کہا بھی ہے کہ ہمارا احتجاج جمہوری تھا اور دہلی ہائی کورٹ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ پولیس کی تمام کوششوں اور رخنہ اندازی کے باوجود ان طالب علموں کی رہائی عمل میں آئی۔

اس ضمن میں سب سے قابل غور پہلو دہلی ہائی کورٹ کے وہ تبصرے ہیں جو اس نے ان لوگوں کو ضمانت دیتے وقت کئے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے دل و دماغ میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کیلئے صدائے احتجاج کے بنیادی حقوق اور دہشت گردی کے درمیان پائی جانے والی لکیر موہوم ہوتی جارہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یقینی طور پر یہ جمہوریت کیلئے انتہائی افسوسناک ہوگا۔‘‘

ہائی کورٹ کے ججوں نے اس موقع پر جسٹس ایم ہدایت اللہ کا حوالہ بھی دیا۔ جنہوں نے رام منوہر لوہیا بنام ریاست بہار کے معاملے میں کہا تھا کہ ’کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ہمیشہ احکامات کو متاثر کرتی ہے، لیکن اس سے پہلے کہ وہ عوامی نظم و نسق کو متاثر کرے۔‘ ان طالب علموں کو انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جو آج کل حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کا سب سے آسان ہتھیار بن گیا ہے۔

پولیس کو دہشت گردی سے متعلق دفعات کے اندھاندھند طریقے پر اطلاق سے گریز کرنا چاہئے

عدالت کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی سے متعلق اس قانون کو ’ملک کے دفاع‘ کو خطرے میں ڈالنے والے معاملات سے نمٹنے کیلئے بنایا گیا تھا، اس سے زیادہ یا کم کچھ نہیں۔ دہشت گردی کو دیگر اقسام کے جرائم سے الگ کرنا ہوگا۔ خواہ وہ نوعیت کے اعتبار سے کتنا ہی سنگین اور خطرناک کیوں نہ ہو۔ دفعہ ۱۵؍ کے تحت ’دہشت گردی سے متعلق قانون کی تشریح‘ بہت زیادہ وسیع لیکن بڑی حد تک مبہم ہے۔ پولیس کو ان دفعات کے اندھاندھند طریقے پر اطلاق سے گریز کرنا چاہئے۔ اس قانون کا اطلاق ان جرائم پر بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا جو انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دیگر دفعات کے تحت آتے ہیں۔ اس بات پر ہمارا یقین ہے کہ ہمارے ملک کی بنیادیں مضبوط اور مستحکم ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج اور مظاہروں سے متاثر نہیں ہوں گی۔

عدالت کا اگلا قدم اُن افسران کو سزا دینا ہونا چاہئے

عرضی گزار نے دیگر جرائم کا ارتکاب کیا ہو یا نہ کیا ہو، کم از کم پہلی نظر میں حکومت ہمیں یہ سمجھانے میں ناکام رہی ہے کہ ملزم کے خلاف عائد کئے گئے الزامات میں یو اے پی اے کے سیکشن ۱۵، ۱۷؍ یا ۱۸؍ کے تحت جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ ‘نہ صرف عدالت نے سخت تبصرے کئے، بلکہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ ’اگر آصف اقبال ،نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ ضمانت دیئے جانے کے بعد پولیس اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتی ہے اور ان احکامات پر عمل نہیں کرتی ہے تو عدالت کا اگلا قدم اُن افسران کو سزا دینا ہونا چاہئے جو دہشت گردی کے نام پر عام لوگوں اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں اس کام کی سزا دیتے ہیں جو وہ کبھی کئے ہی نہیں رہتے۔ اس کے بعد ہی پولیس ان کاموں سے بچنے کی کوشش کریںگے جو اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے انجام دیتے ہیں۔‘

اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت کس منشا کے تحت کام کر رہی ہے۔ عدالت نے یقیناً ملک کے ہر ذی ہوش اور انصاف پسند شہری کے دل کی بات کی ہے۔ ملک میں احتجاج اور مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مظاہرین کو ’دیش دروہی‘ یا ملک کا غدار ٹھہرا دیا جائے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد تو جیسے ملک کی سمت ہی بدل دی گئی ہے۔

دہلی فسادات کے سلسلہ میں پہلے بھی بہت سارے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ ان فسادات کے بعد کتنی آسانی سے مظلومین کو ظالم اور ظالموں کو مظلوم بنا دیا گیا۔ یعنی جن کا جانی و مالی نقصان ہوا، انہی کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور جو کھلے عام آگ لگانے کی بات کر رہے تھے، وہ کھلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔

کسی کو اتنا نہ ڈراؤ کہ اس کے دل سے ڈر ہی نکل جائے

غور طلب ہے کہ فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے سلسلہ میں دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال اور آصف اقبال کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔دیوانگنا اور نتاشا ’پنجرا توڑ‘ کی کارکن ہیں، جبکہ آصف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم ہیں۔  لیکن خوشی کی بات ہے کہ اس سب کے باوجود مظلومین کے حوصوں کو توڑا نہیں جا سکا۔ انہیں خوفزدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کے بعد بھی وہ انقلابی نعروں کے ساتھ سینہ سپر نظر آ رہے ہیں۔ ہم سب نے اکثر یہ قول سنا ہوگا کہ ’کسی کو اتنا نہ ڈراؤ کہ اس کے دل سے ڈر ہی نکل جائے‘۔ اب یہ قول سچ ثابت ہو رہا ہے۔

نتاشا، دیوانگنا اور آصف جس انداز میں جیل سے باہر آئے، اس سے محسوس ہوا کہ جب تک انصاف باقی ہے، حکمران کسی کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں نے اس کا احساس جیل سے باہر آنے کے بعد کروایا ہے۔ جیل کے دروازے پر ہاتھ اٹھا کر بند مٹھی کے ساتھ نعرے لگاتے ان طالب علموں کے حوصلوں نے نہ صرف انصاف کی امیدوں کو باقی رکھا ہے، بلکہ اپنے جمہوری حقوق اور اختیارات کے استعمال کے لئے بھی رغبت دلائی ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی واضح پیغام دے دیا ہے کہ یو اے پی اے جیسے قوانین کا بیجا استعمال ان کے حوصلوں کو نہیں توڑ سکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ انتقامی جذبے سے کام کرنے سے باز آئے اور عدالت کے ذریعہ کئے تبصروں پر غور و خوض کرے۔ یہ ملک اور آئین دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

وزیر اعلیٰ بہار سے عبادت گاہوں کو بھی کھولنے کا ملی جماعتوں و سرکردہ شخصیات کا مطالبہ

0
وزیر اعلیٰ بہار سے عبادت گاہوں کو بھی کھولنے کا ملی جماعتوں و سرکردہ شخصیات کا مطالبہ

بہار کی تمام دینی ملی جماعتوں اور اہم ملی شخصیات نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے ریاست کی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔ ملی جماعتوں کے ذمہ داران نے حکومت کی کوششوں سے کورونا کی روز بروز گھٹتی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے میں عبادت گاہوں کو اب چند شرائط کے ساتھ کھولنے کا حکومت کو فوری فیصلہ کرنا چاہئے۔

پٹنہ: بہار کی تمام دینی ملی جماعتوں اور اہم ملی شخصیات نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے ریاست کی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔ منگل کو جاری ایک بیان میں ملی جماعتوں کے ذمہ داروں نے کورونا سے متعلق حکومت کے موجودہ گائڈ لائن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتراور دکانوں کو معمولی شرائط کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ پارکوں کو بھی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن مندر، مسجد، گرجاگھر اور گردوارہ کو بند کرنے کو کہا گیا ہے۔

ملی جماعتوں کے ذمہ داران نے کہا کہ کورونا جیسی مہلک وبا پر قابو پانے کے لئے حکومت نے جو احتیاطی اقدام اٹھائے ہیں، ان کی وہ تائید اور ستائش کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ بہار کی فکر مندی پر غیر معمولی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ یقینا حفظ ما تقدم کے طور پر یہ تدابیر شہریوں کے لئے مفید اور ضروری ہیں۔ تاہم عبادت گاہوں کو بالکل ہی بند کرکے رکھنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ انہوں نے حکومت کی کوششوں سے کورونا کی روز بروز گھٹتی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے میں عبادت گاہوں کو اب چند شرائط کے ساتھ کھولنے کا حکومت کو فوری فیصلہ کرنا چاہئے۔

بیان جاری کرنے والے دینی ملی اہم شخصیات

بیان جاری کرنے والوں میں امارت شرعیہ کے نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی، خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ کے سجادہ نشیں مولانا سید شمیم الدین احمد منعمی، جمعیت علماء ہند بہار کے قائم مقام جنرل سکریٹری مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی، مرکزی ادارہ شرعیہ بہار کے مہتمم مولانا سید احمد رضائی، صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کے نائب امیر مولانا خورشید مدنی، امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی، جمعیت العلماء ہند، بہار کے ناظم مولانا محمد ناظم، جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی، جنرل سکریٹری مجلس علماء و خطباء امامیہ کے جنرل سکریٹری مولانا سید امانت حسین اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (بہار چیپٹر) کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر انوارالہدیٰ شامل ہیں۔

ٹی آر پی گھوٹالہ: ضمنی چارج شیٹ میں ملزم ارنب گوسوامی

0
ٹی آر پی گھوٹالہ: ضمنی چارج شیٹ میں ملزم ارنب گوسوامی
ٹی آر پی گھوٹالہ: ضمنی چارج شیٹ میں ملزم ارنب گوسوامی

ممبئی پولیس نے ٹی آر پی گھوٹالہ میں 9 مہینے قبل ایف آئی آر درج کی تھی اور اس وقت کے پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے بتایا تھا کہ ٹی آر پی گھوٹالہ میں ارنب گوسوامی بھی شامل ہیں۔

ممبئی: فرضی ٹی آر پی گھوٹالہ میں ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ممبئی پولیس نے عدالت میں جو سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی ہے اس میں ارنب گوسوامی کو ملزم بنایا گیا ہے۔

ممبئی پولیس نے اس معاملے میں 9 مہینے قبل ایف آئی آر درج کی تھی اور اس وقت کے پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے بتایا تھا کہ ٹی آر پی گھوٹالہ میں ارنب گوسوامی بھی شامل ہیں۔

بہر حال، ممبئی پولیس نے 22 جون (منگل) کو عدالت میں فائل سپلیمنٹری چارج شیٹ میں ارنب سمیت پانچ لوگوں کا نام شامل کیا ہے۔ ارنب کے علاوہ اے آر جی آؤٹلیر میڈیا (ریپبلک ٹی وی کا مالکانہ حق رکھنے والے) کے چار لوگوں کے نام ہیں۔ پولیس کے ذریعہ عدالت میں فائل کی گئی 1800 صفحات کی چارج شیٹ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

فرضی ٹی آر پی معاملہ میں معاون ملزمین کے طور پر سی ای او پریہ مکھرجی، شیویندو ملیکر شیوا سندرم کا بھی نام ہے جنھیں پہلے وانٹیڈ دکھایا گیا تھا۔ اب تک پولیس نے 15 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں بارک (بی اے آر سی) کے چیف ایگزیکٹیو افسر پارتھو داس گپتا اور ریپبلک ٹی وی چیف ایگزیکٹیو افسر وکاس کھانچندانی بھی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک لاک ڈاؤن نافذ

0
بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک لاک ڈاؤن نافذ
بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک لاک ڈاؤن نافذ

بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کو کورونا کے خطرے سے بچانے کے لئے، ان اضلاع میں عام لوگوں کی نقل مکانی پر 30 جون تک مکمل پابندی ہوگی۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔

ان سات دنوں میں، لاک ڈاؤن منگل کی صبح 8 بجے سے شروع ہوگا اور 30 ​​جون کو دوپہر 12 بجے تک نافذ رہے گا۔

بنگلہ دیش کے مانیک گنج، منشی گنج، نارائن گنج، غازی پور، راجا باڑی، مداری پور اور گوپال گنج اضلاع میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔

دارالحکومت ڈھاکہ کو کورونا کے خطرے سے بچانے کے لئے، ان اضلاع میں عام لوگوں کی نقل مکانی پر 30 جون تک مکمل پابندی ہوگی۔ اس دوران پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔ بازار اور شاپنگ مالس بند رہیں گے اور سرکاری نجی دفاتر ہنگامی سرکاری دفاتر کے علاوہ بند رہیں گے۔

دارالحکومت ڈھاکہ سے آمد و رفت بند کردی گئی ہے۔ ڈھاکہ سے دوسرے اضلاع جانے والی بسوں کے آپریشن پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ان اضلاع میں ٹرینوں کے آپریشن پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر، ترک صدر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

0
ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر، ترک صدر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان
ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر، ترک صدر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر ہونے اور ٹیکہ کاری مہم تیز ہونے کی وجہ سے ترکی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ملک بھر میں کرفیو یکم جولائی سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

انقرہ: ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر ہونے اور ٹیکہ کاری مہم تیز ہونے کی وجہ سے ترکی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ یہ اعلان ترک صدر رجب طیب اردوان نے ویکسینیشن عمل تیز ہونے اور پابندیوں سے کورونا وبا میں کمی آنے کے بعد کیا۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر طیب اردوان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کورونا وبا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ملک بھر میں کرفیو یکم جولائی سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ہفتہ وار لاک ڈاؤن اور رات کے کرفیو اٹھا لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پابندیاں نرم کرنے کے سلسلے میں سفری پابندیاں، اربن پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ کورونا کیسز میں غیر معمولی کمی کے بعد معمولات زندگی بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ملک میں جاری تیزترین کورونا ویکسینیشن عمل کی بدولت آج کے دن تک 43 ملین افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران ویکسینیشن عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔

امریکہ کے شہر کولوراڈو میں فائرنگ، بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک

0
امریکہ کے شہر کولوراڈو میں فائرنگ، بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک
امریکہ کے شہر کولوراڈو میں فائرنگ، بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک

امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر اروڈا میں فائرنگ سے بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔ اروڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ٹویٹ کیا کہ پیر کو اروڈا میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر اروڈا میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔ عہدیداروں نے یہ اطلاع دی ہے۔ اروڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ٹویٹ کیا کہ پیر کو اروڈا میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

مقامی میڈیا نے اروڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی چیف ایڈ بریڈی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اروڈا لائبریری کے قریب ایک چوراہے پر فائرنگ سے ایک پولیس افسر کی موت ہوگئی تھی اور کنبہ کو مطلع کرنے کے بعد اس کی شناخت ظاہر کردی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ بندوق بردار کو پولیس نے گولی مار دی تھی اور اس کی شناخت کورونر کا دفتر کر رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور شخص کو اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

انجلینا جولی: ہم پناہ گزینوں کی مطلوبہ مدد نہیں کر رہے ہیں

0
انجیلینا جولی: ہم پناہ گزینوں کی مطلوبہ مدد نہیں کر رہے ہیں
انجیلینا جولی: ہم پناہ گزینوں کی مطلوبہ مدد نہیں کر رہے ہیں

امریکی اداکارہ اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین کی خصوصی نمائندہ انجلینا جولی نے کہا کہ ہم پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کو واپسی کے واسطے حل یا ان کے میزبان ممالک کی حمایت کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، اس کا آدھا بھی نہیں کر رہے۔

آخری اپ ڈیٹ: امریکی اداکارہ اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین کی خصوصی نمائندہ انجلینا جولی نے برکینا فاسو کے شمال مشرق میں گوڈیبو کیمپ کا دورہ کیا۔ انجیلینا جولی نے پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے ملک چھوڑنے والے ہزاروں پناہ گزینوں کی حمایت کی اور نقل مکانی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس وسیع کیمپ کے دورے کے بعد انجلینا نے کہا کہ انہیں دنیا بھر میں اس وقت نقل مکانی کی صورت حال کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔انہوں نے کہا ”حقیقت یہ ہے کہ ہم پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کو واپسی کے واسطے حل یا ان کے میزبان ممالک کی حمایت کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، اس کا آدھا بھی نہیں کر رہے”۔

پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی حمایت کی جائے

محترمہ انجیلینا نے زور دیا کہ برکینا فاسو جیسے ممالک کی حمایت کی جائے جو پناہ گزینوں کی میزبانی انجام دے رہے ہیں۔

ہالی وڈ اداکارہ اتوار کی شام ہیلی کاپٹر کے ذریعے مذکورہ کیمپ پہنچی تھیں۔ ان کے ہمراہ برکینا فاسو کے وزیر خارجہ ایلفا بیری بھی تھے۔ واضح رہے کہ ہر سال 20 جون کو پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

اس کیمپ میں پناہ گزینوں کی تعداد 9000 تک پہنچ گئی تھی۔ مارچ 2020 میں کیمپ کے سیکیورٹی مرکز پر نئے حملے کے بعد سابقہ حملوں سے بچے ہوئے پناہ گزین فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں گوڈیبو کیمپ کو بند کر دیا گیا۔

تاہم دسمبر 2020 سے برکینا فاسو کے حکام اور اقوام متحدہ کے کمیشن نے پناہ گزینوں کو ایک بار پھر اس کیمپ میں واپس لوٹا دیا۔ اس سے قبل مزید عسکری نفری تعینات کر کے کیمپ کی سیکیورٹی کو مضبوط بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے کمیشن کے مطابق دسمبر 2020 سے جون 2021 کے درمیان 11 ہزار کے قریب افراد برکینا فاسو کے شمال میں واقع شہروں سے گوڈیبو کیمپ میں واپس آئے۔

ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 97.50 روپے فی لیٹر

0
ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 97.50 روپے فی لیٹر
ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 97.50 روپے فی لیٹر

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے آج ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ دہلی میں ماہ جون میں اب تک پٹرول کی قیمت میں 3.27 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 3.08 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل مئی میں پٹرول 3.83 روپے اور ڈیزل 4.42 روپے مہنگا ہوا تھا۔

نئی دہلی: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے آج ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل پیر کو قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ ملک کے چار بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل آج 28 پیسے مہنگا ہوکر ایک نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 28 پیسے اضافے کے ساتھ 97.50 روپے اور ڈیزل 26 پیسے مہنگا ہوکر 88.23 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ دہلی میں ماہ جون میں اب تک پٹرول کی قیمت میں 3.27 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 3.08 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل مئی میں پٹرول 3.83 روپے اور ڈیزل 4.42 روپے مہنگا ہوا تھا۔

ممبئی میں آج پٹرول کی قیمت 27 پیسے اور ڈیزل 28 پیسے اضافے سے بالترتیب 103.63 روپے اور 95.72 روپے فی لیٹر پہنچ گیا۔ چنئی میں پٹرول اور ڈیزل 25-25 پیسے اور کولکتہ میں 26-26 پیسے مہنگے ہو گئے۔ چنئی میں، ایک لیٹر پٹرول 98.65 روپے اور ڈیزل 92.83 روپے میں فروخت ہوا۔ کولکتہ میں پٹرول 97.38 روپے اور ڈیزل 91.08 روپے فی لیٹر رہا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل ہیں:

شہر  ——  پیٹرول  ——    ڈیزل

دہلی ——— 97.50 ——— 88.23
ممبئی —— 103.63 ——— 95.72
چنئی ——— 98.65 -—— 92.83
کولکتہ ——— 97.38 —— 91.08

سینسیکس میں 230 پوائنٹس اور نفٹی میں 63 پوائنٹس کا اضافہ

0
سینسیکس میں 230 پوائنٹس اور نفٹی میں 63 پوائنٹس کا اضافہ
سینسیکس میں 230 پوائنٹس اور نفٹی میں 63 پوائنٹس کا اضافہ

ایشیائی منڈیوں میں زبردست گراوٹ کے سبب ابتدائی تجارت میں غوطہ لگاتے ہوئے کھلنے والے گھریلو بازار آخر کار تیزی درج کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سینسیکس میں 230 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور نفٹی میں 63 پوائنٹس کا اضافہ درج کیا گيا۔

ممبئی: ایشیائی منڈیوں میں زبردست گراوٹ کے سبب ابتدائی تجارت میں غوطہ لگاتے ہوئے کھلنے والے گھریلو بازار آخر کار تیزی درج کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کی وجہ سے بی ایس ای کے سینسیکس میں 230 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے نفٹی میں 63 پوائنٹس کا اضافہ درج کیا گيا۔

بی ایس ای کے سینسیکس 230.01 پوائنٹس کے اضافے سے 52574.46 پوائنٹس کی سطح پر اور این ایس ای کا نفٹی 63.15 پوائنٹس کے اضافے سے 15746.50 پوائنٹس پر بند ہوا۔ بڑی ​​کمپنیوں کے ساتھ ساتھ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں میں بھی خریداری کا رجحان برقرار رہا۔ جس کی وجہ سے بی ایس ای کا مڈ کیپ 0.82 فیصد کے اضافے سے 22420.06 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 0.83 فیصد کے اضافے سے 24854.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران، بی ایس ای پر مجموعی طورسے 3463 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2049 فائدے میں اور 1258 گراوٹ میں رہیں جبکہ 156 کمپنیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

دریں اثناء، بیشتر ایشیائی منڈیوں میں گراوٹ درج کی گئی، جبکہ یوروپی بازاروں میں اضافہ درج کیا گيا۔ جاپان کے نکئی میں 3.29 فیصد اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.08 فیصد گراوٹ درج ہوئی۔ جبکہ چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.12 فیصد، برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای 0.66 فیصد اور جرمنی کے ڈیکس میں 0.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سب کو ویکسین لگانے کے بعد کالج اور کوچنگ مراکز کھول دیئے جائیں گے۔: شیوراج

0
سب کو ویکسین لگانے کے بعد کالج اور کوچنگ مراکز کھول دیئے جائیں گے۔: شیوراج
سب کو ویکسین لگانے کے بعد کالج اور کوچنگ مراکز کھول دیئے جائیں گے۔: شیوراج

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے کہا ’80 ہزار یومیہ ہم ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ ویکسین لگوانے کا کام بھی تیزی سے کریں گے۔ ویکسین سب کو لگ گئی، تو بازار، کالج اور کوچنگ مراکز بھی کھول دیں گے‘۔ 

بھوپال: کورونا کے خلاف لڑائی کے سلسلے میں شروع کی گئی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کے درمیان مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ سب کو ویکسین لگانے کے بعد کالج اور کوچنگ مراکز کھول دیئے جائیں گے۔

مسٹر چوہان نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے کہا ’80 ہزار یومیہ ہم ٹیسٹ کر رہے ہیں، تاکہ اگر کوئی کورونا سے متاثر ہو تو، اس کا بروقت علاج کیا جاسکتا ہے۔ ویکسین لگوانے کا کام بھی تیزی سے کریں گے۔ ویکسین سب کو لگ گئی، تو بازار، کالج اور کوچنگ مراکز بھی کھول دیں گے‘۔

وزیر اعلی نے اپنے سلسلہ وار ٹویٹ میں کہا کہ کووڈ 19 سے لڑنے کا واحد ہتھیار ویکسینیشن ہے۔ اس لئے آئیے آج ہم ایک عہد کریں کہ ٹیکہ لگوائیں گے اور لوگوں کو بھی ترغیب دیں گے۔ یہ ویکسین بالکل محفوظ ہے۔ اگر ایک دن بخار آ جائے بھی تو یہ عام بات ہے۔