اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 314

کابل ایئرپورٹ کے باہر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 110 افراد ہلاک

0
کابل ایئرپورٹ کے باہر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 110 افراد ہلاک
کابل ایئرپورٹ کے باہر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 110 افراد ہلاک

افغانستان میں کابل ایئرپورٹ کے باہر گزشتہ کل ہونے والے خودکش دو دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 110 افراد ہلاک ہوگئے۔

کابل: افغانستان میں کابل ایئرپورٹ کے باہر گزشتہ کل ہونے والے خودکش دو دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 110 افراد ہلاک ہوگئے۔ جن میں خواتین اور بچوں سمیت طالبان کے 28 اراکین بھی شامل ہیں۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق دھماکے ایسے وقت میں ہوئے کہ جب مغربی حکام پہلے ہی بڑے حملوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے لوگوں کو کابل ایئرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کررہے تھے۔ جسے ملک سے فرار کے خواہشمند افغانوں نے بڑی حد تک نظر انداز کردیا تھا۔ ایک دوسری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بتایا کہ حملے میں 18 فوجی زخمی بھی ہوئے جنہیں سرجیکل یونٹس سے لیس سی-17 طیاروں کی مدد سے افغانستان سے نکالا جا رہا ہے۔

پہلا دھماکہ کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ کے باہر ہوا جہاں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ جبکہ دوسرا دھماکا بیرن ہوٹل کے نزدیک ہوا جہاں انخلا کے منتظر امریکی، برطانوی اور افغان شہریوں کو آج کل ٹھہرنے کو کہا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کابل میں رات دیر گئے تک دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ کچھ دھماکے امریکی افواج نے اپنے آلات تباہ کرنے کے لیے کئے ہیں۔

امریکی صدر نے دی دھمکی

حملے کے بعد وائٹ ہاؤس میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ’وہ لوگ جنہوں نے یہ حملہ کیا، ساتھ ہی جو امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ جان لیں کہ ہم معاف نہیں کریں گے، نہ ہم بھولیں گے، ہم تمہیں شکار کریں گے اور وصول کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وقت پر، اپنی منتخب کردہ جگہ اور اپنے منتخب کردہ لمحے میں طاقت سے جواب دیں گے۔

دوسری طرف طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل کردی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ علاقہ امریکی فوج کے زیر کنٹرول تھا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘امارت اسلامی کابل ایئرپورٹ پر دھماکا کرکے شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتی ہے’۔

ایک طالبان عہدیدار نے داعش کے حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان ارکان کی تعداد پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم نے ایئرپورٹ دھماکے میں امریکیوں سے زیادہ لوگوں کو کھو دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی ممالک کے تیار کردہ افراتفری میں انخلا کے منصوبے کے ذمہ دار طالبان نہیں تھے۔ اسی کے ساتھ طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردئے ہیں، چیکنگ شروع کردی ہے۔

کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکہ ہوسکتا ہے

کابل میں قائم امریکی سفارت خانے نے واقعے کو ‘ایک بڑا دھماکہ’ سے تعبیر کیا اور کہا کہ فائرنگ کی رپورٹس بھی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ خفیہ اطلاع ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکہ ہوسکتا ہے۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن اس وقت سیکیورٹی حکام کے ساتھ افغانستان کی صورت حال ہونے والے ایک اجلاس میں شریک تھے اور پہلے دھماکے کی رپورٹ آئی۔ برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ دھماکے کی اطلاع کے بعد وجوہات کے تعین کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ‘ہم ہنگامی طور پر کابل میں کیا ہوا اور انخلا کی کوششوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے، اس کا تعین کر رہے ہیں’۔

برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ ‘ہماری اولین ترجیح اپنے عہدیداروں، برطانیہ اور افغانستان کے شہریوں کی سلامتی ہے، ہم اپنے امریکی اور نیٹو اتحادیوں سے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ واقعے پر فوری امدادی کام کیا جائے’۔

ترک وزارت دفاع نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں تاہم ترک فوج کے کسی عہدیدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا

خیال رہے کہ مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر فوری طور پر کابل ایئرپورٹ کے اطراف سے نکل جائیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے نامعلوم ’سیکیورٹی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایبی گیٹ، جنوبی گیٹ یا شمالی گیٹ پر موجود افراد کو فوری طور پر نکل جانا چاہیے’۔

آسٹریلیا کے خارجہ امور کے محکمے نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ برقرار ہے اور بہت زیادہ ہے اس لیے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سفر نہ کریں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ ہوائی اڈے کے علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں اور مزید مشورے کا انتظار کریں۔

واضح رہے کہ سال 2011 میں ایک ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے واقعے میں 30 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد گزشتہ روز کابل میں ہوئے دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت ایک واقعے میں ہلاکتوں کی سب سے بڑئی تعداد ہے۔

کابل ایئرپورٹ چلانے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں: ترک صدر

0
کابل ایئرپورٹ چلانے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں: ترک صدر

ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکی نے نئی افغان انتظامیہ سے کابل میں پہلی دفعہ مذاکرات کیے ہیں یہ مذاکرات کابل ائیرپورٹ پر ترکی کے عارضی سفارتخانے میں ہوئے۔

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ چلانے کے لیے طالبان کی پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکی نے نئی افغان انتظامیہ سے کابل میں پہلی دفعہ مذاکرات کیے ہیں یہ مذاکرات کابل ایئرپورٹ پر ترکی کے عارضی سفارتخانے میں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ کابل ائیرپورٹ چلانے کے لیے طالبان کی پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ تاہم ہوائی اڈے کا نظم و نسق سنبھالنے کا فی الحال حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر تکنیکی سپورٹ فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ طالبان نے کابل ائیرپورٹ پر ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہم سیکیورٹی فراہم کریں گے آپ آپریٹ کریں۔

کابل ائیرپورٹ پر مزید حملوں کا امکان

کابل میں ہونے والے خوفناک دھماکوں پر ترک صدر نے کہا کہ ہم کابل میں رونما ہونے والی سانحہ اور دہشت گردانہ حملوں پر لعنت و ملامت بھیجتے ہیں۔ ترک فوج کا افغانستان سے انخلا کا عمل جاری ہے اور اس مشن کو قلیل مدت اور سرعت سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ ترک صدر نے کابل ائیرپورٹ پر مزید حملوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہم نے طالبان کی درخواست سے متعلق فیصلہ نہیں کیا۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بوسنیا کے دورے پر روانگی سے قبل استنبول ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ترکی پورے بلقان خطے کی ترقی اور اس کی خوشحالی اور امن کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ترکی سے کابل ائیرپورٹ پر تیکنیکی مدد فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترک فوج کو بھی 31 اگست کی ڈیڈلائن پر انخلا کرنا ہوگا۔ جس پر ترک حکام نے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کے انخلا کیلئے تیار ہیں۔ تاہم طالبان کی درخواست پر حتمی فیصلہ 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد کریں گے۔

ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا

0
ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا
ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا

وزارت خارجہ کو افغانستان میں پھنسے بنگال کے 125 افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن سے جلد از جلد انہیں واپس لانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

کلکتہ: ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد حالات پر مرکزی حکومت کی سست تحریک کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جو ہندوستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں جلد سے جلد ملک لانے کی کوشش کی جائے۔

جمعرات کو مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک آل پارٹی میٹنگ کی۔ اس میں 31 پارٹیوں کے 37 لیڈر موجود تھے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگاتا رائے نے بھی اس تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں حصہ لیا، بعد میں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی افغانستان کے معاملے پر مرکزی حکومت کے موقف سے متفق ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو افغانستان میں پھنسے بنگال کے 125 افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن سے جلد از جلد انہیں واپس لانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 23 ​​اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی کے نمائندے مرکز کی طرف سے بلائے گئے کل جماعتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تمام ضلع مجسٹریٹوں سے افغانستان میں پھنسے ہوئے لوگوں کی فہرست مانگی تھی۔ یہ فہرست مرکزی حکومت کے حوالے کی گئی ہے۔

اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

0
اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان
اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

کابل: طالبان رہنما اور پاکستان میں سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ملا عبدالسلام ضعیف کا برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جاسکتی ہیں۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں اور ا پنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ افغانستان میں اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں جبکہ میڈیا کوریج میں طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

سابق طالبان سفیر نے کہا کہ یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں، عوام اور تعلیم کے خلاف ہے۔ یہ بڑی سازش ہے، جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ افغان بغیر دستاویزات کے باہرجانے کیلئے ائیرپورٹ پر افراتفری کو بطور بہانا استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ قانونی اندازمیں کابل ائیرپورٹ جانے والوں کو طالبان نہیں روک رہے۔ طالبان کے سابق سفیر نے مزید کہا کہ طالبان کسی سے کوئی بدلہ یا انتقام نہیں لے رہے۔

ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

0
ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک
ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

عالمی وبا کورونا وائرس نے ایشیا کے ساڑھے سات سے آٹھ کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا

کوالالمپور: ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا وائرس نے ایشیا کے ساڑھے سات سے آٹھ کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی نے ترقی کے تسلسل میں رکاوٹیں ڈالیں۔

رپورٹ میں ترقیاتی بینک کا کہنا تھا کہ سفری پابندیوں کی وجہ سے خطے میں آٹھ فیصد کاروباری اوقات ضائع ہوئے جبکہ گھرانوں، مزدوروں اور غیر روایتی معیشت سے وابستہ افراد پر وبا کا منفی اثر پڑا۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کورونا دور میں جو بھی تجزیہ اور نتائج اخذ کئے جا رہے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں کیوں کہ بیشتر ممالک سے جو ڈیٹا مل رہے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں۔ اس سے دونوں باتیں ہوسکتی ہیں یا تو حالات اور خراب ہوں گے یا بہتری کی راہ پر آئیں گے۔

افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

0
افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن
افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ طالبان 31 اگست کے بعد بھی ان امریکیوں اور ان افغان شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دینے پر رضا مند ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت میں آئے تو افغان حکومت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت کام کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تعلقات کا دارومدار اگلی افغان حکومت کے طرز عمل پر ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام نہ کیا گیا تو انہیں دنیا میں تنہا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ انخلا کے بعد ایئرپورٹ کھلا رکھا جائے۔

دریں اثنا گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ جی سیون نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان افغانستان سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 31 اگست کے بعد بھی انخلا کے لئے محفوظ راستے کی ’ضمانت‘ دیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بورس جانسن، جنہوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھیوں نے مستقبل میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن انہوں نے ’پہلی شرط‘ کے بارے میں کہا ”31 اگست تک اور اس کے بعد افغانستان سے جو افراد جانا چاہتے ہیں ان کو محفوظ راستہ دینے کی ضمانت دی جائے“۔

حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی

0
حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی
حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی

وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کو کچھ دیر بعد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

نئی دہلی: وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو کچھ دیر بعد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس انیکسی میں منعقد پروگرام میں ڈاکٹر جے شنکر اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور وہاں سے ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے اور ہندوستانی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلات مہیا کرائیں گے۔ اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور دیگر رہنماؤں کی بھی موجودگی متوقع ہے۔

پیر کو ایک ٹویٹ میں ڈاکٹر جے شنکر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو افغانستان سے متعلق تازہ ترین معلومات سے آگاہ کرے۔

اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ وزیر خارجہ جمعرات کو افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ اس کے بعد تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو اس پروگرام میں شرکت کے لیے ای میل بھیج کر دعوت نامہ بھیجا گیا تھا۔

ہندوستان افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں سمیت 600 سے زائد افراد کو واپس لایا

قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پیش رفت تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور ہندوستان اپنے سفارت کاروں سمیت وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کو گزشتہ چند دنوں سے نکال رہا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے اس حوالے سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں سمیت 600 سے زائد افراد کو واپس لایا ہے۔

دریں اثنا سیکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے ایسے تمام افغان شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا ہے جو فی الحال ہندوستان میں مقیم نہیں ہیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کو ہندوستان آنے سے پہلے ای ویزا کے لیے نئے سرے سے درخواست دینا ہوگی۔

چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج

0
چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج
چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج

بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ قومی صدر چراغ پاسوان (چراغ گروپ) کے ساتھ ہی چار دیگر کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی گئی ہے۔

پٹنہ: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی ۔ پارس گروپ) نے پارٹی کے بانی آنجہانی رام ولاس پاسوان کے بیٹے اور بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ قومی صدر چراغ پاسوان (چراغ گروپ) کے ساتھ ہی چار دیگر کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔

ایل جے پی (پارس گروپ) کے پرنسپل جنرل سکریٹری کیشو سنگھ نے بدھ کو متعلقہ تھانے میں ایک تحریری شکایت کی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ان کے موبائل فون پر مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طر ف سے کال کرنے والے انہیں دھمکی دے رہے ہیں کہ پارس گروپ کا پروگرام کامیاب مت کراﺅ۔

تحریری شکایت میں رکن پارلیمنٹ مسٹر پاسوان، ان کے قریبی سوربھ پانڈے اور چراغ گروپ کے ترجمان کرشن کمار کلو ۔ امر آزاد کے ساتھ ہی ایک دیگر کے خلاف شکایت درج کرانے کے ساتھ ہی سیکیورٹی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت

0
بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت
بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت

بہار میں کورونا انفیکشن کی صورت حال میں بہتری کے پیش نظر حکومت نے کل سے تمام دکانوں، اداروں، شاپنگ مالز، پارکس، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طور پر کھولنے کی اجازت دے دی

پٹنہ: بہار میں کورونا انفیکشن کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کل سے سبھی دکانوں، اداروں، شاپنگ مال، پارک، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طور پر کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بدھ کو آفات مینجمنٹ گروپ کی میٹنگ میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے بتایا کہ ریاست میں اب سبھی دکانیں، ادارے، شاپنگ مال، پارک، گارڈن اور مذہبی مقامات عام طور سے کھلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کی اجازت سے سبھی طرح کے سماجی، سیاسی، تفریحی، کھیل ۔ کود، ثقافتی اور مذہبی پروگرام احتیاطی تدابیر کے ساتھ منعقد کئے جاسکیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سبھی یونیورسٹی، کالج، تکنیکی تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی (پہلی سے بارہویں جماعت) کے ساتھ کوچنگ ادارے بھی عام طور سے کھلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں کے ذریعہ امتحانات بھی منعقد کئے جاسکیں گے۔

مسٹر کمار نے بتایا کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ سنیما ہال، کلب، جم، سوئمنگ پل، ریستوراں اور کھانے کی دکان (زائرین کے ساتھ) کھل سکیں گے۔ لیکن تیسری لہر کے امکانات کے مد نظر بہار کے تمام باشندوں کو کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے احتیاط برتنا ضروری ہے۔

افغان مسئلے پر بلنکن نے کیا تبادلہ خیال

0
Afghan Masle par Blinken ne kya tabadala khyal
Afghan Masle par Blinken ne kya tabadala khyal

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو سے افغان مسئلے پر تعاون کے سلسلے میں بات کی۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو سے افغانستان میں جاری انخلا کی کوششوں میں تعاون کے سلسلے میں بات کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ’’مسٹر بلنکن نے مسٹر اوغلو کے ساتھ افغانستان میں ہمارے مسلسل تعاون اور ہمارے شہریوں، اتحادیوں اور شراکت داروں کے محفوظ اور منظم انخلا کو یقینی بنانے کی ہماری کوششوں پر گفت وشنید کی‘‘۔

طالبان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کی کوشش میں امریکہ افغانستان کے دارالحکومت کابل ہوائی اڈے سے اپنے انخلاء میں تیزی لارہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے منگل کو کہا کہ انخلاء کارروائیوں کی مقررہ حد طالبان کے تعاون پر منحصر ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز ترکی کی حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر سیلک نے یہ کہتے ہوئے کہ انقرہ مہاجر کیمپ نہیں ہے اس لیے وہ کسی ایک بھی افغان کو قبول نہیں کر سکتا۔