اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 311

افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت

0
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت

برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد امریکہ تیسری عالمی طاقت ہے، جو افغانستان سے اپنی پیشانی پر ناکامی کا داغ لے کر واپس لوٹا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

افغانستان میں 20 سال کے بعد پھر طالبان کی واپسی ہو گئی۔ امریکہ ایک لا حاصل جنگ کے خاتمے کے بعد یہاں سے روانہ ہو گیا، لیکن وہ اپنی ناکامی اور رسوائی کی ایک لمبی داستان پیچھے چھوڑ گیا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ جس وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2001 میں افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تھا، 20 برس کے بعد اُسی وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جو بائیڈن 12 اگست 2021 کو اس امکان کا اظہار کر رہے تھے کہ طالبان تین ماہ کے اندر کابل پہنچ سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبان نے تین دن میں ہی کابل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔

برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد امریکہ تیسری عالمی طاقت ہے، جو افغانستان سے اپنی پیشانی پر ناکامی کا داغ لے کر نکلا ہے۔ لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں افغانستان کو جیتنے کی کوشش میں ناکام کیوں ثابت ہوئی ہیں؟ دنیا بھر کے تجزیہ کار اور ماہرین اس امر پر غور و خوض کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنی غربت اور مفلسی کے باوجود آخر افغان قوم کیسے عالمی طاقتوں سے لوہا لیتی رہی ہے اور انہیں شکست سے دو چار کیا ہے۔

مختلف قسم کے شبہات اور خدشات کو دور کرنا بھی طالبان کی ایک بڑی ذمہ داری

یہ الگ بات ہے کہ اب افغانستان کی کمان جن ہاتھوں میں آئی ہے، ان پر دنیا کو مختلف قسم کے شبہات اور خدشات ہیں۔ اب ان تحفظات کو دور کرنا بھی طالبان کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اسی لئے اب یہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ آخر طالبان جس وعدے اور دعوے کے ساتھ واپس آئے ہیں، اس کو کس حد تک اور کیسے پورا کر پائیں گے؟ ابھی تک طالبان نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے جنگ کی، لیکن اب ملک کو آگے لے جانا اور دنیا کے ساتھ چلنا بھی ان کے لئے ایک جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی و ناکامی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان کا انداز حکمرانی 2001 سے پہلے والا ہوگا یا وہ 2021 میں جس تبدیلی کے ساتھ آئے ہیں، اس پر عمل کریں گے۔

امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا

تمام کشمکش اور تذبذب کے درمیان امریکہ نے آخر کار ڈیڈلائن سے کچھ وقت پہلے ہی افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا۔ وہاں موجود آخری امریکی فوجی بھی رات 12 بجے سے پہلے ہی کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہو گئے۔ کابل سے آخری امریکی پرواز کی روانگی کا اعلان طالبان نے کیا، جس کے فوراً بعد امریکی حکام نے تصدیق کی کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا ہے۔

اس آخری پرواز کے ساتھ ہی 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی 20 سالہ امریکی مہم ختم ہو گئی۔ امریکہ کی طویل ترین جنگ میں لاکھوں افغان شہری، ہزاروں امریکی، ناٹو، و افغان فوجی اور پولیس اہلکار، 50 ہزار طالبان و دیگر امریکہ مخالف مزاحمت پسند ہلاک ہوئے۔ افغان جنگ کی نگرانی 4 امریکی صدور نے کی، جبکہ اس پر ایک اندازے کے مطابق 2 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ پنٹا گون نے بھی امریکہ کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

امریکی فوج کے انخلا مکمل ہونے پر طالبان نے کہا ’ہم نے تاریخ رقم کردی‘۔ یقیناً یہ طالبان کے لئے کسی تاریخ سے کم نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مکمل انخلا کے بعد اب باضابطہ طور پر افغانستان کی کمان طالبان کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔ لیکن افغانستان میں اقتدارپر قبضہ کرنا اور حکومت چلانا دونوں الگ الگ ہیں۔ سفارتی محاذ پر دنیا میں الگ تھلگ پڑے طالبان کے سامنے سب کو ساتھ لے کر چلنا بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

طالبان کو افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا

دنیا سے پہلے طالبان کو افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ 1996 سے 2001 کے دور اقتدار میں طالبان نے اپنی شدت پسند شبیہ کے سبب افغان عوام کے ساتھ دنیا کے اعتماد کو بھی متزلزل کیا تھا۔ اس اعتماد کو بحال کرنا طالبان کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان دنیا کے غریب ترین ملکوں کی فہرست میں کافی اوپر ہے۔

2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں بیرون ملک سے امداد حاصل ہوئی۔ طالبان کی امریکہ میں موجود افغان سینٹرل بینک کے فنڈ تک رسائی نہیں ہے۔ ملک میں بجلی، پانی اور مواصلات جیسے اہم اور بنیادی ڈھانچے کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے، جس کے لئے فنڈ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں انسانی تباہی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ طالبان کیسے اس صورت حال کا سامنا کرتے ہیں۔

وہیں دوسری جانب ماہر اور پیشہ ور افراد کی افغانستان سے ہجرت بھی ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ جیسے ہی افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کا سلسلہ تیز ہوا، ملک کے نوکر شاہ، ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، پروفیسر اور یہاں تک کہ طلبہ بھی طالبان کی آمد سے خوفزدہ ہو کر ملک چھوڑنے لگے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے میں ان افراد کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اگر طالبان ان لوگوں میں اپنا اعتماد قائم نہیں کر سکے تو یہ افغانستان کے مستقبل کے لئے بہتر نہیں ہوگا۔

مزاحمتی گروپ کی موجودگی طالبان کے لئے ایک چیلنج

اس کے ساتھ ہی ابھی افغانستان میں مختلف مزاحمتی گروپ موجود ہیں۔ وہ بھی طالبان کے لئے ایک چیلنج ہیں۔ ان میں خاص طورپر پنجشیر کے شیر کے نام سے مشہور احمد مسعود کا نام سر فہرست ہے۔ حالانکہ مختلف خبروں کے درمیان افغان مزاحمتی تحریک کے رہنما احمد مسعود کا کہنا ہے کہ اگر طالبان طاقت کی تقسیم کے معاہدے پر راضی ہو جائیں تو وہ ان کے خلاف مزاحمت ختم کر دیں گے۔ احمد مسعود 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے جنگجو کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں، جو کابل کے شمال میں واقع وادی پنجشیر میں موجود ہیں۔

داعش کی سرگرمیاں اور ان کے ارادے ظاہر ہو چکے ہیں۔ کابل ہوائی اڈے پر جو خونریزی ہوئی ہے، اس نے افغان عوام ہی نہیں، خود طالبان کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں کھیچ دی ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی برادری میں خود کو منظوری دلانے کے لئے طالبان کو تگ و دو کرنی ہوگی۔ اکثر ملکوں نے کابل میں اپنے سفارتخانوں اور ہائی کمیشنوں کو بند کر دیا ہے۔ اگر چہ بدلے رخ کے سبب پاکستان، روس، چین، ایران اور قطر جیسی علاقائی طاقتوں کے ساتھ فی الحال طالبان کے روابط قائم ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد ہندوستان کی بات چیت

یہ الگ بات ہے کہ ابھی کسی نے طالبان کو با قاعدہ طور پر منظوری نہیں دی ہے۔ ادھر کافی کشمکش کے بعد اس سلسلہ میں ہندوستان کی جانب سے بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہندوستان نے افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد پہلی بار ان سے بات چیت کی ہے۔ قطر میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل طالبان قیادت کی گزارش پر دوحہ میں موجود سینئر طالبان لیڈر شیر محمد عباس سے ملاقات کی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لئے استعمال پر فکر مندی کا اظہار کیا۔ طالبان لیڈر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستانی فکر مندی کو ملحوظ نظر رکھا جائے گا۔ ویسے بھی طالبان کے رخ میں شروع سے ہی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ وہ اپنے مثبت بیانات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔

افغانستان جیسے ملک میں علاقائی اور عالمی طاقتیں پنجہ آزمائی کیوں کرتی ہیں؟

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ نا مساعد حالات کے باوجود افغانستان جیسے ملک میں علاقائی اور عالمی طاقتیں پنجہ آزمائی کیوں کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ افغانستان میں زمین کے نیچے دفن بے پناہ دولت ہے۔ افغانستان میں سونے، تانبے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں لیتھیم بھی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ملک کی ترقی و خوشحالی میں ان کا استعمال طالبان کس طرح کرتے ہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ کیا وہ یہاں موجود اس بے پناہ قدرتی دولت کا فائدہ اٹھا سکیں گے؟

سوویت اور امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں اور وادیوں میں تانبے، باکسائٹ، خام لوہے کے ساتھ ساتھ سونا اور سنگ مرمر جیسے بہت قیمتی معدنیات بھی موجود ہیں۔ اگر واقعی ان کا مناسب استعمال ہو جائے تو اس سے حاصل ہونے والی کمائی یہاں کے لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ فی الحال عالمی طاقتوں کے قبضے اور ان کی مداخلت کے دوران افغانستان کی معیشت کی بنیاد قدرتی وسائل پر نہیں، بلکہ افیون پر ٹکی ہوئی ہے۔ بہر حال، طالبان اپنی اس کامیابی کے ثمر کو کیسے سمیٹیں گے اور سنبھالیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ابھی تک تو جو اشارے ملے ہیں ان سے بہتر کی امید کی جا سکتی ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت

0
امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت
امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت

حملہ آور طالب علم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کو بند کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے نارتھ کارولینا صوبہ کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم کی موت ہوگئی۔

ونسٹن سلیم پولیس سربراہ کترینہ تھامسن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بدھ کو شہر کے ماؤنٹ تابور ہائی اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔ زخمی طالب علم کو فوری طور پر ویک فاریسٹ یونیورسٹی بپٹسٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ مشتبہ حملہ آور طالب علم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کو بند کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز، ایک طالب علم کو ولیمنگٹن کے نیو ہینوور ہائی اسکول میں اسی طرح کے ایک واقعے میں گولی مار دی گئی تھی۔

سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر صدر کا اظہار تعزیت

0
سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر صدر کا اظہار تعزیت
سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر صدر کا اظہار تعزیت

صدر جمہوریہ نے سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر کووند نے جمعرات کو ٹویٹ کرکے کہا ’’مسٹر چندن مترا ایک بہترین صحافی تھے اور ایک ممبر پارلیمنٹ کے طور پر ان کی مدت کار نے ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا‘‘۔

انہوں نے کہا ’’ہندی زبان کی ریاستوں اور ان کی تاریخ پر ان کی مضبوط گرفت تھی۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی صحافتی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ ان کے کنبے اور دوستوں کے تئیں میری دلی تعزیت‘‘۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15-15 پیسے کی کمی

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15-15 پیسے کی کمی
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15-15 پیسے کی کمی

آج دہلی میں انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.77 روپے فی لیٹر رہا۔

نئی دہلی: بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کے باوجود آج دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کل ان کی قیمتوں میں سات دن کے بعد 15-15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

آج دہلی میں انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.77 روپے فی لیٹر رہا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.77 روپے فی لیٹر رہا۔

گزشتہ روز بین الاقوامی بازار میں بریٹ کروڈ 1.30 ڈالر فی بیرل گر کر 71.69 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 0.81 ڈالر کم ہوکر 67.59 ڈالر فی بیرل رہا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

شہر کا نام ——— پٹرول —————    ڈیزل 

دہلی ————— 101.34 —————— 88.77

ممبئی ————— 107.39 —————— 96.33

چنئی ————— 99.08 -—————- 93.38

کولکتہ ———— 101.77 —————— 91.84

افغانستان: طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم، 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی

0
افغانستان: طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم، 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی
افغانستان: طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم، 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی

افغانستان کے پروان صوبے میں تصادم میں 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی ہوگئے۔ افغانستان سے امریکی اور اتحادی فورسز کی مکمل واپسی کے بعد اس ملک پر طالبان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔

کابل: افغانستان کے پروان صوبے میں طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم میں چار لوگوں کی موت اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ابھی اس بات کا پتہ نہیں چلا ہے کہ مہلوکین میں کوئی طالبانی رکن ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی فورسز کی مکمل واپسی کے بعد اس ملک پر طالبان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔

گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ

0
گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ
گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے گئو کشی کے ایک معاملے میں داخل ضمانت کی عرضی پر سماعت کے دوران سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ جاوید نامی ایک ملزم کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کررہا تھا۔ جاوید پر گئو کشی کا الزام ہے۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے آج اپنے سخت تبصرے میں مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ جب کسی ملک کے تہذیب و ثقافت اور اس کے عقیدے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے‘۔

جسٹس شیکھر یادو نے جاوید کی ضمانت کی عرض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جاوید نے گائے کی چوری کے بعد اس کو ذبح کیا ہے اورا س کا گوشت بھی اس کے پاس ملا ہے۔ یہ ملزم کا پہلا گناہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی وہ ایسا عمل سرزد کر چکا ہے اور گائے ذبیحہ کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو زک پہنچا ہے۔ کورٹ کا ماننا ہے کہ اگر ایسے افراد کو ضمانت دی گئی تو باہر جاکر وہ پھر ایسے ہی عمل کا ارتکاب کریں گے اور اس سے سماجی ماحول کو نقصان پہنچے گا۔

ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379 اور انسداد گئو کشی ایکٹ کی سیکشن 3،5،8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

بائیڈن نے ٹرمپ کو افغانستان سے ’ذلت آمیز‘ انخلا کا ذمہ دار ٹھہرایا

0
بائیڈن نے ٹرمپ کو افغانستان سے ’ذلت آمیز‘ انخلا کا ذمہ دار ٹھہرایا
بائیڈن نے ٹرمپ کو افغانستان سے ’ذلت آمیز‘ انخلا کا ذمہ دار ٹھہرایا

افغانستان سے ذلت آمیز انخلا کے لئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلا کی آخری تاریخ کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کردیا۔

واشنگٹن: افغانستان سے ذلت آمیز انخلا کے لئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلا کی آخری تاریخ کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کردیا۔ جس کے باعث کابل میں 100 سے 200 امریکیوں سمیت معاونت فراہم کرنے والے افغان شہری ملک سے باہر نہیں جاسکے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اسٹیٹ ڈائننگ روم سے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں جو بائیڈن نے طالبان کی تیز رفتار پیش رفت کے خلاف معزول افغان حکومت کی نااہلی پر تنقید کی۔ جس کے باعث امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کو جلد بازی اور ذلت آمیز راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار پر بھی تنقید کی۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طے شدہ معاہدے کے تحت ’گزشتہ برس 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کی اجازت دی گئی جن میں طالبان کے بعض جنگی کمانڈر بھی شامل تھے جنہوں نے ابھی کنٹرول سنبھالا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے صدارتی دفتر سنبھالا، طالبان 2001 کے بعد سے اپنی مضبوط ترین فوجی پوزیشن میں تھے جو ملک کے تقریبا آدھے حصے کو کنٹرول کر رہے تھے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ عہدیداروں کا خیال ہے کہ 100 سے 200 امریکی افغانستان میں ہیں جس میں چند ملک چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کے پاس دہری شہریت ہے اور وہ طویل عرصے سے رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان کو نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر کیلی فورنیا کے ساحل پر حادثے کا شکار

0
امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر کیلی فورنیا کے ساحل پر حادثے کا شکار
امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر کیلی فورنیا کے ساحل پر حادثے کا شکار

امریکہ کے پیسیفک فلیٹ نے ٹوئٹر پر یہ اطلاع کہ امریکی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر سین ڈیاگو، کیلی فورنیا کے ساحل پر حادثے کا شکار ہوگیا۔

واشنگٹن: امریکی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر سین ڈیاگو، کیلی فورنیا کے ساحل پر حادثے کا شکار ہوگیا۔

امریکہ کے پیسیفک فلیٹ نے ٹوئٹر پر یہ اطلاع دی۔

ٹوئٹر پر بتایا گیا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن (سی وی این۔ 72) کا ہیلی کاپٹر ایم ایچ۔ 60 ایس ہیلی کاپٹر منگل کو معمول کی پرواز کے دوران سین ڈیاگو ساحل سے قریب 60 سمندری میل کی دوری پر سمندر میں حادثے کا شکار ہوگیا۔

بحریہ اور کئی ساحلی محافظ کی تلاش اور بچاؤ مہم جاری ہے۔

پیرو بس حادثہ میں 29 افراد کی موت، متعدد زخمی

0
پیرو بس حادثہ میں 29 افراد کی موت، متعدد زخمی
پیرو بس حادثہ میں 29 افراد کی موت، متعدد زخمی

پیرو میں مسافر بس کے حادثے کا شکار ہوکر گڈے میں گرجانے سے کم از کم 29 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

لیما: پیرو میں منگل کے روز ایک مسافر بس کے حادثے کا شکار ہوکر گڈے میں گرجانے سے کم از کم 29 لوگوں کی موت اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔

پولیس نے بتایا کہ حادثہ راجدھانی لیما کے ہوانکوس سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ پر مقامی وقت کے مطابق آج صبح چار بجے پیش آیا۔ حادثہ بس ڈرائیور کے کنٹرول کھودینے کی وجہ سے پیش آیا۔

پولیس نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے اور زخمیوں کو نزدیک کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

شام میں دہشت گردوں کا حملہ، چار فوجی کی موت، آٹھ زخمی

0
شام میں دہشت گردوں کا حملہ، چار فوجی کی موت، آٹھ زخمی
شام میں دہشت گردوں کا حملہ، چار فوجی کی موت، آٹھ زخمی

شام میں دہشت گردوں نے سرکاری ایجنسیوں اور مقامی فوج پر حملہ کیا جس میں 4 فوجیوں کی موت ہوگئی اور تقریباً 8 دیگر زخمی ہوگئے۔

دمشق: شام کے دارا صوبہ میں دہشت گردوں نے سرکاری ایجنسیوں اور مقامی فوج پر حملہ کیا جس میں 4 فوجیوں کی موت ہوگئی اور تقریباً 8 دیگر زخمی ہوگئے۔

شام میں متحارب فریقوں کے درمیان مصالحت کے روسی مرکز کے نائب سربراہ ایڈمرل وادیم کلت نے منگل کو یہ جانکاری دی۔

مسٹر کلت نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبہ دارا کے دارالبلد علاقے میں صورتحال بہت خراب ہے۔ کئی سرکاری ایجنسیوں اور قانون و انتظام بنائے رکھنے کے لئے تعینات سرکاری دستوں پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں چار شامی فوجوں کی موت ہوگئی اور آٹھ دیگر زخمی ہوگئے۔