منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 306

سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان

0
سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان
سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان

ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حیدر احمد خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کو سب سے بڑے بینیفیشریز کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما اور ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حیدر احمد خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کو سب سے بڑے بینیفیشریز کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔

مسٹر خان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمن نے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو وسیع کرنے کے لیے مخصوص اہداف کے ساتھ سارک تشکیل دی اور اس سمت میں اب بھی ایک روشن امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا اب معیشت پر مبنی ہے اور مذہب و معیشت پر مبنی سیاست اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کوئی بھی ملک مذہبی دہشت گردی کی سیاست کے ذریعے ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ ہمیں اس خطے میں خارجہ پالیسی پر مبنی معیشت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسئلہ سے ملک کے 16 کروڑ لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ مسئلہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور حکمران عوامی لیگ پر الزام عائد کیا کہ وہ بی این پی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا ’’وہ (ہندوستان) ایک جمہوری ملک ہے جہاں حکومت انتخابات کے ذریعے بنتی ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان کا موقف بی این پی کے حق میں رہا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہمارے ساتھ رہے گا۔‘‘

دنیا کی نہیں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے: افغان وزیر خارجہ امیر متقی

0
دنیا کی نہیں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے: افغان وزیر خارجہ امیر متقی

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کابینہ میں ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی۔ ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کابل: افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا ہے کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے۔ چین، پاکستان، قطر اور ترکی نے ہمارا ساتھ دیا، تعاون کرنے پر ان ممالک کے شکر گزار ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کابینہ میں ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی۔ ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان پر غیر ملکی دباؤ کو مسترد کرتے ہیں، جہاں بھی نیا نظام آتا ہے وہاں اپنے اعتماد کے لوگ آتے ہیں، افغانستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

امیر خان متقی نے کہا کہ پچھلے منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتے ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تاجروں سے گزارش ہے کہ کاروبار کریں تاکہ اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں طالبان

انہوں نے کہا کہ عالمی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اسے مستحق افراد تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ کوشش ہے باہر جانے والے مہاجرین واپس آئیں۔ دنیا سے اپیل ہے جو ہم سے تعاون کررہے ہیں اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے، دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا سے اپیل ہے کہ افغانستان کے لیے مزید انتشار والی پالیسی نہ اپنائیں۔ آئیں مثبت رائے اختیار کریں، افغانستان کو ترقی کرنے دیں۔

امیر متقی نے کہا کہ افغانستان ایک بہت بڑی مشکل سے گزرا ہے۔ چاہتے ہیں دنیا اسلامی ممالک ہماری ترقی کے شعبوں کی مدد کرے، عالمی برادری سے افغان عوام کی مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بائیڈن نے جن پنگ کے دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کو ٹھکرانے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو بتایا غلط

0
بائیڈن نے جن پنگ کے دو طرفہ ملاقات کو ٹھکرانے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو بتایا غلط
بائیڈن نے جن پنگ کے دو طرفہ ملاقات کو ٹھکرانے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو بتایا غلط

مسٹر بائیڈن نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ میڈیا میں یہ خبر آ رہی ہیں کہ مسٹر جن پنگ نے گزشتہ ہفتے فون پر گفتگو کے دوران ان کی (مسٹر بائیڈن کی) دو طرفہ ملاقات کی تجویز کو مسترد کر دیا جو کہ سراسر غلط ہے۔

ماسکو/واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے میڈیا میں چین کے صدر شی جن پنگ کے ذریعہ دو طرفہ میٹنگ کو ٹھکرائے جانے سے متعلق آ رہی رپورٹ کو غلط بتایا۔

مسٹر بائیڈن نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ میڈیا میں یہ خبر آ رہی ہیں کہ مسٹر جن پنگ نے گزشتہ ہفتے فون پر گفتگو کے دوران ان کی (مسٹر بائیڈن کی) دو طرفہ ملاقات کی تجویز کو مسترد کر دیا جو کہ سراسر غلط ہے۔

اس سے قبل اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ نے ٹیلی فون کال پر کئی لوگوں کے حوالے سے بتایا تھا کہ مسٹر بائیڈن اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی کوشش میں ناکام رہے ہیں۔

اخبار نے خبر دی ہے کہ مسٹر بائیڈن نے مسٹر جن پنگ کو دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔ لیکن چینی صدر نے ان کی پیشکش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اجلاس منعقد کرنے کے بجائے چین کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرے۔

نامہ نگاروں کے ذریعہ یہ پوچھے جانے پر کہ مسٹر جن پنگ نے ان سے ملنے سے انکار کردیا، اس سے کیا وہ مایوس ہیں، مسٹر بائیڈن نے کہا یہ حقیقت نہیں ہے‘‘۔

جے ای ای مین 2021 امتحانات کے نتائج جاری، 44 امیدواروں نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے

0
جے ای ای مین 2021 امتحانات کے نتائج جاری، 44 امیدواروں نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے

نیشنل ٹیسٹ ایجنسی نے جے ای ای مین 2021 کے نتائج جاری کیے ہیں جس میں مجموعی طور پر 44 امیدواروں نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔

نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹ ایجنسی (این ٹی اے) نے جے ای ای مین 2021 کے نتائج جاری کیے ہیں جس میں مجموعی طور پر 44 امیدواروں نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔

وزارت تعلیم کے افسران کے ذریعہ منگل دیر رات یہ اطلاع دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 44 امیدواروں کو 100 فیصد نمبر ملے ہیں جبکہ 18 امیدواروں کو ٹاپ رینک ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاپ 18 امیدواروں میں سے چار آندھرا پردیش، تین راجستھان، دہلی سے دو، اتر پردیش سے دو، تلنگانہ سے دو، مہاراشٹر سے ایک، پنجاب سے ایک، چنڈی گڑھ سے ایک، بہار سے ایک اور کرناٹک سے ایک طالب علم شامل ہے۔

امیدوار اپنے رول نمبر اور رجسٹریشن نمبر کی مدد سے سرکاری ویب سائٹ jeemain.nta.nic.in ، ntaresults.nic.in اور nta.ac.in پر اپنے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 7.8 لاکھ طلباء نے جے ای ای – مین امتحان کے لیے رجسٹریشن کرایا تھا۔

شی جن پنگ نے بائیڈن کی دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کو ٹھکرایا

0
شی جن پنگ نے بائیڈن کی دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کو ٹھکرایا
شی جن پنگ نے بائیڈن کی دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کو ٹھکرایا

مسٹر بائیڈن نے حال ہی میں مسٹر شی جن پنگ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کی جسے چینی صدر نے ٹھکرا دیا۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے چین کے صدر شی جن پنگ کو دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کی جسے مسٹر جن پنگ نے مسترد کردیا۔

مسٹر بائیڈن نے حال ہی میں مسٹر جن پنگ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کی جسے چینی صدر نے ٹھکرا دیا۔

فنانشل ٹائمز نے کئی لوگوں کے حوالے سے ٹیلی فون کال پر بتایا کہ مسٹر بائیڈن اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی کوشش میں ناکام رہے۔

اخبار نے خبر دی ہے کہ مسٹر بائیڈن نے مسٹر جن پنگ کو دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔ لیکن چینی صدر نے ان کی پیشکش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ امریکہ کو اجلاس منعقد کرنے کے بجائے چین کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

چین نے نئی افغان حکومت کو دی مبارکباد: طالبان

0
چین نے نئی افغان حکومت کو دی مبارکباد: طالبان
چین نے نئی افغان حکومت کو دی مبارکباد: طالبان

چین نے نئی افغان حکومت کو مبارکباد دی ہے اور ملک کی ترقی کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کابل: طالبان نے کہا ہے کہ چین نے نئی افغان حکومت کو مبارکباد دی ہے اور ملک کی ترقی کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے منگل کو کہا کہ افغانستان میں نئی ​​حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے چینی سفیر وانگ یو سے ملاقات کی اور نئی حکومت کو مبارکباد دی۔

نعیم نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ چینی سفیر نے انسانی امداد بڑھانے، اقتصادی ترقی اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

مغربی ممالک کا افغانستان کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد دینے کا عزم

0
مغربی ممالک کا افغانستان کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد دینے کا عزم
مغربی ممالک کا افغانستان کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد دینے کا عزم

عطیہ دہندگان نے عہد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے زائد دیں گے۔

جنیوا: عطیہ دہندگان نے عہد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے زائد دیں گے۔ جہاں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد غربت و افلاس بڑھ چکی ہے اور بیرونی امداد روک دی گئی ہے جس سے بڑے پیمانے پر ہجرت ہو رہی ہے۔ یہ عہد عطیہ دہندگان نے افغانستان کے لئے فنڈ جمع کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی کانفرنس میں کیا۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان کے لیے مالی امداد اکٹھا کرنے کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کتنے ممالک اس اپیل کے ردعمل میں عزم کا اظہار کریں گے۔ اقوام متحدہ نے افغانستان کی اہم ضروریات پوری کرنے کے لیے 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں کی جنگ اور تکالیف کے بعد افغان شہری ‘شاید سب سے مشکل’ لمحات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شہری ایک ساتھ پورے ملک میں تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ کھانا اس مہینے کے اختتام تک ختم ہوسکتی ہے اور عالمی غذائی پروگرام کا کہنا ہے کہ وہاں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد بھوک کے دہانے پر ہیں۔

طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان میں سخت اسلامی قوانین کے ساتھ حکومت کی لیکن امریکہ کی قیادت میں ان کا تختہ الٹ دیا گیا۔ امریکہ نے ان پر 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ امریکہ کی زیر قیادت نیٹو افواج کے انخلا اور مغربی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے بکھرنے کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرلیا تھا۔

مغرب کی دشمنی اور طالبان پر عدم اعتماد کے باعث اربوں ڈالرز کی امداد اچانک بند

مغرب کی دشمنی اور طالبان پر عدم اعتماد کے باعث اربوں ڈالرز کی امداد اچانک بند کردی گئی تھی۔ تاہم جنیوا میں عطیہ دہندگان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 20 سال گزارنے کے بعد وہاں کے عوام کی مدد جاری رکھنا ہماری ‘اخلاقی ذمہ داری’ ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی چیف مشل بیچلیٹ نے، جو جنیوا میں موجود تھیں، مغرب کے خدشات کی نشاندہی کی۔

انہوں نے طالبان پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر خواتین کو ملازمت پر جانے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں گھروں میں رہنے کا حکم، کم عمر لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا ہے اور وہ سابق مخالفین کو ستا رہے ہیں۔

بیجنگ کی جانب سے گزشتہ ماہ 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کا اجناس اور صحت کی سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا اور جمعہ کو کہا تھا کہ وہ 30 لاکھ کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ بھیجے گا۔
پاکستان نے ادویات اور اشیائے خوردونوش بھجوائی تھیں اور بیرون ملک منجمد افغان اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران نے کہا کہ اس نے امدادی سامان سے بھرا ایئر کارگو بھیجا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دوہراتے ہوئے افغان شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

چین اور روس دونوں نے کہا کہ افغانستان کو بحران سے نکالنے کا کلیدی بوجھ مغربی ممالک پر ڈالنا چاہیے۔

چین بحران کا شکار افغانستان کو کووڈ ویکسین کی 30 لاکھ سے زائد خوراکیں کرے گا عطیہ

0

چین نے افغانستان کو فوری طور پر خوراک، موسم سرما کی ضروریات کا ضروری سامان، کووڈ ویکسین اور 20 کروڑ یوآن کی ادویات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنیوا: چین طالبان کے قبضے کے بعد بحران کا شکار افغانستان کو کووڈ ویکسین کی 30 لاکھ سے زائد خوراکیں عطیہ کرے گا۔

ایک سینئر چینی سفارت کار نے یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی کھیپ میں کورونا ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔ بعد میں ویکسین کی مزید خوراکوں کی ہنگامی سپلائی کی جائے گی۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں چینی مشن کے سربراہ چن شو نے پیر کو کہا کہ چین نے افغانستان کو فوری طور پر خوراک، موسم سرما کی ضروریات کا ضروری سامان، کووڈ ویکسین اور 20 کروڑ یوآن کی ادویات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین نے ہمیشہ اپنے قریبی پڑوسی کی حیثیت سے افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا ہے۔ اس کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی اور تمام افغان عوام کے لیے دوستانہ پالیسی اختیار کی۔

مسٹر چن نے افغانستان میں انسانی صورتحال پر ایک اعلی سطحی وزارتی میٹنگ میں کہا ’’چین افغان عوام کی خواہشات اور ضروریات کا احترام کرنا جاری رکھے گا اور افغانستان کی پرامن تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کی حمایت کرنے کی پوری کوشش کرے گا‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین افغانستان میں انسانی بحران کو کم کرنے میں بڑا رول ادا کرنے اور افغانستان کو جلد از جلد انفیکشن کی صورتحال سے آسانی سے باہر نکالنے اور پرامن ترقی کے راستے پر چلنے میں مدد کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی حمایت کرتا ہے۔

مودی امریکہ کا کریں گے دورہ، کواڈ سربراہ کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کریں گے شرکت

0
مودی امریکہ کا کریں گے دورہ، کواڈ سربراہ کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کریں گے شرکت
مودی امریکہ کا کریں گے دورہ، کواڈ سربراہ کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کریں گے شرکت

نریندر مودی 24 اور 25 ستمبر کو امریکہ کا دورہ کریں گے جس میں وہ امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے لیڈروں کے ساتھ کواڈ سربراہ کانفرنس میں شرکت کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 24 اور 25 ستمبر کو امریکہ کا دورہ کریں گے جس میں وہ امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے لیڈروں کے ساتھ کواڈری لیٹرل سیکیورٹی ڈائیلاگ (کواڈ) سربراہ کانفرنس میں شرکت کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

وزارت خارجہ نے آج صبح یہاں یہ اطلاع دیتے ہوئے نے بتایا کہ 24 ستمبر کو واشنگٹن میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن، جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہیدے سوگا اور امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ کواڈری لیٹرل فریم ورک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں 12 مارچ کو ورچوئل طریقے سے ہوئی کواڈ سربراہ کانفرنس کے بعد پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور مشترکہ دلچسپی کے علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے مطابق اس میٹنگ میں کووڈ وبا پر قابو پانے کی کوششوں اور کواڈ ویکسینیشن اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ کواڈ لیڈر آزاد، کھلے اور جامع شمولیاتی ہند-بحرالکاہل خطے کو یقینی بنانے کے لئے اپنے مشترکہ نقطہ نظر پر غور کریں گے۔ اس کے علاوہ اہم اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، کنیکٹی وٹی اور انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی، میری ٹائم سیکیورٹی، انسانی امداد، آفات سے نجات، آب و ہوا کی تبدیلی اور تعلیم پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس سال کی جنرل اسمبلی میں عام بحث کا موضوع ’’کووڈ وبا سے ابھرنے کی امید کے ساتھ ایک لچیکی مزاحمت کی تیاری، پائیدار تعمیر نو، زمین کی ضروریات کا خیال رکھنا، لوگوں کے حقوق کا احترام اور اقوام متحدہ پھر سے بحالی کرنا‘‘ ہے۔

پیگاسس جاسوسی معاملہ: سپریم کورٹ نے عبوری حکم محفوظ رکھا

0
پیگاسس جاسوسی معاملہ: سپریم کورٹ نے عبوری حکم محفوظ رکھا
پیگاسس جاسوسی معاملہ: سپریم کورٹ نے عبوری حکم محفوظ رکھا

سپریم کورٹ نے پیر کے روز متنازعہ پیگاسس جاسوسی معاملہ میں قومی سلامتی کے نام پر اضافی حلف نامہ داخل کرنے میں مرکزی ہچکچاہٹ کے بعد درخواستوں پر عبوری حکم محفوظ کر لیا۔

نئی دہلی: متنازعہ پیگاسس جاسوسی معاملہ میں قومی سلامتی کے نام پر اضافی حلف نامہ داخل کرنے میں مرکزی ہچکچاہٹ کے بعد سپریم کورٹ نے درخواستوں پر پیر کو عبوری حکم محفوظ کر لیا۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے صحافیوں، وکلا اور کچھ غیرسرکاری تنظیموں کی درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کرتے ہوئے عبوری حکم محفوظ رکھ لیا۔

سپریم کورٹ کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا جب مرکزی حکومت نے اس معاملہ میں قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں اضافی حلف نامہ داخل کرنے سے منع کردیا۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ حکومت اس معاملے میں اضافی حلف نامہ داخل نہیں کرے گی کیونکہ اس میں قومی سلامتی کا مسئلہ شامل ہے۔

جج رمن نے کہا کہ وہ قومی سلامتی کے مسئلہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ عدالت صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا پیگاسس اسپائی پیئر کا استعمال قانونی دائرے میں کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عظمی کے سامنے سینئر صحافی، وکیل اور متعدد افراد اور تنظیمیں ہیں جن کے ذاتی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی پر تنازعہ ہے۔

جج رمن نے حالانکہ سالیسٹر جنرل کی ہچکچاہٹ محسوس کرکے کہا کہ اگر حکومت اضافی حلف نامہ داخل نہیں کرتی ہے تو عدالت کو اس معاملے میں اپنا حکم جاری کرنا ہوگا۔ عدالت نے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد عبوری حکم محفوظ کر لیا۔

عدالت اس معاملے میں دو تین دن کے اندر عبوری حکومت سنائے گی

عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں دو تین دن کے اندر عبوری حکومت سنائے گی۔ اس درمیان اگر حکومت کا دل بدلتا ہے اور وہ اضافی حلف نامہ دائر کرنا چاہتی ہے تو وہ مسٹر مہتہ اسپیشل مینشننگ کرسکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی عدالت کی نگرانی میں خصوصی تحقیقات کا مطالبہ پر ایک درجن سے زیادہ عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ جن میں سینئر صحافی این رام اور ششی کمار کے علاوہ ایڈوکیٹ ایم ایل شرما، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس، سماجی کارکن پرنجائے ٹھاکرتا اور ایڈیٹرز گلڈ جیسے عرضی گزار شامل ہیں۔