جمعہ, مارچ 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 3

ایپل کی نئی پیشکش آئی فون 17 کی بھارت میں دھوم اور دکھاوے کا میلہ

0
<b>آئی-فون-17-کا-بے-نظیر-جنون:-دہلی-اور-ممبئی-کی-سڑکوں-پر-خریداروں-کی-بے-پناہ-قطاریں</b>
آئی فون 17 کا بے نظیر جنون: دہلی اور ممبئی کی سڑکوں پر خریداروں کی بے پناہ قطاریں

آئی فون 17 کا بے نظیر جنون: دہلی اور ممبئی کی سڑکوں پر خریداروں کی بے پناہ قطاریں

ایپل نے ایک بار پھر نیا آئی فون لانچ کیا اور بھارت میں ایسا ہنگامہ مچا دیا جیسے کوئی قومی تہوار ہو۔ آئی فون 17 سیریز کی فروخت کے آغاز نے دہلی، ممبئی اور بنگلورو کے نوجوانوں کو ایسی دوڑ میں لگا دیا کہ جیسے مفت میں بانٹ رہے ہوں۔ رات بھر قطار میں لگنا اب بس ایک شوق نہیں، ایک اسٹیٹس اپ ڈیٹ ہے – تاکہ انسٹاگرام پر لکھ سکیں: "فرسٹ ان لائن!”

بھارتی صارفین کا نیا جنون

ساکیت کے سلیکٹ سٹی واک اور ممبئی کے بی کے سی ایپل اسٹور کے باہر ایسے رش لگے جیسے کوئی فلمی اسٹار آ گیا ہو۔ لوگ صبح پانچ بجے سے لائن میں، کچھ نے تو رات ہی سے کمبل ڈال دیا تھا۔ اور پھر جب فون ہاتھ آتا ہے تو سیدھا اسٹوری لگتی ہے: “Finally got it ❤️ #iPhone17 #Blessed”

سچ پوچھیے تو آدھے لوگ فون کے فیچرز کے لیے نہیں بلکہ اپنی سیلفی کے لیے آتے ہیں تاکہ دفتر میں فخر سے کہہ سکیں: "بھائی یہ آئی فون 17 پرو میکس ہے!” اور باقی سال قسطوں کی ادائیگی میں گزاریں۔

آئی فون 17 کے کمالات یا کمال کی قیمت؟

ایپل نے A19 پرو چپ، 6.9 انچ ڈسپلے اور 48MP کے تین کیمرے دیے ہیں، جو کاغذ پر تو بڑے دھماکے لگتے ہیں لیکن آخر میں زیادہ تر لوگ وہی کرتے ہیں جو ہر فون پر کرتے ہیں: واٹس ایپ، انسٹاگرام اور یوٹیوب۔

قیمت کا حال یہ ہے کہ آئی فون 17 کی شروعات 82,900 روپے سے، پرو 1,34,900 اور پرو میکس 1,49,900 تک پہنچ گیا ہے۔ مطلب ایک فون خریدیں اور پھر اگلے بارہ مہینے "مہینے کے آخر میں پیسے کم کیوں ہیں” کی کہانی سنائیں۔

سوشل میڈیا کا کھیل

اصل مزہ تو تب آتا ہے جب لوگ فون لے کر ہر جگہ لوگو چمکاتے پھرتے ہیں۔ جیسے فون سے زیادہ اہم وہ چھوٹا سا کٹا ہوا سیب ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ نیا آئی فون لینے کے بعد لوگ فون کا بیک کور شفاف رکھتے ہیں تاکہ لوگو صاف دکھائی دے۔ ارے بھائی، فون مہنگا ہو یا سستا، فون تو فون ہی ہے، لیکن شو آف الگ ہی سطح پر ہونا چاہیے۔

بھارتی مارکیٹ میں ایپل کا جادو

ایپل جانتا ہے کہ بھارت میں لوگ برانڈ کے لیے جذباتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر سال ذرا سا نیا فیچر دے کر قیمت بڑھا دیتا ہے اور پھر بھی اسٹور کے باہر لوگ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، ایک کلچرل فینامینا ہے۔

جو لوگ آئی فون نہ خرید پائیں وہ اگلے دن میمز بناتے ہیں:

  • "گردہ برائے فروخت، آئی فون لینا ہے”

  • "بائیک چھوڑ، آئی فون لے لے”

  • "مہینے بھر میگی کھا کر بھی فون لینا ضروری تھا”

یہ سب ہنسنے کی بات لگتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ بہت سے لوگ بچت توڑ کر فون خریدتے ہیں اور پھر پورا سال دوستوں کو EMI کی کہانی سناتے ہیں۔

آئی فون 17 نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی کہ ایپل صرف فون نہیں بیچتا، وہ خواب بیچتا ہے، اسٹیٹس بیچتا ہے۔ اور بھارت میں یہ خواب ہر سال اور مہنگا ہو رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال آئی فون 18 آنے پر پھر کتنے لوگ قطار میں لگیں گے اور کتنے انسٹاگرام پر لکھیں گے: “My precious!”

آئی لو محمد پر ایف آئی آر – انصاف اور سماجی ہم آہنگی کی کسوٹی

0
I love Muhammad par FIR
آئی لو محمد پر ایف آئی آر – انصاف اور سماجی ہم آہنگی کی کسوٹی

پیغمبر ﷺ سے اظہار عشق پر ایف آئی آر پر مذہبی آزادی، امن و امان اور ریاستی عملداری کے کئی سوالات

کانپور کا سید نگر، راوت پور علاقہ اس ہفتے ایک ایسے واقعہ کا مرکز بنا جس نے مذہبی آزادی، امن و امان اور ریاستی عملداری کے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ 4 ستمبر کو عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے دوران شرکا نے رام نومی شو بھا یاترا کے گیٹ کے قریب ٹاٹ کے ڈھانچے پر "I Love Muhammad” لکھا ہوا بورڈ نصب کیا۔ بظاہر یہ ایک سادہ مذہبی اظہار تھا مگر اس نے فوراً ماحول کو گرما دیا۔ ہندو تنظیموں کے کارکنان نے موقع پر احتجاج کیا، زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور فضا کشیدہ ہو گئی۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے حالات کو قابو میں لایا گیا اور بورڈ ہٹا دیا گیا۔

یہاں تک تو معاملہ محض ایک مقامی تنازع لگ رہا تھا مگر ایک ہفتے بعد پولیس نے جس انداز میں کارروائی کی اس نے بحث کو نیا رخ دے دیا۔ 14 ستمبر کو 25 مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جن میں 8 کو نامزد کیا گیا: شرافت حسین، سبور عالم، بابوعلی، محمد سراج نجور، رحمان، اکرام احمد، اقبال اور بنٹی۔ باقی 15 نامعلوم ہیں اور دو گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کی گئی اور مقصد امن قائم رکھنا ہے، مگر مقامی لوگ اسے یکطرفہ قرار دے رہے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مذہبی اقلیتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔

آئینی اور سماجی پس منظر

ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے، اس کی تبلیغ کرے اور اپنے مذہبی جذبات کا اظہار کرے۔ "I Love Muhammad” لکھنا اسی حق کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ایسا اظہار کسی دوسرے مذہبی مقام، گیٹ یا نشان کے قریب کیا جائے اور وہ دوسرے فریق کو اشتعال انگیزی محسوس ہو۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں ریاست اور انتظامیہ کو توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہبی جذبات کے ٹکراؤ کی تاریخ طویل ہے۔ جلوس، یاترائیں اور مذہبی تقریبات اکثر اسی لیے پولیس کی نگرانی میں ہوتی ہیں تاکہ چھوٹی سی بات بھی بڑے فساد کا باعث نہ بن جائے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ دونوں برادریوں کے درمیان اعتماد کی کمی کتنی گہری ہو چکی ہے۔

پولیس کی کارروائی اور شفافیت کا سوال

پولیس نے ایک ہفتہ بعد کارروائی کی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فیصلہ عجلت میں نہیں ہوا بلکہ سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال درست سمت میں قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا دوسری طرف کے احتجاجی عناصر کی شناخت بھی اسی شفافیت سے کی گئی؟ کیا ان کے خلاف بھی کارروائی ہوئی؟ اگر نہیں تو یہ کارروائی متعصبانہ محسوس ہو گی۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں فریقوں کو برابر ذمہ دار ٹھہرایا جائے تاکہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ قانون صرف ایک برادری کے لیے سخت ہے اور دوسری کے لیے نرم۔

سیاسی پہلو

یہ واقعہ محض ایک پولیس کیس نہیں، یہ اس بڑے سیاسی پس منظر سے جڑا ہے جہاں مذہب کے نام پر پولرائزیشن ایک اہم انتخابی ہتھیار بن چکا ہے۔ اتر پردیش جیسے حساس ریاست میں ایسے معاملات فوراً سیاسی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ ہندو تنظیمیں اسے "مذہبی جارحیت” کے طور پر پیش کریں گی اور مسلمان اسے "اقلیتی دباؤ” کے بیانیے کے طور پر۔ دونوں بیانیے ووٹ بینک کو مضبوط کرتے ہیں مگر معاشرتی ہم آہنگی کو کمزور کرتے ہیں۔

سماجی اثرات اور مستقبل کے خدشات

اگر یہ ایف آئی آر یکطرفہ ثابت ہوئی اور صرف ایک برادری کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ مقامی سطح پر بداعتمادی بڑھے گی، لوگ ریاستی اداروں کو غیر جانبدار نہیں سمجھیں گے اور ہر چھوٹا واقعہ بڑے فساد میں بدل سکتا ہے۔ یہ وہ فضا ہے جو نہ پولیس کے لیے اچھی ہے نہ عام شہریوں کے لیے۔

اس لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کی شفاف تفتیش کرے اور دونوں برادریوں کے نمائندوں کو ساتھ بٹھا کر مصالحتی عمل شروع کرے۔ ایسے ضابطے وضع کیے جائیں کہ مذہبی تقریبات میں ایک دوسرے کے جذبات کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔

"I Love Muhammad” لکھنا محض ایک مذہبی جذبے کا اظہار تھا جو کچھ لمحوں کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن گیا۔ مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کہ ریاست اس معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے۔ اگر یہ کارروائی انصاف اور شفافیت کے ساتھ ہوئی تو یہ ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔ اگر نہیں تو یہ واقعہ آنے والے دنوں میں مزید تقسیم اور بداعتمادی کو جنم دے گا۔

یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنے اپنے تعصبات سے باہر نکل کر سوچیں۔ مذہبی آزادی اور دوسروں کے جذبات کا احترام دونوں لازم ہیں۔ ایک کو دوسرے کی قیمت پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم نے یہ توازن قائم نہ کیا تو ہر سال ایسے واقعات مزید بڑھیں گے اور معاشرہ مستقل کشیدگی میں جیے گا۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات – چیٹ جی پی ٹی 5 پر عالمی ماہرین کی تشویش

0
Masnooi Zehant ke Barhte Khatraat – ChatGPT-5 par Aalmi Mahireen ki Tashweesh
Masnooi Zehant ke Barhte Khatraat – ChatGPT-5 par Aalmi Mahireen ki Tashweesh

اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین نے چیٹ جی پی ٹی 5 کو مین ہٹن پروجیکٹ سے تشبیہ دی۔ ماہرین نے ایٹمی جنگ جیسے خطرات کا انتباہ دیا۔ جانیں AI کے فوائد، خطرات اور عالمی سطح پر ضابطوں کی ضرورت۔

اگر مصنوعی ذہانت (AI) کے بے شمار فوائد ہیں تو اس کے بے قابو اور غیر محتاط استعمال سے انسانی زندگی کو سنگین خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے تو بنانے والوں کو بعد میں احساس ہوا کہ انہوں نے کیا کر دیا۔ آج اکیسویں صدی میں ایسے ہی خدشات مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے والے ظاہر کر رہے ہیں۔

غزہ میں جاری نسل کشی اس کی تازہ مثال ہے، جہاں ایٹم بم سے پانچ گنا زیادہ بارود گرایا جا چکا ہے۔ دنیا انسانی تاریخ کی سب سے ہولناک تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔

حالیہ دنوں اوپن اے آئی (OpenAI) کے سی ای او سیم آلٹمین نے چیٹ جی پی ٹی 5؍ لانچ کیا، اور اس کا موازنہ "مین ہٹن پروجیکٹ” سے کیا، وہی پروجیکٹ جس کے تحت 1942ء تا 1945ء دنیا کا پہلا ایٹم بم بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب تخلیق کار خود سے سوال کرتے ہیں: ہم نے یہ کیا کر دیا؟

سیم آلٹمین کے مطابق جی پی ٹی 5؍ صرف کمپیوٹنگ پاور میں اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں ہمیں انسانی اختراع کی سمت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پیچیدہ سوال کے جواب میں وہ خود ناکام ہوئے لیکن چیٹ جی پی ٹی 5؍ نے پلک جھپکتے ہی درست جواب دے دیا، اور انہیں محسوس ہوا کہ جیسے وہ خود "بیکار” ہو گئے۔

اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں
چیٹ جی پی ٹی روزانہ دنیا بھر میں 250 کروڑ سے زیادہ سوالات یا کاموں کا جواب دے رہا ہے، جن میں سے 33 کروڑ صرف امریکہ سے آتے ہیں۔ دسمبر 2024ء میں یہ تعداد 100 کروڑ یومیہ تھی، یعنی صرف چھ ماہ میں استعمال دوگنے سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔ امریکہ میں 70 فیصد سے زیادہ نوجوان چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں، اور نصف سے زیادہ باقاعدگی سے۔

یہ رجحان تعلیم، طب، مالیات، نقل و حمل سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ سب سے امید افزا پہلو صحت کی دیکھ بھال ہے، لیکن اس کے بے قابو استعمال سے انسانی خصوصیات کو چیلنج کرنے اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔

جی پی ٹی 5؍ کی صلاحیتیں اور خطرات
یہ ماڈل ملٹی اسٹیپ ریزننگ، لمبی میموری، اور ملٹی ماڈل صلاحیتیں رکھتا ہے، جو ٹیکسٹ، امیج اور ڈیٹا پروسیسنگ کو ایک ساتھ سنبھالتا ہے۔ تاہم، اگر اس ٹیکنالوجی کو مناسب کنٹرول میں نہ رکھا گیا تو یہ انسانوں کے اختیار سے نکل سکتی ہے۔

سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کا طویل مدتی ہدف مصنوعی جنرل انٹیلی جنس (AGI) ہے، یعنی ایک ایسی AI جو ہر وہ کام کر سکے جو انسان کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس پر کنٹرول نہ رکھا گیا تو خطرات ناقابلِ تلافی ہوں گے۔

عالمی ماہرین کی تشویش
2023ء کے وسط میں ماہرین نے اتفاق کیا کہ جس رفتار سے AI ترقی کر رہی ہے، یہ دنیا کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہان سمیت 350 سے زیادہ سائنسدانوں اور انجینئرز نے اس بیان پر دستخط کیے کہ "جیسے وبائی امراض اور ایٹمی جنگ کے خطرات سے نمٹنا عالمی ترجیح ہے، ویسے ہی AI سے لاحق خطرات کو بھی سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔”

مصنوعی ذہانت کے اس تیز سفر میں قوانین، ضوابط اور عالمی نگرانی وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔

اس مضمون میں پیش کئے گئے افکار وخیالات مضمون نگار کے ذاتی ہیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

yameen@inquilab.com

 

بہار میں ووٹرگھنٹوں کی بھرپور شہریت کی تصدیق: سیاسی میدان میں ہلچل

0
<b>بہار-میں-ووٹرگھنٹوں-کی-بھرپور-شہریت-کی-تصدیق:-سیاسی-میدان-میں-ہلچل</b>
بہار میں ووٹرگھنٹوں کی بھرپور شہریت کی تصدیق: سیاسی میدان میں ہلچل

بھارتی عوام کے لیے نئی ووٹر فہرست کی نئے قواعد و ضوابط پر ہنگامہ خیز بحث

بہار میں جاری خاص ووٹر نظرثانی مہم کے دوران، ووٹروں سے ان کی شہریت کی تصدیق کے لیے اضافی دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں، خاص طور پر ان افراد سے جو 2003 کی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں تھے۔ یہ اقدام ملک میں سیاسی تنازعات کا باعث بن رہا ہے، جس میں مختلف اپوزیشن جماعتیں حکومت پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ قومی شہری رجسٹر (NRC) جیسے عمل کو بغیر کسی باضابطہ اعلان یا پارلیمانی بحث کے خاموشی سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اس نئے نظام کے تحت، بھارتی الیکشن کمیشن (ECI) نے شہریت ایکٹ 1955 کے تحت ووٹروں کو تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ جن میں:

1. **یکم جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہونے والے افراد**: ان افراد کو اپنی تاریخ پیدائش یا جائے پیدائش کا ثبوت دینا لازمی ہوگا۔

2. **یکم جولائی 1987 سے 2 دسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد**: ان کو اپنے ذاتی دستاویزات کے ساتھ والد یا والدہ میں سے کسی ایک کا ایسا ہی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

3. **2 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہونے والے افراد**: ان کو والد اور والدہ دونوں کے دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ 2003 میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران ایسی شہریت کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔ اُس وقت محض ووٹر لسٹ اور فوٹو شناختی کارڈ کے درمیان فرق کو درست کیا گیا تھا۔

قابل قبول دستاویزات کی تفصیلات

مبینہ طور پر، قابل قبول دستاویزات کی فہرست میں وہ دستاویزات شامل ہیں جو کسی مرکزی یا ریاستی حکومت یا پبلک سیکٹر ادارے کے ملازم یا پنشن یافتہ شخص کو جاری کردہ شناختی کارڈ یا پنشن آرڈر پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت یا مقامی ادارے کی طرف سے جاری کردہ کوئی بھی شناختی کارڈ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، یا کسی تسلیم شدہ بورڈ یا یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ تعلیمی سند بھی شامل ہیں۔

یہ تمام اقدامات حکومت کے لیے اپنے انتخابی مقاصد کو پورا کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن کا ردعمل

اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ اقدامات کمزور طبقات جیسے اقلیتوں، دلتوں، مہاجرین اور اقتصادی طور پر کمزور افراد کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے ایک سازش ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغیر کسی عوامی مباحثے یا پارلیمانی منظوری کے ایسے دستاویزات مانگنا عام شہریوں پر بلاوجہ کا بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ یہ عمل آسام میں ہوئے NRC کی مانند ہے، جہاں لاکھوں افراد کو شہریت ثابت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بہار اسمبلی انتخابات کے تناظر میں سیاسی اثرات

بہار اسمبلی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی یہ فیصلہ اب ایک بڑی سیاسی ہلچل کا باعث بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ووٹروں کو تقسیم کرنے اور مخصوص طبقات کے ووٹنگ کے حق کو دبانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں شفافیت، وضاحت، اور انتخابی وقت کے دوران ایسے کسی بھی عمل کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے نازک معاملے جیسے شہریت کو انتخابی عمل سے نہیں جوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست میں سیاسی اور سماجی بدامنی پیدا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

حکومتی موقف

بہار کی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا گیا ہے، حالانکہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ یہ اقدامات ووٹر کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس معاملے پر میڈیا کی کئی رپورٹس شائع ہو چکی ہیں۔ جیسے کہ[The Indian Express](https://indianexpress.com/) نے اس معاملے پر تفصیلی تجزیے پیش کیے ہیں۔

مزید یہ کہ، حکومت کی جانب سے مطلع کیے بغیر اس نئے نظام کے تحت ووٹروں سے اضافی دستاویزات طلب کرنا سیاسی جماعتوں کے درمیان نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔

متوقع نتائج اور آگے کا راستہ

یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نیا نظام کیسا اثر ڈالے گا۔ لیکن اگر اپوزیشن کی طرف سے بلند کیے گئے خدشات کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے عوامی مخالفت جنم لے سکتی ہے۔

بہرحال، یہ تمام معاملہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب بھارت میں 2024 کے انتخابات کی تیاری جاری ہے، اور ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کے انتظامات سیاسی مقاصد کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

ایران کے ساتھ اسرائیل کی جنگ: ایک نیا باب

0
<h1>ایران-کے-ساتھ-اسرائیل-کی-جنگ:-ایک-نیا-باب

ایران کے ساتھ اسرائیل کی جنگ: ایک نیا باب

اسرائیل نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟

اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ حملے نے عالمی سطح پر تہلکہ مچادیا ہے۔ اس حملے کی بنیادی وجوہات میں ایران کے جوہری پروگرام کی روک تھام، علاقائی اثر و رسوخ اور طاقت کی توازن کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اسرائیل نے ایک غیر معمولی حملہ کیا جس کے تحت ایران کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیوں کیا، اور اس کے پیچھے کون سے مقاصد کارفرما ہیں؟

اسرائیل کا یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران نے پہلی بار اپنے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز سے اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ یہ ایک سنگین دھمکی تھی جس نے اسرائیل کے دفاعی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی میں امریکہ کا اہم کردار بھی ہے۔ موجودہ حالات میں، اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ سے تعاون کی امید کی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی سلامتی کو برقرار رکھ سکے۔

یہ حملہ کیسے ممکن ہوا؟

حملے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جو اس کی شدت اور اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسرائیل نے اپنے جوہری تنصیبات کے خلاف ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ حملے کیے، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔ اسرائیلی افواج نے توانائی کے مراکز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کے کئی سینئر فوجی افسران ہلاک ہوئے۔

ایران کی جوابی کارروائی ’’آپریشن وعدۂ صادق‘‘ کے تحت ہوئی، جس میں انہوں نے اسرائیل کے فوجی مراکز اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اس جواب نے اسرائیل اور عالمی برادری دونوں کو حیران کردیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کم از کم دو دہائیوں سے جاری تنازع کو مزید ہوا ملی، جس نے خطے میں ایک نئی کشیدگی پیدا کی۔

مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی تبدیلی

اسرائیل کی یہ کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ ایران کی طرف سے ملنے والی شدید جوابی کارروائی نے اسرائیل کے دفاعی نظام کی کامیابیوں پر سوال اٹھایا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے ایک طاقتور فوجی طاقت کی حیثیت سے خود کو پیش کیا ہے، لیکن ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں میں بہتری کی ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان رشتہ نہایت کشیدہ تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیمیں جیسے حماس اور حزب اللہ بھی اس تنازع میں شامل ہیں، اور ان کے ساتھ اسرائیل کی جھڑپیں جاری ہیں۔

خلاصہ

اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کا مقصد نہ صرف ایران کی جوہری استعداد کو کمزور کرنا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں اپنی طاقت کو بڑھانا بھی ہے۔ یہ ایک نازک صورتحال ہے جہاں عالمی طاقتیں بھی ایک دوسرے کے خلاف متحرک ہیں۔ ایران کے جوابی حملے نے یہ بات واضح کردی ہے کہ جدید جنگی حکمت عملیوں کا سامنا کرنے کے لیے اسرائیل کو نئے سرے سے اپنی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔

کیا یہ حالات خطے میں ایک بڑی جنگ کا سبب بن سکتے ہیں؟ یہ سوال آج بھی معلق ہے، لیکن اس حملے نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی سمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اس مضمون کی تفصیلات "انقلاب دہلی” کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر سے لی گئیں ہیں۔

ایران کے حالیہ حملوں کی شدت اور تباہی نے اسرائیل کے لئے ایک نیا چیلنج پیدا کیا ہے، جس کا اثر خطے کی سیاست پر بھی پڑے گا۔ اگر یہ تناؤ برقرار رہا تو کچھ بھی ممکن ہے۔

حملے کی پیچھے کی وجوہات اور ان کے اثرات کی مزید وضاحت کے لئے، مختلف عالمی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کا سہارا لیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق، یہ صورتحال خطے میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اسرائیل کے حالیہ حملے نے خطے میں ایک نئی جنگ کی شروعات کی راہیں ہموار کی ہیں۔

چاہے وہ امریکہ کی حمایت ہو یا خود ایران کی عسکری قوت، یہ ایک ایسے دور میں ہے جہاں ہر ملک کو اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی مستقبل میں عالمی امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

ایران اور اسرائیل کے بیچ جنگ کی نئی شدت، ہسپتال پر حملہ عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی

0
ایران-اور-اسرائیل-کے-بیچ-جنگ-کی-نئی-شدت،-ہسپتال-پر-حملہ-عالمی-اصولوں-کی-سنگین-خلاف-ورزی
ایران اور اسرائیل کے بیچ جنگ کی نئی شدت، ہسپتال پر حملہ عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی

عالمی قوانین کی پامالی: ایران کا اسرائیل کے خلاف تازہ ترین اقدامات

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں حالیہ دنوں میں ایک اہم واقعہ پیش آیا ہے: اسرائیل میں واقع ایک ہسپتال پر حملہ۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب دنیا بھر میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آیا جنگی اصولوں کی پاسداری کی جا رہی ہے یا نہیں۔ یہ صورتحال ایک بار پھر یہ بات واضح کرتی ہے کہ جنگ کے میدان میں انسانی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے حوالے سے عالمی اصولوں کی ضرورت کتنی اہم ہے۔

کیا ہوا؟ کس نے کیا؟ کہاں ہوا؟ کب ہوا؟ کیوں ہوا؟ اور کیسے ہوا؟

ایران کی فوج نے ایک اسرائیلی ہسپتال پر دھاوا بول کر دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ حملہ دراصل ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں میں تیزی لا رہا تھا، خاص طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں۔ اسرائیل کی فضائی بمباری نے ہزاروں بے گناہ شہریوں کی جانیں لی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں نے اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔ انسانیت کے بحران کے اس وقت میں، ایران نے retaliatory action (جوابی کارروائی) کے تحت ہسپتال پر حملہ کیا، جس نے عالمی برادری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ ایران کی حکمت عملی کا حصہ تھا یا محض ایک جذباتی ردعمل۔ اس کا اصل مقصد کیا تھا، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ اگرچہ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی، لیکن ہسپتال کا انتخاب اس بات کو متنازعہ بناتا ہے کہ آیا یہ ایک اصولی فیصلہ تھا یا کسی اور مقصد کے لئے کیا گیا۔

بین الاقوامی پالیسی: اسرائیل کی جارحیت کا جواب

ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ نئی متنازعہ صورتحال ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی لہر کو جنم دیتی ہے۔ اسرائیل کی جارحیت کی پالیسی نے دنیا کے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر جب اسرائیل نے اپنے ہدف میں شہریوں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو نشانہ بنایا، تو یہ طریقہ کار بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں جو بے گناہ جانیں ضائع ہوئی ہیں، وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی میں اخلاقیات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ لہذا، ایران کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ صرف اسرائیل کی دفاعی پالیسی کے جواب میں نہیں بلکہ عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی بے حسی کا بھی مظہر ہے۔

اسلامی اصولوں کے تحت جنگی اخلاقیات

اس حملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اسلامی جنگی اصولوں کے مطابق شہریوں، ہسپتالوں اور دیگر غیر عسکری مقامات کو نشانہ بنانا سختی سے منع ہے۔ ایران جیسے اسلامی ملک کی جانب سے ہسپتال پر حملہ ایک جانب جہاں انسانی حقوق کی پامالی کا باعث بنتا ہے، وہاں دوسری جانب یہ ان اسلامی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے جو جنگی اخلاقیات کے تحت شہریوں کی حفاظت کو ملتزم کرتے ہیں۔

اگرچہ ایران نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ غیر عسکری مقامات کو نشانہ بنانے کے بجائے فوجی تنصیبات کا ہونا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہسپتال جیسے حساس اداروں کو نشانہ بنانا نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی غلط ہے۔ اگر یہ حملہ دانستہ طور پر ہسپتال کو نشانہ بنا کر کیا گیا ہے تو یہ ایک ایسی قسم کی کارروائی ہے جس کی پوری دنیا میں شدید مذمت کی جائے گی۔

دوسری طرف: اخلاقی و قانونی پیچیدگیاں

ایران کی اس کارروائی کے دفاع میں بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اسرائیل بھی اپنے فوجی بنیادی ڈھانچے کو شہری آبادیوں کے درمیان چھپاتا ہے۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے عام شہریوں کی جانیں خطرے میں آتی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے کہ اسرائیل نے اپنے عسکری مقامات کو ہسپتال کے قریب قائم کیا ہے، تو ایک قسم کی اخلاقیات کے معیارات متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ایرانی فوج نے واقعی اس ہسپتال کو ایک فوجی ٹھکانے کے طور پر دیکھا ہے تو اس عمل کی وضاحت کرنا ضروری ہو گا۔

ایران کی حکمت عملی میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ یہاں ایک سخت موقف اپناتے ہوئے خود کو ایک اصولی اور مظلوم ریاست کے طور پر ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے ایران کی جانب سے احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی رائے عامہ میں ایک پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کر سکے۔

عالمی ایجنڈا: امن کی تلاش

یہ جنگ اگر بڑھتی گئی تو اس کا اثر صرف اس خطے تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس تناظر میں عالمی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض بیان بازی کی بجائے ایک واضح اور منصفانہ حکمت عملی اپنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، دونوں ممالک کو اپنے جانی نقصان اور معاشرتی اثرات کے تقاضوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایران کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے خود کو ایک اصولی اور مہمان نواز ریاست کے طور پر پیش کرے۔ اسی طرح اسرائیل کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے جارحانہ طرز عمل کو ترک کرتے ہوئے امن کی راہ اختیار کرے۔

ایران اور اسرائیل کی اس کشیدگی نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ عالمی جنگی اصولوں کی پاسداری کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وقت آگیا ہے کہ تمام فریقین اس جانب توجہ دیں تاکہ انسانی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

ایران کا معیشتی اور سیاسی بحران: آیت اللہ خامنہ ای کی غیرموثر حکمت عملی کی قیمت

0
ایران-کا-معیشتی-اور-سیاسی-بحران:-آیت-اللہ-خامنہ-ای-کی-غیرموثر-حکمت-عملی-کی-قیمت
ایران کا معیشتی اور سیاسی بحران: آیت اللہ خامنہ ای کی غیرموثر حکمت عملی کی قیمت

ایک خوفناک حقیقت: ایرانی عوام کا بحران

ایران، ایک ایسا ملک جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا، آج اپنے بحرانوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ ایرانی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، اپنے حقوق اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث سخت اضطراب میں مبتلا ہیں۔ آج کی ایرانی حکومت کی پالیسیوں پر عوام کا غصہ عروج پر ہے، اور یہ غم و غصہ ملک کی مستقبل کی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

بنیادی مسائل کی جانچ

ایران کی موجودہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی نے اسے عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں، اقتصادی دشواریوں، اور مہنگائی نے عوام کی روزمرہ زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ ایران کی معیشت حالیہ عرصے میں اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ عوام کی حالت زار بتاتی ہے کہ وہ کس قدر بے بسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنے اتحادیوں سے تعلقات کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ چین اور روس جیسے طاقتور ممالک بھی اب ایران کی حمایت کرنے میں hesitant ہیں۔ ان کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کو صرف وقتی بنیادوں پر ہی دیکھتے ہیں، جب کہ ایران کی ضرورتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

داخلی خلفشار اور عوامی عدم اطمینان

ایران کی معاشرتی اور سیاسی زندگی میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ واضح ہوتا ہے کہ لوگ اب حکومت کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ عوامی مظاہرے، جو کہ دور دور تک پھیل چکے ہیں، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی زندگی کی بہتری کے لیے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ایران میں موجود سیاسی طاقتیں، جیسا کہ پاسدارانِ انقلاب، بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب عوامی غصہ شدت اختیار کرے گا تو وہ خود قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جو کہ ایک نرم بغاوت کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی حکمت عملی کی ناکامی

آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی پالیسیوں نے نہ صرف ملکی سطح پر مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خامنہ ای کی موجودہ حکمت عملی میں مایوسی اور جمود کی کیفیت نظر آتی ہے، جو ایرانی عوام کو مزید مایوس کر رہی ہے۔

یہ بات ابکھری ہوئی ہے کہ اگر ایران نے کوئی حتمی تبدیلی نہ کی تو اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کو اب ایک نئے سپریم لیڈر کی ضرورت ہے، جو عوام کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور جو عالمی سیاست کے نئے تقاضوں کے مطابق اپنے ملک کی پالیسیوں کو ترتیب دے سکے۔

بکھرتا ہوا دفاعی نظام

ایران کے بیرونی خطرات، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملے، نے ایران کے دفاعی نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ایران کو اس وقت سخت چیلنجز کا سامنا ہے، جیسا کہ شام میں اسرائیلی حملے اور داخلی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت۔

ایران کا دفاعی نظام، جو کبھی ایک مضبوط اور بااثر صلاحیت خیال کیا جاتا تھا، اب مایوسی کا شکار ہو چکا ہے۔ ممکنہ جنگ یا کسی بھی قسم کی طاقتور کارروائی کا خطرہ اسے مزید کمزور کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کو اقتصادی اور عسکری دونوں سطحوں پر شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مذاکرات کا امکان

ایران کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔ تاہم، اس کے لیے ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی تاکہ عوامی خواہشات اور ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ نئے معاہدے یا ایٹمی ڈیل کے لیے ایرانی حکومت کو اندرونی سیاسی استحکام حاصل کرنا ہوگا، جو کہ موجودہ حالات میں ناممکن نظر آتا ہے۔

یہ تبدیلی ایران کے موجودہ لیڈر شپ کے ایک نئے نظریے پر منحصر ہے، جو عوامی جذبات کو سمجھتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مثبت تصویر پیش کر سکے۔

ایران کی مستقبل کی راہ

ایران آج ایک نازک دور میں کھڑا ہے۔ یا تو وہ اصلاحات کی جانب بڑھے گا یا پھر داخلی انارکی میں پھنس کر اپنی علاقائی حیثیت کھو دے گا۔ اس کی عظیم تاریخ اور وسائل کو ایک جدید قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو ایک نئی سمت میں لے جا سکے۔

ایران کو اب بصیرت اور دانش کی ضرورت ہے، نہ کہ نظریاتی تنگ نظری کی۔ اگر ایران نے یہ تبدیلیاں نہ کیں تو یہ اپنے عظیم ماضی کو کھو دے گا اور اس کی شناخت ان بحرانوں میں دب جائے گی جو اس نے خود پیدا کیے ہیں۔

مزید معلومات کے لئے ہماری معاشی حالت اور سیاسی چیلنجز پر نظر ڈالیں۔ اس کے علاوہ، مزید تفصیلات کے لئے دیکھیں بی بی سی اور الجزیرہ۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

کیا فلسطینیوں کی نسل کشی واقعی کبھی رکے گی؟

0
کیا فلسطینیوں کی نسل کشی واقعی کبھی رُکے گی؟
کیا فلسطینیوں کی نسل کشی واقعی کبھی رُکے گی؟

فلسطین کی نسل کشی مسلسل جاری ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جیسے امریکہ اور خطے کی اہم خلیجی مسلم ریاستیں صرف اپنے معاشی و سیاسی مفادات کے سودے کر رہی ہیں، جبکہ فلسطینی عوام کی کوئی نمائندگی، شمولیت یا آواز ان سودوں میں شامل نہیں۔

فلسطین پر حملے اور ٹرمپ کا خلیجی دورہ

جس وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے تھے، اسی دوران فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہا۔ اگرچہ یہ ظلم و ستم تقریباً 20 ماہ سے جاری ہے، غزہ کا علاقہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہاں باقی ماندہ لاکھوں افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے قبل بھی فلسطینیوں کو اندھیرے میں رکھ کر سودے کیے جا رہے تھے، اور آج 20 ماہ بعد بھی بغیر ان کی شرکت کے نت نئے منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں۔

کوئی امن کے نام پر ان کی مسلح جدوجہد کو مکمل طور پر خاموش کرنا چاہتا ہے، کوئی انہیں ان کے گھروں سے دربدر کر دینا چاہتا ہے، کوئی انخلا کا مطالبہ کر رہا ہے اور کوئی انہیں دیگر ممالک میں دھکیلنے کی سازش کر رہا ہے۔ ان سب میں ایک طرف صہیونی ظلم، طاقت اور سازشیں شامل ہیں تو دوسری طرف امریکہ جیسے عالمی "چودھری” کی سرپرستی اور مسلم مملکتوں کی مجبوری، خاموشی اور دنیاوی مفادات بھی برابر کے شریک ہیں۔

فلسطینیوں کے مستقبل کا یہ سودا ہر فریق اپنے اپنے مفاد کی عینک سے دیکھ رہا ہے — اور اصل فریق، یعنی خود فلسطینی، اس منظرنامے سے غائب ہیں۔ ایسے کسی بھی منصوبے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

خلیجی ممالک کا دورہ اور مسئلہ فلسطین پر سرد مہری

امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں خلیج کے تین ممالک کا دورہ کیا، جن میں ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔ 2017 میں بھی ان کا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب ہی تھا۔ دنیا بھر کی نظریں اس دورے پر مرکوز تھیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے اس بار صہیونی ریاست کا سفر نہیں کیا، مگر یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ فلسطینی مسئلے پر کوئی سنجیدہ اقدام کریں گے، کیونکہ سعودی عرب، قطر اور کچھ حد تک متحدہ عرب امارات اس مسئلے پر ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔

لیکن ٹرمپ کے اس دورے کا واحد مقصد تجارت، معیشت اور اسلحہ کی فروخت تھا۔ نہ مسئلہ فلسطین کے حل میں ان کی دلچسپی نظر آئی، نہ غزہ میں جاری نسل کشی روکنے میں۔

جس امریکہ کی پشت پناہی میں اسرائیل خون کی ندیاں بہا رہا ہے، کیا اس پر دباؤ ڈال کر یہ قتل عام نہیں روکا جا سکتا تھا؟ افسوس کہ ایسا نہ خلیجی ممالک نے کیا، نہ ٹرمپ نے۔

ٹرمپ نے فلسطین سے زیادہ دلچسپی ہندوستان اور پاکستان کی کشیدگی میں لی۔ انہوں نے یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ تجارت کے دباؤ سے انہوں نے ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک دیا۔ اس کا تذکرہ انہوں نے خلیجی دورے کے دوران کئی بار دہرایا۔

تو کیا سعودی عرب، قطر یا یو اے ای انہیں آمادہ نہیں کر سکتے تھے کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل کو روکے، جو ہر دن سیکڑوں بے گناہ فلسطینیوں کی جان لے رہا ہے؟

امن کا سفیر یا اسلحے کا تاجر؟

امریکہ سے امید کم ہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں کوئی قدم اٹھائے گا۔ اس کا واحد ہدف اسرائیل کا تحفظ اور فلسطینیوں کی دربدرگی ہے۔

ٹرمپ اگرچہ خود کو امن کا علمبردار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کچھ لوگ انہیں نوبل امن انعام کا امیدوار بھی سمجھنے لگے ہیں، مگر ان کے اقدامات کا رخ مختلف ہے۔

انہوں نے:

  • ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کیا

  • شام پر پابندیاں ہٹائیں

  • سعودی عرب میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی — وہی جن پر امریکہ نے 10 بلین ڈالر کا انعام رکھا تھا

  • ایران سے بات چیت اور نیوکلیائی امور پر مذاکرات کی امید بندھائی

  • روس اور یوکرین کے درمیان جنگ رکوانے کی ناکام کوشش کی

  • یوکرینی صدر زیلنسکی کو امریکہ بلا کر مذاکرات کیے

  • اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر یمن کے حوثیوں سے خفیہ ڈیل کی

  • حماس سے درپردہ مذاکرات کیے اور ایک امریکی-اسرائیلی یرغمال عیدان الیگزینڈر کی رہائی ممکن بنائی

یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ٹرمپ نے دوسری مدت صدارت میں "جنگ” کے بجائے "کاروبار” کو ترجیح دی ہے۔

اسرائیل سے فاصلہ یا وقتی تدبیر؟

صہیونی ریاست کے قیام کے بعد شاید یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے اسرائیل کو اس قدر نظرانداز کیا ہو۔
اپنے چار روزہ مشرق وسطیٰ کے دورے میں ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کی میزبانی قبول کی، مگر اسرائیل جانے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ یقیناً یہ بات نیتن یاہو کو ناگوار گزری ہوگی۔

مگر خلیجی ممالک نے اس صورتحال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

اگرچہ سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی کھلی حمایت نہیں کی، مگر اس کے باوجود ٹرمپ نے سعودی عرب سے ایک غیر فوجی نیوکلیائی معاہدہ طے کر لیا۔

خلیجی ممالک کے معاہدے اور امریکہ کا اسلحہ

اس دورے کے دوران:

  • $600 بلین ڈالر مالیت کے معاہدے کیے گئے

  • جن میں $142 بلین صرف اسلحہ کی فروخت سے متعلق تھے

  • قطر نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا

  • قطر کے شاہی خاندان نے ٹرمپ کو $400 ملین مالیت کا ایک جمبو جیٹ بطور تحفہ پیش کیا

اس کے برعکس اسرائیل اب بھی امریکہ سے سب سے زیادہ مالی امداد پانے والا ملک ہے۔ 1951 تا 2022 امریکہ نے اسرائیل کو $317.9 بلین ڈالر کی امداد دی۔

اب یہ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ اس پالیسی کو جاری رکھتے ہیں یا خلیجی ممالک سے لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔

فلسطین کے لیے موقع یا پھر خسارہ؟

اگر ٹرمپ خلیجی ممالک سے لینے اور اسرائیل کو دینے کی پالیسی برقرار رکھتے ہیں، تو خلیجی ممالک کو بھی سوچنا ہو گا کہ وہ کب تک ایسے منصوبوں کا حصہ بنے رہیں گے جن سے بالآخر فائدہ اسرائیل کو پہنچتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورے میں جس طرح اسرائیل کو نظرانداز کیا ہے، اس سے بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ صہیونی ریاست سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں — جسے نیتن یاہو کی سیاسی ناکامی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اب خلیجی ممالک کی حقیقی کامیابی تب ہو گی جب وہ اپنے تجارتی اور ذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کو بھی مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے آمادہ کریں — اور غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کو کسی بھی قیمت پر رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

_____________________________

ڈاکٹر یامین انصاری ایک ممتاز صحافی، مصنف اور روزنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔
_____________________________
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جو ضروری نہیں کہ ادارے کے خیالات یا مؤقف کی عکاسی کرتی ہو۔ — ادارے کا ان آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

قیام پاکستان تشدد سے ہوا اور تشدد پر ہی قائم ہے

0
Pakistan-tashaddud-par-qaim
Pakistan-tashaddud-par-qaim

وزیر اعظم نریندر مودی نے دوٹوک اور واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ دہشت گردی صرف کوئی عام مجرمانہ سرگرمی نہیں بلکہ ایک اعلانیہ جنگ ہے۔ بھارت نے ان دہشت گردوں کو ہدف بنا کر انصاف کا وہ چراغ روشن کیا ہے جو برسوں سے بجھائے رکھا گیا تھا۔ یہ وہ چہرے تھے جو دہائیوں سے قانونی گرفت سے باہر تھے۔

پاکستان کے سخت گیر نظریاتی جرنل سید عاصم منیر نے حالیہ کشمیر حملے کی منظوری اس فرسودہ مگر زہریلے مفروضے کو دہرا کر دی کہ اسلام ایک قوم کی بنیاد کے لیے کافی ہے۔ برطانوی سرپرستی میں پروان چڑھنے والا دو قومی نظریہ، جس نے برصغیر کی تقسیم کی راہ ہموار کی، محض 24 برس بعد ہی 16 دسمبر 1971 کو اپنے انجام کو پہنچ گیا، جب بنگلہ دیش کے عوام نے اردو کی جگہ بنگلہ کو اپنایا اور اپنی آئینی شناخت کو لسانی بنیاد پر ازسرنو مرتب کیا۔

اسلام کبھی کسی سیاسی ریاست کا واحد جواز نہیں رہا۔ اگر اسلام ہی کافی ہوتا تو 22 عرب ممالک کیوں وجود میں آتے؟ ان کے پاس تو مذہب اور زبان دونوں مشترک ہیں۔ اسلام ایک عقیدہ ہے، اسے کسی سرحد میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

1971 کے بعد پاکستان نے اپنے قیام کے نظریے کی جگہ کوئی نیا قومی بیانیہ متعارف نہیں کرایا، بلکہ ایک ایسے خلا میں چلا گیا جہاں وہ ایک پرچم تلے مختلف نسلی شناختوں کے انتشار کو قابو میں رکھنے کی لاحاصل کوشش کرتا رہا۔ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان ایک نظریاتی بھوت کو دوبارہ زندگی دینے کی سعی میں مبتلا ہے۔

دہشت گردی جو خون آلود اور دھندلی جنگ کی ایک شکل اختیار کر چکی ہے، ایک غیر مستحکم نظریاتی ریاست کا پسندیدہ اور ناگزیر ہتھیار بن گئی ہے۔ ایسی ریاست جہاں مستقل حکمرانی بدعنوان سیاست اور ناکارہ فوجی قیادت کے ایک خطرناک امتزاج پر قائم ہو، بالآخر انہی راستوں پر چلتی ہے۔ جنرل منیر نہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تاریخ اور عقل کو نظر انداز کر کے جغرافیہ تلاش کرنے کی کوتاہی کی، اور نہ ہی آخری ہوں گے۔

پاکستان نے اپنی عملی زندگی کے آغاز کے صرف دس ہفتے بعد ہی جدید دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی۔ 22 اکتوبر 1947 کو، ایچ وی ہاڈسن کے مطابق، پاکستان نے تقریباً پانچ ہزار مسلح افراد کو، جنہیں "چھٹی پر گئے” پاکستانی فوجیوں کی پشت پناہی حاصل تھی، کشمیر پر حملے کے لیے روانہ کیا، تاکہ عید (جو اُس برس 26 اکتوبر کو تھی) سے قبل وادی پر قبضہ کر لیا جائے۔ ان حملہ آوروں نے راستے میں لوٹ مار کی، قتل و غارت مچائی، اور تباہی کے وہ مناظر چھوڑے جن کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ اُن کے نظریاتی وارث آج بھی سری نگر پر قبضے کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔

پاکستان اب بھی اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ ایک ہی آزمودہ اور ناکام حکمتِ عملی کو دہرا کر وہ مختلف نتائج حاصل کر لے گا۔ مگر یہ سوچ بار بار ایک ہی انجام پر منتج ہوتی ہے: دہشت گردی، یلغار، جنگ، اور بالآخر شکست۔ اس فکری بانجھ پن پر حیرت ہوتی ہے۔ پاکستان کے مزاج میں یہ خمیر اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ وہ شکست کو کبھی تسلیم نہیں کرتا، گویا شکست بھی اُس سے شکست کھا جائے۔

بھارتی وزرائے اعظم نے ہمیشہ زیادہ حقیقت پسندانہ اہداف کو ترجیح دی ہے، جن میں عوامی فلاح کے لیے معیشت کی مسلسل ترقی بھی شامل ہے۔ مگر جب بھی انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ جنگ کو واضح اہداف کے ذریعے محدود رکھا جانا چاہیے، وہ تنقید کی زد میں آ گئے۔ دہلی مستقل جنگ کا حامی نہیں۔ پاکستان خواہ ایک بند دائرے میں قید ہو، بھارت ایک وسیع دنیا کا حصہ ہے۔

محترمہ اندرا گاندھی، جنہیں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد بی جے پی کے سرکردہ رہنما اٹل بہاری واجپئی نے دیوی درگا کے لقب سے یاد کیا تھا، اس وقت عوامی تنقید کا نشانہ بنیں جب انہوں نے 16 دسمبر 1971 کو یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔ حالانکہ بھارتی افواج اُس وقت پاکستان کو بری طرح شکست دے چکی تھیں اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں داخل ہونے کی پوری گنجائش موجود تھی، مگر اندرا گاندھی نے فیصلہ کن لمحے پر جنگ روک دی۔ حتیٰ کہ 1972 کے شملہ معاہدے میں بھی، جہاں پاکستان کے 93 ہزار جنگی قیدی بھارت کی تحویل میں تھے، انہوں نے مسئلہ کشمیر کے کسی مستقل اور ٹھوس حل پر زور نہیں دیا۔

اس کے برعکس، وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگ بندی تب قبول کی جب انہوں نے پاکستان کے جوہری اثاثوں کے بالکل قریب واقع سرگودھا پر ایک حیران کن حملہ کر کے اسلام آباد کو ایک غیر معمولی اور سخت پیغام دیا۔ بھارتی میزائل خطا نہیں کرتے۔ جیسے جیسے اس حملے کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں، بھارت کی عسکری ساکھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ہل کر رہ گیا، اور امریکہ نے پیغام بخوبی سمجھ لیا۔ اب دونوں اس امر سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ بھارت نہ صرف فوری اور مؤثر جوابی وار کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی فولاد جیسی ارادی قوت بھی کسی مصلحت کی محتاج نہیں۔ جیسا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو واضح الفاظ میں کہا: "اگلی بار انجام اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہوگا۔”

امریکہ تب ہی متحرک ہوتا ہے جب خطرہ اپنی حد سے تجاوز کر جائے۔ 1999 میں، بل کلنٹن نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو صاف الفاظ میں حکم دیا کہ وہ کارگل سے فوری طور پر پسپائی اختیار کریں۔ شریف نے امریکہ کے صدر کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ بعد ازاں اُن کے بھائی شہباز شریف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اسی عاجزانہ روش کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان اگرچہ چین کا تابع فرمان کلائنٹ اسٹیٹ ہے، لیکن ساتھ ہی وہ امریکہ کا خدمت گزار ریاست بھی ہے۔ یہ داخلی تضاد اب پاکستان کی قومی شناخت کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔

پاکستان اب ایک ایسا اسلامی ڈان کیہوتے بن چکا ہے جس کے ہاتھ میں ایٹمی نیزہ تھما دیا گیا ہے۔ 2001–2002 میں جب بھارتی پارلیمان پر دہشت گرد حملہ ہوا تو پورا برصغیر ایک ممکنہ ایٹمی تصادم کے دہانے پر جا پہنچا۔ اُس وقت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے "کولڈ اسٹارٹ” نامی حکمت عملی تیار کی، جس کے تحت بھارت کبھی بھی پہل نہیں کرے گا، لیکن اگر جواب دینا پڑا تو وہ انتہائی شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔ ایسا جوہری بادل پیدا ہوگا جو بغیر کوئی سرحد پہچانے صرف تباہ کن گا۔

2008 ممبئی حملہ کا وہ ایک موقع تھا جب بھارت نے پاکستانی دہشت گردی پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب پاکستانی سرپرستوں اور دہشت گردوں کے درمیان براہ راست روابط کے ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد دستیاب تھے اُس وقت بھی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس کمزوری کا سیاسی خمیازہ بالآخر کانگریس پارٹی کو اٹھانا پڑا۔

اس کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی محض جرم نہیں بلکہ کھلی جنگ ہے، اور اب کوئی بھی فاصلہ پیدا کرنے والا عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ گزشتہ ہفتے بھارت نے ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر انصاف کیا ہے جو کئی دہائیوں سے مطلوب تھے۔ تاہم جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا سفارتی چیلنج یہ ہے کہ ایک مؤثر انسداد دہشت گردی پروٹوکول تشکیل دیا جائے جو اس بات کا قابل اعتماد ثبوت فراہم کرے کہ آئندہ کسی بھی حملے میں پاکستانی ریاست کا کوئی براہِ راست یا بالواسطہ کردار نہیں ہوگا۔ مگر یہ وہ کام ہے جو کاغذ پر تو آسان نظر آتا ہے مگر عملی طور پر نہایت پیچیدہ اور دشوار ہوتا ہے۔

بھارت کے تقریباً ہر وزیرِ اعظم کو دہشت گردی کی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیاں خون میں ڈوبی ہوئی تھیں، جب پاکستان کے آمر اور سیاستدان اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی نے بھارت کو کمزور کر دیا ہے اور اسے ٹکڑوں میں بانٹنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ مگر وہ ایک ایسے بھارت کو سمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہے جو قرون وسطیٰ کا کوئی اتفاقی جغرافیائی حادثہ نہیں ایک ایسا ملک ہے جو جدید قومی ریاست کا عملی نمونہ ہے۔ افسوس کہ آج بھی وہ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

جنرل عاصم منیر 20 نومبر 2022 کو آرمی چیف بنے اور صرف تین دن قبل جب ان کی ریٹائرمنٹ طے تھی۔ ان کی مدت ملازمت اس برس نومبر میں مکمل ہو رہی ہے۔ دو قومی نظریے پر ان کی حالیہ تقریر سے پہلے تک ان کی قیادت خاموشی اور پردہ داری میں ڈھکی رہی۔ لیکن اکثر اوقات خاموشی میں وہ اشارے چھپے ہوتے ہیں جنہیں سننے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اب وہ کھل کر نظریاتی زبان میں گفتگو کر رہے ہیں، اور یہ تبدیلی یقیناً سیاسی نتائج کی حامل ہے۔

کیا یہ نظریاتی جارحیت کسی آئندہ مارشل لا کا پیش خیمہ ہے؟ اگر جنرل منیر کو توسیع دی گئی تو کیا یہ اس بات کا اشارہ نہیں ہوگا کہ وہ حافظ سعید کی نئی سیاسی کٹھ پتلی، "پاکستان مرکزی مسلم لیگ”، کو آئندہ انتخابات کے بعد اقتدار میں لانا چاہتے ہیں، شاید کسی مفاداتی اتحاد کے ذریعے؟ یہ امر کچھ بعید از قیاس بھی نہیں، کہ جو عناصر فرقہ وارانہ دہشت گردی کو نظریاتی سرپرستی دیتے رہے ہیں، وہی آج مسلم لیگ کے نام کو دوبارہ زندہ کر کے اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

بالآخر، پاکستان کی بنیاد کسی عوامی تحریک پر نہیں رکھی گئی تھی، بلکہ خالصتاً قتل عام اور فرقہ وارانہ خونریزی کی بنیاد پر رکھی گئی تھی جس کا آغاز 14 اگست 1946 کو کلکتہ کے عظیم فساد سے ہوا تھا۔

پاکستان کا جنم تشدد کے سائے میں ہوا، اور آج بھی صرف تشدد کے سہارے قائم ہے۔


ایم جے اکبر ایک ممتاز صحافی، مصنف اور سابق وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ہیں، جنہوں نے برصغیر کی سیاست، تاریخ اور اسلام کے عالمی تناظر پر گہرے فکری شعور کے ساتھ متعدد کتب تصنیف کی ہیں۔
_____________________________
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جو ضروری نہیں کہ ادارے کے خیالات یا مؤقف کی عکاسی کرتی ہو۔ — ادارے کا ان آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

وزیر اعظم مودی کی جانب سے فرضی خبروں کے خطرات پر کنٹرول کے لیے اہم اجلاس

0
<b>وزیر-اعظم-مودی-کی-جانب-سے-فرضی-خبروں-کے-خطرات-پر-کنٹرول-کے-لیے-اہم-اجلاس</b>
وزیر اعظم مودی کی جانب سے فرضی خبروں کے خطرات پر کنٹرول کے لیے اہم اجلاس

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں فرضی خبروں اور غلط معلومات کی بڑھتی ہوئی خطرناکی کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں کے سیکریٹریوں نے شرکت کی، اور اس کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔

اجلاس کا مقام: نئی دہلی میں واقع وزیر اعظم کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ملک کی قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت ملک کے لیے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے واضح مواصلات اور آپریشنل تیاری بہت اہم ہیں۔

اجلاس میں موجود عہدیداروں نے مختلف وزارتوں کی جانب سے موجودہ حالات کے بارے میں اپنی تفصیلات فراہم کیں۔ یہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ان کے ادارے کسی بھی ہنگامی یا غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ وزیراعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ فرضی خبروں کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ نہ صرف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرہ ڈالتا ہے۔

اجلاس کی اہمیت

اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی نے چند انتہائی اہم نکات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ یہ عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کر سکتی ہیں اور عوامی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی وزارتوں میں تیاری، مواصلاتی نظام اور ہنگامی ردعمل کے پروٹوکولز کا مکمل جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ ہم ریاستی سطح کے اداروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہیں تاکہ زمین پر بھی چوکسی برقرار رکھی جا سکے۔”

اجلاس میں سول سیکورٹی کے موجودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بروقت ردعمل کی تیاری شامل تھی۔

کون شریک ہوا؟

اجلاس میں کابینہ سیکریٹری ٹی وی سوماناتھن اور دفاع، داخلہ، خارجہ، اطلاعات و نشریات، بجلی، صحت، اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسی اہم وزارتوں کے سیکریٹریوں نے بھی شرکت کی۔ ان سب نے اپنی وزارتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا تفصیلاتی جائزہ پیش کیا، جس سے واضح ہوا کہ حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

اجلاس کے اختتام پر، وزیر اعظم مودی نے قوم کے سامنے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن تدبیر اختیار کرے گی تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

غلط معلومات کی حقیقت: کیوں ضروری ہے پوری قوم کو باخبر رکھنا؟

غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے جس کے اثرات نہ صرف سماجی استحکام پر پڑتے ہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس اجلاس میں یہ بھی واضح کیا کہ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر ایک شہری کا فرض ہے کہ وہ سچائی کی ترویج کرے اور فرضی خبروں کی نشاندہی کرے۔

اجلاس میں موجود سیکریٹریوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی وزارتوں کی سطح پر ایسے اقدام کریں گے جو کہ عوام میں شعور و آگاہی پیدا کریں۔

نئی حکمت عملی کا آغاز

اجلاس میں بڑھتی ہوئی خطرات کے پیش نظر نئی حکمت عملیوں کا آغاز کیا گیا۔ اس میں یہ طے پایا گیا کہ وزارتوں کی سطح پر تربیت سیشنز منعقد کیے جائیں گے جس میں عوامی آگاہی، سوشل میڈیا کے استعمال اور غلط معلومات سے آگاہی فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ فرضی خبریں کس طرح نفسیاتی جنگ کا حصہ بن سکتی ہیں اور ہمیں اپنی قوم کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ان کا سامنا کر سکیں۔”

اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ کس طرح سچائی کی پہچان کر سکیں اور فرضی خبروں کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

اجلاس میں جھوٹی معلومات کے خلاف آگاہی کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

آخر میں

اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلے نہ صرف عزم اور حکمت عملی کی علامت ہیں بلکہ یہ اس بات کے بھی عکاس ہیں کہ حکومت فرضی خبروں کے اثرات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔