جمعہ, اپریل 17, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 278

گرفتار شدہ ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج کی تحویل کے لئے مہاراشٹر پولیس رائے پور پہونچی

0

رائے پور میں ہوئی دھرم سنسد کے دوران مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کرنے والے ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج گرفتار

ممبئی: رائے پور میں ہوئی دھرم سنسد کے دوران مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کرنے والے گرفتار شدہ ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج کی تحویل حاصل کرنے کے لئے مہاراشٹر پولیس کا ایک خصوصی دستہ ریاست چھتیس گڑہ کے رائے پور شہر میں خیمہ زن ہے جو عدالت سے اسکی تحویل طلب کرکے اسے مہاراشٹرا لائیگا۔

تاکہ ریاست میں اسکے خلاف درج شکایات پر کاروائی کی جاسکے ریاستی وزارات داخلہ کے ذرائع نے یہ باتیں کہی۔

مہاراج کی مدھیہ پردیش میں گرفتاری

ذرائع نے یہ بھی بتلایا کہ پونہ پولیس کی ایک ٹیم کو اسوقت راے پور کے لئے روانہ کیا گیا جب اسے مہاراج کی مدھیہ پردیش میں گرفتاری کی اطلاع موصل ہوئی۔

مدھیہ پردیش کے کھجوراو شہر میں گرفتار مہاراج کو چھتیس گڑہ کے راے پور شہر کی ایک عدالت میں پیش کیا جائيگا۔ جہاں مہاراشٹرا پولیس اسکی تحویل حاصل کرنے کی درخواست دیگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ریاستی اسمبلی کے جاری سرمائی اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے یہ اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ریاستی حکومت کالی چرن مہاراج کے تبصروں کے بارے میں رپورٹ طلب کرے گی اور سخت کارروائی کرے گی۔

مہاتما گاندھی کے خلاف ان کے تبصروں کا معاملہ ریاستی اسمبلی میں این سی پی کے رکن نواب ملک نے اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ کالی چرن مہاراج کا تعلق مہاراشٹر کے اکولا سے ہے۔ نیز انہوں نے بابائے ہند مہاتما گاندھی کے خلاف جو توہین آمیز کلمات ادا کئے ہے اس پر مذہبی رہنما کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرنا چاہیے۔

مہاراج کے خلاف متعدد مقامات پر ایف آئی آر درج

مہاراشٹرا میں بھی مہاراج کے خلاف متعدد مقامات پر ایف آئی آر درج ہے جسمیں پونہ، آکولہ، تھانہ اور دیگر شہر شامل ہیں۔

کل شام ریاستی کابینی وزیر جیتیندر آہواڑ نے بھی کالی چرن مہاراج کے خلاف تھانہ پولیس میں ایف آر درج کروایا تھا۔

رائے پور میں دھرم سنسد کے دوران کالی چرن مہاراج نے کہا تھا، ”اسلام کا ہدف سیاست کے ذریعے قوم پر قبضہ کرنا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے، انہوں نے (مسلمانوں نے 1947 میں قبضہ کر لیا تھا (تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے)… وہ پہلے ایران، عراق اور افغانستان پر قبضہ کر چکے تھے۔ انہوں نے سیاست کے ذریعے بنگلہ دیش اور پاکستان پر قبضہ کیا… میں ناتھورام گوڈسے کو سلام کرتا ہوں کہ اس نے گاندھی کو مارا۔”

رائے پور پولیس نے گزشتہ دنوں مہاراج کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

ملک میں کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ

0

کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ کے درمیان، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ کے کل 13154 معاملے درج کیے گئے ہیں

نئی دہلی: ملک میں کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ کے درمیان، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ انفیکشن کے کل 13154 معاملے درج کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 9195 تھی۔

مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے جمعرات کو یہاں کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 961 لوگ اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں دہلی میں سب سے زیادہ 263، مہاراشٹر میں 252 اور گجرات میں 97 معاملے ہیں۔

اس کے علاوہ 22 ریاستوں میں 961 لوگ اومیکرون سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 320 انفیکشن سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 63 لاکھ 91 ہزار 282 کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 143 کروڑ 83 لاکھ 22 ہزار 742 کووڈ ویکسین دی گئی ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 13154 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس وقت ملک میں 82 ہزار 402 کووڈ مریض زیر علاج ہیں۔ یہ متاثرہ معاملوں کا 0.24 فیصد ہے۔ کل 9195 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اسی مدت میں 7486 لوگ کووڈ سے نجات پا چکے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 42 لاکھ 58 ہزار 778 لوگ کووڈ سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ صحت یابی کی شرح 98.38 فیصد ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 11 لاکھ 99 ہزار 252 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل67 کروڑ 64 لاکھ 45 ہزار 395 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن آج اترپردیش میں چیف سکریٹری کے ساتھ انتخابی ریلیوں کی فیصلہ کن جائزہ میٹنگ کرے گا

0

الیکشن کمیشن کا اعلی سطحی وفد اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر آج ریاست کے چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن دور کی جائزہ میٹنگ کرے گا۔

لکھنؤ: چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا کی قیادت والا الیکشن کمیشن کا اعلی سطحی وفد اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر آج ریاست کے چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن دور کی جائزہ میٹنگ کرے گا۔

اس بارے میں دی گئی سرکاری اطلاع کے مطابق کمیشن کا وفد اترپردیش میں الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف فریقوں کے ساتھ میراتھن میٹنگوں کے بعد جمعرات کو ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن میٹنگ کرےگا۔

اس سے پہلے منگل کو کمیشن کے 13 رکنی وفد نے تین روزہ جائزہ دورے میں سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے علاوہ مختلف جانچ ایجنسیوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ جبکہ بدھ کو اترپردیش کے سبھی دس بلاکس کے کمشنر اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے علاوہ سبھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر پولیس سپریٹنڈنٹ کے ساتھ میراتھن میٹنگ کرکے ضلع سطح پر انتخابی ریلیوں کی رپورٹ لی۔

واضح رہے کہ کمیشن، الیکشن کے عمل سے جڑے سبھی فریقوں سے ملے انپٹ کی بنیاد پر جمعرات کو چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن میٹنگ کرے گا۔ سمجھا جاتا ہے کہ بدھ کو ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ مقرر کئے گئے ریاست کے نئے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا جمعرات کو عہدہ سنبھالنے کے بعد اس اہم میٹنگ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

کمیشن سے ملی اطلاع کے مطابق میٹنگ کے بعد دوپہر 12 بجے چندرا پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔اس میں پچھلے تین دنوں سے جاری انتخابی جائزہ کے نتیجوں پر غور و خوض ہوگا۔

بانکا میں ایل پی جی سلنڈر میں آگ لگنے سے 05 بچوں کی موت پر نتیش غمزدہ

0

وزیر اعلیٰ نے آفات مینجمنٹ محکمہ اور ڈی ایم، بانکا کو ہلاک بچوں کے اہل خانہ کو 4-4 لاکھ روپے کی مدد دینے کی ہدایت دی ہے۔

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بانکا ضلع کے رجون بلاک علاقہ کے راجا بر گاﺅں میں ایک گھر میں ایل پی جی سلنڈر میں آگ لگنے سے 05 بچوں کی ہوئی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اور حادثہ میں ہلاک بچوں کے اہل خانہ کے تئیں اظہار ہمدردی کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ حادثہ بہت افسوسناک ہے اور میں اس واقعہ سے غمزدہ ہوں۔

وزیر اعلیٰ نے آفات مینجمنٹ محکمہ اور ڈی ایم، بانکا کو ہلاک بچوں کے اہل خانہ کو 4-4 لاکھ روپے کی مدد دینے کی ہدایت دی ہے۔

’سنسد‘ دھرم کی اور پیغام قتل و غارت گری کا؟

0
’سنسد‘ دھرم کی اور پیغام قتل و غارت گری کا؟
’سنسد‘ دھرم کی اور پیغام قتل و غارت گری کا؟

اپنی گنگا جمنی تہذیب کے لئے مشہور ہندوستان جس خطرے سے دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہے، آج وہی خطرہ خود اس کے سامنے ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا شاید ہی کسی نے تصور کیا ہوگا۔ کتنی آسانی سے اس ملک کی اصل روح کو نکالا جا رہا ہے۔ ہزاروں سال پرانی اقدار و روایات کو پامال کیا جا رہا ہے۔ کثرت میں وحدت کے تصور کو تار تار کیا جا رہا ہے۔ عدم تحمل کا کھلے عام مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ قتل عام اور نسل کشی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں مذہبی امور کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے، ان کی عبادتوں میں خلل ڈالا جا رہا ہے۔ اور اس کا سب سے خطرناک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک کے حکمران یہ سب بالکل خاموشی سے دیکھ اور سن رہے ہیں۔ بالکل ایسے، جیسے شر پسندوں اور انتہا پسندوں کو در پردہ حکمرانوں کی حمایت حاصل ہے۔ کیوں کہ یہ سب سلسلہ وار اور بہت منصوبہ بند طریقے سے ہو رہا ہے۔

دہلی سے لے کر ہری دوار تک اور ہری دوار سے لے کر رائے پور تک ہونے والی ’دھرم‘ کی ’سنسد‘ میں ملک کی اکثریت کو اقلیت سے ڈرایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان کی نسل کشی کے لئے ہتھیار اٹھانے کا حلف دلوایا جا رہا ہے۔ نہ قانون اور عدالتوں کا خوف، نہ پولیس اور انتظامیہ کا کوئی ڈر۔ تو کیا اب یہ مان لیا جائے کہ ’سرو دھرم سنبھاؤ‘، ’واسودیو کٹمبکم‘، ’گنگا جمنی تہذیب‘ اور’اتتھی دیو و بھوا‘ جیسے الفاظ ہندوستان میں بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

کوئی کارروائی نہ کرکے حکومتیں آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

اس وقت سب سے زیادہ فکر ملک کے مستقبل کی ہے۔ جو لوگ اس ملک سے واقعی محبت کرتے ہیں، یہاں کی اقدار و روایات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ایک مہذب معاشرے میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں، وہ اس وقت عجیب سی کیفیت سے دو چار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قتل و غارت گری اور ایک فرقہ کی نسل کشی کی بات کرنے والے اسی طرح کھلے عام گھومتے رہے اور بار بار اس کو دوہراتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب یہ ملک انارکی کا شکار ہو جائے گا۔ دہلی، ہری دوار اور رائے پور میں زہر افشانی کرنے والوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہ کرکے حکومتیں آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟ یہی نہ کہ کوئی بھی کچھ کرتا اور کہتا رہے، اس کا کچھ نہیں بگڑنے والا ہے۔ کوئی کارروائی نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ ایسے لوگوں کی نظر میں اب قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے نزدیک پولیس اور انتظامیہ اب بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

ملک کے حساس اور باشعور لوگوں کا ردعمل

یعنی اب تک ہندوستان دوسرے ملکوں کی مثالیں دے کر انتہا پسندی اور شدت پسندی سے دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہے، اس کے خطرات خود ہمارے سامنے ہیں۔ زیادہ دور نہ جا کر ہم اپنے پڑوسی ملک پاکستان کا حشر دیکھ سکتے ہیں۔ مذہبی جنون پر سوار کچھ طاقتوں نے دنیا بھر میں اس کی کیسی شبیہ پیش کی ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے غلبہ کے سبب ناکامی اس کا مقدر بن چکی ہے۔ لہذا اگر ہمارے ملک میں بھی انتہا پسند طاقتوں پر لگام نہیں لگائی گئی تو ہمارا مستقبل بھی تاریک ہی نظر آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے ہی صحیح ان شدت پسندوں اور تخریب کاروں کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ملک کے حساس اور باشعور لوگوں کے ذریعہ اس پر زبردست ردعمل کے اظہار کے بعد مین اسٹریم میڈیا کا ایک طبقہ بھی اب اس پر بحث کرنے لگا ہے۔

ہری دوار کی دھرم سنسد پر سخت تنقید

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہندتوادیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں متنبہ کیا ’ہندتوادی ہمیشہ نفرت اور تشدد پھیلاتے ہیں، جس کی قیمت ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی چکاتے ہیں، لیکن اب اور نہیں!‘۔ سابق آرمی چیف وید پرکاش ملک نے بھی ہری دوار کی دھرم سنسد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور متنبہ کیا کہ اس سے نہ صرف عوامی ہم آہنگی متاثر ہوگی بلکہ قومی سیکیورٹی پر بھی اس کا برا اثر پڑے گا۔

سب سے پہلے اپنی اشتعال انگیزی کے لئے مشہور سدرشن چینل کے مالک سریش چوہانکے نے ۱۹؍ دسمبر کو ملک کی راجدھانی میں ہندو یووا واہنی کے ایک پروگرا م میں لوگوں کو حلف دلایا تھا کہ وہ ہندو راشٹر کے قیام کیلئے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، وہ مریں گے بھی اور ماریں گے بھی۔ اسی طرح ہری دوار میں منعقد سہ روزہ دھرم سنسد میں نفرت کے پجاری یتی نرسنگھا نند نے مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تلواروں کو ناکافی قراردیتے ہوئے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ بہتر ہتھیار خریدیں۔ اس سہ روزہ دھرم سنسد میں سادھوؤں کے بھیس میں لوگ مسلمانوں کو قتل عام کی کھلی دھمکی اور ان کے صفائے کی متعدد شر پسندانہ تجویز پیش کرتے رہے، لیکن نہ تو ریاستی پولیس نے کوئی کارروائی اور نہ ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ اس پر بیان آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اٹھایا گیا سوال

دہلی، ہری دوار اور رائے پور میں منعقد دھرم سنسد میں مسلمانوں کو قتل عام کی دھمکی دینے والے ملزمین ہنوز آزاد ہیں اور پولیس نے ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی۔ آخر کارروائی ہو بھی تو کیسے، کیوں کہ ہری دوار کی دھرم سنسد میں جس سوامی پربودھا نند نے ہندوستان کے مسلمانوں کی میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی طرح نسل کشی اور صفائے کی تجویز پیش کی تھی، اسی سوامی کی ایک تصویر بھی وائرل ہوئی، جس میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی ان کے پاؤں چھو رہے ہیں۔ اسی لئے سوشل میڈیا پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ نفرت کے جس پجاری کے پاؤں خود ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ چھو رہا ہے، آخر اس کے خلاف کارروائی کیسے ہوگی۔

دھرم سنسد میں 20 لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی

دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور کم از کم ۲۰؍ لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دینے والی سادھوی بھی چینلوں پر اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے اس پر قائم نظر آئی۔ رائے پور میں کالی چرن نامی جس بھگوا دھاری نے نہ صرف بابائے قوم مہاتما گاندھی کے بارے میں بد کلامی کی، انھیں غدار بتایا گیا، بلکہ گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی قصیدہ خوانی بھی کی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعات ان لوگوں کے ذریعہ انجام دئے جا رہے ہیں جو اکثریتی طبقے سے ہیں اور مذہبی چولا اوڑھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم مودی ان سب پر خاموش کیوں؟

امن پسند اور انصاف پسند شہری اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ آخر معمولی واقعات پر ٹویٹ کرنے والے وزیر اعظم مودی ان سب پر خاموش کیوں ہیں؟ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنگامہ کھڑا کر دینے والے نیوز چینل کیوں خاموش ہیں؟ اتنے خطرناک منصوبوں پر عدالتیں از خود نوٹس کیوں نہیں لے رہی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کریں گے تو پائیں گے کہ واقعی شر پسندوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے پیچھے کوئی مقصد ہے۔ اس سلسلہ میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم رہنے والے پروفیسر اپووروانند کا کہنا ہے کہ ’’جو مودی بالواسطہ طور پر اور چالاکی سے کہہ رہے ہیں، وہی بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ’دھرم سنسد‘ میں کہا گیا۔ یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہو کہ اس دھرم سنسد اور بی جے پی کی سیاست میں رشتہ کیا ہے، وزیر اعظم مودی نے گجرات کے ایک گرودوارے میں بولتے ہوئے کہا ’سکھ گروؤں نے جن خطروں سے آگاہ کیا تھا، وہ آج بھی اسی شکل میں موجود ہیں‘‘۔

مودی سرکار کی خاموشی ایک بھیانک اور تاریک مستقل کی طرف اشارہ

اسی طرح سماجی کارکن یوگیندر یادو نے اس کو ملک سے حقیقی دشمنی قراردیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’میڈیا اس پر خاموش ہے، جبکہ پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی، ایسی سیاسی قیادت جو اس کو فروغ دے رہی ہے وہ پوری طرح اس ملک کو تباہ کرنے میں ملوث ہے۔ وہ نفرت انگیزی پر مبنی جرائم کو طاقت دے کر قانون کی حکمرانی کو سبوتاژ کررہی ہے۔‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی، ہری دوار اور رائے پور کی ’دھرم سنسد‘ میں جو زہر افشانی کی گئی، اس پر بی جے پی، آر ایس ایس اور مودی سرکار کی خاموشی ایک بھیانک اور تاریک مستقل کی طرف اشارہ ہے۔ پولیس، انتظامیہ اور حکمرانوں نے ضرور مایوس کیا ہے، لیکن ملک کے مستقبل کی خاطر حساس اور سنجیدہ طبقہ کو سامنے آنا ہو گا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

ممبئی: جلتی ہوئی عمارت کی چھت پر پھنسے 40 افراد کو بچایا گیا، 5 زخمی

0

ممبئی فائر بریگیڈ نے جلتی عمارت سے 40 سے زائد افراد کو زندہ بچالیا۔

ممبئی: ممبئی فائر بریگیڈ نے منگل کی صبح یہاں آگ لگنے والی عمارت کی چھت پر پھنسے 40 سے زائد افراد کو زندہ بچالیا۔

بی ایم سی ڈیزاسٹر کنٹرول کے مطابق، صبح 10.15 بجے کے قریب ممبئ کے مغربی مضافاتی علاقے کاندیولی میں واقع جن کلیان نگر میں مہاڈا کی ایک پرانی 7 منزلہ عمارت کے نچلے منزلے پر نصب کئے گئے برقی میٹر روم میں آگ لگ گئ۔

نچلے منزلے پر لگنے والی آگ کو اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو دیکھکر عمارت کے خوف زدہ مکینوں نے چھت پر جاکر پناہ لینے میں عافیت سمجھی اسکے بعد فائر بریگیڈ کو طلب کیا گیا۔

ایم ایف بی کے فائر فائٹرز نے برقی سیڑھیوں کا استعمال کرکے چھت پر پھنسے کم از کم 40 افراد کو بچایا اور جبکہ دیگر مکین آگ کا مقابلہ کرتے رہے۔

حکام نے بتایا کہ 5 افراد دم گھٹنے سے زخمی ہوئے اور انہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، جب کہ آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دہلی کے باشندے ماسک پہنے بغیر اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں: کیجریوال

0

کیجریوال نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ماسک کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں اور کہا کہ ایسا نہ کیے جانے کی صورت میں بازار بند کرنا ہوگا۔

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منگل کے روز قومی راجدھانی دہلی کے لوگوں سے کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے پیش نظر ماسک پہنے بغیر اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی۔ اور ایسا نہ کیے جانے پر بازاروں کو بند کرنے کی وارننگ دی۔

مسٹر کیجریوال نے نامہ نگاروں سے کہا کہ لوگوں کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب سامنے آنے والے زیادہ تر مریضوں میں خفیف علامات پائی جاتی ہیں، تاہم اس کے باوجود چوکنا رہنا ضروری ہے۔ دہلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مریضوں کو اسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دہلی اب کورونا وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے 10 گنا زیادہ تیار ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ جب بھی باہر جائیں، تو وہ ماسک پہنیں۔ انہوں نے بازاروں میں بغیر ماسک کے پہنچنے والے لوگوں کی وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز پر برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ماسک کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں اور کہا کہ ایسا نہ کیے جانے کی صورت میں بازار بند کرنا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے گزشتہ تین دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں 0.5 فیصد سے زیادہ اضافے کے پیش نظر گریڈڈ ایکشن پلان کے لیول-1 کو نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ "حتمی اختیار جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ یہ پابندیاں آپ کی بھلائی کے لیے ہیں”۔

لوگوں کو آمرانہ طریقے سے ڈرا کر تاریخ کو جھٹلانے کا کام کیا جا رہا ہے: سونیا

0
لوگوں کو آمرانہ طریقے سے ڈرا کر تاریخ کو جھٹلانے کا کام کیا جا رہا ہے: سونیا

سونیا گاندھی کہا کہ ملک کا عام شہری غیر محفوظ اور خوف محسوس کررہا ہے کیونکہ جمہوریت اور آئین کو درکنار کرکے صرف آمریت چل رہی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آمرانہ طریقے پر چل کر تاریخ کو جھٹلا رہی ہے اور لوگوں کو ڈرا کر گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

محترمہ گاندھی نے منگل کو یہاں کانگریس کے 136 ویں یوم تاسیس کے موقع پر کارکنوں سے کہا کہ آج ملک کی مضبوط بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور تاریخ کو جھوٹا بنا کر ہماری وراثت گنگا جمنا ثقافت کو تباہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک کا عام شہری غیر محفوظ اور خوف محسوس کررہا ہے کیونکہ جمہوریت اور آئین کو درکنار کرکے صرف آمریت چل رہی ہے۔ان حالات میں کانگریس خاموش نہیں رہے گی اور وراثت کو تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دے گی۔

کانگریس صدر نے کہا کہ عام لوگ اور جمہوریت کی حفاظت کےلئے ملک مخالفت اور سماج مخالف سازشوں کے خلاف کانگریس جدوجہد کرے گی اور ہر قربانی دےگی۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اس موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ’’ہم کانگریس ہیں- وہ پارٹی جس نے ہمارے ملک میں جمہوریت قائم کی اور ہمیں اس وراثت پر فخر ہے۔کانگریس کے یوم تاسیس کی مبارکباد۔‘‘

بابر کے ہندوستان میں حملہ سے لے کر پوری مغلیہ سلطنت، سب طاقت کا کھیل تھا نہ کہ مذہبی معاملہ

0
بابر کے ہندوستان میں حملہ سے لے کر پوری مغلیہ سلطنت، سب طاقت کا کھیل تھا نہ کہ مذہبی معاملہ

ہندوستانی مسلم حکمرانوں کی تمام جنگوں کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ جنگیں صرف اقتدار اور تخت کے لیے لڑی گئی تھیں جن میں لاکھوں مسلمان فوجی مارے گئے تھے

بابر وسطی ایشیا میں اندیجان (آج کا ازبکستان) میں پیدا ہوا اور چنگیز خان اور تیمور کی اولاد میں سے تھا۔ ایک بڑی سلطنت قائم کرنا اس کا خواب تھا۔ اس لیے اس نے سب سے پہلے وسطی ایشیا کے مسلمان حکمرانوں پر حملہ کیا۔ بابر نے ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے سمرقند اور فرغانہ کی مسلم فوجوں کو شکست دی تھی۔

ایران کے شہنشاہ اسماعیل صفوی کی مدد سے اس نے ترکستان اور شیبانیان (آج کا قزاکستان) پر قبضہ کیا اور وہاں کے مسلمان حکمرانوں کو قتل کر دیا۔ پھر بھی سمرقند اس کے ہاتھ سے نکل گیا (ان لڑائیوں میں بابر نے کتنے مسلمان مارے اس کا حساب کسی کے پاس نہیں ہے) لیکن سمرقند میں شکست کے باوجود بابر نے ہندوستان پر حکمران لودھی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

بابر کی چالاکیاں دیکھیں کہ وہ لودھی خاندان کے مسلمان حکمران پر حملہ آور تھا لیکن سپاہیوں کو بھرتی کرنے کے لیے کہہ رہا تھا کہ وہ کفار کے خلاف جہاد کرنے جا رہا ہے۔ جب کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بابر کو میواڑ کے حکمران رانا سنگرام سنگھ (رانا سانگا) نے ابراہیم لودھی کی حکمرانی پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا تھا۔ یقیناً اس جنگ کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

مغل سلطنت

جب بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو لودھی خاندان اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ سندھ اور پنجاب کو عبور کر کے دہلی کے قریب پانی پت آ گیا۔ لودھی نے بڑی فوج کے ساتھ بابر کے حملے کا مقابلہ کیا، لیکن بابر کی فوج کے پاس توپ خانہ تھا، جو ابراہیم لودھی کی ہندوستانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بابر کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، پھر بھی کوئی اس کی تعریف کرنے والا نہیں، بلکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بابر نے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے لاکھوں ہندوؤں کو قتل کیا، جب کہ تاریخ کہتی ہے کہ وسطی ایشیا سے لے کر ہندوستان تک بابر نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔

بابر کے ہاتھوں لودھی خاندان کے خاتمے کے بعد، 1526 میں ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی، جو کسی نہ کسی طریقے سے 1857 تک قائم رہی۔ بابر کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں تخت پر بیٹھا لیکن اسے ایک مسلمان جنگجو شیر شاہ سوری نے معزول کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ شیر شاہ سوری نے ساسارام (بہار) کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ وہ سب سے پہلے کولکاتا سے کابل تک سڑک بنانے والے تھے۔ اس نے روپیہ نامی کرنسی متعارف کروائی لیکن وہ اپنے سے پہلے حکمرانوں کے بنائے ہوئے شہروں اور قلعوں کو تباہ کرنے میں بھی بہت آگے تھا۔

کسی بھی جنگ کا تعلق مذہب سے نہیں تھا

شیر شاہ سوری نے 1540ء میں قنوج کے قریب جنگ میں مغل فوج کو شکست دی، جس کے بعد ہمایوں کو اپنی جان بچانے کے لیے ایران فرار ہونا پڑا اور وہاں 15 سال تک رہنا پڑا، بعد میں وہ شاہ تمس صفوی کی مدد سے سوری خاندان میں شامل ہو گیا۔ اسے ختم کرنے کے بعد 1555ء میں وہ دوبارہ بابر کے تخت پر بیٹھ سکتا تھا۔ ان تمام جنگوں کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، صرف تخت کی جنگ تھی جس میں مسلمان سپاہی مارے گئے تھے۔

ہمایوں کی موت 1556 میں پرانے قلعے میں لائبریری کی سیڑھیوں سے گرنے سے ہوئی۔

ایک مغل بادشاہ کا مقبرہ اور حضرت نظام الدین اولیاء کا مقبرہ

شہنشاہوں پر مسلمانوں پر ٹیکس لگانے کا الزام لگانے والوں کو دہلی میں متھرا روڈ کا چکر لگانا چاہیے۔ اس سڑک کے بائیں جانب ایک مغل بادشاہ کی قبر ہے اور اسی سڑک کے دائیں کنارے پر ایک پیر کی قبر ہے جسے دنیا حضرت نظام الدین اولیاء کے نام سے یاد کرتی ہے۔ دونوں مقبروں میں آپ کو بڑا فرق نظر آئے گا، کسی مقبرے کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے سیاح ٹکٹ لے کر آتے ہیں، لیکن کوئی سیاح اس شہنشاہ کی قبر پر پھول تک نہیں رکھتا جس کے راستے میں پھول چڑھائے گئے، جب کہ دوسری طرف روڈ حضرت نظام الدین کے مزار پر روزانہ سینکڑوں پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔ ہزاروں لوگ سر جھکانے آتے ہیں۔ وہاں آپ کو ہندوؤں سے لے کر سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ملیں گے۔

کوئی مسلمان کسی بادشاہ کی قبر پر تعزیت کرنے نہیں جاتا اور ایک پیر کی قبر پر مسلمانوں کا ہجوم ہوتا ہے جو انسانوں سے محبت کا درس دیتا ہے، یہ فرق ہندوستانی مسلمانوں کو بابر کہنے والوں کی ذہنیت پر ایک شدید حملہ ہے۔

ہمایوں کی جنگ میں مسلمان سپاہیوں کا خون بہا، ہندوؤں کا نہیں

جب ہمایوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور دوبارہ اقتدار سنبھالا تو انہوں نے سوری خاندان کے لیے لڑنے والے مسلمان سپاہیوں کا خون بہایا، ہندوؤں کو نہیں مارا کیونکہ اس کے سامنے صرف ایک مسلمان فوج تھی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی لڑائی ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ اقتدار کی جنگ تھی۔ اگلے حصے میں ہم اکبر کے بارے میں بات کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

دہلی کا تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول رنگا رنگ رقص پیشکشوں اور سوشل نائٹس کے ساتھ اختتام پذیر

0
دہلی کا تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول رنگا رنگ رقص پیشکشوں اور سوشل نائٹس کے ساتھ اختتام پذیر

 

تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول اتوار کو IFBC اسٹوڈیو، ساکیت، نئی دہلی میں مختلف لاطینی رقص پرفارمنس کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، اس کے بعد سمر ہاؤس کیفے، حوض خاص دہلی میں دیر رات سوشل رقص ہوا۔ یہ 24 سے 26 دسمبر تک سوشل نائٹس اور پرفارمنس نائٹس کا مکمل جشن تھا۔

نئی دہلی: اس میلے کا اہتمام ‘لیڈ اینڈ فالو’ (Lead and Follow) کے ذریعے کیا گیا تھا، جس کے سربراہ مشہور افریقی-لاطینی رقاص اور رقص کے استاد جناب سورج ہیں، اور افریقی و لاطینی رقص کے میدان میں مشہور افریقی-لاطینی رقص کے لیے مشہور ہے۔

دہلی این سی آر میں ڈانس اسکول لیڈ اینڈ فالو انڈیا نے اس دلچسپ تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول کا اہتمام کیا جس کا عنوان تھا ‘لیڈ او لاٹینو’ (Lead O’Latino)، جسے دہلی میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ڈانس میلہ مانا جا رہاہے۔

اس تقریب میں ملک بھر سے بہت سے انتہائی باصلاحیت پیشہ ورانہ ڈانس اساتذہ نے شرکت کی جنہوں نے 200 سے زائد شرکاء کو 18 گھنٹے سے زیادہ کی گہری تربیت فراہم کی۔

انٹرایکٹو اور تفریحی سیشنز کے ساتھ، میلے میں مسابقتی مقابلہ، کنسرٹ، چیمپئن شپ، سوشل نائٹس اور بہت کچھ شامل تھا۔

اس تقریب میں افریقی-لاطینی رقص کی وسیع اقسام کا احاطہ کیا گیا تھا، جو پرمغز لاطینی ثقافت کی عکاسی کرتا تھا۔

اس ک علاوہ دہلی کے باہر سے آنے والوں کے لیے جشن کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے، منتظمین نے "قیام و طعام پاس” (stay and food pass) کے لیے کچھ زبردست ڈیلز بھی فراہم کیے تھے۔

ساکیت میں واقع دہلی کے ایک بہترین مقام کو "فیسٹیول کی ورکشاپس اور سوشل نائٹس” کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور تمام پروگرام 500 میٹر کے دائرے میں منعقد کیے گئے۔

یہ ایک پُرجوش اور سنسنی خیز یادگار جشن رہا جسے میں شرکاء کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا قرار دیا جارہا ہے اور جسے روح کی غذا ہونے کے حوالے سے واقعی منفرد کہا جا سکتا ہے۔