پیر, اپریل 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 275

ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز

0
ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز
ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز

ملک کی 28 ریاستوں میں 4461 افراد کووڈ کی نئی شکل اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1247 مہاراشٹرا میں، 645 راجستھان میں اور 546 دہلی میں ہیں۔

نئی دہلی: گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 92 لاکھ سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مجموعی ویکسینیشن 152.89 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے منگل کو یہاں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 90 لاکھ 7 ہزار 700 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 152 کروڑ 89 لاکھ 70 ہزار 294 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ وائرس کے ایک لاکھ 68 ہزار 63 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد آٹھ لاکھ 21 ہزار 446 ہو گئی ہے۔ یہ متاثرہ کیسز کا 2.29 فیصد ہے۔ یومیہ کیسز کی شرح 10.64 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ملک کی 28 ریاستوں میں 4461 افراد کووڈ کی نئی شکل اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1247 مہاراشٹرا میں، 645 راجستھان میں اور 546 دہلی میں ہیں۔ اومیکرون سے 1711 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ اسی مدت میں 69959 لوگوں کو کووڈ سے شفایاب ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 45 لاکھ 70 ہزار 131 لوگ کووڈ سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور یہ شرح 96.36 فیصد ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 15 لاکھ 79 ہزار 928 کووڈ ٹسٹ کیے گئے ہیں اور اب تک کل 69 کروڑ 31 لاکھ 55 ہزار 280 کووڈ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

سپریم کورٹ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر پر فوری سماعت کے لیے رضامند

0

مسٹر سبل نے عرضی میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کو بہت اہم معاملہ قرار دیا اور جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ملک میں ‘ستیہ میو جیتے‘ کے نعرے بدل چکے ہیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہری دوار اور دہلی میں ’دھرم سنسد‘ کے پروگراموں میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف کی گئی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق عرضیوں کی جلد سماعت کی عرضی پیر کو قبول کر لی۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ کے سامنے ’خصوصی تذکرہ‘ کے تحت سینئر وکیل کپل سبل نے پی آئی ایل پر جلد سماعت کی مانگ کی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور سینئر وکیل انجنا پرکاش، سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور دیگر کی درخواستوں پر تیزی سے سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔ مسٹر سبل کی بات سننے کے بعد بنچ نے کہا ’’ہم اس کا جائزہ لیں گے‘‘۔

مسٹر سبل نے عرضی میں مسلمانوں کےخلاف اشتعال انگیز تقریر کو بہت اہم معاملہ قرار دیا اور جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ملک میں ‘ستیہ میو جیتے‘ کے نعرے بدل چکے ہیں۔

ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں

بنچ نے مسٹر سبل سے پوچھا کہ کیا کوئی تحقیقات ہو رہی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے اور لگتا ہے عدالت کی مداخلت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

خیال رہے گزشتہ سال 17 اور 19 دسمبر کو دہلی اور ہری دوار میں منعقدہ دو الگ الگ پروگراموں میں ہندو یووا واہنی کی طرف سے ‘دھرم سنسد‘ پر مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزامات ہیں۔ درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ کئی ہندو مذہبی رہنماؤں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کال دی تھی۔

وکلاء، صحافیوں اور کئی سماجی کارکنوں کی طرف سے دائر درخواستوں میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عرضی داخل کرنے والوں میں سابق جج خورشید، سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور پرشانت بھوشن شامل ہیں۔

ونکیاہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی وینکیا نائیڈوکی اپیل

0
ونکیاہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی وینکیا نائیڈوکی اپیل

ایم ونکیا نائیڈو نے بیرون ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔

نئی دہلی،: نائب صدر ایم ونکیا نائیڈو نے اتوار کو بیرون ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی عالمی فلسفے کے حقیقی نمائندے ہیں ’پرواسی بھارتیہ دوس‘ کے موقع پر یہاں جاری ایک پیغام میں مسٹر نائیڈو نے کہا کہ آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پراین آر آئیز کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں حصہ لے کر تعاون کرنا چاہیے انہوں نے کہا ’’پرواسی بھارتیہ دوس پر بیرون ممالک میں مقیم ہندوستانی بہنوں اور بھائیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتا ہوں، میں آپ کے روشن اور صحت مند مستقبل کیلئے دعا گو ہوں۔ آپ ہندوستانی عالمی فلسفہ کے حقیقی نمائندے ہیں‘‘۔

دین الٰہی اور شہنشاہ اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش

0
دین الٰہی اور شہنشاہ اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش
دین الٰہی اور شہنشاہ اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش

‘صلح کل’ کی پالیسی میں ‘دین الٰہی’ کا جوہر موجود تھا جسے اکبر نے نہ صرف مذہبی مقاصد کے لیے بلکہ عام سامراجی انتظامی پالیسی اور اپنی مذہبی رواداری کے ایک حصے کے طور پر اختیار کیا تھا

مغل حکمران جلال الدین اکبر 1542 میں ہندوستان کے صوبہ سندھ کے امر کوٹ کے علاقے راجپوتانہ میں پیدا ہوئے۔ یعنی وہ پیدائشی طور پر ہندوستانی تھے۔ چوں کہ ان کی پیدائش اور پرورش ہندوستان میں ہوئی تھی، اس لیے انہوں نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی مخلوط ثقافت کا اکبر پر ایسا اثر ہوا کہ اقتدار ملنے کے بعد انہوں نے تمام مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش شروع کر دی۔

اکبر نے ہندوستان کے مستقبل کو سب کے ساتھ مل جل کر رہنے سے منسلک کیا اور ہم وطنوں کے سامنے صلح کل (سب کے ساتھ امن اور ہم آہنگی) کا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے ‘دین الٰہی’ کے نام سے ایک پہل کی اور ہندوستان میں سب سے پہلے فتح پور سیکری میں سرو دھرم سبھا کے انعقاد کے لیے ایک خصوصی عبادت خانہ بنا کر ایک نئی مثال قائم کی گئی۔

انہوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ جمع کر مذہبی اتحاد قائم کرنے کی انوکھی کوشش کی۔ 580 سال قبل اکبر کی مذہبی اتحاد قائم کرنے کی اس کوشش کی مخالفت اور حمایت دونوں طرح کے ردعمل سامنے آئے تھے۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اکبر نے دنیا کے سامنے ایک نیا مذہب پیش کیا ہے، جب کہ کچھ مورخین کی رائے ہے کہ دین الہی کے ذریعے نئے مذہب کو متعارف کرانے کی بات غلط ہے۔

‘دین الٰہی’ کی تعبیر ایک الگ مذہب کے طور پر کرنا غلط

وکی پیڈیا میں دین الٰہی کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ "دین الٰہی سے متعلق ایک نیا مذہب ہونے کا نظریہ ایک غلط فہمی ہے جو بعد کے برطانوی مورخین کی طرف سے ابوالفضل کے کاموں کے غلط ترجمانی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

تاہم، یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ دین الٰہی کے جوہر پر مشتمل صلح کل کی پالیسی کو اکبر نے نہ صرف مذہبی مقاصد کے لیے بلکہ عام شاہی انتظامی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر اختیار کیا تھا اور اور مذہبی ہمدردی کی اپنی پالیسی کی بنیاد بنائی۔

1605 میں اکبر کی وفات کے وقت ان کی مسلم عوام کے درمیان عدم اطمینان کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے، اور حضرت عبدالحق (شیخ عبدالحق محدث دہلوی) جیسے عالم دین سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اکبر سے ان کے قریبی تعلقات برقرار رہے۔

دین الٰہی کی تردید

تاہم صوبہ بنگال کے قاضی اور مشہور مذہبی رہنما احمد الفاروق سرہندی نے اکبر کے دین الٰہی کے خیال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اسلام مخالف قرار دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بعض مسلم علمائے کرام کا خیال تھا کہ اکبر ایک نئے دین کی تشکیل دے رہے ہیں، جب کہ عام لوگوں کا خیال تھا کہ اکبر کی کوشش صرف اس بات کی تھی کہ عوام ایک دوسرے کے مذہب کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مذہبی نظریات کو سمجھیں اور ان کا احترام کرنا سیکھیں۔

انہوں نے تمام مذاہب کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی نہ کہ اختلاط کی۔ اکبر کی یہ کوشش فتح پور سیکری کی عظیم الشان عمارتوں سے آگے نہ بڑھ سکی، لیکن کم از کم ایسا ضرور ہوا کہ ہندوستان کے لوگوں کو پہلی بار سیکولرازم کے نقطہ نظر سے آشنا ہونے کا موقع ملا۔

اکبر کے دل میں صوفی بزرگوں کی عظمت

اکبر کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ صوفی بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے، انہوں نے اجمیر شریف میں خواجہ اجمیریؒ کے مزار پر متعدد بار حاضری دی اور فتح پور سیکری میں شیخ سلیم چشتیؒ کے مزار کے گرد پنچ محل کے نام سے ایک عمارت بھی بنوائی۔

کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کو صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتیؒ کی دعاؤں کی برکت سے اولاد نرینہ یعنی بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اس لیے اکبر نے اپنے پہلے بیٹے کا نام سلیم رکھا۔ اکبر کے بعد ان کا بیٹا نورالدین محمد سلیم جہانگیر کے نام سے تخت پر بیٹھا۔

جہانگیر اور ایسٹ انڈیا کمپنی

جہانگیر کے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں قدم رکھا اور ہندوستان میں قدم جمانے کے لیے جہانگیر کو انتہائی مہنگی غیر ملکی شراب پلا کر ان کا دل جیت لیا۔ جہانگیر کے دور میں پرتگالی فوج نے ہندوستانی زائرین سے بھرا ہوا رحیمی نامی جہاز کو یرغمال بنالیا لیا جس کے بعد جہانگیر نے پرتگالیوں کے زیر قبضہ شہر دمن کا قبضہ کرلیا اور ملک میں موجود تمام پرتگالیوں اور ان کے گرجا گھروں کو گرانے کا حکم دیا۔

جہانگیر کو اپنے بیٹوں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اپنے بڑے بیٹے خسرو مرزا کو جیل بھیجنا پڑا اور پھر اپنے دوسرے بیٹے شہزادہ خرم (شاہجہاں) سے بھی لڑنا پڑا (اس بارے میں مزید تفصیلات اگلے حصے میں فراہم کی جائیں گی)۔

جہانگیر نے اس وقت کے شیعہ اور سنی علمائے کرام کو بھی پریشان کیا۔ شیعہ عالم قاضی نور اللہ شستری کو جھوٹے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ کے عہدے سے نوازا تھا۔ دوسری طرف اس نے معروف سنی عالم دین احمد الفاروق سرہندیؒ کو کافی تشدد کا نشانہ بنایا تھا، یہاں تک کہ انہیں قید بھی کیا تھا۔

ویسے جہانگیر کو مذہب سے کم اور شراب، کباب اور شباب میں زیادہ دلچسپی تھی۔ انہوں نے ہی انگریزوں کو ہندوستان میں پہلی فیکٹری لگانے کی اجازت دے کر مغل حکومت کی تباہی کی کہانی کا پہلا باب لکھا تھا۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ 2021 کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

0
 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ 2021 کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی
 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ 2021 کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ کے عمل میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے پوسٹ گریجویٹ کلاس میں داخلہ لینے والے امیدوار ڈاکٹروں کا مسلسل احتجاج جاری تھا۔ بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے عدالت سے اس معاملے پر جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو میڈیکل کے پوسٹ گریجویٹ کورس میں معاشی طور پر کمزور طبقہ (ای ڈبلیو ایس) کو دس فیصد اور دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) کو 27 فیصد ریزرویشن کے ساتھ قومی اہلیتی داخلہ ٹسٹ 2021 (نیٹ پی جی) کی کاؤنسلنگ کی اجازت دے دی۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور اے ایس بوپنا کی بینچ نے اپنے حکم میں او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن برقرار رکھا، لیکن کہا کہ ای ڈبلیو ایس امیدواروں کے لیے مقررہ آٹھ لاکھ روپے سالانہ آمدنی معیار زیر التوا عرضیوں کے آخری نتیجے کے دائر میں ہوگا۔

تین رکنی اجے بھوشن پانڈے کمیٹی کی سفارشات منظور

عدالت عظمیٰ کی بینچ نے اپنے آخری حکم میں واضح کیا کہ اس نے اس سال کے لیے اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لیے آمدنی معیار کو جاری رکھنے کے لیے مرکزی حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ تین رکنی اجے بھوشن پانڈے کمیٹی کی سفارشات منظور کرلی ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے جمعرات کو عرضی دہندگان اور ریزرویشن کی حامی مرکزی حکومت کا موقف تفصیل سے سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے آج کے فیصلے کے ساتھ ہی نیٹ پی جی 2021 نتائج کی بنیاد پر داخلہ کے لیے جلد کاؤنسلنگ کا عمل آگے بڑھانے میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں۔

کمزور طبقوں کے خاندان کے لیے 8 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کی حد مقرر

ریاستی سرکاری میڈیکل کالجوں میں آل انڈیا کوٹہ کی نشستوں میں معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے ریزرویشن کا معیار طے کرنے پر جاری تنازع کی وجہ سے کاؤنسلنگ کا عمل رک گیا تھا۔ مرکزی حکومت نے اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے خاندان کے لیے 8 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کی حد مقرر کی ہے۔

بنچ ان معیار کو طے کرنے کے طریقہ کار کو تفصیلاً جاننا چاہتا تھا۔ اس کے پیش نظر مرکزی حکومت نے 30 نومبر 2021 کو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے 31 دسمبر کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے حال ہی میں ایک حلف نامہ داخل کرکے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ای ایس ڈبلیو امیدواروں کے لیے 8 لاکھ روپے کی حد مناسب ہے۔

عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کی

کاؤنسلنگ کے عمل میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے پوسٹ گریجویٹ کلاس میں داخلہ لینے والے امیدوار ڈاکٹروں کا مسلسل احتجاج جاری تھا۔ بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے عدالت سے اس معاملے پر جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کی۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ حکومت نے وسیع مشاورت اور ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد ریزرویشن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے عام زمرے کے طلباء کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

سماعت کے دوران مسٹر مہتا نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ موجودہ معاملے میں اگر خاندان کے تین افراد کو سالانہ 3-3 لاکھ روپے ملتے ہیں تو ان کی آمدنی 9 لاکھ روپے سمجھی جائے گی اور وہ ا ی ڈبلیو ایس زمرہ کے تحت نہیں آئیں گے۔

گوا: بی جے پی کے وفد نے پنجاب کانگریس حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا

0
گوا: بی جے پی کے وفد نے پنجاب کانگریس حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا

پرمود ساونت کی قیادت میں (بی جے پی) کے ایک وفد نے گورنر پی ایس سری دھرن پلئی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں لاپروائیوں پر پنجاب کانگریس حکومت کو برخاست کرنے کی اپیل کی ہے۔

پنجی: گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک وفد نے گورنر پی ایس سری دھرن پلئی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں لاپروائیوں پر پنجاب کانگریس حکومت کو برخاست کرنے کی اپیل کی ہے۔

سرکاری ذرائع نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔

جمعرات کی شام صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ساونت نے کہا “یہ ملک کی تاریخ میں اس طرح کا پہلا واقعہ ہے۔ جب ایک ریاستی حکومت جو وزیر اعظم کو سیکورٹی نہیں دے سکتی تو ہم عام لوگوں کی حالت کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ سکتے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گورنر سے صدر کی مداخلت طلب کی ہے اور کانگریس حکومت کو برطرف کرکے پنجاب میں صدر راج نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔

وفد میں بی جے پی گوا یونٹ کے صدر سدانند شیٹ تانڈوے، ریاستی محصولات کی وزیر جینیفر مونسی راٹے، این آر آئی کمشنر نریندر سوائیکر، ایم ایل اے ٹونی فرنانڈس اور دیگر شامل تھے۔

میرے خواب میں صرف کورونا کے ستائے ہوئے متاثرین آتے ہیں: اویسی

0

اویسی نے اکھلیش کے خواب میں کرشن بھگوان اور یوگی کے خواب میں شری رام کے آنے کے دعوی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ان کے خواب میں صرف کورونا کے ستائے ہوئے متاثرین آتے ہیں۔

مرادآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر و حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اکھلیش یادو کے خواب میں کرشن بھگوان اور یوگی آدتیہ ناتھ کے خواب میں شری رام کے آنے کے دعوی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ان کے خواب میں صرف کورونا کے ستائے ہوئے متاثرین آتے ہیں۔

اویسی گذشتہ دو دنوں سے مرادآباد میں مقیم تھے اور رائے بریلی روانہ ہونے سے پہلے میڈیا نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو دن میں ہی منگیریلال کے حسین سپنے نظر آ رہے ہیں۔

حیدرآباد سے رکن پارلیمان نے کہا کہ اکھلیش یادو کو آج کل سپنے میں کرشن بھگوان آ رہے ہیں اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سپنے میں شری رام۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ سپنے تو ’ٹین ایجرس‘ کو آتے ہیں۔ ایم آئی ایم لیڈر نے دونوں لیڈروں کے حکومت بنانے کے دعوی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بغیر وقت گنوائے راج بھون جا کر گورنر سے مل کر حلف کیوں نہیں لے لیتے؟

سیاست میں مسلمانوں کے شراکت داری کا ڈاٹا تیار کرنے اور جلد ہی اسے لکھنؤ سے شائع کرنے کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اترپردیش کے مسلمانوں کی سیاست میں شراکت داری اس بار کتنی ہوگی اس سلسلے میں ایکسپرٹس سے ہر طرح کا ڈاٹا تیار کرایا گیا ہے۔ جلد ہی کھلے اسٹیج سے اسے شائع کیا جائے گا۔

اکبر اور مہارانا کے درمیان ہلدی گھاٹی کی جنگ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی

0
اکبر اور مہارانا کے درمیان ہلدی گھاٹی کی جنگ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی
اکبر اور مہارانا کے درمیان ہلدی گھاٹی کی جنگ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی

اکبر کے خلاف پروپیگنڈے کی بنیادی وجہ ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں میواڑ کے بہادر مہارانا پرتاپ کے ساتھ اکبر کی فوجوں کا تصادم ہے

اکبر اور دین الٰہی کا دور

ہمایوں کے بعد اس کا بیٹا جلال الدین اکبر تخت پر بیٹھا۔ اکبر ملک کا پہلا حکمران تھا جس نے اس ملک کے مختلف مذاہب کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کو آمنے سامنے بٹھانے اور بات چیت کرنے کی پہل کی۔

اکبر نے اس ملک میں سب سے پہلے سیکولرازم کی بات کی۔ انہوں نے دین الٰہی کے نام سے ایک نظریہ دنیا کے سامنے رکھا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ تمام مذاہب کا ماخذ ایک ہی ہے۔ اس کے بعد بعض مسلم علمائے کرام نے اکبر کو کافر بھی کہا اور ان پر اسلام کے سامنے ایک نئی شریعت لانے کا الزام لگایا، جب کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دین الٰہی کوئی نئی شریعت یا کوئی نیا مذہب نہیں تھا، بلکہ تمام مذاہب کو ساتھ لے کر چلنے کی ایک کوشش تھی۔

اپنی سیکولر پالیسیوں کی وجہ سے اکبر نے ملک کے بڑے بڑے ہندوؤں کا دل جیت لیا اور انہیں اپنے ساتھ لے لیا۔ راجہ مان سنگھ، راجہ ٹوڈر مل اور راجہ بیربل اس کے نورتنوں میں شامل تھے اور ان کی فوج ہزاروں ہندو سپاہیوں پر مشتمل تھی۔

معرکۂ ہلدی گھاٹی

اکبر کے خلاف پروپیگنڈے کی واحد وجہ ہلدی گھاٹی کے میدان میں میواڑ کے بہادر ویر مہارانا پرتاپ کے ساتھ اکبر کی فوجوں کا تصادم ہے۔ ہلدی گھاٹی کی لڑائی کو بہت سے لوگ ہندو مسلم کے چشمے سے دیکھتے ہیں، جب کہ اس معرکہ میں مذہب نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔

اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مہارانا پرتاپ کی فوج سوری خاندان کے پٹھان لیڈر حکیم خان سوری کی قیادت میں آمنے سامنے تھی اور راجپوت راجہ مان سنگھ کی کمان میں اکبر کی فوج تھی۔ قابل ذکر ہے کہ شیر شاہ سوری کی اولاد حکیم خان سوری کے ساتھ 10 ہزار پٹھان سپاہی مہارانا پرتاپ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ اور جو بڑی فوج راجہ مان سنگھ کے ساتھ میواڑ کی فوج سے لڑنے آئی تھی، اس میں آدھے سے زیادہ فوجی ہندو تھے۔

حکیم خان اور مہارانا پرتاپ کی قربانی

خاص بات یہ ہے کہ مہارانا پرتاپ کو حکیم خان سوری پر اتنا بھروسہ تھا کہ انہوں نے حکیم خان کو اپنا خزانچی بنا لیا تھا۔ حکیم خان سوری نے مہارانا پرتاپ پر اپنی جان قربان کردی تھی لیکن اس قربانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سال 28 جولائی (28 جولائی 2021) کو کچھ فرقہ پرست عناصر حکیم خان سوری کے مقبرے میں گھس گئے۔

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس ملک کو فرقہ پرستی کا اکھاڑا بنا رکھا ہے وہ ہندو مسلم اتحاد کی کوئی علامت برداشت نہیں کر پاتے۔ یہ عناصر مہارانا پرتاپ کی تعریفیں گاتے ہیں، لیکن مہارانا پرتاپ کے لیے اپنی جان دینے والے ایک بہادر مسلمان جنگجو کی قبر ان سے نظر نہیں آتی۔

ایک اہم تاریخی واقعہ یہاں لکھتا چلا جاؤں تو اچھا ہو گا۔ جب مہارانا پرتاپ کے بیٹے امر سنگھ نے ہندی کے مشہور شاعر رحیم (عبدالرحیم خان خان، اکبر کے نورتنوں میں سے ایک) کو قید کیا تو مہارانا پرتاپ بیٹے سے بہت ناراض ہوئے اور رحیم اور اس کے خاندان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ اس کے بعد رحیم نے مہارانا پرتاپ کی تعریف میں کچھ اشعار بھی لکھے۔ کیا یہ اس ملک کے ہندو مسلم اتحاد کی تاریخ میں قابل فخر واقعہ نہیں؟

ملکہ چاند بی بی اور اکبر کی جنگ

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر اکبر سے محاذ آرائی حب الوطنی کی دلیل تھی تو ان طاقتوں کی بھی تعریف کی جانی چاہیے جنہوں نے مسلمان ہونے کے باوجود اکبر کو للکارا، ان طاقتوں میں سے ایک جنوبی ہند کی سلطنت بیجاپور کا مسلمان بھی تھا۔ خاتون حکمران چاند بی بی جس نے اکبر کی بڑی فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا لیکن چاند بی بی کا ذکر آپ نے کم ہی سنا ہوگا۔

جن لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جب اکبر نے 1591ء میں جنوب کی چاروں سلاطین کو مغلیہ سلطنت کے ساتھ الحاق کرنے کا حکم بھیجا تو مسلمانوں کی ان چھوٹی حکومتوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔

اس احتجاج کا سب سے زیادہ منہ توڑ جواب چاند بی بی کی طرف سے بھیجا گیا اور اس نے مغل کی بڑی فوج کے سامنے بھی ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ چاند بی بی نے تقریباً 9 سال تک مغل فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ظاہر ہے کہ اس جنگ میں مذہب کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک مسلم سلطنت کا دوسری سلطنت سے ٹکراؤ تھا۔ لیکن جہاں کہیں کسی مسلمان حکمران اور ہندو حکمران کے درمیان جنگ ہوتی ہے وہاں مذہب کے نام پر تاریخ سے کھیلنے والے نت نئی کہانیاں بنانے لگتے ہیں۔

اگلے حصے میں ہم اکبر کے دین الٰہی اور صلح کل کی مخالفت پر بات کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

جنرل راوت کا ہیلی کاپٹر اچانک گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا تھا

0

جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر گزشتہ ماہ گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں کسی تکنیکی خرابی یا تخریب کاری کی سازش نہیں تھی۔

نئی دہلی: ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر گزشتہ ماہ گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں کسی تکنیکی خرابی یا تخریب کاری کی سازش نہیں تھی۔

اس حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کورٹ آف انکوائری نے بدھ کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں یہ بات کہی ہے۔ 8 دسمبر کو کنور کے نزدیک اس حادثے میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 12 دیگر فوجی اہلکاروں کی موت ہوگئی تھی۔

ذرائع کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے لیے تینوں سروسز کے افسران کی مشترکہ ٹیم نے رپورٹ میں حادثے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ وی آئی پی کے ہیلی کاپٹر سفر کے حوالے سے بھی اہم سفارشات بھی دی ہیں۔

ائر مارشل مانویندر سنگھ کی رہنمائی میں ٹیم نے وزیر دفاع کو حادثے کی وجہ کا بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ وویک رام چودھری اور سیکرٹری دفاع اجے کمار بھی موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے اچانک گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے ایک خاص صورتحال ‘کنٹرولڈ فلائٹ انٹو ٹیرین’ پیدا ہوئی۔ جس میں گھنے بادلوں کی وجہ سے پائلٹ کو نظر نہیں آتا اور صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے جس سے ہیلی کاپٹر زمین، پہاڑ یا کسی اور چیز سے ٹکرا جاتا ہے۔

تکنیکی خرابی یا ہیلی کاپٹر کے سبوتاژ کرنے کی سازش مسترد

تحقیقاتی رپورٹ میں کسی تکنیکی خرابی یا ہیلی کاپٹر کے سبوتاژ کرنے کی سازش کو مسترد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے وی آئی پی کے سفر کے سلسلے میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پر نظرثانی کی بھی سفارش کی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں رپورٹ پیش کرنے سے قبل تمام پہلوؤں پر شواہد اور بلیک باکس کے ساتھ ساتھ تمام حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ تحقیقات میں پائلٹ سے جلد بازی میں کسی قسم کے رابطے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

واضح رہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو خود اڑانے والے ونگ کمانڈر پرتھوی سنگھ چوہان اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اور انہیں خصوصی حالات میں بھی پرواز کرنے کا کافی تجربہ تھا۔

بلی بائی ایپ: مسلم خواتین کی تضحیک و نیلام کر نے والا ایپ تیار کرنے والے ریکیٹ کا پردہ فاش، تینوں ملزمین گرفتار

0

بلی بائی ایپ معاملہ میں تین ملزمین وشال کمار جھا 21 سالہ کو بنگلور، شویتا سنگھ 19 سالہ اور اس کے ایک دیگر ساتھی مینک راول 21 سالہ اتراکھنڈ سے گرفتار

ممبئی: مسلم لڑکیوں اور خواتین کو بلی بائی ایپ اور سوشل میڈیا پر نشانہ بنانے والے ریکیٹ کو ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے بے نقاب کر نے کا دعوی کر تے ہوئے اس معاملہ میں تین ملزمین جس میں وشال کمار جھا 21 سالہ کو بنگلور، شویتا سنگھ 19 سالہ اور اس کے ایک دیگر ساتھی مینک راول 21 سالہ کو اتراکھنڈ سے گرفتار کر لیا ہے۔

اتراکھنڈ سے شویتا سنگھ اس ایپ کی خالق ہے ممبئی پولیس کی سائبر سیل نے اس معاملہ میں ہر پہلو پر جانچ شروع کردی ہے۔ ابتداء میں سائبر سیل نے جب تفتیش شروع کی تو بلی بائی ایپ پر پانچ فالووور ہی پائے گئے تھے ان پانچوں کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ پانچوں ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔

پولیس نے اس معاملہ میں پہلے بنگلور کے سال دوم کے طالب علم وشال کمار کو گرفتار کیا۔ اس معاملہ میں مزید گرفتاریوں سے بھی ممبئی کے پولیس کمشنر نے انکار نہیں کیا ہے۔ 

بلی بائی ایپ کا کیس حساس نوعیت کا

ممبئی کے پولیس ہیڈکوارٹر میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے کہا کہ چونکہ بلی بائی ایپ کا کیس حساس نوعیت کا ہے اس لئے تفتیشی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے سے تفتیش متاثر ہونے کا امکان لاحق ہے۔جبکہ تفتیشی عمل کے دوران یہ معلوم ہوا کہ یہ ایپ کے معرفت مخصوص طبقہ اور فرقہ کی خواتین کو ہدف تنقید و نشانہ بنایا گیا تھا جو ان کی تضحیک کا باعث ہے۔

بلی بائی ایپ میں ملزمین نے پیج تیار کئے تھے اس میں سوشل میڈیا اور مختلف شعبہ جات سے وابستہ خواتین و لڑکیوں کی تصاویر مارف کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ان خواتین کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ انہیں تصاویر کو اس ایپ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں پولیس نے 2 جنوری کو شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے بعد ہی 24 گھنٹے میں ہی اس کیس میں گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس سائٹ اور ایپ کو معروف بنانے کیلئے ٹوئیٹر ہینڈل کا بھی سہارا لیا گیا تھا۔

ہر پہلو پر جانچ جاری 

ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے بتایا کہ بلی بائی ایپ میں ہر پہلو پر جانچ جاری ہے جن ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ان سے باز پرس کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی نئے سراغ ملنے کی بھی امید ہے۔ انٹرنیٹ پر یہ تضحیک آمیز ایپ تیار کیا گیا تھا اس لئے اس کا سراغ لگانے کیلئے سائبر ٹیم نے جدوجہد مسلسل کر تے ہوئے اس معمہ کو حل کر لیا۔

ممبئی پولیس کمشنر سے جب اس ایپ کو تیار کرنے کا مقصد اور ماسٹر مائنڈ سے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے تفصیل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس سے تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی خواتین و لڑکیاں اس سے متاثر ہے وہ سائبر سیل میں شکایت درج کرواسکتی ہے۔