پیر, اپریل 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 273

تلنگانہ – چھتیس گڑھ سرحد پر ہوئے انکاؤنٹر میں 3 ماؤنواز ہلاک

0

مُلگ ضلع کے ایس پی سنگرام سنگھ نے بتایا کہ انہیں اس واقعہ کے تعلق سے مکمل اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ ۔ چھتیس گڑھ کی سرحد کے قریب پیش آئے انکاؤنٹر میں تین ماؤنواز ہلاک ہوگئے۔ یہ انکاؤنٹر منگل کی صبح چھتیس گڑھ کی سرحد کے قریب واقع وینکٹاپورم منڈل میں پیش آیا۔

ذرائع نے کہا کہ اس انکاؤنٹر میں تلنگانہ ریاست کے مخالف ماؤنواز دستہ گرے ہاونڈس کا کانسٹیبل بھی زخمی ہوگیا۔ شبہ کیا جا رہا ہے کہ پولیس کے ساتھ بندوقوں کی لڑائی میں ممنوعہ تنظیم سی پی آئی ماوسٹ کے ڈیویثرنل سطح کے لیڈران ہلاک ہوگئے۔ انکاؤنٹر کے مقام سے ایک رائفل برآمد کی گئی ہے۔

مُلگ ضلع کے ایس پی سنگرام سنگھ نے بتایا کہ انہیں اس واقعہ کے تعلق سے مکمل اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ۔تلنگانہ کے جنگلات میں تلاشی مہم جاری ہے۔

جے ڈی یو لیڈران کو پر وقار انداز میں رہنے کی بی جے پی کی نصیحت

0

بہار میں حزب اقتدار قومی جمہوری اتحاد کی اہم حلیف جے ڈی یو اور بی جے پی میں چل رہی تلخی کے درمیان آج ریاستی بی جے پی قیادت نے جے ڈی یو لیڈران کو پر وقار انداز میں رہنے کی نصیحت کی ہے۔

پٹنہ: سمراٹ اشوک کا موازنہ مغل حکمراں اورنگ زیب سے کرنے کے بعد سے ہی بہار میں حزب اقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اہم حلیف جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں چل رہی تلخی کے درمیان آج ریاستی بی جے پی قیادت نے جے ڈی یو لیڈران کو پر وقار انداز میں رہنے کی نصیحت کی ہے۔

سمراٹ اشوک کے سلسلے میں پیدا تنازعہ اور پھر دونوں جماعتوں کی طرف سے مسلسل ہو رہی بیان بازیوں کے بعد بہار بی جے پی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ سنجے جیسوال نے میڈیا کے توسط سے جے ڈی یو پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی کے وقار کا خیال یک طرفہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے جے ڈی یو لیڈران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی رویہ رہا تو بی جے پی کی طرف سے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔

بی جے پی کو جواب دینے آتا ہے

مسٹر جیسوال نے کہا کہ بی جے پی کے پاس بھی 76 لاکھ کارکنان ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بغیر نام لئے ہوئے جے ڈی یو کے قومی صدر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ اور پارلیمانی بورڈ کے قومی صدر اپندر کشواہا کو بھی نشانہ پر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو جواب دینے آتا ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا ”چلیے محترم جناب کو یہ سمجھ آگیا کہ این ڈی اے اتحاد کا فیصلہ مرکز کے ذریعہ ہے اور بالکل مضبوط ہے اس لئے ہم سبھی کو ساتھ چلنا ہے۔ پھر بار ۔ بار جناب مجھے اور مرکزی قیادت کو ٹیگ کرکے نہ جانے کیوں سوال کرتے ہیں۔ این ڈی اے اتحاد کو مضبوط رکھنے کیلئے ہم سبھی کو وقار کا خیال رکھنا چاہئے۔ یہ یک طرفہ اب نہیں چلے گا۔“

ملک کے وزیر اعظم سے ٹوئٹر ۔ ٹوئٹر نہ کھیلیں

مسٹر جیسوال نے کہا کہ اس وقار کی پہلی شرط ہے کہ ملک کے وزیر اعظم سے ٹوئٹر ۔ٹوئٹر نہ کھیلیں۔ وزیر اعظم ہر ایک بی جے پی رکن کے فخر ہیں۔ ان سے اگر کوئی بات کہنی ہو تو جیسا محترم نے لکھا ہے کہ بالکل سیدھی بات ہونی چاہئے۔ ٹوئٹر ۔ ٹوئٹر کھیل کر اگر ان پر سوال کریں گے تو بہار کے 76 لاکھ بی جے پی کارکنان اس کا جواب دینا اچھی طرح جانتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں ہم سب اس کا دھیان رکھیں گے۔

بختیار خلجی سے لیکر اورنگ زیب تک

بی جے پی کے ریاستی صدر نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا ”آپ سب بڑے لیڈر ہیں۔ ایک بہار میں اور دوسرے مرکز میں وزیر رہ چکے ہیں۔ پھر اس طرح کی بات کہنا کہ صدر جمہوریہ کے ذریعہ دئے گئے اعزاز کو وزیر اعظم واپس لیں، سے زیادہ بکواس ہوہی نہیں سکتا۔ دیا پرکاش سنہا کے ہم آپ سے سو گنا زیادہ بڑے مخالف ہیں کیوں کہ آپ کیلئے یہ معاملہ بہار میں تعلیمی سدھار جیسا ہے۔ جبکہ جن سنگھ اور بی جے پی کی پیدائش ہی ثقافتی راشٹرواد پر ہوئی ہے۔ ہم اپنی ثقافت اور ہندوستانی راجاﺅں کے سنہری تاریخ میں کوئی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن، ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ بختیار خلجی سے لیکر اورنگ زیب تک کی زیادتیوں کی صحیح کہانی آنے والی نسلوں کو بتائی جائے۔“

مسٹر جیسوال نے کہا کہ 74 سال میں ایک واقعہ نہیں ہوا جب کسی پدم شری ایوارڈ کی واپسی ہوئی ہو۔ پہلوا ن سشیل کمار پر قتل کے الزام ثابت ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود بھی صدر جمہوریہ نے ان کا تمغہ واپس نہیں لیا۔ کیونکہ ایوارڈ واپسی معاملے پر کوئی طے شدہ معیار نہیں ہے۔ جب چاہے وہ ہریدوار میں واقع دھرم سنسد ہو یا سینکڑوں ہیٹ اسپیج، حکومت نہ صرف ان پر نوٹس لیتی ہے بلکہ بڑے سے بڑے شخص کو بھی جیل میں ڈالنے سے نہیں ہچکتی۔

بہار حکومت دیا پرکاش سنہا کو  گرفتار کرے

بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ سب سے پہلے بہار حکومت دیا پرکاش سنہا کو ان کی ایف آئی آر کے ضمن میں گرفتار کرے اور فاسٹ ٹریک کورٹ سے فورا سزا دلوائے۔ اس کے بعد بہار حکومت کا ایک نمائندہ وفد صدر جمہوریہ کے پاس جاکر ہم سبھوں کی بات رکھے کہ ایک سزا یافتہ مجرم کا پدم شری واپس لیا جائے۔

حکومت بہار اچھے ماحول میں شانتی سے چلے یہ صرف ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ آپ کی بھی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم سب مل بیٹھ کر اس کا حل نکالیں۔ ہمارے مرکزی لیڈران سے کچھ چاہتے ہیں تو ان سے بھی راست بات چیت ہونی چاہئے۔

مسٹر جیسوال نے واضح طور پر کہا کہ ہم ہرگز نہیں چاہتے ہیں کہ دوبارہ وزیراعلیٰ رہائش سال 2005 سے قبل کی طرح قتل کرانے اور اغوا کی رقم وصولنے کا اڈہ بن جائے۔ ابھی بھیڑیا سنہری ہرن کی طرح نقلی ہرن کی کھال پہن کر عوام کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔

ایک پوری نسل جو سال 2005 کے بعد ووٹر بنی ہے وہ ان حالات کو نہیں جانتی اور بغیر سمجھے کہ یہ راون کی سازش ہے۔ سنہرے ہرن کی جانب راغب ہو رہی ہے۔
سچ بتانا ہم سبھوں کی ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی۔

سپریم کورٹ میں مرکز کا حلف نامہ، کووڈ 19 ویکسین زبردستی نہیں لگائی جا سکتی

0

سپریم کورٹ کے سامنے مرکزی حکومت نے ایک بار پھر کووڈ 19 ویکسین کے بارے میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی رضامندی کے بغیر زبردستی ویکسین نہیں لگائی جا سکتی۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک بار پھر کووڈ 19 ویکسین کے بارے میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف ویکسین نہیں لگائی جا سکتی۔

مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں ‘ایوارا فاؤنڈیشن‘ کی طرف سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے رہنما خطوط متعلقہ شخص کی رضامندی کے بغیر زبردستی کووڈ-19 ویکسینیشن کی اجازت نہیں دیتے۔

اپنے موقف کو دہراتے ہوئے حکومت نے کہا ’’کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف ٹیکہ نہیں لگایا جا سکتا۔‘‘ تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ-19 ویکسینیشن وسیع تر عوامی مفاد میں ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کی وسیع تشہیر کی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کو اس کے فوائد کے بارے میں صحیح معلومات مل سکیں اور وہ خود بھی ویکسینیشن کے لیے آگے آئیں۔ اس تناظر میں تمام شہریوں کو اشتہار کے ذریعے ضروری مشورہ دیا گیا ہے۔

حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے کوئی رہنما خطوط ( ایس او پیز) جاری نہیں کیے ہیں جو کسی بھی مقصد کے لیے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیتے ہیں۔

مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے کے ذریعے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے کہ پہلی اور دوسری خوراک کے ساتھ اہل استفادہ کنندگان کی 100 فیصد کوریج کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے گزشتہ سال 3 نومبر کو ‘ہر گھر دستک ابھیان‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔

فلسطین میں اومیکرون ویرینٹ کے 700 کیسز

0
فلسطین میں اومیکرون ویرینٹ کے 700 کیسز
فلسطین میں اومیکرون ویرینٹ کے 700 کیسز

فلسطین میں اومیکرون کے 700 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اومیکرون ویرینٹ ان لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہے جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگائی ہے۔

رملہ: فلسطین میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے 700 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان کمال الشخرہ نے کہا کہ مغربی کنارے میں کورونا وائرس کی شرح 30 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اومیکرون ویرینٹ ان لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہے جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگائی ہے۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگائیں، ماسک پہنیں اور سماجی دوری پر عمل کریں۔

آنے والے دنوں میں کووڈ -19 کے کیسز میں اضافے کا انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 642 نئے کیسز درج ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بھی ہلاکت خیز وبا سے تین اموات ہوئی ہیں۔

ملک میں ایک بار پھر 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے ڈھائی لاکھ سے زائد نئے کیسز

0
ملک میں  ایک بار پھر 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے ڈھائی لاکھ سے زائد نئے کیسز
ملک میں  ایک بار پھر 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے ڈھائی لاکھ سے زائد نئے کیسز

گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2.5 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ وہیں ملک کی 27 ریاستوں میں اب تک کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے 8209 کیسز پائے گئے ہیں۔

نئی دہلی: ملک میں ہلاکت خیز کورونا وائرس کیسز کی رفتار تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2.5 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس سے فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

دریں اثنا، اتوار کو ملک میں 39 لاکھ 46 ہزار 348 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی اور اب تک ایک ارب 57 کروڑ 20 لاکھ 41 ہزار 825 افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے۔

مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 لاکھ 13 ہزار 444 کووڈ ٹسٹ کیے گئے جس میں دو لاکھ 58 ہزار 89 لوگوں کی رپورٹ مثبت آئی۔ جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 73 لاکھ 80 ہزار 253 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مزید 385 مریضوں کی موت کے بعد ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 4,86,451 ہو گئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1 لاکھ 51 ہزار 740 مریضوں کے صحت یاب ہونے سے کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 52 لاکھ 34 ہزار 461 ہو گئی ہے۔

ملک میں ایکٹیو کیسز کی شرح بڑھ کر 4.33 فیصد ، صحت یابی کی شرح 94.27 اور شرح اموات 1.30 پر آ گئی ہے۔

دوسری طرف ملک کی 27 ریاستوں میں اب تک کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے 8209 کیسز پائے گئے ہیں۔

نرسنگھانند کی گرفتاری پر  حامی مشتعل

0

پولیس سوامی نرسنگھانند کو لیکر ہری دوار کوتوالی پہنچی جہاں ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے حامی اور دھرم سنسد کی کور کمیٹی کے اراکین کوتوالی پہنچے۔ کوتوالی میں حامیوں نے نرسنگھانند کی گرفتاری پر ہنگامہ کرنا شرو ع کردیا۔

ہری دوار: اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ہوئی دھرم سنسد میں دیئے گئے متنازعہ بیانات کے معاملات میں سنیچر کی رات پولیس نے دوسری گرفتاری کی۔ پولیس نے جونا اکھاڑا مہامنڈلیشور اور ڈاسنا پیٹھ کے پیٹھا دیشور سوامی یتی نرسنگھانند کو گرفتار کیا ہے جس کے بعد ان کے حامی مشتعل ہوگئے۔

پولیس کے مطابق سوامی نرسنگھانند کو سروانند گھاٹ سے گرفتار کیا ہے جہاں وہ جتیندر نارائن سنگھ تیاگی کی گرفتاری کے خلاف کھانا پینا چھوڑ کر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے انشن کو ستیہ گرہ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس سوامی نرسنگھانند کو لیکر ہری دوار کوتوالی پہنچی جہاں ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے حامی اور دھرم سنسد کی کور کمیٹی کے اراکین کوتوالی پہنچے۔ کوتوالی میں حامیوں نے نرسنگھانند کی گرفتاری پر ہنگامہ کرنا شرو ع کردیا۔

اسی دوران کوتوالی پہنچی بغیر نمبر پلیٹ کی ایمبولنس سے سوامی نرسنگھانند کو اسپتال لے جانے پولیس نے کوشش کی۔ جس پر حامیوں کے ہنگامہ کے مدنظر پولیس نے لاٹھیاں مار کر انہیں منتشر کیا اور وہاں سے ایمبولنس کو روانہ کیا۔ اور بعد میں سوامی نرسنگھانند کو پولیس جیپ میں بٹھاکر ہرملاپ مشن اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں میڈیکل کے بعد ان کو اسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

نرسنگھانند گزشتہ تین دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے ان کو صحت سے متعلق پریشانیاں شروع ہوگئی تھیں۔ سوامی نرسنگھانند کی گرفتاری کے بعد دھرم سنسد کے کنوینر سوامی آنند سوروپ نے ستیہ گرہ جاری رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اور گرفتاری کی مذمت اور مخالفت کی ہے اور اکھاڑہ پریشد اکھاڑے کے سنتوں سے ہندوؤں کے ساتھ سامنے آنے کی اپیل کی ہے۔

جہانگیر سے عالمگیر تک مسلمانوں کے خون سے رنگین مغلیہ سلطنت

0
جہانگیر سے عالمگیر تک مسلمانوں کے خون سے رنگین مغلیہ سلطنت
جہانگیر سے عالمگیر تک مسلمانوں کے خون سے رنگین مغلیہ سلطنت

اس تاریخی حقیقت کو ذکر کرنے کا مقصد یہ کہ جن حکمرانوں کو ہندوؤں کا دشمن بتایا جاتا ہے ان کی بادشاہت میں خود مسلمانوں کا کس قدر خون بہایا گیا

جہانگیر کا بیٹا شاہ جہاں

جہانگیر کے بعد اس کا بیٹا شہاب الدین محمد خرم، جن کا عرفی نام شاہ جہاں تھا، آگرہ کے تخت پر بیٹھے۔ شاہ جہاں کو بھی تخت آسانی سے نہیں ملا۔ انہوں نے اپنے بھائی شہزادہ خسرو کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

شاہ جہاں سے متعلق ایک اہم بات یہ تھی کہ جب جہانگیر کی طاقتور ملکہ نورجہاں نے شاہ جہاں سے قندھار پر ایرانی حملوں کا سامنا کرنے کو کہا تو شاہ جہاں نے اپنی سوتیلی ماں کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے باپ کی فوج کے خلاف بغاوت کر دی جس کے نتیجے میں قندھار مغلوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔

شاہ جہاں کو بھی اپنے والد کی فوج کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی اور پھر اپنی جان بچانے کے لیے اسے میواڑ کے ہندو بادشاہ مہارانا کرن سنگھ (دوم) کی پناہ لینی پڑی۔

مہارانا کرن سنگھ نے پہلے شاہ جہاں کو دلوارہ کی حویلی میں رکھا، اور بعد میں ادے پور کے شاندار جگ مندر محل میں سکونت فراہم کی۔ بعد میں جہانگیر نے شاہ جہاں کو معاف کر دیا اور وہ آگرہ واپس چلا گئے۔

اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی

اورنگ زیب نے خود کو مغل بادشاہ کے بجائے خلیفہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جبکہ دارا شکوہ اپنے پردادا اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا صلح کل کی وراثت کی احیا کرنا چاہتے تھے۔

جہانگیر کی موت کے بعد ان کے تیسرے بیٹے شہزادہ شہریار کو تقریباً ایک سال کے لیے اقتدار ملا لیکن شاہ جہاں نے انہیں تخت سے بے دخل کرکے مغل سلطنت پر قبضہ کر لیا اور پھروہ اپنی سوتیلی ماں نورجہاں کو نظربند کردیا۔ اس نے اپنے حقیقی بھائی شہریار اور بھتیجوں سمیت ایسے تمام رشتہ داروں کو قتل کر دیا جو ان کی طاقت کے لیے خطرہ بنا سکتے تھے۔

شاہ جہاں کی فوج کا ایران کی صفوی سلطنت، جنوب کی مسلم سلطنتوں اور سکھوں کے چھٹے گرو شری ہرگوبند جی کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئیں اور ان کی فوجوں کا پرتگالی فوج سے بھی مقابلہ ہوا۔

مسلمانوں کا قتل

ان تاریخی حقائق کو تذکرہ کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ جن حکمرانوں کو ہندوؤں کا دشمن بتایا جاتا ہے ان کی بادشاہت میں خود مسلمانوں کا کس قدر خون بہایا گیا۔ جب بھائی کو اقتدار کی خاطر اپنے بھائی کو قتل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی تو پھر اقتدار کے لیے خطرہ بننے والے دوسرے مذہب کے حکمرانوں کی کوئی پرواہ کیسے کرے۔

ویسے شاہ جہاں کو تاج محل جیسی عمارت کی تعمیر اور دارالحکومت آگرہ سے دہلی منتقل کرنے اور لال قلعہ اور جامع مسجد جیسی عظیم الشان عمارتوں کی تعمیر کے لیے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔ شاہ جہاں کا نام تاریخ میں کہیں بھی ہندوؤں پر مظالم یا مذہبی امتیاز کے لیے درج نہیں ہے۔ شاہ جہاں کے بعد ان کے بیٹوں میں اقتدار کی زبردست لڑائی ہوئی اور پھر ان کے بیٹوں کے ساتھ وہی ہوا جو انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔

شاہجہاں اور ان کے بیٹے

شاہ جہاں کے چار بیٹے تھے، دارا شکوہ، اورنگ زیب، مراد اور شجاع، اور چاروں اپنے والد کی وفات کے بعد ہندوستان کا حکمران بننے کے خواہشمند تھے، جب کہ شاہ جہاں اپنی سلطنت بڑے بیٹے دارا شکوہ کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔

دارا شکوہ – سیکولر اور کھلے ذہن کے مالک

دارا شکوہ ایک عظیم عالم اور سیکولر سیکولر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مذہبی اتحاد کے پروگرام جسے ان کے پردادا اکبر نے شروع کیا تھا اس صلح کل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

1657 عیسوی میں شاہ جہاں بیمار ہو گئے جس کے بعد یہ خبر پھیل گئی کہ شاہ جہاں کا انتقال ہو گیا ہے اور دہلی میں موجود دارا شکوہ اپنے والد کی موت کو چھپا رہا ہے۔ اس کے بعد چاروں بیٹوں میں جنگیں ہو ئیں۔ بھائیوں کے درمیان اس لڑائی میں صرف اورنگ زیب رہ گئے اور باقی تین کا قتل ہوگیا۔

اورنگ زیب کا دور حکومت

شاہ جہاں اپنی بیماری سے ٹھیک ہو گئے لیکن اورنگ زیب نے انہیں گرفتار کر کے آگرہ میں قید کر دیا اور دہلی کے تخت نشیں ہوگئے۔ اورنگ زیب کا اصل نام محی الدین محمد تھا۔ انہوں نے ہندوستان پر 49 سال تک حکومت کی۔

مغل حکمرانوں میں اورنگ زیب کا دور حکومت سب سے زیادہ متنازعہ رہا۔ اس نے دنیا میں خود کو ایک متشدد مسلمان کے طور پرمتعارف کرایا اور سب کو بتانے کی کوشش کی کہ وہ بھی سرکاری خزانے سے کوئی پیسہ نہیں لیتے اور قرآن پاک کے نسخے لکھ کر اور ٹوپیاں بیچ کر اپنا خرچہ چلاتے ہیں۔ تاہم ہندوستان کے کسی مورخ نے اورنگ زیب کے نسخے نہیں دیکھے۔ ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن امریکہ کے کسی بھی بازار میں نہیں پائے گئے اور کسی کو نہیں معلوم کہ اورنگزیب کے ہاتھ سے بنی ٹوپیاں کہاں فروخت ہوئیں۔

اسلامی قانون متعارف کرانے کی کوشش

درحقیقت اورنگ زیب اپنے بھائیوں کو قتل کرنے اور باپ کو ساڑھے سات سال تک قید رکھنے کے جرم سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے مغل بادشاہ کے بجائے خود کو مسلمانوں کا خلیفہ بنا کر پیش کرنا چاہتے تھے۔ اورنگ زیب نے بھی اپنے عہد میں اسلامی قانون متعارف کرانے کی کوشش کی اور شراب نوشی، جوا کھیلنے، عورتوں کے ستی ہونے اور لڑکوں کو ہیجڑہ (مخنث) بنانے پر پابندی لگا دی۔

انہوں نے جزیہ نام کا ٹیکس بھی لگایا تاکہ اس کی مملکت کو مکمل طور پر اسلامی ریاست تصور کیا جائے لیکن انہیں اس وقت شدید دھچکا لگا جب مکہ کے حکمران (جسے اشراف کہا جاتا ہے) جو کعبہ شریف نگران تھے نے اورنگ زیب کی حکومت کو اسلامی حکومت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا اورنگزیب کی طرف سے بھیجے گئے تحائف بھی واپس کردئے گئے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

ایس پی ایم ایل اے ناہید حسن گرفتار، 14دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیجا گیا جیل

0

پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ ایس پی امیدوار ناہید حسن کو کیرانہ ۔ شاملی مارگ سے گینگسٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ایڈیشنل اینڈسیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے انہیں 14دنوں کی عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔

شاملی: اترپردیش کے ضلع شاملی میں ایس پی ایم ایل اے ناہید حسن کو ہفتہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ ایس پی امیدوار کو کیرانہ ۔ شاملی مارگ سے گینگسٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ایڈیشنل اینڈسیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے انہیں 14دنوں کی عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔

قابل ذکر ہے کہ فروری 2021 میں پولیس انتظامیہ کی جانب سے کیرانہ ایم ایل اے چودھری ناہید حسن، ان کی ماں و سابق ایم پی تبسم حسن سمیت 42 افراد کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمہ درج ہونے کے بعد سے ہی ناہید حسن اس معاملے میں مطلوب چل رہےتھے۔

کیرانہ کوتوالی انچارج انل کپروان نے بتایا کہ آج جمعہ کو ایس پی امیدوار ناہید حسن عدالت میں پیش ہونے کے لئے جا رہے تھے تبھی کیرانہ کوتوالی پولیس نے ان کو بائی پاس روڈ سے گرفتار کرلیا اور انہیں اڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹ فاسٹ ٹریک میں پیش کیا گیا۔

وہیں ایس پی لیڈر نے گرفتاری کے بعد میڈیا نمائندوں سے کہا کہ وہی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی طرح ڈرنے و رونے والے نہیں ہیں۔ آنے والے 10 فروری کو کیرانہ اسمبلی حلقے کی عوام ان کے حق میں ووٹنگ کریں گے۔

ملحوظ رہے کہ 2 دن قبل سماج وادی پارٹی نے کیرانہ سے پارٹی کے موجودہ ایم ایل اے ناہید حسن کو اسمبلی انتخابات 2022 کے لئے اپنا امیدوار بنایا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری

0

بہوجن سماج پارٹی صدر مایاوتی نے اپنے یوم پیدائش کے موقع پر یہاں واقع پارٹی دفتر میں امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کی۔ اس میں 53 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے لئے پہلے مرحلے کے تحت 58 سیٹوں پر ہونے والے الیکشن کے لئے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔

بی ایس پی صدر مایاوتی نے اپنے یوم پیدائش کے موقع پر یہاں واقع پارٹی دفتر میں امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کی۔ اس میں 53 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔ بس ایس پی نے مغربی اترپردیش برج علاقے کی جن 53 سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں 14مسلم (26فیصدی) امیدواروں کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

امیدواروں کی لسٹ

کیرانہ سے راجندر سنگھ اپادھیائے، شاملی سے برجیندر ملک، بڑھانا سے حاجی محمد انیس، چرتھاول سے سلمان سعید، پرقاضی(ریزرو) سے سریندر پال سنگھ، مظفر نگر سے پشپانکر پال، کھتولی سے ماجد صدیقی، میرا پور سے محمد سالم، سوالخاص سے مکرم علی عرف ننہے خان، سردھنا سے سنجیو کمار دھاما، ہستنا پور (ریزرو) سے سنجیو کمار جاٹو، کٹھور سے کشل پال ماوی عرف کیپی ماوی، میرٹھ کینٹ سے امت شرما، میرٹھ جنوب سے کنور دلشاد علی، چھپرولی سے محمد شاہین چودھری، بڑوت سے انکت شرما، لونی سے حاجی عاقل چودھری، مراد نگر حاجی ایوب ادریسی، غازی آباد سے سریش بنسل کے نام شامل ہیں۔

وہیں مودی نگر سے ڈاکٹر پونم گرگ، دھولانا سے وارث پردھان، ہاپوڑ (ریزرو) سے منیش کمار سنگھ، گڑھ مکتیشور سے محمد عارف، نوئیڈا سے کرپا رام شرما، دادری سے منویر سنگھ بھاٹی، جیور سے نریندر بھاٹی ڈاڈا، سکندرآباد سے چودھری منویر سنگھ، سیانہ سے سنیل بھاردواج، انوپ شہر سے رامیشور سنگھ لودھی، ڈبائی سے کرن پال سنگھ عرف کے پی سنگھ، شکار پور سے محمد رفیق عرف پھڈا، کھرجا (ریزرو) سے ونود کمار جاٹو، خیر سے (ریزرو) سے پریم پال سنگھ جاٹو، برولی سے نریندر شرما، اترولی سے ڈاکٹر اومویر سنگھ، چھرا سے تلک راج یادو پارٹی کے امیدوار ہیں۔

جبکہ کول سے محمد بلال، علی گڑھ سے راضیہ خان، اگلاس (ریزرو) سے سشیل کمار جاٹو، چھاتا سے سون پال سنگھ، مانٹ سے شیام سندر شرما، گوردھن راج کمار راوت، متھرا سے جگجیت چودھری، بلدیو (ریزرو) اشوک کمار سمن ایڈ، اعتماد پور سے سرویش بگھیل، آگرہ کینٹ (ریزرو) سے بھارتیندو ارون، آگرہ جنوب سے روی بھاردواج، آگرہ دیہات سے کرن پربھا کیسری، فتح پور سیکری سے ڈاکٹر مکیش کمار راجپوت، خیر گڑھ سے گنگا دھر سنگھ کشواہا، فتح آباد سے شیلندر پرتاپ سنگھ عرف شیلو، باہ سے نتن ورما پارٹی کے امیدوار بنائے گئے ہیں۔

پہلے مرحلے کی ووٹنگ 10 فروی کو ہوگی

قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے میں 10 فروی کو مغربی اترپردیش اور برج علاقے کے 11 اضلاع کی 58 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس سیٹوں پر امیدواروں کے لئے پرچہ نامزدگی کا اعلان ہوچکا ہے۔ نامزدگی کی آخری تاریخ 21 جنوری ہے۔ پہلے مرحلے میں مغربی اترپردیش کے مسلم اکثریتی مظفر نگر میں جن 6 سیٹوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں چار سیٹوں (بڑھانا، چرتھاول، کھتولی اور میرا پور) پر مسلم امیدوار انتخابی میدان میں اتارے ہیں۔

وہیں ضلع میرٹھ میں سلوا خاص اور میرٹھ جنوب، باغپت ضلع میں چھپرولی، غازی آباد ضلع میں لونی اور مراد ناگر، ہاپوڑ میں دھولانا اور گڑھ مکتیشور، علی گڑھ کے کول اور علی گڑھ جبکہ بلندشہر کے شکا پور اسمبلی سیٹ سے مسلم امیدوار انتخابی میدان میں اتارے ہیں۔

حال ہی میں ایس پی۔آر ایل ڈی اتحاد کی جانب سے مغربی اترپردیش کی 29 سیٹوں کے لئے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی تھی جس میں 9 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔ دلچسپ ہے کہ دھولانا، کول اور علی گڑھ سیٹ پر ایس پی اور بی ایس پی دونوں نے ہی مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔

نالندہ ضلع: مشتبہ حالات میں چار لوگوں کی موت

0
نالندہ ضلع: مشتبہ حالات میں چار لوگوں کی موت
نالندہ ضلع: مشتبہ حالات میں چار لوگوں کی موت

بہار میں نالندہ ضلع کے سوہسرائے تھانہ علاقے میں چار لوگوں کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔ بہار شریف کے سب ڈویژنل افسر کمار انوراگ اور صدر پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شبلی نعمانی موقع پر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔

راجگیر: بہار میں نالندہ ضلع کے سوہسرائے تھانہ علاقے میں چار لوگوں کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔

پولیس ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ چھوٹی پہاڑی اور پہاڑتلی میں جمعہ کی دیر رات چار لوگوں کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ مرنے والوں کی شناخت بھاگو مستری (55)، منا مستری (55)، دھرمیندر عرف ناگیشور (50) اور کالی چرن مستری (48) کے طور پر کی گئی ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ کل رات گئے شراب پینے سے سب کی حالت خراب ہوگئی جس کے بعد ان کی موت ہو گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد بہار شریف کے سب ڈویژنل افسر کمار انوراگ اور صدر پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شبلی نعمانی موقع پر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔

دریں اثنا، بہار شریف کے سب ڈویژنل افسر کمار انوراگ نے بتایاکہ زہریلی شراب پینے سے موت کی صورتحال واضح نہیں ہو پائی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معاملے کا انکشاف ہو پائے گا۔