پیر, اپریل 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 272

سعودی اتحاد کی یمن میں باغیوں پر بمباری، 70 افراد ہلاک

0
سعودی اتحاد کی یمن میں باغیوں پر بمباری، 70 افراد ہلاک
سعودی اتحاد کی یمن میں باغیوں پر بمباری، 70 افراد ہلاک

سعودی فوجی اتحاد کی یمن میں باغیوں پر بمباری میں تیزی آگئی ہے اور اتحادی افواج کے حملے میں جیل تباہ ہوگئی جس سے 70 افراد ہلاک ہوگئے۔

الریاض: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ابو ظہبی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سعودی فوجی اتحاد کی یمن میں باغیوں پر بمباری میں تیزی آگئی ہے اور اتحادی افواج کے حملے میں جیل تباہ ہوگئی جس سے 70 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی فوجی اتحاد کی حوثی باغیوں کے مضبوط شہر صعدہ پر بمباری کے نتیجے میں جیل تباہ ہوگئی، 3 بچوں سمیت 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 138 زخمی ہیں۔

سعودی اتحاد نے یمن کے ساحلی شہر حدیدہ پر بمباری کرکے کمیونیکیشن مرکز تباہ کردیا جسکے بعد یمن بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئی۔

اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب سلامتی کونسل نے باغیوں کے ابوظہبی پر حملے کی مذمت بھی کی ہے۔

دنیا ایک نئی قسم کے تصادم کے دہانے پر ہے: گوٹریس

0
دنیا ایک نئی قسم کے تصادم کے دہانے پر ہے: گوٹریس
دنیا ایک نئی قسم کے تصادم کے دہانے پر ہے: گوٹریس

مسٹر گوٹریس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2022 کے لیے اپنی ترجیحات پیش کرتے ہوئے دنیا کی موجودہ حالت کے بارے میں پانچ ایشوز اٹھائے۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ دنیا ایک نئی قسم کے نرم تصادم کے دہانے پر ہے، جو سرد جنگ سے بھی بدتر ہے۔

مسٹر گوٹریس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2022 کے لیے اپنی ترجیحات پیش کرتے ہوئے دنیا کی موجودہ حالت کے بارے میں پانچ ایشوز اٹھائے۔ اپنی پریزنٹیشن کے بعد پریس بریفنگ میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دنیا ’دوسری سرد جنگ‘ کے دہانے پر ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ دنیا دوسری سرد جنگ کے دہانے پر نہیں، بلکہ ایک بدتر صورتحال سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا "دہانے (دوسری سرد جنگ) پر نہیں، لیکن ہم ایک نئی شکل دیکھ رہے ہیں۔ میں اسے سرد جنگ نہیں کہوں گا، میں اسے گرم جنگ نہیں کہوں گا۔ شاید میں اسے ٹکراؤ کی ایک نئی شکل کہوں گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے کچھ اصول تھے۔ یہ دو گروہوں کے درمیان تھا۔ دونوں گروپوں میں سے ہر ایک کا اپنا فوجی اتحاد اور تنازعات کی روک تھام کا واضح طریق کار تھا۔

انہوں نے کہا ’’جس طرح سے سرد جنگ موجود تھی اس کے بارے میں پیشین گوئی کی ایک خاص سطح تھی۔ اب ہم بہت زیادہ افراتفری کا شکار ہیں، بہت کم پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ ہمارے پاس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی اوزار نہیں ہے۔ درحقیقت، ہم ایک خطرناک صورتحال میں رہتے ہیں۔‘‘

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے چانسلر نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کردی

0
مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے چانسلر نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کردی
مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے چانسلر نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کردی

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے چانسلر نے یکساں سول کوڈ کو لے کر سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔

نئی دہلی: مولانا آزاد اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے چانسلر نے یکساں سول کوڈ کو لے کر سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ درخواست گزار فیروز بخت احمد مجاہد آزادی اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے پوتے ہیں۔

عرضی میں مرکز کو یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ صنفی انصاف، جنسی مساوات اور خواتین کے وقار کے تحفظ کے لیے یونیفارم سول کوڈ کی ضرورت ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مرکز کو براہ راست عدالتی کمیشن یا ایک اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔

عرضی گزار فیروز بخت احمد نے دہلی ہائی کورٹ میں اپنی زیر التوا عرضی کو سپریم کورٹ منتقل کرنے کی مانگ کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شادی کی کم از کم عمر، طلاق کی بنیاد، نان نفقہ، بچہ گود لینے، بچے کی سرپرستی، وراثت اور ترکہ میں پائے جانے والے تضادات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

مرد کی بالادستی کی بنیاد پر دقیانوسی تصورات (patriarchal stereotypes) پر مبنی امتیازی سلوک کو کوئی سائنسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ خواتین کے خلاف عدم مساوات کو فروغ دینے کی مخالفت ہونی چاہیے۔ ہندوستان میں فوجداری (کرمنل) قوانین یکساں ہیں اور سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، چاہے ان کے مذہبی عقائد کچھ بھی ہوں لیکن دیوانی (سول) قوانین عقیدے سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

فیروز بخت احمد نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ کو آئین میں ایک "مطلوبہ” اقدام کے طور پر شامل کیا گیا تھا، لیکن فی الحال یہ "رضاکارانہ” ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ "اسے آئین میں ایک پہلو کے طور پر شامل کیا گیا تھا جو اس وقت پورا ہو گا جب قوم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو گی اور یو سی سی کو سماجی قبولیت حاصل ہوسکے گی”۔

مسٹر احمد کہتے ہیں کہ "جب یہ قانون نافذ ہو جائے گا تو یہ ان قوانین کو آسان بنائے گا جو فی الحال مذہبی عقائد کی بنیاد پر مختلف ہیں جیسے کہ ہندو بل، شریعت قانون وغیرہ جیسے پیچیدہ قوانین کو آسان بنائے گا۔ یکساں شہری قانون تمام شہریوں پر لاگو ہوگا، چاہے ان کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔

عرضی گزار فیروز بخت احمد مجاہد آزادی ہند اور بھارت کے اولیں وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے پوتے ہیں۔ احمد نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں استدلال کیا ہے کہ ہندوستان میں فوجداری قوانین یکساں ہیں اور سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، چاہے ان کے مذہبی عقائد کچھ بھی ہوں، شہری قوانین عقیدے سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی اجازت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹری عملے کے مطابق درخواست 10 روز میں سماعت کے لیے آنے کا امکان ہے۔

دہلی فسادات-2020 کے معاملے میں پہلی سزا، ایک مجرم کو پانچ سال قید

0

سنہ 2020 کے دہلی فسادات کے معاملے میں پہلی بار کسی شخص کو سزا سنائی گئی اس سے قبل کئی ملزمان بری ہو چکے تھے۔

نئی دہلی: یہاں کی ایک عدالت نے دارالحکومت دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ایک معاملے میں جمعرات کو ایک شخص کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

سمجھا جاتاہے کہ سنہ 2020 کے فسادات کے معاملے میں پہلی بار کسی شخص کو سزا سنائی گئی اس سے قبل کئی ملزمان بری ہو چکے تھے۔

ایڈیشنل سیشن جج وریندر بھٹ کی عدالت نے دنیش یادو کو مختلف فوجداری مقدمے بشمول فسادات، ڈکیتی اور آتش زنی میں ملوث ہونے کے ثبوت کی بنیاد پر مجرم قرار دیا۔

مشرقی دہلی کے کرکڑڈوما کی اس عدالت نے 6 دسمبر کو شنوائی مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

یہ معاملہ گوکُل پوری کے بھاگیرتھی وِہار کا ہے، جہاں 25 دسمبر 2020 کے فسادات ہوئے تھے۔ استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ 150-200 افراد کے بے قابو ہجوم نے کئی گھروں پر حملہ کیا۔ بے قابو ہجوم کی جانب سے لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔ دنیش کے پڑوسی پر ایک مسلم خاندان کی طرف سے لوٹ مار، آتش زنی اور فسادات کرنے کا الزام لگایا تھا۔

دنیش کو 3 جون 2020 کو دیگر ایک فوجداری کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بہار میں سردی کا ستم اپنے شباب پر، راحت کی امید نہیں

0

بہار میں سردی کا ستم اپنے شباب پر ہے۔ پٹنہ سمیت کئی اضلاع کا کم ازکم درجہ حرارت سات سے 10 ڈگری سیلسیس کے آس پاس ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پٹنہ: کہرا اور کنکنی سے نبرد آزما بہار کے لوگوں کو فی الحال سردی سے راحت ملنے کی امید نہیں دکھ رہی ہے۔

بہار میں سردی کا ستم اپنے شباب پر ہے۔ پٹنہ سمیت کئی اضلاع کا کم ازکم درجہ حرارت سات سے 10 ڈگری سیلسیس کے آس پاس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وہیں، نہ صرف صبح اور رات کے وقت بلکہ دوپہر میں بھی دھند سے لوگوں کو راحت نہیں مل رہی ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور پہاڑی علاقوں سے آرہی پچھیا ہوا سے پورے دن کپکپانے والی سردی محسوس کی جا رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، ریاست کے لگ بھگ 13 اضلاع میں کم از کم درجہ حرارت 10 ڈگری کے نیچے آگیا ہے۔ پٹنہ، مظفر پور، گیا، پورنیہ، بھاگلپور، سپول، مشرقی چمپارن، ارریہ، دربھنگہ اور گوپال گنج اضلاع میں گذشتہ 48 گھنٹوں سے کولڈ ڈے کی صورتحال برقرار ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں تک بھی اس سے راحت کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق سردی کی موجودہ صورتحال آئندہ دو دنوں تک جاری رہے گی۔ بالخصوص پچھیا ہوا کا قہر سردی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

کورونا کی تیسری لہر میں یومیہ کیسز 3 لاکھ سے متجاوز، 491 مریضوں کی موت

0

ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ تین لاکھ سے زیادہ نئے معاملے سامنے آئے

نئی دہلی: ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ تین لاکھ سے زیادہ نئے معاملے سامنے آئے، جبکہ 491 مریض زندگی کی جنگ ہار گئے۔ حالانکہ راحت کی بات یہ رہی کہ اسی عرصے میں تقریباً سوا دو لاکھ افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا، بدھ کو ملک میں 73 لاکھ 38 ہزار 592 کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں اور اب تک ایک ارب 59 کروڑ 67 لاکھ 55 ہزار 879 کووڈ ویکسین دی جا چکی ہیں۔

جمعرات کی صبح مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 19 لاکھ 35 ہزار 180 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جس میں تین لاکھ 17 ہزار 532 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے اور متاثرہ افراد کی کل تعداد بڑھ کر تین کروڑ 82 لاکھ 18 ہزار 773 ہوگئی۔ ایکٹو کیسز میں 93051 کے اضافے کے ساتھ ان کی تعداد 19 لاکھ 24 ہزار 51 ہو گئی ہے۔

مرنے والوں کی تعداد

گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 491 مریضوں کی موت کے بعد اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 87 ہزار 693 پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں دو لاکھ 23 ہزار 990 مریض کے صحت یاب ہونے سے کورونا سے ان کی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 58 لاکھ 7 ہزار 29 ہوگئی ہے۔

ملک میں صحت یاب ہونے کی شرح 93.69 فیصد پر آگئی ہے، جب کہ اس وقت شرح اموات 1.28 فیصد ہے۔

اومیکرون متاثرین

دوسری طرف کووڈ کے اومیکرون قسم سے 27 ریاستوں میں اب تک 9287 لوگ متاثر پائے گئے ہیں۔

ایکٹو کیسز کے معاملے میں مہاراشٹر ملک میں پہلے نمبر پر ہے، حالانکہ پچھلے 24 گھنٹوں میں ایکٹو کیسز میں 2943 کی کمی آئی ہے اور فی الحال ان کی تعداد 268484 ہے۔ اس دوران 46591 مریضوں کے صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی کورونا سے پاک ہونے والوں کی تعداد 6915407 ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مزید 49 مریضوں کی موت ہو گئی۔ جس کے بعد اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,41,934 ہو گئی ہے۔

کرناٹک میں ان کی تعداد 2,67,679 ہے جو فعال معاملات میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں 17,269 ایکٹو کیسز بڑھے ہیں۔ ریاست میں 23,209 مریض صحت مند ہو چکے ہیں، جنہیں شامل کرکے 30,23,034 افراد کورونا سے نجات حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مزید 21 مریضوں کی موت ہوئی ہے اور اموات کی تعداد 38,486 ہو گئی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر کوئی افسوس نہیں: بائیڈن

0

بائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ 20 سال بعد وہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ 20 سال بعد وہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔

مسٹر بائیڈن نے اپنی مدت کار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں یہ بات کہی۔ امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’اپنا ہاتھ اٹھائیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی بھی ایک ہی حکومت کے تحت افغانستان کو متحد کرنے کے قابل ہوگا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر ہفتہ وار خرچ کے باوجود وہاں کسی پرامن حل کی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے جواب میں سوال کرتے ہوئے کہا، ’’سوال یہ ہے کہ کیا میں افغانستان میں ہر ہفتے اتنی رقم خرچ کرنا جاری رکھ سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا، ’’20 سال بعد افغانستان سے آسانی سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور میں نےجو کیا اس پر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔”

امریکی صدر نے افغانستان سے انخلا کے دوران فوجیوں کے جان گنوانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اتر پردیش کے مسلمانوں کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

0
اتر پردیش کے مسلمانوں کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

مسلمانوں کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے لیکن سیاسی قیادت کی کمی کی وجہ سے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔

تحریر: کلیم الحفیظ

کسی فرد کی خوش حالی اور ترقی اس کی معاشی حالت پر منحصر ہے۔ امیر آدمی کو سب کچھ مل جاتا ہے۔غریب صرف آرزو کرکے رہ جاتا ہے۔ پیسہ ہے تو بچے بھی اچھے اسکول میں تعلیم پاتے ہیں۔ بڑے کاروبار بھی کیے جاسکتے ہیں۔

سیاست میں بھی مقام بنایا جاسکتا ہے۔ پیسہ نہیں ہے تو اپنا سایہ بھی طعنے دینے لگتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی کو جھکانا ہو تو اس کے پیٹ پر لات ماردو۔یعنی اس کی معاشی سرگرمیوں پر چوٹ کردو۔

آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔مسلمانوں کی معاشی سرگرمیاں ایک ایک کرکے ختم کی جاتی رہیں اور مسلمان کارخانے دار سے مزدور ہوگئے۔

اتر پردیش جہاں کے ہر بڑے شہر میں ایک بڑی صنعت تھی اور اس صنعت میں مسلمان غالب تھے۔ آج وہ تمام صنعتیں یا تو دم توڑ رہی ہیں یا پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔

کانپور میں چمڑے،فیروزآباد میں چوڑیاں،مرادآباد میں پیتل کے برتن،لکھنو میں چکن کڑھائی،،رام پور کے چاقو،بریلی کا سرما، قنوج کا عطر، بنارس کی ساڑی، سہارنپور میں ہینڈی کرافٹ، علی گڑھ کے تالے اور میرٹھ کی قینچیاں زمانے بھر میں مشہور ہوا کرتی تھیں، اور ان میں سے ہر ایک صنعت میں مسلمان آگے تھے، وہی اس کے بہترین کاریگر تھے، لیکن رفتہ رفتہ حکومت نے سازش کرکے منصوبہ بند طریقے پر ان صنعتوں کو مسلمانوں سے چھین لیا۔

پڑابنائی اور رنگائی تک کے کام جو خالص مسلمانوں سے وابستہ تھے آج غیرمسلموں کے کنٹرول میں ہیں۔یہاں تک گوشت کے بڑے تاجر اور ایکسپورٹرس غیر مسلم ہیں۔

اس وقت میرے سامنے ایک رپورٹ ہے جسے 7/ جنوری کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے لکھنو میں جاری کیا ہے۔اس میں اتر پردیش کے مسلمانوں کے تعلق سے چشم کشا اعداد و شمار دیے گیے ہیں۔ ان اعداو شمار کا مطالعہ خون کے آنسو رلاتا ہے۔

کوئی بھی تو ایسا باعزت شعبہ نہیں جہاں ہم کسی ہم وطن قوم سے آگے ہوں،تعلیم،صحت،کاروبار،زراعت،سرکاری ملازمتیں،ہر جگہ ہم دلتوں سے بھی بہت پیچھے ہیں۔البتہ جیلوں میں اپنی آبادی سے زیادہ ہیں۔

ایسا بھی نہیں کہ مسلمانوں کا ذی شعور طبقہ یہاں نہ ہو،یہاں مسلمانوں کے بڑے بڑے دارالعلوم ہیں۔

زیادہ ترملی جماعتوں کے سربراہ اسی ریاست سے ہیں،مسلم سیاست میں بھی بڑے بڑے رہنما یہاں پیدا ہوئے،اس کے باوجود مسلمان ہر دن ڈوبتے سورج کے ساتھ پسماندگی کی مزید گہرائیوں میں جارہے ہیں۔روزگار سے متعلق کچھ اعدا و شمار آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔یہ اعدار و شمار سرکاری رپورٹوں سے حاصل کیے گئے ہیں اور 2010 سے متعلق ہیں۔ مجلس کی رپورٹ میں مزید تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔

کسی قوم کی خوش حالی اس کی آمدنی کے بجائے اس کے خرچ سے ناپی جاتی ہے،اس لیے کہ کوئی شخص اسی وقت خرچ کرسکتا ہے جب اس کی آمدنی ہو۔ملک میں ایک فیملی ماہانہ 988 روپے خرچ کرتی ہے،اتر پردیش کا مسلمان صرف 752 روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔یعنی ایک پورا گھر 25 روپے یومیہ خرچ کرتا ہے۔

باقاعدہ ماہانہ اجرت پانے والے مزدوروں کا اوسط ملک میں 31.6 ہے اور یوپی کے مسلمانوں کا یہ اوسط 25.6 ہے۔یہی حال سروس سیکٹر میں مزدوری کا ہے۔یوپی کے مسلمانوں کا اوسط 27.3 فیصد ہے۔جب کہ پورے ملک میں یہ شرح 32.2 فیصد ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اتر پردیش کا مسلمان کم آمدنی والے زمرے میں سب سے نیچے ہے۔سن 1993-94 کی ایک رپورٹ کے مطابق زراعت کے شعبے میں مسلمان 44.7 فیصد تھے جو 2009-10 میں گھٹ کر 36.5 فیصد رہ گئے۔جب کے اسی شعبے میں اتر پردیش کے دلتوں کی شرح 51.4 اور او بی سی غیرمسلموں کی شرح 65.5 ہے۔تعمیرات کے شعبے میں ریاست کا دلت 10۔2009 میں 24.8 اور مسلمان 10.3 فیصد ہی ہے۔ یہاں تک 48.5 فیصد مسلمانوں کے پاس اپنا گھر تک نہیں ہے۔

سرکاری خدمات میں نمائندگی کمیونٹی کی حیثیت کا تعین کرنے کا ایک اہم اشارہ ہے۔ یہ لوگوں کو خوش حال بھی بناتا ہے اورطاقت بھی فراہم کرتا ہے۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور ملازمت کے سلسلے میں ان کے ساتھ غیر اعلانیہ امتیازی سلوک کی پالیسی کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں ان کی نمائندگی کم ہے۔

U.P کے ایک سروے سے واضح ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں او بی سی مسلمانوں کا حصہ آبادی میں ان کے حصے سے بہت کم ہے۔

دوسری طرف غیر مسلم او بی سی ذاتوں کوسرکاری خدمات میں زیادہ نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ریزرویشن کا فائدہ زیادہ تر غیر مسلم او بی سی جیسے یادو، کرمی اور جاٹ حاصل کرلیتے ہیں۔

اسی طرح اقلیتوں کے نام پر جو سرکاری مراعات ہیں انھیں جین،بدھ، اور سکھ سماج لیجاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمارسے پتا چلتا ہے کہ 2015 میں یو پی پی ایس سی نے 521 امیدواروں کا انتخاب کیا تھا جن میں سے صرف 19 (3.65 فیصد) مسلمان تھے۔

اسی طرح ماتحت خدمات کے معاملے میں 2013 میں منتخب کیے گئے 1545 امیدواروں میں سے صرف 31 (2.01 فیصد) مسلمان تھے۔

یونیورسٹی کے اساتذہ کے معاملے میں بھی یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ریاستی یونیورسٹیوں میں کام کرنے والے 1834 یونیورسٹی اساتذہ میں سے، صرف 57 (3.11 فیصد) مسلمان تھے۔ U.P ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعہ منتخب کردہ 727 اسسٹنٹ پروفیسرز میں سے 149 اسامیاں او بی سی کے لیے مخصوص تھیں۔ ان عہدوں کے لیے صرف 4.69 فیصد مسلمانوں کا انتخاب کیا گیاتھا۔

ریاست سے باہر جاکر روزگار تلاش کرنے والوں میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں۔ایک سروے کے مطابق اتر پردیش کے تمام مہاجرین میں 51فیصد مسلمان ہیں۔

اس کا مطلب ہے مسلمان اپنی آبادی سے تین گنا زیادہ ہیں۔باہر جانے کی ضرورت تب ہی پڑتی ہے جب کہ کسی کو اس کے اپنے مقام پر روزگار کے مواقع میسر نہ ہوں۔یہ ہجرت اس وقت تو اچھا اشارہ ہے جب کہ وہ کسی بڑے عہدوں پر کام کرنے گئے ہوں،لیکن مسلمانوں کی یہ ہجرت بہت چھوٹے کاروباریا مزدور کی حیثیت سے ہے۔

مثال کے طور پر ممبئی،دہلی میں چھوٹے کامگاروں اور مزدوروں کا تعلق دوسری ریاستوں سے ہے،ان میں بھی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ گھر سے باہر جاکر کام کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کا خاندانی نظام،بچوں کی تعلیم و تربیت، اپنے سماج کے لیے ان کی خدمات وغیرہ سب متأثر ہوتے ہیں۔

معاشی سرگرمیوں میں بینکوں کا اہم رول ہے۔مسلم علاقوں میں بینکوں کی سہولیات بھی کم ہیں،سنبھل اور بل رامپور جہاں سب سے زیادہ مسلمان ہیں،وہیں سب سے کم بینک ہیں،پھر بینکوں نے بعض مسلم علاقوں کو بلیک لسٹ کررکھا ہے، کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ ان علاقوں کے مسلموں کو بینک قرض کیوں نہیں دیتے، مسلم علاقوں میں اے ٹی ایم کی مشینیں بھی بہت کم ہیں۔

مسلم بستیوں کو ہائی وے سے جوڑنے میں بھی سرکاروں نے تعصب سے کام لیا ہے۔سرکاروں کی جانب سے کھولے جانے والے کارخانے اور فیکٹریاں بھی مسلم بستیوں سے دور رکھی گئی ہیں۔یہ سب کام اسی لیے ہیں کہ مسلمان خوش حال نہ ہو، وہ غریب رہے گا تو غلام رہے گا۔

سوال یہ ہے کہ یہ صورت حال کس طرح تبدیل ہوسکتی ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی اور خوش حالی کے لیے حکومتیں ہی منصوبہ بندی کرسکتی ہیں، دلت سماج نے اپنی سیاسی قیادت کھڑی کرکے اور رزرویشن کی بدولت آج اپنی حالت خیر امت سے بہتر کرلی ہے، اسی طرح یادو، جاٹ، کرمی، موریہ وغیرہ ہیں جن کی اپنی سیاسی لیڈر شپ نے ان کے لیے قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح ترقی کے دروازے کھولے ہیں۔

مسلمانوں کی اپنی سیاسی قیادت نہ ہونے کے سبب ان کی آواز اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔اگر اترپردیش کے مسلمان چاہیں تو اپنی حالت بدل سکتے ہیں۔

اس کے لیے ایک ہی راستا ہے کہ مسلمانوں کو رزرویشن دیا جائے، ایک پارٹی نے وعدہ کیا تھا لیکن پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود اس نے مسلمانوں کے رزرویشن پر زبان تک نہیں کھولی۔

اگر مسلمان سیاسی طور پر اپنی قیادت کو مضبوط کریں تو رزرویشن کے حکومت کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی نام نہاد سیکولر پارٹی نے ہمارے ساتھ ظلم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔

اس وقت بھی اتر پردیش میں جو سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں وہ کھلے عام مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ پر مبنی ہیں۔بابری مسجد انہدام، مندر کی تعمیر،مظفر نگر فساد،ماب لنچنگ، لوجہادکے نام شادی کے قانون میں تبدیلی، مسلم نوجوانوں پر یو اے پی اے کا بے دریغ استعمال،سی اے اے این آر سی پر خاموشی، مولاناکلیم صدیقی،عمر گوتم کی گرفتاری،تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کے واقعات کچھ زیادہ پرانے نہیں ہیں، اسی کے ساتھ روزگار اور تعلیم کے مواقع میں سرکاروں کا تعصب ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

مضمون میں پیش کیے گئے آراء و افکار مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

حکومت کمیونٹی کچن کے لئے ماڈل اسکیم تیار کرے: سپریم کورٹ

0

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ بھوک اور سوئے تغذیہ سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی کچن کی ایک ماڈل اسکیم تیار کی جانی چاہئے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز مرکزی حکومت سے کہا کہ بھوک اور سوئے تغذیہ سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی کچن کی ایک ماڈل اسکیم تیار کی جانی چاہئے۔ اور ریاستی حکومتوں پر اسے اپنے مقامی ماحول کے مطابق لاگو کرنے کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی بینچ نے بھوک اور سوئے تغذیہ کے پیش نظر غذائیت سے بھرپور کھانا دستیاب کرانے کے لیے ملک بھر میں سبسڈی والی کینٹین قائم کرنے کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران حکومت سے ماڈل اسکیم تیار کرنے کو کہا۔

سپریم کورٹ نے کرناٹک حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ’اندرا کینٹین‘ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو مقامی کھانے کی عادات کے مطابق ماڈل اسکیم میں تبدیلی کرنا پڑسکتی ہے۔ ماڈل تیار کرتے وقت اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

بینچ نے کہا کہ حکومت ایک ماڈل اسکیم تیار کرکے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اضافی غذائی اجناس فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے سکتی ہے۔

کورونا وبا میں ملک میں ارب پتی افراد کی تعداد 102 سے بڑھ کر 142 ہو گئی

0

عدم مساوات معاشی تشدد کی ایک شکل ہے جہاں پالیسیاں اور سیاسی فیصلے جو چند مراعات یافتہ لوگوں کی دولت اور طاقت کو محفوظ رکھتے ہیں دنیا بھر کے لوگوں کی اکثریت اور خود زمین کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں

کورونا وبا معاشرے کے غریب اور کمزور طبقوں کے لیے بھلے ہی پریشانی اور آمدنی میں کمی کا سبب بنا ہو، لیکن صدی کی اس سب سے زیادہ خوفناک وبا کے دوران ہندوستان کے امیر لوگ اور بھی امیر ہو گئے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم آکسفیم (OXFAM) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں 84 فیصد گھرانوں کو کورونا انفیکشن کی وجہ سے زندگی اور روزی روٹی ختم ہونے کی وجہ سے صرف ایک سال میں آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، وہیں ہندوستان کے ارب پتی لوگوں کی تعداد 102 سے بڑھ کر 142 ہو گئی ہے۔

ہندوستان میں کورونا وبا (مارچ 2020 سے نومبر 2021) کے دوران ارب پتیوں کی ملکیت 23.14 لاکھ کروڑ (313 ارب ڈالر) سے بڑھ کر 53.16 لاکھ کروڑ (719 ارب ڈالر) ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں 46 ملین سے زیادہ ہندوستانیوں کے انتہائی غریب ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ عالمی نئی غربت کے بارے میں اقوام متحدہ کے تخمینہ کا تقریباً نصف ہے۔

عدم مساوات معاشی نظام کا نتیجہ

ہندوستان میں یہ عدم مساوات اس معاشی نظام کا نتیجہ ہے جو غریبوں اور پسماندہ لوگوں پر امیروں کو حاوی کرتا ہے۔

رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ تمام ہندوستانیوں کے لیے اسکولی تعلیم میں زیادہ سرمایہ کاری، عالمی صحت کی دیکھ بھال اور زچگی کی چھٹی، تنخواہ کی چھٹی اور پنشن اور سماجی تحفظ کے فوائد جیسی عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی آبادی کے سب سے امیر 10 فیصد پر ایک فیصد سرچارج لگایا جائے۔

ہر چار سیکنڈ میں ایک شخص کی موت

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے ڈیووس ایجنڈے سے پہلے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عدم مساوات کی وجہ سے ہر روز کم از کم 21,000 یا ہر چار سیکنڈ میں ایک شخص کی موت ہو رہی ہے۔

آکسفیم کے یورپی یونین (ای یو) کے دفتر کے سربراہ ایولین وین رومبرگ نے کہا ہے کہ "انتہائی عدم مساوات معاشی تشدد کی ایک شکل ہے جہاں پالیسیاں اور سیاسی فیصلے جو چند مراعات یافتہ لوگوں کی دولت اور طاقت کو محفوظ رکھتے ہیں دنیا بھر کے لوگوں کی اکثریت اور خود زمین کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔”

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 امیر ترین افراد نے کورونا وبا کے دوران اپنی دولت دوگنی کی جبکہ 99 فیصد کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔