پیر, اپریل 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 270

ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں ملے فروغ

0
ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں ملے فروغ
ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں ملے فروغ

الیکٹرک گاڑیو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان ای وی کنورزن کا بھی بازار تیار ہو رہا ہے۔ اس شعبہ میں کام کرنے والی کمپنی گوگواے 1 نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑی میں تبدیل کرنے کے لئے ای وی کنورزن بنانے والی کمپنیوں نے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سے اس پر بھی ای وی کی طرح جی ایس ٹی لگانے اور اس آلے کو فروغ دینے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں شامل کرنے کی اپیل کی ہے۔

الیکٹرک گاڑیو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان ای وی کنورزن کا بھی بازار تیار ہو رہا ہے۔ اس شعبہ میں کام کرنے والی کمپنی گوگواے 1 نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔

پرانی گاڑیوں کو پھر سے چلانا ہوسکتا ہے ممکن

ای وی کنورزن سے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی پرانی گاڑیوں کو پھر سے چلانا ممکن ہوسکتا ہے۔ گوگواے 1 نے موٹر سائکل کے لئے ملک میں پہلی آر ٹی او کے ذریعہ تصدیق شدہ الیکٹرک کنورزن کٹ لانچ کی ہے۔ کمپنی ہائیبرڈ اور کمپلیٹ کنورزن کٹ کے ذریعہ سے موجودہ دوپہیا، تپہیا اور کاروں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی سے لیس کرتی ہے۔

کمپنی کے بانی شری کانت شندے نے یہاں کہا کہ موجودہ نظام میں کمپنی کو ہر ریاست میں وہاں کے محکمہ ٹرانسپورٹ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اس سے بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ منظوری کے مرکوز نظام ہونے سے ای وی کنورزن کے عمل کو تیز کرنا ممکن ہوگا۔

الیکٹرک کنورزن سے گاڑی کی عمر بڑھ سکتی ہے

مسٹر شندے نے کہا کہ ہندوستان میں زیادہ تر لوگ اپنی گاڑی کو اپنی زندگی بھر کا ساتھ مانتے ہیں اور اسے بیچنا نہیں چاہتے۔ ایسے میں الیکٹرک کنورزن سے گاڑی کی عمر بڑھ سکتی ہے اور اسے پانچ سے سات سال تک اور چلانا ممکن ہوسکتا ہے۔ حکومت کو اس شعبہ میں بھی سبسڈی اور تعاون پالیسیوں کی سمت میں قدم بڑھانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کنورزن کٹ پر 18 فیصد کی شرح سے جی ایس ٹی لگتا ہے۔ وہیں نئی گاڑی پر جی ایس ٹی پانچ فیصد ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت کنورزن کٹ پر بھی جی ایس ٹی کی شرح کم کریں، جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے دوپہیا گاڑی کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرے گی۔

اورنگ زیب کی مسلمانوں سے جنگ اور شیواجی کی مسلم دوستی کی تاریخی حقیقت

0
اورنگ زیب کی مسلمانوں سے جنگ اور شیواجی کی مسلم دوستی کی تاریخی حقیقت
اورنگ زیب کی مسلمانوں سے جنگ اور شیواجی کی مسلم دوستی کی تاریخی حقیقت

تمام مغل حکمرانوں میں سب سے زیادہ متنازعہ حکومت اورنگ زیب کی تھی۔ یہ خیال غلط ہے کہ اورنگ زیب ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے اور یہ کہ انہوں نے مندروں کو منہدم کیا۔ بعض مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے بہت سے مندروں کی تعمیر کرائی یا زمین فرہم کی۔

یہ غلط ہے کہ اورنگ زیب ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے

 امریکی مورخ تروشاک کے مطابق انگریزوں نے "تفرقہ ڈال کر حکومت کرنے” کی پالیسی کے تحت ایسی باتوں کی دانستہ تشہیر کی۔ میرے خیال میں اورنگ زیب نے کسی خاص مذہب کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے جسے کو اپنے لیے خطرہ محسوس کیا اسے تباہ کر دیا، چاہے وہ گرو تیغ بہادر اور ان کے بچے ہوں یا وہ ان کے حقیقی بھائی کیوں نہ ہوں۔ اقتدار کو جس سے بھی خطرہ محسوس ہوا اورنگ زیب نے اسے راستے سے ہٹا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے صوفی بزرگ اور فارسی کے عظیم شاعر سرمد کے قتل میں بھی یک لخت تاخیر نہیں کی۔ جنوب میں بیجاپور اور گولکنڈہ کی مسلم سلطنتوں سے ان کی جھڑپیں ہوئیں۔ شمال مغربی سرحدوں پر، اورنگ زیب کو بھکو یوسفزئی جیسے مسلم جنگجوؤں اور خٹک قبیلے کے سربراہ اور پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک نے بھی للکارا اور مغل افواج کے ساتھ جنگ ​​ہوئی۔

جنگ و جدال سے بھرپور اورنگ زیب کا 49 سالہ دور حکومت

اگر مراٹھی فوجوں کی طرف سے ان کی مخالفت کی گئی تو دہلی کے آس پاس آباد سیدوں (جن کو سادات بارہا کہا جاتا تھا) نے اورنگ زیب کے خلاف بغاوت جاری رکھی۔ اورنگ زیب ان طاقتوں کو دبا نہیں سکے اور اورنگ زیب کی ساری زندگی جنگوں میں گزری۔

اورنگ زیب کا سب سے بڑا ٹکراؤ مراٹھی سورما شیواجی کے ساتھ تھا۔ اس ٹکراؤ کو بہت سے لوگ ہندو مسلم تنازعہ کی نظر سے دیکھتے ہیں، جب کہ شیواجی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھا۔

شیواجی کے دادا مالوجی بھونسلے سلطنت احمد نگر کے نظام ملک عنبر کے کمانڈر تھے اور ان کی قیادت میں ملک عنبر کی فوجوں نے مغل حکمرانوں کے خلاف بہت سی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کامیابیوں سے خوش ہو کر ملک عنبر نے مالوجی بھونسلے کو اپنا وزیراعظم مقرر کیا اور انہیں راجہ کا خطاب دیا۔

شیواجی کی مسلمانوں سے گہری دوستی

مالوجی بھونسلے کو ایک مشہور صوفی بزرگ اور فقیر "شاہ شریف” کی درگاہ سے بہت عقیدت تھی۔ جب ان کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے تو انہیں لگا کہ ان کے ان دونوں بیٹوں کی پیدائش شاہ شریف کی دعاؤں سے ہوئی ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک بیٹے کا نام شاہ جی اور دوسرے کا نام شریف جی رکھا۔ شیواجی مالوجی کے بڑے بیٹے شاہ جی کا بیٹا تھا۔

شیواجی خود بھی بڑے سیکولر تھے۔ وہ ایک صوفی بزرگ "یعقوب بابا” کے مرید بھی تھے۔ لیکن یہ ان کے سیکولر ہونے کا واحد ثبوت نہیں ہے بلکہ مسلمان قدم قدم پر ان کی زندگی میں شامل تھے۔ ان کے توپ خانے کا انچارج ایک مسلمان جرنیل تھا جس کا نام ابراہیم خان تھا۔ شیواجی کی سب سے بڑی طاقت اس کی بحریہ تھی (جو اس وقت کی جدید ترین سمندری قوت تھی) جس کی کمان بھی شیواجی نے دولت خان نامی ایک مسلمان کے ہاتھ میں دے رکھی تھی۔

اس کے علاوہ ایک فوجی جنرل شیواجی کا ایک انتہائی قابل اعتماد کردار تھا، جس کا نام سید بلال تھا، جس نے اورنگ زیب کی فوج کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ پتہ نہینہ جانے فرقہ پرست عناصر اس حقیقت سے کیوں کر بے خبر ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ سپاہیوں پر مبنی شیواجی کی فوج میں 66000 مسلمان تھے۔

بھارت میں ہندو مسلم اتحاد کی مضبوط جڑیں

شیواجی کی لڑائیوں کو ہندو مسلم لڑائیوں کی شکل میں دیکھنے والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ قاضی حیدر نامی ایک مسلمان شیواجی کا پرسنل سیکرٹری اور ایلچی تھا اور سید ابراہیم ان کے سیکورٹی افسر تھے۔ ان کے علاوہ شیواجی کے پرسنل اسسٹنٹ مداری بھی ایک مسلمان تھا۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب شیواجی اورنگ زیب کے بلانے پر آگرہ گئے اور وہاں دھوکہ دہی سے قید کرلیے گئے تو انہیں اور ان کے 9 سالہ بیٹے کو قلعے کے مسلمان عملے نے قلعے کی قید سے فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ ان تمام حقائق کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اہل وطن جان سکیں کہ ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔

اسی لیے ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان پر حکومت کرنے والے حکمرانوں نے مذہب کی جنگ نہیں لڑی بلکہ اقتدار حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے کے لیے جنگیں لڑیں۔ اورنگ زیب کو ہی دیکھ لیں، وہ اپنے دونوں بیٹوں اکبر شاہ اور شاہ عالم کی بغاوت کے ذمہ دار تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب شہزادہ اکبر شاہ نے اپنے والد اورنگ زیب کے خلاف بغاوت کی تو انہیں مراٹھا حکمران شیواجی کے بیٹے چھترپتی سمبھاجی نے پناہ دی جو اورنگ زیب کے سخت مخالف تھے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

دنیا کا سب سے چھوٹا ملک جس کی کل آبادی صرف 27 افراد پر مشتمل ہے، حیرت انگیز انکشاف

0
دنیا کا سب سے چھوٹا ملک جس کی کل آبادی صرف 27 افراد پر مشتمل ہے، حیرت انگیز انکشاف
دنیا کا سب سے چھوٹا ملک جس کی کل آبادی صرف 27 افراد پر مشتمل ہے، حیرت انگیز انکشاف

اٹلی کے بالکل درمیان میں واقع ویٹیکن سٹی دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ ایک گاؤں سے بھی چھوٹا۔ جس کی پوری سرحد آدھے کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ آپ 20 منٹ میں اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پیدل ہی پہنچ جاتے ہیں۔

2۔ موناکو (2.02 مربع کلومیٹر):

موناکو فرانس کے ساتھ سمندر کے کنارے واقع ایک ملک ہے۔ یہاں امیر لوگ موج مستی کرنے آتے ہیں۔ موناکو سب سے چھوٹے ممالک میں سے ہونے کے باوجود بھی انتہائی اعلی معیشت والا ملک ہے۔

3۔ نورو (21 مربع کلومیٹر):

نورو دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ نما ملک ہے۔ یعنی محض ایک جزیرے پر سمٹا ہوا سب سے چھوٹا ملک۔ یہ بحر اوقیانوس کے بالکل درمیان میں واقع ہے۔

4۔ تولو (26 مربع کلومیٹر):

وائی اور آسٹریلیا کے درمیان آباد تولو ملک محض 3 جزائر تک سمٹا ہوا ہے۔

5۔ سان مارینو (61 مربع کلومیٹر):

اٹلی کے درمیان بسا سان مارینو دنیا کا سب سے قدیم ملک بھی تصور کیا جاتا ہے۔

6۔ لچٹین سٹین (160 مربع کلومیٹر):

اس ملک کے بارے میں شاید ہی کسی نے سنا ہو، لیکن یہ ملک جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں نمبر 1 ہے۔ یہ جرمن زبان بولنے والوں کا واحد ملک ہے جہاں پہاڑی سلسلے ہی سلسلے ہیں۔ اور یہاں کوئی ائر پورٹ نہیں ہے۔

7۔ سینٹ کٹس اینڈ نیوس (261 مربع کلومیٹر):

سینٹ کٹس اینڈ نیوس امریکی براعظم کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہ ویسٹ انڈیز کی کالونیوں میں سے ایک کالونی ہے ۔ یہ دو جزائر پر مشتمل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یورپین نے امریکہ کی دریافت کے وقت سب سے پہلے ان جزائر پر قبضہ کیا تھا۔

8۔ مالدیپ (300 مربع کلومیٹر):

مالدیپ ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ چاہے وہ رقبہ کی بات ہو، یا آبادی کی۔ سمندر کے درمیان بسا چھوٹا سا ملک۔

9۔ مالٹا (316 مربع کلومیٹر):

مالٹا ہے تو چھوٹا سا، یوروپ میں سب سے گنجان آبادی والا ملک ہے۔ محض 316 مربع کلومیٹر کا یہ ملک ہمارے ملک کے کسی بڑے ضلع سے بھی چھوٹا ہے۔

10۔ گرنادا۔ 344 مربع کلومیٹر:

یہ ایک جزیرہ ہے جوکہ کریبین سمندر کے درمیان میں آتا ہے۔ یہ جزیرہ اپنے مصالحہ جات کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہے۔ جائفل اور دار چینی کی سب سے زیادہ پیداوار بھی اسی ملک میں ہوتی ہے۔

11۔ دی پرنسپلیٹی آف سی لینڈ

رقبہ: 0.004 مربع کلومیٹر، آبادی: 27 افراد دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے کہ جو بے انتہا وسیع و عریض سمندر کے عین درمیان واقع ہے اس کا رقبہ ایک چھوٹے بحری جہاز کے برابر یعنی 0.025 کلومیٹر اورآبادی صرف 27 افراد ہے۔ اس ملک کا ایک شہزادہ اور شہزادی بھی ہے اور اس نے 1967ءسے آزادی کا اعلان کررکھا ہے۔ سی لینڈ نامی یہ ملک برطانیہ کے ساحلوں سے دور بین الاقوامی سمندر میں واقع ہے اور اس کی اپنی کرنسی، ڈاک ٹکٹ اور قومی ترانہ بھی ہے۔ دراصل یہ ایک پرانا قلعہ ہے جس پر دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے ایک سابقہ میجر رائے بیٹس نے قبضہ کیا۔

اس قلعے کو 1950ءکی رہائی میں خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ رائے نے جنگ کے بعد ماہی گیری اورریڈیو براڈ کاسٹنگ کے مشاغل اختیار کرلئے لیکن برطانوی حکومت کی پابندیوں سے تنگ آکر اس نے بالآخر اس قلعے میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کا منصوبہ بنالیا۔

اس نے اپنی بیوی ہوان کے ساتھ یہاں رہائش اختیار کرلی اور اسے برطانیہ سے آزاد ریاست قرار دے دیا۔ رائے اور ہوان اس ریاست کے پہلے بادشاہ اور ملکہ بن گئے۔ کنکریٹ کے دو بڑے ستونوں کے اوپر لوہے کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہی اس ملک کی کل ”زمین“ ہے اور یہاں کے لوگ پینے کے لیے پانی بھی خود ہی صاف کرتے ہیں اور اپنی زیادہ تر خوراک اور دیگر اشیاء برطانیہ اور یورپ سے درآمد کرتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ایک آن لائن دکان ہے جہاں یہ اپنی ریاست کی یادگاری اشیاءاور اس ملک کے القابات بیچتے ہیں۔

آپ تقریباً 200 پاؤنڈ دے کر اس ریاست کے نواب کا خطاب حاصل کرسکتے ہیں۔اس منفرد ریاست کا دعویٰ ہے کہ جرمنی اور فرانس نے اس کی آزادی حیثیت کو تسلیم کرلیا ہے۔ ریاست کے بانی رائے کی وفات کے بعد اب ان کا بیٹا مائیکل اس سلطنت کا حکمران ہے۔

امریکہ نے یوکرین کو ناٹو کا حصہ بننے سے روکنے کے روسی مطالبے کو مسترد کر دیا

0
امریکہ نے یوکرین کو ناٹو کا حصہ بننے سے روکنے کے روسی مطالبے کو مسترد کر دیا
امریکہ نے یوکرین کو ناٹو کا حصہ بننے سے روکنے کے روسی مطالبے کو مسترد کر دیا

روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے ساتھ اپنے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو متحرک کیا ہے، جس میں مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یوکرین پر ممکنہ روسی حملے کی تیاریاں ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ نے یوکرین کو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) کا حصہ بننے سے روکنے کے روس کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

بی بی سی نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے یہ باتیں روس کی جانب سے یوکرین کے مسئلے کے حل کے مطالبہ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس نے اپنی مغربی سرحدوں کے قریب ناٹو فوجی اتحاد کی توسیع اور دیگر متعلقہ سیکیورٹی مسائل کے حوالے سے اپنے تحفظات کی فہرست پیش کی تھی، جس میں یہ مطالبات بھی شامل تھے کہ ناٹو یوکرین اور دیگر ممالک کی اس اتحاد میں شمولیت کے امکان پر غور کرے۔

مسٹر بلنکن نے کہا کہ وہ روس کو آگے بڑھنے کا سنجیدہ سفارتی راستہ پیش کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ روس اس کا انتخاب کرتا ہے یا نہیں۔

روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے ساتھ اپنے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو متحرک کیا ہے، جس میں مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یوکرین پر ممکنہ روسی حملے کی تیاریاں ہیں۔ روس نے اس کی تردید کی ہے۔

آدھے سے زیادہ افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا: انتونیو گوٹریس

0
آدھے سے زیادہ افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا: انتونیو گوٹریس
آدھے سے زیادہ افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا: انتونیو گوٹریس

سلامتی کونسل سے خطاب میں انتونیو گوٹریس نے کہا کہ نصف سے زائد افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے، افغانستان میں روزمرہ کی زندگی منجمد جہنم بن چکی ہے۔

واشنگٹن: اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی منجمد جہنم بن چکی ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب میں انتونیو گوٹریس نے کہا کہ افغانستان بے شمار خطرات کا شکار ہے، وہاں تعلیم اور سماجی خدمات تباہی کے دہانے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نصف سے زائد افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے، افغانستان میں روزمرہ کی زندگی منجمد جہنم بن چکی ہے۔

سکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں خواتین سماجی کارکنان کے اغوا، گرفتاریوں پر تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جبری گرفتار خواتین سماجی کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے ضوابط معطل کیے جائیں۔

انتونیو گوٹریس نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں عالمی امداد سے پبلک سیکٹر ورکرز کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان دہشت گردی خطرات کم کرنے کے لیے عالمی برادری اور سیکیورٹی کونسل کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کی۔

ہم بھارت کے لوگ جب آئین ہند پڑھتے ہیں تو متحد نظر آتے ہیں

0
ہم بھارت کے لوگ جب آئین ہند پڑھتے ہیں تو متحد نظر آتے ہیں
ہم بھارت کے لوگ جب آئین ہند پڑھتے ہیں تو متحد نظر آتے ہیں

جب ہم آئین کی تمہید پڑھتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ فی الحال تو ’ہم بھارت کے لوگ‘ سب ایک ہیں اور آئین کی اصل روح کو بچانے میں کامیاب ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

’’ہم بھارت کے لوگ متانت و سنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر سوشلسٹ سیکولر عوامی جمہوریہ بنائیں گے اور اس کے تمام شہریوں کے لیے:سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف؛ خیال، اظہار، عقیدہ، مذہب اور عبادت کی آزادی، بہ اعتبار حیثیت اور موقع مساوات حاصل کریں گے اور ان سب میں اخوت کو فروغ دیں گے، جس سے فرد کی عظمت، قوم کے اتحاد اور سالمیت کا تیقن ہو، اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج 26/نومبر 1949ء کو یہ آئین ذریعہ ہذا اختیار کرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اور اپنے آپ پر نافذ کرتے ہیں۔‘‘

ہندوستانی آئین کی یہ تمہید ہمارے دستور کا ایک مختصر تعارف نامہ ہے، جس کا ایک لفظ انتہائی اہم اور با معنی ہے۔ اس میں ہندوستان کے باشندوں کی رہنمائی، آئین کے اصول و ضوابط کی پیش کش، عوام کی امیدوں، توقعات اور عزائم کو عملی جامہ پہنانا اور اس ماخذ کا اعلان کرنا ہے، جہاں سے یہ دستاویز ماخوذ ہے۔ اس تمہید کو بجا طور پر مکمل دستور کا نمائندہ پیش لفظ بھی کہا جا سکتا ہے۔

26 جنوری 1950ء سے پہلے ہمارا ملک

ہمارا ملک بھلے ہی 15؍ اگست 1947ء کو آزاد ہو گیا تھا، لیکن ایک خودمختار ملک تب ہی وجود میں آتا ہے جب اس کا اپنا دستور ہو اور ایک نظام ہو۔ اس لحاظ سے ہندوستان کو 26؍ جنوری 1950ء کو ایک خودمختار ملک کا درجہ ملا جب ہماری دستور ساز اسمبلی کے 366؍ ممبران نے آئین کو پاس کیا۔ اس سے قبل برطانوی حکومت نے ’انڈیا انڈیپنڈنس ایکٹ‘ کے تحت ملک کی باگ ڈور ہمارے قائدین کو سونپی تھی۔ یعنی 26؍ جنوری 1950ء سے پہلے ہمارے ملک میں تقریباً وہی قوانین نافذ تھے جو برطانوی پارلیمنٹ نے 1935ء میں ترمیم شدہ نوآبادیاتی قانون پاس کیے تھے۔ حالانکہ آزادی کے فوراً بعد 28؍ اگست 1947ء کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی سربراہی میں آئین ساز کمیٹی تشکیل دی گئی اور کمیٹی نے اسی سال 4؍ نومبر کو دستور ساز اسمبلی کو ایک مسودہ بھیجا۔

جشن جمہوریہ

اسمبلی کے کل 166؍ اجلاس ہوئے اور کافی بحث و مباحثے کے بعد بالآخر دو سال 11؍ ماہ اور 18؍ دن کے بعد 308؍ ممبران نے ایک خودمختار ہندوستان کے آئین پر دستخط کیے اور 24؍ جنوری 1950ء کو حکومت کے پاس بھیجا۔ دو روز کے بعد 26؍ جنوری کو حکومت نے اسے منظور کر لیا۔ اس طرح 26؍ جنوری 1950ء کو اس کا نفاذ عمل میں آیا۔ بعد ازاں یہی تاریخ ہندوستان کا یوم جمہوریہ کہلائی اور اسی عنوان سے ہر سال اس دن کو جشن جمہوریہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر لکھتے ہیں ’یہ درحقیقت ایک طرز زندگی تھا جو آزادی، مساوات اور اخوت کو زندگی کے اصولوں کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے اور یہ اصول ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوتے: چنانچہ آزادی مساوات سے جدا نہیں ہوتی، مساوات آزادی سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کرتی۔ اسی طرح آزادی اور مساوات اخوت سے الگ نہیں ہوتے۔ آزادی مساوات کے بغیر چند افراد کو برتری عطا کر دیتی ہے۔ مساوات آزادی سے ہم رشتہ نہ ہو تو انفرادی اقدامات کو کچل دیتی ہے۔ نیز اخوت کے بغیر آزادی اور مساوات چیزوں کے فطری بہاؤ کو قائم نہیں رکھ سکتے۔‘

کسی بھی جمہوری ملک کی بنیادیں

اب ذرا آئین ہند کی اس تمہید، اس کے مقاصد اور قانون سازوں کے عزائم کی روشنی میں موجودہ حالات کا جائزہ لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعتماد، اخلاقی اقدار اور انسانیت کے تئیں ایمانداری جمہوریت کی کامیابی کی ضامن ہے۔ اس کے ساتھ ہی مساوات، ہم آہنگی، بھائی چارہ اور حب الوطنی وہ اقدار ہیں جن سے کسی بھی جمہوری ملک کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ 72؍ سال کے بعد آج بھی ہماری جمہوریت تمام تر نشیب و فراز، خدشات اور تحفظات کے درمیان مضبوطی کے ساتھ فی الوقت تو دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ اس کی اصل وجہ ہمارے آئین کی روح، ہماری اقدار و روایات، کثرت میں وحدت اور رنگ برنگی تہذیب وثقافت ہے۔ یہ سب مل کر اس ملک کی روح بنتے ہیں اور یہی روح ملک کی مضبوطی کا سبب بنتی ہے۔

اب اس ملک کے ہر باشندے کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی ملک کے آئین، اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت پر آنچ آئے تو وہ اس کو بچانے کے لئے آگے آئے۔ کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہ ملک اپنے شاندار ماضی اور اپنی اقدار و روایات کے ساتھ آگے بڑھے۔ اسی لئے پچھلے کچھ عرصہ سے مسلسل ایسی کوششیں ہو رہی ہیں کہ ہندوستان کے کثیر رنگی اور تکثیری ثقافت کے تانے بانے کو منتشر کر دیا جائے اور کسی مخصوص تہذیب، کسی خاص فکر اور کسی تنظیم کی اجارہ داری کو اس ملک پر تھوپ دیا جائے۔ اگر یہ طاقتیں اپنے عزائم میں کامیاب ہو گئیں تو نہ یہ ملک مضبوط رہ پائے گا اور نہ ہی ملک کا دستور اور جمہوریت۔

2022ء کا یوم جمہوریہ

افسوس 2022ء کا یوم جمہوریہ ہم ایک ایسے دور میں منا رہے ہیں جب نہ صرف آئین، بلکہ ہندوستان کی اصل روح کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آئین کی تمہید میں شامل ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ جیسے الفاظ اب غیر ضروری لگ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ بنائے رکھنے کا عزم دم توڑتا نظر آ رہا ہے۔ شہریوں کے لیے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔خیالات، اظہار رائے، مذہب اور عبادت کی آزادی پر پہرے بٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مساوات اور اخوت و بھائی چارہ کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے تار تار کیا جا رہا ہے۔ ملک کے اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

آئین کی تمہید میں 42؍ ویں ترمیم کے ذریعہ شامل الفاظ ’سیکولر‘ اور’سوشلسٹ‘ انتہاپسندوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتے رہے ہیں اور شدت پسند تنظیمیں کھلے طور پر یہ کہتی رہی ہیں کہ ان دونوں الفاظ کو آئین سے ہٹا دینا چاہیے۔ انہیں ہٹانے کے لئے نہ صرف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی، بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعہ بھی کوشش کی گئی کہ ان الفاظ کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔ کہا گیا کہ اس سے شہریوں پر سیاسی نظریہ تھوپا جا رہا ہے، کیونکہ حقیقت میں سیکولرازم اور سوشلزم سیاسی نظریہ ہے۔

ہری دوار میں ’دھرم‘ کے نام پر ہونے والی ’سنسد‘

بات اب اس سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ کچھ طاقتیں تمہید یا کچھ الفاظ ہی نہیں، پورے آئین کو ہی کالعدم قرار دینے کا کھلے عام مطالبہ کرنے لگی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہری دوار میں ’دھرم‘ کے نام پر ہونے والی ’سنسد‘ میں ’بھگوا آئین‘ کو پیش کیا گیا۔ باقاعدہ اسے چھپوا کر لایا گیا اور لوگوں سے اسے اپنانے کی اپیل کی گئی، لیکن کوئی کارروائی نہیں۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے مرکزی وزیر رہے اننت ہیگڑے نے ایک عوامی جلسے میں علی الاعلان کہا کہ ’ہم آئین کو بدلنے کے ارداے سے اقتدار میں آئے ہیں‘۔ اس کے علاوہ خود آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ موہن بھاگوت نے حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا ایڈوکیٹ کونسل کی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ’ملک کے اقداری نظام کے مطابق آئین اور نظام انصاف‘ میں تبدیلیوں کی وکالت کی تھی۔

شہریت ترمیمی قانون

غرض یہ کہ وقفہ وقفہ سے ہم ایسے بیانات اور خیالات سے روبرو ہوتے رہتے ہیں، جہاں ہندوستانی آئین میں ’مغربی اثرات‘ کا حوالہ دے کر ’ہندوستانی اقدار‘ کو نظر انداز کرنے کے لئے، تنازعات کا شکار بنایا جاتا ہے۔ یہاں ہندوستانی اقدار سے مراد کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح آئین میں کئی غیر ضروری ترامیم کی جارہی ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون اس کی ایک بڑی مثال ہے۔

ایسے ہی ریزرویشن کے مسئلہ کو بھی بار بار سامنے لایا جاتا ہے۔ ’بھگوا آئین‘ کے ساتھ ساتھ ’منو اسمرتی‘ کو بار بار بحث کا موضوع بنا کر کیا اس ملک کے آئین یعنی اصل روح پر حملہ نہیں کیا جاتا؟ اس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جیسے ان سب حرکات کو حکمرانوں کی حمایت حاصل ہے، ورنہ مکمل خاموشی چہ معنی دارد؟ بہر حال جب ہم آئین کی تمہید پڑھتے ہیں تو یہ احساس تو رہتا ہی ہے کہ فی الوقت ہم بھارت کے لوگ سب ایک ہیں اور آئین کی اصل روح کو بچائے رکھنے میں کامیاب ہیں، لیکن آگے کیا ہونے والا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

سڑک حادثہ میں مہاراشٹر کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت سات اسٹوڈنٹس ہلاک

0
سڑک حادثہ میں مہاراشٹر کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت سات اسٹوڈنٹس ہلاک
سڑک حادثہ میں مہاراشٹر کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت سات اسٹوڈنٹس ہلاک

مہاراشٹر کے ضلع وردھا میں ایک سڑک حادثہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت میڈیکل کے سات اسٹوڈنٹس کی موت

ناگپور: مہاراشٹر کے ضلع وردھا میں ایک سڑک حادثہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت میڈیکل کے سات اسٹوڈنٹس کی موت ہو گئی۔

وردھا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پرشانت ہولکر نے بتایا کہ حادثہ پیر کی رات تقریباً 11.30 بجے اس وقت پیش آیا جب اسٹوڈنٹس کی گاڑی دیولی کے سیلسورا سے گزر رہی تھی۔ اچانک ان کی گاڑی کے سامنے ایک جنگلی جانور آ گیا، ڈرائیور گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا اور کار بے قابو ہو گئی۔

مسٹر ہولکر نے بتایا کہ کار پل سے گر گئی جس سے ساتوں اسٹوڈنٹس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ مرنے والوں کی شناخت نیرج چوہان، نتیش سنگھ، وویک نندن، پرتیوش سنگھ، شبھم جیسوال، پون شکتی اور تروڑا کے ایم ایل اے وجے رہانگڈلے کے بیٹے اویشکر کے طور پر کی گئی ہے۔

تمام طلبا ساؤنگی میڈیکل کالج کے اسٹوڈٹنس تھے اور ان میں سے چھ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے۔

مرکزی حکومت نے متاثرین کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

شام: داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد ہلاک

0
شام: داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد ہلاک
شام: داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد ہلاک

شام میں داعش اور باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک 45 ہزار افراد علاقے سے نکل مکانی کرچکے ہیں۔

دمشق: شورش زدہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیاں خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔ ان جھڑپوں میں پانچ روز میں دو سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

شام میں داعش اور باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک 45 ہزار افراد علاقے سے نکل مکانی کرچکے ہیں۔

داعش کے سلیپر سیلز نے شہر حسکہ میں امریکی حمایت یافتہ باغیوں کی قید سے اپنے کارندے چھڑانے کے لئے حملہ کیا تھا، جس کے بعد کالعدم دولت اسلامیہ اور ایس ڈی ایف کے باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کا آغاز ہوا۔

کرد ملیشیا ایس ڈی ایف نے کہا ہے کہ داعش کے 300 سے زائد کارندوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں جبکہ چند جنگجو مضافاتی عمارتوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ علاقے کو صاف کرانے کے لئے آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ شام کا شمال مشرقی شہر حسکہ امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔

انڈونیشیا میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک

0
انڈونیشیا میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک
انڈونیشیا میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک

انڈونیشیا کے پاپوا کے قصبے سورونگ کے ایک نائٹ کلب میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک

جکارتہ: انڈونیشیا کے پاپوا کے قصبے سورونگ کے ایک نائٹ کلب میں منگل کو دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

صوبائی پولیس کے ترجمان اور سینئر کمشنر ایڈم ایرونڈی نے بتایا کہ ڈبل او ایگزیکٹیو کراؤکی اینڈ کلب میں آدھی رات کو دو گروپوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا، اور پھر عمارت میں آگ لگنے تک ٹکراؤ جاری رہا۔

ایک پولیس افسر نے میٹرو ٹی وی کو بتایا ’’جھڑپ کے بعد عمارت سے 18 دیگر لاشیں ملیں، جس سے مرنے والوں کی تعداد 19 ہو گئی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں نائٹ کلب کے باہر کئی کاروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

بائیڈن کی یوکرین کے تنازع پر یوروپی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ

0
بائیڈن کی یوکرین کے تنازع پر یوروپی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ
بائیڈن کی یوکرین کے تنازع پر یوروپی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف روسی حملے کو روکنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے خلاف روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر ایک میٹنگ کی اور ناٹو کے مشرقی حصے میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

پیر کو ہونے والی ورچوول میٹنگ میں یوروپی کمیشن، یورپی کونسل، ناٹو، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور برطانیہ کے رہنماؤں نے اس مٹنگ میں شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف روسی حملے کو روکنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں روس پر سخت سے سخت اقتصادی پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ناٹو کے مشرق کی جانب سیکیورٹی کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ’’رہنماؤں نے موجودہ کشیدگی کے سفارتی حل کے لیے اپنی مشترکہ خواہش پر زور دیا اور روس کے ساتھ متعدد فارمیٹس میں حالیہ مصروفیات کا جائزہ لیا‘‘۔