پیر, اپریل 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 265

حجاب کے مسئلے کو طول دینا افسوسناک: مایاوتی

0

مایاوتی نے ٹویٹ کیا، مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کا مسئلہ بہت سنگین اور حساس ہے، اس کی آڑ میں سیاست اور تشدد ناانصافی ہے

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کرناٹک میں مسلم خواتین کے حجاب پہننے کے معاملے کو ملک کی سماجی ہم آہنگی کے لیے بہت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر جاری سیاسی ہنگامہ افسوسناک ہے۔

محترمہ مایاوتی نے جمعہ کو کہا کہ حجاب کے مسئلہ کی آڑ میں سیاسی تشدد جائز نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ذریعہ اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کا مسئلہ بہت سنگین اور حساس ہے۔ اس کی آڑ میں سیاست اور تشدد ناانصافی ہے۔

یہ افسوسناک ہے کہ کرناٹک میں اس مسئلہ کو اٹھا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور خیر سگالی کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ اس کا بروقت نوٹس لے۔

قابل ذکر ہے کہ مسلم خواتین کے حجاب پہننے کو شخصی آزادی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر جاری بحث کے شدید ردعمل کا ملک گیر اثر ہو رہا ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے نام پر مذہبی لباس پہننے کی چھوٹ کی مخالفت کر رہا ہے۔

فیصلہ آنے تک حجاب سے گریز کریں طالبات: کرناٹک ہائی کورٹ

0

کرناٹک ہائی کورٹ کا کالجوں میں حجاب پہن کر طالبات کے کلاسوں میں داخل ہونے کی مانگ کرنے والے عرضی گزاروں کو عبوری راحت دینے سے انکار

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے جمعرات کو کالجوں میں حجاب پہن کر طالبات کے کلاسوں میں داخل ہونے کی مانگ کرنے والے عرضی گزاروں کو عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا اور حجاب تنازعہ پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس رتوراج اوستھی نے کہا کہ ہم اس معاملے پر جلد از جلد فیصلہ دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن تب تک ہمیں لگتا ہے کہ امن بحال ہونا چاہیے۔ اس دوران طالبات کو مذہبی لباس پہننے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے جو ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل دیودت کامت نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ طلباء کے حقوق کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ چند دنوں کی بات ہے اور انہیں عدالت سے تعاون کرنا چاہیے۔ ہم کیس کی سماعت کے دوران تمام مذہبی رسومات کو کرنے سے روکیں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس اوستھی نے وکیل کامت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بنچ کو لگتا ہے کہ یہ صورتحال ختم ہو چکی ہے کیونکہ سنگل بنچ نے معاملے کو بڑی بنچ کو بھیج دیا ہے۔

سنگل بنچ کے جسٹس کرشنا ایس دکشت نے کل اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں اہم آئینی امور شامل ہیں اس لئے اسے بڑی بنچ کو سونپ دیا جانا چاہیے۔

عدالت میں معاملے کی اگلی سماعت پیر کو ہوگی۔

سولر لائٹ سے روشن ہوں گے بہار کے گاﺅں، 15 اپریل سے شروع ہوگا پروجیکٹ پر عمل درآمد: نتیش

0

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سولر اسٹریٹ لائٹ لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے مینٹننس اور مسلسل نگرانی کا بہتر انتظام ہو۔ ہم لوگوں کا مقصد ہے کہ سولر اسٹریٹ لائٹ کے ذریعہ لوگوں کو مسلسل فائدہ ملتا رہے

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 1 انے مارگ واقع سنکلپ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے وزیر اعلیٰ سات عزائم منصوبہ 2 کے تحت ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ منصوبہ‘ کی پیش رفت سے متعلق جائزہ میٹنگ کی۔

جائزہ میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات عزائم 2 کے تحت ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ پر عمل درآمد 15 اپریل سے شروع کریں۔ اس کی شروعات ہو نے سے گاﺅں کے راستے اور اہم مقامات سولر لائٹ سے روشن ہوں گے۔ شام سے صبح تک سولر اسٹریٹ لائٹ جلے گی، اس سے گاﺅں کی تصویر بدلے گی اور لوگ بہت خوش ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ کے حوالے سے لوگوں میں بہت جوش و خروش ہے۔ تجرباتی طور پر محکمہ اسے تمام اضلاع کے کم سے کم ایک ایک پنچایت میں شروع کرائیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سولر اسٹریٹ لائٹ لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے مینٹننس اور مسلسل نگرانی کا بہتر انتظام ہو۔ ہم لوگوں کا مقصد ہے کہ سولر اسٹریٹ لائٹ کے ذریعہ لوگوں کو مسلسل فائدہ ملتا رہے۔

اس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا

انہوں نے کہا کہ اس کی پروڈکشن اکائی کو ریاست میں ہی قائم کر نے کے لیے کارو باری لوگوں کو ترغیب دیں تاکہ سولر لائٹ کے سامان کی پیداوار بھی یہیں ہو، ساتھ ہی مقامی لوگوں کو روزگار ملے۔ انہوں نے کہا کہ سولر لائٹ میں استعمال کی جارہی اشیا کا معیار بہتر ہو اسے بھی یقینی بنائیں۔

میٹنگ میں پنچایت راج محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر اروند کمار چودھری نے اپنے پرزنٹیشن کے ذریعہ ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ کی پیش رفت کی تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے اس کی زمین، اہداف، نفاذ اور رابطہ کمیٹی، مالیاتی انتظام، سولر اسٹریٹ لائٹ کے منیٹننس، سولر اسٹریٹ لائٹ کی تنصیب کے لیے جگہوں کا انتخاب کے بارے میں جانکاری دی۔

ہر وارڈ میں اوسطاً 10 سولر اسٹریٹ لائٹ لگائے جائیں گے

انہوں نے بتایا کہ ہر وارڈ میں اوسطاً 10 سولر اسٹریٹ لائٹ لگائے جائیں گے، اس کے علاوہ دیگر اہم عوامی مقامات پر بھی سولر لائٹ لگائی جائے گی۔

میٹنگ میں محکمہ توانائی کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر سنجیو ہنس نے پرزنٹیشن کے توسط سے ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ کے تکنیکی معاون کی شکل میں بہار رینیوئیبل انجری ڈیولپمنٹ ایجنسی (بریڈا) کی طرف سے کیے جارہے کام کی موجودہ پیش رفت کی تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے اس کے مختلف اجزا سولر پینل، بیٹری، بلب کی تکنیکی خصوصیات وغیرہ کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ ریمورٹ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعہ سولر اسٹریٹ لائٹ کے نفاذ کی بہتر طریقہ سے نگرانی کی جائے گی۔

میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر دیپک کمار، چیف سیکریٹری مسٹر عامر سبحانی، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری مسٹر انوپم کمار اور وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی مسٹر گوپال سنگھ موجود تھے۔ جبکہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بجلی کے وزیر جناب بجندر پرساد یادو، پنچایتی راج کے وزیر جناب سمراٹ چودھری، پنچایت راج محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر اروند کمار چودھری اور بجلی محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر سنجیو ہنس منسلک تھے۔

سپریم کورٹ کا کرناٹک کے حجاب تنازعہ پر سماعت کرنے کا اشارہ

0
سپریم کورٹ کا کرناٹک کے حجاب تنازعہ پر سماعت کرنے کا اشارہ
سپریم کورٹ کا کرناٹک کے حجاب تنازعہ پر سماعت کرنے کا اشارہ

کرناٹک کے حجاب تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر، جلد سماعت کی اپیل

نئی دہلی: کرناٹک کے حجاب تنازعہ کے سلسلے میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے جلد سماعت کی اپیل کی گئی ہے۔

چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی سہ رکنی آئینی بینچ کے سامنے سینئر وکیل کپِل سبل نے آج ’خصوصی ذکر‘ کے تحت اس مسئلے کو بے حد ضروری بتاتے ہوئے اس کی جلد سماعت کرنے کی اپیل کی ہے۔

چیف جسٹس نے عرضی گزار کے وکیل کی دلائل سننے کے بعد کہا، ’’یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے زیر فہرست ہے۔ پہلے وہاں سماعت ہونے دیں۔ اس کے بعد ہم اس پر غور کریں گے۔

مسٹر سبل نے فوری سماعت کی ضرورت بتاتے ہوئے دلیل دیتے ہوئے کہا، ’’امتحان ہونے والے ہیں۔ اسکول – کالج بند ہیں۔ لڑکیوں پر پتھراؤ ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے پر فوری طور پر غور کیا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں اس عدالت سے اس عرضی کو زیر فہرست کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘

چیف جسٹس نے کہا، ہم غور کریں گے

چیف جسٹس کے ذریعہ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کا انتظار کرنے کے لئے کہنے پر مسٹر سبل نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ آج حکم پاس نہیں کرتا ہے تو سپریم کورٹ اسے خود منتقل کرکے سماعت کرسکتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا، ’’ہم غور کریں گے۔‘‘

یہ تنازعہ کرناٹک میں پچھلے دنوں تب شروع ہوا تھا، جب ایک تعلیمی ادارے میں طالبات کو حجاب اتار کر کلاس میں آنے کے لئے کہا گیا تھا، جس سے انہوں نے انکار کردیا تھا۔ طالبات کی جانب سے اس معاملے میں ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ حجاب پہننا ان کا آئینی حق ہے اور اس سے انہیں نہیں روکا جا سکتا۔

واضح رہے کہ اس تنازعہ کے سلسلے میں پچھلے دنوں کرناٹک کے اڈوپی میں تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ کئی سیاسی پارٹیوں اور مذہبی تنظیموں نے اس معاملے کی حمایت کی جبکہ کئی نے مخالفت کی ہے۔

اتر پردیش انتخابات: یوپی کے مسلمان کو سیاست میں حصہ داری چاہیے یا فرقہ پرستوں کی شکست؟

0
اترپردیش انتخابات: یوپی کے مسلمان کو سیاست میں حصہ داری چاہیے یا فرقہ پرستوں کی شکست؟
اترپردیش انتخابات: یوپی کے مسلمان کو سیاست میں حصہ داری چاہیے یا فرقہ پرستوں کی شکست؟

اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اب فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے! فیصلہ تھوڑا سخت ہے، مگر یہاں کے مسلمانوں کو سیاست میں اپنی حصہ داری اور فرقہ پرستوں کی شکست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

اسمبلی انتخابات پانچ ریاستوں میں ہو رہے ہیں۔ جیت اور ہار کہیں بھی ہو، بہت معنی رکھتی ہے۔ اسی لئے سیاسی جماعتیں سب جگہ اپنے اپنے مہرے بچھا رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یوپی پر ہی سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ یوپی میں بھی مغربی یوپی اور یہاں کے مسلمان سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس کی کئی اہم اور بنیادی وجوہات بھی ہیں۔ کیوں کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ مغربی یوپی نے پوری ریاست کی سیاست کی سمت طے کر دی ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکمراں جماعت کی اعلی ترین قیادت نے اس خطہ میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ یہ لوگ جتنی شدت سے ہندو، مسلمان، پاکستان، قبرستان، مظفر نگر فسادات کا ذکر کر رہے ہیں اور جاٹ اور مسلمانوں کے زخموں کو کریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، اتنی ہی شدت سے علاقہ کے عوام اتحاد و اتفاق اور سیاسی شعور کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کسانوں نے پہلے ہی انتخابات کی سمت طے کر دی ہے

مسلمانوں کی بھرپور آبادی والا مغربی یوپی کا یہ پورا علاقہ کسانوں کے غلبہ والا علاقہ کہلاتا ہے۔ کسانوں نے پہلے ہی ان انتخابات کی سمت طے کر دی ہے۔ کیوں کہ ایک سال تک ملک کے کسان جس مشکل دور سے گزرے اور انھوں نے جو قربانیاں دیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لہذا اب جبکہ ان کے ہاتھ حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کا موقع آیا ہے تو وہ اسے یوں ہی جانے نہیں دیں گے۔ مغربی یو پی کے جاٹ اور مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی تفریق اور امتیاز نہیں رہا، لیکن 2013ء میں فرقہ پرست طاقتیں اس اتحاد کو توڑنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہاں آگ لگا کر پہلے 2014ء اور پھر 2017ء اور 2019ء میں خوب سیاسی روٹیاں سینکی گئیں۔ آخر کار 2022ء آتے آتے حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔

اب یہاں ہندو اورمسلمان کے درمیان کوئی خلش نظر نہیں آتی، بلکہ سب کسان ہیں۔ ایک سال تک چلنے والی کسان تحریک نے فرقہ پرستوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ ان کی پیشانی پر نظر آنے والی پریشانی کی لکیریں اس بات کی گواہ ہیں۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر اعلی جیسے عہدوں پر بیٹھے لوگ اپنی زبان سے بھی اس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی بساط پلٹتے دیکھ کر ان عہدوں کے وقار کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔

مسلمان با حیثیت ہوتے ہوئے بھی بے حیثیت

یوپی میں مسلمانوں کی آبادی، ان کے ووٹوں اور ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص مغربی یوپی کے کئی اضلاع میں مسلمان فیصلہ کن سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایوان میں ان کی بھرپور نمائندگی ہونی چاہئے، لیکن پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مسلم ووٹوں کی حیثیت بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔ پچھلے کئی انتخابات سے سیکولر کہی جانے والی جماعتیں بھی مسلمانوں کو وہ اہمیت نہیں دے رہی ہیں، جس کے وہ حقدار ہیں۔ اسے وقت اور حالات کی ستم ظریفی کہیں یا مسلمانوں کے سیاسی شعور کی ناپختگی، کہ وہ با حیثیت ہوتے ہوئے بھی بے حیثیت بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ انتخابات یقیناً یوپی کے مسلمانوں کے سیاسی شعور کا بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔ ساتھ ہی یوپی ہی نہیں، ملک کی سیاست کی سمت بھی طے کریں گے، مگر مشکل یہ ہے کہ آج بھی مسلمان تذبذب کا شکار ہیں۔ یوپی میں اگرچہ کافی حد تک تصویر واضح ہے، پھر بھی مسلمان اس کشمکش میں ضرور ہیں کہ وہ فرقہ پرستوں کو شکست دینے کو ترجیح دیں یا پھر اپنی سیاسی نمائندگی یا حصہ داری بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیکولر جماعتوں نے بارہا مسلمانوں کے ووٹوں سے اپنی سیاسی کشتیاں بھنور سے نکالی ہیں اور مسند اقتدار تک پہنچی ہیں، لیکن مسلمانوں کو بار بار طوفان میں لا کر چھوڑا ہے۔

یوپی میں مسلمانوں کی آبادی

یوپی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 20؍ فیصد ہے اور ان میں زیادہ تر مغربی یوپی میں ہی ہیں۔  ریاست کی تقریباً 150؍ سیٹوں پر مسلم رائے دہندگان اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں سے نصف پر مسلم آبادی 20؍ سے 30؍ فیصد تک ہے۔ نصف سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان 30؍ فیصد سے زیادہ ہیں۔ ریاست میں تقریباً تین درجن ایسی سیٹیں بھی ہیں جہاں مسلم رائے دہندگان ہی امیدوار کی جیت اور ہار کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جبکہ تقریبا ً 100؍ سیٹوں پر مسلمان براہ راست اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مغربی یوپی میں اور کچھ مشرقی یوپی میں ہیں۔ سب سے زیادہ مسلم آبادی والی سیٹ رام پور ہے، جہاں 50؍ فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ مغربی یوپی میں لوک سبھا کی 27؍ سیٹیں ہیں۔

2017 میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں مغربی یوپی کا اہم کردار

2014ء میں بی جے پی نے ان میں سے24؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ اسی طرح 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی یہاں 19؍ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں مغربی یوپی کا اہم کردار تھا، کیونکہ یہاں کی 136؍ اسمبلی سیٹوں میں سے 109؍ سیٹوں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن اس بار بی جے پی کے لیے حالات بالکل سازگار نہیں ہیں۔ کیونکہ اس بار مغربی یوپی میں سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد ہوا ہے۔

جاٹ اور مسلمان ایک بار پھر متحد نظر آ رہے ہیں۔ مغربی یوپی میں 27؍ فیصد مسلمان اور 17؍ فیصد جاٹ ووٹر ہیں۔ اس کے علاوہ یادووں کو بھی اگر ملا لیا جائے تو یہ 51؍ فیصد ہو جاتے ہیں۔ اب بی جے پی کو ڈر ہے کہ مسلمان، جاٹ اور یادو کے علاوہ کچھ دوسری برادریاں اس اتحاد کی طرف آ گئیں تو پھر اس علاقے میں بی جے پی کے لئے کیا بچے گا؟

جیت کے بعد بھی یوگی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے محروم رہنے کا امکان

ایسے میں یوگی کی 80؍ بنام 20؍ فیصد کے سہارے فرقہ وارانہ لکیر کھینچنے کی کوشش یہیں ماند پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے والا یوگی کا یہ داؤ پلٹ گیا تو کہنے لگے کہ ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ 80؍ فیصد سیٹوں پر بی جے پی اور 20؍ فیصد سیٹوں پر باقی جماعتیں جیتیں گی۔ لیکن ان کی پریشانی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اگر بی جے پی یوپی میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے، تو اس مرتبہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے محروم رہ جائیں۔

جہاں تک یوپی میں مسلمانوں کی نمائندگی اور حصہ داری کی بات ہے تو ملک کی تعمیر و ترقی میں جس طرح مسلمانوں نے ہمیشہ اپنا بھرپور تعاون دیا ہے، اس لحاظ سے انھیں سیاسی حصہ داری نہیں دی گئی۔ ریاست میں تقریباً 20؍ فیصد مسلمان ہونے کے باوجود اسمبلی میں ان کی نمائندگی محض 4.5؍ فیصد ہے۔ یعنی 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں صرف 23؍ مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ 2012ء میں 68؍ مسلم نمائندے یوپی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جب جب بی جے پی کی طاقت بڑھی ہے، مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کم ہوئی ہے۔

رام مندر تحریک کے عروج کے دور میں سب سے کم مسلم ایم ایل اے

1991ء میں رام مندر تحریک کے عروج کے دور میں سب سے کم محض 17؍ مسلم ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1951-52 میں ہوئے پہلے اسمبلی الیکشن میں 41؍ مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد 1957ء میں 37؍ ،1962ء میں30؍ اور 1967ء کے اسمبلی انتخابات میں 23؍ مسلم ایم ایل اے جیتے۔ 1969 میں ہونے والے الیکشن میں 29؍ مسلم ایم ایل اے بنے، لیکن 1974ء میں پھر کمی دیکھی گئی اور صرف 25؍ مسلم امیدوار ہی جیت درج کر سکے۔ تاہم اس کے بعد مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوا۔ 1977ء میں مسلم ایم ایل اے کی تعداد بڑھ کر 49؍ ہوگئی۔ اسی اتار چڑھاؤ کے درمیان 1991ء میں رام مندر تحریک کے دوران صرف 17؍ مسلم امیدوار جیت سکے۔

تاہم اس کے بعد مسلم اراکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ 1993ء میں 28؍ 1996ء میں 38؍ 2002ء میں 64؍ مسلم نمائندے اسمبلی پہنچے۔ حالانکہ 2007ء میں مایاوتی کے دور میں مسلمانوں کی تعداد میں پھر کمی آئی اور ان کی تعداد 54؍ ہوگئی، لیکن 2012ء میں یہ تعداد 69؍ تک پہنچ گئی۔ پھر جیسے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2017ء میں زبردست کامیابی حاصل کی، یہ تعداد کم ہو کر 23؍ پر آ گئی۔ اب بس 10؍ مارچ کا انتظار ہے جب معلوم ہوگا کہ اس مرتبہ یوپی کے مسلمانوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یوپی میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ پرامن طریقے سے شروع

0
یوپی میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ پرامن طریقے سے شروع
یوپی میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ پرامن طریقے سے شروع

الیکشن کمیشن نے آزادانہ، منصفانہ اور پرامن پولنگ کے انعقاد کے لیے بھرپور تیاریوں کے درمیان وسیع حفاظتی انتظامات کے سائے میں پولنگ شروع ہونے کی اطلاع دی

لکھنؤ: اتر پردیش میں قانون ساز اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے پولنگ جمعرات کی صبح 7 بجے پرامن طریقے سے 11 اضلاع کی 58 سیٹوں پر پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق شروع ہوگئی۔

الیکشن کمیشن نے آزادانہ، منصفانہ اور پرامن پولنگ کے انعقاد کے لیے بھرپور تیاریوں کے درمیان وسیع حفاظتی انتظامات کے سائے میں پولنگ شروع ہونے کی اطلاع دی ہے۔

کمیشن نے شاملی، مظفر نگر، میرٹھ، باغپت، غازی آباد، ہاپوڑ، گوتم بدھ نگر، بلند شہر، علی گڑھ، متھرا اور ہاتھرس اضلاع کی 58 نشستوں کے 10،833 پولنگ مراکز کے 25,880 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے جلد آغاز کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ اس مرحلے میں 11 اضلاع کے 2.28 کروڑ ووٹر شام 6 بجے تک ہونے والی پولنگ میں ای وی ایم میں 73 خواتین امیدواروں سمیت 623 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

ماسک پہن کر ہی پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت

موصولہ اطلاعات کے مطابق پولنگ شروع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد تک صرف چند ووٹرز پولنگ سٹیشن پر پہنچے۔ سرد صبح پولنگ شروع ہونے پر ووٹرز سورج کے اوپر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کووڈ پروٹوکول کے تحت ووٹروں کو صرف ماسک پہن کر پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنز پر سینیٹائزر اور تھرمل اسکیننگ سمیت دیگر انتظامات بھی کیے ہیں۔

خیرگڑھ، فتح آباد، آگرہ جنوب ، بہہ، چھتر، متھرا، سردھنہ، میرٹھ شہر، چھپرولی، بروت، باغپت اور کیرانہ کے 5535 پولنگ مقامات کو ‘انتہائی حساس’ زمرے میں رکھا گیا ہے، جنہیں سیکورٹی کے نقطہ نظر سے حساس اسمبلی حلقوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ یہاں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔

سیکورٹی انتظامات کے تحت پولنگ اسٹیشنوں پر سینٹرل سیکورٹی فورس کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولنگ شروع ہونے سے قبل مرکزی سیکورٹی فورسز کی جانب سے حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا گیا تاکہ ووٹرز بغیر کسی خوف کے اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

اس کے علاوہ، 261 خواتین پولیس اہلکار اور 59 خواتین پولیس انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز کو 138 پنک بوتھوں میں تعینات کیا گیا ہے جو خواتین انتخابی عملہ کی سیٹوں کے پہلے مرحلے میں چلائے جاتے ہیں۔ پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے سینٹرل سیکورٹی فورس کی 800 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جن میں سے 724 کمپنیاں پولنگ اسٹیشنز کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔

یوگی حکومت کے نو وزیر بھی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ان میں شریکانت شرما (متھرا)، اتل گرگ (غازی آباد)، سریش رانا (تھانہ بھون)، کپل دیو اگروال (مظفر نگر)، سندیپ سنگھ (اترولی)، چودھری لکشمی نارائن (چھاتا )، انل شرما (شکارپور)، جی ایس دھرمیش (آگرہ کینٹ) اور دنیش کھٹیک (ہستینا پور) شامل ہیں۔

آسام کے 36 بلدیاتی اداروں کے لئے ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان

0
آسام کے 36 بلدیاتی اداروں کے لئے ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان
آسام کے 36 بلدیاتی اداروں کے لئے ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان

آسام میں، الیکشن چھ مارچ 2022 کو ہوں گے اور نتیجوں کا اعلان نو مارچ کو کیا جائے گا

گوہاٹی: آسام میں ریاستی الیکشن کمیشن نے 36 بلدیاتی اداروں کے لئے ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے بدھ کو یہاں کہا، ’’الیکشن چھ مارچ 2022 کو ہوں گے اور نتیجوں کا اعلان نو مارچ کو کیا جائے گا۔ سبھی پولنگ مراکز پر ووٹنگ کے لئے الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کا استعمال کیا جائے گا۔ متعلقہ میونسیپلٹی بورڈس میں فوری طور پر انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگا۔‘‘

نامزدگی کی آخری تاریخ 16 فروری ہوگی، جبکہ 20 فروری تک امیدوار اپنا نام واپس لے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ کووڈ19 کے پیش نظر الیکشن کے انعقاد کے دوران میونسیپل بورڈ کو ترمیمی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔

ووٹر فوٹو شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) رائے دہندگان کی پہچان کے لئے بنیاد دستاویز ہوگا۔
کمیشن نے کہا کہ سلچر میونسیپل بورڈ کا موضوع بھی عدالت میں زیر غور ہے، اس لئے سلچر میونسیپل بورڈ کے الیکشن کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے طالبات کے حجاب معاملے کو بڑی بینچ کے پاس بھیجا

0
کرناٹک ہائی کورٹ نے طالبات کے حجاب معاملے کو بڑی بینچ کے پاس بھیجا
کرناٹک ہائی کورٹ نے طالبات کے حجاب معاملے کو بڑی بینچ کے پاس بھیجا

کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب معاملہ میں حتمی فیصلہ سے انکار، معاملے کو بڑی بینچ کو سونپا

بنگلور: کرناٹک ہائی کورٹ نے بدھ کو طالبات کے حجاب پہن کر کالجوں میں جانے کی اجازت دینے کے معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ دینے سے انکار کردیا اور معاملے کو بڑی بینچ کے پاس بھیج دیا۔

جسٹس کرشنا دکشت کی سنگل بینچ نے کہا کہ بڑی بینچ اس معاملے میں عبوری راحت پر بھی غور کرے گی۔

جسٹس دکشت نے کہا کہ عدالت کا خیال ہے کہ سماعت میں جن اہم سوالات پر بحث ہو رہی ہے، ان سے متعلق کاغذات چیف جسٹس کے سامنے رکھے جائیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کیا اس معاملے میں ایک بڑی بینچ کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔

بینچ نے کہا کہ عبوری راحت پر بڑی بینچ غور کرے گی، جسے چیف جسٹس اپنی صواب دید سے تشکیل دیں گے۔

جسٹس دکشت نے ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے رجسٹری کو حکم دیا کہ عرضیوں میں عجلت کے پیش نظر دستاویزوں کو فوراً غور کرنے کے لیے چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑی بینچ کی تشکیل کے سلسلے میں چیف جسٹس کے ذریعہ فیصلہ لیے جانے کے بعد عرضی گزار عبوری راحت مانگ سکتے ہیں۔

اس سے پہلے ریاستی پولیس نے اسکول، پی یو کالج، ڈگری کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے 200 میٹر کے دائرے میں کسی بھی مظاہرہ، احتجاج اور بھیڑ جمع ہونے پر پابندی لگادی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے منگل کو تشدد کے معاملے سامنے آنے کے بعد لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کل شام سے تین دنوں تک ریاست کے سبھی اسکول اور کالج بند کرنے کا حکم دیا۔

کیا ہندوستان میں حکومت کرنے والے مسلمان غیرملکی تھے؟

0
کیا ہندوستان میں حکومت کرنے والے مسلمان غیرملکی تھے؟
کیا ہندوستان میں حکومت کرنے والے مسلمان غیرملکی تھے؟

 بابر ہندوستان پر حکومت کرنے والا واحد غیر ملکی مسلمان حملہ آور تھا، باقیوں نے مسلم حملہ آوروں کے خلاف جنگیں کیں

اورنگ زیب کی پالیسیوں سے مغلیہ حکومت کی بنیادیں ہل گئی تھیں جس کی وجہ سے کوئی بھی مغل حکمران مغلوں کی پرانی شان دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ویسے اورنگ زیب کے بعد مغلیہ سلطنت تقریباً ڈیڑھ سو سال تک قائم رہی۔

ذرا سوچئے کہ بابر سے لے کر اورنگزیب تک 182 سالوں (شیر شاہ سوری کے 10 سال گھٹاکر) میں کل 6 مغل حکمران رہے اور پھر اورنگ زیب سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک 150 سالوں میں 13 مغل بادشاہ ہوئے اور مغلوں کا دائرہ بڑھنے کے بجائے حکمرانی کے دائرے میں روزانہ کمی آتی گئی۔

رہی سہی کسر ایران کے حکمران نادر شاہ نے پوری کردی۔ اs نے مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کی سلطنت پر حملہ کر کے (1739ء میں) دہلی کو فتح کیا۔ نادر شاہ نے نہ صرف دہلی کو لوٹا، بلکہ دہلی کے مسلمانوں کو بھی قتل کیا، لیکن فاتح ہونے کے باوجود اس نے ہندوستان پر حکومت نہیں کی۔

نادر شاہ نے محمد شاہ رنگیلے کو اس کی سلطنت تو واپس کر دی، لیکن وہ اپنے ساتھ کروڑوں کی دولت اور مغلوں کا پسندیدہ تخت طاؤس ساتھ لے گیا جس میں کوہ نور جیسے انمول ہیرے جڑے ہوئے تھے۔

بابر کے علاوہ کسی اور غیر ملکی مسلمان حملہ آور نے ہندوستان پر حکومت نہیں کی

میں یہاں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہندوستان پر حملہ کرنے والے تمام غیر ملکی حکمرانوں میں بابر کے سوا کسی نے اس ملک کی باگ ڈور نہیں سنبھالی۔ غوری نے اس کی جگہ مملوک خاندان کو اقتدار سونپ دیا۔ تیمور نے فتح کے بعد سلطنت سیدوں کے حوالے کر دی، نادر شاہ بھی اپنا ملک واپس چلا گیا اور احمد شاہ ابدالی نے بھی اس ملک پر حکومت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان پر حملہ کرنے والوں میں صرف غوری کا مقابلہ راجپوتوں سے تھا اور ابدالی کا مقابلہ مراٹھوں سے تھا، اس کے علاوہ تمام حملہ آوروں کا مقابلہ مسلم فوجوں نے کیا۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ تمام جنگیں مذہب کے لیے نہیں بلکہ دولت کے لیے تھیں۔

مغلیہ سلطنت کی کمزوری سے انگریزوں کے لیے راہ ہموار ہو گئی

جب مغلیہ سلطنت کے برے دن آئے تو مغل حکمران شاہ عالم کے لیے اودھ کے نواب شجاع الدولہ نے بنگال کے حکمران میر قاسم کے ساتھ مل کر بکسر کی جنگ میں انگریزوں کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔ اور ہندوستان پر انگریزوں کی حکمرانی کا راستہ صاف ہو گیا۔

مغل دربار اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ اس کے مقرر کردہ گورنر اور صوبیدار خود حکمران بن گئے۔ اس وقت کہنے کو مغلوں کا راج تھا، لیکن کہیں مراٹھوں کا راج تھا، کہیں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کا راج تھا، تو کہیں سراج الدولہ کا راج تھا۔ یہاں تک کہ اودھ کے نواب غازی الدین حیدر نے بھی مغل حکومت سے منہ موڑ لیا اور 1814ء میں اپنے شاہی قیام کا اعلان کیا۔

انگریزوں کا ہندوستان پر قبضہ

پھر ان آزاد سلطنتوں کو انگریزوں کا سامنا کرنا پڑا اور رفتہ رفتہ سب انگریزوں کے قبضے میں آگئیں یہاں تک کہ مغلوں کا راج صرف دہلی تک رہ گیا۔

اس ماحول میں انگریزوں نے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا شروع کر دیا، اس کام کے لیے انہوں نے اودھ کی سرزمین کو اپنا مرکز بنایا۔

ہندوؤں نے مسلمانوں کے لیے مسجدیں بنائیں اور مسلمانوں نے اودھ میں ہندوؤں کے لیے مندر بنائے

اودھ ایک ایسی ریاست تھی جہاں ہندو برادری مسلمانوں کے لیے مسجدیں اور امام باڑوں کی تعمیر کر رہی تھی، مسلمان ہندوؤں کے لیے مندر بنا رہے تھے۔

نواب واجد علی شاہ نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحد کیا

اودھ کے آخری حکمران نواب واجد علی شاہ نے اپنے دربار کو ہندو مسلم اتحاد کا مرکز بنایا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی اور رقص کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ جہاں ایک طرف مسلمانوں کی ثقافت اور مذہب کا خیال رکھا وہیں ہندو مذہب کا بھی بہت خیال رکھا۔ انہوں نے رام لیلا اور راس لیلا کے اسٹیج میں بہت دلچسپی ظاہر کی اور فنون لطیفہ کو بھی فروغ دیا۔

آپ نے اپنے دربار میں آنے والوں کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ حاکم کو السلام علیکم یا نمسکار کہہ کر مخاطب نہیں کریں گے، بلکہ مرد آداب اور عورتیں تسلیم کہیں گی، تاکہ دربار میں آنے والے کا مذہب معلوم نہ ہو۔

انگریزوں نے اودھ پر قبضہ کرنے کے بعد ہندو مسلم اتحاد کو ختم کردیا

نواب واجد علی شاہ ہندو اور مسلم برادریوں میں مقبول تھے، یہ بات انگریزوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ اسے اودھ پر قبضہ کرنا تھا، اس لیے اس نے اودھ میں بدامنی پیدا کر دی اور ہندو مقدس شہر ایودھیا کو ہندو مسلم تنازعہ کا میدان بنا دیا۔

ایودھیا میں ہندو اور مسلمان سینکڑوں سال سے اکٹھے رہتے تھے لیکن ایک چھوٹی سی چنگاری نے وہاں کا امن و امان ختم کر دیا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1855ء میں ایودھیا کے مشہور ہنومان گڑھی مندر کے قریب ایک مسلمان صوفی کی ایک جھونپڑی تھی جس میں وہ رہتے تھے اور وہیں عبادت کرتے تھے۔ اس فقیر کی موت کے بعد مندر انتظامیہ نے اس کی جھونپڑی کو ہٹا دیا اور یہ بات پھیلا دی گئی کہ ہنومان گڑھی کے قریب ایک مسجد کو گرا دیا گیا ہے، جب کہ ہندو طبقہ کا کہنا تھا کہ وہاں کوئی مسجد تھی ہی نہیں۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

شام میں اسرائیلی حملے میں ایک فوجی ہلاک، پانچ زخمی

0
شام میں اسرائیلی حملے میں ایک فوجی ہلاک، پانچ زخمی
شام میں اسرائیلی حملے میں ایک فوجی ہلاک، پانچ زخمی

شام میں اسرائیلی حملے میں ایک فوجی ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے شام کی سرزمین سے طیارہ شکن میزائل داغے جانے کے جواب میں شامی فضائی دفاع پر حملہ کیا۔

دمشق: شام میں اسرائیلی حملے میں ایک فوجی ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ اطلاع شامی سیکیورٹی فورسز نے جاری اپنے ایک بیان میں دی۔

قبل ازیں، اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے شام کی سرزمین سے طیارہ شکن میزائل داغے جانے کے جواب میں شامی فضائی دفاع پر حملہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیلی حملے کے نتائج کو دیکھنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ حملے میں ایک فوجی ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ حملے میں املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے”۔

اس سے قبل شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی تھی کہ شام کا فضائی دفاعی نظام دمشق پر حملے کا جواب دے رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ شام کی طرف سے طیارہ شکن میزائل داغے جانے سے شمالی اسرائیل میں راکٹ سائرن بجائے گئے تھے۔