اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 264

بہار میں سی بی آئی نے ایک بار لالو پرساد کی گرفتاری کے لیے مانگی تھی فوج کی مدد

0
بہار میں سی بی آئی نے ایک بار لالو پرساد کی گرفتاری کے لیے مانگی تھی فوج کی مدد

مسٹر پرساد چارہ گھوٹالہ میں پہلی بار 134 دن جیل میں رہنے کے بعد 11 دسمبر 1997 کو جیل سے باہر آئے تھے

لالو پرساد کو غیر منقسم بہار کے اربوں ڈالر کے مشہور چارہ گھوٹالہ کے درجنوں معاملے سامنے آنے کے بعد اقتدار سے بے دخل ہونے کے چند دن بعد ہی ہتھیار ڈال کر 30 جولائی 1997 کو پہلی بار جیل جانا پڑا تھا۔

اس سے پہلے مسٹر پرساد کے ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی سے فوج کی مدد لینی پڑی تھی۔ تاہم، دباؤ میں، لالو پرساد نے 30 جولائی 1997 کو عدالت میں ہتھیار ڈال دیے اور تصادم ٹل گیا۔

لالو پرساد چارہ گھوٹالہ میں پہلی بار 134 دن جیل میں رہنے کے بعد 11 دسمبر 1997 کو جیل سے باہر آئے تھے۔

چارہ گھوٹالے میں وارنٹ جاری ہونے کے بعد اس نے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن وہ جیل جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ساتھ ہی بہار پولیس بھی ان کی گرفتاری کی کوشش سے گریز کر رہی تھی۔

دریں اثنا، سی بی آئی کے فوری جوائنٹ ڈائریکٹر یو این وشواس نے لالو پرساد کی گرفتاری کے لیے فوج سے بھی مدد مانگی، لیکن فوج کی جانب سے فوری مدد کرنے سے انکار کردیا۔

اسی دوران 29 جولائی 1997 کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا گیا، ریپڈ ایکشن فورس تعینات کر دی گئی، لیکن لالو پرساد کے حامی کھلے عام پرتشدد مظاہروں کی دھمکیاں دے رہے تھے۔
صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کی تعیناتی کی بھی بات ہوئی۔

بالآخر لالو پرساد کو جھکنا پڑا اور اگلی صبح 30 جولائی 1997 کو لالو پرساد نے سی بی آئی کورٹ میں خودسپردگی کی اور انہیں جیل جانا پڑا۔

 

لالو پرساد کا جیل کا سفر کچھ یوں تھا

لالو پرساد کو پہلی بار 30 جولائی 1997 کو 135 دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

28 اکتوبر 1998 کو دوسری بار 73 دن جیل میں رہے۔

5 اپریل 2000 تیسری بار 11 دن جیل

28 نومبر 2000: غیر متناسب اثاثہ جات کیس میں ایک دن کی جیل

3 اکتوبر 2013 کو چارہ گھوٹالہ کیس میں دوسرے کیس میں مجرم ثابت ہونے پر 70 دن کی جیل

23 دسمبر 2017 کو انہیں چارہ گھوٹالہ کے تیسرے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

انہیں 24 مارچ 2018 کو ڈمکا ٹریژری سے متعلق چوتھے کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گزشتہ سال اپریل میں تقریباً تین سال بعد ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

چارہ گھوٹالہ میں لالو پرساد سے متعلق پانچویں کیس میں فیصلہ 15 فروری کو

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے خلاف چارہ گھپلہ کے سب سے بڑے معاملے آر سی 47 اے/96 میں فیصلہ 15 فروری کو آئے گا۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے تمام ملزمان کو فیصلے کے دن عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔ لالو پرساد عدالت میں پیش ہونے کے لیے اتوار کو ہی رانچی پہنچ چکے ہیں۔ وہیں پارٹی کے علاوہ لالو پرساد پارٹی کے علاوہ ’مہا گٹھ بندھن‘ سمیت دیگر لیڈروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

مسٹر پرساد نے پیر کی صبح رانچی کے مورہ آبادی میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دھوپ کا بھی لطف اٹھایا۔ وہیں صبح سے سب سے پہلے لالو پرساد سے ملنے والے ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر اور رکن اسمبی بندھو ترکی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یہ ڈورنڈا ٹریژری سے 139.35 کروڑ روپے غیر قانونی طریقے سے نکالنے سے جڑا معاملہ ہے۔ معاملے میں شروع میں 170 ملزمان تھے جن میں سے 55 ملزمان کی موت ہوگئی ہے۔ دپیش چانڈک اور آر کے داس سمیت سات ملزمین کو سی بی آئی نے گواہ بنایا۔ سشیل جھا اور پی کے جیسوال نے فیصلے سے اقبال جرم کر لیا۔ معاملے میں چھ ملزمان مفرور ہیں۔

اس ہائی پروفائل معاملے میں لالو پرساد کے علاوہ سابق رکن پارلیمان جگدیش شرما، ڈاکٹر آر کے رانا، اس وقت کے پی اے سی صدر دھرو بھگت، اس وقت کے انیمل ہسبنڈری سکریٹری بیک جولیس، محکمہ انیمل ہسبنڈری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر کے ایم پرساد سمیت 99 ملزمان کے خلاف 15فروری کو فیصلہ آئے گا۔ معاملے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 575 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ وکیل دفاع کی جانب سے 25 گواہ پیش کیے گئے۔

اترپردیش: دوسرے مرحلے کی 55 سیٹوں پر ووٹنگ کا آغاز

0
اترپردیش: دوسرے مرحلے کی 55 سیٹوں پر ووٹنگ کا آغاز
اترپردیش: دوسرے مرحلے کی 55 سیٹوں پر ووٹنگ کا آغاز

اترپردیش میں دوسرے مرحلے کے تحت امروہہ، سہارنپور، بجنور، رامپور، سنبھل، مرادآباد، بریلی، بدایوں اور شاہجہاں پور سمیت 55 سیٹوں پر سخت سیکورٹی کے انتظامات کے درمیان ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے

لکھنؤ: اترپردیش میں دوسرے مرحلے کے تحت 9 اضلاع کی 55 سیٹوں پر پیر کو سخت سیکورٹی کے انتظامات کے درمیان ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ رائے دہندگان صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں گے۔

چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے اتوار کو کہا کہ ان تمام سیٹوں پر مجموعی طور سے 2.02 کروڑ رائے دہندگان بشمول 1.05 کروڑ مرد اور 94 لاکھ خواتین 586 امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ جن میں 69 خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا 12544 پولنگ سنٹرس کے 23404 پولنگ بوتھ پر رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ سال 2017 میں ان سیٹوں پر مجموعی ووٹنگ کا اوسط فیصد 65.53 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

آٹھ اسمبلی حلقوں کو حساس حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے

وہیں اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق) پرشانت کمار نے کہا آٹھ اسمبلی حلقوں بشمول نگینہ، دھام پور، بجنور، اسمولی، سنبھل، دیوبند، رامپور منہارن اور گنگوہ کو حساس حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں 436 بستیوں اور مقامات کو کافی حساس اور 4917 پولنگ بوتھ کو حساس بوتھوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

اے ڈی جی نے بتایا کہ خواتین کے لئے 127 پنک بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں پر 42 خاتون انسپکٹر یا سب ۔انسپکٹر اور 488 کانسٹیبل اور ہیڈکانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔ اس مرحلے میں سنٹرل فورسز کی 733.44 کمپنیوں کو 12544 پولنگ بوتھ پر تعینات کیا گیا ہے۔

یو پی پولیس نے 6860 انسپکٹر اور سب انسپکٹر، 54670 کانسٹیبل و ہیڈکانسٹیبل کے ساتھ 18.01 کمپنی پی اے سی، 930 پی آر ڈی جوان اور 7746 چوکیداروں کو اس مرحلے میں تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق جن اضلاع میں ووٹنگ ہونی ہے تمام شراب کی دوکانیں 5 بجے تک بند رہیں گی اور سرحدیں سیل کردی گئی ہیں۔

یوگی حکومت کے تین وزیر اپنی قسمت آزما رہے ہیں

جن اضلاع کی 55 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے ان میں امروہہ، سہارنپور، بجنور، رامپور، سنبھل، مرادآباد، بریلی، بدایوں اور شاہجہاں پور شامل ہیں۔ اس مرحلے میں یوگی حکومت کے تین وزیر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سہارنپور سے سریش کھنہ، ضلع سنبھل کی چندوسی سے گلابو دیوی اور رامپور کی بلاسپور سیٹ سے بلدیو سنگھ اولکھ شامل ہیں۔

اپوزیشن کے معروف چہرے جو انتخابی میدان میں ہیں ان میں سینئر سماج وادی پارٹی (ایس پی) لیڈر اعظم خان رامپور صدر سے، یوگی کابینہ کے سابق وزیر اور اب ایس پی امیدوار دھرم پال سنگھ سینی ضلع سہارنپور کی نکور سے اور امروہہ سے محبوب علی قابل ذکر ہیں۔

مسلم اکثریتی علاقے کو ذہن میں رکھتے ہوئے مختلف پارٹیوں نے 75 سے زیادہ مسلم امیدوار اتارے ہیں۔ ان میں بی ایس پی کے سب سے زیادہ 25، ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کے 18، کانگریس نے 23 مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ وہیں ایم آئی ایم کے 15 مسلم چہروں نے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔

55 سیٹوں میں سے تقریبا 25 سیٹوں پر مسلم ووٹر ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں

تقریبا ایک مہینے تک چلی انتخابی مہم میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں ایس پی، بی ایس پی ؤ، آر ایل ڈی، اور کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والی 55 سیٹوں میں سے تقریبا 25 سیٹوں پر مسلم ووٹر اور 20 سے زیادہ سیٹوں پر دلت ووٹر ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس علاقے میں سال 2017 کے مودی لہر نے دلت۔ مسلم صف بندی کی وجہ سے ماضی میں بی جے پی کے کمزور ہونے کے طلسم کو توڑتے ہوئے 55 میں سے 38 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ جبکہ ایس پی کو 15 اور اس کی اتحادی پارٹی کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ اس وقت ایس پی کے 15 میں سے 10 اور کانگریس کے دو میں سے ایک مسلم ایم ایل اے جیتے تھے۔ ماہرین کی رائے میں دلت ووٹوں میں تقسیم کا سیدھا اثر یہ ہوا کہ سابقہ الیکشن میں بی ایس پی کا اس علاقے میں کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔

اس الیکشن میں کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کی مشکلیں بڑھا سکتی ہے۔ وہیں مخالف خیمے سے ایس پی نے اس علاقے میں احتجاج کو شباب پر پہنچا کر ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے سال 2012 میں جب ایس پی نے حکومت بنائی تھی اس وقت بھی ایس پی کو اس علاقے کی 55 سیٹوں میں سے 27 سیٹوں میں جیت ملی تھی جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں 8 سیٹیں آئی تھیں۔

9 اضلاع میں سے سات اضلاع میں دلت مسلم ووٹر ہی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والے 9 اضلاع میں سے سات اضلاع رامپور، سنبھل، مرادآباد، سہارنپور، امروہہ، بجنور اور نگینہ میں دلت مسلم ووٹر ہی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی نے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کیا تھا اور ان سات اضلاع کی سبھی سات لوک سبھا سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ ان میں ایس پی کو رامپور مرادآباد اور سنبھل جبکہ بی ایس پی کو سہارنپور، نگینہ، بجنور اور امروہہ سیٹوں میں جیت ملی تھی۔

واضح رہے کہ اس الیکشن میں ذات پات کی صف بندی کی بنیاد پر بی جے پی کے لئے سابقہ الیکشن کی طرز پر مذہب کی بنیاد پر اور سیکورٹی کے مسئلے پر ووٹوں کی تقسیم کرانا سخت چیلجنگ ثابت ہوا ہے۔ سبھی پارٹیوں کے امیدواروں کی فہرست سے صاف ہوگیا ہے کہ اس علاقے میں الیکشن کا دارومدار دلت، جاٹ اور مسلم ووٹوں کے پولرائزیشن پر منحصر ہے۔

جہاں تک انتخابی مہم کا سوال ہے تو کورونا انفکشن کے خطرے کے درمیان ہو رہے اس الیکشن میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں انتخابی مہم کا شور کافی کم رہا۔ الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائن کے تحت ریلی، جلوس اور روڈ شو وغیرہ پر پہلے ہی روک لگا دی تھی۔

ورچول انتخابی تشہیر کے معاملے میں بی جے پی نے اپوزیشن پارٹیوں کو ضرور پیچھے رکھنے کی کوشش کی لیکن 6 فروری سے عوامی ریلیاں کرنے کی اجازات ملنے کے بعد ایس پی۔ بی ایس پی اور کانگریس محدود روڈ شو اور عوامی ریلیاں کر کے ووٹروں تک اپنے پیغام پہنچانے میں مشغول ہیں۔

بی ایس پی سپریمو مایاوتی ابتدا میں اگرچہ سے انتخابی مہم سے دور رہیں لیکن دو فروری سے انہوں نے مغربی اترپردیش میں تین ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا۔

کسانوں کا غصہ بی جے پی کے لئے سب سے بڑا چیلنج

انتخابی ایجنڈوں کی اگر بات کی جائے تو کسان تحریک کا گڑھ رہے مغربی اترپردیش میں کسانوں کی پریشانیاں سب سے بڑا ایجنڈا ہیں۔ ماہرین کی رائے میں مودی حکومت بھلے ہی تینوں زرعی قوانین واپس لے کر سب سے لمبے کسان تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہو لیکن کسانوں کا غصہ اب بھی بی جے پی کے لئے اس الیکشن کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

اترپردیش میں کسانوں کے اشتعال کو کم کرنے کے لئے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے ترقیاتی کاموں کا اس علاقے میں جم کر انتخابی مہم چلائی ہے۔ بی جے پی نے شاہ کو مغربی اترپردیش میں پارٹی کا انتخابی انچارج بنایا ہے۔ یہ الیکشن شاہ کے انتخابی انتظامات کو بھی کسوٹی پر پرکھے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2012 میں جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی تھی اس وقت ایس پی نے 55 میں سے 27 سیٹوں پر جیت درج کی تھی جب کہ بی جے پی کے کھاتے میں محض 8 سیٹیں آئی تھیں۔

مغربی اترپردیش کسان تحریک کا گڑھ

ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اکھلیش کے انتخابی نتائج کی لگاتار ناکامیوں پر اس الیکشن میں بریک لگتا ہے یا نہیں۔ وہ آر ایل ڈی کے جینت چودھری کے ساتھ پورے مغربی اترپردیش میں لگاتار انتخابی مہم کر کے کسانوں کے پریشانیوں کو اہم ایجنڈا بنا رہے ہیں۔ جس سے کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کا وجئے رتھ روک سکے۔ علاوہ ازیں یہ الیکشن جینت چودھری کے لئے بھی سخت امتحان ہے۔ یہ انتخاب یہ طے کرے گا کہ وہ جاٹ لینڈ کے چودھری ہیں یا نہیں۔

بی ایس پی کی بھی کوشش ہے کہ مغربی اترپردیش میں ایس پی آرایل ڈی اتحاد اور بی جے پی کی لڑائی کو سہ رخی بنا دیا جائے۔ اس علاقے کی دلت اکثریتی دو درجن سیٹوں پر اپنے امیدوار جتانے کی بی ایس پی کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ سابقہ امتحانات میں اس علاقے سے ایک بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ کرپانے والی بی ایس پی کے لئے یہ الیکشن اپنے وجود کو ثابت کرنے والا ہوگیا ہے۔

یوگی کا اویسی کو جواب: ملک شریعت سے نہیں آئین سے چلے گا

0

ایم آئی ایم سربراہ اویسی نے ایک ریلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا ’حجاب پہنیں گی، کالج جائیں گی، ڈاکٹر بنیں گی، کلکٹریٹ، ایس ڈی ایم بنیں گی اور یاد رکھنا شاید میں زندہ رہوں نہ رہوں لیکن انشاء اللہ اس ملک کی ایک بیٹی حجاب پہن کر وزیر اعظم بنے گی

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اسدالدین اویسی کے ’حجاب پہننے والی مسلم لڑکی کے وزیر اعظم بننے‘ کے بیان پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک شریعت سے نہیں آئین سے چلے گا۔

ایم آئی ایم سربراہ اویسی نے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کے معاملے پر ایک سیاسی ریلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا ’حجاب پہنیں گی، کالج جائیں گی، ڈاکٹر بنیں گی، کلکٹریٹ، ایس ڈی ایم بنیں گی اور یاد رکھنا شاید میں زندہ رہوں نہ ہوں لیکن انشاء اللہ اس ملک کی ایک بیٹی حجاب پہن کر وزیر اعظم بنے گی۔

اویسی کے اس بیان کے بعد بغیر نام لئے یوگی نے جوابی ٹویٹ کر کے کہا ’غزوہ ہند‘ کا خواب دیکھنے والے ’طالبانی سوچ‘ کے ’مذہبی انمادی‘ یہ بات گانٹھ باندھ لیں۔ وہ رہیں یا نہ رہیں ہندوستان شریعت کے حساب سے نہیں، آئین کے حساب سے ہی چلے گا جئے شری رام‘۔

قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں ایک تعلیمی ادارے میں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کالج میں داخلہ نہ دینے کا معاملہ ان دنوں میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔

طالبات نے اسکول انتظامیہ کی جانب سے حجاب کے ساتھ داخلہ نہ دینے کو اپنے انتخاب کی آزادی کی آئینی حق سے محروم کئے جانے کے دعوی کے ساتھ کرناٹک ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ لیکن اس پر اب سیاست بھی شروع ہوگئی ہے اور کرناٹک کے ایک اسکول کے معاملے کی تپش اب اترپردیش کی سیاست میں بھی محسوس کی جانے لگی ہے۔

حامد کرزئی کی بائیڈن سے افغان فنڈ پر آرڈر واپس لینے کی اپیل

0

امریکہ نے تقریباً 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سے آدھا افغانستان میں انسانی امداد کے لیے دیا جائے گا اور بقیہ فنڈز نائن الیون حملوں کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جائیں گے

کابل: سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن پر زور دیا کہ وہ افغان فنڈ پر اپنا فیصلہ واپس لیں۔

 

طلوع نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسٹر کرزئی نے دارالحکومت کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کا تعلق کسی حکومت سے نہیں، بلکہ افغان عوام سے ہے اور اسے افغانستان کے مرکزی بینک کو واپس کیا جانا چاہیے۔ مسٹر کرزئی کا یہ ردعمل مسٹر بائیڈن کی جانب سے افغانستان میں جاری بحران اور اقتصادی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جمعہ کو ایک حکم جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ نے تقریباً 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں سے آدھا افغانستان میں انسانی امداد کے لیے دیا جائے گا اور بقیہ فنڈز 9/11 حملے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

مسٹر کرزئی نے کہا کہ امریکہ کی طرح افغانستان کے لوگ بھی دہشت گردی کے شکار ہیں۔ افغان عوام کا پیسہ نائن الیون حملوں کے متاثرین کو نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو افغانی نہیں بلکہ غیر ملکی لائے تھے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اسامہ پاکستان سے افغانستان آیا تھا اور واپس گیا اور وہیں مارا گیا تھا لیکن افغانستان کے عوام اس کے اعمال کی قیمت چکا رہے ہیں۔

مسٹر کرزئی نے یہ بھی کہا کہ اگر روکے گئے امریکی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں تو طالبان کو اسے خرچ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ روزمرہ کے اخراجات کے لیے نہیں ہے بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جانا چاہیے۔

مودی جی کب تک اصل مسائل سے عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے: پرینکا

0
مودی جی کب تک اصل مسائل سے عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے: پرینکا
مودی جی کب تک اصل مسائل سے عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے: پرینکا

ایک میڈیا رپورٹ میں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کے خودکشی کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کی بات کا انکشاف کیا گیا ہے

لکھنؤ: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کی خودکشی کے معاملے میں گذشتہ چھ سالوں میں اضافے کی بات اجاگر کرنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ ملک کے نوجوانوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ آخر کب تک اصل مسائل سے عوام کو گمراہ کیا جائے گا۔

ایک میڈیا رپورٹ میں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کے خودکشی کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کی بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے حوالے سے پرینکا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ گذشتہ چھ سالوں میں بے روزگاری سے خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں 60 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2018۔20 کے درمیان بے روزگاری کی وجہ سے ہر مہینے اوسطا 12 لوگوں نے خودکشی کی ہے۔

پرینکا گاندھی نے اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم مودی سے پوچھا ’مودی جی 70 سالوں کی رٹ چھوڑ کر اصل مسئلے پر بات کیجئے۔ نوجوان تکلیف میں ہیں۔ کب تک اصل مسائل سے گمراہ کریں گے۔‘

قابل ذکر ہے کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے بھی اس رپورٹ کے حوالے سے بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کے معاملے میں اضافہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کو نصیحت دی کہ وہ ملکی مفاد میں تنگ نظری کو ترک کردے اور سچائی سے منھ نہ پھیرے۔

ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی

0
ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی
ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی

مایاوتی کا کسانوں کے بعد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور نوجوانوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ پر اظہار تشویش

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کسانوں کے بعد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور نوجوانوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سامنے آنے کے باوجود بی جے پی کی ترقی اور شائننگ انڈیا کے دعوے کتنے صحیح ہیں اس پر غور کیا جانا چاہئے۔

مایاوتی نے بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کی خودکشی کے معاملے میں اضافے کو اجاگر کرنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے حوالے سے اتوار کو اس معاملے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر بحث کرانے سے بچ رہی حکومت کی تنقید بھی کی۔

انہوں نے ٹویٹ کر کے لکھا ’قرض میں ڈوبی گھٹن کی زندگی کو مجبور کسانوں کی خودکشی کی خبریں پریشان کن ہیں۔ لیکن اب بے روزگار نوجوانوں کے ذریعہ بھی خودکشی کرنے کی مجبوری نے قومی تشویش، بے چینی و اشتعال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پھر بھی ترقی اور انڈیا شائننگ وغیرہ جیسا بی جے پی کا دعوی کتنا مناسب ہے۔

اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے اس سلگتے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث سے انکار کرنے کو بی جے پی کی مغرور سوچ کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے بی جے پی کو ملکی مفاد میں تنگ نظری کو ترک کرنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا ’بی جے پی کے ذریعہ پارلیمنٹ میں بھی بے روزگاری کے تازہ قومی مسئلے پر بحث سے انکار کرنا ان کی غلط و پرغرور سوچ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔کون نوجوان بے روزگاری کا طعنہ و رسوائی برداشت کرنا چاہتا ہے؟۔ بی جے پی کے لوگ اپنی تنگ نظری کو ترک کریں تبھی ملک کا کچھ فائدہ ممکن ہے۔

یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا

0
یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا
یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا

جنوبی یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا، اغوا کار اقوام متحدہ کے کارکنوں کو نامعلوم مقام پر لے گئے

صنعاء: یمن پریس ایجنسی (وائی پی اے) کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے عملے (پانچ یمنی اور ایک بلغاریائی شہری) کو جمعہ کے روز صوبہ ابیان سے اغوا کر لیا گیا۔ مقامی ذرائع نے ہفتے کے روز وائی پی اے کو بتایا کہ اغوا کار اقوام متحدہ کے کارکنوں کو نامعلوم مقام پر لے گئے۔

ابھی تک کسی نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق القاعدہ کی ایک مقامی شاخ (روس میں کالعدم دہشت گرد گروپ) اس اغوا کے پیچھے ہو سکتی ہے۔

وائی پی اے کے مطابق بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس نے گزشتہ سال یمن کے شہر ابیان میں امدادی تنظیم کی دو گاڑیوں کو نامعلوم دہشت گردوں کی طرف سے لوٹ لینے کے بعد انسانی بنیادوں پر کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔

معروف صنعت کار راہل بجاج کا پونے میں انتقال

0

راہل بجاج نے 1965 میں بجاج گروپ کی ذمہ داری سنبھالی اور گزشتہ 50 سالوں میں اپنے گروپ کو بہت بلندیوں پر لے گئے

پونے: معروف صنعت کار اور بجاج گروپ کے سابق چیئرمین راہل بجاج کا ہفتہ کو شہر پونے، مہاراشٹرا میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 83 برس تھی اور وہ طویل عرصے سے کینسر میں مبتلا تھے۔

10 جون 1938 کو کولکتہ میں پیدا ہونے والے راہل بجاج نے 1965 میں بجاج گروپ کی ذمہ داری سنبھالی اور گزشتہ 50 سالوں میں اپنے گروپ کو بہت بلندیوں پر لے گئے۔

حکومت ہند نے انہیں 2001 میں پدم بھوشن سے نوازا۔ وہ 2006 سے 2010 تک راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔

لوک سبھا میں تبدیلی مذہب پر ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ

0

ہندو مذہب میں ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے والے شخص کے تبدیلی مذہب کی صورت میں ریزرویشن ختم کرنے کی مانگ لوک سبھا میں گونجی

نئی دہلی: ہندو مذہب میں ریزرویشن کا فائدہ حاصل کرنے والے شخص کو تبدیلی مذہب کی صورت میں اس کے لئے ریزرویشن کی سہولت ختم کرنے کا مطالبہ لوک سبھا میں کیا گیا۔

لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نشی کانت دوبے نے وقفہ صفر میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہب میں رہتے ہوئے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، پسماندہ طبقات وغیرہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریزرویشن کا فائدہ ملتا ہے۔ کیونکہ ریزرویشن کا نظام ان طبقات کے لیے آئین بنانے والوں نے آئین میں کیا ہے اور ملک کی پارلیمنٹ ان برادریوں کے لوگوں کو یہ حق دے رہی ہے۔ لیکن ایسے لوگ مذہب تبدیل کرنے پر بھی ان سہولیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذات، قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام، عیسائیت یا بدھ مذہب اختیار کرتے ہیں، تو انہیں ان مذاہب کارکن بننے پر ہندو مذہب میں ملنے والے ریزرویشن کی سہولتیں نہیں دی جانی چاہئیں اور اسے ختم کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

افغانستان کے منجمد اثاثوں سے متعلق ایگزیکٹیو آرڈر پر بائیڈن نے کئے دستخط

0

ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت افغانستان کی 7 ارب ڈالر کی منجمد رقم جاری کی جائے گی

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کے منجمد اثاثوں سے متعلق ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کردیئے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت افغانستان کی 7 ارب ڈالر کی منجمد رقم جاری کی جائے گی۔ آرڈر کے تحت رقم کنسولیڈیڈٹ اکاؤنٹ میں منتقل کرنا ہوگی۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 3.5 ارب ڈالر کی رقم افغانستان میں انسانی امداد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ افغان عوام کی مدد کے لیے آئندہ مہینوں میں ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائےگا۔

امریکی حکام کے مطابق باقی 3.5 ارب ڈالر کی رقم امریکہ میں ہی رہےگی۔ رقم سے نائن الیون حملوں کے متاثرین کی جاری قانونی چارہ جوئی کی فنڈنگ کی جائے گی۔

امریکی حکام نے مزید کہا کہ منصوبے کا مقصد افغان عوام کو فائدہ پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ منجمد افغان فنڈز کے منصوبوں پر بات چیت کی۔ 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منجمد افغان اثاثوں میں اکثریت امریکی اور دیگر عطیہ دہندگان کی فراہم کی گئی امدادی رقومات ہیں۔