اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 263

معروف صحافی رویش تیواری کا انتقال

0
معروف صحافی رویش تیواری کا انتقال
معروف صحافی رویش تیواری کا انتقال

انڈین ایکسپریس کے نیشنل بیورو چیف رویش تیواری کا 41 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، ان کی آخری رسومات آج سہ پہر 3.30 بجے گروگرام کے سیکٹر 20 میں ادا کی جائیں گی

نئی دہلی: سینئر صحافی اور انڈین ایکسپریس کے نیشنل بیورو چیف رویش تیواری کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 41 سال تھی۔

سینئر صحافی کے ساتھی وکاس بھدوریا نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی۔ معروف صحافی رویش گزشتہ دو سال سے کینسر سے لڑ رہے تھے اور گزشتہ رات ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طبیعت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا لیکن انہیں بچایا نہیں جاسکا۔

مسٹر بھدوریا نے بتایا کہ ان کی آخری رسومات آج سہ پہر 3.30 بجے گروگرام کے سیکٹر 20 میں ادا کی جائیں گی۔

سی اے اے مخالف مظاہرین کی ضبط کی گئی جائیداد اور رقم اترپردیش حکومت واپس کرے: سپریم کورٹ

0

سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی جائیداد ضبط کرنے کے یوپی سرکار کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط کی گئی جائیداد کی واپسی کا حکم دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو اتر پردیش حکومت سے کہا کہ وہ سی اے اے مخالف مظاہرین کی جائیدادوں کو واپس کرے جو اس نے 2019 میں، سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کے بعد ضبط کرلی تھی۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بنچ اترپردیش کے خلاف پرویز عارف ٹیٹو سمیت کئی عرضیوں کی سماعت کر رہی تھی۔ 2019 میں، سی اے اے ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران اتر پردیش میں کئی مقامات پر تشدد ہوا تھا۔ اس میں سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو جتنا بھی نقصان پہنچا، اس کا نقصان مظاہرین سے لیا گیا تھا۔ اترپردیش حکومت نے 274 لوگوں کو نوٹس جاری کیا تھا، ان کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں یا ان سے پیسے لیے تھے۔

ریاستی حکومت کی وکیل گریما پرشاد نے بتایا کہ اس بات کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ کتنی رقم برآمد ہوئی ہے لیکن یہ کروڑوں میں ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ حکم اس لیے آیا کیونکہ آج اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے مظاہرین کو جاری نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 14 اور 15 فروری کو تمام ملزم مظاہرین کو اطلاع بھیجی ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ریاستی حکومت کا ماننا تھا کہ قاعدے کے تحت مظاہرین کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

ہرجانے کی وصولی اور جائیداد کو ضبط کرنے کا اصول

2019 میں لاگو ہونے والے اصول کے مطابق، سرکاری یا نجی املاک کو تباہ کرنے پر کسی سے ہرجانہ لینے کا عمل ہے۔ اس عمل کے تحت ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج فیصلہ کرتے ہیں کہ کس سے کتنا ہرجانہ لینا ہے۔ لیکن اتر پردیش میں اس اصول کی پیروی نہیں کی گئی تھی اور حکومت نے ضلع مجسٹریٹ کو جائیداد ضبط کرنے اور ہرجانے کی وصولی کا اختیار دیا تھا۔ پھر 2020 میں، اتر پردیش حکومت نے ایک نیا قانون لایا، جس میں ہرجانے کی وصولی اور جائیداد کو ضبط کرنے کا اصول بنایا گیا تھا۔

آج ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اب حکومت 2020 قانون کے تحت کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ اس قانون کے مطابق ایک ٹریبونل تشکیل دیا جائے گا جو فیصلہ کرے گا کہ املاک کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے اور کس سے کتنا نقصان وصول کرنا ہے۔

اسی لیے آج سپریم کورٹ نے کہا کہ پورے معاملے کو ٹریبونل میں دوبارہ شروع کیا جائے۔ لیکن اب تک جو بھی جائیداد ضبط کی گئی ہے یا مظاہرین سے ہرجانے کے طور پر رقم لی گئی ہے، اسے واپس کیا جائے۔

اتر پردیش حکومت کی سپریم کورٹ کی التجا

اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ سے التجا کی ہے کہ اسے 274 مظاہرین کے خلاف عدالت عظمیٰ کے ذریعہ وضع کردہ رہنما خطوط کی تعمیل میں اس کے ذریعہ نافذ کردہ ایک نئے قانون کے تحت کارروائی کرنے کی اجازت دی جائے۔

ریاستی حکومت نے سی اے اے مخالف مظاہرین کو محمد شجاع الدین کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 2011 کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے ان کی طرف سے نقصان پہنچانے والی جائیدادوں کی قیمت وصول کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

ریاستی حکومت کے مطابق، کچھ مظاہرین نے مبینہ طور پر لکھنؤ سمیت شہروں میں عوامی املاک کو توڑ پھوڑ اور نذر آتش کیا۔

اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے 274 مخالف CAA مظاہرین کو ان کے ذریعہ مبینہ طور پر عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی وصولی کے لیے جاری کیے گئے نوٹس واپس لے لیے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی واپس لے لی گئی ہے۔

احمد آباد سلسلہ وار دہشت گردانہ بم دھماکوں کے معاملے میں 38 کو پھانسی، 11 کو عمر قید کی سزا

0

گذشتہ آٹھ فروری کو احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے کے 79 میں 49 ملزموں کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور دیگر 28 کو بری کر دیا گیا تھا

احمد آباد: گجرات کے شہر احمد آباد میں 26 جولائی 2008 کو ہوئے سلسلہ وار دہشت گردانہ بم دھماکوں کے معاملے میں یہاں کی ایک خصوصی عدالت نے آج 49 ملزمان میں سے 38 کو سزائے موت اور باقی 11 کو عمر قید کی سزا سنائی۔

خصوصی جج اے آر پٹیل کی عدالت نے گذشتہ آٹھ فروری کو اس معاملے کے 79 میں 49 ملزموں کو مجرم قرار دیا تھا اور دیگر 28 کو بری کر دیا تھا۔ ایک دیگر ملزم کی شنوائی کے دوران موت ہو چکی ہے۔

عدالت نے آج اس معاملے میں سزا سبابت کے دوران 49 مجرم ثابت ہونے والے ملزموں میں سے 48 پر دو لاکھ 85 ہزار روپے (ہر ایک پر) کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالت نے اس واقعہ کے سبھی 56 ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپیے، 240 زخمیوں میں سے سنگین کے لیے 50-50 ہزار اور تھوڑے زخمیوں کے لیے 25-25 ہزار کے معاوضے کا بھی التزام کیا۔

خیال رہے کہ یہاں سول اسپتال اور ایل جی اسپتال سمیت 23 بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر اس روز شام 6.30 سے ​​8.45 کے درمیان دھماکے ہوئے تھے جن میں 56 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 240 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسی سال 28 سے 31 جولائی کے درمیان شہر سورت سے 29 بم برآمد ہوئے جو احمد آباد کے دھماکوں میں استعمال ہوئے تھے۔

گجرات پولیس کی تحقیقات کے بعد اس معاملے میں پہلے 11 افراد کو 15 اگست 2008 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

2002 کے گجرات فسادات

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، انڈر ورلڈ اور کالعدم تنظیم سیمی سے تبدیل ہوئی انڈین مجاہدین کا ہاتھ تھا۔ ان لوگوں نے مبینہ طور پر 2002 کے گجرات فسادات کا بدلہ لینے کے لیے یہ دھماکہ انجام دیا تھا۔

تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مئی میں احمد آباد کے قریب وٹووا علاقے میں اس واقعہ کے لیے سازش رچی گئی تھی۔

حجاب پر کوئی پابندی نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

0

ڈاکٹر ونود کلکرنی نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی لگانا قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ حکومتی حکم نامے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن لباس کا ضابطہ ہے۔

چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ڈاکٹر ونود کلکرنی نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی لگانا قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر کلکرنی کی دلیل پر اعتراض کرتے ہوئے جسٹس اوستھی نے پوچھا کہ کیا حجاب اور قرآن ایک ہی چیز ہیں؟ اس پر مسٹر کلکرنی نے کہا کہ ”میرے لیے نہیں، لیکن یہ پوری دنیا کے لیے ایک جیسا ہے۔ میں ایک ہندو برہمن ہوں اور قرآن پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ہے۔‘‘

ڈاکٹر کلکرنی کے درخواست گزار نے ایک عبوری حکم کی درخواست کی ہے کہ طالبات کو جمعہ کے دن اور آنے والے ماہ رمضان کے دوران حجاب پہننے کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک بابرکت دن سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اس معاملے پر کل دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ سماعت ہوگی۔

سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی سڑک حادثہ میں موت

0
سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی سڑک حادثہ میں موت
سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی سڑک حادثہ میں موت

اطلاع کے مطابق پنجابی کلاکار دیپ سدھو اپنی منگیتر رینا رائے کے ساتھ اسکارپیو کار میں سوار ہوکر دہلی سے پنجاب کے لئے نکلے تھے

سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی منگل کی رات ہریانہ میں سونی پت کے نزدیک سڑک حادثہ میں موت ہوگئی۔ حادثہ اس وقت ہوا جب دیپ سدھو اپنی منگیتر کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوکر دہلی سے پنجاب واپس آ رہے تھے۔

سونی پت ضلع کے کھرکھودا سب ڈویزن کے تحت آنے والے گاوں پپلی ٹولہ پلازہ کے نزدیک یہ سڑک حادثہ ہوا جس میں دیپ سدھو کی موت ہوگئی جبکہ منگیتر کی حالت سنگین ہے۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو کھرکھودا سی ایچ سی میں رکھوایا ہے۔

ذہن نشیں رہے کہ سدھو دہلی بارڈر پر چل رہی کسان تحریک کے دوران اس وقت مزید مشہور ہوگئے تھے جب انہوں نے لال قلعہ پر جھنڈا لہرایا تھا۔ اطلاع کے مطابق پنجابی کلاکار سدھو اپنی منگیتر رینا رائے کے ساتھ اسکارپیو کار میں سوار ہوکر دہلی سے پنجاب کے لئے نکلے تھے۔

دیر رات کے ایم پی کے کھرکھودا سب ڈویزن کے گاوں پیپلی ٹول پلازہ کے نزدیک ان کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی زبردست تھی کہ گاڑی کے پرخچے اڑگئے۔ حادثہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ پولیس کے پہنچنے تک دیپ سدھو دم توڑ چکے تھے اور ان کی منگیتر رینا رائے کی حالت سنگین تھی۔

پولیس نے سدھو کی لاش کو کھرکھودا سی ایچ میں رکھوایا ہے اور انکی منگیتر کو بھی کھرکھودا سی ایچ سی لایا گیا جہاں سے انہیں ریفر کردیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

موسیقار و گلوکار بپی لہری کا انتقال

0
موسیقار و گلوکار بپی لہری کا انتقال
موسیقار و گلوکار بپی لہری کا انتقال

بالی ووڈ کے مشہور میوزک کمپوزر اور گلوکار بپی لہری کا ممبئی کے کرٹیکیئر ہسپتال میں انتقال

نئی دہلی: بالی ووڈ کے مشہور میوزک کمپوزر اور گلوکار بپی لہری کا بدھ کو ممبئی کے کرٹیکیئر اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 69 برس کے تھے۔

مسٹر لہری کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ مسٹر لہری ایک ماہ سے اسپتال میں داخل تھے اور انہیں پیر کے روز اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ لیکن منگل کو طبیعت بگڑنے پر انہیں دوبارہ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ مسٹر بپی لہری صحت کے کئی مسائل سے متاثر تھے۔ نصف شب سے کچھ دیر قبل او ایس اے (آبسٹکٹیو سلپ ایپنا) کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔

بپی لہری بالی ووڈ میں ڈسکو میوزک کو مقبول بنانے کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 1970-80 کی دہائی کے اواخر میں ’چلتے چلتے‘، ’ڈسکو ڈانسر‘، ’نمک حلال‘، ’ڈانس ڈانس‘ اور ’شرابی‘ جیسی کئی فلموں میں مقبول گیت دیے۔

ان کا آخری بالی ووڈ گانا بھنکس تھا جو انہوں نے 2020 میں ریلیز ہونے والی فلم ’باغی 3‘ کے لیے گایا تھا۔

حجاب تنازعہ: بیڈمنٹن کی مشہور کھلاڑی جوالہ گٹہ نے کہا اسکول کی گیٹ پر چھوٹی لڑکیوں کی بے عزتی نہ کی جائے

0
حجاب تنازعہ: بیڈمنٹن کی مشہور کھلاڑی جوالہ گٹہ نے کہا اسکول کی گیٹ پر چھوٹی لڑکیوں کی بے عزتی نہ کی جائے
حجاب تنازعہ: بیڈمنٹن کی مشہور کھلاڑی جوالہ گٹہ نے کہا اسکول کی گیٹ پر چھوٹی لڑکیوں کی بے عزتی نہ کی جائے

بیڈمنٹن کی مشہور کھلاڑی جوالہ گٹہ نے ملک میں جاری حجاب تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا اسکول کی گیٹ پر چھوٹی لڑکیوں کی بے عزتی نہ کی جائے جہاں وہ خود کو بااختیار بنانے کے لئے آتی ہیں

حیدرآباد: بیڈمنٹن کی مشہور کھلاڑی جوالہ گٹہ نے ملک میں جاری حجاب تنازعہ پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے اس سلسلہ میں ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ”اسکول کی گیٹ پر چھوٹی لڑکیوں کی بے عزتی نہ کی جائے جہاں وہ خود کو بااختیار بنانے کے لئے آتی ہیں۔ اسکول کو ان کی محفوظ پناہ گاہ ہونا چاہئے! سر کا اسکارف ہو یا نہ ہو۔ اس گندی سیاست سے ان کو دور رکھا جائے۔۔۔۔ ان ننھے ذہنوں کو خوفزدہ نہ کیا جائے“۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا حجاب ہندوستانی روایت میں ہے اور پردہ شرم کی علامت ہے

0
مولانا ارشد مدنی نے کہا حجاب ہندوستانی روایت میں ہے اور پردہ شرم کی علامت ہے
مولانا ارشد مدنی نے کہا حجاب ہندوستانی روایت میں ہے اور پردہ شرم کی علامت ہے

مولانا ارشد مدنی نے اتر پردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اتر پردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ نقاب ہمارے ملک کی روایت اور تہذیب میں پہلے سے موجود ہے اور کہا کہ ہر کوئی لباس پہنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے بلکہ لباس پہننے سے متعلق ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہر شخص پردہ کرتا ہے اور لباس کسی نہ کسی شکل میں پہنتا ہے۔ یہ حجاب ہی تو ہے۔ پردہ سب کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا ماحول ایسا ہے کہ اس کی روایت اور تہذیب میں ہی پردہ ہے۔ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں، بلکہ لباس پہننا ہی حجاب ہے، پتہ نہیں اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔

انہوں نے حجاب کو جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حجاب تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے ضروری ہے۔ جب میڈیا نے ان سے پوچھا کہ حجاب کتنا ضروری ہے تو انہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ جس کے اندر جتنی شرم اور حیا ہوگی اتنا ہی پردہ ضروری ہوگا۔ شرم نہ ہو تو پردے کی ضرورت نہیں۔

ووٹ کا استعمال کرنے کے بعد انہوں نے ووٹ کو امن، امن اور بھائی چارے کے لیے ضروری قرار دیا اور ہر ایک سے اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کی اپیل بھی کی۔

کناڈا: ٹروڈو نے ملک میں مظاہرے روکنے کے لیے نافذ کی ایمرجنسی

0
کناڈا: ٹروڈو نے ملک میں مظاہرے روکنے کے لیے نافذ کی ایمرجنسی
کناڈا: ٹروڈو نے ملک میں مظاہرے روکنے کے لیے نافذ کی ایمرجنسی

کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ملک بھر میں کووڈ 19 ویکسینیشن کو لازمی قرار دینے کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے 30 دن کے لیے ہنگامی قانون نافذ کیا ہے

اوٹاوا: کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے دارالحکومت اوٹاوا سمیت ملک بھر میں کووڈ 19 ویکسینیشن کو لازمی قرار دینے کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے ہنگامی قانون نافذ کیا ہے۔

ٹروڈو نے پیر کو اوٹاوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ’’وفاقی حکومت نے ناکہ بندی اور کاروبار کو ذہن میں رکھتے ہوئے صوبائی اور علاقائی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ایک ہنگامی ایکٹ نافذ کیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت کے لئے سنگین چیلنجز ہیں۔ اقدامات جغرافیائی طور پر ہدف ہوں گے اور ان خطرات کے لئے مناسب اور متناسب ہوں گے جنہیں دور، یا ختم کرنے کے لئے وہ ہیں۔ گزشتہ روز کم از کم دو صوبائی سربراہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اقدامات صرف درخواست کرنے والے دائرہ اختیار میں لاگو ہیں۔

وزیر انصاف ڈیوڈ لامیٹی کے مطابق ایمرجنسی فوری اثر سے 30 دن تک نافذ رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہنگامی قانون کو نافذ کرکے بین الاقوامی سرحد کی دوسری جانب اور ہوائی اڈوں جیسے اہم علاقوں کو بھی نشان زد اور محفوظ بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اب ملک کی وفاقی پولیس فورس، رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی پی ایم) کے پاس میونسپل قوانین کو نافذ کرنے کا اختیار ہوگا۔

انہوں نے 1985 میں بنا ہنگامی قانون ’’فوری اور اہم صورت حال‘‘ کے طور پر واضح کرتا ہے کہ جو کناڈا کے عوام کی زندگی، صحت یا حفاظت کو سنگین طور پر خطرے میں ڈالتی ہے اور یہ ایسی یا ایسی نوعیت کی ہے اس سے نمٹنے کی کسی صوبے کی صلاحیت پر بھاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے فوجی تعیناتی کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں سے فوری طور پر بیلاروس چھوڑنے کی اپیل

0
امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں سے فوری طور پر بیلاروس چھوڑنے کی اپیل
امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں سے فوری طور پر بیلاروس چھوڑنے کی اپیل

سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کرکے کہا کہ بیلاروس میں مقیم امریکی شہریوں کو فوری طور پر تجارتی یا نجی ذرائع سے یہاں سے نکل جانا چاہئے

واشنگٹن: بیلاروس کی راجدھانی منسک میں واقع امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے جلد از جلد ملک چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

سفارت خانے نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کرکے کہا ’’قوانین کے من مانے طریقے سے نافذ ہونے، نظر بندی کے خطرے اور یوکرین سے متصل بیلاروس کی سرحد پر روسی افواج کے غیر معمولی اور تشویشناک طریقے سے یکجا ہونے، کووڈ۔ 19 اور اس سے متعلق داخلے کی پابندیوں کی وجہ سے بیلاروس کا سفر نہ کریں‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بیلاروس میں مقیم امریکی شہریوں کو فوری طور پر تجارتی یا نجی ذرائع سے یہاں سے نکل جانا چاہئے۔