اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 261

یوکرین کی صورتحال کی جلد از جلد تحقیقات کرے گی آئی سی سی

0

استغاثہ کریم خان نے ایک بیان میں کہا ’’میں آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے یوکرین کی صورت حال کی جلد از جلد تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

ماسکو: بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی صورت حال کی "جلد از جلد” تحقیقات شروع کرے گی۔

استغاثہ کریم خان نے پیر کو ایک بیان میں کہا ’’میں آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے یوکرین کی صورت حال کی جلد از جلد تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے یوکرین کی صورت حال کی ابتدائی تحقیقات کا جائزہ لیا ہے اور تصدیق کی ہے کہ تحقیقات شروع کرنے کے لئے مناسب وقت ہے‘‘۔

مسٹر خان نے کہا کہ صورتحال کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرین میں مبینہ جنگ جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

استغاثہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی تمام دستیاب شواہد کا پتہ لگانے کے لیے ایک ٹیم کو کام سونپا ہے۔ اب تحقیقات شروع کرنے کے لئے عدالت کے پری ٹرائل چیمبر سے اتھارٹی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مسٹر خان نے کہا کہ وہ تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی برادری سے تعاون اور اضافی مالی اور رضاکارانہ امداد کا مطالبہ کریں گے‘‘۔

ہندوستانی طلباء ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے یوکرین کیوں جاتے ہیں؟ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟

0
ہندوستانی طلباء ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے یوکرین کیوں جاتے ہیں؟ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟
ہندوستانی طلباء ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے یوکرین کیوں جاتے ہیں؟ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟

ہندوستانی طلباء ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے یوکرین کیوں جاتے ہیں؟ وہاں کیا سکھایا جاتا ہے جو ہندوستان میں نہیں ہو سکتا؟ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟

ہر سال ہندوستان سے ہزاروں طلباء میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک جاتے ہیں۔ ان ہندوستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد یوکرین بھی جاتی ہے۔ لیکن وہاں کیا سکھایا جاتا ہے جو ہندوستان میں نہیں ہو سکتا؟ یا اس کی وجہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں کہ ہندوستانی طلباء ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یوکرین کیوں جاتے ہیں۔

اگر ہم ہندوستان میں چلنے والے پرائیویٹ ایم بی بی ایس کالجوں کی بات کریں تو پورے کورس کی فیس ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہوتی۔

ہندوستان میں ایم بی بی ایس کی نشستیں

اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ہندوستان میں ایم بی بی ایس کی کتنی سیٹیں ہیں، تو ہندوستان میں کل 1,18,316 سیٹیں ہیں جن میں سے تقریباً 40% سیٹیں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے پاس ہیں۔

صرف میرٹ پر آنے والے اور ریزرویشن کے دائرے میں آنے والوں کو ہی داخلہ ملتا ہے۔ اب حکومت پورے ملک میں میڈیکل اسٹڈیز میں 73 فیصد ریزرویشن دیتی ہے۔ ایسے میں جنرل کیٹیگری کے طلبہ بیرون ملک نہ جائیں تو کیا کریں؟

آپ سوچیں گے کہ بیرون ملک طبی تعلیم بہت مہنگی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے، یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم سب سے سستی ہے۔ وہاں ایم بی بی ایس صرف 20 لاکھ روپے میں 5 سال میں مکمل ہوتا ہے اور یہاں ہندوستان میں 1 کروڑ سے زیادہ فیس لی جاتی ہے۔ ہر سال مدھیہ پردیش سے تقریباً 700 طالب علم ایم بی بی ایس کے لیے یوکرین جاتے ہیں۔

گزشتہ سال منعقدہ NEET امتحان میں 16 لاکھ 19 ہزار طلباء نے شرکت کی تھی جس میں صرف 77 ہزار کو سرکاری کالجوں میں پڑھنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ سرکاری کالج میں میڈیکل کی تعلیم کا خرچہ صرف 4 سے 5 لاکھ روپے ہے جب کہ پرائیویٹ میں 1 کروڑ اور یوکرین میں 20 لاکھ۔

امریکہ میں ایم بی بی ایس کی تعلیم سب سے مہنگی

لیکن امریکہ میں اس کورس کی پڑھائی کی بات کریں تو یہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم 8 کروڑ روپے میں مکمل ہوتی ہے جب کہ قازقستان میں صرف 25 لاکھ جب کہ برطانیہ میں 4 کروڑ، کینیڈا میں 4 کروڑ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں 40 لاکھ فیس لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی طلباء یوکرین کی طرف بھاگتے ہیں اور پیسے والے لوگ عموماً طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جاتے ہیں، جن کی قسمت الگ ہی ہوتی ہے۔

ہندوستان میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے اس افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے، بیرون ملک ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنا ایک اچھا اور آسان آپشن سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، جیسے ہی آپ کورس مکمل کرنے کے بعد ہندوستان واپس آتے ہیں، آپ کو MCI اسکریننگ ٹیسٹ یا FMGE کے لیے حاضر ہونا ہوگا۔

یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم سب سے سستی

اگر آپ امریکہ، یو کے، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سے ایم بی بی ایس کا کورس کرکے آتے ہیں، تو آپ کو ایف ایم جی ای وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ کو بتایا گیا کہ ان پانچ ممالک سے میڈیکل کورس کرنے کا خرچہ عام طور پر 4 کروڑ سے زیادہ ہے۔ مزید کیا ہے، USA، UK، کینیڈا کے معاملے میں مدت 8-9 سال ہوگی کیونکہ آپ کو 4 میں سے پہلے پری میڈیکل کورس کرنا ہوگا۔ پری میڈیکل کورس مکمل کرنے کے بعد، آپ کو دوبارہ داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کرنا ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم ایسے طلباء پائے جاتے ہیں جو ان ممالک کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے یوکرین جیسا ملک اس معاملے میں سب سے سستا اور آسان ہے، جہاں نہ رہنا مہنگا ہے اور نہ ہی پڑھائی۔

کیف میں پھر سے دھماکہ، جی سیون کی روس پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی، برازیل کا پابندیاں عائد کرنے سے انکار

0

یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ جاری رہی تو 70 لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا امکان ہے

کیف/برازیلیا: یوکرین میں روسی حملے کے بعد روسی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیف اور خار کیف میں کئی گھنٹوں کے سکون کے بعد پھر سے دھماکے سنے گئے ہیں۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرینی فضائیہ روسی فوج کے قافلوں پر ڈرون حملے کر رہی ہے، جس سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

دریں اثنا یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ جاری رہی تو 70 لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا امکان ہے۔

یوروپی یونین کمشنر برائے کرائسس مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ بر اعظم یوروپ میں سالوں بعد انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جی سیون رہنماؤں نے روس پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔

جی سیون نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین پر حملے جاری رکھے تو مزید پابندیاں لگائیں گے اور روس کی یوکرین پر عسکری کامیابی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

برازیل کا روس پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار

برازیل کے صدر جیر بولسونارو نے پیر کو روس پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کریں گے۔

مسٹر بولسونارو نے کہا کہ برازیل کا انحصار روسی کھاد پر ہے اور ماسکو کے خلاف پابندیاں لگانے سے برازیل میں زراعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن کے حامی ہیں لیکن برازیل میں مزید مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے لوگوں نے ایک مزاح نگار پر بھروسہ کرکے ملک کا مستقبل اس کے ہاتھ میں دے دیا اور روس کے لوہانسک اور ڈونیٹسک کو آزاد ممالک کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کا دفاع کیا۔

مسٹر بولسونارو نے 16 فروری کو ماسکو کے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔

آپریشن گنگا کی پرواز یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو لے کر بخارسٹ سے دہلی پہنچی

0

آپریشن گنگا کی پانچویں پرواز 249 ہندوستانیوں کو لے کر راجدھانی بخارسٹ سے دہلی لینڈ کیا

نئی دہلی: جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو بچانے کے آپریشن گنگا کی پانچویں پرواز پیر کو 249 ہندوستانیوں کو لے کر راجدھانی بخارسٹ سے یہاں لینڈ کیا۔

وزیر خارجہ ایس. جے شنکر نے ٹویٹ کیا، "ہندوستانیوں کو گھر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”

خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے اتوار کو کہا کہ 1,000 ہندوستانی شہریوں کو رومانیہ اور ہنگری کے راستے نکالا گیا اور مزید 1,000 شہریوں کو یوکرین سے سڑک کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔

یوکرین پر حملہ: فیفا نے بھی لگائی روسی پرچم اور ترانے کے استعمال پر پابندی

0

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے روس کی طرف سے یوکرین پر حملے میں طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کی ہے

زیورخ: روس کی یوکرین کے خلاف جارحیت سے نالاں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے بھی بین الاقوامی میچز میں روسی پرچم اور ترانے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔

برطانوی خبر رساں کے مطابق اتوار کے روز فیفا کی گورننگ باڈی نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد متعدد پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیفا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس کی قومی فٹبال ٹیم روس کے بجائے فٹبال یونین آف روس کے طور پر میچز کھیلے گی جبکہ یہ میچز شائقین کے بغیر نیوٹرل مقام پر کھیلیں جائیں گے۔

اس کے علاوہ ان میچز میں روسی پرچم اور ترانے کے استعمال پر پابندی عائد ہوگی۔

دوسری جانب جمہوریہ چیک، پولینڈ اور سوئیڈن پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی قومی فٹبال ٹیمیں اگلے ماہ روس کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میچز نہیں کھیلیں گی۔

اس کے علاوہ فیفا نے روس کی طرف سے یوکرین پر حملے میں طاقت کے استعمال کی مذمت بھی کی۔

اطلاعات ہیں کہ انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے بھی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مستقبل میں روس کے خلاف کوئی میچ نہیں کھیلیں گے۔

سیمانچل کے پسماندہ علاقہ کشن گنج میں کورونا و کووڈ ٹیکہ کاری بیداری مہم اور مفت میڈیکل کیمپ

0
سیمانچل کے پسماندہ علاقہ کشن گنج میں کورونا و کووڈ ٹیکہ کاری بیداری مہم اور مفت میڈیکل کیمپ

ڈاکٹر صہیب اختر نے کیمپ کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد ایسے غریب مریضوں کو تشخیص اور علاج فراہم کرانا ہے جن کو عموما میڈیکل سہولت دستیاب نہیں ہے۔”

کشن گنج: کورونا وائرس وبا کے اس دور میں تعلیم، صحت اور سماجی بیداری پر کام کرنے والی تنظیم نصیریہ فاؤنڈیشن نے بہار کے ضلع کشن گنج کے انتہائی پسماندہ علاقہ کے ایک قصبہ پناسی میں اتوار کے روز غریبوں کے علاج کے لیے ایک عظیم میڈیکل کیمپ منعقد کیا۔

اس کیمپ میں کورونا وائرس سے متعلق حفاظتی تدابیر سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور ٹیکہ کاری سے متعلق بیداری مہم چلائی گئی جہاں سینکڑوں غریب لوگوں کے امراض کی تشخیص بھی ہوئی اور مفت دوائیں اور جانچ فراہم کی گئیں اور ماسک تقسیم کیے گئے۔

میڈیکل کیمپ میں کئی ہسپتالوں نے بھی اپنی طبی ٹیموں کے ذریعہ خدمات فراہم کیں جن میں سلی گوڑی (مغربی بنگال) کے شانتی نرسنگ ہوم اور اسلام پور (مغربی بنگال) کے رایل میڈیکل ہال کا نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

جن طبی طبی ماہرین نے میڈیکل کیمپ میں شرکت کی ان میں اہم نام ڈاکٹر محمد اختر رضا (جنرل سرجن اور لیپروسکوپک سرجن)، ڈاکٹر وکاس سنگھ (نیورو سرجن)، ڈاکٹر مو نعیم علی (آرتھوپیڈکس) اور خود کیمپ کے نگراں ڈاکٹر صہیب اختر (ایم بی بی ایس، ایم ایس، ایم سی ایچ) کے نام قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر صہیب اختر نے کیمپ کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد ایسے غریب مریضوں کو تشخیص اور علاج فراہم کرانا ہے جن کو عموما میڈیکل سہولت دستیاب نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "یہ علاقہ ایسا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات موجود نہیں ہیں اسی لیے تقریبا سبھی بنیادوی چیک اپس کا کیمپ میں انتظام کیا گیا ہے۔

اس کیمپ میں کافی تعداد میں ایسے مریض بھی آئے ہیں جو کبھی ڈاکٹر کے پاس گئے ہی نہیں۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو کئی مریضوں نے کہا کہ علاج میں ہونے والے خرچ کا بار وہ نہیں اٹھاسکتے۔

ہر سال ہونے والے اس فری کیمپ میں بہت سارے ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جن کی اس کیمپ پر ذیابیطس یا بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کی تشخیص ہوتی ہے۔

اس میڈیکل کیمپ کا انعقاد سلی گوڑی کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر صہیب اختر کی نگرانی میں ہوا جس میں کئی ہسپتالوں سے مختلف مریض کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں اور فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے اپنی رضاکارانہ خدمات فراہم کیں۔

فاؤنڈیشن کے اہم رکن نے کہا کہ”کشن گنج ضلع بہار سیمانچل کا وہ علاقہ ہے جہاں لوگوں کے لیے اب تک صاف پانی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ آج بھی لوگ کنواں اور ٹیوب ویل کا پانی پی کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بھی لوگ کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔”

نصیریہ فاؤنڈیشن مختلف جگہوں پر میڈیکل کیمپ لگاتا ہے جہاں غریب مریضوں کا مفت میں علاج کیا جاتا ہے۔ قصبہ پناسی کے مدرسہ گراؤنڈ میں یہ کیمپ گزشتہ 5 سالوں سے ہرسال لگتا ہے جہاں سینکڑوں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے کہا کہ "صوبہ بہار کےاس علاقے میں ایسے میڈیکل کیمپوں کی اس لیے بھی ضرورت ہے کیوں کہ کشن گنج ضلع کا یہ علاقہ بے حد پسماندہ ہے جہاں ایک بھی ایسا سرکاری ہسپتال یا کلینک نہیں ہے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔”

انہوں نے کہا "اس پسماندہ علاقے کے کئی غریب لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیماریوں کا علاج کئے بنا ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کے قریبی لوگوں کو موت کی وجہ کا پتہ ہی نہیں چل پاتا۔”
کورونا وائرس (کووڈ19- )

جیساکہ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ دو سال پوری دنیا کورونا وائرس کے وبا کا سامنا رہا اور کافی تعداد میں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عام لوگوں میں کورونا وائرس کے بارے میں قسم قسم کی افواہیں بھی پھیلی۔ نصیریہ فاؤنڈیشن نے زور شور سے اس وبا کے بارے میں بیداری پھیلانے کا کام کیا اور لوگوں کو یہ بتایا کہ کسی بھی چیز کی معلومات افواہوں سے نہیں بلکہ قابل اعتماد سورس سے حاصل کی جانی چاہیے۔

کورونا وبا کے بارے میں بھی افواہوں پر دھیان نہ دے کر اس کے ماہرین کی رائے پر ہی عمل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ اس کے لئے نصیریہ فاؤنڈیشن نے ان دو سالوں میں پمفلیٹ، چھوٹے چھوٹے ورکشاپ اور آن لائن طریقے سے لوگوں کے بیچ صحیح معلومات پہنچانے کا کام کیا ہے۔

کورونا ٹیکہ کاری

جس طرح کورونا کے بارے میں کئی قسم کی افواہیں پھیلی ہوئی تھیں اسی طرح کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی افواہوں کا بازار گرم تھا۔ نصیریہ فاؤنڈیشن نے اس بارے میں مختلف ڈاکٹروں، فارماسیوٹیکل سائنٹسٹوں اور دوسرے ماہرین سے رابطہ کرکے اس پر کافی معلومات حاصل کی ہے۔ فاؤنڈیشن کا ہمیشہ یا ماننا رہا ہے کہ معلومات کا ذریعہ افواہ نہیں بلکہ صحیح مواد کا مطالعہ اور ماہرین سے صلاح مشورہ ہونا چاہیے۔

گزشتہ سال کے میڈیکل کیمپ میں جہاں کورونا مہاماری کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کا کام کیا تھا اور اس سے بچاؤ کے لئے اس کی احتیاطی تدبیروں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ گیا تھا وہیں اس کی ٹیکہ کاری کی سیفٹی کے بارے میں بھی لوگوں کے بیچ بیداری لایا تھا۔ ویکسین سے لوگ بہت ساری من گھڑت افواہوں کا شکار تھے، لیکن خوشی کی بات ہے کہ نصیریہ فاؤنڈیشن نے کئی طریقے سے اس میں بیداری پھیلائی اور آج اکثر لوگوں کو ٹیکہ لگ چا ہے۔

اس سے پہلے بھی کئی قسم کے ویکسینیشن کے بارے میں لوگ افواہوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جیسے پولیو کی ٹیکہ کاری سے متعلق لوگ ہمیشہ افواہوں کا شکار رہے، لیکن ہمارے دیش میں اس پولیو کے خلاف مہم کی وجہ سے اس پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔ ایسی افواہیں کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی پھیلی ہوئی ہیں جس کے بارے میں لوگوں کے درمیان بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ اس بار کے میڈیکل کیمپ میں بھی ہم اس بارے میں بیداری لانے کا بھی کام کریں گے۔

اس میڈیکل کیمپ کا انعقاد ڈاکٹر صہیب اختر کی دیکھ ریکھ میں ہوتا ہے جس میں کئی ہسپتالوں سے مختلف مریض کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم آتی ہے اور اپنا مفت خدمات فراہم کرتی ہے۔

کیمپ کے نگراں ڈاکٹر صہیب اختر نے ٹیکہ کاری سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ ٹیکہ کاری سے متعلق ہمیشہ کوئی نہ کوئی افواہ رہتا ہے۔ ان افواہوں پر دھیان نہیں دیں اور اپنی باری آنے پر ٹیکہ ضرور لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس سے نہ صرف آپ اپنی بلکہ اپنی کمیونیٹی کی بہتر صحت کے لیے مددگار ہوں گے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اپنی تحریری بیان میں کہا کہ "اس سے پہلے بھی کئی قسم کے ویکسینیشن کے بارے میں لوگ افواہوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جیسے پولیو کی ٹیکہ کاری سے متعلق لوگ ہمیشہ افواہوں کا شکار رہے، لیکن ہمارے ملک میں اس پولیو کے خلاف مہم کی وجہ سے اس پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔ ایسی افواہیں کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی پھیلی ہوئی ہیں جس کے بارے میں لوگوں کے درمیان بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ آج کے میڈیکل کیمپ میں ہم اس بارے میں بیداری لانے کا بھی کام کیا جائے گا۔”

نصیریہ فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو ایجوکیشن، ہیلتھ، اور سماجی بیداری پر کئی سالوں سے کام کرتا آیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مسجد، مدرسہ، خانقاہ کے علاوہ این سی پی یو ایل کے بھی کئی تعلیمی و ٹریننگ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور گزشتہ7 -8 سالوں میں سینکڑوں غریب سٹوڈینس کو کمپیوٹر لٹریٹ بنانے کا کام کیا ہے۔

بائیڈن نے یوکرین کو فوجی مدد کے لئے بلنکن کو دیا اختیار

0
بائیڈن نے یوکرین کو فوجی مدد کے لئے بلنکن کو دیا اختیار
بائیڈن نے یوکرین کو فوجی مدد کے لئے بلنکن کو دیا اختیار

امریکہ صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو یوکرین کو فوری طور پر فوجی مدد مہیا کرنے کے لئے اختیار دیا گیا ہے

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو فوری طور پر فوجی مدد مہیا کرنے کے لئے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو اختیار دیا ہے۔

امریکہ صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا، ’’صدر نے جمعہ کو فارن اسسٹنس ایکٹ 1961 (ایف اے اے) کی دفعہ 614 (اے) (3) اور دفعہ 652 کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے تحت ریاست کے افسروں کے سکریٹریوں کو سونپنے والے ایک میمورنڈم پر دستخط کئے ہیں۔ اسی بنیاد پر مسٹر بلنکن کو یوکرین کو فوری فوجی مدد مہیا کرنے کے لئے اختیار دیا گیا ہے۔‘‘

روس تشدد بند کرے، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے: ہندوستان

0
روس تشدد بند کرے، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے: ہندوستان
روس تشدد بند کرے، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے: ہندوستان

ہندوستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری کا راستہ چھوڑ کر تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا

نئی دہلی/اقوام متحدہ: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لئے کل دیر رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پر بحث میں ہندوستان نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ تشدد کو فوری طور پر روک کر سفارتی اقدامات کی طرف لوٹ آئیں۔ اور ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ترغیب دینے کا اعلان کیا۔

ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ کل دیر رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی یوکرین سے متعلق قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا اور تین ارکان – ہندوستان، چین اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد پر روس نے ویٹو کا حق استعمال کیا اور یوں قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق ہندوستان نے ووٹنگ کے بعد اپنے فیصلے کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے فوری طور پر تشدد بند کرنے، تنازع کے حل کے لیے سفارتی اقدامات پر واپس آنے اور ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں انہی نکات پر زور دیا تھا۔

ہندوستان نے افسوس کا اظہار کیا

ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان نے کہا کہ تمام رکن ممالک کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ اس سے آگے بڑھنے کا ایک تعمیری راستہ کھلتا ہے۔ ہندوستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری کا راستہ چھوڑ کر تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اسے یوکرین میں حالیہ واقعات سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جان کی قیمت پر کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔

ذرائع کے مطابق ہندوستان نے اس معاملے پر مستقل، مضبوط اور متوازن موقف اپنایا ہے۔ ہندوستان تمام فریقین سے رابطے میں ہے اور ہر کسی سے مذاکرات کی میز پر آنے کی مسلسل درخواست کر رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان نے ووٹ میں حصہ نہ لینے اور متعلقہ فریقوں سے رابطہ کرنے اور بات چیت اور سفارت کاری کے لیے درمیانی بنیادی راستہ تلاش کرنے کا آپشن برقرار رکھا۔

اس سے قبل قرارداد کے ایک مسودے میں اقوام متحدہ کے اعلامیہ کے باب 7 کے تحت ایک ایسے حل کی بات کی گئی تھی جس میں سلامتی کونسل کو طاقت کے استعمال کا حق مل جاتا تھا تاہم حتمی مسودے میں اس چیز کو ہٹا دیا گیا تھا۔

دریں اثنا، ایئر انڈیا ہندوستانیوں کو نکالنے کے لیے آج دو پروازیں روانہ کرے گا۔ دو بوئنگ 787 طیارے صبح رومانیہ کے دارالحکومت بخاریسٹ اور ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور آج رات تک واپس آجائیں گے۔

روس کی فوجی کارروائی جارحیت کی جنگ: یوکرین وزیر خارجہ

0
روس کی فوجی کارروائی جارحیت کی جنگ: یوکرین وزیر خارجہ
روس کی فوجی کارروائی جارحیت کی جنگ: یوکرین وزیر خارجہ

یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے کہا کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جس کی وجہ سے پرامن یوکرینی شہروں پر ہوائی حملے شروع ہوگئے ہیں

کیو: یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ان کے ملک پر روسی حملے کو ’جارحیت کی جنگ‘ کا نام دیا ہے اور دنیا بھر کے ملکوں سے روس کے خلاف پابندی لگا کر اسے الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر کولیبا نے ٹویٹ کرکے کہا، ’’روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جس کی وجہ سے پرامن یوکرینی شہروں پر ہوائی حملے شروع ہوگئے ہیں۔ یہ جارحیت کی جنگ ہے اور یوکرین اس حملے سے نہ صرف نمٹے گا بلکہ جیتے گا بھی۔‘‘

انہوں نے دنیا بھر کے ملکوں سے اس معاملے میں تیزی سے کارروائی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ایک ’ٹوڈو لسٹ‘ جاری کرنے کو کہا ہے۔ اس لسٹ میں روس پر ابھی سے سخت پابندیان لگائے جانے اور اسے ہر طرح سے الگ تھلگ کئے جانے کے علاوہ یوکرین کے لئے فوری طور پر فوجی مدد کے ساتھ مالی اور انسانی مدد مہیا کرائے جانے کے التزام ہونے چاہئے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا مل کر پوتن کو روک سکتی ہے اور ایسا کیا جانا چاہئے۔ دنیا بھر کے ملکوں کو فوری کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ اس وقت نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔

انیس کے قتل کی رات پولیس نے گھر جانے کا کیا اعتراف

0

گرفتار دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ قتل کی رات انیس کے گھر گئے تھے

کلکتہ: انیس خان قتل معاملے میں اب پولیس نے کہا ہے کہ قتل کی رات پولیس اہلکار انیس کے گھر گئے تھے۔ گرفتار دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ رات میں انیس کے گھر گئے تھے۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ کے مطابق تفتیش کاروں کے پوچھ تاچھ کے دوران اس پولیس اہلکار نے اعتراف کیا ہے۔ خیال رہے کہ پولیس نے پہلے کہا تھا کہ کوئی بھی اہلکار انیس کے گھر نہیں گیا تھا۔

دیگر دو سے بھی پوچھ گچھ جاری

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج انیس کی موت کے سلسلے میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ ممتا بنرجی نے ریاستی سیکریٹریٹ میں ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ ”دو پولیس والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دیگر دو سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس اپنا کام ٹھیک طریقے سے کر رہی ہے۔” ممتا بنرجی کے کچھ ہی دیر بعد، ریاست کے ڈی جی پی منوج مالویہ نے ایک پریس کانفرنس میں دو گرفتار پولیس اہلکاروں کے ناموں کا اعلان کیا۔

ان میں سے ایک کاشی ناتھ بیرا ہے جو کہ امتا تھانے میں ہوم گارڈ ہے۔ ایک اور پریتم بھٹاچاریہ ہیں، جو ایک سیوک پولیس ہے۔ اگرچہ منوج نے ان کی گرفتاری کا اعلان کیا، لیکن مالویہ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اس رات انیس کے گھر گئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دونوں گرفتار پولیس اہلکاروں نے پوچھ گچھ کے دوران اس رات انیس کے گھر جانے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمعہ کی رات وہ دونوں اور ایک پولیس کانسٹیبل انیس کے گھر کی دوسری منزل پر گئے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ میں بھی درج ہے۔

گرفتار پولیس افسر نے انیس کے قتل سے کیا انکار

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار پولیس افسر نے انیس کو قتل کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس کا دعویٰ ہے کہ انیس کو قتل نہیں کیا گیا، اس نے پولیس کو دیکھا اور گھر کی تیسری منزل سے بھاگا۔ واقعہ کے وقت پولیس کا ایک اے ایس آئی انیس کے گھر کے نیچے انتظار کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ ڈی جی پی نے بدھ کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایس آئی ٹی غیر جانبدار طریقے سے کام کر رہی ہے۔ تاہم ان کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ منوج نے یہ بھی کہا کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر روکا جا رہا ہے۔