اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 260

یوکرین کے خلاف جنگ کے درمیان وطن چھوڑ رہے ہیں روسی

0

پوتن کے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے مسلسل ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ مسٹر پوتن ملک میں مارشل لاء لگا سکتے ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں

ہیلسنکی: روس سے متصل فن لینڈ کی سرحد سے بڑی تعداد میں روسی شہری ملک سے باہر بھاگ رہے ہیں۔ یہ معلومات بی بی سی کی رپورٹ میں دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگ بہت بڑی تعداد میں تو نہیں لیکن مسلسل ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے مسلسل ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ مسٹر پوتن ملک میں مارشل لاء لگا سکتے ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یورپ کے لیے فضائی پروازیں بند ہونے کے بعد عوام نے کاروں اور ٹرینوں کے ذریعے سرحد عبور کرنا شروع کر دیا ہے۔

بی بی سی نے ایک نوجوان روسی خاتون سے بات کی جس کے پاس روس پر پابندی لگنے سے پہلے یورپی یونین کا ویزہ تھا۔ خاتون نے کہا، ’یوکرین کے لوگ ہمارے اپنے ہیں۔ ہمیں انھیں قتل نہیں کرنا چاہیے‘۔

زیادہ تر روسی یہ جنگ نہیں چاہتے

جب خاتون سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے ملک واپس جانا چاہیں گی، تو انہوں نے کہا، ’جب تک ہماری خوفناک حکومت ہے تب تک نہیں۔ یہ بہت افسوسناک ہے۔ زیادہ تر روسی یہ جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر انہوں نے پوتن کے خلاف آواز اٹھائی تو انھیں جیل جانے کا خطرہ ہے‘۔

فن لینڈ میں ایسے لوگوں کے لیے بڑی ہمدردی ہے، جیسا کہ یوکرین اور یوکرینیوں کے لیے ہے۔ حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ فن لینڈ میں زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ فن لینڈ کو اب نیٹو سے جڑ کر اس سے ملنے والی سیکیورٹی کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘۔

دوسری جانب ہیلسنکی میں سینٹ پیٹرس برگ سے ٹرینیں بھری ہوئی ہیں۔ خوف کے مارے سینکڑوں لوگ روس چھوڑ رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود بیشتر ٹرینوں کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔ قابل ذکر کہ مسٹر پوتن نے 24 فروری کو صبح 5 بجے یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

ناٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا: زیلنسکی

0
ناٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا: زیلنسکی
ناٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا: زیلنسکی

زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں ناٹو سربراہی کانفرنس کو ’کمزور‘ قرار دیتے ہوءے الزام لگایا کہ ناٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا

ماسکو: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازعہ کے درمیان حال ہی میں ختم ہونے والی ناٹو سربراہی کانفرنس کو ’کمزور‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ناٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

زیلنسکی نے جمعہ کو کہا، "آج ناٹو کا سربراہی اجلاس ہوا، یہ ایک کمزور سربراہی اجلاس تھا، ایک الجھا ہوا سربراہی اجلاس، ایک ایسا سربراہی اجلاس جو ظاہر کرتا ہے کہ یوروپ میں ہر کوئی آزادی کی لڑائی کو ایک مقصد کے طور پر نہیں دیکھتا‘‘۔

زیلنسکی نے ناٹو کے ارکان پر روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے گرین لائٹ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ناٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

یوکرین: روسی حملے میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ میں لگی آگ

0

روسی حملے میں زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی

کیف: یوکرین کے وزیر خارجہ دیمتری کُلیبا نے کہا کہ جمعہ کو روسی حملے میں زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی۔

انہوں نے ٹویٹ کیا، ’روسی فوج یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ این پی پی پر ہر طرف سے گولی باری کر رہی ہے۔ آگ پہلے ہی بھڑک چکی ہے، اگر اسے نہ روکا گیا تو یہ چرنوبل سے 10 گنا بڑا ہو جائے گا۔ روسیوں کو فوراً آگ بند کرنا چاہیے، ’ فوری طور پر، فائر بریگیڈ کو اجازت دینا چاہیے‘۔

 

اینرگودر کے میئر دمتری اورلوف نے بھی آگ لگنے کی تصدیق کی ہے۔

 

میئر نے کہا، ’یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی عمارتوں اور بلاکس پر دشمن کی بھاری گولہ باری کے نتیجے میں زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی ہے‘۔

انہوں نے اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ زاپوریزیا پاور پلانٹ پر گولہ باری بند کرو‘۔

روس یوکرین جنگ: حکومت یوکرین میں پھنسے ہندوستانی طلبا کی مدد پر غور کرے: سپریم کورٹ

0

چیف جسٹس کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ سے پیدا شدہ بحران میں پھنسے طلبا کے تئیں ان کی ہمدردی ہے، لیکن وہ اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دے سکتے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی حکومت سے کہا کہ روس یوکرین جنگ بحران میں پھنسے طلبا کی مدد سے متعلق عرضیوں پر کیا مدد کی جاسکتی ہے اس پر غور کرے۔

اس سے پہلے آج کی سماعت کے دوران عدالت عظمی نے عرضی پر سماعت کے بعد کوئی آرڈر دینے سے انکار کردیا تھا۔

عدالت عظمی کی تین رکنی بنچ کی صدارت کررہے ہیں چیف جسٹس این وی رمنا نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ طلبا کی پریشانی سے وہ فکرمند ہیں لیکن وہ کوئی آرڈر نہیں دے سکتے۔

عرضی گزار کی طرف سے وکیل اے ایم دار نے بنچ کے سامنے کہا کہ طلبا ٹھنڈ میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ خوراک اور پانی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عرضی گزاروں کی پریشانی معلوم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہندوستان کے وزیر یوکرین کی سرحد سے ملحق ممالک میں پھنسے ہوئے طلبا کی وطن واپسی کے لئے سہولت فراہم کررہے ہیں۔

یوکرین کی ہندستانیوں کو پڑوسی ممالک میں جانے کی اجازت

مسٹر وینوگوپال نے عرضی گزار کے وکیل سے معلوم کرنا چاہا کہ طلبا یوکرین کی سرحد پر کیوں پار نہیں کر پارہے ہیں جبکہ یوکرین ہندستانیوں کو پڑوسی ممالک میں جانے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس پر عرضی گزار کے وکیل نے اپنی طرف سے کہا کہ پروازیں صرف پولینڈ اور ہنگری سے چلائی جارہی ہیں۔

عرضی گزار کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ عرضی مندرجات دیکھتے ہوئے وہ اس پر غور کریں کہ (مدد کے لئے) اس میں کیا کچھ کیا جاسکتا ہے؟

عرضیوں پر کوئی آرڈر دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

اس سے پہلے (آج) بنچ نے ہندوستانیوں کی سلامتی، بحفاظت واپسی اور بنیادی سہولیات مہیا کرانے والی مانگ والی عرضیوں پر کوئی آرڈر دینے سے انکار کردیا تھا۔

جج رمن نے جلد سماعت کی درخواست پر شروعات میں کہا تھا کہ عدالت کیا کرے گی؟ کیا میں روس کے صدر کو جنگ روکنے کی ہدایت دے سکتا ہوں؟

ایک عرضی کا موقف رکھ رہے وکیل اے ایم در کی طرف سے عرضی پر جلد سماعت کا ذکر کرنے پر جج نے کہا تھا کہ کیوں میں ولادیمیر پوتن سے جنگ روکنے کے لئے کہوں؟ آپ کیا چاہتے ہیں۔

عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمی طلبا کی بحفاظت واپسی کے لئے ہدایت دے سکتی ہے۔

چیف جسٹس کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ سے پیدا شدہ بحران میں پھنسے طلبا کے تئیں ان کی ہمدردی ہے، لیکن وہ اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

خصوصی ذکر کرنے والے وکیل نے ایک طلبا سمیت بڑی تعداد میں طلبا کے یوکرین۔رومانیہ کی سرحد سے وطن واپس لانے کے لئے وزارت خارجہ کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔ عرضی میں پھنسے ہوئے طلبا کو راحت فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

وکیل وشال تیواری نے بھی گزشتہ ہفتہ عرضی دائر کرکے سپریم کورٹ سے مرکزی حکومت کو فوری طور پر ضروری ڈپلومیٹک اقدامات کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔

ان کی طرف سے دائر عرضی میں یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے گئے طلبا کے مستقبل پر خاص طور پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ تعلیم اور ملازمت اور دیگر کاموں سے یوکرین گئے لوگوں کے وہاں سے ہندوستان واپس آنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں طلبا سمیت کئی لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

حکومت ڈپلومیٹک ذریعہ ضروری اقدامات کرے

بحران کے ان حالات میں وہاں کے ہندوستانیوں کی سلامتی سے لیکر خوراک، پانی او ر دوا۔ طب کا انتظام ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں مرکزی حکومت ڈپلومیٹک ذریعہ ضروری اقدامات کرے تاکہ بروقت ضروری سہولیات مہیا کرائی جاسکیں۔

عرضی گزار نے جنگ کی حالت کے مدنظر میڈیکل شعبہ میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کررہے طلبا کے مستقبل پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ طلبا کے لئے آن لائن تعلیم سے متعلق سہولیات کرانے کے لئے ضروری ہدایت حکومت کو دینے کی درخواست کی۔

خیال رہے کہ لمبے وقت سے جاری آپسی تنازعہ کے بعد روس نے گزشتہ دنوں یوکرین پر حملہ کردیا تھا۔ روز روز آ رہی گولہ باری اور بڑی تعداد میں لوگوں کے مارے جانے کی خبروں سے یوکرین میں مقیم ہندوستانیوں کے اہل خانہ یہاں ان کی سلامتی پر نہایت فکر مند ہیں۔

یوکرائنی نہ ڈریں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے: زیلینسکی

0

مسٹر زیلینسکی نے کہا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یوکرائنی خوفزدہ ہو جائیں گے، ٹوٹ جائیں گے یا ہتھیار ڈال دیں گے، تو وہ یوکرین کے بارے میں کچھ نہیں جانتا

کیف: روس کی کارروائی آٹھویں دن میں داخل ہونے اور 2000 سے زیادہ یوکرائنی شہریوں کے مارے جانے کے خدشے کے دوران صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ان کے لوگ خوفزدہ نہیں ہیں، نہ ٹوٹیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے۔
مسٹر زیلینسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل میں بتایا کہ "انہوں نے کئی بار ہمیں تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یوکرینی خوفزدہ ہو جائیں گے، ٹوٹ جائیں گے یا ہتھیار ڈال دیں گے، تو وہ یوکرین کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔”

یوکرائنی صدر نے کہا کہ ’’گھر جاؤ۔ روسی زبان بولنے والے لوگوں کی حفاظت کرو۔”

یوکرین کے وزیر خارجہ دمتری کولیبا نے بدھ سے اینرگودر میں جاری زبردست مزاحمت کے بارے میں کہا کہ یہ یوکرین کے لیے حقیقی عوامی جنگ ہے۔

مسٹر کولیبا نے بتایا کہ "روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے پاس اسے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہمیں یوکرین کے دفاع کے لیے شراکت داروں کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ہوا میں۔ اب آسمان بند کرو!

53,000 سے کم آبادی والے دریائے ڈینیپر کے کنارے واقع اینرگودر میں بدھ کو سیکڑوں لوگوں نے روسی فوجی قافلوں کو روکنے کے لیے مرکزی سڑکوں کو بلاک کر دیا۔ یوروپ کا سب سے بڑا پاور پلانٹ اور زبپروزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ اینرگوڈارمیں واقع ہے۔

یوکرین میں روسی جارحیت سے 227 عام شہری ہلاک، 552 زخمی: اقوام متحدہ

0

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی جارحیت سے اب تک 15 بچے سمیت 227 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں

کیف/ نیویارک: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی جارحیت سے اب تک 227 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا کہ یوکرین میں روسی حملوں سے ہلاک افراد میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ یوکرین میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، 24 فروری سے اب تک روسی حملوں میں 552 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

یو این کے مطابق فضائی حملے، ملٹی لانچ راکٹ سسٹم اور ہیوی آرٹلری شیلنگ ہلاکتوں کا باعث بنی ہیں۔

یوکرین حکومت کے مطابق انہیں جنگ زدہ علاقوں سے معلومات کے حصول میں تاخیر کا سامنا ہے۔

یوکرین کی مدد کے لیے آگے آئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک

0
یوکرین کی مدد کے لیے آگے آئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک
یوکرین کی مدد کے لیے آگے آئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک

یوکرین کی مدد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک یوکرین کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مناسب پالیسی کے ردعمل پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کی فنڈنگ ​​اور پالیسی کے محاذوں پر مدد کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں، اور فوری طور پر اس مدد کو بڑھا رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر ڈیوڈ ملپاس نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور مہنگائی کا خطرہ ہے، جس سے غریب سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی منڈیوں میں خلل (کریش ہونا) جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں جن پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے اس کا معاشی اثر بھی نمایاں ہوگا۔

دونوں ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مناسب پالیسی کے ردعمل پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف ہنگامی فنڈنگ ​​کے لیے یوکرین کی درخواست پر بھی کام کر رہا ہے، جس پر آئی ایم ایف بورڈ کے اگلے ہفتے کے اوائل میں کام کرنے کی توقع ہے۔

دریں اثنا، ورلڈ بینک گروپ آنے والے مہینوں میں 3 بلین امریکی ڈالر کا امدادی پیکج تیار کر رہا ہے، جس کی شروعات کم از کم 350 ملین امریکی ڈالر تیزی سے تقسیم کیے جانے والے بجٹ سپورٹ آپریشن کے ساتھ کی جائے گی، جس کی منظوری کیلئے اس ہفتے بورڈ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد صحت اور تعلیم کے لیے تیزی سے تقسیم کیے جانے والے بجٹ میں 200 ملین امریکی ڈالر شامل کئے جائیں گے۔

عالمی بینک کا افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالرز کا اعلان

0
عالمی بینک کا افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالرز کا اعلان
عالمی بینک کا افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالرز کا اعلان

ورلڈ بینک کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ یہ ایک ارب ڈالرز کی رقم افغانستان میں یو این ایجنسیز اور این جی اوز کے ذریعے خرچ کی جائے گی

نیویارک: عالمی بینک نے افغانستان کو انسانی امداد کی مد میں ایک ارب ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے۔

ورلڈ بینک کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ یہ ایک ارب ڈالرز کی رقم افغانستان میں یو این ایجنسیز اور این جی اوز کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔

عالمی بینک کا اس ضمن میں یہ بھی کہنا ہے کہ یہ امدادی رقم افغانستان کی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس طالبان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ورلڈ بینک نے افغانستان کے لیے امداد بند کر دی تھی۔

عالمی بینک نے طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی صورت حال انتہائی تشویش ناک قرار دی تھی۔

خیال رہے امداد بند کرنے سے قبل افغانستان میں ورلڈ بینک کے 2 درجن سے زائد ترقیاتی منصوبے جاری تھے۔

پیوٹن کے اقدامات نے روسی معیشت کو شدید متاثر کیا: بائیڈن

0
پیوٹن کے اقدامات نے روسی معیشت کو شدید متاثر کیا: بائیڈن
پیوٹن کے اقدامات نے روسی معیشت کو شدید متاثر کیا: بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے کے نتیجے میں پابندیوں سے روسی معیشت شدید متاثر ہوگی

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کی جنگ سوچی سمجھی اور بلا اشتعال تھی اس غیر قانونی حملہ کے نتیجے میں پابندیوں سے روسی معیشت شدید متاثر ہوگی۔

امریکی صدر نے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کہا کہ یوکرین کے حملہ پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مغرب کے ردعمل کو سمجھنے میں غلطی کی، وہ مغربی اقوام کے سخت ردعمل کا درست اندازہ نہیں لگا سکے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پیوٹن نے سفارت کاری کی کوششوں کو مسترد کیا، ان کا خیال تھا کہ مغرب اور ناٹو جواب نہیں دیں گے، روس نے سوچا تھا کہ وہ ہمیں اپنے ہی گھر میں تقسیم کر سکتا ہے، لیکن وہ غلط تھا اور ہم تیار تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیوٹن کو دنیا میں تنہا کردیا گیا ہے، اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس پر سخت معاشی پابندیاں لگا رہے ہیں، روس کی کرپٹ عسکری قیادت سے کہتا ہوں کہ اب وہ اربوں ڈالر نہیں بنا سکیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اعلان کرتا ہوں کہ آج سے ہم اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنے فضائی حدود تمام روسی پروازوں کے لیے بند کررہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ روس کی کرنسی پہلے ہی 30 فیصد گر چکی اور اس معاشی تباہی کے صرف اور صرف ذمہ دار پیوٹن ہیں، امریکہ یوکرین میں روسی فوج سے برسر پیکار نہیں ہوگی، امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ناٹو کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ ہیں اور تاریخ بتائے گی کہ پیوٹن کے اقدامات نے روس کو کمزور کیا، آج یوروپ اور مغرب پہلے سے زیادہ متحد ہے۔

امریکہ کے سیکرامنٹو چرچ میں فائرنگ، پانچ افراد ہلاک

0

سیکرامنٹو کاؤنٹی شیرف دفتر کے سارجنٹ راڈ گراس مین نے سی بی ایس کے حوالے سے بتایا ہے کہ چرچ میں ہونے والی فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے

واشنگٹن: شمالی امریکہ میں واقع کیلیفورنیا کے شہر سیکرامنٹو میں ایک چرچ میں ہوئی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے یہ اطلاع دی ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے کہا ’’امریکہ میں پرتشدد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جو دلدوز واقعہ ہے۔ چرچ کے اندر بچے بھی تھے۔ ہماری تعزیت مرنے والوں، ان کے اہل خانہ اور برادری کے ساتھ ہے۔ ہم مقامی پولیس کے ساتھ مل کر اس کی باریک بینی سے تفتیش کر رہے ہیں‘‘۔

سیکرامنٹو میٹرو فائر کی تصدیق سی بی ایس 13 نے کی۔ جہاں چرچ میں پیر کی دوپہر کو فائرنگ ہوئی۔ 

سیکرامنٹو میں سٹی ایڈمنسٹریشن آفس کے سربراہ ایرک گویرا نے پیر کو ٹویٹ کیا ’’براہ کرم ہوشیار اور چوکس رہیں۔ مقامی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کاؤنٹی میں 2041 وایاڈا وے میں واقع چرچ میں بڑے پیمانے پر ہوئی فائرنگ کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ اس دوران علاقے میں موجود رہتے ہوئے چوکس رہیں۔ پولیس جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔

سیکرامنٹو کاؤنٹی شیرف دفتر کے سارجنٹ راڈ گراس مین نے سی بی ایس کے حوالے سے بتایا ہے کہ چرچ میں ہونے والی فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ایک شخص نے اپنے کنبے کے چار افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور خود کو بھی گولی مار لی۔ اس دوران ایک پانچواں شخص بھی مارا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پانچواں شخص اس کنبے کا رکن تھا یا نہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، مسٹر گراس مین نے گزشتہ شام صحافیوں کو بتایا ’’اب تک ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ گھریلو تشدد کا ہے‘‘۔