چیف جسٹس کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ سے پیدا شدہ بحران میں پھنسے طلبا کے تئیں ان کی ہمدردی ہے، لیکن وہ اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دے سکتے
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی حکومت سے کہا کہ روس یوکرین جنگ بحران میں پھنسے طلبا کی مدد سے متعلق عرضیوں پر کیا مدد کی جاسکتی ہے اس پر غور کرے۔
اس سے پہلے آج کی سماعت کے دوران عدالت عظمی نے عرضی پر سماعت کے بعد کوئی آرڈر دینے سے انکار کردیا تھا۔
عدالت عظمی کی تین رکنی بنچ کی صدارت کررہے ہیں چیف جسٹس این وی رمنا نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ طلبا کی پریشانی سے وہ فکرمند ہیں لیکن وہ کوئی آرڈر نہیں دے سکتے۔
عرضی گزار کی طرف سے وکیل اے ایم دار نے بنچ کے سامنے کہا کہ طلبا ٹھنڈ میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ خوراک اور پانی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عرضی گزاروں کی پریشانی معلوم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہندوستان کے وزیر یوکرین کی سرحد سے ملحق ممالک میں پھنسے ہوئے طلبا کی وطن واپسی کے لئے سہولت فراہم کررہے ہیں۔
یوکرین کی ہندستانیوں کو پڑوسی ممالک میں جانے کی اجازت
مسٹر وینوگوپال نے عرضی گزار کے وکیل سے معلوم کرنا چاہا کہ طلبا یوکرین کی سرحد پر کیوں پار نہیں کر پارہے ہیں جبکہ یوکرین ہندستانیوں کو پڑوسی ممالک میں جانے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس پر عرضی گزار کے وکیل نے اپنی طرف سے کہا کہ پروازیں صرف پولینڈ اور ہنگری سے چلائی جارہی ہیں۔
عرضی گزار کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ عرضی مندرجات دیکھتے ہوئے وہ اس پر غور کریں کہ (مدد کے لئے) اس میں کیا کچھ کیا جاسکتا ہے؟
عرضیوں پر کوئی آرڈر دینے سے سپریم کورٹ کا انکار
اس سے پہلے (آج) بنچ نے ہندوستانیوں کی سلامتی، بحفاظت واپسی اور بنیادی سہولیات مہیا کرانے والی مانگ والی عرضیوں پر کوئی آرڈر دینے سے انکار کردیا تھا۔
جج رمن نے جلد سماعت کی درخواست پر شروعات میں کہا تھا کہ عدالت کیا کرے گی؟ کیا میں روس کے صدر کو جنگ روکنے کی ہدایت دے سکتا ہوں؟
ایک عرضی کا موقف رکھ رہے وکیل اے ایم در کی طرف سے عرضی پر جلد سماعت کا ذکر کرنے پر جج نے کہا تھا کہ کیوں میں ولادیمیر پوتن سے جنگ روکنے کے لئے کہوں؟ آپ کیا چاہتے ہیں۔
عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمی طلبا کی بحفاظت واپسی کے لئے ہدایت دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ سے پیدا شدہ بحران میں پھنسے طلبا کے تئیں ان کی ہمدردی ہے، لیکن وہ اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دے سکتے۔
خصوصی ذکر کرنے والے وکیل نے ایک طلبا سمیت بڑی تعداد میں طلبا کے یوکرین۔رومانیہ کی سرحد سے وطن واپس لانے کے لئے وزارت خارجہ کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔ عرضی میں پھنسے ہوئے طلبا کو راحت فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
وکیل وشال تیواری نے بھی گزشتہ ہفتہ عرضی دائر کرکے سپریم کورٹ سے مرکزی حکومت کو فوری طور پر ضروری ڈپلومیٹک اقدامات کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔
ان کی طرف سے دائر عرضی میں یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے گئے طلبا کے مستقبل پر خاص طور پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ تعلیم اور ملازمت اور دیگر کاموں سے یوکرین گئے لوگوں کے وہاں سے ہندوستان واپس آنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں طلبا سمیت کئی لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
حکومت ڈپلومیٹک ذریعہ ضروری اقدامات کرے
بحران کے ان حالات میں وہاں کے ہندوستانیوں کی سلامتی سے لیکر خوراک، پانی او ر دوا۔ طب کا انتظام ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں مرکزی حکومت ڈپلومیٹک ذریعہ ضروری اقدامات کرے تاکہ بروقت ضروری سہولیات مہیا کرائی جاسکیں۔
عرضی گزار نے جنگ کی حالت کے مدنظر میڈیکل شعبہ میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کررہے طلبا کے مستقبل پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ طلبا کے لئے آن لائن تعلیم سے متعلق سہولیات کرانے کے لئے ضروری ہدایت حکومت کو دینے کی درخواست کی۔
خیال رہے کہ لمبے وقت سے جاری آپسی تنازعہ کے بعد روس نے گزشتہ دنوں یوکرین پر حملہ کردیا تھا۔ روز روز آ رہی گولہ باری اور بڑی تعداد میں لوگوں کے مارے جانے کی خبروں سے یوکرین میں مقیم ہندوستانیوں کے اہل خانہ یہاں ان کی سلامتی پر نہایت فکر مند ہیں۔