اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 258

ابتدائی رجحانات: اترپردیش-منی پور میں بی جے پی کو ابتدائی برتری، گوا-اتراکھنڈ میں کانگریس اور پنجاب میں آپ آگے

0
ابتدائی رجحانات: اترپردیش-منی پور میں بی جے پی کو ابتدائی برتری، گوا-اتراکھنڈ میں کانگریس اور پنجاب میں آپ آگے
ابتدائی رجحانات: اترپردیش-منی پور میں بی جے پی کو ابتدائی برتری، گوا-اتراکھنڈ میں کانگریس اور پنجاب میں آپ آگے

پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات کے مطابق بی جے پی اترپردیش اور منی پور میں آگے

نئی دہلی: پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اترپردیش اور منی پور میں آگے ہے۔ اتراکھنڈ اور گوا میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں کانگریس 14 سیٹوں پر، عآپ 22 سیٹوں پر، شرومنی اکالی دل 5 سیٹوں پر، بی جے پی دو سیٹوں پر آگے ہے۔ منی پور میں مقابلہ بی جے پی کے حق میں یک طرفہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اتراکھنڈ میں 70 میں سے 24 سیٹوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی 11 اور کانگریس 13 سیٹوں پر آگے ہے۔

ان پانچ ریاستوں میں 690 سیٹوں کے لیے ووٹوں کی گنتی آج صبح 8 بجے شروع ہوئی۔ ابتدا میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے بیلٹ کی گنتی کی گئی۔ تمام ریاستوں میں ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کرائی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی کی نگرانی کے لیے 671 مبصر، 130 پولیس مبصر، 10 خصوصی مبصر تعینات کیے ہیں۔

گوا میں 40 سیٹوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کرناٹک: وہاٹس ایپ پر پاکستان کا جھنڈا پوسٹ کرنے پر شیوموگا کالج میں کشیدگی

0
کرناٹک: وہاٹس ایپ پر پاکستان کا جھنڈا پوسٹ کرنے پر شیوموگا کالج میں کشیدگی
کرناٹک: وہاٹس ایپ پر پاکستان کا جھنڈا پوسٹ کرنے پر شیوموگا کالج میں کشیدگی

شیوموگا میں حجاب پر بات چیت کے دوران ایک طالبہ کی طرف سے وہاٹس ایپ گروپ میں پاکستان کا جھنڈا پوسٹ کرنے پر شروع ہوا تنازعہ زور پکڑنے لگا

شیوموگا: کرناٹک کے شیوموگا میں حجاب پر بات چیت کے دوران ایک طالبہ کی طرف سے وہاٹس ایپ گروپ میں پاکستان کا جھنڈا پوسٹ کرنے پر منگل کو شروع ہوا تنازعہ زور پکڑنے لگا ہے۔

اس معاملہ پر ضلع کے سہیادری سائنس کالج میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ اس کے خلاف طلبا مظاہرہ کررہے ہیں اور ملزم طالبہ کے خلاف انتظامیہ سے کارروائی کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔ کالج کے طلبا نے اس معاملہ میں منگل کو بھی مظاہرہ کیا تھا اور ملزم طالبہ کے خلاف کارروائی کی مانگ کی تھی۔

مظاہرین طلبا ملزم طالبہ کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے اور اسے کالج سے برخاست کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکن بھی اس مظاہرہ میں شامل ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ حجاب کے معاملہ پر بات چیت کے دوران ایک طالبہ نے وہاٹس ایپ گروپ میں ہندوستانی پرچم پوسٹ کیا تو طالبہ نے اس کے جواب میں پاکستان کا جھنڈا پوسٹ کردیا۔

مظاہرین طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک میمورنڈم سونپا ہے اور انتظامیہ نے ملزم طالبہ کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کالج انتظامیہ اس معاملہ میں قانونی صلاح لے رہی ہے۔

خیال رہے کہ ہندو کارکن کے قتل کے بعد شیوموگا میں بڑے پیمانہ پر تشدد ہوا تھا۔

شیئر بازار میں آج مسلسل دوسرے دن اضافہ، سرمایہ کاروں نے کمائے 2.51 لاکھ کروڑ

0
شیئر بازار میں آج مسلسل دوسرے دن اضافہ، سرمایہ کاروں نے کمائے 2.51 لاکھ کروڑ
شیئر بازار میں آج مسلسل دوسرے دن اضافہ، سرمایہ کاروں نے کمائے 2.51 لاکھ کروڑ

شیئر بازار میں اس تیزی سے بی ایس ای کا بازار کیپٹلائزیشن گذشتہ سیشن میں 24110831.04 کروڑ روپے کے مقابلے آج 252663.79 کروڑ روپے بڑھ کر 24362494.83 کروڑ روپے ہوگئی۔ اس طرح سرمایہ کاروں نے 2.51 لاکھ کروڑ روپے کمائے ہیں

ممبئی: روس-یوکرین جنگ کی وجہ سے شدید فروخت کی وجہ سے گراوٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی شدید خریداری سے شیئر بازار میں آج مسلسل دوسرے دن اضافہ ہوا۔ اس دوران شیئر بازار میں دو فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے 2.52 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی۔

بی ایس ای کا 30 شیئر والے سنسیئری انڈیکس سینسیکس 1223.24 پوائنٹس بڑھ کر 54647.33 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 331.90 پوائنٹس بڑھ کر 16345.35 پر پہنچ گیا۔ بڑی کمپنیوں کی طرح کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں بھی دباؤ میں تھیں، جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 2.37 فیصد بڑھ کر 22961.84 پوائنٹس اور اسمال کیپ 2.16 فیصد بڑھ کر 26583.64 پوائنٹس پر پہنچ گئی۔

شیئر بازار میں اس تیزی سے بی ایس ای کا بازار کیپٹلائزیشن گذشتہ سیشن میں 24110831.04 کروڑ روپے کے مقابلے آج 252663.79 کروڑ روپے بڑھ کر 24362494.83 کروڑ روپے ہوگئی۔ اس طرح سرمایہ کاروں نے 2.51 لاکھ کروڑ روپے کمائے ہیں۔

اس تیزی کے باوجود بی ایس ای میں دھات 0.69 فیصد، پاور 0.03 فیصد اور یوٹیلٹی 0.10 فیصد شامل ہیں۔ باقی تمام گروپ ریئلٹی 3.16 فیصد، انرجی 3.58 فیصد، آٹو 2.92 فیصد، فائینانس 2.14 فیصد، بینکنگ 1.76 فیصد اور کیپٹل گڈز 2.02 فیصد کے ساتھ کلیدی طور پر شامل ہیں۔

کل 3435 کمپنیوں کا کاروبار

بی ایس ای میں کل 3435 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2657 ہرے نشان میں اور 684 سرخ نشان میں تھیں جبکہ 94 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی سطح پر یورپی بازار میں اضافہ ہوا جبکہ ایشیائی بازار سرخ رنگ میں رہیں۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 2.11 فیصد اور جرمنی کا ڈیکس 4.97 فیصد منافع میں، جبکہ جاپان کا نکئی 0.30 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.67 فیصد اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 1.13 فیصد گراوٹ میں رہا۔

ایگزٹ پول محض ایک اندازہ ہیں جو غلط ثابت ہوتے ہیں

0

حالیہ اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول کے بعد حتمی نتائج کیا ہوں گے یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔ اس لیے دل تھام کر 10 مارچ کا انتظار کریں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات 7 مارچ کو مکمل ہو گئے۔ اب انتظار ہے 10 مارچ کا، جب امیدواروں کی قسمت کا پٹارہ کھلے گا۔ مگر اس سے پہلے امیدواروں، سیاستدانوں، سیاسی پنڈتوں اور عوام کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔دھڑکنوں کو مزید تیز کرنے کا کام کیا ہے مختلف ایجنسیوں اور نیوز چینلوں کے سروے یعنی ایگزٹ پولز نے۔ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں، ان میں اترپردیش، اترا کھنڈ، پنجاب، منی پور اور گوا شامل ہیں۔

ان سبھی ریاستوں میں نتائج کا اعلان ایک ہی دن کیا جائے گا۔ تاہم نتائج کے حتمی اعلان سے پہلے سبھی نیوز چینلوں نے مختلف ایجنسیوں اور اداروں کے ساتھ مل کر ان پانچوں ریاستوں کے انتخابات کے ایگزٹ پول جاری کردئے۔ ا ن کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان ریاستوں میں اگلی سرکار کس پارٹی کی بن سکتی ہے۔ یہ ایگزٹ پول ووٹنگ کے دوران کئے گئے سروے کی بنیاد پر تیار کئے جاتے ہیں اور اس کے نتائج کو حتمی نہیں مانا جاسکتا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ انتخابی نتائج ان ایگزٹ پولز کے بالکل برعکس آئے ہیں، جبکہ کئی بار یہ صحیح بھی ثابت ہوئے ہیں۔پھر بھی یہ ایگزٹ پول محض ایک اندازہ ہے، حتمی نتائج نہیں۔

ایگزٹ پول در اصل ایک نفسیاتی کھیل ہے

ایگزٹ پول در اصل لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے کا ایک نفسیاتی کھیل ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد دکھائے گئے ایگزٹ پول کے ذریعہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا جا رہا ہے کہ آئے گی تو بی جے پی ہی۔ جبکہ انتخابات کے دوران زمینی سطح پر حالات کچھ اور ہی تصویر بیان کر رہے تھے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ انتخابات کے دوران بی جے پی کے خلاف نظر آنے والا ماحول، حزب اختلاف کے لیڈران کے انتخابی جلسوں میں امڈنے والی بھیڑ، ٹی وی چینلوں اور یو ٹیوب چینلوں پر نظر آنے والا عام لوگوں کا غصہ اور ناراضگی، کسان، نوجوان، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسئلوں پر بغلیں جھانکتے بی جے پی لیڈر، انتخابی جلسوں میں نظر آنے والی خالی کرسیاں، اس کے امیدواروں کو مختلف مقامات پر عوام کی ناراضگی کا سامنا، تمام کوششوں کے باوجود مذہبی اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کے جذبات بھڑکانے میں ناکامی سب کے سامنے ہے۔

ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑی

ان سب کے بعد بھی اگر بی جے پی کامیاب ہوجاتی ہے، تو پھر ہمیں انتخابی عمل پر نظر ثانی کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ان انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نے جو کردار ادا کیا ہے، اس پر مختلف سطحوں پر بار بار سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑی اور کچھ مقامات پر انتخابی عملہ اور افسران کی جانبداری کی خبروں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب بھی ای وی ایم پر سوالات اٹھتے ہیں تو وہ حزب اختلاف کی جانب سے ہی اٹھائے جاتے ہیں، آخر حکمراں جماعت پر کوئی فرق کیوں نہیں پڑتا؟

حالیہ انتخابات میں ایک شکایت

ایسی بھی شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ ووٹر نے بٹن کسی دوسری پارٹی کا دبایا، لیکن ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں گیا۔ حالیہ انتخابات میں ایک شکایت تو یہ بھی آئی کہ یوپی میں کسی جگہ پر سماجوادی پارٹی کے بٹن کو چپکا دیا گیا تھا۔ یعنی گاؤں دیہات یا ناخواندہ افراد کو اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ ان کا ووٹ پڑ گیا یا نہیں۔ لہذا ووٹنگ کے عمل کو جب تک بالکل شفاف نہیں بنایا جائے گا اور الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کا آلہ کار نظر آئے گا، سوالات تو اٹھتے ہیں رہیں گے۔

جہاں تک ایگزٹ پول کی بات ہے تو یہ ووٹنگ کے بعد کا ایک سروے ہوتا ہے۔ اس سے کچھ حد تک ووٹ ڈالنے کے بعد ووٹر کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ ایگزٹ پول کا مقصد رائے دہندگان سے جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر انتخابات کے نتائج کی پیشین گوئی کرنا ہے۔ یہ ایگزٹ پول کئی اداروں اور نیوز چینلوں کے ذریعے کروائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ووٹ ڈالنے سے پہلے عوام کا موڈ جاننے کے لیے ایک سروے کیا جاتا ہے، اسے اوپنین پول کہتے ہیں۔ جبکہ ووٹنگ کے بعد ہونے والے سروے کو ایگزٹ پول کہا جاتاہے۔

ایگزٹ پول پر پابندی لگانے کا مطالبہ

دوردرشن نے سب سے پہلے1996ء میں ایگزٹ پول شروع کیا تھا۔ جب رائے دہندگان ووٹ ڈالنے کے بعد جا رہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کس کو ووٹ دیا؟ اس بنیاد پر کئے گئے سروے سے جو جامع نتائج سامنے آئے، انہیں ایگزٹ پول کا نام دیا گیا۔ 1998ء میں الیکشن کمیشن نے رائے شماری اور ایگزٹ پول پر پابندی لگا دی۔ تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ 2009ء میں ایک بار پھر ایگزٹ پول پر پابندی لگانے کا مطالبہ سامنے آیا۔ پھر قانون میں ترمیم کی گئی، جس کے مطابق حتمی ووٹ ڈالے جانے تک انتخابی عمل کے دوران ایگزٹ پول نہیں دکھائے جا سکتے۔

2022ء کے ایگزٹ پول کے نتیجوں پر متفق یا غیر متفق ہونے سے پہلے 2017ء کے اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول پر بھی نظر ڈال لینا چاہئے۔ 2017ء میں ان ریاستوں کے ایگزٹ پول میں کیا کہا گیا تھا اور نتائج کیا رہے؟ یوپی میں پچھلی بار یعنی 2017ء میں بھی سات مرحلوں میں انتخابات ہوئے تھے۔ کسی نے اپنے سروے میں بتایا تھا کہ بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی تو کسی نے اکثریت کے قریب پہنچایا تھا اور کسی نے پیشن گوئی کی کہ بی جے پی اکثریت سے بہت دور رہے گی۔ نتائج اس کے برعکس آئے۔

پنجاب الیکشن کے ایگزٹ پول کی پیشین گوئی بھی صحیح نہیں

بی جے پی کو تمام ایگزٹ پولز سے بہت زیادہ سیٹیں ملیں۔ ایکسس کے سروے میں بی جے پی اتحاد کو سب سے زیادہ279 سیٹیں دی گئیں، لیکن بی جے پی اتحاد نے 325 سیٹیں جیتیں۔ بی جے پی نے اکیلے312 سیٹیں جیتی تھیں۔ وہیں اتراکھنڈ میں بھی 2017ء میں اندازہ صحیح ثابت نہیں ہوا۔ چانکیہ نے بی جے پی کو53 سیٹیں دی تھیں، جبکہ ایکسس سروے نے 46 سے53 سیٹوں کی پیشن گوئی کی تھی۔ نتیجہ میں بی جے پی کو کسی بھی دوسرے سروے سے زیادہ سیٹیں ملیں۔2017ء کے پنجاب الیکشن میں ایگزٹ پول کی پیشین گوئی بھی صحیح نہیں رہی تھی۔ سبھی ایگزٹ پول عام آدمی پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں دے رہے تھے، لیکن عام آدمی پارٹی صرف20 سیٹوں پر سمٹ گئی اور کانگریس نے77 سیٹیں جیت کر مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی تھی۔

منی پورمیں 2017ء میں کسی کو اکثریت نہیں ملی اور سبھی ایگزٹ پول غلط نکلے۔ ایگزٹ پول میں انڈیا ٹی وی کے سی ووٹرز نے بی جے پی کو اکثریت کے قریب پہنچا دیا تھا۔ اس کے برعکس کانگریس کی نشستیں کافی کم بتائیں۔ نتائج اس کے برعکس نکلے۔ تاہم، بعد میں بی جے پی کئی کانگریس ایم ایل ایز کو توڑ کر حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ ریاست میں 60 نشستیں ہیں اور اکثریت حاصل کرنے کے لئے 31سیٹیں درکار ہوتی ہیں۔ کانگریس نے 28 سیٹیں جیتیں، جبکہ بی جے پی کے 21 امیدوار کامیاب ہوئے۔

2017ء کے گوا اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول

اسی طرح 2017ء میں گوا اسمبلی انتخابات کے تقریباً تمام ایگزٹ پول کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ سبھی نے بی جے پی کو اکثریت کے بہت قریب بتایا تھا، لیکن نتائج مختلف نکلے۔ دہلی کے پچھلے تین اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

ایگزٹ پولز میں عام آدمی پارٹی کو کم سیٹیں دی گئیں۔ تاہم جب نتیجہ آیا تو ’آپ‘ نے ہر الیکشن میں سب کو حیران کر دیا۔ 2018ء چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول میں بھی بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلے کی بات کی جا رہی تھی۔ تاہم کانگریس نے زبردست جیت درج کی۔

لوک سبھا انتخابات کے ایگزٹ پول بھی ناکام

اسی طرح 2004ء کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ایگزٹ پولز نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے قیام کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم انتخابی نتائج اس کے برعکس آئے۔ جہاں این ڈی اے کو189 سیٹیں ملیں، وہیں یو پی اے نے222 سیٹیں جیتیں اور ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔ 2009ء کے لوک سبھا انتخابات کے ایگزٹ پول بھی ناکام ثابت ہوئے۔ ایگزٹ پول میں کہا گیا کہ این ڈی اے کو برتری حاصل ہوگی، مگر تنہا کانگریس نے206 اور یو پی اے کو 262 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ لہذا ابھی 10 مارچ تک دل تھام کر حتمی نتیجوں کا انتظار کریں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
yameen@inquilab.com

_مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں_

پاکستان میں دھماکہ، 4 اموات، 35 سے زائد زخمی

0

پولیس کے مطابق دھماکہ کی نوعیت جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ابتدائی تفتیش جاری ہے

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی میں منگل کو صدر عارف علوی کے شہر کے دورے کے دوران ایک دھماکہ میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 35 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

دھماکہ ایک کھلے علاقے کے قریب ہوا جہاں سبی کا سالانہ میلہ ہو رہا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ صدر عارف علوی کے میلے کے دورے کے دوران ہوا۔

پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ابتدائی تفتیش جاری ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکام کو دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پولیس کو سبی میں سیکیورٹی مضبوط کرنے اور واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مسٹر بزنجو نے کہا کہ دھماکہ سالانہ جشن اور صوبے میں مجموعی طور پر امن کو خراب کرنے کی کوشش تھی۔

گزشتہ ہفتے پشاور کے قصہ خوانی بازار کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم 57 افراد جاں بحق اور 194 زخمی ہوئے تھے۔

ایک اور معاملے میں اعظم خان کو ملی ضمانت، دو اور مقدموں میں ضمانت کا رہے گا انتظار

0

اعظم خان کو زیر التوا تین معاملوں میں سے ایک میں ملی ضمانت، جیل سے باہر آنے کے لئے ابھی 2 اور مقدموں میں ضمانت کا کرنا ہوگا انتظار

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما و رام پور ایم پی اعظم خان کو الہ آباد ہائی کورٹ نے جعل سازی کے ایک معاملے میں آج ضمانت دے دی۔ تاہم دیگر دو معاملے زیر التوا ہونے کی وجہ سے ابھی وہ جیل میں ہی رہیں گے۔

اعظم خان گذشتہ دو سالوں سے متعدد مقدمات میں سیتا پور جیل میں قید ہیں۔ آج عدالت نے جعل سازی کے ایک معاملے میں ان کی ضمانت کی عرضی منظور کی ہے۔ جبکہ ہنوز دیگر دو کیسز زیر التوا ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس رمیش سنگھ کی واحد بنچ نے اپنے عہدے کے غلط استعمال سے متعلق ایک کیس میں آئی پی سی کی دفعہ 505(02) کے تحت درج کیس پر سماعت کرتے ہوئے ضمانت عرضی منظور کرلی۔

اعظم خان کی جانب سے پیش وکیل نے اپنے جرح میں عدالت سے کہا کہ ان کے مؤکل لمبے عرصے سے جیل میں قید ہے اور اس کیس میں ان کے خلاف درج مقدمہ کی ہنوز مجسٹریٹ عدالت میں اسکروٹنی ہونی ہے۔ ساتھ ہی یہ معاملہ سیاست سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔

ضمانت کی مخالفت

وہیں ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے پراسیکیوشن نے اپنے بحث میں کہا کہ متعلقہ کیس کی رپورٹ عرضی گذار علامہ ضمیر نقوی کی جانب سے حضرت گنج کوتوالی میں یکم فروری سال 2019 کو فائل کردی گئی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ سال 2014 کا ہے، لیکن حکومت کے اثر کی وجہ سے رپورٹ درج نہیں کی گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ متعدد کیس درج ہونے کے بعد سماج وادی سینئر رہنما اعظم خان نے 26 فروری 2020 کو عدالت میں مع اپنے بیوی تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کے ساتھ خودسپردگی کی تھی۔ جہاں سے عدالت نے تینوں کو جیل بھیج دیا تھا۔ دس ماہ بعد تزئین فاطمہ کو ضمانت مل گئی تھی جبکہ بیٹے عبداللہ 23 مہینوں بعد جیل سے باہر آئے، وہیں اعظم خان ہنوز سیتاپور جیل میں قید ہیں۔

2017 میں اعظم خان پر 84 معاملات ہوئے درج

ملحوظ رہے کہ موصول دستاویزات کے مطابق اعظم خان کو کل 87 مقدموں کا سامنا ہے جن میں سے 84 ایف آئی آر 2017 میں یوپی میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد اگلے دو سالوں میں درج کی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ ان 84 میں سے 81 معاملے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے اور بعد میں درج کئے گئے ہیں۔

ایس پی لیڈر کو 87 مقدموں میں سے 84 معاملوں میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے تین معاملے زیر التوا تھے جن میں سے ایک میں آج ضمانت مل گئی ہے۔ جیل سے باہر آنے کے لئے ابھی انہیں 2 مقدموں میں ضمانت کا انتظار کرنا ہوگا۔

روس کا انسانی راہداری بنانے کے لیے جنگ بندی کا اعلان

0
روس کا انسانی راہداری بنانے کے لیے جنگ بندی کا اعلان
روس کا انسانی راہداری بنانے کے لیے جنگ بندی کا اعلان

روس نے انسانی راہداری بنانے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا، یہ جنگ بندی کا انحصار یوکرین کے رویے پر ہوگا

ماسکو: روس نے یوکرین سے شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے انسانی راہداری بنانے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

روسی حکام نے منگل کے روز کہا کہ روس یوکرین میں اپنی کارروائیوں کو روک رہا ہے تاکہ لوگوں کو، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ایک انسانی راہداری بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ روس غیر ملکی سفارت خانوں کی مسلسل اپیلوں کے ساتھ ساتھ تقریباً تمام بستیوں سے یوکرینی شہریوں کے انخلاء کی درخواست کے پیش نظر ایک انسانی راہداری بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جنگ بندی کا انحصار یوکرین کے رویے پر ہوگا۔

روس نے یوکرین پر اپنے ہی لوگوں اور غیر ملکی شہریوں کو مختلف شہروں سے باہر جانے سے روکنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

روس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے یوکرینی مدد یا شراکت داری کے بغیر خصوصی فوجی آپریشن کے علاقوں سے 44187 بچوں سمیت 173773 افراد کو محفوظ نکالنے میں کامیاب رہا ہے۔

یورپی یونین گیس کے لیے روس پر انحصار کم کرنے کے لیے آپشنز کی تلاش میں

0
یورپی یونین گیس کے لیے روس پر انحصار کم کرنے کے لیے آپشنز کی تلاش میں
یورپی یونین گیس کے لیے روس پر انحصار کم کرنے کے لیے آپشنز کی تلاش میں

یورپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ اس کے لیے یوروپی یونین اپنی گرین ڈیل کو تیز اور اپنی معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے ایک بلیو پرنٹ تیار کرے گی

بروسیلز: یورپی یونین (ای یو) گیس، تیل اور کوئلے کے لیے روس پر انحصار کم کرنے کے لیے آپشنز تلاش کر رہی ہے۔

یوروپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے یہ بات اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریگی کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے یوروپی یونین اپنی گرین ڈیل کو تیز اور اپنی معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے ایک بلیو پرنٹ تیار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ یوروپی یونین اپنی توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر کام کرے گی۔ کووڈ-19 اور روس-یوکرین جنگ کے درمیان صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے نجات دلانے کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ یوروپی یونین کو مستقبل میں اپنی توانائی کی مارکیٹ کے ڈھانچے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کی نمائندگی کے لیے ایک بڑے حصے کا تعین کرنا ہو گا۔

پابندیوں میں توسیع کی گئی تو گیس کی سپلائی بند کر دی جائے گی: روس

0

روس کو سبق سکھانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی روسی تیل کی درآمدات پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں

ماسکو: روس نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک روسی تیل پر پابندیاں عائد کرتے ہیں تو روس جرمنی کو جانے والی اپنی اہم گیس پائپ لائن کو بند کر دے گا۔

بی بی سی نے منگل کو اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے، جس سے تیل کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر 300 ڈالر فی بیرل ہو جائیں گی۔

یوکرین پر فوجی کارروائی کے جواب میں روس کو سبق سکھانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی روس کے تیل کی درآمدات پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم جرمنی اور ہالینڈ نے پیر کو اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

قابل ذکر ہے کہ یوروپی یونین اپنی تقریباً 40 فیصد گیس اور 30 ​​فیصد تیل روس سے خریدتی ہے۔ روس سے سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں متبادل سپلائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

مسٹر نوواک نے کہا کہ یوروپی منڈی میں روسی تیل کا متبادل فوری طور پر تلاش کرنا ناممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دوسرے ذرائع بھی مل جائیں تو وہ بہت مہنگے پڑیں گے۔

روس قدرتی گیس پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا اور خام تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

یوکرین مغربی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ روس پر ایسی پابندیاں عائد کرے۔

اعظم گڑھ: ایس پی ۔ بی جے پی کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ

0

ضلع اعظم گڑھ میں سماج وادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہونے سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے

اعظم گڑھ: اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے سدھاری پولیس اسٹیشن علاقے کے شرف الدین پور گاؤں میں پولنگ اختتام پذیر ہونے سے کچھ دیر پہلے سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہونے سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

پولیس نے بتایا پولنگ ختم ہونے کے آخری مرحلے میں اعظم گڑھ صدر سے ایس پی امیدوار درگا پرساد یادو اور بی جے پی امیدوار اکھلیش مشرا کے حامی ایک دوسرے کے سامنے آگئے اور تشدد پھوٹ پڑا۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر پتھر بازی کی جس میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں کشیدگی ہے اور ایس پی و بی جے پی امیدواروں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریہ نے بتایا کہ حالات کنٹرول میں ہے اور معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق پورے معاملے کی جانچ کی جارہی ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر یہ حالات پیدا ہوئے اور اسی کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔ خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔