اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 256

سری نگر تصادم: نامعلوم دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری

0
سری نگر تصادم: نامعلوم دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری
سری نگر تصادم: نامعلوم دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری

ایک پولیس ترجمان نے کہا کہ سری نگر کے نوگام علاقے میں تصادم آرائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ہے، جس کی شناخت فی الوقت معلوم نہیں ہوئی ہے

سری نگر: سری نگر کے نوگام علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم آرائی میں ایک عدم شناخت دہشت گرد مارا گیا، جبکہ آپریشن ہنوز جاری ہے۔

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ محاصرے میں کھنموہ علاقے میں سمیر بٹ نامی سرپنچ کی ہلاکت میں ملوث لشکر طیبہ سے وابستہ جنگجو بھی پھنسا ہوا ہے۔

ایک پولیس ترجمان نے کہا کہ نوگام میں تصادم آرائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ہے، جس کی شناخت فی الوقت معلوم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں آپریشن ہنوز جاری ہے۔

قبل ازیں ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے چھپنے کی اطلاع موصول ہونے پر سیکورٹی فورسز نے نوگام علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جوں ہی سیکورٹی فورسز کی ایک پارٹی نے مشکوک مقام کو گھیرے میں لے کر تلاشی آپریشن تیز کر دیا تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔

دریں اثنا ریل حکام نے اس تصادم آرائی کے پیش نظر بانہال – بارہمولہ ریل سروس کو بدھ کے روز احتیاطی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔

تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

0
تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ
تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

کرناٹک ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا اسلام کے تحت ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے۔ اسکول کے یونیفارم پر طلبہ و طالبات اعتراض نہیں کر سکتے اور ریاستی حکومت کے پاس اس بابت حکم جاری کرنے کا حق ہے

بنگلور: کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو مسلم طالبات کی جانب سے دائر ‘ان تمام عرضیوں کو خارج کر دیا، جن میں درسگاہ (کلاس) کے دوران تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عدالت عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کی جانب سے حجاب پہننا اسلام کے تحت ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے اور اسکول کے یونیفارم کا نفاذ محض ایک مناسب نظم ہے، جس پر طلبہ و طالبات اعتراض نہیں کر سکتے۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت کے پاس اس بابت حکم جاری کرنے کا حق ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رِتوراج اَوَستھی، جسٹس کرشنا ایس دیکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس بابت شنوائی کے 11 ویں دن، 25 فروری کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

قبل ازیں بنچ نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا، جس میں طلبہ و طالبات کو نافذ شدہ ’ڈریس کوڈ‘ والے کالجوں میں کلاسز (درسگاہ) میں حصہ لینے کے دوران حجاب، بھگوا شال یا کسی بھی مذہبی جھنڈے کا استعمال نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جنوری میں کرناٹک میں اڈوپی واقع ایک سرکاری کالج کی کچھ مسلم طالبات حجاب پہنچ کر کالج پہنچی تھیں، لیکن انھیں کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ اس دوران مسلم طالبات نے استدلال کیا کہ حجاب ان کے تہذیب و مذہب کا حصہ (جزء لا ینفک) ہے۔

اس معاملے کو شنوائی کے لیے پہلے جسٹس کرشن ایس دیکشت کی واحد رکنی بنچ کے سامنے فہرست بند کیا گیا تھا اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے اسے بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا تھا کہ اس میں ’بنیادی اہمیت کے سوال‘ شامل ہیں۔

حجاب پہننے کا حق آئین کی دفعہ 19 (1) (اے) کے تحت نہیں رکھا جا سکتا

اس معاملے میں مدعی علیہ یعنی ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ حجاب پہننا ‘اسلام کی ضروری مذہبی روایت کے تحت نہیں آتا ہے اور حجاب پہننے کا حق آئین کی دفعہ 19 (1) (اے) کے تحت ملی اظہارِ خیال کی’ آزادی‘ کے تحت نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

عدالت میں شنوائی کے دوران ریاستی حکومت نے یہ بھی دلیل دی کہ اس کا پانچ فروری کا حکم ایجوکیشن ایکٹ (تعلیم کے قانون) کے مطابق ہے اور حجاب پہننا عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کی جانب سے متعین کردہ آئینی اخلاقیات اور شخصی وقار کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا ہے۔

وہیں کالج اور اساتذہ نے دلیل دی کہ طلبہ کو ڈسپلن (نظم و ضبط) اور عوامی نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے متعینہ یونیفارم اختیار کرنے کے ضابطے پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

ادھر، عرضی گذاروں نے جنوبی افریقہ کے آئینی عدالت کے ایک فیصلے کا ذکر کیا جس میں عدالت نے جنوبی ہند کی ایک ہندو لڑکی کے اسکول میں نَتھ پہننے کے حق کو برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے پانچ فروری کے سرکاری حکم نامے کو بھی چیلنج کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر مسلم برادری کو ہدف بنایا گیا تھا۔

اس درمیان تنازعہ پر عدالت کے فیصلے کے پیش نظر پولیس نے منگل کو 21 مارچ تک بنگلور شہر اور کرناٹک کے کئی حصوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔

حجاب کا فیصلہ: کرناٹک میں 21 مارچ تک دفعہ 144 نافذ

0
حجاب کا فیصلہ: کرناٹک میں 21 مارچ تک دفعہ 144 نافذ
حجاب کا فیصلہ: کرناٹک میں 21 مارچ تک دفعہ 144 نافذ

کرناٹک ہائی کورٹ آج مسلم طالبات کی طرف سے ریاست کے کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی

بنگلور: کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کے مسئلے پر ہائی کورٹ کے آنے والے فیصلے کے پیش نظر پولیس نے بنگلور شہر اور کرناٹک کے کئی حصوں میں منگل سے 21 مارچ تک دفعہ 144 ( امتناعی احکام) نافذ کر دی ہے۔

ہائی کورٹ آج مسلم طالبات کی طرف سے ریاست کے کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشٹ اور جسٹس جے ایم قاضی کی تین رکنی بنچ فیصلہ سنائے گی۔

اس معاملے میں بنچ کے سامنے 11 دن تک سماعت کے بعد عدالت نے 25 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

بنچ نے سماعت کے پہلے ہی دن ایک عبوری حکم جاری کیا تھا، جس میں طالبات کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حجاب یا زعفرانی شال نہ پہنیں اور مقررہ یونیفارم کے ساتھ کالجوں کی کلاسوں میں شرکت کے دوران کوئی مذہبی پرچم استعمال نہ کریں۔

روس کے نائب وزیر دفاع سمیت 11 افراد پر امریکہ نے لگائی پابندیاں

0
روس کے نائب وزیر دفاع سمیت 11 افراد پر امریکہ نے لگائی پابندیاں
روس کے نائب وزیر دفاع سمیت 11 افراد پر امریکہ نے لگائی پابندیاں

امریکہ نے یہ کارروائی یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے سلسلے میں کی ہے، امریکی محکمہ خارجہ نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے اس بارے میں اطلاع دی ہے

واشنگٹن: امریکہ نے روس کے وزرائے دفاع، نیشنل گارڈ کے ڈائریکٹر وکٹر ولوتوف، ملٹری ٹیکنیکل کوآپریشن کے ڈائریکٹر دیمتری شوگیف اور روزو بورون ایکسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل الیگزینڈر میخائف پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکہ نے یہ کارروائی یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے سلسلے میں کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک پریس ریلیز جاری کر کے اس بارے میں اطلاع دی ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ فہرست میں روسی نائب وزرائے دفاع میں الیکسی کریووروچکو، ٹیمورایوانوف، یونس بیک یوکوروف، دیمتری بلگاکوف، یوری سادوینکوف، نکول پانکوف، رسلان تسالکوف اور گینڈی زیڈکوف شامل ہیں۔

مرکزی حکومت نے سکھ ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران کرپان پہننے کی دی اجازت

0

چند روز قبل امرتسر کے شری گورو رام داس جی ایئرپورٹ پر ایک سکھ ملازم کو کرپان پہننے کے سبب ڈیوٹی کرنے سے روک دیا گیا تھا، اس واقعے کے بعد سکھ تنظیموں نے احتجاج کیا تھا

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ہوا بازی کے ضابطوں میں ترمیم کرتے ہوئے سکھ ملازمین کو کرپان پہننے کی اجازت دے دی ہے۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینئر رکن منجندر سنگھ سرسا نے حکومت کے اس فیصلے کی اطلاع دی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔

مسٹر سرسا نے ٹوئٹر پر بیورو آف سول ایوی ایشن سکیورٹی کے ضابطوں میں کی گئی تبدیلیوں کی اطلاع فراہم کرتے ہوئے ’’پہلے ضابطوں کے مطابق سکھ ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران کرپان پہننے کی اجازت نہیں تھی اور اب ان ضابطوں میں ترمیم کی گئی ہے‘‘۔

سکھوں کو کرپان پہننے سے روکنے والے ضابطوں کے سلسلے میں سکھ رہنماؤں کے اعتراض کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نئی تبدیلیوں کے بعد اب ایئرپورٹ ٹرمینلز، قومی اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے سکھ ملازمین یا افسران کو کرپان پہننے سے نہیں روکا جائے گا۔

چند روز قبل امرتسر کے شری گورو رام داس جی ایئرپورٹ پر ایک سکھ ملازم کو کرپان پہننے کے سبب ڈیوٹی کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سکھ تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔

شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر ہرجیندر سنگھ دھامی نے اس سلسلے میں وزیر برائے ہوا بازی جیوترادتیہ سندھیا کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ کرپان سکھ برادری کی مذہبی علامت ہے، اس کی تیز نوک کی لمبائی چھ انچ سے زیادہ نہیں ہوتی۔

ائیر انڈیا نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ’’کرپان سکھ برادری کی مذہبی علامت ہے اور ہندوستان میں رجسٹرڈ ہوائی جہازوں میں سکھوں کو کرپان لے جانے کی اجازت ہندوستانی قانون میں دی گئی ہے۔

شیئر بازار: سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل تیزی

0

شیئر بازار میں آج مسلسل چوتھے دن تیزی رہی اور اس دوران سینسیکس میں ڈیڑھ فیصد اور نفٹی میں سوا فیصد سے زائد کا اضافہ درج کیا گیا

ممبئی: ملکی سطح پر بینکنگ، فائنانس، آئی ٹی اور ٹیک گروپ کمپنیوں میں خریداری کی بدولت شیئر بازار میں آج مسلسل چوتھے دن تیزی رہی اور اس دوران سینسیکس میں ڈیڑھ فیصد اور نفٹی میں سوا فیصد سے زائد کا اضافہ درج کیا گیا۔ اس تیزی میں سرمایہ کاروں نے 1.42 لاکھ کروڑ روپے کمائے۔

بی ایس ای کا 30 شیئر والا انڈیکس سینسیکس 935.72 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 56 ہزار پوائنٹس کو عبور کرکے 56486.02 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 240.85 پوائنٹس بڑھ کر 16871.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹی اور درمیانی درجہ کی کمپنیوں میں خریداری سست رہی جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 0.02 فیصد بڑھ کر 23314.28 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.31 فیصد بڑھ کر 27226.34 پوائنٹس پر رہا۔

بی ایس ای میں شامل زیادہ تر گروپ میں تیزی رہی، جن میں بینکنگ 2.31 فیصد، آئی ٹی 2.16 فیصد، ٹیک 2.15 فیصد اور فائنانس 1.80 فیصدہے۔ گراوٹ میں رہنے والوں میں رئیلٹی 1.73 فیصد، پاور 0.60 فیصد، آئل اینڈ گیس 0.85 فیصد، میٹلز 0.40 فیصد، یوٹیلٹی 0.56 فیصد اور ہیلتھ کیئر 0.31 فیصد شامل ہیں۔

بی ایس ای پر کل 3612 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 1749 میں سبقت اور 1725 میں گراوٹ جبکہ 138 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

کینیڈا: المناک سڑک حادثے میں پانچ ہندوستانی طلباء کی موت

0
کینیڈا: المناک سڑک حادثے میں پانچ ہندوستانی طلباء کی موت
کینیڈا: المناک سڑک حادثے میں پانچ ہندوستانی طلباء کی موت

ہندوستانی ہائی کمشنر نے ٹویٹ کیا کہ ہفتے کے روز کینیڈا کے ٹورنٹو کے قریب ایک المناک سڑک حادثے میں پانچ ہندوستانی طلباء ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں

ٹورنٹو: کینیڈا کے ٹورنٹو میں ایک کار حادثے میں پانچ ہندوستانی طلباء کی موت ہو گئی۔ کینیڈا میں ہندوستانی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے پیر کو حادثے کی تصدیق کی۔

ہندوستانی ہائی کمشنر نے ٹویٹ کیا ’’ہفتے کے روز ٹورنٹو کے قریب ایک المناک سڑک حادثے میں پانچ ہندوستانی طالب علم ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت۔ یہاں ہندوستانی ٹیم ان کی مدد کے لیے متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے طلباء کی شناخت ہرپریت سنگھ (24)، جسپندر سنگھ (21)، کرن پال سنگھ (22)، موہت چوہان (23) اور پون کمار (23) کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ پانچوں مونٹریال اور گریٹر ٹورینٹ میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔

ٹریکٹر ٹرالر اور مسافر وین میں ہوا تصادم

حادثہ ہفتہ کو بیلویل شہر کو ٹورنٹو سے ملانے والی ہائی وے 401 پر پیش آیا، جس میں ایک ٹریکٹر ٹرالر اور مسافر وین میں تصادم ہوا۔ سی بی سی نیوز کے مطابق وین میں سوار پانچوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ وین میں سوار دو دیگر مسافروں کو شدید زخم آئے تھے جنہیں علاج کے لیے اسپتال لایا گیا۔

اس حادثے میں صرف ٹریکٹر ٹرالی کا ڈرائیور ہی محفوظ رہا۔ حادثے کے بعد ہائی وے ویسٹ باؤنڈ کو 10 گھنٹے کے لیے بند کر دیا گیا۔

روس مغربی ممالک سے پابندیوں کو ہٹانے کے لیے نہیں کہے گا

0
روس مغربی ممالک سے پابندیوں کو ہٹانے کے لیے نہیں کہے گا
روس مغربی ممالک سے پابندیوں کو ہٹانے کے لیے نہیں کہے گا

روس نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی پابندیاں ہمارے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتیں

ماسکو: روس نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور یوروپی ممالک سے روس کے خلاف پابندیاں ہٹانے کے لیے نہیں کہے گا اور مغربی پابندیاں ہمارے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن نے ’ازویسٹیا‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’’پابندیاں ہمارا فیصلہ نہیں ہیں۔ یہ امریکہ اور اس کے کہنے پر چلنے والے ممالک لگا رہے ہیں۔ یہ لوگ روس اور ہماری معیشت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ روسی شہریوں کو بہت مشکل میں ڈال دیا ہے، وہ روس کے خود مختار سیاسی فیصلوں کی سزا دینے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔”

مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیاں درست نہیں

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’مغربی ممالک کی طرف سے روس پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے عائد پابندیاں درست نہیں ہیں اور ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ان پابندیوں کو ہٹانے کے لیے نہیں کہیں گے۔ ہم صرف اپنی معیشت اور آزادانہ طور پر ترقی کرنے کی اپنی صلاحیت کو تیار کریں گے، جس کا انحصار ہمارے دوستوں اور ہم خیال لوگوں پر ہے۔”

قابل ذکر ہے کہ یوکرین میں روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے جواب میں مغربی ممالک نے روس کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیوں کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ پابندیوں میں متعدد روسی حکام، اداروں، میڈیا، مالیاتی اداروں اور فضائی حدود کی بندش جیسے اقدامات شامل ہیں۔

زیلنسکی کے ساتھ میٹنگ کرنے میں کوئی اعتراض نہیں: پوتن

0

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے صدر رجب طیب اردگان سے کہا کہ انہیں زیلنسکی کے ساتھ ملاقات میں کوئی اعتراض نہیں

انقرہ: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ہم منصب مسٹر رجب طیب اردگان سے کہا کہ انہیں یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کے ساتھ میٹنگ کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ روس اور ترکی کے لیڈروں کے مابین ٹیلی فون پر بات چیت چھ مارچ کو ہوئی تھی۔

مسٹر جاویش اوغلو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم (روس اور یوکرین) کے لیڈروں کی میٹنگ کے انعقاد کے لئے سخت محنت کررہے ہیں۔ جنگ کی شروعات سے پہلے بھی ہم نے کوشش کی تھی۔

اصولی طور پر مسٹر پوتن نے صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کہا کہ انہیں اس طرح کی میٹنگ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یوکرینی فریق تیار ہے۔ بیلاروس میں پارٹیوں کے مابین تکنیکی بات چیت جاری ہے۔

مسٹر جاویش اوغلو نے یہ بھی کہا کہ دیگر چینلوں کے ذریعہ کوشش کی جارہی ہے جن کی ترکی حمایت کرتا ہے۔

یوکرین سے واپس آنے والے میڈیکل طلبہ کی تعلیم سے متعلق دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر

0

عرضی میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ ہنگامی حالات میں یوکرین سے واپس آنے والے میڈیکل طلبہ کے لیے ملک کے اندر میڈیکل کالجوں میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے انتظامات کرے

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ میں یوکرین سے واپس آنے والے میڈیکل طلبہ کی پڑھائی ملک کے میڈیکل کالجوں میں دوبارہ شروع کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کو ہدایت دینے کے لئے ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔

اوورسیز لیگل سیل کی طرف سے دائر اس عرضی میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ ہنگامی حالات میں یوکرین سے واپس آنے والے میڈیکل طلباء کے لیے ملک کے اندر میڈیکل کالجوں میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے انتظامات کرے۔ عرضی گزار نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بارے میں باضابطہ طور پر ابھی تک کچھ نہ کئے جانے پر عدالت میں عرضی دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یوکرین سے بحفاظت نکال کر لائے گئے طلبا جن میں تقریباً دو ہزار طلبا شامل، ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال میں پھنس گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کی ضمانت میں ان ہندوستانی طلباء کا ملک میں تعلیم مکمل کرنے کا حق بھی شامل ہے، جو موجودہ جنگ جیسی صورتحال میں مجبوری میں بیرون ملک سے واپس آئے ہیں۔

عرضی گزار اس عرضی کے ذریعے مرکزی حکومت اور نیشنل میڈیکل کمیشن کے لئے عدالت کی جانب سے ہدایت دینے کی مانگ کر رہا ہے، تاکہ یوکرین سے واپس آنے والے ہندوستانی میڈیکل طلباء کی ملک کے میڈیکل کالجوں میں تعلیم شروع کرنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔