اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 255

یوکرین: میکولائیو میں فوجی بیرکس پر روسی حملے میں درجنوں یوکرینی فوجی ہلاک

0

یوکرین کے جنوبی شہر میکولائیو میں فوجی بیرکس میں 200 فوجی موجود تھے، روس کی جانب سے ہونے والے تازہ حملے میں کم از کم 100 فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ

کیف: یوکرین کے شہر میکولائیو میں فوجی بیرکس پر روس کے تازہ حملے میں درجنوں یوکرینی فوجی ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے جنوبی شہر میکولائیو میں فوجی بیرکس میں 200 فوجی موجود تھے، روس کی جانب سے صبح سویرے ہونے والے حملے میں کم از کم 100 فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب روس کے فوجی حکام نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں پہلی بار ہائپر سونک میزائل سے حملہ کیا گیا جس سے ایک اسلحہ ڈپو تباہ ہو گیا ہے۔

یوکرین، تائیوان کے جلو میں ویڈیو لنک پر امریکی اور چینی صدور کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

0
یوکرین، تائیوان کے جلو میں ویڈیو لنک پر امریکی اور چینی صدور کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب سے دو گھنٹے ویڈیو لنک پر بات کی جس میں جو بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر چین نے روس کا ساتھ دیا تو نہ صرف اسے امریکہ بلکہ پوری دنیا کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا

واشنگٹن/بیجنگ: امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین میں فوجی کارروائی کے معاملے پر روس کا ساتھ دیا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے جب کہ چینی صدر نے بھی جو بائیڈن کو تائیوان کے معاملے پر باز رہنے کا کہا۔

امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب سے دو گھنٹے ویڈیو لنک پر بات کی جس میں جو بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر چین نے روس کا ساتھ دیا تو نہ صرف اسے امریکہ بلکہ پوری دنیا کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ چین پر بھی پابندیاں عائد کرسکتا ہے

اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ روس کی طرح امریکہ چین پر بھی پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔

ویڈیو لنک پر بات چیت میں چینی صدر نے زور دیا کہ یوکرین کے بحران کی اصل وجہ سمجھنے کے لیے امریکہ اور ناٹو روس سے مذاکرات کریں اور روس اور یوکرین کے سکیورٹی تحفظات دور کیے جائیں۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ بلاتفریق پابندیوں سے روس میں عام عوام کو مسائل برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

چینی صدر زوردیا کہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کی جائے

صدر شی نے زوردیا کہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کی جائے جب کہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ دور سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو رکاوٹیں حائل ہیں وہ نہ صرف دور نہیں کی گئیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک ہے کہ امریکہ میں بعض افراد تائیوان میں آزادی پسند قوتوں کو غلط سگنلز دے رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان معاملے کو مناسب انداز سے حل نہ کیا گیا تو اس کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر تباہ کن اثرات ہوں گے، امریکہ چین کے اسٹریٹجک ارادوں کو غلط رنگ دے رہا ہے، اختلافات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم انہیں مینیج کرنا چاہیے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ تائیوان پر امریکہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور اس میں تبدیلی کی بہت ہی کم امید ہے۔

روسی تیل کی درآمد پر بائیڈن انتظامیہ بھارت کے رابطے میں: وائٹ ہاؤس

0
روسی تیل کی درآمد پر بائیڈن انتظامیہ بھارت کے رابطے میں: وائٹ ہاؤس
روسی تیل کی درآمد پر بائیڈن انتظامیہ بھارت کے رابطے میں: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی سے جمعہ کو جب ان رپورٹوں پر امریکی ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان یوکرین جنگ پر پابندیوں کے درمیان رعایتی قیمتوں پر روسی تیل خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی پابندیوں کے درمیان بائیڈن انتظامیہ روسی خام تیل کی درآمد کے اپنے فیصلے کو واپس لینے کے لیے ہندوستانی لیڈروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی سے جمعہ کو جب ان رپورٹوں پر امریکی ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان یوکرین جنگ پر پابندیوں کے درمیان رعایتی قیمتوں پر روسی تیل خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کئی ممالک روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر متفق نہیں ہیں۔

محترمہ ساکی نے کہا ’’ٹھیک ہے، ہم نے نہیں کیا ہے جب کہ ہم نے تیل کی روسی درآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ لیا ہے۔ ہر ملک نے یہ فیصلہ نہیں لیا ہے اور ہم اسے مانتے ہیں‘‘۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یورپ سمیت کئی ممالک کے پاس روسی تیل اور گیس درآمد کرنے کی اقتصادی وجوہات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ مختلف سطحوں پر ہندوستانی لیڈروں سے رابطے میں ہے۔

جو کام آتنک وادی نہ کر سکے وہ اگنی ہوتری نے کردیا

0
جو کام آتنک وادی نہ کر سکے وہ اگنی ہوتری نے کردیا
جو کام آتنک وادی نہ کر سکے وہ اگنی ہوتری نے کردیا

کشمیر میں جو لڑائی چل رہی تھی وہ ہندوستانیت اور دہشت کے درمیان تھی، جس پر پاکستان نواز دہشت گرد ایک اسلامی تحریک کا لیبل لگانا چاہتے تھے، تاکہ مسلم ممالک میں ہمدردی کی لہر پیدا کر سکیں، اس کے باوجود۔۔۔

کشمیر کے علاحدگی پسندوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ کشمیر میں چل رہی دہشت گردانہ تحریک پر ہندو مسلم کا لیبل لگا دیا جائے لیکن کشمیر کے سیکڑوں سال پرانے کلچر اور باہمی بھائی چارے کو وہ کبھی برباد نہیں کر سکے۔ 1990ء کی دہائی میں پاکستان کے اشارے پر کشمیری پنڈتوں پر حملے کرکے انھوں نے کشمیر کے مسئلے کو ہندو مسلم قضیہ میں بدلنے کی سب سے مذموم کوشش کی تھی۔ اس وقت وادی کے مظلوم مسلمان اپنے ہندو بھائیوں پر ہو رہے مظالم کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے رہے، کیونکہ وہ تو پہلے ہی سے دہشت گردوں کے نشانے پر تھے۔ عالم یہ تھا کہ کسی بھی مسلمان کے گھر میں دہشت گرد گھس جاتے تھے اور وہاں جو لڑکی پسند آتی تھی اس سے نکاح کرنے کے لئے ماں باپ پر دباؤ ڈالتے تھے اور انکار کرنے پر گولی کا نشانہ بنا دیتے تھے۔

کوئی بھی کشمیری مسلمان ہندوستان کی حمایت میں زبان کھولے تو اس کو موت کے گھاٹ اتارتے وقت دہشت گرد ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔ دہشت گردوں کی ہندوستانی مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے چرار شریف جیسی عبادت گاہ کو جلانے میں بھی ایک پل کی تاخیر نہیں کی۔ مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں قتل کیا کہ قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے لگی۔ دہشت گردوں نے ہندوستانی افواج پر حملہ کئے تو کشمیر کی پولیس پر بھی حملے کرنے میں کوئی امتیاز نہیں کیا۔ کشمیر کی پولیس میں کام کرنے والے مسلم نو جوانوں کو مسجدوں اور گھروں کے قریب گھیر گھیر کر مارا، مسلمان پولیس والوں کا خون بہاتے وقت دہشت گردوں کو نہ تو اسلام کا خیال آیا اور نہ مسلمانوں کا۔

کشمیر کے لئے ہندو بھی اپنی جان دیتے رہے اور مسلمان بھی اپنا خوں لٹاتے رہے

ظاہر ہے کہ کشمیر میں جو لڑائی چل رہی تھی وہ ہندوستانیت اور دہشت کے درمیان تھی، جس پر پاکستان نواز دہشت گرد ایک اسلامی تحریک کا لیبل لگانا چاہتے تھے، تاکہ مسلم ممالک میں ہمدردی کی لہر پیدا کر سکیں۔ اس کے باوجود دہشت گرد کشمیر کی لڑائی کو ہندو مسلم قضیہ میں تبدیل نہیں کرسکے۔ کشمیر کے لئے ہندو بھی اپنی جان دیتے رہے اور مسلمان بھی اپنا خوں لٹاتے رہے۔

ہمارے جیسے مسلمانوں کے لئے تو کشمیر ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہمیشہ سے تھا۔ یہاں پر بتاتا چلوں کہ 1980ء میں (جب میں لکھنوٴ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کر رہا تھا) تو مجھے ایران کے اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر مختلف علماء، پروفیسرس اور اسٹوڈنٹس کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا۔ وہاں دنیا بھر سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ اسلامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے جشن وہاں جا بجا ہو رہے تھے۔ اسلامی انقلاب کی سالگرہ کا اختتامی جشن تہران یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔

اس میں تقاریر کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے سلسلے میں قرار داد پیش کی جا رہی تھی تو پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے میاں طفیل احمد کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ اس میں کشمیر کے مسئلے کو بھی شامل کیا جائے جس کے بعد میں کھڑا ہوگیا اور میں نے کہا کہ نہیں کشمیر اس قرار داد کا حصہ نہیں بن سکتا کیوں کہ ہم بھارت کے سات کروڑ مسلمان اپنا کشمیر پاکستان کو دینا نہیں چاہتے (اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی آبادی سات کروڑ کے قریب تھی) میری طرف سے اعتراض کئے جانے کے بعد کشمیر کا مسئلہ اس قرار داد میں شامل نہیں ہو سکا۔

ہندو مسلم منافرت پھیلانے والے "دی کشمیر فائلس”

ظاہر ہے کہ مجھ سے یہ بات نہ تو بھارت سرکار نے کہنے کے لئے کہا تھا نہ میں کسی آفیشل ڈیلی گیشن کا حصہ تھا۔ میں نے اس لئے مخالفت کی کہ مجھے لگتا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوئوں اور مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ کا ایک قضیہ ہے۔ مگر اب کشمیر فائلس نام کی ایک فلم کے ذریعہ فلمساز وویک اگنی ہوتری نے ساری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کشمیر ہندوستانیت کی دہشت گردی سے جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ہندو اور مسلم قضیہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کو ہر وہ آدمی بڑھاوا دے رہا ہے جو ہندو مسلم منافرت پھیلانے پر یقین رکھتا ہے۔

ابھی تک ہندوستانی مسلمان اور ہندوستانی ہندو کشمیر کے معاملے کو دہشت گردی سے جوڑ کر دیکھتے تھے، مگر اب اس فلم کے ذریعہ ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ جیسے کشمیر کا مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ ہے اور کشمیری پنڈتوں کو دہشت گردوں نے نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ جیسے مقامی مسلمانوں نے ان کو وادی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، جبکہ سچ تو یہ ہے دہشت گردوں نے ہندوئوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔

ہندو مسلم منافرت کی کوشش

اصل بات تو یہ ہے کہ دہشت گرد یہی چاہتے ہیں کہ دنیا کشمیر کے معاملے کو ہندو مسلم قضیہ کی طرح دیکھے۔ وہ تو یہ کام نہیں کر سکے البتہ وویک اگنی ہوتری اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں نے یہ کام بہت آسانی سے کردیا۔ ویسے میں نے یہ فلم نہیں دیکھی اور نہ دیکھوں گا کیونکہ اس فلم کی نمائش کے دوران باقاعدہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں اور اس فلم کے ذریعہ ملک میں ہندو مسلم منافرت کو فروغ دیا جا رہاہے اور چونکہ میرا تعلق اس طبقے سے ہے جو ہندو مسلم اتحاد پر یقین رکھتا ہے، تو میرے لئے ممکن نہیں کہ ایک ایسی فلم دیکھوں جو وطن کو جوڑنے نہیں توڑنے کے لئے بنائی گئی ہے۔

ہولی کے اس مبارک موقع پر آئیے ہم سب دعا کریں کہ سماج میں نفرت پھیلا کر سیاسی اور معاشی فائدے اٹھانے والوں کے منصوبے بھی ہولی کی آگ میں جل کر خاک ہوں اور ہر طرف محبت کا رنگ پھیلے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ: پیس پارٹی

0
حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ: پیس پارٹی
حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ: پیس پارٹی

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر ہندوستانی کا آئینی حق ہے اور جمہوریت میں یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا، آر ایس ایس نے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا ایشو اچھال کر مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کا کام کر رہی ہے

پرتاپ گڑھ: حجاب کی روایت ہندوستان کی ثقافت کا ایک جز ہے، قدیم زمانہ سے یہاں خواتین حجاب کا استعمال کرتی آ رہی ہیں، جس کو جمہوریت میں آئینی آزادی حاصل ہے۔ ادھر بی جے پی جب سے اقتدار پر قابض ہوئی ہے، اس نے ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقے کے مذہبی معاملے میں مداخلت کی جو سازش شروع کی ہے۔

اب جبکہ ادھر پانچ صوبوں کے انتخابات سے قبل اپنے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا معاملہ سامنے لاکر جو طول دیا ہے کہ اب اس کی افواہ پھیلا کر آئندہ 2024 کے پارلیمانی انتخاب کو متاثر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ جبکہ آئین میں سبھی کو مساوی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے پریس کو جاری ریلیز میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

حجاب کا ایشو لاکر اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام شروع

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی چار صوبوں کے اسمبلی انتخاب میں کامیابی کے بعد، ان کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ عوام کو ترقیاتی کام کے برعکس فرقہ وارانہ بنیاد پر زیادہ متاثر کیا جا سکتا ہے، جس کے لئے اس نے ابھی سے حجاب کا ایشو لاکر اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی کو معلوم ہے کہ مسلمان حجاب کے ایشو پر مشتعل ہوگا، تو اس کا فائدہ اس کو حاصل ہوگا اور پولرائزیشن کی سیاست کامیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر ہندوستانی کا آئینی حق ہے اور جمہوریت میں یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا ایشو اچھال کر مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کا کام کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوش نہیں بلکہ ہوش کے ساتھ آئینی طور پر اس کا مقابلہ کریں۔ جمہوریت میں قانون سب سے اعلی ہے اور اس کے استعمال کی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی آئین اجازت نہیں دیتا۔ بی جے پی اب صرف حجاب کے سہارے 2024 کے پارلیمانی انتخاب کو متاثر کرنا چاہتی ہے۔ پیس پارٹی آئینی حقوق کے لئے سپرم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔

یوکرین پر روسی حملے، 5 افراد ہلاک، شہریوں کی جنگ نہ لڑنے اور ملک چھوڑنے کی کوشش، امریکہ سے امداد کا مطالبہ

0
یوکرین پر روسی حملے، 5 افراد ہلاک، شہریوں کی جنگ نہ لڑنے اور ملک چھوڑنے کی کوشش، امریکہ سے امداد کا مطالبہ
یوکرین پر روسی حملے، 5 افراد ہلاک، شہریوں کی جنگ نہ لڑنے اور ملک چھوڑنے کی کوشش، امریکہ سے امداد کا مطالبہ

سکریٹری جنرل ناٹو نے روسی صدر سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر نو فلائی زون کا نفاذ نہیں کرسکتے ورنہ بڑی جنگ ہو جائے گی

کیف: جنگ زدہ ملک یوکرین کے شہر چرنی ہیو میں روسی حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ماریوپول تھیٹر پر حملے میں کئی افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

وہیں یوکرین کے شہریوں نے جنگ لڑنے سے گریز کرتے ہوئے ہر ممکن طریقے سے ملک چھوڑنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹوں کے مطابق بچوں کے کپڑوں کے ڈبے میں چھپ کر مالدوا جانے والا ایک یوکرین کے شہری حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پکڑے گئے شخص کی گاڑی بیوی چلا رہی تھی، جبکہ 2 بچے بھی گاڑی میں موجود تھے۔ میڈیا رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے مرد کو ڈبے میں سے نکال کر واپس بھیج دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز یوکرین کے شہر چرنی ہیو میں روسی فوج کے حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ماریوپول تھیٹر پر حملے میں کئی افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

زیلنسکی کا امریکہ سے امداد کا مطالبہ

جنگ کے بعد یوکرین کے صدر نے ملکی صورتحال نائن الیون اور پرل ہاربر جیسی کہہ کر امریکی کانگریس سے امداد مانگ لی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئے 8 سو ملین ڈالر مزید امداد کا اعلان کرتے ہوئے روس کے صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ جو بائیڈن کے بیان پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے دنیا پر غلبہ کی کوشش اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔

پیوٹن نے اپنے شہریوں کو ملک کے غداروں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ روس کو تباہ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین میں آپریشن جاری رہے گا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق روس نے یوکرین کے فوج پر زہریلے ہتھیاروں سے حملہ کرکے روس کو بدنام کرنے کی سازش کا دعویٰ کیا ہے۔

قبل ازیں سکریٹری جنرل ناٹو نے روسی صدر سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر نو فلائی زون کا نفاذ نہیں کرسکتے ورنہ بڑی جنگ ہو جائے گی۔

بھگونت مان نے پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے کا لیا حلف

0
بھگونت مان نے پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے کا لیا حلف
بھگونت مان نے پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے کا لیا حلف

بھگونت مان نے کہا، ’’آپ لوگوں نے جتنا پیار دیا اس کے لئے وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔ آپ لوگوں نے پیار دیا، ساتھ دیا اور اب حکومت آپ کی ہے اور آپ سب کو ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘

کھٹکرکلاں: پنجاب کے لیفٹننٹ گورنر بی ایل پروہت نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے ریاستی صدر بھگونت مان کو آج شہید اعظم بھگت سنگھ کے آبائی ضلع پر وزیر اعلی کے عہدے کا حلف دلایا۔

مسٹر مان نے حلف دلانے کے بعد کہا کہ اس سے پہلے حلف برداری کی تقریب کرکٹ اسٹیڈیم، راج بھون میں ہوتا تھا لیکن یہاں آنے کی خاص وجہ یہ تھی کہ جنہوں نے اپنا سب کچھ نچھاور کر کے اس ملک کو آزاد کرایا، انہیں دل سے یاد تو کیا جائے۔ شہید بھگت سنگھ کے آزادی کے خواب کو گھر گھر تک پہنچانے کا عزم لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، ’’آپ لوگوں نے جتنا پیار دیا اس کے لئے وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔ آپ لوگوں نے پیار دیا، ساتھ دیا اور اب حکومت آپ کی ہے اور آپ سب کو ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ وقت کسی کی مذمت کرنے کا نہیں۔ کسی کو اقتدار کا تکبر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ تکبر آدمی کو گراتا ہے۔ جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا یا نہ دیا، میں ان کا بھی وزیر اعلی ہوں۔ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں عوام کو اپنے حساب سے فیصلہ کرنے کا حق ہوتا ہے۔ ہمیں جنہوں نے گالیاں دیں، برا بھلا کہا، ہم نے انہیں بھی معاف کیا، وقت بہت بڑی طاقت ہے۔‘‘

لکھیم پور کھیری تشدد کے کلیدی ملزم آشیش کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا اترپردیش حکومت کو نوٹس

0
لکھیم پور کھیری تشدد کے کلیدی ملزم آشیش کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا اترپردیش حکومت کو نوٹس
لکھیم پور کھیری تشدد کے کلیدی ملزم آشیش کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا اترپردیش حکومت کو نوٹس

لکھیم پور کھیری تشدد کیس میں گواہوں پر مبینہ حملے کی شکایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا

نئی دہلی: لکھیم پورکھیری تشدد معاملے میں گواہوں پر مبینہ حملہ کی شکایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔

عدالت عظمیٰ نے کلیدی ملزم آشیش مشرا کو الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ملی ضمانت کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کے بعد نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بینچ نے متوفی کسانوں کے اہل خانہ کی جانب سے کلیدی ملزم آشیش مشرا کی ضمانت مسترد کرنے کی اسپیشل لیوپٹیشن پر شنوائی کے بعد حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کے گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنا نے کی ریاستی سرکار کو ہدایت دی ۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی شنوائی 24 مارچ کو کرے گا۔

عرضی گزار- متوفی کسانوں کے اہلخانہ کے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ اتر پردیش میں لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کے ایک گواہ پر گزشتہ جمعرات کی شب کو حملہ کیا گیا تھا۔ عرضی ت گزاروں کا یہ بھی الزام ہے کہ ملزمان کی جانب سے گواہوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ گواہوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت کی واپسی کے بعد ملزمین کی جانب سے دھمکیاں

جلد سماعت کی استدعا کرتے ہوئے مسٹر بھوشن نے الزام کیا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی واپسی کے بعد ملزمین کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

مسٹر بھوشن نے کہا کہ ایسی صورت حال میں گواہوں اور عرضی گزاروں کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔ کلیدی ملزم آشیش کے علاوہ دیگر ملزمین بھی الہ آباد ہائی کورٹ میں ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر مملکت اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش کو الہ آباد ہائی کورٹ نے 10 فروری کو ضمانت دی تھی۔

کسانوں کے اہلخانہ کی جانب سے مسٹر بھوشن نے آشیش کی ضمانت کو مسترد کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ مسٹر بھوشن نے 4، 11 اور 15 مارچ کو عرضی پر جلد شنوائی کرنے کی استدعا کی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے اس معاملے کو مناسب بینچ کے روبرو شنوائی کی ہدایت دی تھی۔

متوفی کسانوں کے اہلخانہ کی قیادت کر رہے جگجیت سنگھ کی طرف سے ایڈوکیٹ مسٹربھوشن نے فروری میں اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی تھی ۔ عرضی گزار نےالہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آشیش کو ضمانت دینے کو قانونی عمل اور انصاف کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
مسٹر بھوشن سے کچھ دن پہلے ایڈوکیٹ سی ایس پانڈا اور شیو کمار ترپاٹھی نے بھی آشیش کی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی تھی۔

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں گزشتہ سال 3 اکتوبر کو مبینہ طور پرآشیش کی کارنے چار کسانوں کو کچل دیا تھا ۔ اس کے بعد بھرکے تشدد میں بی جے پی کے دو کارکنوں کے علاوہ کار ڈرائیور اور ایک صحافی کی موت ہو گئی تھی۔

مسلم ممالک میں روزی روٹی کمانے والے ہندوؤں کے بارے میں کبھی سوچا ہے کیا؟: دگوجے

0
مسلم ممالک میں روزی روٹی کمانے والے ہندوؤں کے بارے میں کبھی سوچا ہے کیا؟: دگوجے
مسلم ممالک میں روزی روٹی کمانے والے ہندوؤں کے بارے میں کبھی سوچا ہے کیا؟: دگوجے

دگ وجے سنگھ نے ‘دی کشمیر فائلز’ کے بہانے بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نفرت سے بدامنی پھیلتی ہے اور ہندو مسلم ممالک میں روزی کما رہے ہیں، کیا آپ نے کبھی ان کے بارے میں سوچا ہے؟

بھوپال: کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے آج فلم ’دی کشمیر فائلس‘ کے بہانے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ نفرت سے بدامنی پھیلتی ہے اور ہندو مسلم ممالک میں روزی روٹی کما رہے ہیں، کبھی ان کے بارے میں سوچا ہے کیا؟

اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ جب کشمیری پنڈتوں کی مہاجرت ہوئی تو اس وقت کانگریس اپوزیشن میں تھی۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی جنتا دل حکومت کو بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ مفتی محمد سعید صاحب وزیر داخلہ تھے۔ جگموہن گورنر تھے۔ پھر آپ کانگریس کو کیوں کوس رہے ہیں؟

بعد ازاں انہوں نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا، ’کیونکہ بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کانگریس سے ڈرتے ہیں۔ مقصد صرف اور صرف ملک میں نفرت پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنا ہے۔ نفرت سے تشدد پنپتا ہے اور ملک میں بدامنی پھیلتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی ان ہندوؤں کے بارے میں سوچا جو مسلم ممالک میں اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں‘؟

کیرالہ: کے ایس یو کی خاتون لیڈر کو ایس ایف آئی کارکنوں نے بے دردی سے پیٹا

0
کیرالہ: کے ایس یو کی خاتون لیڈر کو ایس ایف آئی کارکنوں نے بے دردی سے پیٹا
کیرالہ: کے ایس یو کی خاتون لیڈر کو ایس ایف آئی کارکنوں نے بے دردی سے پیٹا

ایس ایف آئی کے مرد کارکنوں نے ترواننت پورم لاء کالج کیمپس میں کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) کی ایک خاتون لیڈر کو بے دردی سے پیٹا، اس کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا

ترواننت پورم: اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے مرد کارکنوں کے ایک گروپ نے منگل کی رات ترواننت پورم لاء کالج کیمپس میں کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) کی ایک خاتون لیڈر کو بے دردی سے پیٹا۔

پولیس نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔ پولیس نے کہا کہ کے ایس یو کے لاء کالج یونٹ کی صدر صفنا کو طلباء کے ایک گروپ نے مارا پیٹا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔

حملے میں تین دیگر طالب علم بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کیمپس میں کالج یونین کے انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے کچھ پرتشدد واقعات کے فوراً بعد ہی کشیدگی پھیل گئی ہے۔