اتوار, اپریل 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 251

روس نے یوکرین کی فوجی تنصیبات پر داغے بیلسٹک میزائل

0
روس نے یوکرین کی فوجی تنصیبات پر داغے بیلسٹک میزائل
روس نے یوکرین کی فوجی تنصیبات پر داغے بیلسٹک میزائل

حملے میں تین ائیر ڈیفنس سسٹم، تین ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، 2 ہاؤٹزر گنز اور 49 بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک تباہ ہوگئے

ماسکو: روس نے یوکرین کی متعدد عسکری تنصیبات پر اسکندر بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے اس حملے میں یوکرین کے ائیر ڈیفنس سسٹم تباہ ہوگئے۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق دو مختلف مقامات پر روسی فوج نے اسکندر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا، حملے میں یوکرین کے ایمونیشن ذخائر بھی تباہ ہوگئے۔

حملے میں تین ائیر ڈیفنس سسٹم، تین ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، 2 ہاؤٹزر گنز اور 49 بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک تباہ ہوگئے۔

دریں اثنا روسی فوج نے کیف کا محاصرہ نرم کر کے فوج کو مشرقی محاذ پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری

0
ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری
ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری

تیل کمپنیوں نے پچھلے دس دنوں میں اب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نو بار اضافہ کیا ہے

نئی دہلی: ملک میں تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعرات کو لگاتار ساتویں دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ قومی راجدھانی دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 80-80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 101.81 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 93.07 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی ہے۔ قومی راجدھانی میں بدھ کو پٹرول کی قیمت 101.01 روپے اور ڈیزل کی قیمت 92.27 روپے فی لیٹر تھی۔

ممبئی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 84 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس کی وجہ سے یہاں پٹرول کی قیمت 116.72 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 100.94 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

تیل کمپنیوں نے پچھلے دس دنوں میں اب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نو بار اضافہ کیا ہے۔ 137 دنوں کے استحکام کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ لندن برینٹ کروڈ آج 4.54 فیصد گھٹ کر 108.30 ڈالر فی بیرل اور یو ایس کروڈ 5.50 فیصد گھٹ کر 101.89 ڈالر فی بیرل پر ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر نئی قیمتیں روزانہ صبح 6 بجے سے لاگو ہوتی ہیں۔

آج ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اس طرح ہیں:

میٹرو………… پٹرول…………ڈیزل

دہلی……….  101.81………93.07

کولکتہ……….111.35………96.22

ممبئی………. 116.72………100.94

چنئی ………. 107.45………97.52

سبز نشان کے ساتھ کھلا اسٹاک مارکیٹ

0
سبز نشان کے ساتھ کھلا اسٹاک مارکیٹ
سبز نشان کے ساتھ کھلا اسٹاک مارکیٹ

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں بی ایس ای کا 30 حصص کا انڈیکس سینسیکس 740.34 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 58683.99 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 172.95 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 17498.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا

ممبئی: بی ایس ای کا سینسیکس جمعرات کو 95.72 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 58,779.71 پوائنٹس پر کھلا۔ دوسری طرف نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی نے بھی دن کا آغاز 20.95 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 17519.20 پوائنٹس پر کیا۔

مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی سبز نشان پر اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 79.09 پوائنٹس چھلانگ لگا کر 24116.89 پوائنٹس پر کھلا اور اسمال کیپ 127.73 پوائنٹس بڑھ کر 28257.20 پوائنٹس پر کھلا۔

بدھ کو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں بی ایس ای کا 30 حصص کا انڈیکس سینسیکس 740.34 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 58683.99 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 172.95 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 17498.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جس میں بڑی کمپنیوں کی طرح بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بھی خرید و فروخت کا زور رہا۔

گزشتہ روز بی ایس ای میں مجموعی طور پر 3509 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2121 کی قیمتوں میں اضافہ، 1281 کی قیمتوں میں گراوٹ آئی جبکہ 107 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 32 کمپنیاں سبز نشان پر، جبکہ 18 سرخ نشان پر تھیں۔

پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے الزام میں قید کشمیری طلبہ کو ملی ضمانت

0
پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے الزام میں قید کشمیری طلبہ کو ملی ضمانت
پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے الزام میں قید کشمیری طلبہ کو ملی ضمانت

ہندوستان کے خلاف پاکستان ٹیم کی جیت کا مبینہ جشن منانے کے الزام میں آگرہ جیل میں قید تین کشمیری طلبہ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے دی ضمانت

الہ آباد: گذشتہ سال ٹی۔20 کرکٹ عالمی کپ میں ہندوستان کے خلاف پاکستان ٹیم کی جیت کا مبینہ جشن منانے کے الزام میں گذشتہ 5 مہینوں سے آگرہ جیل میں قید تین کشمیری طلبہ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے آج ضمانت دے دی۔

طلبہ کے وکیل سدھاکر یادو نے یو این آئی سے تصدیق کی کہ تینوں طلبہ کی الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرلی ہے۔ اور کچھ دستاویزاتی کاروایوں کے بعد طلبہ جیل سے رہا ہونگے۔ طلبہ کی ضمانت کی عرضی دسمبر میں داخل کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق آگرہ میں وکلاء نے ان کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ملزمین نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

ہندوستان۔پاکستان کے درمیان میچ

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال دبئی میں ٹی۔20 ورلڈ کپ کے دوران 24 اکتوبر کو ہندوستان۔پاکستان کے درمیان میچ ہوا تھا۔ اس میچ میں ہندوستان کو پاکستان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ الزام ہے کہ پاکستان کی جیت پر آگرہ میں واقع آر بی ایس انجینئرنگ کالج کے بچ پوری کیمپس میں پڑھنے والے تین کشمیری طلبہ ارشد یوسف، عنایت الطاف اور شوکت احمد غنی نے پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کی تھی۔ ان کے درمیان وہاٹس ایپ چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ جس کے پاداش میں کالج انتظامیہ نے انہیں معطل کردیا تھا۔

معاملہ ہندووادی تنظیموں کے علم میں آنے پر انہوں نے کیمپس پہنچ کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے عہدیدار گورو راجاوت کی تحریر پر جگدیش پورا تھانے میں تینوں کشمیری طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے 27 اکتوبر کو تینوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے بعد ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے خود ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’پاکستان کی جیت کا جشن منانے والوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے گا‘۔ تینوں کشمیری طلبہ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153 اے، 505 اے بی اور آئی ٹی ایکٹ 2008 کی دفعہ 66 ایف کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ تینوں طلبہ نے ملک مخالف نعرے بازی کی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ماحول خراب ہوسکتا تھا‘۔

مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ

0
مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ
مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس اضافے کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا

نئی دہلی: حکومت نے مرکزی حکومت کے ملازمین کے مہنگائی بھتے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بھتے کی شرح بڑھ کر 34 فیصد ہوگئی ہے۔

اس اضافے کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کے روز یہاں منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں ایک تجویز کو منظوری دی گئی۔

تجویز میں مرکزی حکومت کے ملازمین کے لیے مہنگائی بھتہ (ڈی اے) اور پنشنرز کے لیے مہنگائی ریلیف (ڈی آر) کی اضافی قسط جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جو یکم جنوری سے لاگو ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ منظور شدہ اصولوں کے مطابق ہے، جو ساتویں مرکزی پے کمیشن کی سفارشات پر مبنی ہے۔

مہنگائی بھتہ اور مہنگائی ریلیف کی وجہ سے سرکاری خزانے پر 9,544.50 کروڑ روپے کا مشترکہ اثر پڑے گا۔ اس سے تقریباً 47.68 لاکھ مرکزی حکومت کے ملازمین اور 68.62 لاکھ پنشن یافتگان کو فائدہ پہنچے گا۔

سپریم کورٹ  4 اپریل سے مکمل طور پر ‘فزیکل’ سماعت شروع کرے گی

0

سپریم کورٹ فی الحال جسمانی موجودگی کے ساتھ منگل، بدھ اور جمعرات (محدود) کو مقدمات کی سماعت کر رہی ہے

نئی دہلی: سپریم کورٹ دو سال سے زیادہ عرصے کے بعد 4 اپریل سے مکمل ‘فزیکل موجودگی’ میں دوبارہ سماعت شروع کرے گی۔

چیف جسٹس این وی رمن نے بدھ کی عدالتی کارروائی کے دوران نئے نظام سے متعلق فیصلے کا اعلان کیا۔

کووڈ-19 سے پہلے کی طرح سماعت شروع کرنے کے انتظامات کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پیر اور جمعہ کو وکلاء کی درخواست پر انہیں ورچوول میڈیم کے ذریعے سماعت کے لیے ویڈیو لنک دستیاب کرایا جائے گا۔

جسٹس رمن نے کہا کہ پیر اور جمعہ کو اگر وکلاء چاہیں تو ہم انہیں لنک فراہم کرائیں گے۔

عدالت عظمیٰ فی الحال جسمانی موجودگی کے ساتھ منگل، بدھ اور جمعرات (محدود) کو مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔ پیر اور جمعہ کو ورچوول میڈیم کے ذریعے سماعت کا نظام ہے۔

امریکہ: ’لنچنگ‘ کو نفرت انگیز جرم قرار دینے کے قانون پر دستخط

0
امریکہ: ’لنچنگ‘ کو نفرت انگیز جرم قرار دینے کے قانون پر دستخط
امریکہ: ’لنچنگ‘ کو نفرت انگیز جرم قرار دینے کے قانون پر دستخط

مسٹر بائیڈن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا "میں نے ابھی ابھی ‘ایمیٹ ٹل اینٹی لنچنگ ایکٹ’ پر دستخط کیا ہے، جو ملک میں لنچنگ کو نفرت انگیز جرم بناتا ہے۔”

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن کے ’لنچنگ‘ کو جرم قرار دینے کے قانون پر دستخط کے بعد اب یہ امریکہ میں نفرت انگیز جرم بن گیا ہے۔

مسٹر بائیڈن نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا "میں نے ابھی ابھی ‘ایمیٹ ٹل اینٹی لنچنگ ایکٹ’ پر دستخط کیا ہے، جو ملک میں لنچنگ کو نفرت انگیز جرم بناتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ نسلی منافرت امریکہ میں کوئی پرانا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک دائمی مسئلہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر امریکہ میں 1882 سے 1968 تک 4743 اقلیتی افریقی نژاد امریکیوں کو قتل کیا گیا۔

اس بل کا نام ایک 14 سالہ افریقی امریکی ایمیٹ ٹِل کے نام پر رکھا گیا ہے جسے 1955 میں ریاسر مسیسیپی میں سفید فام لوگوں کے ایک گروپ نے ایک سفید فام عورت کو سیٹی بجانے پر قتل کر دیا تھا۔

سینئر ایس پی رہنما اعظم خان اسمبلی میں نہیں لے سکے حلف

0

آج سبھی اراکین نے اسمبلی کی رکنیت کا حلف لے لیا، امکانات تھے کہ جیل انتظامیہ اعظم خان کو بھی حلف کے لئے اسمبلی لائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا اور آج بھی اعظم خان حلف نہیں لے سکے

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر رہنما و رام پور سے ایم ایل اے اعظم خان آج اسمبلی میں حلف نہیں لے سکے۔ ان کی حلف برداری کے لئے جیل انتظامیہ کی جانب سے داخل کی گئی اجازت کی عرضی کو ایم پی۔ ایم ایل اے کورٹ نے حاصل کر کے ان کے فائل میں لگا دیا ہے۔

ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق ریاستی لکھنؤ اسمبلی میں منعقد تقریب حلف برداری میں اعظم خان کی شرکت کی اجازت کے لئے سیتا پور جیل کے جیلر کی جانب سےعرضی داخل کی گئی ہے۔ رامپور ایم پی۔ ایم ایل اے کورٹ نے عرضی کو حاصل کرلیا اور اسے اعظم خان سے وابستہ کیسوں کی فائلوں میں لگادیا ہے۔ اب عرضی پر دوسری تاریخ میں سماعت ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ سینئر ایس پی رہنما اعظم خان کے خلاف درج متعدد مقدمات کی وجہ سے وہ گذشتہ دو سالوں سے سیتاپور جیل میں قید ہیں۔ دو کیسز کے علاوہ زیادہ تر کیسز میں انہیں ضمانت مل چکی ہے۔ رامپور سے رکن پارلیمنٹ رہتے ہوئے اعظم خان نے اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا اور اسمبلی میں جیت ملنے کے بعد انہوں نے لوک سبھا رکنیت سے استعفی دے دیا اور اسمبلی کو ترجیح دیا ہے۔

یوپی اسمبلی کے نومنتخب اراکین کے دو دنوں سے اسمبلی میں حلف برداری تقریب جاری تھی۔ آج سبھی اراکین نے اسمبلی کی رکنیت کا حلف لے لیا۔ امکانات تھے کہ جیل انتظامیہ اعظم خان کو بھی حلف کے لئے اسمبلی لائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا اور آج بھی اعظم خان حلف نہیں لے سکے۔

قومی سطح پر عام ہڑتال، بینک خدمات متاثر، چار لاکھ بینک ملازمین نے لیا حصہ

0
قومی سطح پر عام ہڑتال، بینک خدمات متاثر، چار لاکھ بینک ملازمین نے لیا حصہ
قومی سطح پر عام ہڑتال، بینک خدمات متاثر، چار لاکھ بینک ملازمین نے لیا حصہ

مرکزی حکومت کی مخالف عوام معاشی پالیسیوں اور مخالف مزدور پالیسیوں کے خلاف عام ہڑتال میں عوامی شعبہ کے بینکس، پرائیویٹ بینکس، فارین بینکس، ریجنل رورل بینکس اور کواپریٹیو بینکس نے حصہ لیا

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی مخالف عوام معاشی پالیسیوں اور مخالف مزدور پالیسیوں کے خلاف سنٹرل ٹریڈ یونینس (سی ٹی یوز) اور بیشتر آزادانہ ٹریڈ یونینس کی جانب سے کی گئی مشترکہ اپیل پر تقریبا چار لاکھ بینک ملازمین نے دوسرے دن بھی مخالف ملک عام ہڑتال میں حصہ لیا۔

آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) نے اس ہڑتال کی حمایت کا فیصلہ کیا اور بینکنگ شعبہ کے مطالبات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس ہڑتال میں شمولیت اختیار کی۔ اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکس، پرائیویٹ بینکس، فارین بینکس، ریجنل رورل بینکس اور کواپریٹیو بینکس نے اس ہڑتال میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ اطلاع کے مطابق سدرن گرڈ جو چینئی سے کام کرتا ہے، متاثر رہا اور آج تقریبا 6 لاکھ چیکس جن کی مالیت 5000 کروڑ روپے ہے کلیر نہیں کئے جاسکے، کیونکہ بینکس کی برانچس ہڑتال کی وجہ سے کام نہیں کر پائیں۔ قومی سطح پر تقریبا 20 لاکھ چیکس جن کی مالیت 18000 کروڑ روپئے ہے بھی کلیر نہیں ہوسکے۔

قومی سطح پر بینک خدمات متاثر

انہوں نے دعوی کیا کہ قومی سطح پر بینک خدمات متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی آزادانہ معاشی پالیسیوں کے نام پر مرکزی حکومت ایسی پالیسیوں کو نافذ کررہی ہے جس سے امیر افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور عام غریب آدمی اس سے متاثر ہورہا ہے۔

انہوں نے کارپوریٹس کو دی گئی رعایتوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کارپوریٹس کو رعایتیں دی جارہی ہیں۔ تاہم عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ کورونا کے وقت میں حکومت نے امیر طبقہ کو کئی طرح کی رعایتیں دیں اور غریبوں کو ان کی ملازمتوں اور ذریعہ معاش سے محروم کیا گیا۔ معیشت کی سست روی جاری ہے تاہم اس کو صحیح سمت لانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ سرمایہ نکاسی، نجی کاری پالیسی کا اہم حصہ بن گئے ہیں، جس کے ذریعہ ہر عوامی شعبہ کی نجی کاری ہو رہی ہے اور اس کو پرائیویٹ شعبہ کے حوالے کیا جارہا ہے۔

عوامی شعبہ کے بینکس کو مستحکم کرنے کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ بینکنگ شعبہ میں بھی اصلاحات کے نام پر کئی بینکس کو ضم کیا جارہا ہے، ان کی نجی کاری کی جا رہی ہے۔ بینکس کے پاس فی الحال 162 کروڑ روپئے عوامی رقومات، ڈپازٹس کی شکل میں ہیں۔ عوام کی اس بچت کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دہائی میں ہم نے پرائیویٹ بینکس کے غلط انتظامات کو دیکھا اور اس کے ذریعہ عوامی جمع کی ہوئی رقم سے یہ بینکس محروم رہے۔ اسی لئے عوام کے مفاد میں عوامی شعبہ کے بینکس کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینکس کے قومیانے کی وجہ سے آج دوردراز کے علاقوں میں بھی بینکس کی برانچس قائم ہیں۔ اگر بینکس کی نجی کاری کی جائے گی تو دیہی علاقوں کے بینکس کی برانچس بند ہوجائیں گی۔ پہلے ہی بینکس کے انضمام کے بعد کئی برانچس بند ہوگئی ہیں۔

یکم اپریل سے اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، عام آدمی پر ایک اور بوجھ

0
یکم اپریل سے اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، عام آدمی پر ایک اور بوجھ
یکم اپریل سے اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، عام آدمی پر ایک اور بوجھ

ملک میں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے جا رہا ہے، اس طرح عام آدمی پر ایک اور مالی بوجھ میں اضافہ ہوجائے گ

حیدرآباد: ملک میں پٹرولیم اشیا، پکوان کے لئے استعمال ہونے والے تیل، پکوان گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ اس طرح عام آدمی پر ایک اور مالی بوجھ میں اضافہ ہوجائے گا۔

تلنگانہ میں تقریبا 40 لاکھ افراد بی پی اور ذیابیطس کا شکار ہیں۔ طرز زندگی میں تبدیلی اور دیگر وجوہات کی بنا پر لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، جس کے لئے ان کو گولی کھانا لازمی ہو جاتا ہے۔ سردی، بخار کی دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہر گھر میں ماہانہ تنخواہ میں سے کچھ رقم دواؤں کے لئے مختص کی جاتی ہے۔ تاہم یکم اپریل سے دواؤں کیلئے رکھی جانے والی رقم میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا، کیونکہ یکم اپریل سے دواؤں کی قیمتوں میں 10 تا 20 فیصد کے اضافہ کا امکان ہے۔

نیشنل فارماسیوٹیکلس پرائزنگ اتھاریٹی کی طرف سے دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کی دواؤں کی کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح تقریبا 800 اقسام کی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں کے برخلاف اس مرتبہ دواؤں کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی بھی قیمت میں 10.7 فیصد کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس مرتبہ 10.7 فیصد کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ اس سے عوام پر بوجھ عائد ہوگا۔ اضافی قیمتوں کا اثر میڈیکل آلات پر بھی پڑے گا۔ تھرمامیٹر، پلس آکسی میٹر، بی پی مشینوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔