ہفتہ, اپریل 11, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 249

راجستھان: جھالاواڑ میں دو کاروں کے ٹکرانے اور آگ لگنے سے چار افراد کی موت

0
راجستھان: جھالاواڑ میں دو کاروں کے ٹکرانے اور آگ لگنے سے چار افراد کی موت
راجستھان: جھالاواڑ میں دو کاروں کے ٹکرانے اور آگ لگنے سے چار افراد کی موت

رائے پور پولیس اسٹیشن کے مطابق یہ کاریں بدھ کی شام تقریباً 7.30 بجے اس علاقے میں جھالاواڑ-اندور ریاستی شاہراہ پر سواس پلیا کے قریب آپس میں ٹکرا گئیں اور اس کے بعد ان میں آگ لگ گئی

جھالاواڑ: راجستھان میں جھالاواڑ ضلع کے رائے پور تھانہ علاقے میں دو کاروں کے آپس میں ٹکرانے سے چار افراد کی موت اور ایک شدید طور پر جھلس گیا۔

رائے پور پولیس اسٹیشن کے انچارج مدن نے آج صبح بتایا کہ یہ کاریں بدھ کی شام تقریباً 7.30 بجے اس علاقے میں جھالاواڑ-اندور ریاستی شاہراہ پر سواس پلیا کے قریب آپس میں ٹکرا گئیں اور اس کے بعد ان میں آگ لگ گئی۔

حادثے میں مدھیہ پردیش کے ڈنگر کا رہنے والا ہری سنگھ عرف بھورا بننا (23)، راج گڑھ ضلع کے بھنگ پورہ کا رہنے والا بھوپیندر سنگھ (26) اور نیمچ ضلع کے مناسا کا رہنے والا پرکھر ویاس اور راجستھان میں جھالاواڑ ضلع کے بھوانی منڈی علاقے میں پنچھیاکھیڑی کے بھانوپرتاپ (25) کی جھلسنے سے موت ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فائر بریگیڈ کی مدد سے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا اور حادثے میں زخمی ہونے والے مدھیہ پردیش کے دیش راج کو کوٹا اسپتال کے برن یونٹ میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ہندوستانی شیئر بازار لگاتار دوسرے روز بھی سرخ نشان کے ساتھ کھلا

0
ہندوستانی شیئر بازار لگاتار دوسرے روز بھی سرخ نشان کے ساتھ کھلا
ہندوستانی شیئر بازار لگاتار دوسرے روز بھی سرخ نشان کے ساتھ کھلا

سرخ نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 91.5 پوائنٹس بڑھ کر 25267.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 114.16 پوائنٹس بڑھ کر 29810.10 پوائنٹس پر کھلا

ممبئی: ہندوستانی شیئر بازار جمعرات کو مسلسل دوسرے دن سرخ نشان کے ساتھ کھلا۔ بی ایس ای سینسیکس جمعرات کو 207.8 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 59402.61 پوائنٹس پر کھلا۔ وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے نفٹی نے 84.35 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 17723.30 پوائنٹس کے ساتھ دن کا آغازکیا۔

سرخ نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 91.5 پوائنٹس بڑھ کر 25267.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 114.16 پوائنٹس بڑھ کر 29810.10 پوائنٹس پر کھلا۔

ہندوستانی شیئر بازار میں بدھ کو بی ایس ای کا 30 حصص پر مشتمل حساس انڈیکس سینسیکس 566.09 پوائنٹس گر کر 60 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 59610.41 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 149.75 پوائنٹس گر کر 17807.65 پوائنٹس پر آگیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز بڑی کمپنیوں کے برعکس چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری سے مارکیٹ کو سہارا ملا۔ اس مدت کے دوران، بی ایس ای مڈ کیپ 0.41 فیصد بڑھ کر 25175.79 پوائنٹس اور سامال کیپ 0.38 فیصد اضافے کے ساتھ 29695.94 پوائنٹس پر رہا تھا۔

جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر

0
جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر
جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر

مسٹر جئے شنکر نے قاعدہ 193 کے تحت یوکرین کی صورتحال پر بحث کا ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کے حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کیا جائے

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے بوچا قتل عام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بدھ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

مسٹر جئے شنکر نے قاعدہ 193 کے تحت یوکرین کی صورتحال پر بحث کا ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کے حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بوچا قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر ہندوستان کی پہلی رائے یہ ہے کہ ہم اس لڑائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ خونریزی اور بے گناہوں کو مارنے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ آج کے دور میں کسی بھی تنازع کو حل کرنے کا صحیح طریقہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن گنگا ایک بڑا چیلنج تھا۔ جنگ کے دوران ہم نے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ اس کے ساتھ دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا۔ ایسا کسی ملک نے نہیں کیا۔ بقیہ ممالک آج ہماری مثال دے رہے ہیں۔ وہاں پر طلباء نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ میں یہ بات بھی ضرور کہوں گا اگر ہمارے چار وزیر نہ جاتے تو یہ کام اتنا آسانی سے نہ ہوتا۔ میں اس پورے ٹیم ورک کی تعریف کرتا ہوں۔

تین ماہ کے اندر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں: پاکستانی الیکشن کمیشن

0

الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخابی حلقوں کی تازہ حد بندی اور ضلع اور حلقے کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں کی تیاری بڑے چیلنجز ہیں، جس کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے

اسلام آباد: پاکستان کے الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی، آئینی اور دیگر چیلنجوں کے پیش نظر پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

یہ اطلاع منگل کو میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ٹویٹ کیا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد تین ماہ میں انتخابات کرانے سے نااہلی کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخابی حلقوں کی تازہ حد بندی اور ضلع اور حلقے کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں کی تیاری بڑے چیلنجز ہیں۔ جس کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق مواد کی خریداری، بیلٹ پیپرز کا بندوبست اور انتخابی عملے کی بھرتی اور تربیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی کو اسنیپ پول کرانے کی سفارش بھیج دی گئی ہے۔

شیئر بازار میں گزشتہ روز کی تیزی پر بریک، نفٹی 18 ہزار سے نیچے

0

روس پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایشیائی بازاروں میں تیزی کے باوجود مقامی سطح پر بڑی کمپنیوں میں ہوئی فروخت کے دباؤ میں آج شیئر بازار میں گزشتہ روز کی تیزی پر بریک لگ گیا اور نفٹی 18 ہزار سے نیچے بند ہوا

ممبئی: روس پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایشیائی بازاروں میں تیزی کے باوجود مقامی سطح پر ایچ ڈی ایف سی بینک، ایچ ڈی ایف سی، ریلائنس، ایس بی آئی اور ماروتی جیسی بڑی کمپنیوں میں ہوئی فروخت کے دباؤ میں آج شیئر بازار میں گزشتہ روز کی تیزی پر بریک لگ گیا اور نفٹی 18 ہزار سے نیچے بند ہوا۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 435.24 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 60176.50 پوائنٹس تک پہنچنے میں کامیاب رہا لیکن نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 96 پوائنٹس گر کر 18 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 17957.40 پر آگیا۔

تاہم بڑی کمپنیوں کے برعکس چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری ہوئی جس نے مارکیٹ کو مزید گرنے سے بچا لیا۔

اس مدت کے دوران بی ایس ای مڈ کیپ 1.28 فیصد بڑھ کر 25,072.44 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.37 فیصد بڑھ کر 29,582.49 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔بی ایس ای پر کل 3507 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2345 کے حصص سبز جبکہ 1056 کے حصص سرخ نشان پر تھے، جب کہ 106 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی مارکیٹ میں ملا جلا رجحان رہا۔ ایشیائی مارکیٹوں میں اضافہ ہوا جبکہ یورپی منڈیوں میں کمی ہوئی۔ جاپان کا نکی 0.19، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 2.10 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.94 فیصد بڑھ گیا۔

سری لنکا میں سیاسی افراتفری، اتحادیوں نے چھوڑا حکومت کا ساتھ

0
سری لنکا میں سیاسی افراتفری، اتحادیوں نے چھوڑا حکومت کا ساتھ
سری لنکا میں سیاسی افراتفری، اتحادیوں نے چھوڑا حکومت کا ساتھ

سری لنکا میں سیاسی افراتفری اس وقت عروج پر، سری لنکا فریڈم پارٹی نے پارلیمنٹ میں ایک آزاد گروپ کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا

کولمبو: سری لنکا میں سیاسی افراتفری اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب ایک اہم اتحادی سری لنکا فریڈم پارٹی (ایس ایل ایف پی) نے پیر کو حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا۔

پارٹی نے پارلیمنٹ میں ایک آزاد گروپ کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے مطابق پارٹی کے 14 ایم پی پارلیمنٹ میں آزاد گروپ کے طور پر کام کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ پارٹی کی نمائندگی کرنے والے وزراء پرینکارا جیارتنے، لسانتھا الگیاوانا اور ڈومینڈا ڈیسنائیکے نے اپنے وزارتی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

قبل ازیں سری لنکا فریڈم پارٹی نے صدر گوٹابایا راجا پاکسے سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر نگران حکومت کا تقرر کریں تاکہ بہت سی پریشانیوں کو دور کیا جا سکے۔ یکم اپریل کو صدر کو لکھے گئے خط میں پارٹی نے مطلع کیا تھا کہ اگر نگراں حکومت کی تقرری کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تو حکومت میں شامل تمام 14 پارٹی اراکین پارلیمنٹ اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے اور پارلیمنٹ میں آزاد رہیں گے۔

پارٹی نے کہا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نگراں حکومت کے تقرر کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک مستقل پروگرام کے تحت چلایا جا سکے۔

تریپورہ: ملک مخالف سرگرمی کے الزام میں مسجد کے امام سمیت تین نوجوان گرفتار

0
تریپورہ: ملک مخالف سرگرمی کے الزام میں مسجد کے امام سمیت تین نوجوان گرفتار
تریپورہ: ملک مخالف سرگرمی کے الزام میں مسجد کے امام سمیت تین نوجوان گرفتار

تریپورہ کے سپاہیجالا ضلع میں ایک استاد اور ایک امام سمیت تین نوجوانوں کو تعزیرات ہند کی دفعہ 120 (اے)، 121 اور 124 (اے) کے تحت مجرمانہ سازش، حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے

اگرتلہ: تریپورہ کے ضلع سپاہیجالا کی ایک مقامی عدالت نے پیر کے روز ایک استاد اور ایک امام سمیت تین نوجوانوں کو ملک مخالف سرگرمیوں کے الزام میں تین دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔

انہیں تعزیرات ہند کی دفعہ 120 (اے)، 121 اور 124 (اے) کے تحت مجرمانہ سازش، حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پر’انسداد غیر قانونی سرگرمیاں قانون (یو اے پی اے)‘ بھی لگایا گیا ہے۔ انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تین نوجوانوں کو اتوار کی رات اسسٹنٹ انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی) اور تریپورہ پولیس کی ایک ٹیم نے جاترا پور تھانہ علاقے کے سونامورا سب ڈویژن کے ایک گاؤں سے ایک مشترکہ آپریشن میں گرفتار کیا تھا۔ ان کی شناخت عمران حسین (25)، حامد علی (38) اور ابوالقاسم (32) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ عمران حسین مقامی مسجد میں امام ہیں جبکہ حامد علی ایک کسان اور ابوالقاسم (32) استاد ہیں۔ تینوں کو کھڈے خولہ گاؤں میں ان کے گھروں سے اٹھایا گیا اور بعد میں مرکزی ایجنسی کی معلومات کی بنیاد پر پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے نگراں وزیر اعظم کے لئے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کا نام تجویز کیا

0

اتوار کو قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے باعث عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تاہم وہ نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو نگراں وزیر اعظم کے لئے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کا نام تجویز کیا۔

یہ اطلاع سابق وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے نگراں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

انہوں نے کہا’’ پی ٹی آئی نے نگراں وزیر اعظم کے لیے دو نام صدر عارف علوی کو بھیجے ہیں۔

اے آر وائی نیوز نے سابق وزیر کے حوالے سے بتایا کہ مشترکہ اپوزیشن نے سات دن کے اندر ناموں کو حتمی شکل نہیں دی، اس لیے پی ٹی آئی کے تجویز کردہ ناموں میں سے سرفہرست امیدوار کو نگران وزیراعظم بنایا جائے گا۔

قبل ازیں مسٹر علوی نے مسٹر خان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو مکتوب ارسال کر کے نگراں وزیر اعظم کی تقرری کے لیے تجاویز طلب کی تھیں۔

جیو نیوز کے مطابق اگر دونوں سیاست دان تین دن میں ایک نام پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر پائے تو نگران وزیراعظم کی تقرری کی ذمہ دار پارلیمانی کمیٹی کو دو نام بھیجے گا۔ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کے ارکان شامل ہیں اور حکمران جماعت اور اپوزیشن کو یکساں نمائندگی حاصل ہے۔ اس کی تشکیل قومی اسمبلی کے سپیکر کریں گے۔

عمران نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے

اتوار کو قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے باعث مسٹر خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تاہم وہ نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

صدر سیکرٹریٹ کے مطابق ’’عمران احمد خان نیازی آئین پاکستان کے آرٹیکل 224 اے (4) کے تحت نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

دریں اثناء قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نگراں وزیراعظم کی تقرری سمیت کسی عبوری انتظامات کے لیے کسی بھی مشاورت کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

بہار قانون ساز کونسل انتخابات: بلدیاتی کوٹے کی 24 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا آغاز

0
بہار قانون ساز کونسل انتخابات: بلدیاتی کوٹے کی 24 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا آغاز
بہار قانون ساز کونسل انتخابات: بلدیاتی کوٹے کی 24 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا آغاز

بہار قانون ساز کونسل کے لوکل باڈی کوٹے کی 24 سیٹوں کے لیے 187 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، وارڈ ممبران، پنچایت سمیتی ممبران، مکھیا، ضلع پریشد ممبران، میونسپل باڈیز کے نمائندے، ایم ایل اے، ایم ایل سی اور ایم پی اس الیکشن میں ووٹر ہیں

پٹنہ: بہار میں لوکل باڈیز اتھارٹی حلقہ سے قانون ساز کونسل کی 24 نشستوں کے لیے ووٹنگ پیر کی صبح 8 بجے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان شروع ہوئی۔

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر ایچ آر سری نواس نے بتایا کہ ووٹنگ صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی۔ پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تمام پولنگ اسٹیشنز پر ویب کاسٹنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

بہار قانون ساز کونسل کے لوکل باڈی کوٹے کی 24 سیٹوں کے لیے 187 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ووٹنگ کے لیے 534 بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں اس بار 134106 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ وارڈ ممبران، پنچایت سمیتی ممبران، مکھیا، ضلع پریشد ممبران، میونسپل باڈیز کے نمائندے، ایم ایل اے، ایم ایل سی اور ایم پی اس الیکشن میں ووٹر ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 7 اپریل کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن سے موصولہ اطلاع کے مطابق سہرسہ کم مدھے پورہ سپول حلقہ میں سب سے زیادہ 14 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہیں، بھوجپور کم بکسر حلقہ میں، کم از کم دو امیدوار انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

24 سیٹوں کے لیے 187 امیدوار

پٹنہ سے چھ، نالندہ سے پانچ، گیا-جہان آباد-ارول سے پانچ، اورنگ آباد سے آٹھ، نوادہ سے 11، روہتاس-کیمور سے نو، سارن سے آٹھ، سیوان سے آٹھ، گوپال گنج سے چھ، مغربی چمپارن سے سات، مشرقی سے ایک۔ مظفر پور سے چھ، ویشالی سے چھ، سیتامڑھی-شیوھر سے پانچ، دربھنگہ سے 13، سمستی پور سے آٹھ، مونگیر-جموئی-لکھیسرائے-شیکھ پورہ سے 13، بیگوسرائے-کھگڑیا سے 12، بھاگلپور-بانکا سے سات، مدھوبنی سے چھ، ایس ایون سے پورنیہ ارریہ کم کشن گنج اور کٹیہار حلقہ سے آٹھ امیدوار میدان میں ہیں۔

نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے تمام 24 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 12، جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کو 11 اور شری پشوپتی کمار پارس کی لوک جن شکتی پارٹی (پارس) کو ایک نشست دی گئی ہے۔ ساتھ ہی، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے 23 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ اس نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کو ایک سیٹ دی ہے۔ کانگریس نے قانون ساز کونسل کی 24 میں سے 16 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

سری لنکا میں معاشی بحران کے درمیان کابینہ کے وزراء کا اجتماعی استعفیٰ

0
سری لنکا میں معاشی بحران کے درمیان کابینہ کے وزراء کا اجتماعی استعفیٰ
سری لنکا میں معاشی بحران کے درمیان کابینہ کے وزراء کا اجتماعی استعفیٰ

وزیر تعلیم دنیش گناوردنے نے بتایا کہ کابینہ کے وزراء نے اپنے استعفے وزیر اعظم کو پیش کر دیے ہیں، جن میں وزیر اعظم کے بیٹے نمل راجا پکشے بھی شامل ہیں

کولمبو: سری لنکا کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے درمیان کابینہ کے وزراء نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزراء نے یہ قدم صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف احتجاجاً اٹھایا ہے۔

بی بی سی نے پیر کو اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔ بی بی سی کے مطابق سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکشے اور ان کے بھائی صدر گوتابایا راجا پکشے کے علاوہ تمام 26 وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی شہروں میں لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرے کئے۔

وزیر تعلیم دنیش گناوردنے نے بتایا کہ کابینہ کے وزراء نے اپنے استعفے وزیر اعظم کو پیش کر دیے ہیں، جن میں ان کے (مسٹر راجا پکشے) کے بیٹے نمل راجا پکشے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ انہیں امید ہے کہ اس سے صدر اور وزیر اعظم کو "عوام کی مدد کرنے اور حکومت کے استحکام کے لیے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔”

قابل ذکر ہے کہ سری لنکا کو 1948 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے اب تک کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ یہ بحران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث پیدا ہوا ہے، جو ایندھن کی درآمدات کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش اور اشیائے خوردونوش اور ادویات جیسی اشیائے ضروریہ کی قلت ہے۔