ہفتہ, اپریل 11, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 248

مرکزی حکومت ترقی کے بجائے مذہبی سیاست کر رہی ہے: راکیش ٹکیت

0
مرکزی حکومت ترقی کے بجائے مذہبی سیاست کر رہی ہے: راکیش ٹکیت
مرکزی حکومت ترقی کے بجائے مذہبی سیاست کر رہی ہے: راکیش ٹکیت

راکیش ٹکیت نے دھان کی خریداری کے مسئلہ پر دہلی کے تلنگانہ بھون میں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کے دھرنے میں حصہ لیا

نئی دہلی: بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی۔ انہوں نے دھان کی خریداری کے مسئلہ پر دہلی کے تلنگانہ بھون میں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کے دھرنے میں حصہ لیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لئے دہلی میں وزیر اعلی چندر شیکھر راو کے احتجاج کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت کو اس پر شرم کرنی چاہئے۔ اگر مرکزی حکومت پورے ملک سے دھان کی خریداری کی یکساں پالیسی پر عمل نہیں کرے گی تو اس سے کسانوں کو کافی نقصان ہوگا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت، عوام کی زندگیوں کے ساتھ سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے بجائے مرکزی حکومت مذہبی سیاست کررہی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہورہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت، ہندووں اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کا دورہ کریں گے اور مستقبل میں بھی کسانوں کے احتجا ج میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے ربیع کے سیزن میں پورے دھان کی خریداری کرنے کی مانگ کی ہے۔

میرٹھ: کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے ٹکر، 4 کی موت، متعدد زخمی

0
میرٹھ: کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے ٹکر، 4 کی موت، متعدد زخمی
میرٹھ: کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے ٹکر، 4 کی موت، متعدد زخمی

پولیس ذرائع نے بتایا کہ اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں ضلع باغپت باشندہ بھوشن اپنے کنبے کے ساتھ ہاپوڑ رشتے دار کے یہاں منعقد تقریب میں شرکت کرنے کے بعد اپنی کار سے واپس گھر لوٹ رہے تھے

میرٹھ: اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں اتوار کو کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے کی ہوئی ٹکر میں دو خواتین سمیت چار افراد کی موت ہوگئی جبکہ دیگر کئی زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ضلع باغپت باشندہ بھوشن اپنے کنبے کے ساتھ ہاپوڑ رشتے دار کے یہاں منعقد تقریب میں شرکت کرنے کے بعد اپنی کار سے واپس گھر لوٹ رہے تھے۔ راستے میں میرٹھ باغپت روڈ پر کرالی گاؤں کے نزدیک سائین مندر کے پاس سامنے سے آ رہی بائیک سے ان کی کار ٹکرانے کے بعد سڑک کنارے درخت سے ٹکرا کر پلٹ گئی۔

پولیس اور مقامی افراد نے کار سیدھی کرکے اس میں پھنسے بھوشن، بالا دیوی، مگن دیوی سمیت دیگر کار سوار اور بائیک سوار دھرمیندر و سروج کو علاج کے لئے پانچلی کھرد واق سی ایچ سی اسپتال میں داخل کرایا۔ جہاں ڈاکٹروں نے بالا دیوی، مگن دیو اور بائیک سوار انج و سروج کو مردہ قرار دے دیا۔

حالت نازک ہوتا دیکھ کر ڈاکٹروں نے بھوشن و دیگر ایک کو میرٹھ کے لئے ریفر کردیا ہے۔ جہاں انہیں ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

کولمبیا: گوریلا جنگ میں تین فوجیوں کی موت، چھ دیگر زخمی

0
کولمبیا: گوریلا جنگ میں تین فوجیوں کی موت، چھ دیگر زخمی
کولمبیا: گوریلا جنگ میں تین فوجیوں کی موت، چھ دیگر زخمی

کولمبیا کی فوج نے ایک بیان میں کہا ’’جمعہ 8 اپریل کی رات، دہشت گردوں نے سڑک پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا‘‘

بوگوٹا: کولمبیا میں اینٹی اوکیا ڈپارٹمنٹ کی ایٹوانگو میونسپلٹی کے قریب فوج کے گشت کے دوران نشانہ بناکر کیے گئے حملے میں کم از کم تین فوجی ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔

کولمبیا کی فوج نے یہ اطلاع دی ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا ’’جمعہ 8 اپریل کی رات، دہشت گردوں نے سڑک پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا‘‘۔

اس میں زخمی ہونے والے چھ جوانوں کا مقامی ہیلتھ سنٹر میں علاج کیا جا رہا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے گوریلا گروپ کولمبیا ریولوشنری آرمڈ فورسز (ایف اے آر سی) کا ہاتھ ہے۔

یہ ایک ایسا ہی گوریلا گروپ ہے، جس کی سرگرمیوں پر 2016 سے پابندی عائد ہے۔ اب یہ ایک اپوزیشن سیاسی جماعت ہے۔ اس کے باوجود گروپ کے کچھ ناراض ارکان نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

بیان میں فوج نے کہا ’’(ہم) بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غیر قانونی وسائل کا استعمال کرکے جنگ کرنے کے خلاف اٹارنی جنرل کے دفتر میں شکایات درج کرائیں گے‘‘۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ

0
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ

حکمراں جماعت کے ارکان اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان میں ہوئی ووٹنگ کے بعد عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا

اسلام آباد: نئے پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نیشنل اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

الجزیرہ نے یہ رپورٹ دی ہے اتوار کی صبح تک جاری رہنے والی کارروائی میں، حکمراں جماعت کے ارکان اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان میں ہوئی ووٹنگ کے بعد عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اسمبلی کے قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ امیدوار اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے تک کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے ہیں۔

مسٹر عمران خان اور اتحادیوں نے اعتماد کا ووٹ کھو دیا۔ انہیں تباہ حال معیشت اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کا قصوروار ٹھرایا گیا۔

جنوبی 24 پرگنہ میں سیوک پولیس سمیت دو افراد کا قتل، لوگوں کا احتجاج

0
جنوبی 24 پرگنہ میں سیوک پولیس سمیت دو افراد کا قتل، لوگوں کا احتجاج
جنوبی 24 پرگنہ میں سیوک پولیس سمیت دو افراد کا قتل، لوگوں کا احتجاج

ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے دو گروپ کے درمیان لین دین کے تنازع کی وجہ سے یہ قتل ہوا ہے، دونوں کی لاشیں آج صبح شیرپور، موگرہاٹ میں ایک فیکٹری سے برآمد ہوئیں، مقامی لوگوں کے مطابق دونوں کو گلا دبا کر گولی مار کر قتل کیا گیا

کلکتہ: جنوبی 24 پرگنہ کے ڈائمنڈ ہاربر کے تلگام میں ایک سیوک پولیس اور ایک نوجوان کا قتل کردیا گیا ہے۔ اس واقعے سے ناراض لوگوں نے گاڑی میں توڑ پھوڑ اور گاڑیوں میں آگ لگادی۔ حالات کو سنبھالنے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ مرنے والوں کی شناخت ورون چکرورتی اور مالے اداک کے طور پر ہوئی ہے۔

ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے دو گروپ کے درمیان لین دین کے تنازع کی وجہ سے یہ قتل ہوا ہے۔ دونوں کی لاشیں آج صبح شیرپور، موگرہاٹ میں ایک فیکٹری سے برآمد ہوئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں کو گلا دبا کر گولی مار کر قتل کیا گیا۔

سڑک بلاک کرنے کے بعد مشتعل ہجوم نے گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس اور فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ مشتعل ہجوم کو بھی پرسکون کیا۔

موقع پر پہنچ کر ڈائمنڈ ہاربر پولیس کے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیجیت بندیوپادھیائے اور ڈائمنڈ ہاربر کے ایس ڈی پی اوموقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کی۔ پولیس نے بتایا کہ عالم ملا نامی ایک شخص پر قتل کا الزام ہے۔ اس نے تعمیراتی سامان کی فراہمی کے نام پر بہت سے لوگوں سے رقم لی تھی۔ قتل ہونے والے دونوں افراد کافی عرصے سے ملزمان سے پیسے بھی وصول کرتے تھے۔

ورون اور مالے بار بار عالم سے رقم واپس کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ قتل اسی جھگڑے کی وجہ سے ہوا ہے۔ آج صبح ورون اور مالے نامی دو لوگ پیسے لینے فیکٹری گئے تھے۔ اس کے بعد ایسا ہوا۔ ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست

0
پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست
پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم سے کسی تفصیلی وضاحت کے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 189 اور آرٹیکل 184(3) کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ظاہر نہیں ہوتا ہے

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی قیادت والی حکومت نے ہفتہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس بحال کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ یہ عرضی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے عین قبل دائر کی گئی ہے۔

روزنامہ اخبار ‘دی ایکسپریس ٹریبیون’ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ریویو پٹیشن میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ مذکورہ معاملے میں 7 اپریل کو دیے گئے اپنے حکم پر نظرثانی کرے۔ یہ حکم غلطیوں پر مبنی ہے۔ اس لیے یہ حکم واپس لیا جانا چاہئے۔

حکومت نے کہا کہ فوری طورپر اسٹے آرڈر جاری کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم سے کسی تفصیلی وضاحت کے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 189 اور آرٹیکل 184(3) کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ظاہر نہیں ہوتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ سمجھنے میں غلطی کی ہے کہ ایوان کی کارروائی کے لیے پارلیمنٹ خودمختار، بالاتر ادارہ ہے اور وہ سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کے دائرہ اختیار میں جوابدہ نہیں ہے۔ بنابریں عدالتی حکم سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام

0
نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام
نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام

ایک طبقہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ملک کو خوشحالی کے راستے پر لے جانے کی سوچ رکھنے والے بہت بڑی غلط فہمی کے شکار ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج، بالخصوص یو پی کے نتیجوں نے ان طاقتوں کے لئے کھاد اور پانی کا کام کیا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر عوام کے سر پر مذہبی جنون سوار کر دیا جائے تو بے روزگاری، غربت، تعلیم اور صحت جیسے مسائل بے معنی ہیں۔

10 مارچ کو اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے سے پہلے فرقہ پرست طاقتیں کچھ کشمکش میں مبتلا تھیں۔ کیوں کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہو رہا تھا کہ شاید عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے عاجز آ چکے ہیں اور وہ بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریںگے۔ لیکن خاص طور پر یو پی کے نتیجوں نے اس گمان کو توڑ دیا۔ اسی لئے فرقہ پرست طاقتیں اب مزید بے لگام ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، وہاں ان عناصر نے اپنا کھیل شروع کر دیا ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری

کرناٹک اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے بعد راجستھان، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر وغیرہ میں ایسے غیر ضروری مسائل کو اٹھایا جا رہا ہے، جو کسی بھی صحت مند معاشرے اور ایک خوشحال ملک کی علامت نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ جب مہنگائی اور بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ جائے گی تو ملک کی معیشت اور عام شہریوں کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیوں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں، جب غربت اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ ایسے ہی خدشات اور تحفظات کا اظہار خود اس مودی حکومت کے نوکر شاہ کر رہے ہیں۔ ہمیں نفرت کی اس سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔

ایک طرف حکومت اور سرکاری ادارے ملک کی معاشی صورت حال پر متفکر نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف فرقہ پرست طاقتیں اور شدت پسند عناصر بے لگام ہیں۔ کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش، یو پی، دہلی اور بنگال وغیرہ ریاستوں میں حال ہی میں جس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ایک خاص منصوبہ کے تحت کیا جا رہا ہے۔

مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی

نفرت کا یہ کاروبار اس قدر بے خوف اور بے لگام ہو کر کیا جا رہا ہے، جیسے انہیں پیغام دے دیا گیا ہو، کہ وہ کچھ بھی کر گزریں، ان کا کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ملک کی راجدھانی میں اور پولیس کی اجازت کے بغیر آخر کیسے نفرت کا پجاری یتی نرسنگھا نند اور اس کے ساتھی دوبارہ نفرت اور تشدد کی دکان سجانے میں کامیاب ہو گئے؟ ضمانت پر جیل سے چھوٹا ایک شخص کھلے عام پھر وہی قتل عام کی باتیں کر رہا ہے۔ ہتھیار اٹھانے کی اپیل کر رہا ہے، مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے۔ تو اس سے کیا سمجھا جائے؟ اگر حکومت کی سطح پر ایسے شر پسند عناصر کے ساتھ سختی نہیں کی جاتی ہے تو اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں حکمراں طبقہ کی حمایت حاصل ہے۔ لہذا یہ حکومت کے لئے دو کشتیوں کی سواری کرنے جیسا ہے۔

ہندوستان کی اقتصادی حالت تشویشناک

حال ہی میں ملک کےاعلیٰ نوکر شاہوں نے وزیر اعظم مودی کو متنبہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ انتباہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مفت راشن تقسیم والی اسکیموں سے کئی ریاستوں کے تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے کے سلسلہ میں ہے۔ ان نوکر شاہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہاں بھی سری لنکا اور یونان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں موجودہ حکومت بھلے ہی دعویٰ کرے کہ معاشی ترقی کے معاملے میں پوری دنیا میں ہندوستان کا ڈنکا بج رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی اقتصادی امور کے اکثر ادارے ہندوستان کی اقتصادی حالت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے معاملے میں ہندوستان دنیا کے 190 ممالک میں 117 ویں مقام پر ہے اسی طرح امریکہ اور جرمنی کی ایجنسیوں کے مطابق گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان 116 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے اور حال ہی میں اقوام متحدہ کی ’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘ بھی سامنے آئی ہے، جس میں ہندوستان دنیا کے خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ہی نہیں، بلکہ پاکستان اور جنگ زدہ فلسطین سمیت تمام چھوٹے پڑوسی ممالک سے بھی پیچھے ہے۔

’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘یعنی ’گلوبل ہیپی نیس انڈیکس 2022‘ میں ہندوستان اس بار136 ویں نمبر پر ہے 146 ملکوں میں ہندوستان کا درجہ اتنے نیچے ہے کہ افریقہ کے کچھ بیحد پسماندہ ملک بھی اس کے برابر ہیں۔ نفرت بھرے ماحول، بے تحاشہ مہنگائی اور روز افزوں بڑھتی بے روزگاری سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہندوستان کا کیا مقام ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس فرقہ پرست طاقتوں اور مذہبی جنون میں ڈوبے کچھ لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

خوشحال اور امیر ترین طبقہ کی ملک سے ہجرت

ملک میں پہلے ہی امیر اور غریب کے درمیان ایک گہری کھائی ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے اس خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایسا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک کا خوشحال اور امیر ترین طبقہ بیرون ملک ہجرت کر سکتا ہے۔ وہیں بڑے اور میٹرو شہروں میں کسی طرح اپنی زندگی گزارنے والا طبقہ گاؤں کا رخ کر سکتا ہے۔ اس سال فروری میں لوک سبھا میں بتایا گیا تھا کہ 2015 سے 2019 تک 6 لاکھ 76 ہزار ہندوستانی شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔

دیگر اطلاعات کے مطابق 2020 میں 85 ہزار 248 لوگوں نے جبکہ ستمبر 2021 تک مزید ایک لاکھ 11 ہزار 287 لوگوں نے ملک کو خیرباد کہا۔ اگر 2015 سے 19 تک کی مجموعی تعداد میں آخر الذکر 2020 اور 2021 کی تعداد کو جوڑا جائے تو 2015 سے 2021 تک کی مجموعی تعداد تقریباً 8.72 لاکھ ہوگی یعنی پونے نو لاکھ لوگ۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ اسی طرح مہنگی ہوتی شہری زندگی کے درمیان بڑے شہروں سے لوگوں کے گاؤوں کی طرف رخ کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ در اصل اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت نہ تو حکومتیں اس میں دلچسپی لے رہی ہیں اور نہ ہی میڈیا اور دیگر گروپس حکومت پر اس قسم کا دباؤ بنا رہے ہیں کہ امیر اور غریب کی خلیج کو کم کیا جائے اور مہنگائی اور بے روزگاری پر کوئی لگام لگائی جائے۔

امیروں کی تعداد میں اضافہ، غربت میں کوئی کمی نہیں

بظاہر حکمراں کتنے ہی دعوے کریں کہ غربت کے خاتمے کے لئے وہ ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود گزشتہ چند دہائیوں میں امیروں کی تعداد بڑھی ہے اور غریبوں کی غربت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ’آکسفم‘ کی ایک رپورٹ میں حال ہی میں کہا گیا تھا کہ ملک کی 10 فیصد آبادی کے پاس ملک کی 77 فیصد دولت ہے۔ یہ معاشی عدم مساوات کا ایک نمونہ ہے، جس کے لئے سرکاری پالیسیوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ مفت راشن اور دیگر سہولتوں سے وقتی راحت تو مل جاتی ہے ، لیکن یہ غربت کم کرنے کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں اور ملک کے غریب عوام کی آمدنی میں اضافے کی تدابیر کی جائیں۔

اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستوں، شدت پسند اور شر پسند عناصر پر لگام لگانا بھی نہایت ضروری ہے ۔ پہلے کورونا کے وقت اور اب سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے مذہبی امور میں رخنہ اندازی سے لے کر ان کے معاشی بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ سب حکومتوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، یقیناً اس طرح کی مہم اس ملک کو غلط سمت لے جا رہی ہے۔ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کے ایک طبقہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ملک کو خوشحالی کے راستے پر لے جایا جا سکتا ہے، وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔

بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت اب یوپی آئی سے منسلک تمام اے ٹی ایم پر دستیاب

0
بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت اب یوپی آئی سے منسلک تمام اے ٹی ایم پر دستیاب
بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت اب یوپی آئی سے منسلک تمام اے ٹی ایم پر دستیاب

ریزرو بینک آف انڈیا کا کارڈ سے پیسہ نکالنے میں گاہکوں کے ساتھ جعلسازی روکنے کے لیے تمام بینکوں کو اے ٹی ایم سے بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کارڈ سے پیسہ نکالنے میں گاہکوں کے ساتھ جعلسازی روکنے کے لیے تمام بینکوں کو اے ٹی ایم سے بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس وقت ہندوستان میں صرف چند بینک ہی یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ وہ اپنے صارفین کو یہ سہولت صرف اپنے اے ٹی ایم نیٹ ورک پر پیش کرتے ہیں۔

آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس نے جمعہ کو ممبئی میں دو ماہی مانیٹری پالیسی کے جائزے کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت اب تمام بینکوں اور یوپی آئی نیٹ ورک کا استعمال کرنے والے تمام اے ٹی ایم تک بڑھانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے کارڈ کلوننگ اور کارڈ اسکیمنگ جیسے فراڈ سے بچا جا سکے گا۔ اس سہولت میں صارفین کو یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یوپی آئی) کا استعمال کرتے ہوئے بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی اجازت ہوگی۔

اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس ختم کیا: جوشی

0
اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس ختم کیا: جوشی
اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس ختم کیا: جوشی

بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد ارجن رام میگھوال اور وی مرلی دھرن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جوشی نے کہا کہ مہنگائی پر بحث سے بھاگنے کے بارے میں اپوزیشن کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد، ناپسندیدہ اور قابل مذمت

نئی دہلی: پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے مہنگائی کے مسئلہ پر بحث سے بھاگنے کے اپوزیشن حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مالیات اور تخصیص بل پر بحث کے دوران اپوزیشن کو کافی موقع دیا گیا ہے۔ اور اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہوا ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد جمعرات کو یہاں پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال اور وی مرلی دھرن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جوشی نے کہا کہ مہنگائی پر بحث سے بھاگنے کے بارے میں اپوزیشن کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور ناپسندیدہ اور قابل مذمت۔

انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بجٹ اجلاس کو مقررہ وقت سے پہلے 7 اپریل تک ملتوی کرنے کے بارے میں چیئرمین سے درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی انہوں نے کانگریس کے جے رام رمیش اور ڈی ایم کے کے تروچی شیوا سے دوبارہ بات کی تاکہ یہ پوچھا جائے کہ کیا وہ پہلے بجٹ اجلاس کو ختم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ دونوں ارکان نے کہا کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود مسٹر رمیش نے ٹویٹ کرکے حکومت پر مہنگائی پر بحث سے بھاگنے کا الزام لگایا ہے۔

رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں سی بی آئی کی پہلی گرفتاری، چار افراد ممبئی سے گرفتار

0
رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں سی بی آئی کی پہلی گرفتاری، چار افراد ممبئی سے گرفتار
رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں سی بی آئی کی پہلی گرفتاری، چار افراد ممبئی سے گرفتار

سی بی آئی نے رام پور ہاٹ قتل عام کیس میں ممبئی سے چار افراد کو گرفتار کیا ہے

کلکتہ: سی بی آئی نے رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں ممبئی سے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سی بی آئی کے ذریعہ یہ پہلی گرفتاری ہے۔

سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم لالن شیخ کے ساتھی بپا شیخ، صابو شیخ اور دیگر دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق انہیں ان کے موبائل فون کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں ٹرانزٹ ریمانڈ پر بنگال لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سی بی آئی گرفتار شدگان کو جمعہ کی صبح رام پورہاٹ لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بوگتوئی گاؤں کا واقعہ

21 مارچ کو رام پور ہاٹ کے بوگتوئی گاؤں میں ایک کے بعد ایک گھر کو آگ لگا دی گئی۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق گرفتار بپا، سبورا، مرکزی ملزم لالن شیخ کے ساتھ اس دن گاؤں میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ساتھ شامل تھے۔ ملزمان واردات کے فوراً بعد گاؤں سے فرار ہوگئے۔ سی بی آئی کو اطلاع ملی کہ کچھ ملزم ممبئی بھاگ گئے ہیں اور وہیں چھپے ہوئے ہیں۔ اس خبر کے بعد سی بی آئی کی چھ رکنی ٹیم نے جمعرات کی صبح تلاشی مہم شروع کی۔ اس کے علاوہ موبائل فون کا ٹاور لوکیشن ٹریک بھی جاری ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی اہلکاروں نے چاروں کو دوپہر تک گرفتار کر لیا۔

بوگتوئی کیس میں درج ایف آئی آر میں بپا شیخ کا نام 13ویں اور صابو شیخ کا نام 15ویں نمبر پر ہے۔ ان کے ساتھ دو دیگر دیہاتی بھی ہیں جن کے بارے میں سی بی آئی کو یقین ہے کہ وہ اس دن کے تشدد میں ملوث تھے۔ تاہم تفتیش کار ابھی ان کے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

بوگتوئی واقعہ کی سی بی آئی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گاؤں کے کئی نوجوان ممبئی میں مزدوری کر رہے تھے۔ تفتیش کاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ ملزم ممبئی فرار ہو سکتا ہے۔ اس کے مطابق انہوں نے ممبئی میں تحقیقات شروع کر دیں۔ تفتیش کاروں کو معلوم ہے کہ ملزم رام پور ہاٹ کے اس علاقے کے کچھ لوگوں کی مدد سے ممبئی میں چھپے ہوئے ہیں۔ جس کے بعد تفتیش کاروں نے موبائل ٹاور پر چھاپہ مار کر چار افراد کو گرفتار کیا۔