ہفتہ, اپریل 11, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 247

نندی گرام میں ترنمول کے دو گروپ آمنے سامنے

0
نندی گرام میں ترنمول کے دو گروپ آمنے سامنے
نندی گرام میں ترنمول کے دو گروپ آمنے سامنے

مظاہرین نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے ممتا بنرجی کو ہرانے میں یہاں اہم کردار ادا کیا تھا اور بی جے پی کے ساتھ سودا کررکھا تھا ان لوگوں کو ہی پارٹی میں ا ہمیت دی جارہی ہے اور پارٹی کے بے لوث ورکرو ں اور لیڈروں کو نظرانداز کردیا گیا ہے

کلکتہ: نندی گرام میں ترنمول کانگریس کی سابق راجیہ سبھا رکن ڈولا سین کی موجودگی میں ترنمول کانگریس کے ورکروں نے ہنگامہ آرائی اور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے ممتا بنرجی کو ہرانے میں یہاں اہم کردار ادا کیا تھا اور بی جے پی کے ساتھ سودا کررکھا تھا ان لوگوں کو ہی پارٹی میں ا ہمیت دی جارہی ہے اور پارٹی کے بے لوث ورکرو ں اور لیڈروں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔

نندی گرام پنچایت سمیتی کے شریک صدر ابو طاہر اور ان کے حامیوں نے تنظیمی میٹنگ میں مدعو نہ کیے جانے پر جمعرات کو نندی گرام بازار میں احتجاج کیا۔ اس وقت ایم پی ڈولا سین موجود تھیں۔ مظاہرین نے ڈولا سین کی گاڑی کو روک دیا بعد میں پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

طاہر نے کہا کہ جن لوگوں کو آج نندی گرام میں ترنمول کی تنظیمی میٹنگ کے لیے بلایا گیا تھا، وہی لوگ تھے جنہوں نے اسمبلی انتخابات کے دوران ممتا بنرجی کو ہرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور بی جے پی میں شامل ہوکر ان کا جھنڈا تھامے ہوئے تھے۔ میں نے احتجاج کیا تو ہمیں میٹنگ میں بلایا گیا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ”طاہر نے مزید کہا،“ ہم ٹیم کو منظم طریقے سے کریں گے۔ میں کلکتہ جا کر دیدی کو سب کچھ بتاؤں گا۔”

نندی گرام میں ابو سفیان گروپ سب سے زیادہ طاقتور

جمعرات کو دوپہر 2 بجے نندی گرام نمبر 1 میں واقع ترنمول دفتر میں اسمبلی حلقہ کی قیادت کے ساتھ میٹنگ بلائی گئی۔ الزام ہے کہ طاہر سمیت کئی فرنٹ لائن لیڈروں کو نہیں بلایا گیا۔ اس کی وجہ سے آج صبح سے احتجاج ہورہا تھا۔ مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے بلاک صدر سودیش داس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ترنمول کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نندی گرام میں ابو سفیان گروپ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

طاہر کا الزام ہے کہ سفیان کی وجہ سے نندی گرام میں ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نندی گرام میں سفیان کے لوگوں کی وجہ سے ہارنا پڑا۔ اس کے بعد بھی قیادت ان لیڈروں کو مسلط کر رہی ہے۔ طاہر نے یہ بھی کہا کہ وہ سفیان شبیر کی سرگرمیوں کے بارے میں کالی گھاٹ میں پارٹی لیڈر سے شکایت کریں گے۔ تاہم ڈولا سین نے کہا ہے کہ پارٹی میں اختلاف رائے ہوتے ہیں۔لیکن احتجاج کی بات غلط ہے۔

دھرم سنسد: مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد: دہلی پولیس

0
دھرم سنسد: مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد: دہلی پولیس
دھرم سنسد: مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد: دہلی پولیس

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں قومی راجدھانی میں منعقد ‘دھرم سنسد’ پروگرام میں مسلم کمیونٹی کے خلاف نسل کشی کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں

نئی دہلی: دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں قومی راجدھانی میں منعقدہ ‘دھرم سنسد’ پروگرام میں مسلم کمیونٹی کے خلاف قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ اس لیے اس سے متعلق معاملہ بند کر دیا گیا ہے۔

ساؤتھ ایسٹ دہلی کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس ایشا پانڈے نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے دہلی پولیس کا موقف پیش کیا ہے۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ شکایت کی بنیاد پر متعلقہ ویڈیو کلپس اور دیگر مواد کی مکمل چھان بین کی گئی۔

تحقیقات میں الزام کے مطابق ایسے حقائق سامنے نہیں آئے ہیں جن کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کسی خاص برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ حلف نامہ میں تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پروگرام میں کسی خاص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے کسی طرح کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔

حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے اپنی طرف سے شکایت کو بے بنیاد اور فرضی قرار دیتے ہوئے کیس بند کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 19 دسمبر کو گووند پوری میٹرو اسٹیشن کے قریب بنارسی داس آڈیٹوریم میں ہندو یووا واہنی کی جانب سے منعقدہ دھرم سنسد پروگرام میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ دہلی پولیس کے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ پروگرام میں کسی گروہ، برادری، نسل، مذہب یا عقیدے کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا۔

حلف نامے میں دہلی پولیس نے کہا ہے کہ تقریر میں وہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے، جن سے یہ مطلب نکالا جائے کہ کسی بھی مذہب، ذات یا نسل کے درمیان ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

مدھیہ پردیش: مسلم وفد نے وزیر داخلہ سے ملاقات کی

0

ڈاکٹر مشرا نے وفد سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کی نشاندہی کرنے میں حکومت کا تعاون کریں

بھوپال: مدھیہ پردیش کے دو ضلعوں کے کچھ حصوں میں پھیلے تشدد کے درمیان آج مسلم سماج کے ایک وفد نے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد ڈاکٹر مشرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شہر قاضی کی قیادت میں آئے والے مسلم وفد نے انہیں ایک میمورنڈم سونپا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے مسلم وفد سے ملاقات میں ان کے تمام خدشات کو حل کیا۔ انہیں اس بات پر بھی یقین دلایا کہ بے قصور لوگوں کا استحصال نہیں کیا جائےگا، لیکن قصورواروں کو بخشا بھی نہیں جائےگا۔

ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ انہوں نے وفد سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کی نشاندہی کرنے میں حکومت کا تعاون کریں۔

اس سے پہلے صبح ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ مسجدوں پر سی سی ٹی وی کی بھوپال شہر قاضی کی پہل اچھی ہے۔ اگر کسی قدم سے شبہ دور ہوتا ہے اور باہمی یقین بڑھتا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔

بھوپال کے قاضی اور کئی مسلم تنظیموں نے سماج کے سبھی اراکین سے اپیل کی تھی کہ مسجدوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرا لگوایا جانا چاہئے، تاکہ اگر کوئی سماج دشمن عناصر کوئی حرکت کرے تو اس کا ریکارڈ رہے۔ ڈاکٹر مشرا اسی پہل پر تبصر ہ کررہے تھے۔

کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی: وزیر داخلہ

0
کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی: وزیر داخلہ
کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی: وزیر داخلہ

ڈاکٹر مشرا نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں مقامی سطح پر فیصلہ ہوگا، جیسے حالات ہوں گے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا،جہاں ڈھیل دینی ہوگی، وہاں دیں گے

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے آج کہا کہ کھرگون میں نافذ کرفیو کے سلسلے میں مقامی انتظامیہ فیصلہ کرے گی۔

ڈاکٹر مشرا نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں مقامی سطح پر فیصلہ ہوگا۔ جیسے حالات ہوں گے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔جہاں ڈھیل دینی ہوگی، وہاں دیں گے۔

وزیر داخلہ نے میڈیا میں آئی ان خبروں کی بھی تردید کی کہ تشدد سے دوچار علاقوں میں کئی گھر بکائی ہیں اور لوگ وہاں سے منتقل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی منتقلی کی خبر افواہ ہے۔ جس گھر کا ذکر ہوا ہے اس پر واقعہ کے پہلے بکاؤ لکھا ہوا تھا۔ ضلع میں اس وجہ سے کہیں منتقلی نہیں ہوئی ہے۔

70 لوگ جیل میں، 20 سے زیادہ سے پوچھ تاچھ جاری

تشدد کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ 70 لوگ جیل جا چکے ہیں اور 20 سے زیادہ سے پوچھ تاچھ چل رہی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کئی تہوار آ رہے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے سبھی ضلع الرٹ موڈ پر ہیں۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے احتیاط کے طور پر سبھی وزرا کو اپنے اپنے چارج والے ضلعوں میں نظام پر نظر رکھنے کی ہدایت دی ہیں۔

کھرگون فسادات: ایف آئی آر کے بعد دگوجے کے سوال، کیا جمہوریت ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی

0
کھرگون فسادات: ایف آئی آر کے بعد دگوجے کے سوال، کیا جمہوریت ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی
کھرگون فسادات: ایف آئی آر کے بعد دگوجے کے سوال، کیا جمہوریت ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی

کھرگون فسادات پر اپنے متنازعہ ٹویٹ کے بعد مسٹر سنگھ پر بھوپال، گوالیار، نرمدا پورم اور ستنا میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں

بھوپال: کانگریس کے سینئر رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ نے کھرگون فسادات کے معاملوں میں متنازعہ ٹویٹ کی وجہ سے خود پر کئی مقامات پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سوال کیا ہے کہ کیا اس ملک میں اب سوال پوچھنا گناہ ہوگیا ہے اور کیا جمہوریت اب ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی۔

مسٹر سنگھ نے آج اپنے سلسلے وار ٹویٹ میں کہا، ’’مجھے کھرگون کے فسادات کے سلسلے میں متعدد ویڈیو اور تصویریں ملی تھیں۔ میرے جاننے والوں نے متعدد تصویریں اور ویڈیو کے ساتھ اس تصویر کو بھی شیئر کیا تھا۔ میں نے اپنے ٹویٹ میں اس بنیاد پر کسی بھی مذہبی مقام پر ہتھیار لے کر جھنڈا لگانے کے جواز پر سوال کیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی کی شکایت پر میرے خلاف تمام دفعات میں کیس درج کئے گئے۔

حالانکہ اس تصویر کے بارے میں مجھے جیسے ہی معلومات ملی کہ یہ سال 2017 میں بہار مظفرپور کا ہے، میں نے فوراً اپنا ٹویٹ ڈلیٹ کردیا، لیکن میرے سوال کھرگون فسادات کے بارے میں جوں کے توں رہے۔

ایک طبقے کے خلاف بن رہے ایسے ماحول پر سوال نہیں کرسکتے؟

اس کے بعد مسٹر سنگھ نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ اس ملک میں اب سوال پوچھنا بھی گناہ ہوگیا ہے اور کیا اپوزیشن لیڈر کے طور پر وہ اپنے ملک، ریاست کے عوام کے ایک طبقے کے خلاف بن رہے ایسے ماحول پر سوال نہیں کرسکتے؟

انہوں نے کہا کہ کیا بغیر نوٹس اور بغیر جانچ پرکھ کے اپنے مخالفین پر بلڈوزر حملہ صحیح ہے؟اور کیا جمہوریت اب ایک طرفہ سیاسی نظریے سے ہی چلے گی؟

کھرگون فساد پر اپنے متنازعہ ٹویٹ کے بعد مسٹر سنگھ پر بھوپال، گوالیار، نرمدا پورم اور ستنا میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

دباؤ میں چل رہے شیئر بازار سبز نشان کے ساتھ کھلا

0
دباؤ میں چل رہے شیئر بازار سبز نشان کے ساتھ کھلا
دباؤ میں چل رہے شیئر بازار سبز نشان کے ساتھ کھلا

سبز نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا

ممبئی: دباؤ میں چل رہے شیئر بازار نے بدھ کے روز تیزی کے ساتھ دن کی شروعات کی۔ جہاں بی ایس ای سینسیکس 334.37 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 58910.74 پوائنٹس پر کھلا، وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 69.6 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 17,599.90 پوائنٹس پر کھلا۔

مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا

سبز نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 102.3 پوائنٹس بڑھ کر 25140.01 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 175.77 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29,617.44 پوائنٹس پر کھلا۔

منگل کو بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 388.20 پوائنٹس گر کر 58576.37 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 144.65 پوائنٹس گر کر 17530.30 پوائنٹس پر آگیا تھا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح گزشتہ روز بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں پر بھی فروخت کا غلبہ رہا۔ مڈ کیپ 1.45 فیصد گر کر 25037.71 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.47 فیصد گر کر 29,441.67 پوائنٹس پر رہا تھا۔

مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ

0
مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ
مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ

 مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ دگ وجے سنگھ کا ایک مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے والے نوجوان کی تصویر کے ساتھ کیا گیا ٹویٹ مدھیہ پردیش کا نہیں ہے

بھوپال: کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ایک ٹویٹ کے ساتھ ایک متنازعہ تصویر پوسٹ کرنے کے بعد آج پھر سے سرخیوں میں آگئے، جس پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور دیگر کے ردعمل ظاہر کرنے پر مسٹر دگ وجے نے ٹویٹ ہٹا دیا۔

ٹویٹ میں ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے لکھا ’’کیا تلوار لاٹھی لیکر کسی مذہبی مقام پر جھنڈا لگانا مناسب ہے؟ کیا کھرگون انتظامیہ کو اسلحہ لے کر جلوس نکالنے کی اجازت تھی؟ کیا جنہوں نے پتھر پھینکنے چاہے وہ جس مذہب کے ہوں، سبھی کے گھروں پر بلڈوزر چلیں گے؟ شیوراج مت بھولئے آپ نے غیر جانبدار ہوکر حکومت چلانے کا حلف لیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پوسٹ کئے گئے فوٹوں میں نظر آرہا ہے کہ کچھ بھگوا دھاری نوجوان ہاتھوں میں بھگوا اور تلوار لیکر ایک مذہبی مقام پر جھنڈا لگا رہے ہیں۔

شیوراج کا ردعمل

اس کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ مسٹر سنگھ نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ مدھیہ پردیش کا نہیں ہے۔ مسٹر دگ وجے سنگھ کا یہ ٹویٹ ریاست میں مذہبی جنون پھیلانے کی اور ریاست کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کی سازش ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر دگ وجے سنگھ نے سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی کی بات سنے بغیر کارروائی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک کے کسی قانون یا قاعدے میں بلڈوزر کلچر کی کوئی گنجائش ہے؟ اگر آپ نے غیر قانونی طور پر بلڈوزر چلانا ہے تو مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آئین میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کام کرنا غیر آئینی ہے۔

اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع

0
اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع
اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کی طرف سے دی گئی اطلاعات کے مطابق، پہلے سے طے شدہ انتخابی شیڈول کے تحت سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی

لکھنؤ: اترپردیش میں قانون ساز کونسل کی مقامی اتھارٹی کے انتخابات والے 35 حلقوں کی 36 سیٹوں کے لیے ہو رہے انتخابات میں 27 سیٹوں کے لیے منگل کو ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی۔

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کی طرف سے دی گئی اطلاعات کے مطابق، پہلے سے طے شدہ انتخابی شیڈول کے تحت سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی۔ پولنگ والے 58 اضلاع میں واقع 27 انتخاب حلقوں کے لیے 9 اپریل کو کل 120657 ووٹروں میں سے تقریباً 98 فیصد نے 739 پولنگ اسٹیشنوں پر اپنا ووٹ ڈالا تھا۔

ان نشستوں کے لیے میدان میں موجود کل 95 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج شام ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا۔ واضح رہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی کے اراکین کے علاوہ، گاؤں کی پنچایتوں، بلاک اور میونسپل کارپوریشنوں سمیت تمام اتھارٹیز کے منتخب نمائندے مقامی اتھارٹی کی نشستوں پر ووٹ ڈالتے ہیں۔

نو سیٹوں پر بی جے پی کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب

سی ای او کے دفتر نے واضح کیا کہ جن نو سیٹوں پر ووٹنگ نہیں ہوئی ہے، وہاں صرف ایک امیدوار میدان میں ہے۔ ان تمام نشستوں پر صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کی نامزدگی کی وجہ سے انہیں بلا مقابلہ منتخب قرار دیا گیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ نے ووٹوں کی گنتی کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرانے کے لیے بھرپور تیاریاں کی ہیں۔

انتظامیہ نے گنتی کے مقامات پر کسی قسم کی افراتفری نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات کیے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے لیے الگ الگ انٹری اور ایگزٹ گیٹ بنائے گئے ہیں، تاکہ گنتی کا عملہ اور امیدوار وغیرہ آ سکیں۔

گنتی کی جگہ کے ارد گرد کسی بھی قسم کی گڑبڑ سے بچنے کے لیے بیریئر پوائنٹس اور ٹریفک ڈائیورژن پوائنٹس بنائے گئے ہیں جہاں انتظامات کو سنبھالنے کی ذمہ داری متعلقہ شہر اور انچارج ٹریفک کو دی گئی ہے۔

جن نو سیٹوں پر بی جے پی کو واک اوور ملا

جن نو سیٹوں پر بی جے پی کو واک اوور ملا ہے، ان میں سے مرزا پور-سون بھدرا سیٹ پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے باضابطہ امیدوار رمیش یادو نے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار ونیت سنگھ بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

اسی طرح بداون سیٹ کے لیے ایس پی کے امیدوار ونود کمار شاکیا، غازی پور سیٹ سے بھولا ناتھ شکلا اور ہردوئی سیٹ سے رضی الدین نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔ اس وجہ سے بدایوں سیٹ سے بی جے پی کے وگیش پاٹھک، غازی پور سیٹ سے بی جے پی کے وشال سنگھ چندیل اور ہردوئی سے اشوک اگروال بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانچ کے بعد علی گڑھ ہاتھرس سیٹ پر ایس پی امیدوار جسونت سنگھ کا پرچہ نامزدگی منسوخ ہونے سے بی جے پی کے چودھری رشی پال سنگھ کی جیت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اسی طرح لکھیم پور کھیری سیٹ پر ایس پی کے انوراگ پٹیل اور متھرا ایٹہ مین پوری دونوں سیٹوں پر ایس پی کے امیدواروں کے پرچہ نامزدگی منسوخ کر دیے گئے۔

بلند شہر گوتم بدھ نگر سیٹ پر ایس پی آر ایل ڈی نے مشترکہ امیدوار کھڑا کیا تھا، لیکن آخری وقت میں اس نے اپنا نامزدگی واپس لے کر بی جے پی کے لیے آسانیاں پیدا کر دیں۔

گراوٹ کے ساتھ کھلا ہندوستانی شیئر بازار

0
گراوٹ کے ساتھ کھلا ہندوستانی شیئر بازار
گراوٹ کے ساتھ کھلا ہندوستانی شیئر بازار

گراوٹ کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ میں معمولی کمی اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 0.79 پوائنٹس گر کر 25406.36 پر اور اسمال کیپ 40 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29,920.07 پر کھلا

ممبئی: شیئر بازار منگل کو گراوٹ کے ساتھ کھلا اور کاروبار کے آغاز میں بی ایس ای سینسیکس 221.07 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 58743.50 پوائنٹس پر رہا، وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 90.1 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 17584.85 پوائنٹس پر کھاتہ کھولا۔

گراوٹ کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ میں معمولی کمی اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 0.79 پوائنٹس گر کر 25406.36 پر اور اسمال کیپ 40 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29,920.07 پر کھلا۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس پیر کو 482.61 پوائنٹس گر کر ایک ہفتے سے زیادہ کی نچلی سطح پر 59 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے 58964.57 پوائنٹس پر آ گیا تھا۔

اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی گزشتہ روز 109.40 پوائنٹس گر کر 17674.95 پر رہا تھا۔

این سی پی نے جے این یو میں تشدد کی شدید مذمت کی

0
این سی پی نے جے این یو میں تشدد کی شدید مذمت کی
این سی پی نے جے این یو میں تشدد کی شدید مذمت کی

مہیش بھرت تاپسی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اے بی وی پی کے ذریعے ہمارے سیکولر تعلیمی اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے اور انہوں نے جے این یو کیمپس پر حملہ کیا ہے

اورنگ آباد/ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ریاستی چیف ترجمان مہیش بھرت تاپسی نے پیر کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اے بی وی پی کے ذریعے ہمارے سیکولر تعلیمی اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے اور انہوں نے جے این یو کیمپس پر حملہ کیا ہے۔ اتوار کو ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مسٹر تاپسی نے ایک ریلیز میں کہا کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اے بی وی پی کے کارکن مختلف اداروں کے طلباء پر دائیں بازو کا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اداروں کے سیکولر ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں نے ایک سے بڑھ کر ایک لیڈر، سائنسدان، منتظم اور دیگر ماہرین پیدا کیے ہیں جنہوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ وہ تمام طلباء کسی بھی رسم و رواج اور کھانے کی عادات سے قطع نظر ایک ساتھ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں ہر کوئی برابری کے اصول پر یقین رکھتا ہے اس لیے کوئی بھی کسی خاص رسم یا مذہبی اصول کو پورے معاشرے پر مسلط نہیں کر سکتا۔ ملک میں مختلف برادریوں کے لوگ امن و سکون سے رہتے ہیں۔ ان کے درمیان ظاہر کی گئی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کارکنان پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسٹر تاپسی نے کہا کہ بی جے پی سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنا چاہتی ہے اور ہندوستانی آئین کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں آمرانہ، اکثریتی حکمرانی لانا چاہتی ہے جو ہندوستانی آئین کے خلاف ہے۔