ہفتہ, اپریل 11, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 238

قربانی کے جانوروں کا قاتل نوجوان بھیونڈی میں گرفتار

0
قربانی کے جانوروں کا قاتل نوجوان بھیونڈی میں گرفتار
قربانی کے جانوروں کا قاتل نوجوان بھیونڈی میں گرفتار

موصلہ اطلاعات کے مطابق بھیونڈی شہر گذشتہ دنوں تھانے ضلع کے بھیونڈی شہر میں کھاڑی پار پل کے قریب بندر محلہ میں وسیم مومن اور ارحم مومن نامی دونوں جوان ایک طبیلے میں مویشی پالن کا کاروبار کرتے تھے

ممبئی: ممبئ سے قریب گنجان مسلم آبادی والے شہر بھیونڈی میں قربانی کے لئے پرورش کئے جانے والے 22 جانوروں کی نسیں شریانیں کاٹ کر انھیں قتل کرنے کے الزم میں پولیس نے آج ایک مسلم نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ اور قتل کا مقصد آپسی دشمنی بتلائی گئی ہے جبکہ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور شہر میں امن کو قائم رکھے21

موصلہ اطلاعات کے مطابق بھیونڈی شہر گذشتہ دنوں تھانے ضلع کے بھیونڈی شہر میں کھاڑی پار پل کے قریب بندر محلہ میں وسیم مومن اور ارحم مومن نامی دونوں جوان ایک طبیلے میں مویشی پالن کا کاروبار کرتے تھے۔

گزشتہ ہفتے معمول کے مطابق ارحم مومن جب صبح اپنے طبیلے پہنچے تو انھوں نے ایک دردناک منظر دیکھا اور طبیلے میں پرورش پارہی بھینسوں اور پاڑوں کی کسی نے نسیں کاٹ دی تھی۔ جس کے سبب کئی ایک بھینس موقعہ واردات پر ہی ہلاک ہوگئی تھی بقیہ شدید زخمی حالات میں تھی جو دو دنوں کے اندر زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئی۔ معاملے کی شکایت مقامی نظام پورہ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ اطراف میں کوئی سی سی ٹی کیمرہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی طبیلے میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تھے۔

اپنے نوعیت کے ایک عجیب و غریب واردات میں اہلیان بھیونڈی کو خوف و دہشت کے ماحول میں مبتلا کردیا تھا اور طرح طرح کی افواہیں گشت کررہی تھی اور یہ عام خیال تھا کہ کہی شرپسند عناصر نے عیدالاضحیٰ کے قبل شہر کے ماحول کو خراب کرنے کی نیت سے تو یہ واردات نہیں انجام دی ہو۔

محض پانچ ہزار روپیہ کے عوض ملزم نے یہ کام انجام دیا

اس تعلق سے مقامی ڈپٹی پولیس کمشنر یوگیش چوہان سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے بتلایا کہ ہم نے ہر پہلو سے اس معاملے کی تفتیش کا آغاز کیا تھا مخبروں کا جال بھی بچھلایا تھا۔ لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی بلآخر جب چند مشکوک افراد کے موبائل فون کی تفصیلات حاصل کی گئی تو یہ پتہ چلا کہ آپسی دشمنی کے سبب محض پانچ ہزار روپیہ کو لیکر ملزم فاضل رفیق قریشی نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ نصب شب تین بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیان طبیلے میں داخل ہوکر جانوروں کو بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر تیزدھار والے ہتھیار سے ان کے پیروں کی نسیں کاٹ دی جو ان کے موت کا سبب بنی۔

آج ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جس میں اسے تین دنوں کی پولیس تحویل میں دینے کا حکم صادر کیا گیا۔ اس تعلق سے مومن برادران کے وکیل سفیان مومن نے بتلایا کہ پولیس نے جن دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اس میں زیادہ تر کی نوعیت قابل ضمانت تھی لہذا انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس گھنائونے جرم کا ارتکاب کرنے والے ملزم پر ناقابل ضمانت دفعات کا اطلاق کیا جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا اور ملزم کو پولیس تحویل میں بھیج دیا۔

اس تعلق سے سابق میونسپل کائونسلر اور بھیونڈی شہر کانگریس کی نائب صدر رخسانہ قریشی نے بتلایا کہ اس سانحہ کے بعد اہلیان بھیونڈی تشویش میں مبتلا تھے اور طرح طرح کی افواہیں گشت کررہی تھی۔ لہذا انھوں نے شہر کی مختلف گلیوں کا دورہ کرکے امن قائم رکھنے کی اپیل کی تھی جس کہ مثبت نتائج سامنے آئے اور ملزم کی پولیس کی اننتھک محنتوں سے گرفتار ی عمل میں آئی۔

وارانسی: گیان واپی انتظامیہ کمیٹی کا پولیس کمشنر سے قیام امن کی اپیل

0
وارانسی: گیان واپی انتظامیہ کمیٹی کا پولیس کمشنر سے قیام امن کی اپیل
وارانسی: گیان واپی انتظامیہ کمیٹی کا پولیس کمشنر سے قیام امن کی اپیل

کمیٹی کے ذمہ داران ایس ایم یاسین نے بتایا کہ کمیٹی کے وفد نے پولیس کمشنر سے گیان واپی معاملے کے پیش نظر شہر میں آپسی ہم آہنگی اور امن و امان کو قائم رکھنے کی اپیل کی ہے

وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گیان واپی مسجد کا انتظام کر رہی انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے اراکین نے ہفتہ کو وارانسی ڈویژن کے پولیس کمشنر اے ستیش گنیش سے ملاقات کر کے شہر میں نظم و نسق، بھائی چارہ اور امن و امان کی بحال کی اپیل کی۔

کمیٹی کے ذمہ داران ایس ایم یاسین نے بتایا کہ کمیٹی کے وفد نے پولیس کمشنر سے گیان واپی معاملے کے پیش نظر شہر میں آپسی ہم آہنگی اور امن و امان کو قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ خاص کر آنے والے دنوں میں تیوہاروں کی آمد کو دیکھتے ہوئے پولیس کمشنر نے سماجی عناصر پر باریک نظر رکھنے کی اپیل کی ہے جو شہر کو امن و امان کے لئے خطرہ ہیں۔

پولیس کمشنر نے وفد سے کہا کہ انہیں اس طرح کی کسی بھی حالت کا پتہ چلنے پر فورا پولیس کو مطلع کرناچاہئے۔ساتھ ہی انہوں نے کمیٹی سے مسجد احاطے کے سیل کئے گئے وضو خانہ اور دیگر باقیات کی حالت کو برقرار رکھنے کی اپیل کی جس سے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں عدالت کے حکم پر مسجد احاطے کے ویڈیو گرافی سروے کے دوران مسجد کے وضو خانہ میں ایک دائرہ کار پتھر ملا ہے جس کے بارے میں ہندو فریق کا دعوی ہے کہ یہ شیو لنگ ہے۔ جبکہ مسلم فریق اسے وضوخانے کا فوارہ بتارہا ہے۔

سپریم کورٹ میں گیان واپی پر ہندو فریق کا تحریری جواب، متنازعہ جگہ مسجد نہیں، مندر ہے

0
سپریم کورٹ میں گیان واپی پر ہندو فریق کا تحریری جواب، متنازعہ جگہ مسجد نہیں، مندر ہے
سپریم کورٹ میں گیان واپی پر ہندو فریق کا تحریری جواب، متنازعہ جگہ مسجد نہیں، مندر ہے

ہندو فریق نے گیان واپی پر سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ متنازعہ جگہ مسجد نہیں بلکہ بھگوان کی ملکیت ہے

نئی دہلی: سپریم کورٹ وارانسی میں گیان واپی مسجد تنازعہ پر جمعہ کو سہ پہر 3 بجے سماعت کرے گی۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی قیادت والی بنچ کے سامنے اس متنازع ایشو پر سماعت ہوگی۔ بینچ نے جمعرات کو سماعت ملتوی کرتے ہوئے جمعہ کو سہ پہر 3 بجے سماعت کا حکم دیا تھا۔

دریں اثنا، ہندو فریق نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ متنازعہ جگہ مسجد نہیں بلکہ بھگوان کی ملکیت ہے۔

ہندوستان میں اسلامی حکومت سے ہزاروں سال پہلے یہ جائیداد بھگوان ’آدی وشویشور‘ کی تھی اور یہ کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ صدیوں سے لوگ اس مقام پر ہندو رسومات کے بعد پریکرما کرتے آرہے ہیں۔

ہندو فریق کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اورنگ زیب کے حکمران نے اس مندر کی جائیداد پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔ اس قبضے سے مسلمانوں کو جائیداد پر حق نہ مل سکتا اور یہ کہ اورنگ زیب نے کوئی وقف قائم نہیں کیا تھا۔

ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے یہ ’حقائق‘ عدالت میں انجمن انتظامیہ مسجد، وارانسی کی انتظامی کمیٹی کی درخواست پر سماعت سے پہلے پیش کی۔

جین نے ایک تحریری جواب داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اصل مندر کو جزوی طور پر منہدم کر دیا گیا تھا اور باقی ڈھانچے اور سامان کو استعمال کرتے ہوئے ایک تعمیر کی گئی تھی اور اسے ‘گیانواپی مسجد’ کا نام دیا گیا تھا۔ جواب میں دعویٰ کیا گیا کہ دیوتا کمپلیکس کے اندر مرئی اور غیر مرئی شکل میں موجود ہے اور یہ ایک پرانا مندر ہے۔

ہندو فریق کا موقف ہے کہ 15 اگست 1947 کو زیر بحث جائیداد ہندو مندر کی نوعیت کی تھی کیونکہ وہاں ہندو دیوتاؤں اور دیگر متعلقہ دیوتاؤں کی تصاویر موجود تھیں اور ان کی پوجا کی جاتی تھی۔

جمعہ کو اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز

0
جمعہ کو اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز
جمعہ کو اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز

سبز نشانات کے ساتھ اوپن اسٹاک مارکیٹ میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ درج کیا۔ بی ایس ای کامڈ کیپ 325.16 پوائنٹس بڑھ کر 22394.89 پوائنٹس اور اسمال کیپ 26104.01 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 26104.01 پوائنٹس پر کھلا

ممبئی: دباؤ کا شکار اسٹاک مارکیٹ نے جمعہ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا۔ ابتدائی گھنٹے میں، بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) سینسیکس میں 1100 سے زیادہ پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے نفٹی تقریبا 350 پوائنٹس کا اچھال نظر آیا۔

اس دوران، بی ایس ای میں اہم 30 کمپنیوں میں سے تمام کمپنیاں تیزی پر کاروبار کرتی نظر آئیں۔ جس میں ڈاکٹر ریڈی – 4.75 فیصد، نیشنلائنڈ – 3.39 فیصد اور ٹاٹا اسٹیل – 3.17 فیصد اضافے کے ساتھ آگے رہیں۔

بی ایس ای سینسیکس آج 721.74 پوائنٹس بڑھ کر 53513.97 پوائنٹس اور این ایس ای نفٹی 234.4 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 16043.80 پوائنٹس پر کھلا۔

سبز نشانات کے ساتھ اوپن اسٹاک مارکیٹ میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ درج کیا۔ بی ایس ای کامڈ کیپ 325.16 پوائنٹس بڑھ کر 22394.89 پوائنٹس اور اسمال کیپ 26104.01 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 26104.01 پوائنٹس پر کھلا۔

بی ایس ای سینسیکس جمعرات کو 1416.30 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 53 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 52792.23 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 430.90 پوائنٹس لڑھک کر 16 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 15809.40 پوائنٹس پر رہا تھا۔

2024 کا انتخابی اسٹیج تیار مگر کیا ایجنڈا ہوگا بیروزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل؟

0
2024 کا انتخابی اسٹیج تیار مگر کیا ایجنڈا ہوگا بیروزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل؟
2024 کا انتخابی اسٹیج تیار مگر کیا ایجنڈا ہوگا بیروزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل؟

2024 کے عام انتخابات کے لیے اسٹیج تیار ہے، مگر آپ یہ بھول جائیں کہ بیروزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسئلےانتخابی موضوع ہوں گے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

اب اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں عوامی مسائل بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ بیروزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل پہاڑ جیسے کیوں نہ ہو جائیں، نہ تو حکومت اور نہ ہی مین اسٹریم میڈیا کی ترجیحات میں اب ان کی کوئی حیثیت ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہے کہ جن لوگوں کے ووٹوں سے بی جے پی نے، یا یوں کہیں کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے مسند اقتدار حاصل کی ہے، انہی کی مرضی کے مطابق کام کئے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے ایک بڑے طبقے کو بھی حکومت کی ترجیحات اور عوام کی خواہشات کا بخوبی اندازہ ہے۔

اسی لیے ملک میں بیروزگاری کتنی بڑھ رہی ہے، اس کو دیکھنے کے بجائے تاج محل کے نیچے مندر تلاش کیا جا رہا ہے۔ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، اس کی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے گیان واپی مسجد میں مندر کے باقیات تلاش کئے جا رہے ہیں۔ اسپتالوں میں ناقص طبی سہولیات کے سد باب کی بجائے متھرا کی عید گاہ میں مندر نظر آرہا ہے۔ اسکولوں میں تعلیمی نظام درہم برہم ہے، اس میں سدھار کی بجائے قطب مینار میں ’استمبھ‘ دکھایا جا رہا ہے۔ غرض یہ کہ عام لوگ بھلے ہی بنیادی مسائل سے آہ و بکا کر رہے ہوں، لیکن 2014 کے بعد سامنے آئی نئی مخلوق ’بھکتوں اور ’گودی میڈیا‘ کی ترجیحات اور خواہشات کچھ اور ہی ہیں۔

 عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ سیاست

بی جے پی کے لیڈران کو بخوبی معلوم ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے وہ فرقہ وارانہ سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں اور انھیں کامیابی بھی ملتی جا رہی ہے تو ظاہر ہے وہ انہی کی خواہش کے مطابق کام کر یں گے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 کے لیے بی جے پی نے اسٹیج تیار کر لیا ہے۔ کیوں کہ بی جے پی اعلی قیادت کو اس کی مرض کے مطابق موضوع مل گیا ہے، یا پھر موضوع بنا دئے گئے ہیں۔ گودی میڈیا کے اسٹوڈیوز اور اخبارات کے صفحات کے لیے فرقہ وارانہ مواد تیار ہے۔ سخت گیر اور مسلم مخالف طاقتوں نے بھی 2024 کے لیے اپنے ارادے ظاہر کر دئے ہیں۔

پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف پچھلے تقریباً دو ماہ سے اور خاص طور پر رمضان سے شروع ہوا طوفان بد تمیزی روز نئی نئی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔کرناٹک اور مدھیہ پردیش سے لے کر گجرات، راجستھان، جھارکھنڈ اتراکھنڈ اور بنگال وغیرہ تک مسلمانوں کی عبادتوں میں خلل ڈالا گیا، انھیں عبادت سے روکا گیا، ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا، وہی مظلوم اور وہی ظالم ٹھہرائے گئے۔ مسلمان حکومتوں سے تو انصاف کی امید چھوڑ ہی چکے تھے، عدالتوں سے بھی مایوسی ہاتھ لگی۔

تاج محل کے تعلق سے عدالت نے سخت رخ اختیار کیا

ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ یکے بعد دیگرے تاج محل سے لے کر قطب مینار تک اور متھرا کی عید گاہ سے لے کر بنارس کی گیان واپی مسجد تک کو سلسلہ وار طریقے سے عدالتوں میں کھینچ لیا گیا۔ تاج محل کے تعلق سے تو عدالت نے سخت رخ اختیار کیا اور عرضی گزار کی سخت سرزنش کی۔ تاج محل میں موجود کمروں کو کھولنے کی عرضی داخل کر نے والے بی جے پی لیڈرکو ہائی کورٹ نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ تاج محل کی تاریخ پڑھیں اور اس پر تحقیق کریں کہ تاج محل کس نے اور کب بنوایا تھا۔ آپ کے مطابق تاریخ کو نہیں پڑھایا جا سکتا۔

عدالت نے پہلی ہی سماعت کے دوران رٹ کو خارج کرنے کا فیصلہ بھی دے دیا۔ ایودھیا ضلع کے بی جے پی کے میڈیا انچارج ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے 7 مئی کو ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی تھی، جس میں انھوںنے تاج محل کے 22 کمروں کو کھولنے اور تاج محل کا سروے کرانے کے لیے کمیٹی تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ و اضح رہے کہ تاج محل کے تہہ خانہ میں واقع کمرے گزشتہ پچاس سال سے لوہے کے جال لگا کر بند کردئے گئے ہیں، مگر اے ایس آئی کی ٹیم کی نگرانی میں مرمت کے لیے ان کو کھولا جاتا رہا ہے۔ عرضی گزار نےدعویٰ کیا تھاکہ تاج محل کے ان بند کمروں میں ہندو دیوی دیوتائوں کی مورتیاں موجودہیں۔ جس کاسروے کرکے اس کی حقیقت کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ راجستھان سے بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ دیا کماری نے بھی مضحکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل ان کی زمین پر تعمیر ہوا ہے۔ تاج محل سے قبل وہ تیجو محل تھا، جس پر شاہ جہاں نے قبضہ کر لیا تھا۔ اسی طرح قطب مینار، متھرا کی عیدگاہ اور گیان واپی مسجد کے معاملے بھی عدالتوں میں ہیں۔ گیان واپی مسجد کے تعلق سے 16 مئی کو جس طرح کی سرگرمی دیکھی گئی اور یکطرفہ موقف کو پورے دعوے کے ساتھ میڈیا اور مقامی عدالت نے پیش کیا، وہ اس کے نتیجوں کا اشارہ ہے۔

سروے رپورٹ پیش ہونے سے قبل ہی یہ دعویٰ کیا گیا کہ مسجد کے حوض میں شیو لنگ ملا ہےاوراس کی بنیاد پر مقامی عدالت نے مسجد کے متعلقہ حصے کو سیل کرنےکا حکم بھی دے دیا۔جبکہ مسلم فریق کے مطابق حوض کے فوارہ کو ہی شیو لنگ قرار دیا گیاہے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ سروے کرنے والی ٹیم نے اپنی رپورٹ ابھی عدالت میں پیش بھی نہیں کی تھی اور رپورٹ دیکھے بغیر ہی ضلع مجسٹریٹ کی عدالت نے ہندو فریق کے اس دعوے پر کہ مسجد میں مذہبی علامت ملی ہے، حوض اوراس کے اطراف کے حصے کو سیل کرنے کا حکم دےدیا۔

اس سے پہلے عدالت نے حکم دیا تھا کہ 17 تاریخ کو عدالت میں رپورٹ پیش ہوگی۔ اس پر سوال تو کیا ہی جا سکتا ہے کہ رپورٹ پیش ہونے سے پہلے ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کی بات باہر کیسے پہنچی۔اس کے علاوہ سروے کے فوراً بعد 12 بجے رٹ بھی داخل ہو گئی اور عدالت سے حکم بھی جاری ہوگیا کہ شیولنگ کی حفاظت کی جائےاور مسجد میں صرف 20 نمازیوں کے نماز پڑھنے کی قید بھی لگا دی گئی۔ حالانکہ منگل کو سپریم کورٹ سے کچھ راحت ضرور ملی، مگر اس کا رخ بھی بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ کیوں کہ مقامی عدالت کے اس حکم کو برقرار رکھا ، جس میں مسجد میں شیو لنگ ملنے کے دعوے اور اس علاقے کو سیل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کا مذہبی سرگرمیوں کے لیے مسلمانوں کا داخلہ بند نہ کرنے کا حکم

وہیں سپریم کورٹ نے نماز یا مذہبی سرگرمیوں کے لیے مسلمانوں کا داخلہ بند نہ کرنے کا حکم سنایا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمی نے مسجد کمیٹی کی درخواست پر ہندو فریق کو نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ یوپی حکومت، بنارس کے ڈی ایم، پولیس کمشنر اور شری کاشی وشوناتھ مندر کے بورڈ کے تمام ٹرسٹیوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ تو عدالتوں کی کارروائی ہے، جس میں اب 2024 تک لوگ الجھے رہیں گے۔

اسے ملک کا المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ملک کے عوام، حکومتیں، عدلیہ اور میڈیا سبھی ایسے غیر ضروری مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں، جن کا ملک کی ترقی و خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیوں کہ عوام کو نہ تو اپنے مستقبل کی فکرہے اور نہ ہی روزگار اور بنیادی ضروریات کی۔ اسی لیے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنی ترجیحات بھی طے کر لی ہیں۔

اب ان کے ایجنڈے میں عوامی مسائل کہیں نظر نہیں آتے۔وہ بہت آسانی کے ساتھ وہ لوگوں کے ذہنوں کو ماؤف کر دینے، ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دینے اور مسائل کونظر انداز کر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک عوام کی آنکھوں پر پردہ پڑا رہے گا اور ان کا ذہن سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری رہے گا،حکمراں اپنی سیاسی بساط یوں ہی بچھاتے چلے جائیں گے۔ یہ نہ عوام کے حق میں ہے اور نہ ہی ملک کے مستقبل کے لیےنیک شگون ہے۔ آج بھلے ہی ہمیں اس کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں، لیکن اشارے ضرور مل رہے ہیں کہ اگر ایسے ہی سب چلتا رہا تو ہندوستان کا مستقبل بہت زیادہ تابناک نہیں ہے۔ پھر بھی ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بقول شاعر؎

یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں
کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

گیان واپی مسجد: شیولنگ کی حفاظت کی جائے، نماز میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے: سپریم کورٹ

0
گیان واپی مسجد: شیولنگ کی حفاظت کی جائے، نماز میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے: سپریم کورٹ
گیان واپی مسجد: شیولنگ کی حفاظت کی جائے، نماز میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پانچ خواتین کو نوٹس جاری کیا جنہوں نے راکھی سنگھ کی قیادت میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ ان خواتین نے وارانسی کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اتر پردیش کے وارانسی میں کاشی وشواناتھ مندر سے متصل گیان واپی مسجد کمپلیکس میں اس علاقے کی حفاظت کرے جہاں ہندوؤں کے مطابق ایک ‘شیولنگ پایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ وہاں کسی مسلمان کو نماز پڑھنے سے نہیں روکا جائے گا اور نہ ہی کوئی رکاوٹ ڈالی جائے گی۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی ڈیویژن بنچ نے متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کو ہدایات جاری کیں۔

سپریم کورٹ نے پانچ خواتین کو نوٹس جاری کیا جنہوں نے راکھی سنگھ کی قیادت میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ ان خواتین نے وارانسی کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی۔

سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی سماعت 19 مئی کو کرے گی۔

گیان واپی معاملے میں فرائض کی انجام دہی میں لاپرواہی برتنے کی وجہ سے ہٹائے گئے ایڈوکیٹ کمشنر

0
گیان واپی معاملے میں فرائض کی انجام دہی میں لاپرواہی برتنے کی وجہ سے ہٹائے گئے ایڈوکیٹ کمشنر
گیان واپی معاملے میں فرائض کی انجام دہی میں لاپرواہی برتنے کی وجہ سے ہٹائے گئے ایڈوکیٹ کمشنر

وارانسی میں گیان واپی مسجد احاطے کی ویڈیو گرافی سروے کرائے جانے کے معاملے میں مقامی عدالت نے ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو کام میں لاپرواہی برتنے کے الزام میں فوری اثر سے ہٹا دیا

وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گیان واپی مسجد احاطے کی ویڈیو گرافی سروے کرائے جانے کے معاملے میں مقامی عدالت نے منگل کو ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو کام میں لاپرواہی برتنے کے الزام میں فوری اثر سے ہٹا دیا۔

سروے رپورٹ اب خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ اپنے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کمشنر کے تعاون سے عدالت میں پیش کریں گے۔ اس کے لئے انہیں دو دنوں کا اضافی وقت دیا گیا ہے۔ سول جج (سینئر ڈویژن) روی کمار دیواکر کی عدالت نے ویڈیو گرافی سروے کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ اور اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کمشنر اجئے پرتاپ سنگھ کو دو دن کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے دونوں کو یہ سروے رپورٹ 19 مئی تک عدالت کے سامنے پیش کرنے کو کہا ہے۔

آج سماعت میں عدالت نے وشا سنگھ کے ذریعہ پیش کی گئی عرضٰ میں مشرا کے ذریعہ تعاون نہ کرنے اور ذاتی کیمرہ میں رکھ کر اس کے ذریعہ سے ویڈیو گرافی کی جانکاریاں میڈیا کو دینے کی شکایت پر مشرا کو عہدے سے ہٹا دیا۔ آج کی سماعت میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے سرکاری وکیل اور مدعی فریق کے وکیل نے اپنی عرضیاں پیش کیں جن پر عدالت نے متعلقہ فریقین سے ان کا موقف طلب کیا ہے۔

سرکاری وکیل نے اپنی عرضی میں وضو خانے (حوض) میں پانی کی دستیابی اور پاس میں واقع بیت الخلاء کا راستہ بند ہونے کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ وضو خانہ (حوض) میں پانی کی کمی سے مچھلیوں کے مرنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں عدالت سے ضروری احکامات جاری کرنے کی اپیل کی۔

مبینہ شیولنگ اور اس کے آس پاس کے مقام کا نیا سروے کرائے جانے کی اپیل

دوسری جانب مدعی فریق کی جانب سے نندی کے سامنے اور وضو خانہ (حوض) کے نزدیک روکاٹ ہٹانے کے لئے عدالت میں عرضی دی گئی۔ مدعی نے عدالت کو بتایا کہ وضو خانہ کے نزیک ایک اور تہہ خانہ ہے اور وہاں ملبہ جمع ہے۔ فریق نے مبینہ شیولنگ اور اس کے آس پاس کے مقام کا نیا سروے کرائے جانے کی بھی اپیل کی۔ ان درخواستوں پر عدالت نے دوسرے فریق سے اپنا اعتراض داخل کرنے کو کہا ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ 18 مئی مقرر کی گئی ہے۔

عدالت نے اس سے پہلے نامزد کئے گئے ایڈوکیٹ کمشنر اجئے کمار مشرا کے طرز عمل پر تلخ تبصرہ کیا۔ اسپیشل ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ نے بھی اجئے مشرا کے طرز عمل پر اعتراض کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اجئے مشرا کو عہدے سے ہٹا دیا۔ عدالت کے حکم کے مطابق 12مئی کے بعد کے تمام سروے کاروائی کی رپورٹ خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر اپنے دستخط سے داخل کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ مسلم فریق نے اجئے مشرا پر تفریق برتنے کا الزام لگایا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے 12مئی کو خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ کو نامزد کیا تھا۔ ان کے معاون کے طور پر اجئے پرتاپ سنگھ کو معاون ایڈوکیٹ کمشنر نامزد کیا گیا تھا۔

گیان واپی مسجد: سروے رپورٹ کی بنیاد پر وضو خانہ کو بند کرنے کی ہدایت سراسر ناانصافی، مسلمان اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتے: مسلم پرسنل لاء بورڈ

0
گیان واپی مسجد: سروے رپورٹ کی بنیاد پر وضو خانہ کو بند کرنے کی ہدایت سراسر ناانصافی، مسلمان اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتے: مسلم پرسنل لاء بورڈ
گیان واپی مسجد: سروے رپورٹ کی بنیاد پر وضو خانہ کو بند کرنے کی ہدایت سراسر ناانصافی، مسلمان اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتے: مسلم پرسنل لاء بورڈ

بنارس کے سول کورٹ نے پہلے تو گیان واپی مسجد کے سروے کا حکم جاری کردیا اور پھر اس کی رپورٹ قبول کرتے ہوئے وضوء خانہ کے حصہ کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا، یہ کھلی ہوئی زیادتی ہے اور قانون کی خلاف ورزی ہے، جس کی ایک عدالت سے ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا ہے کہ گیان واپی مسجد بنارس، مسجد ہے اور مسجد رہے گی، اس کو مندر قرار دینے کی کوشش، فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی حقائق کے خلاف اور قانون کے مغائر ہے، ۷۳۹۱ء میں دین محمد بنام اسٹیٹ سکریٹری میں عدالت نے زبانی شہادت اور دستاویزات کی روشنی میں یہ بات طئے کردی تھی کہ یہ پورا احاطہ مسلم وقف کی ملکیت ہے اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کا حق ہے۔ عدالت نے یہ بھی طئے کردیا تھا کہ متنازعہ اراضی کا کتنا حصہ مسجد ہے اور کتنا حصہ مندر ہے، اسی وقت وضوء خانہ کو مسجد کی ملکیت تسلیم کیا گیا۔ پھر ۱۹۹۱ء میں (Places of Worship Act 1991) پارلیمینٹ سے منظور ہوا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۷۴۹۱ء میں جو عبادت گاہیں جس طرح تھیں ان کو اسی حالت پر قائم رکھا جائیگا۔

2019ء میں بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے بہت صراحت سے کہا کہ اب تمام عبادت گاہیں اس قانون کے ما تحت ہوں گیں اور یہ قانون دستور ہند کی بنیادی اسپرٹ کے مطابق ہے۔ اس فیصلہ اور قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ مسجد کے شبہ میں مندر ہونے کے دعوی کو عدالت فورا (خارج) رد کردیتی، لیکن افسوس کہ بنارس کے سول کورٹ نے اس مقام کے سروے اور ویڈیو گرافی کا حکم جاری کردیا، تاکہ حقائق کا پتہ چلایا جا سکے، وقف بورڈ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ سے رجوع کرچکا ہے اور ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ زیر کارروائی ہے۔

سول کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

انہوں نے کہا کہ اسی طرح گیان واپی مسجد کی انتظامیہ بھی سول کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی یہ مسئلہ زیر سماعت ہے، لیکن ان تمام نکات کو نظر انداز کرتے ہوئے سول عدالت نے پہلے تو سروے کا حکم جاری کردیا اور پھر اس کی رپورٹ قبول کرتے ہوئے وضوء خانہ کے حصہ کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔ یہ کھلی ہوئی زیادتی ہے اور قانون کی خلاف ورزی ہے، جس کی ایک عدالت سے ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی۔

عدالت کے اس عمل نے انصاف کے تقاضوں کو مجروح کیا ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر اس فیصلہ پر عمل آوری کو روکے، الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کرے اور ۱۹۹۱ء کے قانون کے مطابق تمام مذہبی مقامات کا تحفظ کرے۔ اگر ایسی خیالی دلیلوں کی بناء پر عبادت گاہوں کی حیثیت بدلی جائے گی تو پورا ملک افرا تفری کا شکار ہوجائیگا، کیونکہ کتنے ہی بڑے بڑے مندر بودھ اور جینی عبادت گاہوں کو تبدیل کرکے بنائے گئے ہیں اور ان کی واضح علامتیں موجود ہیں۔ مسلمان اس ظلم کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہر سطح پر اس نا انصافی کا مقابلہ کرے گا۔

نیٹو میں شمولیت بھاری غلطی ثابت ہوگی: پیوتن

0
نیٹو میں شمولیت بھاری غلطی ثابت ہوگی: پیوتن
نیٹو میں شمولیت بھاری غلطی ثابت ہوگی: پیوتن

بی بی سی کی خبر کے مطابق، مسٹر پوتن نے ہفتے کے روز فن لینڈ کے صدر ساؤلی نینسٹو سے ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ فن لینڈ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے

ہیلسنکی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے فن لینڈ کو خبردار کیا ہے کہ اپنے غیر جانبدارانہ موقف کو ترک کر کے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) میں شمولیت اس کی طرف سے بہت بھاری غلطی ہوگی۔

بی بی سی کی خبر کے مطابق، مسٹر پوتن نے ہفتے کے روز فن لینڈ کے صدر ساؤلی نینسٹو سے ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ فن لینڈ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے بعد کریمپلن نے کہا کہ روسی رہنما نے کہا کہ "فوجی غیر جانبداری کی روایتی پالیسی کو ختم کرنا” غلطی ہوگی کیونکہ فن لینڈ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ملک کے سیاسی رجحان میں اس طرح کی تبدیلی روس اور فن لینڈ کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جو گزشتہ برسوں کے دوران شراکت داروں کے درمیان اچھی ہمسائیگی اور تعاون کے جذبے سے پروان چڑھے ہیں۔”

اسی دوران فن لینڈ کے صدر نینیستو نے پیوتن کو بتایا کہ روس کے حالیہ اقدامات، بشمول یوکرین کے خلاف کارروائی، نے فن لینڈ میں سیکورٹی کے ماحول کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت سیدھی اور سادہ تھی اور یہ بغیر کسی اشتعال کے کی گئی۔ تناؤ سے بچنا اہم سمجھا جاتا ہے۔” فن لینڈ کے علاوہ سویڈن نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے نیٹو میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ہندوستان نے پہلی بار تھامس کپ جیت کر تاریخ رقم کی

0
ہندوستان نے پہلی بار تھامس کپ جیت کر تاریخ رقم کی
ہندوستان نے پہلی بار تھامس کپ جیت کر تاریخ رقم کی

ہندوستان نے پہلے تینوں میچ جیت کر تھامس کپ جیت لیا۔ لکشیا سین اور کدامبی سری کانت نے سنگلز میچ جیتا اور ستوک سائراج رینکی ریڈی اور چراغ شیٹی نے ڈبلز میچ جیتا

بنکاک: ہندوستان نے خطابی مقابلے میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے اتوار کو انڈونیشیا کو 3-0 سے شکست دے کر باوقار مردوں کا بیڈمنٹن ٹیم مقابلہ تھامس کپ پہلی بار جیت لیا۔

ہندوستان نے پہلے تینوں میچ جیت کر تھامس کپ جیت لیا۔ لکشیا سین اور کدامبی سری کانت نے سنگلز میچ جیتا اور ستوک سائراج رینکی ریڈی اور چراغ شیٹی نے ڈبلز میچ جیتا۔

ہندوستان نے جمعہ کو تاریخ رقم کی جب اس نے ڈنمارک کو 3-2 سے شکست دے کر پہلی بار تھامس کپ کے فائنل میں جگہ بنائی۔

ہندوستانی ٹیم اس سے قبل 1952، 1955 اور 1979 میں سیمی فائنل میں پہنچی تھی۔

نوجوان شٹلر لکشیا سین نے پہلے میچ میں عالمی نمبر پانچ انتھونی گنٹنگ کو شکست دی۔ لکشیا نے گنٹنگ کے خلاف 8-21، 21-17، 21-16 سے جیت درج کی۔ یہ عالمی نمبر 5 شٹلر کے خلاف ان کی مسلسل دوسری جیت تھی۔ 20 سالہ ہندوستانی نے اس سال کے شروع میں جرمن اوپن راؤنڈ آف 16 میں گنٹنگ کو سیدھے گیمز میں 21-9، 21-9 سے شکست دی تھی۔ گنٹنگ نے پہلا گیم 21-8 سے جیتا، جس کے بعد لکشیا نے دوسرا گیم 21-17 سے جیت کر 1-1 سے برابر کر دیا۔

انڈونیشیا کے گنٹنگ نے ابتدائی لمحات میں 11-7 کی برتری حاصل کی

فیصلہ کن میچ میں انڈونیشیا کے گنٹنگ نے ابتدائی لمحات میں 11-7 کی برتری حاصل کی، لیکن لکشیا نے لگاتار پانچ پوائنٹس کے ساتھ واپسی کرتے ہوئے گیم کو 12-12 پر لا کھڑا کیا۔ لکشیا نے میچ کے آخری لمحات میں گنٹنگ پر پوری طرح غلبہ حاصل کرلیا اور میچ 21-17 سے جیت لیا۔

ہندوستان کی بیڈمنٹن مینز ڈبلز جوڑی ستوک سائراج رینکی ریڈی اور چراغ شیٹی نے ڈبلز میچ میں محمد احسن اور کیون سنجے سوکامالوجو کی جوڑی کے خلاف جیت درج کر کے ہندوستان کی برتری 2-0 کر دی۔ ساتوک اور چراغ نے یہاں امپیکٹ ایرینا میں ایک گھنٹہ اور 13 منٹ کے سنسنی خیز مقابلے میں احسن اور سوکامالوجی پر 18-21، 23-21، 21-19 سے جیت درج کی۔

انڈونیشیا کے احسن اور سوکامالوجو نے ابتدائی گیم 17 منٹ میں 21-18 سے جیت لیا۔ دوسرے گیم میں ہندوستانی جوڑی نے کھیل کے وسط تک 11-6 کی برتری حاصل کی۔ وقفے کے بعد انڈونیشیا نے واپسی کی اور 14-18 سے آگے تھی، لیکن ہندوستان نے انہیں 23-21 سے شکست دی۔ فیصلہ کن کھیل میں سخت مقابلہ ہوا اور دونوں ٹیمیں ایک موقع پر 16-16 سے برابر تھیں، لیکن ہندوستان نے منفرد کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ جیت کر انڈونیشیا پر 2-0 کی برتری حاصل کی۔