جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 234

بیرون ملک شدید تنقید کے بعد بی جے پی نے کہا، پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے

0
بیرون ملک شدید تنقید کے بعد بی جے پی نے کہا، پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے
بیرون ملک شدید تنقید کے بعد بی جے پی نے کہا، پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے

بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے آج یہاں ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں پارٹی کے حامیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مذاہب اور فرقوں کا احترام کریں اور کسی دوسرے مذہب اور اس کے پیروکاروں کی تذلیل یا توہین کرنے کی کوشش نہ کریں

نئی دہلی: وارانسی، کانپور اور دیگر مقامات پر بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اتوار کو کہا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہب یا اس کے پیروکاروں کی توہین کرنے کے خلاف ہے۔

بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے آج یہاں ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں پارٹی کے حامیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مذاہب اور فرقوں کا احترام کریں اور کسی دوسرے مذہب اور اس کے پیروکاروں کی تذلیل یا توہین کرنے کی کوشش نہ کریں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی مذہب کی توہین کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں یہاں ہر مذہب پروان چڑھا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہر مذہب کا احترام کرتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی مذہب اور اس مذہب کے کسی بھی فرد کی توہین کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے۔

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کسی بھی ایسے نظریے کی سختی سے مخالفت کرتی ہے جو کسی دوسرے مذہب یا فرقے کی توہین یا تذلیل کرے۔ بی جے پی ایسے کسی فلسفے یا شخص کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔

بی جے پی نے کہا کہ ہندوستان کے آئین میں ہر شہری کو اپنی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل کرنے اور ہر مذہب کا احترام کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ آج جب ہندوستان اپنی آزادی کی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے، ہم ایک عظیم ہندوستان کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں جہاں تمام شہری برابر ہوں اور ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ جہاں تمام شہری ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے تئیں پرعزم ہوں اور وہ ہندوستان کی ترقی کے فوائد سے لطف اندوز ہوسکیں۔

اس ریلیز کے ذریعے بی جے پی نے ملک اور بیرون ملک سیاسی تنقید کو بھی پرسکون کرنے کی کوشش کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے بھی حال ہی میں کاشی وشوناتھ مندر گیان واپی تنازعہ کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ہندو آباؤ اجداد کی اولاد قرار دیا تھا اور انہیں حملہ آوروں کو مندروں کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا

0
بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا
بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا

بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا ہے، بی جے پی نے کہا کہ پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہبی شخص کی توہین کی سختی سے مذمت کرتی ہے

نئی دہلی: بی جے پی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے خلاف کئے گئے متنازعہ ریمارکس کے معاملے پر بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما گزشتہ کچھ عرصے سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ پیغمبر اسلام کے خلاف ان کے مبینہ ریمارکس پر تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ آخرکار بی جے پی نے ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت واپس لے لی۔ بی جے پی کی سنٹرل ڈسپلنری کمیٹی نے مختلف معاملات پر پارٹی کے موقف کے برعکس پارٹی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے نوپور شرما کو فوری اثر سے پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔

پارٹی نے دہلی میڈیا کے سربراہ نوین کمار جندل کو یہ کہتے ہوئے پارٹی سے نکال دیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خیالات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں اور اس کے بنیادی عقائد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دہلی کے صدر آدیش گپتا کے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کی بنیادی رکنیت فوری طور پر ختم کر دی جاتی ہے اور آپ کو پارٹی سے نکالا جاتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے

واضح رہے کہ اس تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بی جے پی نے اتوار کو کہا کہ پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہبی شخص کی توہین کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔

دریں اثناء بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کسی بھی نظریہ کے خلاف ہے جو کسی بھی فرقہ یا مذہب کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ تاہم، بی جے پی لیڈر نے اپنے بیان میں کسی واقعہ یا تبصرہ کا براہ راست کوئی ذکر نہیں کیا۔

کانپور جھڑپ: حیات ظفر کی بیوی کا الزام، شوہر کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے پولیس

0
کانپور جھڑپ: حیات ظفر کی بیوی کا الزام، شوہر کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے پولیس
کانپور جھڑپ: حیات ظفر کی بیوی کا الزام، شوہر کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے پولیس

عدالت پہنچی حیات ظفر ہاشمی کی بیوی عظمی نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کا شوہر تشدد میں شامل نہیں تھا۔ اصلی گناہگاروں تک پہنچنے میں ناکام پولیس حیات کا نام زبردستی جوڑ رہی ہے

کانپور: اترپردیش کے ضلع کانپور میں گذشتہ کل دو گروپوں میں پیش آئے پرتشدد جھڑپ میں پولیس کے ذریعہ کلیدی ملزم کے دعوی کے ساتھ گرفتار کئے گئے حیات ظفر ہاشمی کی بیوی نے الزام لگایا ہے کہ اصلی گناہگاروں تک پہنچنے میں ناکام پولیس اس کے بے قصور شوہر کو تشدد کا بلی کا بکرا بنانا چاہتی ہے۔

بیکن گنج علاقے میں جمعہ کو پیش آئے پرتشدد واقعہ میں پولیس نے تین مقدمے درج کرتے ہوئے ہفتہ کی شام تک 24 ملزمین کو گرفتار کیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ واقعہ کے کلیدی ملزم مولانا محمد علی جوہر فینس ایسوسی ایشن کا صدر حیات ظفر ہاشمی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عدالت پہنچی ہاشمی کی بیوی عظمی نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کا شوہر تشدد میں شامل نہیں تھا۔ اصلی گناہگاروں تک پہنچنے میں ناکام پولیس حیات کا نام زبردستی جوڑ رہی ہے۔

عظمی نے کہا کہ انہیں عدالت پر پورا اعتماد ہے اور انصاف ضرور ملے گا۔ عظمی نے بتایا کہ نپور شرما کے بیان کے سلسلے میں اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے ہاشمی نے بند کی اپیل ضروری کی تھی لیکن پولیس اور اتنظامیہ کے ذریعہ اجازت نہ ملنے پر بند کو واپس لے لیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے سبھی حامیوں سے بند میں شامل نہ ہونے کی اپیل بھی کی تھی۔ جمعہ کو پورے دن حیات ظفر گھر پر ہی رہے اور باہر بھی نہیں نکلے تھے۔

کانپور تشدد: حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد گرفتار، حالات پرامن

0
کانپور تشدد: حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد گرفتار، حالات پرامن
کانپور تشدد: حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد گرفتار، حالات پرامن

پولیس اطلاع کے مطابق بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ پیغمبر محمد ؐ کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے سلسلے میں ایک گروپ مشتعل تھا اور اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد نئی سڑک پر جمع ہوا تھا۔ مظاہرین بی جے پی ترجمان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ شرپسند عناصر نے پتھر بازی شروع کردی جس کے بعد ماحول بگڑ گیا

کانپور: اترپردیش کے ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں گذشتہ کل دو گروپوں میں پیش آئے پرتشدد واقعہ کے سلسلے میں پولیس نے ابھی تک کلیدی ملزم حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانپور کے پولیس کمشنر وجئے سنگھ مینا نے بتایا ’جمعہ کو 18 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ 6 مزید افراد کو آج گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ابھی تک شناخت کئے گئے 36 ملزمین میں سے پولیس نے 24 کو گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں کچھ سازش رچنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں ’ان کی شناخت حیات ظفر ہاشمی جو کہ ایم ایم جوہر فینس ایسوسی ایشن کا قومی صدر ہے۔ ایم ایم کے ہی ریاستی صدر جاوید احمد خان، ممبر محمد راہی اور محمد سفیان کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ انہوں نے شہر چھوڑ دیا ہے اور جاوید احمد لکھنؤ میں یوٹیوب چینل چلاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق لکھنؤ میں انہیں ٹریک کیا گیا اور کرائم برانچ کی ٹیم نے انہیں ہفتہ کو حضرت گنج علاقے سے گرفتار کرلیا۔

عدالت سے ملزمین کی 14 دنوں کو پولیس تحویل طلب کی جائے گی

انہوں نے کہا کہ 6 موبائل اور کچھ دستاویزات برآمد کئے گئے ہیں جنہیں فورنسک ٹیسٹ کے لئے بھیجا جائے گا۔ ان کے بینک اکاونٹ چیک کئے جائیں گے اور اس نکتے کی جانچ کی جائے گی آیا ان کا کسی دوسری تنظیم بشمول پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے تو نہیں ہے۔ انہیں آج عدالت میں پیش کرکے عدالت سے ان کی 14 دنوں کو پولیس تحویل طلب کی جائے گی۔

مینا نے کہا کہ ابھی تک گرفتار ملزمین نے پانچ۔چھ افراد کے نام بتائے ہیں لیکن ان ارادوں اور سازشوں کو جاننے کے لئے تفصیلی تحقیق کی جائے گی۔ عدالت سے ان کی 14 دنوں کی پولیس حراست طلب کی جائے گی تاکہ پورے نیٹ ورک کا انکشاف کیا جاسکے۔ تاکہ جو افراد بھی اس سازش کے پیچھے ہیں ان کی شناخت کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی اور یہ پیغام دینے کے لئے کہ ایسی حرکتیں قطعی برداشت نہیں کی جائیں گی شرپسند عناصر اور سازش رچنے والوں کی ملکیت کو قرق و منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پی ایف آئی نے منی پور اور مغربی بنگال میں 3/6/2022 کو اس تعلق سے بند کا اعلان کیا تھا اور ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان کا اس سے کچھ تعلق ہے۔ یہ تفتیش کا موضوع ہے اور جلد ہی اسے مکمل کرلیا جائے گا۔

متعدد ٹیمیں ملزمین کی گرفتاری کے لئے کوشاں

پولیس کمشنر نے کہا کہ متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کچھ ٹیم کانپور تشدد میں شامل افراد کی شناخت پر کام کررہی ہیں تو کچھ ملزمین کی گرفتاری کے لئے کوشاں ہیں۔ سازش کے اینگل کو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ واقعہ کے سلسلے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ افراد نے شہر کا ماحول خراب کرنے کی سازش رچی تھی۔

وہیں دوسری جانب متاثرہ علاقے میں آج حالات پرامن ہیں۔ ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر بازار مکمل طور سے بند رہے۔ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کے لئے کثیر تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ جمعہ کی دیر رات حالات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے شرپسند عناصر سے پوری سختی کے ساتھ نپٹنے کی ہدایت دی تھی۔

اس پرتشدد جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی

قابل ذکر ہے کہ پیغمبر محمدؐ کے خلاف بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے خلاف ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانہ علاقے میں جمعہ کو اعلان کیا گیا بند و مظاہرہ دو گروپوں کے درمیان کشیدگی کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ اس پرتشدد جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

اس تعلق سے جمعہ کی شام اپنے بیان میں اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (نظم نسق) پرشانت کمار نے بتایا تھا کہ متاثرہ علاقے میں اضافہ پولیس تعینات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سازش رچنے والوں اور شرپسند عناصر کے خلاف گینگسٹر کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ ان کی املاک قرق یا منہدم کی جائیں گی۔

بی جے پی ترجمان نپور شرما کے خلاف نعرے بازی کے دوران شرپسند عناصر کی پتھر بازی

پولیس اطلاع کے مطابق بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ پیغمبر محمد ؐ کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے سلسلے میں ایک گروپ مشتعل تھا اور اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد نئی سڑک پر جمع ہوا تھا۔ مظاہرین بی جے پی ترجمان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ شرپسند عناصر نے پتھر بازی شروع کردی جس کے بعد ماحول بگڑ گیا۔ مظاہرہ دو گروپوں کے مابین پرتشدد جھڑپ کی شکل اختیار کرگیا۔ حالات اس قدر بے قابو ہوگئے کہ شرپسند عناصر کی جانب سے پتھراؤ کے ساتھ فائرنگ و بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔

اے ڈی جی پرشانت کمار کے مطابق کانپور کے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں کچھ افراد نے بازار کی دوکانیں بند کرانے کی کوشش کی جس کی دوسرے گروپ کے ذریعہ مخالفت کی گئی۔اس کی وجہ سے دونوں گروپوں میں تشدد پھوٹ پڑا اور پتھربازی شروع ہوگئی۔ اس ضمن میں اطلاع ملنے کے بعد پولیس کمشنر کے ساتھ اعلی افسران موقع پر پہنچے اور ضروری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کو حکومت نے کافی سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کے لئے اضافی پولیس فورس بشمول 12 کمپنی پی اے سی کو وہاں روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افسران بھیجے جارہے ہیں۔ وہاں جن جن بھی افراد نے پتھراؤ کیا ہے ان کی پہچان کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو وافر مقدار میں ویڈیو فوٹیج موصول ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔

مودی کے پتے پر راہل گاندھی کا طنز

0
مودی کے پتے پر راہل گاندھی کا طنز
مودی کے پتے پر راہل گاندھی کا طنز

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا، "گھر کا پتہ’ لوک کلیان مارگ رکھنے سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے گھر کا پتہ لوک کلیان مارگ ہے، لیکن مسٹر مودی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ‘لوک کلیان’ رکھنے سے لوگوں کا کوئی بھلا نہیں ہوتا۔

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا، "گھر کا پتہ’ لوک کلیان مارگ رکھنے سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پی ایم نے 6.5 کروڑ ملازمین کے حال اور مستقبل کو برباد کرنے کے لیے’ ‘مہنگائی بڑھاؤ، کمائی کم کرو‘ ماڈل کو لاگو کیا ہے۔

https://twitter.com/RahulGandhi/status/1532960456087703553?s=20&t=eDpq5fE-ZRqXXWLK87MezA

اس کے ساتھ کانگریس لیڈر نے اخباری رپورٹ کے ساتھ چھپے اعداد و شمار بھی پوسٹ کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کی شرح 40 سال میں سب سے کم سطح پر ہے۔

 گستاخ رسول بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے: ڈاکٹر ایوب سرجن

0
 گستاخ رسول بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے: ڈاکٹر ایوب سرجن
 گستاخ رسول بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے: ڈاکٹر ایوب سرجن

ڈاکٹر ایوب سرجن نے نوپور شرما کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو نوپور شرما کو ترجمان کے عہدے سے ہٹاکر ان کے خلاف کیس درج کرکے گرفتار کیا جائے

پرتاپ گڑھ: بی جے پی کی پوری سیاست فسطائیت پر منحصر ہے، ان کے پاس ملک کو آگے لے جانے والا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، صرف ایک ایجنڈا مسلمانوں و اسلام کو گالی دینا اور مساجد کو مندر قرار دے کر ملک کے ماحول کو خراب کرنا ہے۔

بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف ٹی وی ڈیبیٹ میں قابل مذمت الفاظ کا استعمال کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا کام کیا ہے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے نوپور شرما کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو نوپور شرما کو ترجمان کے عہدے سے ہٹاکر ان کے خلاف کیس درج کرکے گرفتار کیا جائے۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے جو پیغمبر اسلام کے خلاف قابل مذمت الفاظ کا استعمال کیا ہے، یہ بی جے پی حکومت کا بیان مانا جائے گا۔ عوام کی حکومت کے تئیں بڑھتی ناراضگی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بی جے پی نے مسلمانوں و اسلام کے خلاف جو مہم چلائی ہے، اسی کے ضمن میں نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف نازیبا کلمات کا استعمال کر ملک کو جو توڑنے کی سازش کی ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔

ملک توڑنے والا بیان دے کر ہندووں کو خوش نہیں کر سکتے

بی جے پی اور اس کے معاون وقت وقت پر ملک توڑنے والا بیان دے کر ہندووں کو خوش نہیں کر سکتے، یہاں کے ماحول میں سیکولرزم کی گھٹّی گھلی ہوئی ہے، ملک بہت عظیم ہے۔ ملک میں جو اس وقت مساجد کو مندر قرار دے کر ماحول کو خراب کرنے کا کام کیا جا رہا ہے، اس سے ملک وشوا گرو نہیں بن سکتا ہے۔ ملک کے لئے مسلمانوں نے قربانی دی ہے، وہ ضائع نہیں جائے گی۔ بی جے پی و اس کی معاون تنظیمیں مسلمانوں کے جذبات سے کھیل کر جو نفرت کا بیج بو رہی ہیں، اس سے عالمی سطح پر ملک کی بڑی بدنامی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوپور شرما جیسے لوگ ملک کے تئیں وفادار نہیں ہو سکتے۔ ملک کے مفاد میں شرما کے خلاف بلا تاخیر کیس درج کر گرفتار کیا جائے۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ اگر نوپور شرما کے خلاف کیس درج کر گرفتار نہیں کیا جاتا ہے، تو یہ حکومت کا بیان مانا جائے گا۔ پیس پارٹی اس کے خلاف تحریک چلا کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔

مذہبی آزادی کی رپورٹ پر بھارت نے امریکہ پر ناراضگی کا اظہار کیا

0
مذہبی آزادی کی رپورٹ پر بھارت نے امریکہ پر ناراضگی کا اظہار کیا
مذہبی آزادی کی رپورٹ پر بھارت نے امریکہ پر ناراضگی کا اظہار کیا

واشنگٹن میں مذہبی آزادی کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ ہندوستان جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ہم لوگوں اور مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں

نئی دہلی: ہندوستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ برائے 2021 کے ہندوستان کے بارے میں پائے جانے والی رپورٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست اور بدنیتی پر مبنی خیالات پر کوئی نتیجہ نہیں نکالا جانا چاہئے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں امریکی رپورٹ کے بارے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ "ہم نے امریکی محکمہ خارجہ کی 2021 کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ اور سینئر امریکی حکام کے نامکمل اور غلط معلومات پر مبنی تبصرے دیکھے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ووٹ بینک کی سیاست کھیلی جارہی ہے۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ سیاسی طور پر حوصلہ افزا معلومات اور تعصب پر مبنی آراء سے گریز کیا جائے۔‘‘

مسٹر باگچی نے کہا کہ ہندوستان فطرتا ایک تکثیری معاشرہ ہونے کے ناطے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں ہم نے نسل پرستی سے متاثر حملوں، نفرت انگیز جرائم اور بندوق سے تشدد سے متعلق مسائل کے بارے میں مسلسل اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ہندوستان میں مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں: مذہبی آزادی کی رپورٹ

واشنگٹن میں مذہبی آزادی کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ ہندوستان جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ہم لوگوں اور مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کی ایک باڈی نے پیر کو بائیڈن انتظامیہ سے سفارش کی کہ ہندوستان کو اس کی مذہبی آزادی کی حیثیت کے تناظر میں ایک خاص تشویش والے ملک کے طور پر درجہ بندی کی سفارش کی تھی۔ ہندوستان کے علاوہ چین، پاکستان، افغانستان سمیت 11 دیگر ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

ملک کی بگڑتی ہوئی حالت اور عوام کی ترجیحات

0
ملک کی بگڑتی ہوئی حالت اور عوام کی ترجیحات
ملک کی بگڑتی ہوئی حالت اور عوام کی ترجیحات
تحریر: عابد انور

ملک کے حالات جوں جوں دگرگوں ہوتے جارہے ہیں، اسی طرح نفرت، عداوت، اشتعال انگیزی، نفرت انگیز بیانات اور تقاریر میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک پوری طرح جنگل راج کی گرفت میں ہے۔ جہاں ایک طبقہ کو ہر ناجائز کام کرنے کی آزادی، ظلم روا رکھنے کی کھلم کھلا چھوٹ اور نظام کو مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی غیر قانونی کارروائی کی غیر معلنہ اجازت ہے۔ اس طرح کے حالات کو جنگل راج نہیں کہا جائے گا تو پھر کیا کہا جائے گا۔

ملک میں کسی دن بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آتا جس سے اندازہ ہو یہاں انسانیت زندہ ہے۔ یہاں کا نظام پوری طرح سے انسانیت سے مبرا ہوچکا ہے اور جو بھی انسانیت کی بات کرتا ہے اسے زنداں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا نظر نہیں آتا جسے ملک کی فکر ہو، بلکہ فکر کرنے والوں کی زندگی دشوار گزار بنانے کے لئے دن رات تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں۔

ظلم کے خلاف آواز ٹھانے والوں کی تعداد دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے

فسطائی طاقتوں کے خلاف جو بھی آواز اٹھاتا ہے اس کے گھر سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس والوں کو بھیج دیا جاتاہے۔ اس کے پیچھے میڈیا کو پاگل کتے کی طرح چھوڑ دیا جاتاہے جو بغیر کسی ثبوت کے کردار کشی شروع کردیتے ہیں اور وہ سب کچھ ڈھونڈ لیتے ہیں جو چھاپہ مارنے والوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے ظلم کے خلاف آواز ٹھانے والوں کی تعداد دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے۔ اگر ہندوستان میں اکثریتی فرقہ ظالم نہیں ہے تو کم از کم ظلم کی خاموش حمایت ضرور کرتا ہے۔

آج تک کسی خالص ہندو گروپ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، اکا دکا آواز آتی بھی ہے تو  وہ ظلم اور میڈیا کے شور میں دفن ہوجاتی ہے۔ اگر یہاں کے ہندو انصاف پسند ہوتے تو کسی انتہا پسند ہندوؤں (جسے مٹھی بھر کہا جاتا ہے) کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف گالی گلوج کریں، ان کی مساجد پر بھگوا جھنڈا لہرائیں، مساجد کی بے حرمتی کریں۔

ہندوؤں کے انصاف پسند اور بھائی چارہ کا اندازہ

ہندوؤں کے انصاف پسند اور بھائی چارہ کا اندازہ لگانا ہو تو آپ فساد زدہ علاقہ کا دور کریں۔ فساد زدہ علاقہ میں مسلمانوں کے گھر، عبادت گاہ آپ کو جلے ہوئے ملیں گے جب کہ ہندوؤں کے گھر محفوظ ملیں گے۔ جہاں بھی مخلوط آبادی ہے وہاں ہندو محفوظ ہوتا ہے جب کہ مسلمان غیر محفوظ، فروری 2020 کے دہلی فسادات علاقہ کا جن لوگوں نے دورہ کیا ہوگا تو دیکھا ہوگا ایک گھر (مسلمان کا) جلا ہوا ہے لیکن اس کے متصل دوسرا (ہندو کا) گھر محفوظ ہے۔ تیسرا مسلمان کا گھر جلا ہوا ہے اور چوتھے گھر ہندو کا محفوظ ہے۔

ہندو اگر چاہتے تو وہ سامنے آکر مسلمانوں کا گھر بچا سکتے تھے لیکن کہا یہاں تک گیا ہے کہ فسادیوں کی رہنمائی ہندو پڑوسی نے کی تھی۔ باہر سے آنے والے فسادی ہندو کو کیا معلوم کہ گھر کس کا ہے، مسلمان کا ہے یا ہندو، کا ہے۔ فساد کے دوران ہندو پڑوسی ہی فسادیوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور مسلمانوں کے گھر، دکان اور ان کے ادارے کو تباہ و برباد کرنے میں فسادیوں کی مدد کرتے ہیں۔

دہلی فسادزدہ علاقہ کا دورہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ کیوں کہ سارا سسٹم ہندو زدہ (ہندوتوا کا شکار) ہوچکا ہے اس لئے ان سے کسی انصاف یا رحم کی امید کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ کسی بھی ملک کے ہر شہری کو سب سے زیادہ امید عدالتوں سے ہوتی ہے اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے ہر طرح کی ناانصافیوں اور ظلم کے خلاف عدالت کا سہارا لیتے ہیں لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے یہ راستہ بھی تقریباً مسدود ہوچکا ہے۔

عدالت کا سخت تبصرہ فیصلے میں کبھی تبدیل نہیں ہوتا

بابری مسجد فیصلہ عوام کے سامنے ہے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے فیصلے اور بعض عرضیوں پر عدالت کی خاموشی سے اس طرح کی غیر معلنہ ذہنیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ عدالت اپنے تبصرے میں حکومت، پولیس اور نظام کے خلاف سخت بات کہتی  ہے لیکن یہ سخت تبصرہ فیصلے میں کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر متعصب میڈیا کی نفرت انگیز مہم کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند کی عرضی پر تقریباً ایک درجن سماعت ہونے کے بعد بھی اب تک حتمی سماعت نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی عدالت نے میڈیا کے خلاف کوئی ہدایت جاری کی ہے۔ البتہ عدالت نے میڈیا کے خلاف سخت تبصرے کئے، نفرت کی آلودگی پھیلانے والا قرار دیا، اسی طرح دہلی فسادات میں پولیس کے کردار پر سخت تبصرہ کیا، شرجیل امام اور عمر خالد اور خالد سیفی کے معاملے میں بھی عدالت نے سخت تبصرے کرتے ہوئے پولیس کے رول پر سوالیہ نشان لگایا لیکن عدالت کا یہ تبصرہ عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں اور خالد سیفی کی ضمانت میں تبدیل نہیں ہوا۔

پولیس کو پھٹکار تو لگائی جاتی ہے لیکن سزا نہیں سنائی جاتی

مطلب صاف ہے کہ یہ تو ہیڈ لائن بن جاتی ہے کہ پولیس کو پھٹکار لگائی گئی لیکن اسی پولیس کو کسی بے گناہ کو پھنسانے کیلئے عدالت سزا نہیں دیتی۔ ایسی صورت میں انصاف کا دروازہ بھی بند ہوتا نظر آرہا ہے کہ مسلمان کس پر بھروسہ کریں، کس سے منصفی چاہیں، کس کے سامنے اپنی فریاد پیش کریں۔

اس وقت متھرا، بنارس کے گیان واپی مسجد اور تاج محل کا معاملہ چل رہا ہے جب کہ اس پر پہلے سپریم کورٹ کا رخ سامنے آچکا ہے لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ہی ضلع جج کو سماعت کے لئے کہہ دیا۔ جب کہ عبادت گاہ قانون 1991 موجود ہے۔ جس کی رو سے 15 اگست  1947 میں جو بھی عبادت گاہ کی صورت حال تھی وہ برقرار رکھی جائے گی اس کے باوجود نچلی عدالت کا سماعت کرنا غیر منصفانہ ذہنیت کی علامت ہے۔ اگر عدالت منصفانہ ہوتی تو سب سے پہلے سروے رپورٹ کو لیک کرنے والوں کو سزا دیتی، میڈیا پر کارروائی کرتی جو غیر مصدقہ لیک رپورٹ کے سہارے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔

یہ گھناؤنا کھیل سسٹم کے سہارے اس وقت کھیلا جارہا ہے جب ملک کی حالت تمام سطحوں پر نازک ہے، بھکمری، تعلیم، سماجی سطح میں بے تحاشہ گراوٹ، میڈیا کی آزادی کی رینک میں ذلت آمیز حد تک زوال، انصاف پر لوگوں کے اعتماد کا متزلزل ہونا، 80 فیصد لوگوں کے خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنا، پینے کے پانی عدم دستیابی، معاشی حالت بے حد خراب ہونا، ملک پر بڑھتا بیرونی قرض، پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ داغدار ہونا اور لوگوں کا ہندوستانی شہریت ترک کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کی صورت حال کس قدر خراب ہے۔

ہندوستان میں عدم مساوات کی تازہ ترین صورت حال

ڈوئچے ویلے سے وابستہ جاوید اختر کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چوٹی کے ایک فیصد آبادی کی آمدنی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ سب سے کم ترین آمدنی والی 10 فیصد آبادی کی آمدنی مسلسل گھٹ رہی ہے۔

وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) نے ہندوستان میں عدم مساوات کی تازہ ترین صورت حال کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر آمدنی میں عدم مساوات کی خلیج کو دور نہ کیا گیا تو سماجی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف کا حصول مشکل تر ہوجائے گا۔ یوں تو ہندوستان  میں لوگوں کی گھریلو حالت، ضروریات تک ان کی رسائی، خاطر خواہ پانی کی سپلائی اور صفائی ستھرائی میں بہتری آئی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق آمدنی میں پائی جانے والی خلیج نیز غربت او رروزگار کی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری کی ضرورت ہے۔

بھارت میں 15 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے سے بھی کم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دس فیصد افراد کی  ماہانہ آمدنی 25 ہزار روپے ہے۔ ایک ارب 30 کروڑ سے زیادہ آبادی والے بھارت میں 15 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے یا 64 ڈالر سے بھی کم ہے۔ چوٹی کے ایک فیصد افراد ملک کی قومی آمدنی کا 5 سے 7 فیصد کماتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پریشان کن بات یہ ہے کہ ان ایک فیصد افراد کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ سب سے کم ترین سطح کے 10 فیصد افراد کی آمدنی مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ بھارت کے ‘نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے‘ کے مطابق دیہی اور شہری علاقوں میں لوگوں کی آمدنی میں کافی فرق ہے۔ یہ اس لحاظ سے باعث تشویش ہے کیونکہ ملک کی بڑی آبادی شہروں کے مقابلے دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔

ماہرین سماجیات کہتے ہیں کہ عدم مساوات اور غربت ایسے عناصر ہیں جو سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کی مختلف صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ سن 2022 کے ایک مطالعے کے مطابق بھارت میں ایک ملازم کی اوسط سالانہ تنخواہ تین لاکھ 87 ہزار 500 روپے یعنی تقریباً 32 ہزار 840 روپے ماہانہ ہے جو کہ تقریباً 422 ڈالر کے برابربنتی ہے۔ لیکن یہ دیگر ملکوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ مثلاً امریکہ میں اوسطاً ماہانہ تنخواہ 4457 ڈالر اور روس میں 1348 ڈالر ہے۔

ہندوستان میں ماسٹر ڈگری والے بھی بھیک مانگنے پر مجبور

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اوسطاً کم ماہانہ تنخواہ کی وجہ سے ہی بہت سے ممالک سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور کسٹمر سروس کی ملازمتوں کے لیے بھارت میں آؤٹ سورسنگ کرتے ہیں۔ بھارت میں بہت سے افراد تکنیکی لحاظ سے مہارت یافتہ ہیں اور وہ انگلش بھی بول سکتے ہیں لہذا غیر ملکی کمپنیوں کو اس سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔

ہندوستان میں سماجی غیر آہنگی، عدم مساوات اور بے روزگاری کی صورت حال یہ ہے کہ پڑھے لکھے، ماسٹر ڈگری والے، انجینئرنگ کرنے والے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تین لاکھ 72 ہزار بھکاریوں میں سے 21 فیصد سینئر سیکنڈری اسکول پاس ہیں، تین ہزار سے زائد کے پاس پروفیشنل ڈپلوما ہے اور 410 کے پاس ماسٹرز ڈگری اور انجینئرنگ کی ڈگریاں ہیں۔

ملک میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد

ہندوستان نے 2011ء کی مردم شماری پر مبنی ’نان ورکرز بائی مین ایکٹیویٹی، ایجوکیشن لیول اینڈ سیکس‘ کے حوالے سے پچھلے دنوں اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ملک میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار ہے۔ ان میں 21 فیصد یعنی تقریباً 78 ہزار بھکاری سینئر سیکنڈری اسکول امتحان یا بارہویں درجہ پاس ہیں جب کہ تقریباً تین ہزار کے پاس تکنیکی ڈپلوما یا سرٹیفکیٹ ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں بھیک مانگنا اور بھیک دینا جرم ہیں تاہم مذہبی اور سماجی روایات کے باعث اس لعنت کو ختم کرنے کی تمام تر حکومتی کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ کیوں کہ حکومت میں عزم کی کمی ہے، انصاف کرنا اس کے خون میں شامل نہیں۔ کام کرنے آنے والوں کو پریشان کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

اس معاملے میں صرف نظام کو قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ قصوروار یہاں کے عوام ہیں جو قاتل، زانی، بدعنوان، بے ایمان، رشوت خور اور وحشی اور درندہ صفت رہنما کو منتخب کرتے ہیں۔ عوام کی ترجیحات کبھی بھی انصاف پسند حکمرانوں کو منتخب کرنے کی نہیں رہیں۔ ان کو روزگار، تعلیم، سماجی حیثیت، خوش حال زندگی اور منصفانہ معاشرہ نہیں چاہئے بلکہ وہ نفرت کی مہم چلانے والے رہنماؤں پر جان چھڑکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں عوام ووٹ دیتے نہیں ہیں بلکہ ووٹ فروخت کرتے ہیں اور تمام ناانصافیوں پر خاموش رہتے ہیں۔

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

ٹی وی چینلوں کے نفرت انگیز مباحثوں میں نام نہاد مسلم ایکسپرٹ کی شرکت

0
ٹی وی چینلوں کے نفرت انگیز مباحثوں میں نام نہاد مسلم ایکسپرٹ کی شرکت
ٹی وی چینلوں کے نفرت انگیز مباحثوں میں نام نہاد مسلم ایکسپرٹ کی شرکت

ٹی وی چینلوں پر خاص ایجنڈے کے تحت ہونے والی بحث و مباحثوں میں شرکت کا آخر کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی نام نہاد ’مسلم ایکسپرٹ‘ یہ بتا سکتا ہے کہ ان مباحثوں کا حاصل کیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ملک میں صحافت کے معیار اور اس کی معتبریت پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں، اب نیوز چینلوں پر ہونے والے مباحثے سماج اور صحافت کے دامن پر بد نما داغ بن گئے ہیں۔ چینلوں کے ذریعہ جلتی آگ میں گھی ڈالا جا رہا ہے۔ یہ مباحثے عام شہری کو بیدار اور باشعور بنانے کی بجائے ان کے اندر نفرت اور زہر بھر نے کا کام کر رہے ہیں۔ ان مباحثوں میں کوئی مدلل بات کی بجائے ہنگامہ برپا نظر آتا ہے، معنی خیز بحث سے زیادہ شور سنائی دیتاہے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا عام بات ہو گئی ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن اور پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ ٹی وی مباحثے اب مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کا آسان ذریعہ بن گئے ہیں۔ پارٹیوں کے ترجمان اور سیاستدانوں کے درمیان ہونے والی بحث و مباحثہ اور تکرار تو سمجھ میں آتی ہے، مگر مذہبی لبادہ پہن کر اسلام اور مسلمانوں کے مسائل پر بحث کرنے والے نام نہاد ’ایکسپرٹس‘ نے نہ صرف مباحثوں کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ہے، بلکہ مذہبی معاملات کو سڑک چھاپ بحثوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ لوگ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام کرنے والے چینلوں اور ان کے اینکروں کے آلہ کار بھی بن گئے ہیں۔ ان سب سے زیادہ ملک و قوم کے لئے خطرناک بات یہ ہے کہ اکثر نیوز چینل ایک منظم طریقے سے فرقہ پرست طاقتوں کی آواز بن چکے ہیں اور ان کے ’پرچارک‘ نظر آتے ہیں۔

یہ مباحثے ملت کی توقیر کا سبب بن رہے ہیں یا پھر تذلیل کا؟

حال ہی میں ان ٹی وی مباحثوں کے دوران کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے بعد متعدد سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اور یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا یہ مباحثے کسی مہذب معاشرے کے لئے سود مند ہیں؟ کیا ان سے سماج کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟ کیا ان ٹی وی مباحثوں سے عام ہندوستانی کا کچھ بھلا ہو رہا ہے؟ کیا عام شہریوں میں بنیادی مسائل کے تئیں کوئی بیداری پیدا ہو رہی ہے؟ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا خاص طور پر مذہبی معاملات پر ہونے والی بحثوں سے ملک اور ملت کو کیا حاصل ہوا ہے؟ یہ مباحثے ملت کی توقیر کا سبب بن رہے ہیں یا پھر تذلیل کا؟ کیا مذہبی امور پر ان بحثوں میں شامل ہونے والے پینلسٹ اپنا موقف مضبوطی کے ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں؟ کیا ان ’مسلم ایکسپرٹس‘ کو ان ٹی وی مباحثوں میں شامل ہونا چاہئے؟ اور ان نام نہاد ماہرین کو کس نے ٹی وی پر بحث کے لئے مامور کیا ہے؟ کیوں کہ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نام نہاد مسلم دانشور اور ماہرین فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے آلہ کار بن چکے چینلز و اینکرس کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ٹی وی کے مباحثوں میں مقدس مذہبی شخصیات پر کیچڑ اچھالی جا رہی ہے

در اصل یہ بحث و مباحثے ہنگامہ، شور شرابہ، تو تو میں میں، گالی گلوچ اور ٹی آر پی کے کھیل سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ بحث کے معیار کی بات کون کرے، دشنام طرازی اور ایک دوسرے کی تذلیل سے ہوتے ہوئے اب بات مذہب اور مقدس مذہبی شخصیات کی توہین تک پہنچ چکی ہے۔ یہ شاید انتہا ہے کہ ٹی وی کے مباحثوں میں مقدس مذہبی شخصیات پر کیچڑ اچھالی جا رہی ہے۔

ان سب کے لئے جتنے ذمہ دار چینل اور ان کے اینکر ہیں، اس سے کہیں زیادہ قصور وار وہ نام نہاد ’مسلم ایکسپرٹس‘ ہیں جو ٹی وی پر اپنے چہرے چمکانے کے لئے اور سستی شہرت اور دولت حاصل کرنے کے مقصد سے ان مباحثوں میں شامل ہوتے ہیں۔ کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جن ٹی وی مباحثوں میں وہ شامل ہوئے ہیں اور مسلم مسائل پر جو گفتگو ہوئی ہے، ان سے ملک و ملت کو کتنا فائدہ ہوا؟ کیا وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا موقف بہتر طریقے سے رکھنے میں کامیاب ہو گئے؟ کیا انہیں اپنی بات دلائل اور مضبوطی کے ساتھ رکھنے کا پورا موقع دیا گیا؟

نہاری کی دکان چلانے والا ایک شخص بحیثیت ’مسلم اسکالر‘ اکثر نیوز چینلوں پر نظر آتا ہے

ایسا نہیں ہے کہ ان مباحثوں میں شامل ہونے والے سبھی ’مسلم ایکسپرٹس‘ سستی شہرت اور چند پیسوں کے لئے ٹی وی کی بحثوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن سے راقم الحروف بخوبی واقف ہے اور یقیناً وہ لوگ اپنا موقف پیش کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ میں نے کافی عرصہ پہلے نیوز چینلوں کی بحث دیکھنے اور اس میں شامل ہونے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، مگر چند روز پہلے کسی نے بتایا کہ دہلی میں نہاری کی دکان چلانے والا ایک شخص کرتا پائجامہ اور ٹو پی پہن کر بحیثیت ’مسلم اسکالر‘ شام کو اکثر نیوز چینلوں پر نظر آتا ہے، یہ تو ایک مثال ہے۔ درجنوں چینلوں کو درجنوں کے حساب سے ’مسلم ماہرین‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں ان چینلوں کو اپنا ایجنڈہ سیٹ کرنے میں جو بھی مددگار نظر آتا ہے، وہ اس کو بحث میں شامل ہونے کے لئے بلالیتے ہیں۔ جب بحث و مباحثے کا یہ معیار ہو، تو پھر اس میں باشعور اور سمجھدار لوگوں کے شامل ہونے کا کیا مطلب ہے۔

مباحثوں میں شامل ہونے سے فی الحال کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہئے

میرے خیال سے انہیں نہ صرف چینلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے، بلکہ ان چینلوں کو اپنا احتجاج درج کرواتے ہوئے مباحثوں میں شامل ہونے سے فی الحال کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان ٹی وی مباحثوں کا خاص مقصد اسلام اور مسلمانوں کی تذلیل ہے۔ اب کھلے عام یا تو اینکر یا پھر دشنام طرازی کے لئے بلائے گئے دیگر پینلسٹ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بلا جھجھک نا زیبا تبصرے کرتے ہیں اور جب کوئی مسلم اس کا جواب دینا چاہتا ہے تو یہ بحث فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ صحافت کے تمام اخلاقی اصولوں اور اقدار و روایات بالائے طاق رکھ دئے جاتے ہیں۔

ٹی وی کے یہ مباحثے مسلمانوں کے حق میں بالکل بھی نہیں ہیں

جب ان نام نہاد ’مسلم ایکسپرٹس‘ کے خلاف سوشل میڈیا یا سماج میں کوئی مہم چلتی ہے تو دلیل دی جاتی ہے کہ اگر ہم نہیں جائیں گے تو ہماری بات دوسروں تک نہیں پہنچے گی۔ یہ در اصل اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کا ایک حربہ ہے۔ جیسا میں نے پہلے بھی کہا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ جن مباحثوں میں وہ شامل ہوئے ہیں، وہ واقعی با معنی، با مقصد تھے اور کیا ان کو ایمانداری کے ساتھ اپنی بات رکھنے کا موقع دیا گیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹی وی کے یہ مباحثے مسلمانوں کے حق میں بالکل بھی نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کا موقف پیش کرنے کے لئے چینلوں کے اسٹوڈیو نہیں سجائے جاتے ہیں۔ بلکہ ان کی تذلیل اور رسوائی کا اسٹیج تیار کیا جاتا ہے۔

بہر حال ان مسلم پینلسٹ کو چاہئے کہ وہ بیک وقت ایک ساتھ کچھ عرصہ کے لئے ان مباحثوں کا بائیکاٹ کر دیں اور کسی بھی چینل پر اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرے میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیں، پھر آپ دیکھیں گے کہ ان چینلوں اور اینکروں کے ذریعہ سجائی جانے والی نفرت اور فرقہ پرستی کی دکانیں بند ہو جائیں گی۔ عام ناظرین تک بھی یہ اپنا ایجنڈہ پہنچانے میں ناکام ہو جائیں گے۔

مسلم پینلسٹ کو مشورہ

ٹی وی مباحثوں میں شامل ہونے والے مسلم پینلسٹ اگر واقعی اپنی بات ایمانداری کے ساتھ عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو وہ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور غیر جانبدار صحافیوں کے ذریعہ چلائے جانے والے یو ٹیوب چینلوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔ جہاں وہ اردو کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں بھی اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ آج کل ان کی رسائی بھی نیوز چینلوں سے کم نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ محض چند پیسوں اور سستی شہرت کے لئے چینلوں اور فرقہ پرست نیوز اینکروں کی نفرت انگیز مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان چینلوں کا مقصد دیگر پینلسٹ کے ذریعہ اسلام اور مذہبی شخصیات کے خلاف تبصرہ کرکے مسلم پینلسٹ کو مشتعل کرنا اور عام مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہوتا ہے۔ یہی فرقہ پرستوں کا اصل ایجنڈہ بھی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ دونوں ہی فرقوں کے پینلسٹ مذہبی امور میں معمولی جانکاری رکھتے ہیں، مگر بحث کے دوران بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مسلم پینلسٹ ان مباحثوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیں یا اگر پھر بھی جاتے ہیں تو کم از کم پوری تیاری اور مضبوطی کے ساتھ اپنی بات رکھیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں۔

کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو محفوظ طریقے سے آباد کیا جائے: کجریوال

0
کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو محفوظ طریقے سے آباد کیا جائے: کجریوال
کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو محفوظ طریقے سے آباد کیا جائے: کجریوال

کشمیری پنڈت بہادری کے ساتھ کشمیر میں واپس آ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنا گھر بسایا۔ لیکن اب ان کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا ہے جو 90 کی دہائی میں ہوا تھا

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے بدھ کو کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے لیکن اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔

کجریوال نے آج کہا کہ مرکزی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ کشمیری پنڈتوں کو محفوظ بنائے۔ اس سال سرکاری ملازم راہل بھٹ سمیت 16 کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے۔ کشمیری پنڈت آج بہت غمزدہ ہیں۔ ان کی حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ انہیں دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ کشمیری پنڈت بہادری کے ساتھ کشمیر میں واپس آ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنا گھر بسایا۔ لیکن اب ان کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا ہے جو 90 کی دہائی میں ہوا تھا۔ ان کے گھروں اور دفاتر میں گھس کر سڑکوں پر چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر انسانی ہے۔ یہ انسانیت اور ملک کے خلاف ہے۔ اسے روکنے کے لیے کوئی کچھ نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ جب کشمیری پنڈت بھائی بہن اس پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو انہیں اپنی کالونی میں بند کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ آواز نہ اٹھا سکیں۔ وہ لوگ اپنے کسی قریبی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر جب اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

کشمیر میں رہنے والے ہندو اور مسلمان سب مل جل کر رہنا چاہتے ہیں

یہ کیسا انصاف ہے؟ چاہے وہ سرکاری ملازم راہل بھٹ ہوں، سری نگر کے کیمسٹ ایم ایل بندرو ہوں یا اسکول ٹیچر رجنی بالا، اس سال 16 کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے۔ یہ سب کشمیری معاشرے کا حصہ ہیں۔ کشمیر کا عام آدمی چاہتا ہے کہ کشمیر میں رہنے والے ہندو اور مسلمان سب مل جل کر رہیں اور خوشی سے رہیں لیکن دہشت گرد قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ وہ ایک ساتھ رہیں۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کا اتحاد دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

کجریوال نے کہا کہ کشمیری پنڈت آج کشمیر واپس آنا چاہتے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے لیے کشمیر ان کی جائے پیدائش ہے۔ جب کوئی اپنا آبائی وطن چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں رہنے کے لیے جاتا ہے تو وہاں خواہ وہ کتنی ہی سہولتیں دے لیکن اس کا گھر اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اپنی مٹی اپنی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک الگ تعلق ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کشمیری پنڈت ٹرک ڈرائیوروں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ سامان منتقل کیا جا سکے۔ انہیں کشمیر چھوڑ کر جموں یا کسی دوسری ریاست میں جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وقت ایک بار پھر لوٹ رہا ہے جو 90 کی دہائی میں تھا۔ اب یہ زندگی میں دوسری بار کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہم انہیں تحفظ نہیں دے سکے۔ میرا مطالبہ ہے کہ انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کی آواز کو دبانا نہیں چاہیے، یہ ان کی جائے پیدائش ہے۔ انہیں کشمیر میں آباد ہونے کا حق ملنا چاہیے۔ میں مرکزی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو بسانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔