جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 233

آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو 6 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد بری

0
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو 6 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد بری
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو 6 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد بری

میدنی نگر، پلامو ضلع سول کورٹ کے ایم پی ایم ایل اسپیشل کورٹ کے مجسٹریٹ ستیش کمار منڈا کی عدالت نے آج آر جے ڈی سربراہ و بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو جی آر کیس نمبر 2676/2021 کے معاملے میں ڈیڑھ ماہ کی سزا و چھ ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی ہے

رانچی: جھارکھنڈ میں مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی معاملے میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے آج غلطی کا اقرار کیا لیکن 6ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد انہیں معاملے سے بری کردیا گیا۔

میدنی نگر، پلامو ضلع سول کورٹ کے ایم پی ایم ایل اسپیشل کورٹ کے مجسٹریٹ ستیش کمار منڈا کی عدالت نے آج آر جے ڈی سربراہ و بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو جی آر کیس نمبر 2676/2021 کے معاملے میں ڈیڑھ ماہ کی سزا و چھ ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

مسٹر یادو یہ سزا پہلے ہی کاٹ چکے ہیں اس لئے آج انہیں جرمانہ ادا کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اس معاملے میں گڑھوا کے اس وقت کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر سبھاش سنگھ نے لالو پرساد یادو و ہیلی کاپٹر کے ڈرائیور کے خلاف گڑھوا تھانے میں نامزد ایف آئی آر گڑھوا تھانہ کیس نمبر 101/2009 بتاریخ 7 اپریل 2009 کو درج کرایا تھا۔

جھارکھنڈ میں مثالی ضابطہ اخلاق کی خلا ف ورزی

مسٹر یادو پر الزام تھا کہ مورخہ 7 اپریل 2009 کو 12:53 بجے دن میں گڑھوا گووند ہائی اسکول کے میدان میں وہ بغیر اجازت کے راشٹریہ جنتادل کے عام اجلاس میں ہیلی کاپٹر اتارا تھا اور مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس معاملے میں لالو پرساد یادو نے آج عدالت میں اپنی غلطی قبول کی۔ عدالت نے لالو پرساد یادو کو ڈیڑھ ماہ کی سزا و چھ ہزار روپے کا جرمانہ لگایاہے۔

واضح رہے کہ لالو پرساد یادو ڈیڑھ ماہ کی سزا اس معاملے میں قبل میں ہی کاٹ چکے ہیں۔ آج انہیں اس کیس سے رہا کیا گیا۔ لالو پرساد یادو اس معاملے میں مارچ 2018 سے مئی 2018 تک سزا قبل میں ہی کاٹ چکے ہیں۔ لالو پرساد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 188, 279, 290,291/34 اور 127 (3) آر پی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

لالو پرساد یادو کی جانب سے وکیل دھیریندر پرساد سنگھ نے پیروی کی۔ وہیں حکومت کی جانب سے اے پی پی اویناش شکلا حکومت کا موقف رکھا۔ ادھر کورٹ کے باہر لالو پرساد یادو کے حامیوں کا ہجوم امڈ پڑا۔ لالو پرساد یادو کا دیدار کرنے کیلئے لوگوں کی نگاہی ٹکی رہیں۔

پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر

0
پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر
پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر

معروف سیاسی و علمی و ادبی رہنما پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے اردو دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں

پٹنہ: جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے معروف رہنما و پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبئہ اردو کے سابق صدر اور بہار قانون ساز کونسل میں جنتا دل یونائٹیڈ کے ڈپٹی لیڈر پروفیسر اسلم آزاد کا آج ایمس پٹنہ میں لگ بھگ گیارہ بجے دن میں انتقال ہوگیا۔

وہ ان دنوں سخت علیل چل رہے تھے۔ پروفیسر آزاد کو گزشتہ سال کورونا ہوا تھا جس کے بعد ان کی صحت میں بتدریج گراوٹ آتی رہی۔ گزشتہ دنوں دہلی کے گنگا رام اسپتال اور میکس اسپتال میں ایڈمٹ کرایا گیا تھا۔ گنگا رام اسپتال میں قریب بیس دنوں تک ایڈمٹ رہنے کے بعد واپس پٹنہ آگئے تھے۔ جہاں ان کی رہائش گاہ حرمت اپارٹمنٹ، پھلواری شریف میں رہ کر انکا علاج ڈاکٹر وجئے پرکاش کے یہاں ہو رہا تھا مگر انکی صحت میں خاطر خواہ کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ تین دن قبل ان کو ایمس پٹنہ میں ایڈمٹ کرایا گیا۔ جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا۔ انکے بیٹے پروفیسر آفتاب اسلم کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی گاﺅں مولا نگر، سیتامڑھی میں کل صبح میں ہوسکتی ہے۔ اردو دنیا کیلئے یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔

پروفیسر اسلم آزاد بحیثیت استاد شعبئہ اردو پٹنہ یونیورسٹی

پروفیسر اسلم آزاد اردو فکشن تنقید کا ایک معتبر نام تھا، انہوں نے بحیثیت استاد شعبئہ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں لمبی خدمات انجام دیں۔ 1978 میں پروفیسر اسلم آزاد شعبئہ اردو سے منسلک ہوئے، 1990 میں پہلی بار شعبئہ اردو کے صدر مقرر ہوئے، اس کے بعد کئی مرتبہ صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز رہے۔ 2014 میں شعبہ اردو سے سبکدوش ہوئے، اسلم آزاد نے کئی ادبی سرمایہ بھی چھوڑا جن میں اردو ناول آزادی کے بعد، عزیز احمد بحیثیت ناول نگار، قرةالعین حیدر بحیثیت فکشن نگار، آنگن ایک تنقیدی مطالعہ، اردو کے غیر مسلم شعراء وغیرہ شامل ہے۔ اسلم آزاد شاعر کی حیثیت سے بھی منفرد شناخت رکھتے تھے، ان کا شعری مجموعہ "نشاط کرب” مقبول عام ہوا۔

پروفیسر اسلم آزاد کا سیاسی سفر

پروفیسر اسلم آزاد کا سیاسی سفر 1983 سے شروع ہوا، مختلف پارٹیوں کے انتخابی نشان پر میدان میں بھی اترے مگر کامیاب نہیں ہوئے، پھر 2006 میں جنتا دل یونائٹیڈ میں شامل ہوئے اور 11 مئی 2006 سے 2012 تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن رہے۔ کونسل میں جنتا دل یونائٹیڈ کے ڈپٹی لیڈر بھی ہوئے، جب تک آپ ایوان میں رہے مسلم مسائل کو بے باکی سے اٹھاتے رہے۔ نتیش کمار ان کی ادبی صلاحیت کے معترف تھے اور انہیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے.

ان کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں ان کے شاگرد رشید سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر اظہار احمد، امارت شرعیہ پٹنہ کے نائب صدر مفتی ثناءالہدیٰ قاسمی، مولانا انیس الرحمان قاسمی، شہاب ظفر اعظمی، سنی وقف بورڈ کے چیئر مین الحاج ارشاد اللہ، امن چین کے مدیر اعلیٰ سید مشتاق احمد، ڈاکٹر سرور عالم ندوی، ڈاکٹر محمد صادق حسین، ڈاکٹر مسعود احمد کاظمی، ڈاکٹر محمد منہاج الدین، مولانا محمد عارف حسین سمیت دیگر کے نام قابل ذکر ہیں۔

شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کی شروعات

0
شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کی شروعات
شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کی شروعات

بی ایس ای مڈ کیپ 42.72 پوائنٹس بڑھ کر 22607.19 پر اورا سمال کیپ 90.73 پوائنٹس بڑھ کر 26,156.03 پر کھلا

ممبئی: شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار شروع ہوا۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) سینسیکس 238.17 پوائنٹس اوپر اٹھ کر 55345.51 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 58.6 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 16,474.95 پر کھلا۔

سبز نشانات کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 42.72 پوائنٹس بڑھ کر 22607.19 پر اورا سمال کیپ 90.73 پوائنٹس بڑھ کر 26,156.03 پر کھلا۔

واضح رہے کہ بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس منگل کو 567.98 پوائنٹس گر کر 55107.34 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 153.20 پوائنٹس گر کر 16416.35 پوائنٹس پر آگیا تھا۔

پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کے بعد کویت میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ

0
پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کے بعد کویت میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ
پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کے بعد کویت میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ

ناصر الملتیری نے کہا کہ ہم پیغمبر اسلام کی توہین پر ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہم نے کویتی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اسے قبول نہ کریں

کویت سٹی/نئی دہلی: پیغمبر اسلام کے بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے معطل عہدیداروں کے قابل اعتراض ریمارکس پر اسلامی ممالک میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد کویت کی سپر مارکیٹوں میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔

الاردیہ کوآپریٹو سوسائٹی میں ہندوستانی مصالحے، چائے اور دیگر مصنوعات کو پلاسٹک کی چادروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور ان مصنوعات کو کویت سٹی سے باہر لے جایا جا رہا ہے۔ سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) ناصر الملتیری نے کہا کہ ہم پیغمبر اسلام کی توہین پر ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہم نے کویتی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اسے قبول نہ کریں۔ دیگر خلیجی ممالک نے بھی بی جے پی کے نکالے گئے کارکن نوین جندل اور سابق ترجمان نوپور شرما کے بیانات کی مذمت کی۔

کویتی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ہندوستانی سفیر سی بی جارج کو طلب کرکے اس ریمارکس پر احتجاج کیا۔ مسٹر جارج نے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ایشیا امور سے ملاقات کی۔ انہوں نے سرکاری احتجاجی خط مسٹر جارج کے حوالے کیا۔ خط میں کویت کی صریح ناپسندیدگی اور حکمراں بی جے پی لیڈر کے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بیانات کی مذمت کی گئی ہے۔

کویتی وزارت خارجہ نے کہا کہ کویت نے بی جے پی کے پارٹی عہدیداروں کی معطلی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

کویت میں ہندوستانی سفارت خانے کے سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بیانات کسی بھی طرح حکومت ہند کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا قوی اندیشہ: اختر الایمان

0
بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا قوی اندیشہ: اختر الایمان
بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا قوی اندیشہ: اختر الایمان

بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے اختر الایمان نے کہا کہ اردو مترجمین اور نائب اردو مترجمین کی بحالی کو موجودہ حکومت نے ایک مسئلہ اور ایک معمہ بنا رکھا ہے

پٹنہ: بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اور بہار اسمبلی کے رکن و فلور لیڈر اختر الایمان نے کہا کہ اردو مترجمین اور نائب اردو مترجمین کی بحالی کو موجودہ حکومت نے ایک مسئلہ اور ایک معمہ بنا رکھا ہے۔

آج یہاں جاری ایک ریلیز میں انہوں نے کہا کہ مورخہ 12 فروری 2022 کو بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن کے مکتوب نمبر 520 کے ذریعہ 182 اردو ٹرانسلیٹر کو کامیاب قرار دے کر لیٹر جاری کیا گیا اور 3/4 مارچ 2022 کو تمام امیدواروں کی کونسلنگ بھی کی گئی اور دو چار کو چھوڑ کر سب کو درست قرار دیا گیا اور کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ ہی مزید کوئی کاغذ مانگا گیا۔ جس کی وجہ سے سارے امیدوار مطمئن تھے کہ ان کی ملازمت ہوگئی۔ لیکن مورخہ26 اپریل 2022 کو بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن نے غیر متوقع طور پر اپنے مکتوب نمبر 1547 کے ذریعہ مزید 308 اردو امیدواروں کو 13/14/12 مئی 2022 کونسلنگ کے لیے بلایا گیا۔

تقریبا سو امیدواروں کی بحالی مسترد

معتبر ذرائع سے اطلاع ملی کہ پہلی لسٹ کے تقریبا ایک سو امیدواروں کی بحالی کو مسترد کردیا گیا اور اس کی کوئی وجہ نا تو اخبار میں دی گئی نہ امیدوار کو بتائی گئی نہ ہی کمیشن کے ویب سائٹ پر ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن نے 3 جون 2022 اپنے مکتوب نمبر 2099 کے ذریعہ 149 کامیاب اردو ٹرانسلیٹر کی فہرست جاری کی۔ جب کہ 182 اردو مترجمین کے عہدے پر بحالی کی جانی ہے آخر 33 امیدواروں کی لسٹ کیوں نہیں شائع کی گئی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کمیشن کس ضابطے کے تحت امیدواروں کو کامیاب اور ناکام قرار دے رہا ہے وہ اپنی پالیسی اور پیمانہ کیوں نہیں ظاہر کرتا ہے۔

مسٹر اختر الایمان نے کہا کہ جس انداز سے بحالی کی کارروائی کی جا رہی ہے اس میں شفافیت نظر نہیں آتی ہے۔ بعض امیدواروں نے ان سے مل کر بتایا کہ میرا نام پہلی میرٹ لسٹ میں شامل ہے اور میں نے سارے کاغذات بھی پیش کر دیے ہیں اس کے باوجود میرا نام بلا وجہ بتائے کامیاب امیدواروں کی لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کونسل ہند کے ناظم اعلی ڈاکٹر اسلم جاوداں نے بھی مجھ سے مل کر اسٹاف سلیکشن کمیشن کے بحالی کے طور طریقے میں شفافیت پر سوال کھڑا کیا ہے۔

اردو آبادی میں بے چینی اور مایوسی کی لہر

انہوں نے اسلم جاوداں کے مطابق دعوی کیا کہ ڈاکٹر عشرت صبوحی پہلی لسٹ میں کامیاب قرار دی گئیں ان کے سارے کاغذات بھی درست پائے گئے۔ لیکن دوسری لسٹ نکال کر ان کو ناکام قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح سے محمد افروز نہال کو دوسری لسٹ کے ذریعے کونسلنگ میں بلایا گیا ان کے بھی سارے کاغذات درست تھے لیکن فائنل لسٹ میں ان کا نام نہیں دیا گیا اور نہ کوئی وجہ بتائی گئی ۔اس طرح کے درجنوں معاملات اردو آبادی کو پریشان کئے ہوئے ہیں اور اس میں بے چینی اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن تمام معاملات کو الجھا کر کورٹ میں پہنچا دینا چاہتا ہے، تاکہ یہ بحالی رک جائے اور اردو آبادی کے نوجوان بے روزگار ہی رہ جائیں۔

مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر نے وزیر اعلی بہار سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی سنگینی اور نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر اس کی بحالی میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ وگرنہ اس کے منفی اثرات سے بچا نہیں جا سکتا ہے۔

شیئر بازار میں دباؤ کے ساتھ کاروبار کا آغاز

0
شیئر بازار میں دباؤ کے ساتھ کاروبار کا آغاز
شیئر بازار میں دباؤ کے ساتھ کاروبار کا آغاز

شیئر بازار نے منگل کو گراوٹ کے ساتھ کاروبار شروع کیا، بی ایس ای مڈ کیپ 47.46 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 22692.37 پر اور اسمال کیپ 2.87 پوائنٹس گر کر 26,237.57 پر کھلا۔

ممبئی: شیئر بازار نے منگل کو گراوٹ کے ساتھ کاروبار شروع کیا۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا سینسیکس 302.14 پوائنٹس گر کر 55373.18 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 99.95 پوائنٹس گر کر 16469.60 پر کھلا۔

سرخ نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں گراوٹ نظر آئی۔ بی ایس ای مڈ کیپ 47.46 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 22692.37 پر اور اسمال کیپ 2.87 پوائنٹس گر کر 26,237.57 پر کھلا۔

واضح رہے کہ بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس پیر کو 93.91 پوائنٹس اتر کر 55675.32 پوائنٹس پر آگیا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 14.75 پوائنٹس پھسل کر 16,569.55 پوائنٹس پر رہ گیا۔

اہانت رسول معاملہ: معطلی کافی نہیں جیل ضروری: مایاوتی

0
اہانت رسول معاملہ: معطلی کافی نہیں جیل ضروری: مایاوتی
اہانت رسول معاملہ: معطلی کافی نہیں جیل ضروری: مایاوتی

اہانت رسول ؐ کے سلسلے میں ملک وبیرون ملک میں جاری مذمتی بیانات کے بعد آج سابق یوپی وزیر اعلی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’ملک میں سبھی مذاہب کا احترام ضروری ہے۔ کسی بھی مذہب کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال مناسب نہیں

لکھنؤ: اہانت رسول کے سلسلے میں بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے بیان پر جاری چو طرفہ تنقید کے درمیان بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے پیر کو بی جے پی ترجمان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ’صرف ان کو معطل کرنے یا نکالنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ انہیں سخت قوانین کے تحت جیل بھیجا جانا چاہئے۔

اہانت رسول ؐ کے سلسلے میں ملک وبیرون ملک میں جاری مذمتی بیانات کے بعد آج سابق یوپی وزیر اعلی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’ملک میں سبھی مذاہب کا احترام ضروری ہے۔ کسی بھی مذہب کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال مناسب نہیں۔ اس معاملے میں بی جے پی کو بھی اپنے لوگوں پر سخت سے شکنجہ کسنا چاہئے۔ صرف ان کو معطل یا نکالنے سے کام نہیں چلے بلکہ ان ان کی سخت قوانین کے تحت جیل بھیجنا چاہئے‘۔

انہوں نے اپنے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا ’اتنا ہی نہیں بلکہ کانپور میں ابھی حال ہی میں جو پرتشدد واقعہ پیش آیا ہے۔ اس کی تہہ تک جانا بہت ضروری ہے۔ بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ اس تشدد کے خلاف ہو رہی پولیس کاروائیوں میں بے قصور افراد کا پریشان نہ کیا جائے‘۔

قابل ذکر ہے کہ کچھ دنوں قبل بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی ڈبیٹ میں نبی آخر الزماں کے شان میں گستاخی کی تھی۔جس کے خلاف یوپی کے ضلع کانپور میں پر امن مظاہرے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں پولیس شرپسند عناصر کے خلاف لگاتار کاروائی کررہی ہے۔ وہیں اہانت رسول کا معاملہ بین الاقوامی شکل اختیار کرگیا اور چور طرفہ مذمت و تنقید کے بعد بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کردیا۔

نوپور شرما کی گرفتاری کا اویسی نے کیا مطالبہ

0
نوپور شرما کی گرفتاری کا اویسی نے کیا مطالبہ
نوپور شرما کی گرفتاری کا اویسی نے کیا مطالبہ

صدر مجلس بیرسٹر اویسی نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی معطل قومی ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے

حیدرآباد: بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے محسن انسانیت حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی معطل قومی ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹرس دارالسلام میں پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک نے ہندوستانی سفرا کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کروایا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں بے عزت ہوگیا ہے۔ ملک کی خارجہ پالیسی برباد ہوگئی ہے۔ نوپور شرما کی معطلی کافی نہیں ہے بلکہ ان کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ نوپور شرما کو پارٹی کی اعلی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی جان بوجھ کر اپنے ترجمانوں کو ٹی وی مباحث میں بھیجتی ہے تاکہ وہ اشتعال انگیز بیانات دیں۔ کویت، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک نے شرما کے ان خیالات پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بیانات جاری کئے ہیں۔ قطر اور کویت نے ہندوستانی سفرا کو طلب کرتے ہوئے احتجاجی نوٹ انہیں حوالے کئے ہیں۔

صدر مجلس نے گزشتہ روز اس مسئلہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہمارے ملک کی ایک سفارتی ناکامی ہے۔ اس کے لئے مودی حکومت کے عناصر ذمہ دار ہیں۔ بیرسٹر اویسی نے ایک اور ٹویٹ میں واضح کیا تھا کہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ گستاخی کرنے والے حاشیہ بردار اور گڑبڑ کرنے والے عناصر ہیں جبکہ ان کا تعلق راست پارٹی سے ہے اور وہ پارٹی کے ترجمان ہیں۔

حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے بیرون ممالک کے رد عمل سے خوفزدہ

انہوں نے کہا کہ ان کی پشت پناہی کوئی اور نہیں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کرتے ہیں۔ اسی لئے پولیس نے ان میں سے کسی کو اب تک گرفتار نہیں کیا ہے۔ حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے ہی چھوٹے ساورکر نفرت پھیلا رہے ہیں۔ اگر نسل کشی کے لئے اکسانے والی گیانگ کو سزا دی جاتی تو بی جے پی کے ترجمانوں کی جانب سے محسن انسانیت حضور اکرمؐ کی شان میں ٹی وی کے مباحث میں توہین نہیں کی جاتی۔ اس طرح کی حرکت سے ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

بیرسٹر اویسی نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ مرکزی حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے بیرون ممالک کے رد عمل سے خوفزدہ ہے۔

بی جے پی نے غیر ملکی دباؤ میں اپنے ترجمانوں کو ہٹایا: کانگریس

0
بی جے پی نے غیر ملکی دباؤ میں اپنے ترجمانوں کو ہٹایا: کانگریس
بی جے پی نے غیر ملکی دباؤ میں اپنے ترجمانوں کو ہٹایا: کانگریس

رندیپ سنگھ سرجے والا نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے ممالک ہمارے سفیروں کو بلا کر ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں اور سفیر بی جے پی کے ترجمانوں کو ’ فرنج ایلی منٹ‘ کہہ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک بیرونی ملک نے ہمارے محترم نائب صدر کے اعزاز میں منعقد ضیافت منسوخ کر دی؟

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ترجمانوں کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر ملکی دباؤ میں اور اپنی جھینپ مٹانے کے لیے ہٹایا ہے۔

کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اپنے اقدامات سے ملک کی عزت کو ٹھیس پہنچا رہی ہے اور اپنی شرمندگی دور کرنے کے لیے بیرونی ممالک کے دباؤ میں اپنے ترجمان کو ہٹا رہی ہے۔ ترجمانوں کو ہٹا کر بی جے پی اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کے لیے اپنا رنگ بدل رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے ممالک ہمارے سفیروں کو بلا کر ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں اور سفیر بی جے پی کے ترجمانوں کو ’ فرنج ایلی منٹ‘ کہہ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک بیرونی ملک نے ہمارے محترم نائب صدر کے اعزاز میں منعقد ضیافت منسوخ کر دی۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی قیادت تنگ نظر سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملک کو فرقہ وارانہ پولرائزیشن کے تاریک دور میں دھکیل رہی ہے اور اسے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملک کی شبیہ پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی واقعی سنجیدہ ہے تو اس نے اپنے لیڈروں کو پارٹی سے نکال کر ان کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکانے کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی شاید یہ بھی جانتی ہے کہ ہندوستانی نژاد تقریباً 320 لاکھ لوگ بیرون ملک رہتے ہیں اور ان میں سے 150 لاکھ خلیجی ممالک میں ہیں۔ سال 2021 میں ان ہندوستانیوں نے ملک میں چھ لاکھ کروڑ روپے واپس بھیجے تھے، جو کل انکم ٹیکس سے زیادہ ہے۔

طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی

0
طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی
طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی

بی جے پی ترجمان کے متنازعہ ریمارکس کی مذمت میں اسلامی ممالک میں اب طالبان حکومت بھی شامل ہوگئی ہے، مبینہ بیان پر مسلم دنیا میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے

کابل/نئی دہلی: پیغمبر اسلام کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نکالے گئے ترجمان کے متنازعہ ریمارکس کی مذمت میں اسلامی ممالک میں اب طالبان حکومت بھی شامل ہوگئی ہے۔ مبینہ بیان پر مسلم دنیا میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان ہندوستان میں حکمران جماعت کے ایک لیڈر کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز الفاظ کے استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے بنیاد پرستوں کو دین اسلام کی توہین کرنے اور مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جوائنٹ سکریٹری جے پی سنگھ کی قیادت میں حکومت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے چند روز قبل کابل کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی تھی۔ ہندوستان افغانستان کے لوگوں کو گیہوں، ادویات اور کووڈ ویکسین فراہم کر رہا ہے۔ اس ٹیم نے وہاں ہندوستان کی طرف سے چلائے جارہے ترقیاتی منصوبوں کا بھی معائنہ کیا۔