جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 232

ہندوستانی ریلوے کی نئی اسکیم ‘اسٹارٹ اپس فار ریلوے’ کا آغاز

0
ہندوستانی ریلوے کی نئی اسکیم 'اسٹارٹ اپس فار ریلوے' کا آغاز
ہندوستانی ریلوے کی نئی اسکیم 'اسٹارٹ اپس فار ریلوے' کا آغاز

ریلوے کے وزیر نے کہا کہ اس اسکیم میں ہندوستانی ٹیلنٹ کو حلول تیار کرنے کے آئیڈيا سے لے کر پیداوار تک اور پھر بڑے پیمانے پر پیداوار سے لے کر ریلوے میں یقینی خریداری کے لیے مارکیٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی اور مدد دی جائے گی

نئی دہلی: ریلوے نے آج یہاں ایک نئی اختراعی پالیسی ‘اسٹارٹ اپس فار ریلوے’ کا اعلان کیا، جس کا مقصد تجدید کاری کے لیے نئے تکنیکی حل دریافت کرنا ہے، جس میں اسٹارٹ اپ کو آئیڈیا سے پروڈکشن تک کی لاگت کا 50 فیصد تک کی مالی مدد فراہم کرنے اور مارکیٹ تک یقینی رسائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ریلوے کے وزیر اشونی وشنو نے آج یہاں ریل بھون میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں اختراعی پالیسی کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ریلوے کے وزیر مملکت راؤ صاحب دانوے پاٹل اور محترمہ درشنابین زردوش ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔ پروگرام میں ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر وی کے ترپاٹھی، بورڈ کے ارکان اور دیگر افسران موجود تھے۔

مسٹر وشنو نے ریلوے کی جدت طرازی سے متعلق ایک نیا پورٹل لانچ کیا اور اس کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے نے تکنیکی تجدید کاری کے لیے ایک جامع مطالعہ کیا ہے اور تقریباً 160 مسائل کی نشاندہی کی ہے جن کا تکنیکی حل ابھی تک تلاش کرنا باقی ہے۔ اس لیے، خیال یہ ہے کہ اس راستے پر ایسے اسٹارٹ اپس کو شامل کرکے آگے بڑھیں جو نئے تکنیکی حل پیش کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ریلوے کو درپیش 160 مسائل میں سے 11 اہم مسائل

وزیر موصوف نے کہا کہ اس منصوبے میں ریلوے کو درپیش 160 مسائل میں سے 11 اہم مسائل – ٹوٹی ہوئی پٹری کا پتہ لگانا، ریلوے ٹریک کے تناؤ کی نگرانی کا نظام، مضافاتی خدمات میں دو ٹرینوں کے درمیان فاصلہ طے کرنے والے ہیڈ وے سسٹم کی اپ گریڈیشن، خودکار ٹریک انسپیکشن سسٹم، جدید ایلسٹومرک پیڈز کا بھاری ڈیزائن، تھری فیز الیکٹرک انجنوں کے ٹریکشن موٹرز کے آن لائن مانیٹرنگ سسٹم کی ترقی، نمک جیسی ہلکی اشیاء کی نقل و حمل کے لیے ہلکی ویگنیں، مسافروں کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تجزیے کے آلات، ٹریک کلیننگ مشین، پوسٹ ٹریننگ ریپیٹیشن ایپ اور ریموٹ سینسنگ جیومیٹکس اور پلوں کے معائنہ کے GIS کے لیے جدید ترین تکنیکی حل تلاش کرنے کے لیے منتخب اسٹارٹ اپس کو ایک سے ڈیڑھ سال کا وقت دیا جائے گا۔ انہیں مرحلہ وار 1.5 کروڑ روپے تک کی امداد دی جائے گی، جو لاگت کا 50 فیصد تک ہوگی۔

ریلوے کے وزیر نے کہا کہ اس اسکیم میں ہندوستانی ٹیلنٹ کو حلول تیار کرنے کے آئیڈيا سے لے کر پیداوار تک اور پھر بڑے پیمانے پر پیداوار سے لے کر ریلوے میں یقینی خریداری کے لیے مارکیٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی اور مدد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب تک 102 یونیکارن تیار ہو چکے ہیں۔ ملک کے نوجوانوں میں جوش و خروش ہے اور ریلوے ان کی توانائی کو بروئے کار لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی ہنر ملک میں ایسے تکنیکی حل تیار کرے گا جنہیں بیرون ملک برآمد کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چار پانچ سالوں میں ہندوستانی ریلوے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔

متنازعہ تبصرہ پر لیڈر کے خلاف بی جے پی کی کارروائی کے بعد احتجاج کا کوئی مطلب نہیں: نتیش

0
متنازعہ تبصرہ پر لیڈر کے خلاف بی جے پی کی کارروائی کے بعد احتجاج کا کوئی مطلب نہیں: نتیش
متنازعہ تبصرہ پر لیڈر کے خلاف بی جے پی کی کارروائی کے بعد احتجاج کا کوئی مطلب نہیں: نتیش

نتیش نے کہا کہ ایک خاص کمیونیٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے متنازعہ تبصرہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کا اپنے لیڈر کے خلاف کاروائی کئے جانے کے بعد کسی احتجاج کا کوئی مطلب نہیں ہے

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کہا کہ حال ہی میں ٹیلی ویژن چینل پر مباحثے کے دوران ایک خاص کمیونیٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے متنازعہ تبصرہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا اپنے لیڈر کے خلاف کاروائی کئے جانے کے بعد کسی احتجاج کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

مسٹر کمار نے سموار کو یہاں ”جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ“ پروگرام کے بعد بی جے پی ترجمان رہیں نوپور شرما کے بیانات سے متعلق نامہ نگاروں کے سوال پر کہا کہ ”اس سلسلے میں بی جے پی نے کاروائی کی ہے۔ کچھ مقامات پر مظاہرے بھی ہوئے۔ جیسے ہی اس دن مجھے اس طرح کے واقعہ کا علم ہوا، میں دوسری چیزوں کا ریویو کررہا تھا لیکن اسے چھوڑ کر میں نے فوراً چیف سکریٹری سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو طلب کیا اور کہا کہ فورا ً اسے دیکھئے اور بہار میں کہیں اس طرح کی بات نہ ہو۔ اگر کوئی بات ہوتی ہے تو اسے سنجیدگی سے دیکھیں۔“

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی بیان دیا ہے تو اس پر کاروائی ہوگی۔ اس کے بعد بھی کچھ ہورہا ہے تو اس پر ضرور دھیان رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کتنا بھی اچھا کیجئے لیکن کچھ لوگ ہوتے ہیں جو جان ۔ بوجھ کر جھگڑا کروانا چاہتے ہیں۔ بہار میں کوئی ایسی صورتحال نہیں ہے۔ سب ٹھیک ہے، نارمل ہے۔

مسٹر کمار نے رانچی میں ہوئے واقعے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ افسران کی پورے معاملے پر نظر رہے۔ کہیں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس پر کاروائی ہونی چاہئے۔ یہ حکومت کا کام ہے۔ ہم لوگوں کے یہاں کوئی واقعہ ہوتاہے تو فورا ً کاروائی ہوتی ہے۔

یہاں کے وزیر کے ساتھ وہاں جو کچھ ہوا ہے، اس سے متعلق یہاں سے ساری باتیں کہی گئی ہیں۔ یہ ان کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ سب کچھ دیکھیں۔ کسی کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی کرنا اچھی بات نہیں ہے۔

پریاگ راج: امن پسند مظاہرین کو بلڈوزر سے سزا دے رہی ہے حکومت: اکھلیش

0
پریاگ راج: امن پسند مظاہرین کو بلڈوزر سے سزا دے رہی ہے حکومت: اکھلیش
پریاگ راج: امن پسند مظاہرین کو بلڈوزر سے سزا دے رہی ہے حکومت: اکھلیش

اکھلیش یادو نے ٹویٹ کر کہا ‘یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے اور دنیا کی جانب سے سخت تبصرہ آیا وہ سیکورٹی کے گھیرے میں ہیں اور پرامن مظاہرین کو بغیر قانونی چارہ جوئی اور جانچ پڑتال کے بلڈوزر سے سزا دی جارہی ہے

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے اترپردیش کے ضلع پریاگ راج میں گذشتہ جمعہ کو ہوئے مظاہرے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد جاوید احمد عرف جاوید پمپ کے گھر کو بلڈوزر سے اتوار کو زمین دوز کئے جانے کی کاروائی کو تفریقانہ قرار دیتے ہوئے اسے انصاف کے خلاف بتایا۔

پریاگ راج میں مقامی انتظامیہ کے ذریعہ جاوید کے گھر کو غیر قانونی تعمیر کا نتیجہ بتا کر اسے منہدم کرنے کی کاروائی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اکھلیش نے اس کاروائی کے پیچھے حکومت کی منشی پر سوال کھڑے کئے ہیں۔

انہوں نے ٹویٹ کر کہا ‘یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے اور دنیا کی جانب سے سخت تبصرہ آیا وہ سیکورٹی کے گھیرے میں ہیں اور پرامن مظاہرین کو بغیر قانونی چارہ جوئی اور جانچ پڑتال کے بلڈوزر سے سزا دی جارہی ہے۔ اس کی اجازت نہ ہماری تہذیب دیتی ہے، نہ مذہب، نہ قانون، نہ آئین۔

پرامن مظاہرے کے جمہوری حق کی توہین

قابل ذکر ہے کہ خلدآباد تھانہ علاقے میں واقع جاوید کی رہائش گاہ کو پریاگ راج دیولپمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو اتھارٹی کی منظوری کے بغیر بنائے جانے کے الزام میں مسمار کردیا۔ اس معاملے میں ایس پی کی جانب سے جاری بیان میں بھی اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں پوری دنیا میں اترپردیش کی بدنامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پرامن مظاہرے کے جمہوری حق کی توہین کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ‘بی جے پی حکومت کو بغیر قانونی چارہ جوئی کے کسی کے مکان۔ دوکان کو بلڈوزر سے گرانا، نامعلوم کے نام پر معصوموں کی گرفتاری، مخصوص سماج کو خاطی ٹھہرانے کی کوششیں وغیرہ کی اجازت نہ تو ہماری تہذیب، نہ مذہب۔قانون اور نہ ہی آئین دیتا ہے۔ اس کے پیش نظر انہوں نے ریاست کی گورنر سے مانگ کیا ہے کہ وہ حالات کا خود نوٹس لے کر فوری سخت کاروائی کئے جانے کی ہدایت دیں جس سے ریاست میں امن و امان اور حکومت کی من مانی اور اقتدار کے غلط استعمال پر پابندی لگ سکے۔

بی جے ہی کی نفرت کی سیاست

انہوں نے دلیل دی کہ نظم و نسق بنائے رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جس میں وہ پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ہر شعبے میں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جھوٹے، قصے کہانیاں گڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اکھلیش نے کہا ‘یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بی جے ہی کی سیاست اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی ہدایت پر نفرت اور سماج کو تقسیم کرنے کی رہتی ہے۔

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ حال ہی میں خوفناک عدم امن و امان کے واقعات پیش آئے ہیں اس کے پیچھے وہی سیاست ہے۔ بی جے پی بگڑے بول سے ایک بڑا سماج دلبرداشتہ ہوا۔ بی جے پی حکومت نے اس مایوس کن تنازع کے اختتام اور متعلقہ فریق کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس سے بحران کی کھائی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔

جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے وہ سیکورٹی کے گھیرے میں

ریاست کے نائب وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی کا رویہ اب بھی انصاف کے مطابق نہیں دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے اور دنیا بھر سے سخت تبصرے آئے وہ سیکورٹی کے گھیرے میں ہے اور بغیر جانچ پڑتال کے روان کی مانند’ راکششی بلڈوزر’ سے رام راجیہ کچلا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین جمہوریت، سماج واد کے ساتھ سیکولرزم کو منظوری دیتا ہے۔ یہ سبھی مذاہب کا احترام کرنے کا بھروسہ دیتا ہے۔ اترپردیش گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔ ہم تمام تیوہاروں کو ایک ساتھ مل کر پوری ہم آہنگی کے ساتھ مناتے ہیں اورسماجی کاموں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس یکتا کو توڑنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔

مان حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر مودی کو ہڑپنے نہیں دے گی: عآپ

0
مان حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر مودی کو ہڑپنے نہیں دے گی: عآپ
مان حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر مودی کو ہڑپنے نہیں دے گی: عآپ

پارٹی ہیڈکوارٹر سے جاری ایک بیان میں ترجمان مالویندر سنگھ کانگ نے کہا کہ پارٹی پنجاب کے تاریخی تعلیمی اداروں پر قبضہ کرنے کی نریندر مودی حکومت کی سوچ کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑے گی

چنڈی گڑھ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے اتوار کو کہا کہ بھگونت مان کی حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر ہڑپنے کی اجازت نہیں دے گی۔

پارٹی ہیڈکوارٹر سے جاری ایک بیان میں ترجمان مالویندر سنگھ کانگ نے کہا کہ پارٹی پنجاب کے تاریخی تعلیمی اداروں پر قبضہ کرنے کی نریندر مودی حکومت کی سوچ کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑے گی۔

انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کو پنجاب سے چھیننے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی پر پنجاب ریاست کا آئینی، جذباتی اور تاریخی حق ہے۔

مسٹر کانگ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی عظیم پنجاب کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس ادارے نے عالمی سطح پر نام کمایا ہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد پنجاب کی اس وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے پہلے شملہ اور پھر پنجاب کے دارالحکومت چنڈی گڑھ میں قائم کیا گیا۔ لہٰذا پنجاب یونیورسٹی پر صرف اور صرف پنجاب کا حق ہے اور کوئی بھی مرکزی حکومت پنجاب سے یہ ورثہ نہیں چھین سکتی۔

پنجاب یونیورسٹی پر اب مودی حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس اور شرومنی اکالی دل پر پنجاب کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے، وراثت کو برباد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب پر طویل عرصے تک حکومت کرنے والی ان جماعتوں نے ریاست کی تمام یونیورسٹیوں کو برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر مالی طور پر کمزور کی گئی پنجاب یونیورسٹی پر اب مودی حکومت ایک سازش کے تحت قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی سینٹرلائزیشن کی کوششوں کے خلاف 9 جون کو دس طلبہ تنظیموں نے ریلی نکالی تھی اور اس دوران پنجاب پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ پنجاب اسٹوڈنٹس یونین (للکار) کے طلباء رہنماؤں نے آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس مسئلے پر لاعلمی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور پوری ریاست کے طلباء سمیت سماج کے مختلف طبقوں سے یونیورسٹی کو بچانے کی جنگ لڑنے کے لئے ایک ساتھ آنے کی اپیل کی۔

نازیبا ریمارکس: تشدد بھڑکانے والوں کو ممتا کی سخت وارننگ

0
نازیبا ریمارکس: تشدد بھڑکانے والوں کو ممتا کی سخت وارننگ
نازیبا ریمارکس: تشدد بھڑکانے والوں کو ممتا کی سخت وارننگ

محترمہ بنرجی نے ٹویٹ کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے گناہوں کی سزا عام آدمی کب تک برداشت کرے گا؟

کولکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو ہوڑہ ضلع کے کچھ حصوں میں عام زندگی کو متاثر کرنے والوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

محترمہ بنرجی نے ٹویٹ کیا کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ ہوڑہ ضلع میں دو دنوں سے پرتشدد واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کچھ سیاسی جماعتوں کا ہاتھ ہے، جو چاہتے ہیں کہ ریاست میں تشدد پھوٹ پڑے، لیکن میں ایسے لوگوں پر واضح کردینا چاہتی ہوں کہ ایسی حرکتیں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے گناہوں کی سزا عام آدمی کب تک برداشت کرے گا؟

قابل ذکر ہے کہ پیغمبر اسلام کے خلاف بی جے پی لیڈروں کے نازیبا ریمارکس اور انہیں پارٹی سے نکالے جانے کے بعد بھی ملک میں اور خاص طور پر اتر پردیش اور دارالحکومت دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اس کا اثر مغربی بنگال میں بھی نظر آیا اور ان لیڈروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے ہوڑہ ضلع کے کئی حصوں میں ہائی وے ٹریفک اور ریل گاڑیوں کو روک دیا۔ جمعہ کو ان مظاہروں کے پرتشدد ہونے کے بعد ہوڑہ ضلع انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی اور ضلع کے تشدد سے متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل کر دیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی کا ذکر

0
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی کا ذکر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی کا ذکر

جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے کہا کہ اس سال "تجویز میں پہلی بار ہندی زبان کے ساتھ ساتھ بنگالی اور اردو زبانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ/نئی دہلی: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی زبان کا ذکر کیا گیا ہے اور ہندوستان نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

اینڈورا نے یہ تجویز 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی اور ہندوستان سمیت 80 سے زائد ممالک نے اس تجویز کی توثیق کی۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے کہا کہ اس سال "تجویز میں پہلی بار ہندی زبان کے ساتھ ساتھ بنگالی اور اردو زبانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ "یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ میں کثیر لسانی کو حقیقی روح کے ساتھ اپنایا جائے اور ہندوستان اس مقصد کو حاصل کرنے میں اقوام متحدہ کی حمایت کرے گا۔”

مسٹر تریمورتی نے اس بات پر زور دیا کہ کثیر لسانی کو اقوام متحدہ کی بنیادی اقدار میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کثیر لسانی کو ترجیح دینے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستان 2018 سے اقوام متحدہ کے شعبہ عالمی مواصلات کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے اور ہندی زبان میں مرکزی دھارے کی خبروں اور ملٹی میڈیا مواد کے لیے اضافی بجٹ میں تعاون کر رہا ہے۔

مسٹر تریمورتی نے کہا کہ ان کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ‘اقوام متحدہ میں ہندی’ پروجیکٹ 2018 میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ہندی زبان میں اقوام متحدہ کی رسائی کو بڑھانا اور لاکھوں ہندی بولنے والوں میں عالمی مسائل کے بارے میں پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ بیداری پھیلانا ہے۔

پورنیہ ضلع: اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک

0
پورنیہ ضلع: اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک
پورنیہ ضلع: اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک

کشن گنج ضلع کے مہین گاؤں پنچایت کے نونیا گاؤں کے کچھ لوگ اپنی بیٹی کو تلک چڑھانے کے لیے پورنیہ ضلع کے بیسا بلاک کے چنکی تاراباڑی گئے تھے

پورنیہ: بہار میں پورنیہ ضلع کے انگڑھ تھانہ علاقے میں اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب گئے۔

پولیس ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ کشن گنج ضلع کے مہین گاؤں پنچایت کے نونیا گاؤں کے کچھ لوگ اپنی بیٹی کو تلک چڑھانے کے لیے پورنیہ ضلع کے بیسا بلاک کے چنکی تاراباڑی گئے تھے۔

اسکارپیو پر سوار لوگ جمعہ کو دیر رات واپس لوٹ رہے تھے کہ موڑ کے قریب اسکارپیو بے قابو ہوکر تالاب میں گر گئی۔ اسکارپیو کے پیچھے بیٹھے دو افراد کسی طرح شیشہ توڑ کر باہر نکلے۔ اس واقعہ میں آٹھ افراد تالاب میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت گنگا پرساد یادو، تانڈو لال یادو، کرن لال یادو، امرچند یادو، کالی چرن یادو، رام کشن یادو، گلاب چند یادو اور مانک لال کے طور پر کی گئی ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کشن گنج بھیج دیا گیا ہے۔

پاکستان نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی امریکی رپورٹ خارج کی

0
پاکستان نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی امریکی رپورٹ خارج کی
پاکستان نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی امریکی رپورٹ خارج کی

امریکی کمیشن کی بین الاقوامی مذہبی آزادی پر 2022 کی رپورٹ نے پاکستان کو ‘خصوصی تشویش کا ملک’ کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے کی سفارش کی ہے

اسلام آباد: پاکستان کی وزارت خارجہ نے ملک میں خراب ہوتی مذہبی آزادی پر مبنی امریکی رپورٹ کو ’’من مانی‘‘ اور ’’سبجیکٹیو‘‘ تشخیص قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے ہفتہ وار میڈیا بیان میں کہا کہ اس طرح کی رپورٹس کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ نوعیت کے اعتبار سے یک طرفہ ہیں اور تخلیقی وابستگی کے عنصر سے خالی ہیں۔

مسٹر احمد نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹ اکثر زمینی حقیقت اور ملک کی کوششوں کو پوری طرح سے پیش نظر نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت ہم نے دیکھا ہے کہ ایسی رپورٹس ہمیشہ یک طرفہ ہوتی ہیں۔ آپ ان رپورٹس میں مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے مسائل اور مختلف حالات کے تناظر اور انہیں پیش کرنے کے طریقے میں کچھ دوہرے معیارات واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

مسٹر احمد نے کہا کہ پاکستان عالمگیر نوعیت کے انسانی حقوق کے احترام کے لیے پرعزم ہے۔ یہ ملک میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے احترام کو یقینی بنانے کے لئے تہہ دل سے وقف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے لیے متعدد اصلاحات کی ہیں اور وہ ان معاملات پر اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ تعمیری طور پر جڑا ہوا ہے۔

امریکی کمیشن کی بین الاقوامی مذہبی آزادی پر 2022 کی رپورٹ نے پاکستان کو ‘خصوصی تشویش کا ملک’ کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں ملک پر بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے ذریعہ بیان کردہ مذہبی آزادی کی منظم اور سنگین خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

گستاخ رسول آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آئین کے پاسدار جیل بھیجے جارہے ہیں: کلیم الحفیظ

0
گستاخ رسول آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آئین کے پاسدار جیل بھیجے جارہے ہیں: کلیم الحفیظ
گستاخ رسول آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آئین کے پاسدار جیل بھیجے جارہے ہیں: کلیم الحفیظ

مسٹر کلیم الحفیظ نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ آئین کا مذاق اڑانے والے اور ملک کی شبیہ خراب کرنے والے تو اپنے بنگلوں میں عیش کررہے ہیں اور آئینی حق کا استعمال کرکے احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیجا جارہا ہے

نئی دہلی: موجودہ حکومت میں جمہوریت کا قتل کیا جارہا ہے۔ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کی گئی اور ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مجلس کے ذمہ داران کو کل سارے دن پولیس کسٹڈی میں رکھا گیا اور آج عدالت نے ضمانت دینے کے بجائے جیل بھیج دیا، جبکہ گستاخی کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے عدالت کے ذریعے جیل بھیجے جانے کا حکم سنانے کے بعد کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیشہ آئین کے دائرے میں رہ کر بات کرنے والے قائد مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی پر جھوٹی ایف آئی آر کرائی جارہی ہے۔ دہلی میں بھی مجلس کے کارکنان کو مقامی پولیس ہراساں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ہم اللہ کے رسول کی محبت میں جیل جارہے ہیں۔ ہم کوئی چور یا ڈاکو نہیں ہیں۔ یہ ہمارے لیے نصیب کی بات ہے۔ لیکن اس سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ حکومت اے آئی ایم آئی ایم کی طاقت سے خوف کھاتی ہے۔اسی لیے تو اس نے چند مٹھی بھر لوگوں کو احتجاج تک نہیں کرنے دیا۔ کسی جمہوری ملک میں پر امن احتجاج کرنا عوام کا حق ہے۔

موجودہ حکومت انگریزوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے

صدر مجلس نے کہا کہ موجودہ حکومت میں آئین کی نہیں بلکہ شاہ کی چلتی ہے۔ یہ حکومت انگریزوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ عوام کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ لیکن ہندوستان کی انصاف پسند عوام چپ بیٹھنے والی نہیں ہے وہ گستاخان رسول کو سزا دلوانے تک اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

مسٹر کلیم الحفیظ نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ آئین توڑنے والے اور ملک کی شبیہ خراب کرنے والے تو اپنے بنگلوں میں عیش کررہے ہیں اور آئینی حق کا استعمال کرکے احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیجا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا رسول کی شان میں گستاخی کرنے والے ہندوستانی عوام کے دشمن ہیں۔

انھوں نے مسلمانوں کا تو دل ہی دکھایا ہے لیکن ملک کی معیشت کو بربادی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ ہمارے جیل جانے سے کسی کا جرم کم نہیں ہوجاتا۔ دنیا سب دیکھ رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو اس کا حساب دینا ہوگا۔

کلیم الحفیظ نے مجلس کے وابستگان سے اپیل کی کہ وہ ہمت نہ ہاریں۔ بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اپنا پر امن احتجاج جاری رکھیں، اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو جیل بھرو آندولن بھی شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کل یعنی 9 جون کو مجلس دہلی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی جس کی پولیس نے اپنی دی ہوئی پرمیشن کینسل کردی تھی اور پارٹی کے 30 ذمہ داران کو جس میں دہلی کے صدر بھی تھے گرفتار کرلیا تھا۔ آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انھیں جیل بھیج دیا۔ اب اگلی سنوائی 13 جون کو ہوگی۔

جیل جانے والوں میں صدر کے علاوہ راجیو ریاض، انور اقبال نقوی، سرتاج عالم، اصغر انصاری، فہمید حسن، سمیر خان، شاہدعلی خان، شاہنواز ہندوستانی، محمد شاہد وغیرہ تھے۔ تین لوگوں افضل آفریدی، حاجی انتظار پردھان اور فخرالدین کو کل شام رہا کردیا گیا تھا۔

انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے

0
انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے
انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے

ایودھیا کے باشندے پہلے بابری مسجد کو سیتا رسوئی مسجد کہتے تھے

ایودھیا میں واقع ہنومان گڑھی میں مسجد کے انہدام کی جھوٹی خبر کے بعد ایودھیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کا پہلا واقعہ اس لیے ہوا کہ انتہا پسند مسلمانوں کا گروپ بابری مسجد کے اندر ٹھہرا ہوا تھا اور مسجد ہی میں سب کو مار دیا گیا تھا، اسی لیے خود بابری مسجد بھی متنازعہ ہو گئی۔

خاص بات یہ ہے کہ اس وقت تک ایودھیا کے باشندے بابری مسجد کو سیتا رسوئی مسجد کہتے تھے۔ تاہم اس وقت تک انگریز ملک پر قابض ہو چکے تھے، اس لیے معاملہ انگریزوں کے ہاتھ میں پہنچ چکا تھا۔

انگریزوں نے مسلمانوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جب کہ ہندوؤں کو مسجد کے باہر پوجا کرنے کی اجازت تھی

1859 میں انگریزوں نے مسلمانوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے اور ہندوؤں کو مسجد کے باہر خاردار تاروں سے گھیر کر پوجا کرنے کی اجازت دی تھی۔ 1877 میں مسجد کے متولی سید محمد اصغر نے انگریزوں سے مسجد کے بیرونی احاطے میں رام چبوترہ کی تعمیر کی شکایت کی جس کے بعد انگریزوں نے ایک ٹیم بھیجی لیکن اس معاملے میں مداخلت نہیں کی۔ اس پلیٹ فارم پر ہندوؤں نے بھجن کیرتن کرنے لگے اور معاملہ کچھ دنوں کے لیے ٹھنڈا ہوگای۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ میں ہندو اور مسلمان متحد ہوگئے

سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ معاملہ صرف ایودھیا تک محدود تھا کیونکہ 1857ء میں انقلاب کا بگل بج چکا تھا اور ہندو مسلم اتحاد کا پرچم لہراتے ہوئے سب انگریزوں کے خلاف محاذ تیار کرچکے تھے۔

جھانسی کی رانی لکشمی بائی، تانتیا ٹوپے، نانا صاحب پیشوا، بیگم حضرت محل، کنور سنگھ، منگل پانڈے، مولانا احمد اللہ شاہ اور مولانا فضل حق خیرآبادی جیسے لوگوں نے انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن کئی ریاستوں اور چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا مگر بہت سارے راجواڑوں اور چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے اس جنگ میں انگریزوں ک ہیا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ہم آزادی کی پہلی جنگ نہیں جیت سکے۔

ہزاروں ہندوستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ہزاروں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، بعض کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت بننے والے بہادر شاہ ظفر کو انگریز حکمرانوں نے گرفتار کر کے رنگون بھیج دیا۔

انگریزوں کے خلاف انقلاب کا بگل

چند ہائیوں کے بعد ایک بار پھر ہندوستانیت کی لہر نے طوفان کی شکل اختیار کر لی اور بیسویں صدی کے دوسری دہائی میں ایک بار پھر انگریزوں کے خلاف انقلاب کا بگل بجادیا گیا۔

اس بار بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خاں، رام پرساد بسمل، راج گرو، نیتا جی سبھاش چندر بوس، راجہ مہندر پرتاپ، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اور مولانا حسرت موہانی جیسے نام اس جدوجہد میں شامل رہے۔

تقسیم ہند

ہندوستانی انقلابیوں کی دوسری جماعت کانگریس کی قیادت میں کھڑی ہوی اور پھر مہاتما گاندھی کی شکل میں ہندوستانیوں کو ایک مسیحا ملا اور ہم 1947 میں آزاد ہوئے لیکن انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ہم سب کے سینے پر ایک زخم لگ گیا اور اس خوبصورت ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اس کام کو مذہب کے نام پر انجام دیا گیا اور ملک کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے محمد علی جناح کو اپنا ایجنٹ بنایا۔

حیرت کی بات ہے کہ ملک کی تقسیم جیسے اہم فیصلے میں ملک کے ہندو اور مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ صرف جناح اور مسلم لیگ کی آواز پر ملک دو حصوں میں تقسیم ہوا، جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کی تقسیم کے بارے میں رائے عامہ جاننے کے لیے ریفرنڈم کرایا جاتا۔

کئی ممتاز مسلم اداروں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی

خاص بات یہ تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مذہبی رہنما اور سنی مسلمانوں کی ایک عظیم شخصیت بھی قیام پاکستان کی مخالفت میں تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مولانا آزاد اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ لاکھوں مسلمان تھے۔

ان کے علاوہ سنی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے معروف مذہبی رہنما مولانا حسین احمد مدنی بھی پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتے رہے۔ دوسری طرف شیعہ طبقے کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے اسٹیج سے بڑے بڑے شیعہ علمائے کرام ملک کی تقسیم کی مخالفت کر رہے تھے۔

سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ اللہ بخش سمرو بھی جناح کے دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے سندھ میں اس وقت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ اسمبلی کو بتایا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ملک کی تقسیم نہیں چاہتے ہیں، ان کے علاوہ احرار تحریک کے سرکردہ رہنما سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے۔

اس وقت ملک کے 4 کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آل انڈیا مومن کانفرنس کی جانب سے ملک کی تقسیم کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ لیکن انگریزوں نے اس احتجاج پر توجہ نہیں دی، انگریز پاکستان کے قیام کے خلاف اٹھنے والی آواز کو نظر انداز کر رہے تھے تاکہ انہیں یہ لگے کہ متحدہ اور وسیع ہندوستان مستقبل میں مغربی ممالک کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔

اس سے پہلے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا

تقسیم ہند سے پہلے انگریزوں اور ان کے اتحادیوں نے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا اور وہ سمجھ چکے تھے کہ اپنے مخالفین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا برطانوی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں ہے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

19 – انیسویں قسط

20 – بیسویں قسط