جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 231

بہار میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرے

0
بہار میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرے
بہار میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرے

اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت میں امیدواروں نے بہار کے مختلف اضلاع میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی

پٹنہ: فوج میں بحالی کیلئے اعلان کردہ اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت میں امیدواروں نے آج بہار کے سارن، گوپال گنج، جہان آباد، نوادہ، گیا، آرہ، بکسر، مونگیر اور سہرسہ سمیت کئی اضلاع میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی۔

پولیس ذرائع نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف مظاہرین سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرہ کررہے ہیں۔

ٹرینوں کی آمد و رفت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ آرہ جنکشن ریلوے اسٹیشن اور آس پاس پرتشدد مظاہرہ کر رہے مظاہرین کو کھدیڑنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ہیں۔ مظاہرین نے اسٹیشن پر ریلوے کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

ایسٹ سینٹرل ریلوے (ای سی آر) کے چیف رابطہ افسر کے مطابق ای سی آر کے چار ریلوے ڈویژن داناپور، پنڈت دین دیال اپادھیائے، سمستی پور اور سونپور کے 7 ریل روٹوں کو متاثر کیا گیا۔ گوپال گنج میں امیدواروں نے سدھولیا میں گورکھپور ۔ پاٹلی پتر ایکسپریس ٹرین کو آگ کے حوالے کر دیا۔

ٹرین کے کئی ڈبے پوری طرح سے جل کر خاک ہوگئے۔ اسی طرح امیدواروں نے چھپرہ میں بھی ٹرینوں میں آگ لگا دی۔

امیدواروں نے سب سے پہلے پٹنہ ۔ گیا ریل سیکشن پر جہان آباد میں صبح 6 بج کر 35 منٹ پر ٹرینیں روک دیں۔ اس کی وجہ سے ریل سیکشن پر صبح 10 بج کر 08 منٹ تک آمد و رفت متاثر رہی۔ اپ اور ڈاﺅن کی کل 5 ٹرینیں متاثر رہیں۔ اس کے بعد صبح 11:30 بجے سے بیلا اسٹیشن پر مظاہرہ شروع ہوا جس کے بعد پھر ٹرینوں کو روک دیا گیا۔

جی 7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کر لیا: زیلینسکی

0
جی 7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کر لیا: زیلینسکی
جی 7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کر لیا: زیلینسکی

مسٹر زیلنسکی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’جرمن چانسلر اولاف سکولز کی طرف سے جی 7 چوٹی کانفرنس اور نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی طرف سے نیٹو کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کا دعوت نامہ ملا ہے، جسے میں تہہ دل سے قبول کرتا ہوں‘‘

کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں جرمنی میں منعقد جی 7 چوٹی کانفرنس اور میڈرڈ میں نیٹو (شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔

مسٹر زیلنسکی نے دیر رات کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’جرمن چانسلر اولاف سکولز کی طرف سے جی 7 چوٹی کانفرنس اور نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی طرف سے نیٹو کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کا دعوت نامہ ملا ہے، جسے میں تہہ دل سے قبول کرتا ہوں‘‘۔

نیویارک ٹائمز میں پہلے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت میں لوگ یوکرین میں جاری تنازع میں اپنی دلچسپی کھو دیں گے اور ساتھ ہی اس کے لیے یورپی تنظیم کے متحد ہونے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

کانفرنسوں میں زیلنسکی کی شرکت شاید یوکرین کی موجودہ صورتحال پر لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھے گی۔

سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ

0
سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ
سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ

توانائی، یوٹیلیٹیز، تیل اور گیس اور بجلی سمیت دس گروپوں میں فروخت کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی آج مسلسل چوتھے دن گراوٹ رہی

ممبئی: عالمی مارکیٹ میں تیزی کے باوجود مقامی سطح پر توانائی، یوٹیلیٹیز، تیل اور گیس اور بجلی سمیت دس گروپوں میں فروخت کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی آج مسلسل چوتھے دن گراوٹ رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 152.18 پوائنٹس گر کر 52541.39 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 39.95 پوائنٹس گر کر 15692.15 پوائنٹس پر آگیا۔ تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کی خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ اس عرصے کے دوران مڈ کیپ 0.52 فیصد بڑھ کر 21,955.28 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 25,065.95 پوائنٹس تک پہنچ گئی۔

اس دوران بی ایس ای پر کل 3442 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1519 کی قیمتوں میں کمی 1775 میں اضافہ جبکہ 148 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 25 کمپنیاں سرخ رہیں جبکہ باقی 25 سبز نشان پر رہیں۔

بی ایس ای کے 10 گروپوں میں تیزی رہی جبکہ باقی 10 میں مندی تھی۔ اس عرصے کے دوران انرجی 0.82، ایف ایم سی جی 0.29، آئی ٹی 0.59، ٹیلی کام 0.17، یوٹیلٹیز 0.79، میٹلز 0.74، آئل اینڈ گیس 0.81، پاور 0.91، ریئلٹی 0.62 اور ٹیک گروپ 0.67 فیصد گرے۔ اسی وقت آٹو گروپ 0.90 فیصد کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا تھا۔

بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 1.31، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.08، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.14 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.50 فیصد بڑھ گیا جب کہ جاپان کا نکئی 1.14 فیصد گرا۔

گوہاٹی میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، تعلیمی ادارے بند

0
گوہاٹی میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، تعلیمی ادارے بند
گوہاٹی میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، تعلیمی ادارے بند

گوہاٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، محکمہ موسمیات کی طرف سے شہری علاقوں میں ممکنہ زبردست بارش کی وارننگ کے پیش نظر بدھ کو تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے

گوہاٹی: گوہاٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہے اور بدھ کو تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ تاہم وقفے وقفے سے بارش سے کچھ راحت ملی ہے۔

کامروپ (میٹرو) کے ڈپٹی کمشنر پلو گوپال جھا نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ "محکمہ موسمیات کی طرف سے شہری علاقوں میں ممکنہ زبردست بارش کی وارننگ کے پیش نظر بدھ کو تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ امتحانات منعقد کئے جا سکتے ہیں۔

کامروپ-میٹرو ضلع انتظامیہ نے گوہاٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور جب بالکل ضروری ہو باہر نکلیں۔

لوگوں سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی اپیل

ضلع انتظامیہ نے آسام کے کامروپ-میٹرو ضلع میں گوہاٹی اور ملحقہ علاقوں میں پانی بھرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ "اگر آپ کی رہائش گاہ پر پانی جمع ہونے یا لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے تو براہ کرم کسی محفوظ جگہ پر چلے جائیں۔”

پانی بھرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی مدد کے لیے 1077/8638112297 فون نمبر جاری کیا گیا۔

آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ (اے ایس ڈی ایم اے) اتھارٹی نے گوہاٹی میں متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے 1070 اور 1079 نمبر جاری کیے ہیں۔ منگل کی صبح شہر کے ہاتھی گاؤں، چاندماری، زو روڈ، بیلٹولا، رکمنی گاؤں سمیت کئی علاقوں میں پانی رہائشی علاقوں اور گھروں میں داخل ہو گیا۔

دوسری جانب شدید بارشوں کے باعث مٹی کا تودہ گرنے سے چار مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہ حادثہ گوہاٹی کے مغربی بورگاؤں علاقے کے نجاراپارا میں منگل کی صبح تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔

محکمہ موسمیات نے آسام اور میگھالیہ کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ بدھ کو آسام اور میگھالیہ کے علاقوں اور اروناچل پردیش کے کچھ حصوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔

ایندھن کی درآمدات کو کم کرنا ہی ہندوستان کی اقتصادی قوم پرستی: نتن گڈکری

0
ایندھن کی درآمدات کو کم کرنا ہی ہندوستان کی اقتصادی قوم پرستی: نتن گڈکری
ایندھن کی درآمدات کو کم کرنا ہی ہندوستان کی اقتصادی قوم پرستی: نتن گڈکری

وزیر نتن گڈکری نے گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی پالیسی میں تبدیلی سے ہندوستان کے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے گا

نئی دہلی: سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی پالیسی میں تبدیلی سے ہندوستان کے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے گا اور انہیں کاشت کار سے توانائی فراہم کرنے والا بنانے کا خواب جلد ہی پورا ہوگا۔

مسٹر گڈکری نے یہ بات منگل کی دیر شام قومی میگزین پنججنیہ اور آرگنائزر گروپ کے زیر اہتمام ماحولیات پر ایک سیمینار میں کہی۔

پروگرام میں سابق مرکزی جنگلات اور ماحولیات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر، گوا کے جنگلات اور ماحولیات کے وزیر وشواجیت رانے، ہندوستان میں نیپال کے سفیر ڈاکٹر شنکر پرساد شرما، پرمارتھ نکیتن کے آچاریہ سوامی چدانند مونی جی مہاراج اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے آل انڈیا ماحولیات کے سربراہ گوپال جی آریہ نے شرکت کی۔ پنججنیہ کے ایڈیٹر ہتیش شنکر، آرگنائزر کے ایڈیٹر پرفلا کیتکر اور بھارت پرکاش کے منیجنگ ڈائریکٹر بھارت بھوشن اروڑہ نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ان کا اعزاز کیا۔

پروگرام میں دو سیشن ماہرین ماحولیات – راجستھان سے محترمہ کشیپرا ماتھر اور اتراکھنڈ سے سچیدانند بھارتی نے بھی اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔ ماحولیاتی تحفظ میں مختلف طریقوں سے تعاون کرنے والے کچھ لوگوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔

خوردنی تیل کی درآمد پر ڈیڑھ لاکھ کروڑ کا خرچ

آخری سیشن میں مسٹر گڈکری نے پنججنیہ کے ایڈیٹر ہتیش شنکر کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہر سال فوسل فیول یعنی پٹرول، ڈیزل، مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد پر تقریباً دس لاکھ کروڑ روپے خرچ کرتا ہے۔ خوردنی تیل کی درآمد پر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ملک سے باہر جانے والے اس پیسے کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سابق سرسنگھ چالک کے ایس سدرشن کہا کرتے تھے کہ ملک کے کسان بجلی، ایندھن اور خوراک تینوں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی لیک سے ہٹ کی گئی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا لیکن انہوں نے سدرشن جی کی تعلیمات کی بنیاد پر کسانوں کے فضلے اور ان کی پیداوار سے ایتھنول بنانے کی شروعات کی۔

دس لاکھ تقرریوں کا اعلان نیا انتخابی دھوکہ تو نہیں: مایاوتی

0
دس لاکھ تقرریوں کا اعلان نیا انتخابی دھوکہ تو نہیں: مایاوتی
دس لاکھ تقرریوں کا اعلان نیا انتخابی دھوکہ تو نہیں: مایاوتی

بی ایس پی سپریمو نے ٹویٹ کیا کہ مرکز نے اب اگلے ڈیڑھ سال میں یعنی لوک سبھا عام انتخابات سے پہلے 10 لاکھ تقرریوں کا اعلان کیا ہے جو کہیں نیا انتخابی دھوکہ تو نہیں ہے

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے منگل کو کہا کہ مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی حکومت کے ذریعہ اگلے ڈیڑھ سالوں میں دس لاکھ تقرریوں کا اعلان محض ایک دھوکہ ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ مرکز کی غلط پالیسیوں اور طرز عمل کی وجہ سے ملک میں غریبی، مہنگائی اور بے روزگاری شباب پر ہے۔ ایسے میں جب لوک سبھا انتخابات نزدیک ہیں تب دس لاکھ تقرری کا اعلان انتخابی سیاست سے متاثر معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے دلت اور پسماندہ طبقات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سماج کے اس طبقے کے لوگ غریبی اور بے روزگاری کی مار سب سے زیادہ جھیل رہے ہیں لیکن حکومت خاموش ہے۔

بی ایس پی سپریمو نے ٹویٹ کیا ’مرکز کی غلط پالیسیوں و طرز عمل کی وجہ سے غریبی، مہنگائی، بے روزگاری و روپئے کی گرتی قدر وغیرہ اپنے شباب پر ہے جس سے سبھی عاجز و بے چین ہیں۔ تب مرکز نے اب اگلے ڈیڑھ سال میں یعنی لوک سبھا عام انتخابات سے پہلے 10 لاکھ تقرریوں کا اعلان کیا ہے جو کہیں نیا انتخابی دھوکہ تو نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’ساتھ ہی ایس سی، ایس ٹی و او بی سی طبقات کے اس سے کئی گنا زیادہ سرکاری اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ جن کو خصوصی مہم چلا کر بھرنے کا مطالبہ بی ایس پی پارلیمنٹ کے اندر و باہر بھی لگاتار کرتی رہی ہے۔ ان کے بارے میں حکومت چپ ہے جبکہ یہ سماج غریبی و بے روزگاری وغیرہ سے سب سے زیادہ دکھی و متاثر ہے۔

مرکزی حکومت اگلے ڈیڑھ سال میں 10 لاکھ نئی نوکریاں دے گی: انوراگ ٹھاکر

0
مرکزی حکومت اگلے ڈیڑھ سال میں 10 لاکھ نئی نوکریاں دے گی: انوراگ ٹھاکر
مرکزی حکومت اگلے ڈیڑھ سال میں 10 لاکھ نئی نوکریاں دے گی: انوراگ ٹھاکر

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج صبح کابینہ کی میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے تمام محکموں سے کہا ہے کہ وہ 18 مہینوں میں کل 10 لاکھ نئی نوکریاں دیں

نئی دہلی: روزگار کے مواقع بڑھانے کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان مرکزی حکومت نے منگل کو کہا کہ اس کے مختلف محکمے اگلے ڈیڑھ سال میں 10 لاکھ نئی بھرتیاں کریں گے۔

میڈیا کو یہ معلومات دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ اس کی تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج صبح کابینہ کی میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے تمام محکموں سے کہا ہے کہ وہ 18 مہینوں میں کل 10 لاکھ نئی نوکریاں دیں۔ اس کی تفصیلات کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت مرکزی کابینہ کی سیکورٹی امور کی کمیٹی نے مسلح افواج میں سپاہیوں کی بھرتی کے لیے ایک نئی اسکیم اگنی پتھ کو بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت پہلے سال میں تینوں خدمات میں 46,000 اگنیور بھرتی کیے جائیں گے۔

فوج میں ‘اگنی پتھ’ سے ‘اگنی ویر’ بھرتی کئے جائیں گے

حکومت نے تینوں فوجیوں میں جوانوں کی بھرتی کے عمل میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اگنی پتھ کی نئی اسکیم کے تحت صرف چار برسوں کے لیے اگنی ویروں کی بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو یہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی سیکورٹی امور کی کمیٹی میں اس فیصلے کو منظوری دی گئی۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بعد میں تینوں افواج کے سربراہوں کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس میں یہ جانکاری دی۔

انہوں نے کہا کہ اب تینوں فوجوں میں اگنی پتھ اسکیم کے تحت جوانوں یعنی اگنی ویروں کو بھرتی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد افواج کو فٹ، جوان اور جوش و جذبے سے بھرپور بنانا ہے۔ اس سے ملک کی سلامتی کا نظام مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو ملک کی خدمت کا موقع ملے گا اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔

نوجوانوں کو فوج سے نکلنے کے بعد اچھی تنخواہ اور اچھی سروس فنڈ پیکج دیا جائے گا

مسٹر سنگھ نے کہا کہ اس اسکیم سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے اور چار سال بعد جب یہ نوجوان فوج سے باہر آئیں گے تو ملک کو مختلف ہنر سے لیس نوجوان کی افرادی قوت بھی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کو فوج سے نکلنے کے بعد اچھی تنخواہ اور اچھی سروس فنڈ پیکج دیا جائے گا۔ اگر کسی بھی اگنی ویر کی فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے موت ہو جاتی ہے تو اس کے اہل خانہ کو بیمہ کی صورت میں کافی رقم دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم نوجوانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرونی ممالک کی اسکیموں کا مطالعہ کرنے کے بعد تیار کی گئی ہے اور اسے کسی کی نقل نہیں کہا جا سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسکیم کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ قیاس آرائیاں نہ کرنے کے لیے حکومت نے افواج میں اخراجات اور بچت کو کم کرنے کے لیے یہ اسکیم لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی سلامتی کے لیے اخراجات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ نئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) کا تقرر جلد کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں آرتھوڈوکس پیرشوں نے یوکرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی منصوبہ کا آغاز کیا

0
امریکہ میں آرتھوڈوکس پیرشوں نے یوکرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی منصوبہ کا آغاز کیا
امریکہ میں آرتھوڈوکس پیرشوں نے یوکرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی منصوبہ کا آغاز کیا

روسی سینٹ جان دی بیپٹسٹ کیتھیڈرل کے ریکٹر آرچ پرائسٹ وکٹر پوٹاپوف نے کہا کہ کپڑوں اور دیگر انسانی امداد کے ساتھ کنٹینر پہلے ہی یورپ بھیجا جا چکا ہے جہاں سے یہ یوکرین جائے گا

واشنگٹن: امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تین آرتھوڈوکس پیرشوں (کیتھولک چرچ) نے یوکرین میں جنگ متاثرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی امداد کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

روسی سینٹ جان دی بیپٹسٹ کیتھیڈرل کے ریکٹر آرچ پرائسٹ وکٹر پوٹاپوف نے کہا ’’کچھ ہفتے پہلے ہم نے استعمال کپڑے، خراب نہ ہونے والی خوردنی اشیاء جمع کرنے کی مہم شروع کی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں روسی اور یوکرائنی ماننے والوں کے ساتھ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں دو دیگر پیرش (کیتھولک چرچ)، سینٹ اینڈریو یوکرین چرچ اور امریکہ کے آرتھوڈوکس چرچ کے سینٹ نکولس کیتھیڈرل بھی اس منصوبے میں شامل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کپڑوں اور دیگر انسانی امداد کے ساتھ کنٹینر پہلے ہی یورپ بھیجا جا چکا ہے جہاں سے یہ یوکرین جائے گا۔ اب تینوں پیرش دوسرے کنٹینر کے لیے سامان جمع کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ہمارے پیرشین ہمیں مدد بھیجتے رہتے ہیں۔ ہم ان کوششوں کو جاری رکھتے ہیں اور جب تک ممکن ہو ہم اسے جاری رکھیں گے۔ مسیحی ہونے کے ناطے ہمارا بنیادی مقصد دعا کرنا اور اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق سب کچھ کرنا ہے۔

حکومت راہل کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے: کانگریس

0
حکومت راہل کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے: کانگریس
حکومت راہل کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے: کانگریس

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے صحافیوں سے کہا کہ مسٹر گاندھی نے ہر مسئلے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اس لیے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے مسٹر گاندھی کو ہراساں کر رہی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی چین کی دراندازی، کسان، بے روزگاری، مہنگائی جیسے مسائل اجاگر کر کے حکومت کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں، اس لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا استعمال کر کے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ای ڈی کی طرف سے مسٹر گاندھی کو دوسرے دن پوچھ گچھ کے لئے بلائے جانے سے پہلے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہا کہ مسٹر گاندھی نے ہر مسئلے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لیے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے مسٹر گاندھی کو ہراساں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی دو سال سے چینی دراندازی، کسانوں، نوجوانوں کے بے روزگاروں، غریبوں، مہنگائی اور قبائلیوں کے مسائل اٹھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت انہیں پریشان کررہی ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ کانگریس عوام کے مسائل اٹھائے، اس لیے وہ کانگریس کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

حکومت کی عوامی مسائل کو اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی سازش

کانگریس ترجمان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کو اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی سازش کر رہی ہے۔ اگر عوامی سوال اٹھانا جرم ہے تو کانگریس بار بار اس جرم کا ارتکاب کرے گی اور مودی حکومت کے دولت مندوں کے مفادات کے کاموں میں رکاوٹ بنتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کانگریس کی آواز کو دبانے کے لئے پورا دن سازش کی۔ اپنے 40، 50 وزیروں کو اسی کام میں لگایا، پسندیدہ ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعے کانگریس مخالف خبریں دن بھر نشر کرتے رہے۔ اپوزیشن میں رہ کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف جو بھی لیڈر آواز اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف ایجنسیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی یہ لیڈر حکومت کے کہنے پر کام کرتے ہیں یا بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں، ان کے خلاف تمام کارروائی ختم ہو جاتی ہے۔

اترپردیش: مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا سپریم کورٹ سے رجوع

0
اترپردیش: مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا سپریم کورٹ سے رجوع
اترپردیش: مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا سپریم کورٹ سے رجوع

ایک جانب جہاں فساد میں مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاریاں ہوئیں وہیں دوسری جانب گذشتہ تین دنوں سے کانپور، پریاگ راج (الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین بوس کردیا گیا

نئی دہلی: اترپردیش میں گذشتہ تین دنوں سے جاری غیر قانونی انہدامی کاروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃ علمائے ہند نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں دی ہے۔

ریلیز کے مطابق نوپور شرما اور نوین جندال کی جانب سے توہین رسول ﷺ کئے جانے بعد کانپور شہر میں احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فساد پھوٹ پڑا تھا۔ ایک جانب جہاں فساد میں مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاریاں ہوئیں وہیں دوسری جانب گذشتہ تین دنوں سے کانپور، پریاگ راج (الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین بوس کردیا گیا۔

داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں۔ اس ضمن میں آج جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں دو عبوری درخواستیں (انٹریم اپلیکشن) داخل کی ہیں، یہ درخواستیں جہانگیر پوری، کھرگون معاملے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن میں داخل کی گئی ہیں، اس پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 21/ اپریل 2022 کو ریاست اترپردیش سمیت مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، گجرات اور دہلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ کی جانے والی انہدامی کارروائی پر جواب طلب کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی پر نوٹس کے بعد بھی انہدامی کارروائی

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل عبوری درخواست میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ماضی میں انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے۔ نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاکر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔

عبوری عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے۔ نیز اترپردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ1958 /کی دفعہ 10/ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے۔ اسی طرح اترپردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15/ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے اس کے باوجود بلڈوز چلایا جارہا ہے۔

اترپردیش حکومت کی غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی شروع

عرضداشت میں مزید دعوی کیا کیا گیا ہیکہ اترپردیش حکومت نے قوانین کو بالائے طاق رکھ کر غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی شروع کردی ہے جس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ لہذا عدالت اترپردیش حکومت کو حکم جاری کرے کہ انہدامی کارروائی کو فوراً روکے اور اگر انہیں غیر قانونی عمارتوں کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانون کے مطابق کرے اور قانون کا تقاضہ ہیکہ پہلے نوٹس دی جائے اور اس کے بعد اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے۔

عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کرکے دوسرے ہی دن سخت پولیس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے۔ نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں۔ فی الحال سپریم کورٹ میں گرمیوں کی تعطیلات چل رہی ہیں، جمعیۃ کے وکلاء صارم نوید اور کامران جاوید نے سپریم کورٹ رجسٹری سے درخواست کی ہیکہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن تعطیلاتی بینچ کے روبرو جلد ازجلد سماعت کے لیئے پیش کی جا ئے۔