جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 230

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج دسویں (ریگولر) بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا

0
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج دسویں (ریگولر) بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج دسویں (ریگولر) بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا

پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ٹاپرز کو مبارک باد دی اور روشن و تابناک مستقبل کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج دسویں (ریگولر) بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا۔ کل طلبا جن کی تحسیب کی گئی ان میں تقریباً پچاس فیصد لڑکے اور پچاس اعشاریہ چار ایک لڑکیاں تھیں۔ کل نناوے اعشاریہ صفر تین فیصد طلبا نے امتحان پاس کیے ہیں۔ امتحان کا نتیجہ http://jmicoed.in/ پر دستیاب ہے۔ یہ اطلاع جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق پہلی پوزیشن پر ایک لڑکی اور دو لڑکے آئے ہیں۔ صدف، محمد انشال اور ریحان رضوی نے بالترتیب سنتاونے اعشاریہ آٹھ چھ فیصد نمبرات حاصل کیے ہیں۔ محمد اختر رضا سنتانوے اعشاریہ پانچ سات فیصد نمبرات کے ساتھ دوسرے مقام پر رہے۔ تسمیہ رحمان اور ندا فاطمہ کے سنتانوے اعشاریہ چار تین نمبرات کی وجہ سے تیسری پوزیشن ٹائی رہی۔

ایک سو سولہ طلبا نے سمپل فرسٹ ڈویژن حاصل کی

کل پانچ سو تیرسٹھ طلبا نے امتیازی نمبرات کے ساتھ فرسٹ ڈویژن حاصل کی جب کہ ایک سو سولہ طلبا نے سمپل فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ پانچ سو تیرسٹھ طلبا جنھوں نے امتیازی نمبرات کے ساتھ فرسٹ ڈویژن حاصل کی ان میں تین سو تین لڑکیاں اور دوسو ساٹھ لڑکے تھے۔

پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ٹاپرز کو مبارک باد دی اور روشن و تابناک مستقبل کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو طلبا چند نمبرات کی کمی کی وجہ سے ٹاپ نہیں کرسکے انھیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور زندگی میں آنے والی مصیبتوں اور مقابلوں کے لیے انتھک کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ طلبا ادارے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔

پروفیسر اختر نے پرسکون انداز میں امتحانات کے انعقاد کے لیے پروفیسر ناظم حسین الجعفری، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈینز اور دیگر فیکلٹی اراکین کی مساعی کی ستائش کی۔ انھوں نے بروقت امتحان کے نتائج کے اعلان کے لیے کنٹرولر آف امتحانات کے اسٹاف کی کوششوں اور ان کی محنت کی بھی تعریف کی۔

نوپور شرما نے نارکل ڈانگہ پولیس اسٹیشن سے چار ہفتے کی مہلت مانگی

0
نوپور شرما نے نارکل ڈانگہ پولس اسٹیشن سے چار ہفتے کی مہلت مانگی
نوپور شرما نے نارکل ڈانگہ پولس اسٹیشن سے چار ہفتے کی مہلت مانگی

نوپور شرما کے نازیبا تبصرے کے لیے کلکتہ کے نارکل ڈنگہ پولیس اسٹیشن نے 20 جون کو صبح 11 بجے کے قریب طلب کیا تھا، تاہم وہ آج نارکل ڈنگا پولیس اسٹیشن نہیں آئیں

کلکتہ: بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے نازیبا تبصرے کے لیے کلکتہ کے نارکل ڈنگہ پولیس اسٹیشن نے طلب کیا تھا۔ پیر کو حاضری کا حکم دیا گیا۔ تاہم وہ آج نارکل ڈنگا پولیس اسٹیشن نہیں آئیں۔ بی جے پی کے معطل لیڈر نے نارکل ڈانگہ پولیس اسٹیشن کو میل کرکے چار ہفتے کی مہلت مانگی ہے۔

بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے متنازعہ ریمارکس کے خلاف مغربی بنگال کے کئی اضلاع بشمول ہوڑہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ کئی جگہوں پر امن و امان کی صورت حال خراب ہوگئی تھی۔ پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے متنازعہ ریمارکس پر 12 ممالک میں ہندوستان کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ مرشدآباد میں مظاہرے ہوئے۔ ہوڑہ کے ڈھولا گڑھ، کونا ایکسپریس وے، البیریا سب ڈویژن میں مختلف مقامات پر سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔

نوپور شرما کے متنازعہ ریمارکس کے بعد نارکل ڈانگہ علاقہ کی ایک رہائشی نے ان کے خلاف نارکل ڈانگہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ نارکل ڈانگہ پولیس اسٹیشن نے اس الزام کی بنیاد پر نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ نوپور شرما کو طلب کیا گیا۔ نوپور کو سی آر پی سی کی دفعہ 41 کے تحت نوٹس بھیجا گیا تھا۔

یہ نوٹس بی جے پی کے معطل لیڈر کو سپیڈ پوسٹ اور ای میل کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ انہیں 20 جون کو صبح 11 بجے کے قریب نارکل ڈنگہ پولیس اسٹیشن میں کیس کے تفتیشی افسر سے تعزیرات ہند کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 41 کے تحت ایک نوٹس کے ساتھ ملنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

آر ایس ایس کا خفیہ ایجنڈا ہے اگنی پتھ اسکیم: سوامی

0
آر ایس ایس کا خفیہ ایجنڈا ہے اگنی پتھ اسکیم: سوامی
آر ایس ایس کا خفیہ ایجنڈا ہے اگنی پتھ اسکیم: سوامی

مسٹر کمار سوامی نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس اگنی پتھ کے نفاذ کے ذریعے ہندوستان میں نازی تحریک شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے

بنگلورو: کرناٹک کے سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی نے پیر کو کہا کہ اگنی پتھ اسکیم ہندوستانی فوج پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے راشٹریہ سویم سنگھ (آر ایس ایس) کا خفیہ ایجنڈا ہے۔
مسٹر کمار سوامی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ اس طرح سے چار سال کی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد اگنی ویر فوج کے اندر اور باہر آر ایس ایس کارکن کے طور پر کام کریں گے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انہیں آر ایس ایس کے لیڈر بھرتی کریں گے یا فوج۔ اس طرح اب جو 10 لاکھ لوگ فوج میں بھرتی ہوں گے وہ آر ایس ایس کارکنان کو فوج میں شامل کرسکتے ہیں۔ وہ فوج میں ڈھائی لاکھ آر ایس ایس کارکنوں کو قائم کرسکتے ہیں اور اس کا پوشیدہ ایجنڈا یہ ہے کہ جو 75 فیصد ہیں انہیں 11 لاکھ روپے دے کر باہر بھیجا جائے گا اور وہ پورے ملک میں پھیل جائیں گے۔

فوج کے اندر اور باہر آر ایس ایس کے لوگ ہوں گے

انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر اور باہر آر ایس ایس کے لوگ ہوں گے۔ وہ آر ایس ایس کے ذریعے فوج پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ مسٹر کمار سوامی نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس اگنی پتھ کے نفاذ کے ذریعے ہندوستان میں نازی تحریک شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مسٹر کمار سوامی کے تبصرے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے، بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے کہا کہ یہ ایک نفرت انگیز تبصرہ ہے جو مسلح افواج اور ہندوستانی اداروں کی براہ راست ہندوستان کی توہین کر رہا ہے۔ مسٹر پونا والا نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک پر سوال اٹھائے تھے۔ کیا مسلح افواج اپنے اداروں کو اس طرح سے سمجھوتہ کرنے کی اجازت دے گی۔

آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون بنیں فاطمہ پیمان

0
آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون بنیں فاطمہ پیمان
آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون بنیں فاطمہ پیمان

فاطمہ پیمان نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ وہ نوجوان لڑکیاں جو حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی ہیں، وہ حقیقت میں فخر کے ساتھ ایسا کریں، یہ جانتے ہوئے کہ انہیں حجاب پہننے کا پورا حق ہے

کینبرا: فاطمہ پیمان پیر کو آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں حجاب پہننے والی پہلی مسلمان خاتون بنیں۔

اے بی سی نیوز کے مطابق، محترمہ پیمان نے مغربی آسٹریلیا میں سینیٹ کی چھٹی نشست کا دعویٰ کیا، جس نے لیبر پارٹی کی قسمت بدل دی۔

محترمہ پیمان (27) سینیٹ کی تاریخ کی تیسری کم عمر سینیٹر ہیں۔ انہوں نے کہا ’’افغان یا مسلمان ہونے سے پہلے میں ایک آسٹریلیائی لیبر سینیٹر ہوں، سبھی آسٹریلیائی باشندوں کی نمائندگی کرتی ہوں، چاہے ان کا عقیدہ، پس منظر، ثقافتی شناخت، عمر یا قابلیت کچھ بھی ہو۔

انہوں نے کہا ’’میں فرسٹ نیشن میں شامل ہوگوں سمیت سبھی کی نمائندگی کروں گی‘‘۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ان کے حجاب پہننے کے خیال سے الیکشن کو معمول کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا ’’یہ صرف اس لیے نہیں کہ میڈیا میں اسلام فوبیا پھیل رہا ہے بلکہ میں چاہتی ہوں کہ وہ نوجوان لڑکیاں جو حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی ہیں، وہ حقیقت میں فخر کے ساتھ ایسا کریں، یہ جانتے ہوئے کہ انہیں حجاب پہننے کا پورا حق ہے‘‘۔

جب محترمہ پیمان آٹھ سال کی تھیں تو وہ افغانستان چھوڑ کر اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ کر آسٹریلیا آگئی تھیں۔

فوج نے اگنی پتھ بھرتی اسکیم کا نوٹیفکیشن کیا جاری

0
فوج نے اگنی پتھ بھرتی اسکیم کا نوٹیفکیشن کیا جاری
فوج نے اگنی پتھ بھرتی اسکیم کا نوٹیفکیشن کیا جاری

نوٹیفکیشن کے مطابق جنرل ڈیوٹی، ٹیکنیکل، کلرک، اسٹور کیپر اور ٹریڈ مین وغیرہ کی بھرتی کا عمل جولائی سے شروع ہوگا

نئی دہلی: تینوں افواج میں جوانوں کی بھرتی کے لیے اگنی پتھ اسکیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کے درمیان فوج نے آج اس اسکیم کے تحت اگنی پتھ کی بھرتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

یہ نوٹیفکیشن پیر کو فوج کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے اور اس میں اگنی ویروں کی بھرتی سے متعلق سروس شرائط اور بھرتی ریلیوں کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جنرل ڈیوٹی، ٹیکنیکل، کلرک، اسٹور کیپر اور ٹریڈ مین وغیرہ کی بھرتی کا عمل جولائی سے شروع ہوگا۔

آرمی اگست کے پہلے پندرہ دن میں اگنی ویروں کی بھرتی کے لیے پہلی بھرتی ریلی منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کے بعد امیدواروں کے جسمانی اور میڈیکل ٹیسٹ کے بعد تحریری ٹیسٹ لیا جائے گا۔

فوج میں اگنی ویروں کی بھرتی دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں اگلے سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں 25000 اگنی ویروں کو بھرتی کیا جائے گا اور دوسرے مرحلے میں اگلے سال 23 فروری تک 21000 اگنی ویروں کو بھرتی کیا جائے گا۔

بحریہ اور فضائیہ کی جانب سے اگنی ویروں کی بھرتی کا نوٹیفکیشن بھی اسی ہفتے جاری کیا جائے گا۔

بھارت بند کے پیش نظر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ

0
بھارت بند کے پیش نظر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ
بھارت بند کے پیش نظر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ

اگنی پتھ معاملے میں احتجاج کو روکنے کیلئے اے پی میں پولیس سخت حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے

حیدرآباد: فوج میں ملازمت کے خواہشمندوں کی جانب سے آج منائے جانے والے بھارت بند کے پیش نظر تلنگانہ کے اہم مانے جانے والے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

گذشتہ جمعہ کو اس اسٹیشن پر پُرتشدد احتجاج کیا گیا تھا اور ٹرینوں کو آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد پولیس کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ اگنی پتھ اسکیم پر برہم، نوجوانوں کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں میں مظاہرے کی اطلاع کے ساتھ ہی چوکسی اختیار کی گئی ہے اور سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سمیت دیگر تمام ریلوے اسٹیشنوں اور سرکاری دفاتر میں ہائی الرٹ کردیا گیا۔

سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا اور ریاپڈ ایکشن فورس کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔

اے پی میں ہائی الرٹ

اگنی پتھ معاملے میں احتجاج کو روکنے کیلئے اے پی میں پولیس سخت حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے تاکہ ریلوے اسٹیشنوں میں کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی یا پھر تشدد کو روکا جاسکے۔ ریلوے اسٹیشنوں میں آرپی ایف سمیت سویلین پولیس اور دیگر پولیس فورسس کو تعینات کرتے ہو ئے سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

پولیس نے اے پی کے بڑے شہروں جیسے وجئے واڑہ، گنٹور، وشاکھاپٹنم، تروپتی اور دیگر میں ریلوے اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے دفاتر اور آر ٹی سی بس اسٹینڈز پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ مشتبہ افراد کی تلاشی لی جارہی ہے۔

ہندوستان میں اقتدار کی جنگ نہرو سے شروع ہوئی تھی جو موجودہ بی جے پی تک چلی

0
ہندوستان میں اقتدار کی جنگ نہرو سے شروع ہوئی تھی جو موجودہ بی جے پی تک چلی
ہندوستان میں اقتدار کی جنگ نہرو سے شروع ہوئی تھی جو موجودہ بی جے پی تک چلی

مہاتما گاندھی نے وزیر اعظم کا عہدہ مسلمانوں کو اور صدر کا عہدہ ہندوؤں کو دینے کی تجویز پیش کی تھی لیکن نہرو اس پر راضی نہیں ہوئے

کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی مسلمان دل سے یہ نہیں چاہتا تھا کہ ملک تقسیم ہو، لیکن جناح اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ملک کی تقسیم ہوئی۔ تاہم محمد علی جناح یا مسلم لیگ ہی محض وہ عناصر نہیں تھے جو ملک کی تقسیم چاہتے تھے، بلکہ بعض دیگر ایسے عناصر بھی تھے جو چاہتے تھے کہ ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جائے۔

اسی لیے ان عناصر نے ملک کی تقسیم کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ جب مہاتما گاندھی پوری کوشش کر رہے تھے کہ ملک تقسیم نہ ہو، انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو یہ تجویز بھی دی تھی کہ وزیر اعظم کا عہدہ مسلمانوں کو اور صدر کا عہدہ ہندوؤں کو دیا جائے، لیکن نہرو اور ان کے ساتھی اس پر متفق نہیں تھے۔

تقسیم ہند کا تنازعہ

بہر حال ملک کی تقدیر میں جو لکھا تھا وہی ہوا اور ملک بٹ گیا۔ کئی کروڑ لوگ بے گھر ہو گئے۔ اس تقسیم کی وجہ سے پھوٹنے والے فسادات میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

تقسیم کے اس زخم کے باوجود ملک نے 90 سال بعد 15 اگست 1947 کی صبح آزادی کی پہلی کرن دیکھی اور پورے ملک نے آزادی کا جشن منانا شروع کر دیا لیکن ملک کی آزادی کا جشن اس وقت مدھم پڑ گیا جب 30 جنوری 1948 کو ناتھو رام گوڈسے نے دہلی کے برلا مندر میں گاندھی جی کو گولی مار کر ان کا قتل کر دیا۔ گوڈسے کی اس بزدلانہ حرکت کے بعد ملک میں فرقہ پرستی کا جنون تھم سا گیا اور پورا ملک گاندھی کے قتل کے سوگ میں ڈوب گیا۔

ایودھیا مندر مسجد کا تنازعہ

ایودھیا میں مندر مسجد کا تنازعہ، جو گزشتہ سو سال سے سرد پڑا تھا، 1949 میں ایک بار پھر اس وقت گرم ہوا جب بابری مسجد کے اندر رام للا کی مورتی رکھ دی گئی۔

ہندوؤں کا کہنا تھا کہ بت اپنے طور پر ظاہر ہوا جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ رات کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور مورتیاں رکھ دیں۔ جب معاملہ ضلع انتظامیہ تک پہنچا تو اس نے مسجد کو متنازعہ قرار دے کر مسجد میں تالا لگا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی ملک میں مکمل طور پر امن قائم تھا اور معاملہ صرف ایودھیا تک ہی محدود رہا۔

یوں تو ملک میں کئی جگہوں پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے، لیکن ان کا ایودھیا کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن کبھی جلوس کے راستے کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان معمولی بات چیت ہو جاتی تھی اور کبھی مقامی مسئلہ پر ہندو مسلم فسادات ہوتے تھے، لیکن کبھی کوئی فساد اس طرح نہیں ہوا کہ ملک کا ماحول خراب ہو جائے۔

وشو ہندو پریشد کا عروج

1980 کی دہائی میں ایودھیا کا معاملہ اچانک گرم ہوا اور وشو ہندو پریشد اور اس سے منسلک تنظیموں نے مسجد میں پڑے تالہ کو کھولنے اور وہاں پوجا کا حق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک شروع کی۔

80 کی دہائی میں پنجاب اور گردونواح میں خالصتان تحریک چل رہی تھی، جس کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات ہو رہے تھے۔ 1984 میں امرتسر میں دربار صاحب پر ہندوستانی فوج کی کارروائی اور پھر اندرا گاندھی کے قتل اور پھر اس کے رد عمل اور انتقام کے طور پر سکھوں کے قتل عام کی وجہ سے ایودھیا کی تحریک تیز نہ ہو سکی لیکن جب 1986 میں فیض آباد کی ایک عدالت نے تالا لگانے کا حکم دیا تو رام مندر کی تعمیر کی تحریک تیز ہو گئی۔

منڈل کمیشن

رام مندر کی تعمیر کی تحریک نے 1990 میں اس وقت ملک گیر شکل اختیار کرلی جب اس وقت کے وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو قبول کرلیا اور ملک میں محروم طبقات کے اقتدار میں حصہ داری پر مہر ثبت کر دی۔ اس رپورٹ کی منظوری کے بعد پورے ملک میں ذات پات کی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس وقت ذات پات کے تناؤ سے عام لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک بڑے ایشو کی ضرورت تھی، تب بی جے پی نے منڈل کی آگ کو بجھانے کے لیے کمنڈل کو اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا شروع ہوئی۔

لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کو جب بہار میں لالو پرساد یادو نے روک دی، تو بی جے پی نے تیسرے محاذ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی اور پھر ملک میں وسط مدتی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ (اس الیکشن کے دوران راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 کو تمل دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔)

لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا سے بی جے پی کے لیے جو ماحول تیار ہوا اس سے بی جے پی کو تقویت ملی اور پارٹی نے 120 سیٹوں پر جیت حاصل کی لیکن اقتدار میں آنے کی خواہش ادھوری ہی رہ گئی اور کانگریس پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت تشکیل دے دی۔

اتر پردیش میں بی جے پی بر سر اقتدار

تاہم، بعض ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی جس میں اتر پردیش بھی شامل تھا۔ اتر پردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے منہدم کئے جانے کے بعد ملک میں گویا فرقہ وارانہ فسادات کی آگ لگ گئی۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

19 – انیسویں قسط

20 – بیسویں قسط

21 – اکیسویں قسط

اگنی پتھ اسکیم: آندھرا پردیش میں کئی ریلوے اسٹیشن بند، سیکوریٹی میں اضافہ

0
اگنی پتھ اسکیم: آندھرا پردیش میں کئی ریلوے اسٹیشن بند، سیکوریٹی میں اضافہ
اگنی پتھ اسکیم: آندھرا پردیش میں کئی ریلوے اسٹیشن بند، سیکوریٹی میں اضافہ

اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاج کے پیش نظر آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم ریلوے اسٹیشن کو بند کردیا گیا

حیدرآباد: اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاج کے پیش نظر آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم ریلوے اسٹیشن کو بند کردیا گیا اور احتیاطی طور پر سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا۔

فوج میں بھرتی کے خواہشمندوں کی جانب سے بڑے پیمانہ پر احتجاج کے امکان سے متعلق انٹلی جنس کی اطلاع کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ حکام نے ریلوے اسٹیشنوں کو بند کردیا اور ٹرینوں کو صبح سات بجے ہی روک دیا گیا۔

مسافرین کو صبح سات بجے تک ہی اسٹیشنوں میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ وجئے واڑہ سے آنے والی تمام ٹرینوں کو روک دیا گیا یا پھر ان کے رخ کو دوواڑہ ریلوے اسٹیشن کی سمت موڑ دیا گیا۔ ہوڑہ سے چلائی جانے والی ٹرینوں کے رخ کو کوتھا والاسا کی سمت موڑ دیا گیا۔

اسی دوران گنٹور میں بھی بڑے پیمانہ پر احتجاج کے امکان سے متعلق انٹلی جنس کی اطلاع کے بعد ہائی الرٹ کردیا گیا۔ حکام نے سیکوریٹی میں اضافہ کردیا اور ٹکٹس کی جانچ کے بعد ہی مسافرین کو ریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ گنٹور میں تقریبا 20 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا جو گنٹور ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔

گنٹور ریلوے اسٹیشن کے قریب احتجاج کے سلسلہ میں واٹس اپ کی پیامات کی اطلاعات کے پیش نظر یہ ہائی الرٹ کردیا گیا۔وجئے واڑہ، کرنول، تروپتی اور دیگر بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا۔

اگنی ویروں کے لیے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں 10 فیصد سیٹیں مختص

0
اگنی ویروں کے لیے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں 10 فیصد سیٹیں مختص
اگنی ویروں کے لیے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں 10 فیصد سیٹیں مختص

قبل ازیں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت سال 2022 کے اگنی ویروں کی بھرتی میں امیدواروں کو عمر کی بالائی حد میں دو سال کی رعایت دی جائے گی

نئی دہلی: اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو اعتماد میں لینے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں اگنی ویروں کے لیے 10 فیصد سیٹیں مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اگنی ویروں کے پہلے بیچ کو سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز کی بھرتی میں عمر کی بالائی حد میں پانچ سال اور اس کے بعد کے بیچوں کے لیے تین سال کی رعایت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

قبل ازیں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت سال 2022 کے اگنی ویروں کی بھرتی میں امیدواروں کو عمر کی بالائی حد میں دو سال کی رعایت دی جائے گی۔ وزیر داخلہ کے دفتر کی جانب سے ہفتے کو کئے گئے ٹویٹ میں کہا گیا ’’وزارت داخلہ نے سنٹرل پولیس فورسز اور آسام رائفلز میں ہونے والی بھرتیوں میں اگنی پتھ اسکیم کے تحت چار سال مکمل کرنے والے اگنی ویروں کے لیے 10 فیصد آسامیاں مختص کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔

ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ’’وزارت داخلہ نے پولیس فورس اور آسام رائفلز میں بھرتی کے لیے اگنی ویروں کے لیے عمر کی بالائی حد میں تین سال کی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اگنی پتھ اسکیم کے پہلے بیچ کے لیے یہ رعایت پانچ سال کی ہوگی‘‘۔

واضح رہے کہ تینوں سروسز میں فوجیوں کی بھرتی کے لیے حکومت نے اگنی پتھ اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت بھرتی ہونے والوں کی مدت کار صرف چار سال ہوگی۔ اس اسکیم کے خلاف ملک بھر کے نوجوان سراپا احتجاج ہیں۔

اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ

0
اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ
اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی نئی عرضی پر اترپردیش حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو اپنا جواب/اعتراضات تین دن میں داخل کرنے کے لئے کہا ہے

نئی دہلی: کانپور تشدد کے بعد مبینہ طور پر غیرقانونی مکانات میں توڑ پھوڑ روکنے کی مانگ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت سے تین دن کے اندر جواب دینے کے لئے کہا ہے۔

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی نئی عرضی پر اترپردیش حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو اپنا جواب/اعتراضات تین دن میں داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔

سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 21 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے 13 جون کو سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی داخل کی تھی۔

اپنی عرضی میں جمعیت علمائے ہند نے قانون کے عمل کے بغیر مکانوں کو نہ ڈھانے کی ہدایت دینے اور ساتھ ہی من مانی کرنے والے افسروں پر کارروائی کی بھی مانگ کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ یوپی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ قانون کے مطابق عمل کیے بغیر کوئی اور توڑ پھوڑ نہ کرے۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ وہ توڑ پھوڑ پر روک نہیں لگا سکتی ہے۔ وہ صرف اس کارروائی کو قانون کے مطابق کرنے کے لیے کہہ سکتی ہے۔