جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 229

اترپردیش میں 21 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ

0
اترپردیش میں 21 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ
اترپردیش میں 21 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ

اترپردیش حکومت نے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 21 افسران کا تبادلہ کردیا

لکھنؤ: اترپردیش حکومت نے ہفتہ کو انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 21 افسران کا تبادلہ کردیا۔ پانچ اضلاع کو نئے ایس پی ملے ہیں وہیں پانچ ویٹنگ لائن میں رکھے گئے سینئر افسران کو بھی نئی تعیناتی دی گئی ہے۔

آفیشیل ذرائع کے مطابق سونبھدر، مئو، سیتاپور، سدھارتھ نگر اور سلطانپور کو نئے ایس پی ملے ہیں جبکہ وارانسی دیہات میں بھی نئے ایس پی کی تعیناتی کی گئی ہے۔ لکھنؤ کمشنریٹ میں ڈپٹی کمشنر امت کمار آنند کو سدھارتھ نگر کا ایس پی بنایا گیا ہے وہیں سومین ورما کا ٹرانسفر سلطانپور کے ایس پی کے عہدے پر کیا گیا ہے۔ سدھارتھ نگر کے موجود ایس پی یش ویر سنگھ کو اسی عہدے پر سونبھدر بھیجا گیا ہے جبکہ مئو کے ایس پی کا تبادلہ سیتاپور کے ایس پی کے طور پر کیا گیا ہے۔ علی گڑھ میں 38ویں واہنی پی اے سی کے کمانڈنٹ اویناش پانڈے کو مئو کاایس پی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیتاپور ڈپٹی انسپکٹر آف پولیس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راکیش پرکاش سنگھ کا تبالہ مرزاپور رینج کے ڈی آئی جی کے طور پر کیا گیا ہے۔ میرٹھ میں 44ویں واہنی پی اے سی کے کمانڈنٹ سوریہ کانت ترپاٹھی کو ایس پی دیہات وارانسی بنایا گیا ہے۔ اب اس پر کام کررہے امت ورما کو ایس آئی ٹی دفتر میں ڈی آئی جی کا عہدہ دیا گیا ہے۔ اڈیشنل کمشنر آف پولیس وارانسی کمشنریٹ سبھاش چندر دوبے کا ٹرانسفر آمدورفت ڈائرکٹوریٹ میں ڈی آئی جی کے طو ر پرکیا گیا ہے۔

اجودھیا کے نئے ڈی آئی جی

اجودھیا ڈویژن کے ڈی آئی جی کویندر پرتاپ سنگھ کو اسی عہدے پر پی اے سی دفتر بھیجا گیا ہے۔ سونبھدر میں ڈی آئی جی اور ایس پی کی ذمہ داری سنھال رہے امریندر پرتاپ سنگھ اب اجودھیا کے نئے ڈی آئی جی ہونگے۔ بستی کے ڈی آئی جی مودک راجیش کا تبادلہ سی بی سی آئی ڈی کردیا گیا ہے۔ مرزاپور کے ڈی آئی جی آر کے بھاردواج بستی رینج کے نئے ڈی آئی جی نامزد کئے گئے ہیں۔

باندہ میں چترکوٹ دھام کے ڈی آئی جی ایس کے بھگت کو لکھنؤ واقع پولیس ہیڈکوارٹر میں ڈی آئی جی بھون اور کلیان کا عہدہ دیا گیا ہے وہیں سلطان پور میں ایس پی اور ڈی آئی جی کا کردار نبھا رہے وپن کمار مشرا کو چترکوٹ دھام ڈویژن میں ڈی آئی جی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پانچ ویٹنگ میں رکھے گئے آئی پی ایس کو بھی نئی تعیناتی ملی ہے۔ تعیناتی کے لئے منتظر انسپکٹر جنرل آف پولیس اپرنا کمار کو آئی جی پی اے سی ، سنٹرل زون لکھنؤ کے عہدے پر بھیجا گیا ہے جبکہ آئی جی ویٹنگ ڈی کے ایجلرسن کو 112 دفتر کا آئی جی بنایا گیا ہے۔اڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (ویٹنگ) پرکاش ڈی کو یوپی آواس کارپوریش میں چیئرمین و مینیجنگ ڈائرکٹر بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ذکی احمد (ویٹنگ) کو سیتا پور پی ٹی سی میں اڈیشنل ڈائرکٹرجنرل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ راجا شریواستو کی جگہ لیں گے جنہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس املہ دفتر، ڈائرکٹر جنرل کے عہدےپر بھیجا گیا ہے۔ ایک دیگر ایس پی سچیندر پٹیل کا ٹرانسفر کمانٹنڈنٹ 44ویں واہنی پی اے سی میرٹھ کے طور پر کیا گیا ہے۔

اگنی پتھ کے خلاف متحدہ کسان مورچہ کا مظاہرہ

0

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہوگی، لہٰذا اسے منسوخ کرکے پرانے بھرتی کے عمل کو نافذ کیا جائے

حصار: متحدہ کسان مورچہ نے آج اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہوگی، لہٰذا اسے منسوخ کرکے پرانے بھرتی کے عمل کو نافذ کیا جائے اور تمام بھرتیوں میں زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں تین سال کی رعایت دی جائے۔ کیونکہ تین سال سے بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں۔

مظاہرین نے اگنی پتھ کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات کو منسوخ کرنے اور گرفتار نوجوانوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

منی سیکرٹریٹ میں مظاہرے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سے صدر مملکت کو یادداشت بھیجی گئی۔

اس کے ساتھ ہی مورچہ لیڈروں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔

مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے کو این سی پی کی مکمل حمایت: اجیت پوار

0
مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے کو این سی پی کی مکمل حمایت: اجیت پوار
مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے کو این سی پی کی مکمل حمایت: اجیت پوار

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے جمعرات کو کہا کہ این سی پی کے تمام ایم ایل ایز اور ایم پی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں

ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے جمعرات کو کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے تمام ایم ایل ایز اور ایم پی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔

جمعرات کو وائی وی چوہان کمپلیکس میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے پارٹی ایم ایل ایز اور ایم پیز کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کے بعد مسٹر پوار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دو ایم ایل اے میٹنگ میں موجود نہیں تھے کیونکہ وہ سرکاری دورے پر تھے۔

مسٹر پوار نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کو بچانا تمام پارٹیوں کی ذمہ داری ہے اور ہم سبھی پارٹیاں حکومت کے بحران کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈھائی برسوں میں تمام ممبران اسمبلی کو ترقی کے لئے فنڈ میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے درمیان آج جو بھی واقعہ چل رہا ہے، یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ایکناتھ شندے کو اپنے لیڈروں سے بات کرنی چاہئے تھی

انہوں نے کہا کہ اگر ایکناتھ شندے کے ذہن میں کچھ تھا تو انہیں اپنے لیڈروں سے بات کرنی چاہئے تھی اور اس کا کوئی حل ضرور نکلتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے ممبران اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے نہ ملنے کا الزام لگایا وہ غلط ہے کیونکہ دو سال سے کورونا وائرس (کووڈ-19) کا مسئلہ تھا۔ ملک کے پانچ مشہور وزرائے اعلیٰ میں ان کا نام ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ مسٹر راوت نے بیان دیا ہے کہ اگر مسٹر شندے 24 گھنٹے میں واپس آجائیں اور مسٹر ٹھاکرے سے بات کریں تو ان کے مطالبات پر غور کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر شندے نے مطالبہ کیا تھا کہ شیوسینا کو کانگریس اور این سی پی سے اتحاد توڑ کر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانی چاہیے۔ اس پر مسٹر پوار نے کہا کہ وہ مسٹر راوت کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت تشکیل دی گئی تھی تو ہمارے ساتھ کل 170 ایم ایل اے تھے۔ کانگریس اور این سی پی سیکولر پارٹیاں ہیں اور شیو سینا کے بارے میں سبھی جانتے ہیں لیکن جب حکومت بنی تھی تو این سی پی صدر شرد پوار نے کہا تھا کہ کوئی بھی پارٹی ترقیاتی کاموں کے لیے کام کرے گی اور کسی بھی انتخابی حلقے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شیوسینا میں بغاوت میں بی جے پی کا کوئی کردار ہے تو انہوں نے کہا کہ اب تک ایسا نہیں لگتا۔

انہوں نے کہا کہ تین پارٹیوں کی حکومت ہے، اس میں اختلافات کا امکان ہے لیکن اگر مسٹر شندے کو کوئی مسئلہ تھا تو انہیں پارٹی لیڈروں سے بات کرنی چاہئے تھی۔

شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج، کارپوریٹرس اور ایم پی بھی شندے کے حق میں

0
شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج، کارپوریٹرس اور ایم پی بھی شندے کے حق میں
شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج، کارپوریٹرس اور ایم پی بھی شندے کے حق میں

ادھو ٹھاکرے کو ایک اور چیلنج کا سامنا ہے، ایکناتھ شندے نے 400 سابق کارپوریٹروں، ایم ایل اے اور ایم پی کی فہرست تیار کی ہے، ان افراد کا ان کے ساتھ شامل ہونے کا امکان ہے

ممبئی: شیوسینا سربراہ اور مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو ایک اور جھٹکا لگ سکتا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق باغی لیڈر ایکناتھ شندے نے 400 سابق کارپوریٹروں، ایم ایل اے اور ایم پی کی فہرست تیار کی ہے، ان افراد کا ان کے ساتھ شامل ہونے کا امکان ہے۔

مہاراشٹر میں آنے والے بلدیاتی انتخابات میں غالب ہونا شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج ہے جو کہ تین سے چار ماہ میں ہوں گے۔

واضح رہے کہ شیوسینا کے ایم ایل اے کی ایک بڑی تعداد کو اپنے حلقے میں لانے کے انتظام کے بعد، باغی لیڈر ایکناتھ شندے نے کم از کم 400 سابق کارپوریٹروں اور چند ایم ایل اے اور ایم پیز کی ایک فہرست بنائی ہے جن کے نئی حکومت میں شامل ہونے کے بعد ان کی طرف آنے کی امید ہے۔

ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ یہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت شیوسینا کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہو سکتا ہے اور مانسون کے بعد تین سے چار ماہ میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کے لیے ایک چیلنج پیدا کرے گا۔

انتخابات میں تاخیر کے اسباب

ان میں سے زیادہ تر کارپوریشنوں کی شرائط مارچ میں ختم ہو گئیں اور انتخابات میں تاخیر کورونا وائرس وبائی بیماری اور بعد میں ادھو ٹھاکرے کی سرجری اور ان کی تاخیر سے صحت یابی کی وجہ سے ہوئی۔

دریں اثنا، شندے کے بیٹے سریکانت کے علاوہ، جو کلیان سے رکن پارلیمنٹ ہیں، کئی لوک سبھا ممبران اسمبلی بھی شندے کے ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔ یہاں تک کہ واشیم کی ایم پی بھاونا گاولی، جو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے پریشانی کا سامنا کر رہی ہیں، نے مبینہ طور پر ادھو سے کہا ہے کہ انہیں بی جے پی کے ساتھ جانا چاہیے۔

ذرائع نے بتایا کہ شندے کا گروپ ممبئی میٹرو پولیٹن علاقہ کے ایک اہم رکن اسمبلی کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش کر رہا ہے جو جمعرات کو ایک شادی کی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ، ایکناتھ شندے کے دھڑنے میں شامل ہونے والے ایم ایل اے میں سے ایک ایم ایل اے یامنی یشونت جادھو ہیں۔ ان کے شوہر اور تحلیل شدہ بی ایم سی باڈی کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرپرسن یشونت جادھو بھی شندے کیمپ میں گئے ہیں۔ انہیں بھی انکم ٹیکس اور سی ڈی کی انکوائری کا سامنا ہے۔

سینسیکس اور نفٹی میں تیزی آئی واپس

0
سینسیکس اور نفٹی میں تیزی آئی واپس
سینسیکس اور نفٹی میں تیزی آئی واپس

ایشیائی بازاروں سے زبردست خریداری کے باعث آج سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا

ممبئی: ایشیائی بازاروں سے زبردست حمایت حاصل کرتے ہوئے مقامی سطح پر چوطرفہ خریداری کی وجہ سے آج سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا۔ ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 443.19 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 52 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے اوپر52265.72 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 143.35 پوائنٹس بڑھ کر 15556.65 پر آگیا۔

بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بڑی کمپنیوں کے مقابلے خریداری کا زورزیادہ رہنے سے شیئر بازار کو تقویت ملی ہے۔ اس دوران مڈ کیپ 1.40 فیصد بڑھ کر 21474.82 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.18 فیصد بڑھ کر 24136.33 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای میں کل 3434 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2094 میں خریداری جبکہ 1211 میں فروخت ہوئی، وہیں 129 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اسی طرح این ایس ای میں 45 کمپنیوں میں تیزی جبکہ باقی میں گراوٹ کا رجحان رہا۔

بی ایس ای میں آئل اینڈ گیس اور انرجی گروپ کی 0.47 فیصد تک کی گراوٹ کے علاقہ باقی 17 گروپوں میں اضافہ ہوا۔ اس دوران، آٹو 4.42، سی ڈی جی ایس 2.40، ہیلتھ کیئر 1.39، انڈسٹریلز 1.48، آئی ٹی 1.87، ٹیلی کام 1.81، کیپٹل گڈز 1.28، ریئلٹی 1.59 اور ٹیک گروپ کے حصص میں 1.85 فیصد اضافہ ہوا۔

ایشیائی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا۔ جاپان کا نکی 0.08، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.26 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 1.62 فیصد بڑھ گیا۔ دوسری جانب، برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.17 فیصد اور جرمنی کے ڈیکس میں 1.01 فیصد کی کمی ہوئی۔

افغانستان میں طاقتور زلزلے سے 920 افراد ہلاک، ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ

0

افغانستان میں طاقتور زلزلے سے اب تک 920 افراد ہلاک اور 600 زخمی ہو چکے ہیں

کابل: افغانستان میں طاقتور زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 920 ہو گئی ہے اور مزید 600 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان نے یہ اطلاع دی۔

افغانستان میں منگل کی شب زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 تھی۔

زلزلے کے بعد صوبہ پکتیکا میں ملبے اور ٹوٹے مکانوں کی تصویریں دکھائی دے رہی ہیں۔

بی بی سی نے طالبان رہنما ہیبت اللہ اخندزادہ کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے سے سینکڑوں گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

ان کے نائب وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ شرف الدین مسلم نے کہا کہ اب تک 920 افراد ہلاک اور 600 زخمی ہو چکے ہیں۔

طالبان کے مقرر کردہ ترجمان بلال کریمی نے ٹویٹر پر بتایاکہ "بدقسمتی سے کل رات صوبہ پکتیکا کے چار اضلاع میں زبردست زلزلہ آیا۔ زلزلے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے اور کئی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ ہم تمام امدادی اداروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس تباہی کو روکنے کے لیے ان علاقوں میں ٹیمیں بھیجیں۔‘‘

بی بی سی نے امریکی جیولوجیکل سروے کے حوالے سے بتایا ہے کہ زلزلے کے وقت لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 تھی اور زمین کی سطح سے 51 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔

نریندر مودی حکومت دہلی میں 53 مندروں کو منہدم کرنے جا رہی ہے: عآپ

0
نریندر مودی حکومت دہلی میں 53 مندروں کو منہدم کرنے جا رہی ہے: عآپ
نریندر مودی حکومت دہلی میں 53 مندروں کو منہدم کرنے جا رہی ہے: عآپ

بی جے پی والے ملک بھر میں مذہب اور مندر کے نام پر ڈرامہ کرتے ہیں۔ دہلی میں جہاں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے وہاں 53 مندروں کو گرانے جا رہے ہیں

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) نے بدھ کو کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگ پورے ملک میں مذہب کے نام پر ڈرامہ کرتے ہیں اور دہلی میں 53 مندروں کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عآپ کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا بی جے پی والے مذہب کے نام پر ڈرامہ کرتے ہیں۔ مذہب کے نام پر لڑائیاں کروائیں گے، نفرتیں پھیلائیں گے۔ دہلی میں مذہب کے نام پر ڈرامہ ہوگا اور بی جے پی والے مذہب کے سب سے بڑے ٹھیکیدار بننے کا کام کریں گے، لیکن دہلی میں ایک دو نہیں 53 مندروں کو توڑنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ بی جے پی اور نریندر مودی حکومت دہلی میں 53 مندروں کو منہدم کرنے جا رہی ہے۔

مودی حکومت نے دہلی حکومت کو خط لکھا ہے کہ ہمیں مذہبی کمیٹی سے اجازت درکار ہے۔ مرکزی حکومت نے دہلی حکومت کو خط لکھا ہے کہ ہمیں دہلی میں 53 مندروں کو گرانے کی اجازت درکار ہے۔

بی جے پی والے مذہب اور مندر کے نام پر ڈرامہ کرتے ہیں

مسٹر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی دہلی کے ریاستی صدر آدیش گپتا اور یہ بی جے پی کا اصلی چہرہ ہے۔ یہ لوگ دہلی کے 53 مندروں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں۔ جس میں بھگوان شری رام، لارڈ شری کرشن، ہنومان، مہادیو شیوا، ماتا درگا سمیت سائی بابا کے مندر کو کوئی نہیں چھوڑ رہا ہے۔

بی جے پی والے ملک بھر میں مذہب اور مندر کے نام پر ڈرامہ کرتے ہیں۔ دہلی میں جہاں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے وہاں 53 مندروں کو گرانے جا رہے ہیں۔ میڈیا کو ایک کاغذ دکھاتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ پیپر اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کے لوگ ہندو مذہب کے کتنے بڑے مخالف ہیں۔

عآپ کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی کو سامنے آکر 53 مندروں کے انہدام کے معاملے میں دہلی کے لوگوں کو جواب دینا چاہیے۔

اسٹاک مارکیٹ میں کمی، سینسیکس-نفٹی ایک فیصد سے زیادہ گر گیا

0
اسٹاک مارکیٹ میں کمی، سینسیکس-نفٹی ایک فیصد سے زیادہ گر گیا
اسٹاک مارکیٹ میں کمی، سینسیکس-نفٹی ایک فیصد سے زیادہ گر گیا

بی ا یس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 52 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے 709.54 پوائنٹس گر کر 51,822.53 پوائنٹس پر آگیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 225.50 پوائنٹس گر کر 15,413.30 پر آگیا

ممبئی: شرح سود میں اضافہ اور عالمی معیشت کی رفتار سست پڑنے کے خدشے سے غیر ملکی بازاروں میں آئی گراوٹ سے حوصلہ شکنی کے شکار سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر چوطرفہ فروخت سے سینسیکس اور نفٹی گزشتہ دو دنوں کی تیزی کھوکر آج ایک فیصد سے زیادہ گر گئے۔

بی ا یس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 52 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے 709.54 پوائنٹس گر کر 51,822.53 پوائنٹس پر آگیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 225.50 پوائنٹس گر کر 15,413.30 پر آگیا۔

اس مدت کے دوران بی ایس ای مڈ کیپ 1.53 فیصد گر کر 21,178.06 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.11 فیصد گر کر 23,854.62 پوائنٹس پر آگیا۔ اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل 3440 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2081 فروخت ہوئے جبکہ 1250 خریدے گئے اور 109 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 45 کمپنیوں میں کمی ہوئی جبکہ باقی پانچ میں اضافہ ہوا۔ بی ایس ای کے تمام 19 گروپ سب آؤٹ سیلنگ کی وجہ سے گر گئے۔

پروفیسر شیخ عقیل احمد کے ہاتھوں ایس ٹی رضا کی کتاب ‘تفہیمات’ کی رونمائی

0
پروفیسر شیخ عقیل احمد کے ہاتھوں ایس ٹی رضا کی کتاب ‘تفہیمات’ کی رونمائی
پروفیسر شیخ عقیل احمد کے ہاتھوں ایس ٹی رضا کی کتاب ‘تفہیمات’ کی رونمائی

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے روزنامہ جدید کے ایڈیٹر ایس ٹی رضا کے مضامین اور تبصروں کے مجموعہ ‘تفہیمات’ کی رونمائی کی

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد کے ہاتھوں روزنامہ دور جدید کے مدیر ایس ٹی رضا کے مضامین اور تبصروں کے مجموعے ‘تفہیمات’ کا اجرا عمل میں آیا۔ یہ بات آج یہاں جاری ریلیز میں کہی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق اس موقعے پر شیخ عقیل نے کہا کہ اس کتاب کے مشمولات قابلِ مطالعہ ہیں اور اپنے موضوعات کا بھرپور احاطہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایس ٹی رضا نے جن فن کاروں اور تخلیق کاروں کو موضوعِ تحریر بنایا ہے وہ اپنے تخلیقی و فنی میدانوں میں غیر معمولی اہمیت و شہرت بھی رکھتے ہیں، مگر ابھی ان میں سے بیشتر کے بارے میں زیادہ نہیں لکھا گیا ہے، ایس ٹی رضا نے ان کے فکر و فن کا جائزہ لے کر ان کی خدمات کے اعتراف کا اچھا سلسلہ شروع کیا ہے۔

کتاب میں متعدد تخلیق کاروں پر مضامین شامل

شیخ عقیل نے کہا کہ ان مضامین کو پڑھ کر متعلقہ فن کاروں کے حوالے سے کئی نئے زاویے ہمارے سامنے آتے ہیں اور ہماری معلومات و بصیرت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس کتاب میں جن تخلیق کاروں پر مضامین شامل ہیں ان میں سلام مچھلی شہری، زبیر الحسن غافل، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، مشرف عالم ذوقی، تبسم فاطمہ، ڈاکٹر سید احمد قادری، اسلم جمشیدپوری، شکور انور، ابرار احمد شبیری کامل، حبیب سیفی اور امیر نہٹوری شامل ہیں۔

ان کے علاوہ چھ کتابوں پر مصنف کے تبصرے بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ کتاب کے مصنف ایس ٹی رضا نے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کتاب دراصل وقتاً فوقتاً لکھے گئے میرے مضامین اور تبصروں کا مجموعہ ہے جنھیں افادۂ عام کے لیے کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس موقعے پر معروف شاعر طالب رامپوری، سندھی اخبار سمواد کے چیف ایڈیٹر شری کانت بھاٹیا، انصاری اطہر حسین اور مبشر عالم وغیرہ موجود تھے۔

اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی اور تربیت میں کوئی تبدیلی نہیں: مسلح افواج

0
اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی اور تربیت میں کوئی تبدیلی نہیں: مسلح افواج
اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی اور تربیت میں کوئی تبدیلی نہیں: مسلح افواج

لیفٹیننٹ جنرل انیل پوری نے کہا کہ اگنی پتھ کا منصوبہ وسیع غور و خوض کے بعد سامنے لایا گیا ہے، فوجوں نے 150 میٹنگیں کیں جو 500 گھنٹے جاری رہیں

نئی دہلی: مسلح افواج نے آج ایک بار پھر واضح کیا کہ تینوں سروس میں اگنی پتھ کے تحت سپاہیوں کی بھرتی کی نئی اسکیم مکمل طور پر پرانی بھرتی کے طریقہ کار سے ملتی جلتی ہوگی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ساتھ ہی فوج میں رجمنٹ کا نظام بھی برقرار رہے گا۔

مسلح افواج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ یہ کوئی پائلٹ پروجیکٹ نہیں ہے اور اسے شیڈول کے مطابق ہی انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کا کل ہند کردار برقرار رہے گا اور پورے ملک میں بھرتی ریلیاں نکالی جائیں گی اور ملک کا کوئی بھی ضلع اس سے اچھوتا نہیں رہے گا۔

فوجی امور کے محکمے میں ایڈیشنل سکریٹری، لیفٹیننٹ جنرل انیل پوری نے فضائیہ، بحریہ اور فوج کے سینئر افسران کے ساتھ دو دن بعد منگل کو ایک بار پھر میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے اتوار کو بھی اگنی پتھ اسکیم کے بارے میں میڈیا سے بڑے پیمانے پر بات کی تھی۔ مسلح افواج نے بھرتی کے عمل کو جلد از جلد شروع کرنے کا روڈ میپ تیار کیا اور کہا کہ جوانوں کی بھرتی کے وقت بھرتی کے معیار میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صرف ان امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا جو ہر کسوٹی میں بہترین ثابت ہوں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل پوری نے کہا کہ اگنی پتھ کا منصوبہ وسیع غور و خوض کے بعد سامنے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجوں نے 150 میٹنگیں کیں جو 500 گھنٹے جاری رہیں، وزارت دفاع کی سطح پر 60 میٹنگیں ہوئیں جو 150 گھنٹے جاری رہیں، اس کے علاوہ حکومت میں 44 میٹنگیں ہوئیں جو 100 گھنٹے تک جاری رہیں۔

اگنی ویروں کی تربیت

انہوں نے کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی ہونے والے اگنی ویروں کی تربیت بھی موجودہ جوانوں کی طرح ہی ہوگی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اگنی ویروں کے لیے ہونے والے امتحان کے نصاب میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور یہ پہلے کی طرح ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسے پائلٹ پروجیکٹ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ فوج ابتدائی چند سالوں میں 40 سے 50 ہزار اور اس کے بعد ہر سال 90 ہزار سے زائد اگنی ویر بھرتی کرے گی۔