جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 226

برطانوی وزیر اعظم جانسن نے استعفیٰ دے دیا

0

نئے وزیر اعظم کے اقتدار سنبھالنے تک برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن حکومت کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے

لندن: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کے وزراء کے استعفوں کے دوران جمعہ کو استعفیٰ دے دیا۔ نئے وزیر اعظم کے اقتدار سنبھالنے تک وہ حکومت کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔

مسٹر جانسن نے کہا کہ انہیں استعفیٰ دینے پر افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ دنیا کی سب سے بہترین پوسٹ تھی، لیکن وقفے ضرور ہوتے ہیں۔ میں اپنی پارٹی کے پارلیمنٹرینز کے اسپیکر سر گراہم بریڈی سے متفق ہوں کہ نئے لیڈر کے انتخاب کا عمل اب شروع ہونا چاہیے۔ نئے قائد کے انتخاب کے شیڈول کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔ میں نے کام کاج کے لیے آج (عارضی طور پر) کابینہ تشکیل دی ہے۔ میں اگلے وزیر اعظم کے اقتدار سنبھالنے تک حکومت کی ذمہ داری ادا کرتا رہوں گا۔

جانسن حکومت میں وزیر خارجہ لز ٹرس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "وزیر اعظم نے درست فیصلہ کیا ہے۔

 

حکومت نے بورس کی قیادت میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بریگزٹ پر عمل درآمد، کورونا ویکسین فراہم کرنا اور یوکرین کو سپورٹ کرنا ان کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ ہمیں اب امن کے ساتھ متحد رہنا ہے اور نئے لیڈر کے انتخاب تک حکومت کا کام کاج دیکھنا ہے۔

نوپور شرما کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک بار پھر عرضی دائر

0

عرضی گزار نے اپنی درخواست پر فوری سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس نوپور شرما کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق ترجمان نوپور شرما کی پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرہ کرنے پر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والی ایک اور درخواست بدھ کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔

جسٹس اندرا بنرجی کی سربراہی میں دو ججوں کی تعطیلاتی بنچ نے فوری سماعت سے انکار کردیا اور عرضی گزار ابو سہیل سے کہا کہ وہ اس معاملے میں فہرست کے لیے منشننگ رجسٹرار سے رجوع کریں۔

عرضی گزار نے اپنی درخواست پر فوری سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس محترمہ شرما کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

ایڈوکیٹ سہیل نے قبل ازیں عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی جس میں جون کے وسط میں بھی بی جے پی کے سابق ترجمان کی گرفتاری کی درخواست کی گئی تھی۔ اس نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ دہلی پولیس کو ہدایت دی جائے کہ وہ پیغمبر اسلام کے خلاف ان کے مبینہ نفرت انگیز تبصروں پر کارروائی کریں اور ان کو گرفتار کریں۔

واضح رہے کہ محترمہ شرما کے پیغمبر اسلام پر مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کے بعد ملک اور دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

مختار عباس نقوی نے دیا مرکزی وزارت سے استعفی

0

مختار عباس نقوی نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے پہلے پارٹی صدر جے پرکاش نڈا سے کی ملاقات

نئی دہلی: اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے بدھ کو استعفیٰ دے دیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ذرائع نے بتایا کہ مسٹر نقوی نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے پہلے پارٹی صدر جے پرکاش نڈا سے ملاقات کی۔ انہوں نے آج آخری بار کابینہ کے اجلاس میں بطور وزیر شرکت کی۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر نقوی راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور جھارکھنڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی میعاد ختم ہونے والی ہے اور اس بار بی جے پی نے انہیں راجیہ سبھا انتخابات میں نہیں اتارا ہے۔ وہ اس سے پہلے اتر پردیش میں رامپور لوک سبھا سیٹ کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن پارٹی نے انہیں وہاں ہونے والے ضمنی انتخابات میں نہیں اتارا تھا۔

پارٹی یا حکومت میں مسٹر نقوی کے کردار کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان یا سرکاری اشارہ نہیں ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ مسٹر نقوی کو حکمراں این ڈی اے اتحاد کی طرف سے نائب صدر کا امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔

 نائب صدر کا انتخاب 6 اگست کو ہوگا۔ نائب صدر وینکیا نائیڈو کی میعاد 10 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔

الیکشن کمیشن نے نائب صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا۔ اس کے لیے امیدوار 19 جولائی تک فارم بھر سکتے ہیں۔

مہاراشٹر میں کورونا کے 3098 نئے معاملے آئے سامنے، مزید 6 مریضوں کی موت

0
مہاراشٹر میں کورونا کے 3098 نئے معاملے آئے سامنے، مزید 6 مریضوں کی موت
مہاراشٹر میں کورونا کے 3098 نئے معاملے آئے سامنے، مزید 6 مریضوں کی موت

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3098 نئے معاملے، چھ مریضوں کی موت

اورنگ آباد/ممبئی: مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 3098 نئے معاملے سامنے آئے اور مزید چھ مریضوں کی موت ہوگئی۔ یہ معلومات بدھ کو ہیلتھ بلیٹن میں دی گئی۔

نئے کیسز کے ساتھ، متاثرین کی کل تعداد 7989909، جبکہ اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 147949 ہو گئی ہے۔

اس دوران 4207 مریض صحت یاب ہوئے، جس کے بعد کورونا سے نجات حاصل کرنے والوں کی تعداد 7821140 ہو گئی ہے۔ اس دوران ریاست کی صحت یابی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جو فی الحال 97.87 فیصد ہے اور شرح اموات 1.85 فیصد پر برقرار ہے۔

بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں اس وقت 20,820 ایکٹیو کیسز ہیں اور اس کے مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

بلیٹن میں مزید کہا گیا، اس دوران ریاست کے مراٹھواڑہ علاقے سے 159 فعال معاملات اور ایک موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اورنگ آباد ضلع میں 77 کیسز اور ایک موت، جالنا میں 37 معاملے، عثمان آباد اور لاتور اضلاع سے 14-14 معاملے سامنے آئے ہیں، بیڈ میں 9 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، اس کے علاوہ ناندیڑ اور پربھنی میں بالترتیب سات اور ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

راجستھان: اجمیر میں متنازعہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر خادم سلمان چشتی گرفتار

0
راجستھان: اجمیر میں متنازعہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر خادم سلمان چشتی گرفتار
راجستھان: اجمیر میں متنازعہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر خادم سلمان چشتی گرفتار

اجمیر درگاہ تھانہ پولیس نے متنازعہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے میں خادم سلمان چشتی کو گرفتار کرلیا ہے، ابتدائی تفتیش میں اس نے پولیس کو نشے میں ویڈیو بنانے کی بات کہی ہے

اجمیر: راجستھان میں اجمیر درگاہ تھانہ پولیس نے متنازعہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے میں ہسٹری شیٹر خادم سلمان چشتی کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں سلمان کو منگل کی شام اس کے خادم محلہ کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش میں اس نے پولیس کو نشے میں ویڈیو بنانے کی بات کہی ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکاس سانگوان، درگاہ سی او سارسوت، سی آئی دلبیر سنگھ نے متنازعہ ویڈیو جاری کرنے کے بعد انڈرگراونڈ اس خادم کو گرفتار کیا۔

قابل ذکر ہے کہ سلمان چشتی نے ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کا گلا کاٹنے والے شخص کو اپنا گھر تحفے میں دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد مسلم اور غیر مسلم معاشرے میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد خادموں کی تنظیم انجمن کمیٹی اور درگاہ کمیٹی کو امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کا پیغام جاری کرنا پڑا۔

کانپور تشدد: مبینہ کلیدی ملزم کے دعوے کے ساتھ حاجی وصی لکھنؤ سے گرفتار

0
کانپور تشدد: مبینہ کلیدی ملزم کے دعوے کے ساتھ حاجی وصی لکھنؤ سے گرفتار
کانپور تشدد: مبینہ کلیدی ملزم کے دعوے کے ساتھ حاجی وصی لکھنؤ سے گرفتار

پولیس کے دعوی کے مطابق حاجی وصی اور مختار بابا کا نام کانپور تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حیات ظفر ہاشمی اور اس کے حامیوں سے پوچھ گچھ کے بعد جوڑا گیا ہے

کانپور: اترپردیش کے ضلع کانپور میں اہانت رسول کے خلاف 3 جون کو نکالے گئے احتجاجی مظاہرے میں تشدد پھوٹ پڑنے کے معاملے میں آج کانپور پولیس نے تشدد کے کلیدی ملزم ہونے کے دعوی کے ساتھ بلڈر حاجی وصی کو لکھنؤ سے گرفتار کیا ہے۔

جوائنٹ کمشنر آف پولیس آنند پرکاش تیواری نے منگل کو بتایا کہ وصی بیکن گنج پولیس اسٹیشن پر درج تین مقدموں میں مطلوب تھا۔ پولیس نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا اور اس کی گرفتاری کے لئے ہم نے دہلی اور اطراف کے شہروں میں مہم بھی چلائی تھی۔

تیوری نے پیر کی رات کو بتایا کہ وصی کی لوکیشن اموسی ائیر پورٹ کے نزدیک ٹریک کی گئی۔ اس اطلاع پر تیزی سے کاروائی کرتے ہوئے کانپور پولیس نے لکھنؤ سے حاجی وصی کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے دعوی کے مطابق حاجی وصی اور مختار بابا کا نام تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حیات ظفر ہاشمی اور اس کے حامیوں سے پوچھ گچھ کے بعد جوڑا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں ملزمین نے 3 جون بروز جمعہ کو ہونے والے مظاہرے کی فنڈنگ کی تھی۔

بریانی کی دوکان چلانے والے مختار بابا کو کانپور کی اسپیشل انوسٹی گیش ٹیم (ایس آئی ٹی) 22 جون کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس ذرائع نے دعوی کیا کہ پوچھ گچھ میں ملزمین نے اقبال جرم کیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف تشدد کے لئے فنڈ دیا تھا بلکہ خود بھی اس میں شامل تھے۔

پولیس کے مطابق مختار کے خلاف متعدد مقدمے درج ہیں اور ان کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہے۔ 3 جون کو پیش آئے تشدد میں ابھی تک 60 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

نیپال: بس حادثہ میں 13 لوگوں کی موت

0
نیپال: بس حادثہ میں 13 لوگوں کی موت
نیپال: بس حادثہ میں 13 لوگوں کی موت

نیپال کے ضلع رام چھاپ میں بس حادثہ، 9 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ 4 افراد دھلی کھیل ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے

کھٹمنڈو: نیپال کے ضلع رام چھاپ میں منگل کو ایک بس حادثہ میں 13 افراد ہلاک اور 19 دیگر زخمی ہوگئے۔

‘کھٹمنڈو پوسٹ’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بس کھٹمنڈو جا رہی تھی۔ اس دوران یہ حادثہ کھڑ دیوی- سنا پتی روڈ پر پیش آیا۔

پولیس نے بتایا کہ چار خواتین سمیت نو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ چار افراد دھلی کھیل ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔

خبر لکھنے جانے تک حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

سہارنپور: مشہور کاروباری حاجی اقبال کے تین مکانوں پر چلا بلڈوزر

0
سہارنپور: مشہور کاروباری حاجی اقبال کے تین مکانوں پر چلا بلڈوزر
سہارنپور: مشہور کاروباری حاجی اقبال کے تین مکانوں پر چلا بلڈوزر

پولیس انتظامیہ کے ذریعہ گینگسٹر ایکٹ کے تحت مطلوب اور فرار چل رہے حاجی اقبال کے چار میں سے تین بیٹوں کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ ان کی اب تک 130 کروڑ روپئے سے زیادہ کی ملکیت قرق کی جاچکی ہے

سہارنپور: اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں پیر کو کاروباری حاجی اقبال عرف باللا کے خلاف مختلف معاملوں میں کاروائی کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے ان کے تین عالی شان مکانوں کو بلڈوزر سے زمین دوز کردیا۔

سہارنپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے شہر کے تھانہ جنکپوری علاقے میں نیو بھگت سنگھ کالونی واقع سابق بی ایس پی ایم ایل سی اقبال کے تین مکانوں کو زمین دوز کرنے کی کاروائی کو انجام دیا۔ اتھارٹی کے وائس چیئرمین آشیش کمار اور ایس ڈی ایم صدر کنسکھ شریواستو کی قیادت میں یہ کاروائی کی گئی۔

کمار نے بتایا کہ بلڈوزر کی زد میں آئے حاجی اقبال کے تین میں سے ایک مکان کا نقشہ منظور نہیں تھا اور دو مکانوں کے منظور شدہ نقشے سے زیادہ علاقے کو گھیر کا تعمیراتی کام کرایا گیا تھا۔ اتھارٹی نے انہیں پوری طرح سے غیر قانونی بتاتے ہوئے مسمار کردیا۔ یہ مکانات ڈی ایم رہائش گاہ سے قریب ہی تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ضلع اور پولیس انتظامیہ کے ذریعہ گینگسٹر ایکٹ کے تحت مطلوب اور فرار چل رہے حاجی اقبال کے چار میں سے تین بیٹوں کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ ان کی اب تک 130 کروڑ روپئے سے زیادہ کی ملکیت قرق کی جاچکی ہے۔

نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف بلا امتیاز سختی کا مظاہرہ ناگزیر

0
نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف بلا امتیاز سختی کا مظاہرہ ناگزیر
نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف بلا امتیاز سختی کا مظاہرہ ناگزیر

نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف سختی کا مظاہرہ ضروری ہے، مگر اس میں امتیاز ی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ قانون کی نظر میں سب یکساں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

’یہ برسوں پہلے 1975ء کی بات ہے۔ جون کا ہی وقت تھا جب ایمرجنسی لگائی گئی تھی۔ اس میں ملک کے شہریوں سے تمام حقوق چھین لیے گئے تھے۔ ان حقوق میں سے ایک ’حق زندگی اور ذاتی آزادی‘ کا حق بھی تھا، جو آئین کی دفعہ 21؍ کے تحت تمام ہندوستانیوں کو دیا گیا ہے۔ اس وقت ہندوستان کی جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ملک کی عدالتیں، ہر آئینی ادارہ، پریس، سب کنٹرول میں تھے۔ سنسرشپ کا یہ حال تھا کہ منظوری کے بغیر کوئی چیز چھاپی نہیں جا سکتی تھی۔

ایمرجنسی کے حالات

مجھے یاد ہے جب مشہور گلوکار کشور کمار نے حکومت کی تعریف کرنے سے انکار کیا تو ان پر پابندی لگا دی گئی۔ ریڈیو پر ان کی انٹری ہٹا دی گئی۔ لیکن بہت سی کوششوں، ہزاروں گرفتاریوں اور لاکھوں لوگوں پر مظالم کے بعد بھی ہندوستانی عوام کا جمہوریت پر اعتماد متزلزل نہیں ہوا، بالکل نہیں ہوا۔ ہندوستان کے لوگوں کے لیے جمہوریت کی جو قدریں صدیوں سے چلی آرہی ہیں، جمہوری جذبہ جو ہماری رگوں میں ہے، آخرکار اس کی فتح ہوئی ہے۔ ہندوستان کے عوام نے جمہوری طریقے سے ایمرجنسی ہٹاکر جمہوریت قائم کی۔ آمرانہ ذہنیت، آمرانہ رجحان کو جمہوری طریقے سے شکست دینے کی ایسی مثال پوری دنیا میں ملنا مشکل ہے۔‘‘ وزیراعظم نریندر مودی نے چند روز پہلے کچھ اس انداز میں ایمرجنسی کے حالات کو ملک کے عوام سے واقف کروایا۔

آئین، جمہوریت، آزادی، مساوات، بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی جیسے الفاظ یقیناً ایک قوم کو مضبوط بنانے کا اہم ہتھیار ہوتے ہیں۔ ان امور کی پاسداری سے ہمارا سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے، وہیں ان پر پہرہ بٹھا دیا جائے تو ملک اور قوم کے دامن پر ایسا دھبہ لگتا ہے، جسے صاف کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے 47؍ سال پہلے اعلانیہ طور پر ملک میں جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی، اس کی یادیں ماند نہیں پڑی ہیں۔

غیر اعلانیہ ایمرجنسی

لیکن جب وزیر اعظم مودی برسوں پہلے ہندوستان کی جمہوریت پر لگے اس بد نما داغ کی یاد دلاتے ہیں تو آج کے حالات بھی نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ جسے لوگ ’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مودی نے 25؍ جون 1975ء کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کی عدالتیں، ہر آئینی ادارہ، پریس، سب کنٹرول میں تھے۔‘ اتفاق دیکھئے کہ آج ان کی حکومت پر بھی یہی الزام لگ رہے ہیں۔ میڈیا کے ایک بڑے حلقے کے بارے میں ان کالموں میں بارہا لکھا جا چکا ہے۔ عدلیہ اور آئینی اداروں کے موجودہ رویوں پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پولیس اور انتظامیہ کے کردار کو تو خود عدالتوں نے نہ جانے کتنی بار آئینہ دکھایا ہے۔ چاہے وہ فسادات کا معاملہ ہو، احتجاج اور مظاہروں کے بعد گرفتاریوں کا معاملہ ہو یا پھر سماج کے ایک طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک ہو، پولیس نے بار بار اپنے عمل سے عوام اور بالخصوص اقلیتی فرقہ کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔

نپور شرما کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ تبصرے

گستاخ رسول نپور شرما کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ تبصرے نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی سابق قومی ترجمان نپور شرما کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس خاتون کی بدزبانی نے پورے ملک میں آگ بھڑکا دی ہے۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لئے ذمہ دار صرف نپور شرما ہے۔ ہم نے اس ٹی وی بحث کو دیکھا ہے کہ انہیں کس طرح اکسایا گیا، لیکن جس طرح انہوں نے یہ سب کہا اور بعد میں کہا کہ وہ ایک وکیل ہیں، یہ شرمناک ہے۔ انہیں پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔‘

سماعت کے دوران نپور شرما کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے۔ عدالت نے اس پر کہا ’انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے یا وہ سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہیں؟ انہوں نے جس طرح سے پورے ملک میں جذبات بھڑکائے ہیں۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار صرف اکیلی یہ خاتون ہے۔‘

اسی کے ساتھ عدالت عظمیٰ نے اس پہلو کی جانب بھی اشارہ کیا کہ جس میں پولیس یا انتظامیہ قانون کی عمل آوری کے نام پر دوہرا رویہ اختیار کرتی ہے۔ اس کے لئے عدالت نے براہ راست دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ ’جب آپ دوسروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن جب یہ آپ کے خلاف ہو تو کسی کو آپ کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

کچھ سوالات حکومت سے

واضح رہے کہ 17؍ جون کو ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نپور شرما سے پوچھ گچھ کے لیے دہلی آئی تھی، لیکن مہاراشٹر پولیس کو دہلی پولیس سے کوئی تعاون نہیں ملا۔ بالآخر مہاراشٹر پولیس پانچ روز کی تگ ودو کے بعد یہاں سے لوٹ گئی تھی۔ وہیں کولکاتہ پولیس نے بھی نپور شرما کو کئی سمن جاری کئے ہیں، لیکن دہلی پولیس سے سمن کی تعمیل میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔

اب اگر سپریم کورٹ کے تبصرے پر حکومت، انتظامیہ اور پولیس سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ پورے ملک کو خطرے میں ڈالنے والی نپور شرما کو کب گرفتار کیا جائے گا؟ دوسرا یہ کہ نپور شرما کے لیے خصوصی سیکورٹی انتظامات کرنے والی دہلی پولیس کیا اب حرکت میں آئے گی؟ اس کے علاوہ نپور شرما کب ٹی وی پر آئے گی اور پھر غیر مشروط معافی مانگے گی؟ اور جس ٹی وی چینل پر نپور نے نفرت انگیز بیان دیا اس کے خلاف کب کارروائی ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سپریم کورٹ کے تبصرے کے بعد انصاف پسند حلقوں کی جانب سے اٹھا جا رہے ہیں۔

کچھ سوالات عدلیہ سے

کچھ سوالات عدلیہ سے بھی پوچھے جا سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر سپریم کورٹ کو واقعی لگتا ہے کہ نپور شرما نے اشتعال انگیز اور نا قابل معافی جرم کیا ہے تو گرفتاری کا حکم کیوں نہیں دیا؟سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا کیا مطلب نکالا جائے؟ کیوں کہ سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد بھی تا دم تحریر نپور شرما کو گرفتار نہیں کیا گیا، مگر مشہور فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر کی گرفتاری اور پھر اسے ضمانت نہ ملے، اس کے لئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا میدان میں ہیں۔ حکومت زبیر پر شکنجہ کسنے کے لیے عدالت میں پورا زور لگا رہی ہے، اس کی ضمانت عرضیاں خارج ہو رہی ہیں، جسے ایک فلمی سین کے ساتھ چار سال پرانے ٹویٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سوالات کے جوابات بھلے ہی ابھی نہ ملیں، مگر پورے ملک میں آئین کی بالادستی قائم رہنے یا نہ رہنے پر بحث و مباحثہ ضرور ہوگا۔

عوام میں اعتماد بحال کرنا آئینی اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری

بہر حال، آئینی اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند عوام میں اعتماد بحال کریں۔ قانون کی نظر میں اگر زبیر نے اشتعال پھیلایا اور دو فرقوں کے مابین منافرت کو ہوا دی تو یقیناً اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، مگر اس کے ساتھ ہی قانون کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسی کارروائی ان لوگوں کے خلاف بھی ہو رہی ہے، جو کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی بات کرتے ہیں، ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں، مقدس مذہبی شخصیات کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو کیمروں کے سامنے خونریزی کا حلف دلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی لبادہ اوڑھ کر ادے پور جیسے واقعات کو انجام دینے والے بھی سزا کے مستحق ہیں۔

عدلیہ ہی نہیں، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو بھی ملک میں نفرت کی اس چنگاری کو آگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسے عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی جو دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، سماج میں منافرت اور اشتعال پیدا کریں۔ نہ تو کوئی قانون اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

( مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

اس مضمون میں بیان کئے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ہمس لائیو کی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہوں۔

چینل نے معافی مانگ لی، بی جے پی لیڈروں کو بھی معافی مانگنی چاہئے: کانگریس

0
چینل نے معافی مانگ لی، بی جے پی لیڈروں کو بھی معافی مانگنی چاہئے: کانگریس
چینل نے معافی مانگ لی، بی جے پی لیڈروں کو بھی معافی مانگنی چاہئے: کانگریس

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس فرضی ویڈیو کے ذریعے مسٹر گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خبر کے ساتھ ویڈیو نشر کرنے والے ٹی وی چینل نے معافی مانگ لی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ اس کے سابق صدر راہل گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے کے لئے فرضی ویڈیو نشر کرنے والے ٹی وی نیوز چینل نے معافی مانگ لی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے جن لیڈروں نے اس ویڈیو کو آگے بڑھایا انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ بصورت دیگر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس فرضی ویڈیو کے ذریعے مسٹر گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خبر کے ساتھ ویڈیو نشر کرنے والے ٹی وی چینل نے معافی مانگ لی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس ملک میں اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں، اس ویڈیو کی تشہیر کرنے والے لیڈروں کو بھی بروقت معافی مانگنی چاہیے ورنہ انہیں عدالتوں میں جانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ یہ فرضی ویڈیو بی جے پی لیڈر ہرش وردھن راٹھوڑ نے بھی شیئر کی ہے جو مرکزی حکومت میں اطلاعات و نشریات کے وزیر تھے۔ پارٹی کے ان لیڈروں نے یہ کام سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اب انہیں اس حرکت پر معافی مانگنی پڑے گی۔

ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک شخص کے خلاف راجستھان میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کچھ دوسرے چینلز کو بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کانگریس لیڈر کی شبیہ کو خراب کرنے کی ایسی کوشش کی گئی تو ایسا کرنے والوں کی کئی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔