جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 224

اجمیر: اشتعال انگیز تقریروں اور جھوٹے بیانات پر قانون اپنا کام کرے: رضوی

0
اجمیر: اشتعال انگیز تقریروں اور جھوٹے بیانات پر قانون اپنا کام کرے: رضوی
اجمیر: اشتعال انگیز تقریروں اور جھوٹے بیانات پر قانون اپنا کام کرے: رضوی

اجمیر درگاہ کمیٹی کے صدر سید شاہد حسین رضوی نے کہا ہے کہ کسی بھی خادم کی جانب سے کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا جائے گا، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی رکنیت پر بھی غور کیا جائے گا

اجمیر: راجستھان میں اجمیر درگاہ کمیٹی کے صدر سید شاہد حسین رضوی نے کہا ہے کہ درگاہ شریف پر کسی کی وجہ سے کچھ کہنا غلط ہے۔ کوئی چشتی لکھے اور دکھائی نہ دے ایسے لوگوں کو کوئی توجہ نہ دی جانی چاہئے۔

اجمیر میں اشتعال انگیز تقریروں اور جھوٹے بیانات پر انہوں نے کہا کہ قانون اپنا کام کرے۔ انجمنوں اور درگاہ سے منسلک تمام جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی خادم کی جانب سے کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا جائے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی رکنیت پر بھی غور کیا جائے گا۔

مسٹر رضوی اجمیر ضلع انتظامیہ کے ساتھ منی عرس کے انتظامات پر تبادلہ خیال کرنے آج کلکٹریٹ آئے، جہاں انہوں نے 31 جولائی سے شروع ہونے والے منی عرس (محرم) کے موقع پر ضلع کلکٹر انشدیپ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ چونارام جاٹ سے ملاقات کی، انتظامی اور پولیس سیکورٹی انتظامات کے سلسلے میں ہر پہلو پر بات چیت کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ منی عرس میں پورے ملک سے عقیدت مند اجمیر شریف آتے ہیں۔ ایسے میں خواجہ غریب نواز کا امن کا پیغام ملک وبیرون ملک میں جائے اس کے لئے بہتر انتظامات اور خوشگوار ماحول ضروری ہے۔ انتظامیہ نے تمام انتظامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ رضوی کے ہمراہ نائب صدر منور خان اور سینئر ممبر سید بابر اشرف موجود تھے۔

سری لنکا بحران دوسروں کے لیے انتباہی علامت: آئی ایم ایف

0
سری لنکا بحران دوسروں کے لیے انتباہی علامت: آئی ایم ایف
سری لنکا بحران دوسروں کے لیے انتباہی علامت: آئی ایم ایف

کرسٹالینا جارجیوا نے قرضوں کی بلند سطح اور محدود پالیسی والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری لنکا بحران ایک انتباہی علامت ہے

کولمبو: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے قرضوں کی بلند سطح اور محدود پالیسی والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری لنکا بحران ایک انتباہی علامت ہے۔

ڈیلی مرر نے جارجیوا کے حوالے سے سنیچر کو کہا کہ سری لنکا اعلی سطح اور محدود پالیسی والے ممالک کے لئے وارننگ کا اشارہ ہے۔ یہ ریمارکس انڈونیشیا میں منعقدہ جی۔20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کی ہائبرڈ میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر نے دیئے۔

ڈیلی مرر نے ان کے حوالے سے بتایا کہ یوکرین کی جنگ نے اشیائے ضروریہ اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چینز میں وبائی امراض سے متعلق مسلسل رکاوٹیں اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

نتیجے کے طور پر ہم اس ماہ کے آخر میں اپنے عالمی اقتصادی آؤٹ لک اپ ڈیٹ میں 2022 اور 2023 دونوں کے لیے عالمی نمو میں کمی کی پیش گوئی کریں گے۔ خاص طور پر اگر افراط زر زیادہ مستحکم ہو۔”

نائب صدر کے لیے این ڈی اے کے امیدوار ہوں گے جگدیپ دھنکھڑ

0
نائب صدر کے لیے این ڈی اے کے امیدوار ہوں گے جگدیپ دھنکھڑ
نائب صدر کے لیے این ڈی اے کے امیدوار ہوں گے جگدیپ دھنکھڑ

بی جے پی نے جگدیپ دھنکھڑ کو ملک کے نائب صدر کے لیے اپنا امیدوار منتخب کیا ہے

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکھڑ کو ملک کے نائب صدر کے لیے اپنا امیدوار منتخب کیا ہے۔

ہفتہ کی شام پارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اور بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا کی زیر صدارت منعقدہ میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان، بی جے پی کے تنظیمی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش نے شرکت کی۔

میٹنگ کے بعد مسٹر نڈا نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ”بی جے پی اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی طرف سے مسٹر جگدیپ دھنکھڑ جی کو نائب صدر کے عہدہ کے امیدوار کا اعلان کیا گیا ہے۔

بی جے پی کے قومی صدر نے کہا کہ مسٹر دھنکھڑ اس وقت مغربی بنگال کے گورنر ہیں اور تقریباً تین دہائیوں تک عوامی زندگی میں کام کر چکے ہیں۔

پارلیمانی بحث میں غیر پارلیمانی الفاظ کی بندش: ‘زباں بندی’ کے موسم میں گلی کوچوں کی مت پوچھو

0
پارلیمانی بحث میں غیر پارلیمانی الفاظ کی بندش: ‘زباں بندی’ کے موسم میں گلی کوچوں کی مت پوچھو
پارلیمانی بحث میں غیر پارلیمانی الفاظ کی بندش: ‘زباں بندی’ کے موسم میں گلی کوچوں کی مت پوچھو

پارلیمانی بحث میں الفاظ کی بندش اور پارلیمنٹ احاطہ میں احتجاج پر پابندی کو کسی صحت مند جمہوریت کی علامت تو نہیں کہا جا سکتا

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

‘خیالات کا آزادانہ تبادلہ’ بغیر کسی روک ٹوک کے معلومات کی ترسیل، مختلف نقطہ نظر کو نشر کرنا، بحث کرنا، اپنے خیالات کی تشکیل اور ان کا اظہار کرنا، ایک آزاد معاشرے کے بنیادی اشارئیے ہیں۔ یہ آزادی ہی لوگوں کے لیے ممکن بناتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور آراء کو مناسب بنیادوں پر مرتب کرکے ایک آزاد معاشرے میں اپنے سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کو باخبر طریقے سے استعمال کرسکیں۔ ہندوستانی جمہوریت میں پارٹیاں اپنی تنقید کے لیے تیار رہتی ہیں۔سیاسی جماعتیں عوام کے ذریعہ اپنی پالیسیوں کی تنقید کا سامنا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتی ہیں۔‘

دہلی کی ایک عدالت کا یہ تبصرہ ٹھیک اس وقت آیا ہے جب پارلیمنٹ میں کچھ الفاظ کے استعمال اور پارلیمنٹ احاطہ میں احتجاج پر پابندی لگائی گئی ہے۔ عدالت نے گرچہ یہ تبصرہ صحافی محمد زبیر کو ضمانت دیئے جاتے وقت کیا، مگر اسے ’جمہوریت کے مندر‘ میں ’زباں بندی‘ کی کوشش کے ضمن میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک صحت مند جمہوریت میں بحث و مباحثے کے وقت شائستگی کا مظاہرہ اور بہتر الفاظ کا استعمال ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس بہانے کہیں اظہار رائے کی آزادی اور سیاسی و سماجی حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی ہے۔

عدالتوں کے تبصروں سے بھی حقوق انسانی کی پامالی کے الزامات کی تصدیق

پچھلے کچھ برسوں کے دوران حکومت پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن سے لے کر حقوق انسانی کی پامالی تک کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سول سوسائٹی، مختلف حلقوں اور مختلف عدالتوں کے تبصروں سے بھی کئی بار ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔

خود چیف جسٹس آف انڈیا نے حال ہی میں کہا کہ ’ہم اس سال آزادی کے 75؍ سال کا جشن منا رہے ہیں۔ جیسا کہ ہماری جمہوریہ 72؍ سال کی ہو گئی ہے، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہر ادارے نے آئین کے ذریعے تفویض کردہ کرداروں اور ذمہ داریوں کی پوری طرح تعریف کرنا نہیں سیکھا ہے۔ ہندوستان میں سیاسی جماعتوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ عدلیہ کو ان کے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔ عدلیہ ایک آزاد ادارہ ہے جو صرف آئین کے تئیں جوابدہ ہے نہ کہ کسی سیاسی پارٹی یا نظریے کے۔ سیاسی جماعتوں کو لگتا ہے کہ عدلیہ کو سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہیے۔ ‘قانون کے رکھوالوں کے ان تبصروں کو بھی حکومت اور دیگر اداروں کو ’زباں بندی‘ اور احتجاج سے روکنے کی کوشش سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہئے۔

‘قانون کے رکھوالوں کے ان تبصروں کو بھی حکومت اور دیگر اداروں کو ’زباں بندی‘ اور احتجاج سے روکنے کی کوشش سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہئے‘

الفاظ کے استعمال کے حوالہ سے نئی ہدایات

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں الفاظ کے استعمال کے حوالہ سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس سے اپوزیشن پارٹیاں تو سخت برہم ہیں ہی، مختلف حلقوں میں بھی ان فیصلوں پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ پارلیمنٹ احاطہ میں دھرنا اور مظاہرے پر تو پابندی لگائی ہی گئی ہے، ساتھ ہی ایوان میں بحث کے دوران ’غیر پارلیمانی‘ الفاظ کی باقاعدہ ایک فہرست جاری کی گئی ہے، جن میں بہت سے ایسے الفاظ شامل ہیں، جو غیر پارلیمانی یا غیر شائستگی کے زمرے میں نہیں آتے۔ کہا جارہا ہے کہ ایسا مقننہ کے ’وقار کے تحفظ‘ کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ فہرست پہلے سے موجود ہے اور اگر اس فہرست میں کچھ اور الفاظ بھی شامل ہوں گے تو یہ کوئی غیر روایتی اعلان نہیں ہے۔

اس کے باوجود اس معاملے پر بحث اس لئے ہو رہی ہے کیوںکہ ایسے الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے، جن کے ذریعے اپوزیشن جماعتیں موجودہ حکومت پر مسلسل حملے کر رہی ہیں۔ اسی لئے سوال کیا جا رہا ہے کہ حکومت کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ پر پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے؟ خاص طور پر ایسے الفاظ جو نہ غیر شائستہ ہیں، نہ ہی مقننہ یا پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کرتے ہیں، پھر بھی انہیں غیر پارلیمانی قرار دیا گیا ہے، آخر کیوں؟ پارلیمانی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اب اراکین، جملہ جیوی، شکونی، جے چند، لالی پاپ، چنڈال چوکڑی، گل کھلائے، پٹھو اور کورونا اسپریڈر جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ایسے الفاظ کا استعمال غیر اخلاقی قرار دیا جائے گا اور انہیں ایوان کی کارروائی سے حذف کر دیا جائے گا۔

غیر پارلیمانی الفاظ کی فہرست

پارلیمنٹ کے اجلاس سے ٹھیک پہلے لوک سبھا سیکریٹریٹ نے ایک کتابچہ جاری کیا ہے جس میں وہ الفاظ شامل کئے گئے ہیں جو غیر پارلیمانی قرار دئیے گئے ہیں۔ اس کتابچے کے مطابق لوک سبھا سیکریٹریٹ نے نکما، ڈھنڈورہ پیٹنا اور بہری سرکار، خونریزی، خونیں، خیانت، شرمندہ، چمچا، چمچا گیری، چیلا، بچکانہ پن، کرپٹ، بزدل، مجرم، گھڑیالی آنسو، توہین، گدھا، ڈراما، غنڈہ گردی، منافقت، نا اہل، گمراہ کن، جھوٹ، انارکسٹ، غدر، گرگٹ، غنڈے، کالا دن، کالا بازاری، خرید و فروخت، فساد، دلال، دادا گیری، بیچارہ، باب کٹ، لالی پاپ اور بے حس جیسے الفاظ کو بھی غیر پارلیمانی زبان میں شامل کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بدسلوکی، فریب دہی، ڈراما اور نااہل جیسے الفاظ کو بھی غیر پارلیمانی الفاظ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف قانون ساز اداروں کے ساتھ ساتھ دولت مشترکہ کی پارلیمانوں میں اسپیکرز کی طرف سے وقتاً فوقتاً کچھ الفاظ اور تاثرات کو غیر پارلیمانی قرار دیا جاتا ہے اور لوک سبھا سیکریٹریٹ نے بھی یہی کیا ہے اور انہیں مستقبل میں فوری حوالہ کے لئے مرتب کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ کسی لفظ پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین یا لوک سبھا کے اسپیکر اجلاس کے دوران ایوان میں بولے گئے الفاظ کا جائزہ لیتے ہیں اور الفاظ کے غیر پارلیمانی ہونے پر اسے کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ یہی کام اس وقت کیا گیا ہے، لیکن اس پر بلاوجہ ہنگامہ کیا جارہا ہے۔ سر دست لوک سبھا اسپیکر کی یہ وضاحت تسلی بخش نہیں ہے۔

پارلیمنٹ احاطہ میں دھرنے اور احتجاج پر بھی پابندی

اپوزیشن پر قدغن لگانے کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا، پارلیمنٹ میں بولے جانے والے متعدد الفاظ پر پابندی عائد کرنے کے بعد حکومت نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں دھرنے اور احتجاج پر بھی پابندی عائد کر دی۔ راجیہ سبھا سیکریٹریٹ سے جاری ایک سرکولر میں کہا گیا کہ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مظاہرے، احتجاج، دھرنا یا مذہبی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا۔ کہا گیا ہے کہ اراکین، پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے کو کسی بھی مظاہرے، دھرنے، ہڑتال، انشن یا کسی مذہبی تقریب کے لئے استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اگرچہ اپوزیشن جماعتیں عام طور پر پارلیمنٹ احاطے میں مرکزی دروازے کے قریب واقع مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے اکثر احتجاج کرتی رہی ہیں۔ کئی ممبران یہاں بیٹھ کر انشن بھی کرتے ہیں۔ یہ اپوزیشن کے علامتی احتجاج کے لئے مختص جگہ قرار دی جاتی ہے، لیکن اب اس پر بھی پابندی عائد کرنے کی بات ہو رہی ہے جس سے اپوزیشن پارٹیاں خاص طور پر برہم ہیں۔

اپوزیشن کی ناراضگی

اپوزیشن کی ناراضگی جائز بھی ہے، کیوں کہ اس طرح کی پابندیاں کسی بھی صحت مند جمہوریت کے لئے نیک علامت نہیں ہے۔ اس موقع پر ہمیں عدالت کے اس تبصرے کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ ’سیاسی جماعتیں عوام کے ذریعہ اپنی پالیسیوں کی تنقید کا سامنا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتی ہیں۔ جمہوریت کھلی بحث کے ذریعے لوگوں کی حکومت ہے، جب تک لوگ اپنے خیالات کا اظہار نہ کر پائیں جمہوریت نہ تو چل سکتی ہے اور نہ ہی ترقی کر سکتی ہے۔‘

بہر حال، ہمیں ان اقدامات سے پہلے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کا وقار بحال رکھنے میں محض الفاظ کی بندش کافی ہے؟ کیا پارلیمانی بحث کے معیار اور ایوان کا وقار بنائے رکھنے میں ہمارے عوامی نمائندوں کا اخلاق و کردار مناسب معلوم ہوتا ہے؟ عوامی جلسوں سے لے کر پارلیمنٹ کی بحث تک ملک کے بڑے سے بڑے سیاستداں کس زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے اندر جن الفاظ پر بندش ہے، ان کو باہر بھی غیر پارلیمانی قرار دیا جائے

اگر پارلیمنٹ میں صرف مذکورہ الفاظ کے استعمال پر پابندی ہو سکتی ہے تو کیا انہی سیاستدانوں کو ان الفاظ پر عمل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایک رکن پارلیمنٹ کیسے کسی فرقہ کو نشانہ بناتے ہوئے ’گولی مارو۔۔۔‘ کے نعرے لگوا سکتا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر جن الفاظ پر بندش ہے، ان کو باہر بھی غیر پارلیمانی قرار دیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم ایک صحت مند جمہوریت اور مثالی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ورنہ ’زباں بندی‘ کی اس کوشش کو یہی کہا جائے گا کہ اب ہم جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

سی یو ای ٹی۔یوجی 2022 فیز I کا داخلہ امتحان 500 شہروں میں شروع

0

سی یو ای ٹی۔یوجی 2022 کا پہلا مرحلہ جمعہ کی صبح 9 بجے پورے ملک کے تقریباً 500 شہروں اور ملک سے باہر کے 10 شہروں میں شروع ہوا

نئی دہلی:  کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ انڈر گریجویٹ (سی یو ای ٹی۔یوجی) 2022 کا پہلا مرحلہ جمعہ کی صبح 9 بجے پورے ملک کے تقریباً 500 شہروں اور ملک سے باہر کے 10 شہروں میں شروع ہوا۔

پہلے مرحلے میں سی یو ای ٹی۔ یوجی 2022 کا امتحان 15، 16، 19 اور 20 جولائی 2022 کو ہونا ہے۔ اس امتحان کے لیے تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے آٹھ لاکھ 10 ہزار امیدوار پہلے مرحلے میں اور چھ لاکھ 80 ہزار امیدوار دوسرے مرحلے میں شرکت کریں گے۔

سی یو ای ٹی۔ یوجی 2022 اب جے ای ای۔مین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ملک کا دوسرا سب سے بڑا داخلہ امتحان بن گیا ہے۔ قومی اہلیت-کم-داخلہ ٹیسٹ-گریجویٹ لیول (این ای ای ٹی۔یوجی) ملک کا سب سے بڑا داخلہ امتحان ہے، جس میں اوسطاً 18 لاکھ امیدوار رجسٹر ہوتے ہیں۔

یو جی سی کے چیئرمین نے امتحان دینے والے تمام طلباء کو مبارکباد دی

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے چیئرمین جگدیش کمار نے ٹویٹ کیا کہ "صبح 9 بجے شروع ہونے والے سی یو ای ٹی کے پہلے امتحان کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ سی یو ای ٹی کا امتحان دینے والے تمام طلباء کو بہت بہت مبارک ہو۔”

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے کہا کہ تمام امتحانی مراکز سی سی ٹی وی کی نگرانی میں ہیں اور منصفانہ امتحانات کے انعقاد کے لیے جیمرز سے لیس ہیں۔ امتحانی مرکز میں امیدواروں کو ماسک فراہم کیے جائیں گے اور ان کے ذاتی ماسک بھی وہاں ٹھکانے لگائے جائیں گے۔

سی یو ای ٹی۔یوجی امتحان کا دوسرا مرحلہ اگلے مہینے کی 4 سے 10 تاریخ تک منعقد کیا جائے گا۔ جن امیدواروں نے فزکس، کیمسٹری یا بائیلوجی کا انتخاب کیا ہے انہیں سی یو ای ای امتحان کے دوسرے مرحلے میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر این ای ای ٹی (یوجی)-2022 کا امتحان 17 جولائی کو ہوگا۔

سری لنکا کے صدر نے اپنے عہدے سے دیا استعفیٰ

0
سری لنکا کے صدر نے اپنے عہدے سے دیا استعفیٰ
سری لنکا کے صدر نے اپنے عہدے سے دیا استعفیٰ

مالدیپ میں عوامی مجلس کے صدر اور سابق صدر محمد نشید نے ٹویٹ کیا ’’سری لنکا کے صدر جی آر نے استعفیٰ دے دیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’مجھے امید ہے کہ سری لنکا اب آگے بڑھ سکتا ہے‘‘۔

مالے: سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکشے نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مالدیپ میں عوامی مجلس کے صدر اور سابق صدر محمد نشید نے جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں یہ اطلاع دی۔

مسٹر نشید نے ٹویٹ کیا ’’سری لنکا کے صدر جی آر نے استعفیٰ دے دیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’مجھے امید ہے کہ سری لنکا اب آگے بڑھ سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر مسٹر راجا پکشے ابھی سری لنکا میں ہوتے تو وہ اپنا استعفیٰ پیش نہ کرتے۔ انہوں نے کہا ’’میں مالدیپ کی حکومت کے سوچے سمجھے کاموں کی تعریف کرتا ہوں۔ سری لنکا کے لوگوں کے لیے میری نیک خواہشات‘‘۔

واضح رہے کہ مسٹر گوٹابایا چند روز قبل سری لنکا چھوڑ کر مالدیپ فرار ہوگئے تھے اور اس وقت سنگاپور میں ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے نیٹ۔ یو جی امتحان ملتوی کرنے کی درخواست کی خارج

0
دہلی ہائی کورٹ نے نیٹ۔ یو جی امتحان ملتوی کرنے کی درخواست کی خارج
دہلی ہائی کورٹ نے نیٹ۔ یو جی امتحان ملتوی کرنے کی درخواست کی خارج

دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سنجیو نرولا نے عرضی کو خارج کرنے کے بعد کہا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو قومی اہلیت کے داخلہ امتحان-گریجویٹ لیول ( نیٹ۔ یو جی) کے 17 جولائی کو ہونے والے سال 2022 کے امتحان کو ملتوی کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا۔

دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سنجیو نرولا نے عرضی کو خارج کرنے کے بعد کہا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ جسٹس نرولا نے کہا کہ اگر طلبا کے علاوہ کوئی درخواست گزار ہوتا تو عدالت درخواست کو خارج کر دیتی اور اس پر بھاری جرمانہ عائد کر دیتی۔

طلبا پر کافی زیادہ دباؤ ہونے کی وکیل کی دلیل پر عدالت نے کہا کہ دباؤ سے صرف پڑھائی سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ عدالت نے وکیل سے کہا ’’اپنے مؤکلوں سے مزید مطالعہ کرنے کو کہیں۔ میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔

اتر پردیش، کیرالہ، آسام، جھارکھنڈ، تلنگانہ، بہار، ہریانہ، ہماچل پردیش، مہاراشٹر کے 15 طلباء نے نیٹ۔ یو جی 2022، جے ای ای 2022 اور سی یو ای ای 2022 کے امتحانات ملتوی کرنے کے لیے درخواستیں دائر کیں۔ درخواست میں سی یو ای ٹی، نیٹ اور جے ای ای کی تیاری کے لیے وقت کی کمی اور ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کا حوالہ دیا گیا ہے۔

طلباء کے پاس قومی سطح کے تین امتحانات کی تیاری کے لیے کافی وقت نہیں

درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ بورڈ کے امتحانات جون 2022 کے وسط میں ختم ہو چکے ہیں اور طلباء کے پاس قومی سطح کے تین امتحانات کی تیاری کے لیے کافی وقت نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ نے کہا کہ درخواست گزاروں کی حقیقی اور درست شکایات سے واقف ہونے کے باوجود، جواب دہندگان نیٹ۔ یو جی 2022 کے ری شیڈولنگ کے بارے میں بروقت فیصلہ لینے میں ناکام رہے ہیں اور 11 جولائی تک طلباء کو ایڈمٹ کارڈ جاری نہ کرنے سے طلباء میں الجھن کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس سے لاکھوں طلبا کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا اور ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ داخلہ امتحان کے لیے مقررہ تاریخ پر امتحان نہ لیا جائے اور چار سے چھ ہفتوں کے بعد اس کے انعقاد کی تاریخیں دوبارہ طے کی جائیں۔

پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا

0
پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا
پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنے اصول اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ حکومت اسے ہدایات نہیں دیتی اور نہ ہی اس نے کسی لفظ پر کوئی پابندی لگائی ہے

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو واضح طور پر کہا کہ پارلیمنٹ میں ’’کسی بھی لفظ کے استعمال پر پابندی نہیں‘‘ لگائی گئی ہے اور پریذائیڈنگ آفیسر کا کام ایوان کے وقار اور اراکین کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

مسٹر برلا لوک سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے لوک سبھا، راجیہ سبھا اور ملک کی مختلف اسمبلیوں کی کارروائی سے حذف کیے جانے والے الفاظ کے حوالے سے جاری نئے کتابچہ سے پیدا ہونے والے تنازعہ پر ایک خصوصی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کچھ وضاحتیں دے رہے تھے۔
اس تنازعہ کو غیر ضروری بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ایوان میں معدوم الفاظ کا کتابچہ پہلے بھی ایوانوں میں جاری ہوتا رہا ہے، اس لیے موجودہ تنازعہ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ پریذائیڈنگ آفیسر ایوان میں بحث کے دوران استعمال ہونے والے الفاظ کو حذف کرنے کا فیصلہ اس کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے اور رکن کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ کسی رکن کے بیان سے کسی بھی لفظ کو حذف کرنے پر اعتراض اٹھائے۔
مسٹر برلا نے کہا ’’کوئی بھی اظہار رائے کی آزادی نہیں چھین سکتا، لیکن بات چیت باوقار ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنے اصول اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ حکومت اسے ہدایات نہیں دیتی اور نہ ہی اس نے کسی لفظ پر کوئی پابندی لگائی ہے۔

جمعیۃ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا سوال: کیا عدالت بلدیاتی قانون کے تحت غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر کورٹ روک لگا سکتی ہے؟

0
جمعیۃ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا سوال: کیا عدالت بلدیاتی قانون کے تحت غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر کورٹ روک لگا سکتی ہے؟
جمعیۃ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا سوال: کیا عدالت بلدیاتی قانون کے تحت غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر کورٹ روک لگا سکتی ہے؟

جہانگیر پوری معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی پر اسٹے دیئے جانے کے باوجود یوپی اور مدھیہ پردیش کے دیگر شہروں میں انہدامی کارروائی کی گئی جس کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا

نئی دہلی: یوپی کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کی املاک کی بلڈوز کے ذریعہ غیر قانونی انہدامی کارروائی کے خلاف صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل پٹیشن پر آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر پوری معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی پر اسٹے دیئے جانے کے باوجود یوپی اور مدھیہ پردیش کے دیگر شہروں میں انہدامی کارروائی کی گئی جس کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے اعتراض پر کہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے اس معاملے کوکیوں اٹھایا گیا کے جواب میں سی یو سنگھ نے عدالت کو یہ باتیں بتائیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ جن لوگوں کے مکانات منہدم ہوئے ہیں وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوچکے ہیں لہذا سپریم کورٹ کو اس معاملے کو ہائی کورٹ کو دیکھنے دینا چاہئے۔ سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے کہا کہ بلڈوزر کارروائی کا اعلان میونسپل حکام نہیں بلکہ پولیس نے کیا، ملک میں قانون کی حکمرانی چلے گی یا پولس کی حکمرانی؟ سی یو سنگھ نے مزید کہا کہ ملک میں جہاں بھی فسادات رو نما ہوئے وہاں مخصوص فرقے کے لوگوں کی املاک پر غیر قانونی بلڈوزر چلایا گیا۔

دہلی میں سیکڑوں غیرقانونی فارم ہاؤس پر انہدامی کارروائی کیوں نہیں؟

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اتر پردیش حکومت نے اپنے حلف نامہ میں بتایا ہے کہ انہوں نے تین لوگوں کو نوٹس جاری کیا تھا لیکن ہم نے درجنوں مثالیں پیش کی ہیں جس میں پولیس افسران نے اعلان کیا تھا کہ فساد کے ملزمین کی املاک پر بلڈوزر کارروائی انجام دی جائے گی۔ دوران بحث سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے بھی عدالت کو بتایا کہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ورنہ کیا بات ہے دہلی کے سینک فارم کو جو غیر قانونی ہے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا پچھلے پچاس بر سوں میں۔ دہلی میں سیکڑوں غیرقانونی فارم ہاؤس تعمیر کئے گئے ہیں انہیں کیوں منہدم نہیں کیا جاتا؟

اترپردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے عدالت کو بتایا جن لوگوں کے مکانات منہدم کئے گئے ہیں انہیں نوٹس دیا گیا تھا اور پولیس اور سیاسی لوگوں کے بیانات جو اخبارات کی زینت بنے ہیں انہیں زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہئے۔ فریقین کی بحث کے بعد جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس نرسہما نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ آٹھ اگست تک اس مقدمہ سے متعلق دستاویزات عدالت میں داخل کریں، دس اگست کو عدالت اس معاملے کی حتمی سماعت کرے گی۔ دوران سماعت جسٹس گوئی نے مزید کہا کہ قانون کی پاسداری کرنا ضروری ہے لیکن اگر میونسپل قانون کے مطابق کوئی عمارت غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے تو کیا عدالت اس کے انہدامی کارروائی پر روک لگا سکتی ہے؟

میونسپل کمشنر غیر قانونی تعمیرات کو بغیر نوٹس کے کارروائی کرسکتا ہے؟

واضح رہے کہ گذشتہ شب اتر پردیش حکومت نے جمعیۃ علماء ہند کے جوابی حلف نامہ کے جواب میں تازہ حلف نامہ داخل کیا جس میں تحریر ہے کہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 296 کے تحت میونسپل کمشنر غیر قانونی تعمیرات کو بغیر نوٹس کے کارروائی کرسکتا ہے۔ حالانکہ پہلے کہ حلف نامہ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا بلکہ مسلسل یہ بات کہی گئی کہ نوٹس دینے کے بعد ہی انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ لیکن جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دستاویزات اور فوٹوز کے ذریعہ عدالت کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ بغیر نوٹس کے انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔

آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ، سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن، ایڈوکیٹ صارم نوید، ایڈوکیٹ نظام الدین پاشا، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ حجاب تنازعہ پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی

0
سپریم کورٹ حجاب تنازعہ پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی
سپریم کورٹ حجاب تنازعہ پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی

حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ اگلے ہفتے سماعت کرے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ وہ حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف درخواستوں پر اگلے ہفتے سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی بنچ نے کہا، ’’ہم نے اس معاملے کو اگلے ہفتے سماعت کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔

قبل ازیں ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے عدالت عظمیٰ کی اس بنچ پر زور دیا کہ وہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی جلد سماعت کرے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اسے اگلے ہفتے کی فہرست میں ڈال رہے ہیں، اس معاملے کو سماعت کے لیے رکھا جائے گا۔

مسٹر بھوشن نے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی ہٹانے سے انکار کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ بہت پہلے درج کیا گیا تھا۔ طالبات کی تعلیم کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسٹر بھوشن نے سپریم کورٹ پر زور دیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق دائر درخواستوں کی جلد از جلد سماعت کی جائے۔