جمعہ, اپریل 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 223

راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں

0
راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں
راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں

راہل گاندھی سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حکومت کے آمرانہ رویہ کے خلاف نو منتخب صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں روک دیا گیا

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کو کہا کہ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت کئی لیڈر حکومت کے آمرانہ رویہ کے خلاف نو منتخب صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون جا رہے تھے تو انہیں راستے میں روک دیا گیا اور مسٹر گاندھی سمیت تمام کو حراست میں لے لیا گیا۔

حکومت کے رویہ کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ آمریت دیکھئے، پرامن مظاہرے نہیں کر سکتے، مہنگائی اور بے روزگاری پر بات نہیں کر سکتے۔ پولیس اور ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے، یہاں تک کہ ہمیں گرفتار کر کے بھی آپ ہمیں کبھی خاموش نہیں کر پاو گے۔” "صرف ‘سچ’ ہی اس آمریت کو ختم کرے گا۔”


کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ جے رام رمیش نے کہا کہ مانسون اجلاس کے آغاز سے ہی پارلیمنٹ میں کوئی کام نہیں ہوا، اپوزیشن مہنگائی کے مسئلہ پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن حکومت اپوزیشن جماعتوں کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ حق کی لڑائی لڑ رہے کانگریس کے چار لوک سبھا ممبران کو پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہے اور اس کے ممبران پارلیمنٹ آج صدر جمہوریہ کو یہ بتانے جارہے تھے کہ حکومت کے اڑیل رویہ کی وجہ سے پارلیمنٹ نہیں چل رہی ہے لیکن انہیں صدر سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

دروپدی مرمو نے ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا

0
دروپدی مرمو نے ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا
دروپدی مرمو نے ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا

محترمہ دروپدی مرمو نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا، محترمہ مرمو آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والی ملک کی پہلی اور سب سے کم عمر صدر جمہوریہ ہیں

نئی دہلی: محترمہ دروپدی مرمو نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا۔ وہ ملک کی دوسری خاتون اور قبائلی برادری کی پہلی لیڈر ہیں جو ملک کے اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر پہنچی ہیں۔

چیف جسٹس این وی رمن نے محترمہ مرمو کو اپنے عہدے کا حلف دلایا۔ محترمہ دروپدی مرمو آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والی ملک کی پہلی اور سب سے کم عمر صدر جمہوریہ ہیں۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والے صدر رام ناتھ کووند کی میعاد پوری ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں مسٹر رام ناتھ کووند، نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، مختلف سفارتی مشنوں کے سربراہان اور متعدد معززین موجود تھے۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

حلف لینے کے بعد محترمہ دروپدی مرمو نے بطور صدر جمہوریہ اپنا پہلا خطاب کیا۔

خطاب کے بعد محترمہ مرمو اور سبکدوش ہونے والے صدر روایتی قافلے میں راشٹرپتی بھون کے لیے روانہ ہوئے۔

صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی فتح سے اپوزیشن کو ملا ایک اور اہم سبق

0
صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی فتح سے اپوزیشن کو ملا ایک اور اہم سبق
صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی فتح سے اپوزیشن کو ملا ایک اور اہم سبق

صدارتی انتخاب کے نتیجے اور نائب صدر کے انتخاب سے پہلے اپوزیشن میں دراڑ اس بات کا اشارہ ہے کہ 2024ء میں بھی حالات زیادہ تبدیل نہیں ہوں گے

ڈاکٹر یامین انصاری

15 ویں صدر جمہوریہ کیلئے ہونے والے انتخاب میں این ڈی اے کی اُمیدوار دروپدی مرمو نے بازی مار لی۔ ویسے دروپدی مرمو کی کامیابی نہ تو خلاف توقع ہے اور نہ ہی حیران کن۔ انتخاب سے پہلے ہی اشارہ مل گیا تھا کہ این ڈی اے کی امیدوار اپوزیشن کے امیدوار کو بہت آسانی سے شکست دے دیں گی۔ انتخابی نتائج سے یہ ثابت بھی ہو گیا۔ یہ انتخاب سابقہ صدارتی انتخاب سے زیادہ موضوع بحث رہا۔

در اصل اپوزیشن جماعتیں 2024ء کے عام انتخابات سے پہلے اتحاد کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر اس شکست سے ان کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اپوزیشن کے اتحاد پر اسی وقت سوال اٹھنے لگے تھے جب بی جے ڈی، جے ڈی ایس، جے ایم ایم، وائی ایس آر کانگریس جیسی کئی غیر این ڈی اے پارٹیاں دروپدی مرمو کی حمایت میں سامنے آگئیں۔ اس کے ساتھ ہی باقی اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کے ذریعہ کراس ووٹنگ نے بھی اپوزیشن کے اتحاد پر سوالیہ نشان لگا دئے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اپنا گھر ہی محفوظ نہیں ہے۔ کون کب مخالف خیمہ میں چلا جائے، کہا نہیں جا سکتا۔

صدارتی انتخاب کے نتیجے اور نائب صدر کے انتخاب سے پہلے اپوزیشن کے خیمہ میں پیدا ہونے والی دراڑ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ2024ء کے لیے اپوزیشن کے اتحاد کا راستہ بہت آسان نہیں ہے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے سامنے جہاں اپنی محدود ہوتی سیاسی زمین کو بچانے کا چیلنج ہے، وہیں علاقائی جماعتوں کو کس طرح ساتھ لے کر چلا جائے، یہ اس سے بڑا چیلنج ہے۔ علاقائی جماعتوں کو لگتا ہے کہ جہاں وہ مضبوط ہیں، وہاں ان کی حصہ داری بھی زیادہ ہونی چاہئے۔ جبکہ کانگریس ایک قومی پارٹی کی حیثیت سے اپنا حق زیادہ سمجھتی ہے۔

صدر جمہوریہ اور نائب صدر کے انتخاب سے پیغام

صدر جمہوریہ اور نائب صدر کے انتخاب سے یہ پیغام مل گیا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کا سخت امتحان ہونے والا ہے۔ اگر صدر جمہوریہ کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو کو ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے کل 2824؍ ووٹ ملے، جن کی ویلیو 6؍ لاکھ 75؍ ہزار 803؍ ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا کو 1877؍ ووٹ ملے، جن کی ویلیو 3؍ لاکھ 80؍ ہزار 177؍ ہے۔ مرمو کل ووٹوں کا 64 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ جبکہ یشونت سنہا کو کل 36؍ فیصد ووٹ ہی مل سکے۔

اس دوران کراس ووٹنگ نے بھی این ڈی اے امیدوار کی جیت کے فرق کو مزید بڑھا دیا، جس سے اپوزیشن کی کمرٹوٹ گئی۔ 18؍ ریاستوں کے 143؍ ایم پی اور ایم ایل ایز نے کراس ووٹنگ کی۔ ان میں 126؍ اراکین اسمبلی اور 17؍ اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ در اصل بی جے پی کے قبائلی کارڈ نے اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کئی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان چاہتے ہوئے بھی دروپدی مرمو کی مخالفت نہیں کر سکے اور اپوزیشن جماعتیں چاروں شانے چت ہو گئیں۔دروپدی مرمو کا چہرہ این ڈی اے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔

یہ صدراتی انتخاب اس لئے بھی یاد رکھا جائے گا کیوں کہ اس سے یہ پیغام مل گیا ہے کہ صدارتی انتخاب ووٹ بینک بنانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ آسام میں سب سے زیادہ 22؍ اراکین اسمبلی نے کراس ووٹنگ کی۔ مدھیہ پردیش دوسرے نمبر پر تھا، جہاں کانگریس کے پاس کافی تعداد میں قبائلی ایم ایل اے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 19؍ اراکین اسمبلی نے مرمو کے حق میں کراس ووٹ دیا۔

کانگریس اور این سی پی میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے

مہاراشٹر میں شیو سینا کے دونوں گروپ پہلے ہی مرمو کے حق میں تھے، لیکن وہاں بھی انہیں ان کے حق میں 16؍ اضافی ووٹ ملے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس اور این سی پی میں بھی مستقبل میں شیو سینا کی طرح انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔ یشونت سنہا کی آبائی ریاست جھارکھنڈ میں کارکردگی سب سے مایوس کن رہی۔ وہ جھارکھنڈ میں کل 81؍ ووٹوں میں سے صرف 9؍ ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ دوسری طرف مرمو کو ان کی آبائی ریاست اوڈیشہ میں کل 147؍ میں سے 137؍ ووٹ ملے۔ گجرات میں اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

گجرات میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن کانگریس کے 10؍ اراکین اسمبلی نے بھی مرمو کے حق میں کراس ووٹ کیا۔ یہ کراس ووٹنگ کانگریس کے لیے نیک شگون نہیں ہے، جس نے 2017ء کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو سخت ٹکر دی تھی۔ اس وقت ملک میں 776؍ منتخب اراکین پارلیمنٹ اور 4033؍ اراکین اسمبلی ہیں۔ ان میں سے 3991؍ اراکین اسمبلی اور 763؍ اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ ڈالے، جن میں سے 53؍ ووٹ غلط نکلے۔ ان میں 15؍ ایم پی اور 38؍ اراکین اسمبلی شامل ہیں۔

سنہا نے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی

مدھیہ پردیش اور پنجاب میں 5-5؍ اراکین اسمبلی کے ووٹ غلط قرار دئے گئے۔ کرناٹک، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور دہلی میں چار چار ووٹ، یوپی میں 3، بہار میں دو اور ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، میگھالیہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتراکھنڈ اور پڈوچیری میں ایک ایک ووٹ غلط تھا۔ 2017ء کے صدارتی انتخابات میں 77؍ ووٹ غلط قرار دئے گئے تھے۔ حالات اپنے حق میں نہ دیکھ کر یشونت سنہا نے ایم پی اور ایم ایل اے سے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ صدارتی انتخاب میں سیاسی جماعتوں کا وہپ نافذ نہیں ہوتا۔ یعنی اگر کوئی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی اپنی پارٹی کے موقف الگ کسی دوسرے کو ووٹ کرتا ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ اس لحاظ سے رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو اپنے ضمیر کی آواز سننا بہت آسان ہے۔ لیکن یہاں تو یشونت سنہا شاید اپنی حامی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے ضمیر کو سمجھنے میں ہی ناکام رہے۔

صدر جمہوریہ کے انتخاب کے بعد نائب صدر کے انتخاب میں بھی اپوزیشن کے اتحاد میں بڑی دراڑ پڑ گئی۔ نائب صدر کے امیدوار کے انتخاب میں مشورہ نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ترنمول کانگریس نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ این ڈی اے نے مغربی بنگال کے سابق گورنر جگدیپ دھنکھڑ کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر کھڑا کیا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے راجستھان کی سابق گورنر مارگریٹ الوا کو میدان میں اتارا ہے۔

نائب صدر کے انتخاب میں ووٹنگ سے گریز کرنے کا ٹی ایم سی کا فیصلہ مایوس کن

مارگریٹ الوا نے بھی ترنمول کانگریس کے ذریعہ انتخابات میں ووٹنگ نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے فیصلہ پر کہا کہ ’نائب صدر کا انتخاب الزام تراشی، غصہ یا انا کے اظہار کا وقت نہیں ہے۔ نائب صدر کے انتخاب میں ووٹنگ سے گریز کرنے کا ٹی ایم سی کا فیصلہ مایوس کن ہے۔ یہ ہمت، قیادت اور اتحاد کا وقت ہے۔ مجھے یقین ہے، ممتا بنرجی، جو ہمت کا مظہر ہیں وہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔‘

بہر حال، اب جبکہ قبائلی کارڈ کھیل کر بی جے پی یا حکمراں این ڈی اے نے بازی اپنے حق میں کر لی ہے تو دروپدی مرمو کی یہ کامیابی محض ووٹ حاصل کرنے کا ہتھکنڈہ بن کر نہ رہ جائے۔ سیاسی بساط پر ہی سہی، ملک کو دروپدی مرمو کی شکل میں ایک ایسا صدر جمہوریہ ملا ہے، جس کا تعلق قبائلی برادری سے ہے۔ ہمارے ملک میں قبائلی آبادی کو آزادی کے بعد سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس اعتبار سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب قبائلی آبادی کے مسائل دور کرنے میں آسانی ہوگی؟ حالانکہ ملک کی سیاست کا اب تک کا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ کسی برادری یا فرقے کو نمائندگی دینے سے اُس برادری یا فرقے کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ وہ چاہے دلتوں کا معاملہ ہو، اقلیتوں کی بات ہو یا پھر قبائلی آبادی کا تعلق، کیوں کہ اس سے پہلے دلت اور اس سے بھی پہلے اقلیتی فرقے سے بھی صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز رہے ہیں، مگر اس سے ان فرقوں یا برادریوں کی طرز زندگی یا ان کے مسائل میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں آیا۔ اس لئے اب بھی بہت زیادہ امیدیں نہیں کی جا سکتیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

فضائیہ میں اگنی ویروں کی تقرری کے لئے امتحان شروع

0

فضائیہ میں اگنی ویروں کی تقرری کے لیے امتحان میں 30 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی

کانپور: فضائیہ میں اگنی ویروں کی تقرری کے لئے اتوار کو یہاں سخت بندوبست کے درمیان امتحان کا آغاز ہوگیا۔

ضلع کے 16 الگ الگ امتحانی مراکز پر جاری اس امتحان میں 30 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی۔ پہلی شفٹ کے امتحان میں صبح پونے نو بجے جبکہ دوسری شفٹ کا امتحان ساڑھے 11 بجے شروع ہوا۔ اس کے بعد سوا تین بجے سے تیسرے اور آج کے آخری شفٹ میں امتحان ہوا۔

امتحانی مراکز کے اندر کی کمان فضائیہ کے افسران اور جوانوں کے ہاتھوں میں رہی جبکہ امتحانی مراکز کے باہر فضایہ کے ساتھ مقامی پولیس کے جوان بھی تعینات کئے گئے تھے۔

آن لائن امتحان کے لئے پہنچے امیدواروں کو سخت اصول و ضوابط سے ہوکر گزرنا پڑا جس کی وجہ سے کچھ امیدوار ناخوش بھی نظر آئے۔ ریاست کے الگ الگ اضلاع میں امتحان دینے پہنچے امیدواروں کی سہولیت کے لئے بس اسٹیشن اور ریلوے اسٹیشن پر خصوصی انتظام کئے گئے تھے۔ امتحانی مراکز کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جارہی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی

0
اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی
اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی

ریزرو شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کی قیا س آرائی کے سبب عالمی بازار میں آئی گراوٹ کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں تیزی جاری

ممبئی: فیڈ ریزرو شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کی قیا س آرائی کے سبب عالمی بازار میں آئی گراوٹ کے باوجود مقامی سطح پر کیپٹل گڈس، ٹیلی کام، بیسک میٹریلس، سی ڈی جی ایس، انڈسٹریلس، تیل اور گیس اور پاور سمیت اٹھارہ گروپوں میں خریداری سے اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 284.42 پوائنٹس بڑھ کر 55,681.95 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 84.40 پوائنٹس بڑھ کر 16,605.25 پر آگیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 1.24 فیصد چھلانگ لگا کر 23,701.35 پوائنٹس اورا سمال کیپ 0.90 فیصد بڑھ کر 26,716.56 پوائنٹس پر رہا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3499 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2001 میں 1337 میں خرید و فروخت ہوئی، جب کہ 161 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 42 کمپنیوں میں تیزی رہی جبکہ باقی آٹھ میں گراوٹ رہی۔

بی ایس ای پر ہیلتھ کیئر گروپ میں 0.12 فیصد کی گراوٹ کو چھوڑ کر، باقی 18 گروپ میں تیزی رہی۔ کیپٹل گڈس 2.08، ٹیلی کام 2.16، بیسک میٹریلس 1.18، سی ڈی جی ایس 1.00، انرجی 0.88، ایف ایم سی جی 0.69، فنانس 0.74، انڈسٹریز 1.45، آئی ٹی 0.77، یوٹیلٹیز 0.89، ، آٹو 0.73، آئل اینڈ گیس 1.32، پاور 1.24،ریئلٹی 0.70اور ٹیک گروپ کے شیئر میں 0.93 فیصد کا اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں گراوٹ کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.52، ڈی اے ایکس 0.26، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.51 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.99 فیصد گرا جبکہ جاپان کا نکیئی 0.44 فیصد بڑھا۔

صدارتی انتخاب: گنتی کے پہلے دور میں دروپدی مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ سنہا کو 208 ووٹ

0
صدارتی انتخاب: گنتی کے پہلے دور میں دروپدی مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ سنہا کو 208 ووٹ
صدارتی انتخاب: گنتی کے پہلے دور میں دروپدی مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ سنہا کو 208 ووٹ

الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار صدارتی انتخاب میں کل 4796 ووٹرز تھے جن میں سے 99 فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گیارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں 100 فیصد ووٹنگ ہوئی

نئی دہلی: نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی امیدوار دروپدی مرمو صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے کے ووٹوں کی گنتی کے بعد کل درست 748 ووٹوں میں سے 540 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا 208 ووٹ ملے ہیں۔

جمعرات کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہونے والی گنتی کے پہلے مرحلے میں تمام اراکین پارلیمنٹ کے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ انتخاب کے لیے مقرر کردہ ریٹرننگ آفیسر اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی نے بتایا کہ 748 درست ووٹوں میں سے محترمہ مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ مسٹر سنہا کو 208 ووٹ ملے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ ویلیو کے حساب سے کل 523600 میں سے محترمہ مرمو کو 378000 جبکہ مسٹر سنہا کو 145600 ووٹ ملے۔

دوسرے راؤنڈ میں ریاستی اسمبلیوں میں ایم ایل اے کے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ صدارتی انتخاب میں 99 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار صدارتی انتخاب میں کل 4796 ووٹرز تھے جن میں سے 99 فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گیارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں 100 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ صدارتی انتخاب کے لیے دہلی اور پڈوچیری سمیت 30 مقامات پر ووٹنگ ہوئی۔ اس انتخاب میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ارکان کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے ساتھ منتخب نمائندوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔

سپریم کورٹ گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کی عرضی پر سماعت کے لیے رضامند

0
سپریم کورٹ گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کی عرضی پر سماعت کے لیے رضامند
سپریم کورٹ گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کی عرضی پر سماعت کے لیے رضامند

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے 20 مئی کو ہندو فریق کی جانب سے گیان واپی مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت مانگنے والی درخواست کی کارروائی بنارس کے ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی تھی

نئی دہلی: سپریم کورٹ بنارس کے کاشی وشوناتھ مندر سے متصل واقع گیان واپی مسجد کمپلیکس میں مبینہ طور پر پائے جانے والے "شیولنگ” کی پوجا کرنے کی اجازت طلب کرنے کی عرضی پر سماعت کرے گا۔

چیف جسٹس این۔ وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے پیر کے روز خصوصی ذکر کے دوران ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین کی جلد سماعت کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ 21 جولائی کو اس درخواست پرسماعت کرے گی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وشنو شنکر جین نے کہا کہ عرضی میں گیان واپی مسجد کمپلیکس کے اندر پائے جانے والے "شیولنگ” کی پوجا اور درشن کے علاوہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار (جی پی آر) سروے اور کاربن ڈیٹنگ کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

بنچ سے 21 جولائی کو اس معاملے کو سماعت کے لیے درج فہرست کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ سروے کو چیلنج کرنے والی مسلم فریق کی اپیل کی سماعت بنارس کی ضلع عدالت میں 21 جولائی کو ہونی ہے۔ اس کے بعد، عدالت عظمیٰ نے 21 جولائی کو اس معاملے کو سماعت کے لیے درج فہرست کرنے کی مسٹر جین کی درخواست کو قبول کر لیا۔

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے 20 مئی کو ہندو فریق کی جانب سے گیان واپی مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت مانگنے والی درخواست کی کارروائی بنارس کے ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ نے 17 مئی کو اپنے عبوری حکم نامے میں "شیولنگ” کے تحفظ کی ہدایت دی تھی۔ نیز مسلمانوں کو اگلے 8 ہفتوں تک نماز ادا کرنے کا نظام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

بہار میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ، 243 اسمبلی ممبران میں سے 242 ہی ڈالیں گے ووٹ

0
بہار میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ، 243 اسمبلی ممبران میں سے 242 ہی ڈالیں گے ووٹ
بہار میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ، 243 اسمبلی ممبران میں سے 242 ہی ڈالیں گے ووٹ

نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے جھارکھنڈ کی سابق گورنر دروپدی مرمو کو صدارتی انتخاب کے لیے اپنا امیدوار بنایا ہے، جب کہ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار ہیں

پٹنہ: صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ آج صبح 10 بجے بہار اسمبلی احاطے میں شروع ہوئی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

بہار کے کل 243 ایم ایل ایز میں سے 242 نئے صدر کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی، آج سے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز کی وجہ سے، ریاست کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ کے نئی دہلی میں ووٹ ڈالنے کی امید ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے جھارکھنڈ کی سابق گورنر دروپدی مرمو کو صدارتی انتخاب کے لیے اپنا امیدوار بنایا ہے، جب کہ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار ہیں۔

اسمبلی کے کانفرنس ہال میں ووٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے

اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع نے پیر کو یہاں بتایا کہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ اسمبلی کے کانفرنس ہال میں ووٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔

بہار قانون ساز اسمبلی میں ایم ایل ایز کی کل تعداد 243 ہے لیکن صرف 242 ایم ایل اے ہی صدارتی انتخاب کے لیے اپنے حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے کیونکہ حال ہی میں آرمس ایکٹ میں سزا پانے کے بعد مکامہ سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم ایل اے اننت سنگھ کی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔ اسی طرح بہار سے 40 لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ اور 16 راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ ہیں اور توقع ہے کہ وہ نئی دہلی میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

اسمبلی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکمراں این ڈی اے کے پاس 127 ایم ایل اے ہیں جبکہ اپوزیشن کے پاس 114 ایم ایل اے ہیں۔ ایک آزاد ایم ایل اے بھی ہے۔ بہار میں ایک ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت 173 ہے جبکہ ایک ایم پی کے ووٹ کی قیمت 700 ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین نہ تو این ڈی اے میں ہے اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد میں

این ڈی اے میں بی جے پی کے 77، جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے 45، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے چار اور ایک آزاد ایم ایل اے این ڈی اے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن کے 114 ایم ایل ایز میں سے 79 آر جے ڈی، 19 کانگریس، 12 کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ-لیننسٹ (سی پی آئی-ایم ایل)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ۔ ایم) کے دو۔ دو مسٹر سنہا کی حمایت کر رہے ہیں۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کا ایک ایم ایل اے نہ تو این ڈی اے میں ہے اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد میں ہے۔

ملک کے 15ویں صدر کو منتخب کرنے کے لیے ملک بھر میں تقریباً 4800 منتخب ایم پیز اور ایم ایل ایز کے ووٹ ڈالنے کی امید ہے۔ این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو کو واضح برتری حاصل ہے کیونکہ این ڈی اے سے باہر کی کئی جماعتوں بشمول جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، بی جے ڈی، اور شیو سینا نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

مسز مرمو، جن کا تعلق اوڈیشہ سے ہے، جھارکھنڈ کی گورنر رہ چکی ہیں اور اوڈیشہ حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی حکومت میں وزیر رہنے والے مسٹر یشونت سنہا نے گزشتہ سال بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں شامل ہو گئے تھے۔ تاہم، انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار کے طور پر صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے ٹی ایم سی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ووٹوں کی گنتی 21 جولائی کو ہوگی۔ موجودہ صدر رام ناتھ کووند کی میعاد 24 جولائی کو ختم ہوگی۔ نئے صدر 25 جولائی کو حلف اٹھائیں گے۔

زبیر معاملے میں سپریم کورٹ کا اترپردیش پولیس کو حکم

0
زبیر معاملے میں سپریم کورٹ کا اترپردیش پولیس کو حکم
زبیر معاملے میں سپریم کورٹ کا اترپردیش پولیس کو حکم

سپریم کورٹ نے اترپردیش پولیس کو حکم دیا کہ وہ محمد زبیر کے خلاف درج پانچ ایف آئی آر میں سے کسی ایک کی بنیاد پر عدالت کی اجازت کے بغیر 20 جولائی تک کوئی کارروائی نہ کرے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو اترپردیش پولیس کو حکم دیا کہ وہ فیکٹ چیکر اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف درج پانچ ایف آئی آر میں سے کسی ایک کی بنیاد پر عدالت کی اجازت کے بغیر 20 جولائی تک کوئی کارروائی نہ کرے یہ عبوری حکم جسٹس ڈاکٹر ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اے ایس بوپنا کی ڈویژن بنچ نے دیا۔

سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔ بدھ کو مزید سماعت کے لیے معاملہ درج کر لیا۔

زبیر کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ ان کے موکل کو ہاتھرس لے جایا گیا ہے اور ہاتھرس کی عدالت میں کارروائی پر روک لگانے کی درخواست کرنے کے بعد، سپریم کورٹ نے زبیر کی درخواست سننے پر رضامندی ظاہر کی۔

محترمہ گروور نے استدلال کیا کہ ایف آئی آر کا مواد تقریباً یکساں تھا جو دہلی پولیس نے مبینہ طور پر ہندو دیوی دیوتاؤں کو گالی دینے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے موصول ہونے والی مبینہ غیر مجاز رقم کے ٹویٹس کے معاملے میں درج کیا تھا۔

اترپردیش: تشدد کے بعد قنوج کے ڈی ایم اور ایس پی کا تبادلہ

0
اترپردیش: تشدد کے بعد قنوج کے ڈی ایم اور ایس پی کا تبادلہ
اترپردیش: تشدد کے بعد قنوج کے ڈی ایم اور ایس پی کا تبادلہ

اترپردیش کے ضلع قنوج میں شرپسند عناصر کی جانب سے مذہبی عبادت گاہ میں گوشت کے ٹکڑے پھینک کر حالات کشیدہ کرنے کی کوشش کے بعد حکومت نے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) کے 4 اور انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 9 افسران کا تبادلہ کیا ہے

لکھنؤ: اترپردیش کے ضلع قنوج میں شرپسند عناصر کی جانب سے مذہبی عبادت گاہ میں گوشت کے ٹکڑے پھینک کر حالات کشیدہ کرنے کی کوشش کے بعد حکومت نے اتوار کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور سپرنٹنڈنٹ آف (ایس پی) پولیس کا تبادلہ کردیا۔

ساتھ ہی حکومت نے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) کے 4 اور انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 9 افسران کا تبادلہ کیا ہے۔

آفیشیل ترجمان کے مطابق ڈی ایم چترکوٹ شبھرنٹ شکلا کی جگہ پر راکیش کمار مشرا کو تعینات کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے ایس پی راجیش کمار شریواستو کو ویٹنگ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اور لکھنؤ کے ایس پی ویجیلنس کنور انوپ سنگھ کو ان کی جگہ پر تعینات کیا گیا ہے۔

مندر میں گوشت کے ٹکڑے پھینکنے کے بعد حالات کشیدگی

قابل ذکر ہے کہ قنوج کے تالاگرام پولیس اسٹیشن کے رسول آباد گاؤں میں ہفتہ کو اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے تھے جب شرپسند عناصر نے مندر میں گوشت کے ٹکڑے پھینک دئیے۔ اس واقعہ سے مشتعل کچھ افسران نے مذہبی مقامات میں توڑ پھوڑ کی اور دوکانوں کو آگ کے حوالے کردیا۔

وہیں حکومت نے بریلی کے میونسپل کمشنر ابھیشیک آنند کو چترکوٹ کا ڈی ایم بنایا گیا ہے۔ یوپی پبلک سروس کمیشن پریاگ راج کے سکریٹری جگدیش کو اکسائز ڈپارٹمنٹ میں اسپیشل سکریٹری بنایا گیا ہے۔

کوآپریٹیو ڈپارٹمنٹ کے اڈیشنل کمشنر (انتظامیہ) کھیمپال سنگھ کو یوپی پی ایس سی کا سکریٹری بنایا گیا ہے۔ جبکہ اکسائز کے اسپیشل سکریٹری ندھی گپتا واتس کو بریلی کا میونسپل کمشنر بنایا گیا ہے۔

آئی پی ایس افسران میں لاجسٹک کے اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی) بی کے موریہ کو اسی ڈپارٹمنٹ میں ڈی جی بنایا گیا ہے۔ سنٹرل ڈیپوٹیشن سے واپسی کے بعد انوپم کلشریشٹھا کو ٹریفک اینڈ روڈ سیکورٹی کا اے ڈی جی بنایا گیا ہے۔

ٹیکنیکل سروس کے آئی جی موہت اگروال کو اسی محکمے میں اے ڈی جی بنایا گیا ہے جبکہ آئی جی پی اے سی مشرقی زون بی آر مینا کو اے ڈی جی رولس اور مینول بنایا گیا ہے۔ ایس پی پی ٹی سی سیتا پور شفیق احمد کو ویٹنگ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

ایس پی پی ٹی ایس جالون رادھے موہن بھاردواج کو ہمانشو کمار کی جگہ پر سیتا پور 28 واہنی کا کمانڈنٹ بنایاگیا ہے۔جبکہ ہمانشو کمار کو مرادآباد پی اے سی 23 بھیج دیا گیا ہے۔ وہیں پی اے سی۔23 کے کمانڈنٹ شالنی کو پی اے سی 41 غازی آباد بھیج دیا گیا ہے۔