جمعرات, اپریل 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 220

نتیش نے بہار میں نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا

0

نتیش کمار نے آج قومی جمہوری اتحاد سے تعلق توڑتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل سمیت سات جماعتوں کی حمایت سے نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا

پٹنہ: بہار میں مسٹر نتیش کمار نے آج قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے تعلق توڑتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سمیت سات جماعتوں کی حمایت سے نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔

مسٹر کمار نے منگل کو اپنی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی میٹنگ کے بعد این ڈی اے سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مقررہ وقت پر گورنر پھاگو چوہان سے ملاقات کی اور وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ کا خط انہیں سونپا۔

اس کے بعد انہوں نے جے ڈی یو کے 45، آر جے ڈی کے 79، کانگریس کے 19، بائیں بازو کی جماعتوں کے 16، ہندوستانی عوام مورچہ (ایچ اے ایم) کے چار اور ایک دیگر ایم ایل اے یعنی کل 164 ایم ایل اے کی حمایت کا خط پیش کیا اور نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ اس دوران ان کے ساتھ آر جے ڈی کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور بہار میں کانگریس کے انچارج بھکت چرن داس بھی موجود تھے۔

اس کے ساتھ ہی گورنر مسٹر چوہان نے مسٹر کمار کو فی الحال نئی حکومت بنانے کی دعوت نہیں دی ہے۔ حکومت سازی کی دعوت ملنے کے بعد حلف برداری کی تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایسے میں گورنر نے مسٹر کمار سے ریاست کے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے کو کہا ہے۔

آر جے ڈی جے ڈی یو کے ساتھ نہیں کرے گی کوئی سیاسی اتحاد

0
آر جے ڈی جے ڈی یو کے ساتھ نہیں کرے گی کوئی سیاسی اتحاد
آر جے ڈی جے ڈی یو کے ساتھ نہیں کرے گی کوئی سیاسی اتحاد

آر جے ڈی کے ریاستی صدر اور سابق وزیر جگدانند سنگھ نے سموار کو یہاں کہا کہ آر جے ڈی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ حکومت نہیں بنا رہی ہے

پٹنہ: جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) میں ہنگامہ آرائی کے درمیان بہار کی اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے آج واضح کیا کہ ان کی پارٹی جے ڈی یو کے ساتھ سیاسی اتحاد نہیں کرے گی۔

آر جے ڈی کے ریاستی صدر اور سابق وزیر جگدانند سنگھ نے سموار کو یہاں کہا کہ آر جے ڈی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ حکومت نہیں بنا رہی ہے۔ ابھی تک مسٹر کمار کے ساتھ بہار میں حکومت بنانے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ جے ڈی (یو) اور آر جے ڈی کے درمیان اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مسٹر کمار اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو کے ساتھ ہونے کے امکان کو یکسر مسترد کردیا۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ سموار کو آر جے ڈی ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کی میٹنگ کا مقصد پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنا ہے۔ آر جے ڈی نے یہ میٹنگ اسمبلی الیکشن سال 2025 اور لوک سبھا الیکشن سال 2024 کی تیاریوں کے سلسلے میں طلب کی ہے۔ آنے والے دنوں میں کس طرح پارٹی بہار میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر خود کو قائم کرے، کس طرح زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے اس سلسلے میں آرجے ڈی اراکین پارلیمنٹ و اسمبلی کی میٹنگ ہوگی۔ اس میٹنگ کا کسی نئے سیاسی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آر جے ڈی کے ریاستی صدر نے کہا کہ پارٹی آنے والے وقت میں پارٹی کو مضبوط کرنے اور اس کی حمایت کی بنیاد بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں، ہم حکومت بنانے کے کسی منصوبے پر وزیر اعلی مسٹر کمار کے ساتھ کام نہیں کر رہے ہیں۔ بہار میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کی مخلوط حکومت کے قیام کو لے کر مسٹر کمار کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ قیاس آرائی کہاں سے شروع ہوئی اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں۔

نتیش کمار کے قومی جمہوری اتحاد سے تعلقات توڑنے کا امکان

درحقیقت، اس بات کا امکان ہے کہ مسٹر کمار جلد ہی قومی جمہوری اتحاد سے تعلقات توڑ سکتے ہیں اور آر جے ڈی کے ساتھ مل کر ریاست میں نئی حکومت بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ منگل کو ہونے والی جے ڈی یو کی میٹنگ میں اس سلسلے میں بڑا فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ اس دوران سموار کو آر جے ڈی کی میٹنگ ہے۔ ساتھ ہی کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت ہندوستانی عوام مورچہ نے بھی پارٹی کی میٹنگ بلائی ہے۔ لہٰذا بہار میں ان ملاقاتوں کے اچانک ہونے سے سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔

ایسے میں اب آر جے ڈی کے ریاستی صدر مسٹر سنگھ کے بیان نے اسے نیا رخ دے دیا ہے۔ انہوں نے ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ اب آنے والے 48 گھنٹے بہار کی سیاست کے لیے بہت خاص ہوں گے کیونکہ اس دوران تمام پارٹیوں کی میٹنگ میں جو فیصلہ ہوگا وہی بہار کی سیاست کے نئے امکانات کا فیصلہ کرے گا۔

مدرسہ بورڈ کی اجازت کے بغیر چلنے والے مدارس کی جانچ ہونی چاہئے: وزیر ثقافت

0
مدرسہ بورڈ کی اجازت کے بغیر چلنے والے مدارس کی جانچ ہونی چاہئے: وزیر ثقافت
مدرسہ بورڈ کی اجازت کے بغیر چلنے والے مدارس کی جانچ ہونی چاہئے: وزیر ثقافت

مدھیہ پردیش کی خاتون وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے کہا کہ وہ تمام مدارس جن کو مدرسہ بورڈ کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی ہے، اور جنہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے سفارش نہیں لی ہے، ان مدارس کی جانچ ہونی چاہئے

کھنڈوا: مدھیہ پردیش کی خاتون وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے آج کہا کہ مدرسہ بورڈ کی اجازت کے بغیر چلنے والے مدارس کی جانچ ہونی چاہئے۔

محترمہ ٹھاکر کھنڈوا کی میئر امرتا یادو کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے یہاں آئی تھیں۔ یہ بات انہوں نے تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام مدارس جن کو مدرسہ بورڈ کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی ہے، اور جنہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے سفارش نہیں لی ہے، ان کی چھان بین کی جانی چاہئے۔ ایسے ہر مدرسہ کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ یہ غیر قانونی مدارس کیسے چلیں گے اس کی ذمہ داری کوئی اور نہیں لے سکتا۔

وزیر ثقافت نے دعویٰ کیا کہ چلڈرن کمیشن کے کچھ ارکان نے اچانک معائنہ کیا تو انہیں پتہ چلا کہ ان غیر قانونی مدارس میں 30-40 چھوٹے بچے ہیں۔ وہاں بچوں کے رہنے کے لیے صحت مند ماحول نہیں، کھانے پینے کا کوئی مناسب انتظام نہیں۔ بچے قوم کا سرمایہ ہیں، قوم کا ورثہ ہیں، ان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

مہم کا نام ‘ناخواندگی سے آزادی اور ہر فرد 10 کو پڑھائے’: خواتین تنظیم

0
مہم کا نام 'ناخواندگی سے آزادی اور ہر فرد 10 کو پڑھائے': خواتین تنظیم
مہم کا نام 'ناخواندگی سے آزادی اور ہر فرد 10 کو پڑھائے': خواتین تنظیم

خواتین تنظیم نے ‘ناخواندگی سے آزادی: ہر شخص 10 کو پڑھائے’ سال بھر چلنے والی ایک قومی مہم کا آغاز کیا ہے

نئی دہلی: ویمن ایجوکیشن اینڈ امپاورمنٹ ٹرسٹ (TWEET) نے ‘ناخواندگی سے آزادی: ہر شخص 10 کو پڑھائے’ سال بھر چلنے والی ایک قومی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا آغاز آج پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے کیا گیا۔

اس سلسلے میں، TWEET کی چیئر پرسن رحمت النساء نے میڈیا کے سامنے مہم کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس مہم کا مقصد ملک بھر میں ناخواندہ بالغ خواتین کو خواندگی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) 2019-21 کے مطابق ملک میں بالغ خواتین (15-49 سال) میں خواندگی کی شرح 71.5 فیصد ہے جبکہ بالغ مردوں کی شرح خواندگی 87.4 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘TWEET نے یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی ہے جب ملک اس سال 15 اگست کو اپنا 76 واں یوم آزادی منانے کے لیے تیار ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ملک بھر کی تعلیم یافتہ خواتین کو اس اقدام کے لیے رضاکار کے طور پر شامل کرنا ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت کو کم از کم 10 ناخواندہ بالغ خواتین کو تعلیم دینی چاہیے اور ان کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

اس موقع پر TWEET کی جنرل سیکرٹری شائستہ رفعت نے کہا، ‘ہم پورے ملک کو ناخواندگی سے نکالنا چاہتے ہیں، ہم گھر گھر جائیں گے، رضاکاروں کو ساتھ لے کر جائیں گے، ان کی تربیت کریں گے اور ان کو اعزاز سے بھی نوازیں گے’۔

TWEET وژن 2026’ کی شراکت دار تنظیموں میں سے ایک ہے جسے ‘وژن 2026’ کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کی پہل کرنے کے لیے اسے تشکیل دیا گیا ہے۔ TWEET کی نیشنل کوآرڈینیٹر ہدا، ٹریژر شرانا متھو پریس کانفرنس میں موجود تھیں۔

آزادی کا امرت مہوتسو: 75 ویں جشن آزادیٔ ہند پر ذرا یاد کرو قربانی—

0
آزادی کا امرت مہوتسو: 75 ویں جشن آزادیٔ ہند پر ذرا یاد کرو قربانی---
آزادی کا امرت مہوتسو: 75 ویں جشن آزادیٔ ہند پر ذرا یاد کرو قربانی---

جب ہم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں تو ملک کیلئے علماء، دانشوران اور اردو صحافیوں کی قربانیوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

ہندوستان کو آزاد ہوئے 75 سال ہوگئے۔ جب ہم اپنی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کا جشن ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے عنوان سے منا رہے ہیں تو ہمیں جدوجہد آزادی کے ہر نمایاں پہلو کو سامنے رکھنا چاہئے۔ آج جبکہ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ جیسے آزادی کا یہ ’امرت مہوتسو‘ صرف ایک طبقہ کا مرہون منت ہے۔ جس طبقہ نے جنگ آزادی میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا، سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں، ملک کی آزادی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا، افسوس آج اسی طبقہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نہ صرف نظر انداز، بلکہ ان کی وطن پرستی اور جذبہ حب الوطنی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جد و جہد آزادی کے ان پہلوؤں کو بھی سامنے لایا جائے، جن پر عام طور پر جانے انجانے میں گفتگو ہی نہیں کی جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری جد و جہد آزادی کے دوران بلا تفریق و مذہب و ملت لاتعداد لوگوں نے اس میں حصہ لیا، لیکن کئی ایسی اہم شخصیات بھی سامنے آئیں، بالخصوص مسلم علما، دانشوران اور صحافی، جنھوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

15 اگست 1947ء کا دن

ہمیں یہ آزادی یونہی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اس کے لیے ہمارے اسلاف کو ایک طویل جد و جہد کرنی پڑی۔ اس جد و جہد کے دوران مختلف تحریکیں چلائی گئیں، جہاد کے فتوے جاری کئے گئے، سیکڑوں لوگ پھانسی کے پھندے پر جھول گئے، ہزاروں لوگوں کو جیل کی کال کوٹھری میں محبوس کر دیا گیا۔ ان میں وہ علماء، دانشور اور اردو صحافی بھی شامل ہیں، جنھوں نے اپنی زندگیوں کو حصول آزادی کے لئے وقف کر دیا۔ بالآخر 15 اگست 1947ء کا دن ایک نئی صبح لے کر آیا، ہندوستان کو برطانوی سامراج سے آزادی ملی۔

یہ ہماری عدم توجہی بھی ہے اور کچھ لوگوں کی تنگ نظری بھی کہ مسلم مجاہدین آزادی کو تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مورخین کے ایک حلقے نے کچھ حد تک ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند مسلم مجاہدین آزادی کا ذکر کیا ہے، لیکن اور بھی بہت سے ایسے نام ہیں جنہوں نے آزادی کی جد و جہد میں کارہائے نمایاں انجام دیے، بد قسمتی سے ان کو نہ تو ہم خود یاد رکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگ ان کے کارناموں کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اب تو حالات یہ ہیں کہ جو چند نام لوگوں کی زبانوں پر اب تک ہیں، انہیں بھی پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

زندہ قومیں اپنی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کرتیں

ہمیں دھیان رکھنا چاہئے کہ زندہ اور بیدار قومیں اپنی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ بلکہ اپنے اجداد کے کارناموں کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرتی ہیں، ان کی قربانیوں اور ان کے کارناموں کا مرثیہ نہ پڑھ کر ان کی زندگیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں۔ لہذا ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے اور ہمارے مورخین، ہمارے صحافیوں، ہمارے دانشوروں کو چاہئے کہ وہ جس حد تک بھی ممکن ہو، اپنے اسلاف کی قربانیوں کو منظر عام پر لائیں اور نئی نسل کو اس سے روشناس کرائیں۔

آج ہماری نئی نسل میں بہت کم تعداد ہوگی جو اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے واقف ہے، یا ان کے کارناموں کو جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے؟ بمشکل تمام وہ دو چار مجاہدین آزادی کے ناموں سے واقف ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اپنے شاندار ماضی سے واقف کرائیں اور اس وطن عزیز کے لئے ہمارے اجداد نے کیا کیا قربانیاں پیش کی ہیں، ان سے باور کرائیں۔ آج کے حالات میں تو اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے اکابرین کی قربانیوں کو بار بار دہرائیں۔ یہی ان اکابرین کے لیے سچا خراج عقیدت ہوگا۔

ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا آغاز

اگرچہ ہندوستان کو 15 اگست 1947ء کو آزادی ملی، لیکن جدوجہد آزادی کی بنیاد 1857ء سے پہلے ہی رکھ دی گئی تھی۔ 1857ء کی بغاوت جدید ہندوستانی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہے، کیونکہ اسے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا آغاز بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی وقت سے مسلم قیادت جد و جہد آزادی میں پیش پیش رہی۔

ہندوستان کی جنگ آزادی میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا تھا، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ایک نئی علامت کے ساتھ سامنے آئے اور دوسروں کے لئے تحریک کا کام کیا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے ملک کی بقا کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور انہی لوگوں کی وجہ سے آج ہم ایک آزاد ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں کئی ایسے واقعات درج ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے لئے مسلمانوں نے کیا کیا ظلم و ستم برداشت کئے اور کیا کیا صعوبتیں برداشت کیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے، لڑنے اور قربانیاں پیش کرنے والوں میں 65 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے۔ جد و جہد آزادی کا سلسلہ 1857ء سے بھی بہت پہلے سے شروع ہوتا ہے۔ ہندوستان پر انگریزوں کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف پہلی جدوجہد حیدر علی اور ان کے فرزند ٹیپو سلطان نے 1780ء میں ہی شروع کر دی تھی۔ 1780ء اور 1790ء میں ان لوگوں نے برطانوی حملہ آوروں کے خلاف راکٹیں اور توپ کا مؤثر طور پر استعمال کیا۔

پہلی جنگ آزادی کی گمنام ہیروئن

اسی طرح بیگم حضرت محل ایک خاتون ہوتے ہوئے پہلی جنگ آزادی کی گمنام ہیروئن تھیں، جنھوں نے برطانوی چیف کمشنر سر ہنری لارنس کو خوف و دہشت میں مبتلا کردیا تھا اور 30 جون 1857ء کو انگریزوں کو شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ ادھر علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میں انگریزوں کے عزائم کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔

انھوں نے جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد علماء کے سامنے تقریر کی اور اِستِفتاء پیش کیا۔ جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لیے کہا گیا تھا۔ جہاد کے اس فتوے پر مفتی صدرالدین خان، مولوی عبد القادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری، سید محمد نذیر حسین، نور جمال، عبد الکریم، سکندر علی، مفتی اکرام الدین، محمد ضیاء الدین، احمد سعید، محمد عنبر خان، محمد کریم اللہ، سعید شاہ نقشبندی، مولوی عبد الغنی، محمد علی، سرفراز علی، سید محبوب علی، محمد حامی الدی، مولوی سعید الدین فریدالدین، سید احمد، الہٰی بخش، محمد انصار علی، حفیظ اللہ خاں، نورالحق، محمد رحمت علی خاں عدالت العالیہ، محمد علی حسین قاضی القضات، سیف الرحمن، محمد ہاشم، سید عبدالحمید، سید محمد وغیرہ نے دستخط کیے۔

علامہ فضل حق خیر آبادی کا جہاد کا فتویٰ

علامہ فضل حق خیر آبادی کا جہاد کا فتویٰ جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریزوں کے خلاف ایک لہر دوڑ گئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریز حکومت کی چولیں ہل گئیں۔ انگریزوں نے بھی اپنی تدبیریں لڑا کر، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس تحریک کو کچل دیا۔ جنوری 1859ء میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ ’’جہاد کا فتویٰ میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتویٰ پر قائم ہوں‘۔

فضل حق خیر آبادی کو 12 فروری 1861ء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اسی طرح مولوی احمد اللہ شاہ نے ملک میں پہلی جنگ آزادی کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1857ء میں علماء کرام کی ایک بڑی جماعت تیار ہوگئی، جنھوں نے ملک کے عوام میں جذبہ حریت کو بیدار کیا اور اس تحریک آزادی کی مضبوط بنیاد ڈالی۔ ان میں مولانا فضلِ حق خیرآبادی اور مولانا احمدالله شاہ کے علاوہ مولانا رحمت الله کیرانوی، مولانا سرفراز، مفتی احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریابادی، حاجی امدادالله مہاجرمکی، مولانا رشید احمد، مولانا منیر نانوتوی وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔ (جاری)

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

برطانیہ کا معاشی بحران سنگین، بورس جانسن چھٹیوں پر

0
برطانیہ کا معاشی بحران سنگین، بورس جانسن چھٹیوں پر
برطانیہ کا معاشی بحران سنگین، بورس جانسن چھٹیوں پر

برطانوی کابینہ کے ایک رکن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ برطانیہ کا معاشی بحران کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کہاں ہیں

لندن: برطانیہ میں سنگین معاشی بحران کے دوران برطانوی کابینہ کے ایک رکن نے تسلیم کیا کہ وہ نہیں جانتے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کہاں ہیں۔

ڈان میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جب وزیر اعظم چھٹی کے لیے روانہ ہورہے تھے اسی ہفتے بینک آف انگلینڈ نے خبردار کیا تھا کہ ایک سال طویل کساد بازاری آنے والی ہے۔ بورس جانسن بدھ کے روز سے اپنی اہلیہ کیری کے ساتھ ہنی مون پر ہیں، ڈاؤننگ اسٹریٹ نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ وہ کہاں ہیں لیکن ٹائمز اخبار نے کہا کہ یہ جوڑا سلووینیا میں تھا۔

بورس جانسن کے پاس 6 ستمبر کے بعد بہت وقت ہوتا جب وہ کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی لِز ٹرس یا رشی سنک کو سونپنے والے ہیں لیکن انہوں نے جلد ہی بریک لینے کا فیصلہ کیا۔

حزب اختلاف کی لیبر پارٹی نے حکومت کے دو سینئر ترین وزرا پر صورتحال سے غائب ہونے کا الزام لگایا کیوں کہ خزانہ کے چانسلر ندیم زہاوی بھی اس ہفتے چھٹی پر ہیں۔ بزنس سیکریٹری اور لز ٹرس کے حامی کواسی کوارٹینگ نے ٹائمز ریڈیو کو بتایا کہ میں نہیں جانتا کہ بورس کہاں ہے لیکن میں اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بورس جانسن اور ندیم زہاوی دونوں کے ساتھ ‘ہر وقت’ واٹس ایپ پیغامات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں اور اس بات پر اصرار کیا کہ یہ تنقید ‘جھوٹی’ ہے حکومت اقتصادی بحران کے بارے میں کچھ نہیں کر رہی۔

برطانیہ کی معیشت

ندیم زہاوی نے کہا کہ وہ جمعرات کو بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی کے ساتھ رابطے میں تھے جب مرکزی بینک نے شرح سود کو 1.25 فیصد سے بڑھا کر 1.75 فیصد کردیا، جو 27 برسوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ بینک بڑھتی ہوئی افراط زر پر لگام لگانے کی کوشش کر رہا ہے، جس نے خبردار کیا تھا کہ یہ 13.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، ساتھ ہی پیش گوئی کی کہ برطانیہ کی معیشت چوتھی سہ ماہی میں کساد بازاری میں داخل ہو جائے گی جو 2023 کے آخر تک جاری رہے گی۔

کساد بازاری کا سامنا

خارجہ سیکریٹری رز ٹرس اور رشی سنک، جو کہ زہاوی کے پیشرو چانسلر ہیں، جمعرات کو ٹیلی ویژن پر ہونے والی ایک بحث میں اس بحران سے نمٹنے کے طریقے پر ایک بار پھر جھگڑ پڑے۔ رز ٹرس، جو ٹوری ممبران کے سروے میں سرفہرست ہیں، نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اپنی کاروباری پالیسیوں کو معمول کے مطابق جاری رکھیں تو ہمیں کساد بازاری کا سامنا رہے گا’۔

وہ معمولات زندگی کی لاگت کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ٹیکسوں کو کم کرنے اور خود مختار بینک آف انگلینڈ کے افراط زر سے لڑنے والے مینڈیٹ کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی بجٹ کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

تاہم رشی سنک نے کہا کہ زیادہ قرض لینے کے ساتھ مالی اعانت کی جانے والی ٹیکس میں کٹوتیاں بینک کو سود کی شرحوں میں مزید اضافہ کرنے پر مجبور کرے گی، مالیاتی سختی کو برقرار رکھنے اور قیمت کے دباؤ کو پہلے قابو کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ سابق کابینہ کے وزیر لیام فاکس، جو رشی سنک کی حمایت کرتے ہیں، نے رز ٹرس کے تجویز کردہ قرضوں سے چلنے والے ٹیکس میں کٹوتیوں کے ذریعے ‘جادوئی حل’ کے خلاف خبردار کیا۔

‘پرکشا پہ چرچا’ نہیں، روزگار دینے کی بات کریں: راہل گاندھی

0
'پرکشا پہ چرچا' نہیں، روزگار دینے کی بات کریں: راہل گاندھی
'پرکشا پہ چرچا' نہیں، روزگار دینے کی بات کریں: راہل گاندھی

مسٹر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ "امرت کال کی نئی تعلیمی پالیسی: امتحان سے پہلے ‘پرکشا پہ چرچا’، امتحان کے دوران ‘نہ پرچہ، نہ چرچا’۔ امتحان کے بعد مستقل تاریک، یہ ہر نوجوان کی کہانی ہے، جو سی یو ای ٹی کے طلبہ کے ساتھ ہو رہا ہے

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی پالیسی، ‘پرکشا پہ چرچا’ وغیرہ کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ان کے پاس نوجوانوں کو روزگار دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

مسٹر راہل گاندھی اور محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا کہ تین چار لوگ مل کر ملک کو چلا رہے ہیں اور یہ لوگ تاناشاہی کر کے ملک کو برباد کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج 50 ہزار نوجوان سی یو ای ٹی امتحان کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ "امرت کال کی نئی تعلیمی پالیسی: امتحان سے پہلے ‘پرکشا پہ چرچا’، امتحان کے دوران ‘نہ پرچہ، نہ چرچا’۔ امتحان کے بعد مستقل تاریک، یہ ہر نوجوان کی کہانی ہے، جو سی یو ای ٹی کے طلبہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چار لوگوں کی تاناشاہی ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔

محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا کہ 50 ہزار سے زیادہ طلبہ وطالبات "تکنیکی” خرابی کی وجہ سے سی یو ای ٹی کا امتحان دینے سے قاصر ہیں۔ کیا یہ حکومت طلبہ کے تئیں اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ حکومتی پالیسی کی سنگین صورتحال کو دیکھ بھی نہیں سکتی؟ کیا یہی سب کچھ ہمارے نوجوانوں کے لیے ہے؟”

کووڈ انفیکشن میں اضافے سے متعلق مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط

0
کووڈ انفیکشن میں اضافے سے متعلق مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط
کووڈ انفیکشن میں اضافے سے متعلق مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط

راجیش بھوشن نے کہا ہے کہ ملک میں کووڈ انفیکشن سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ریاستوں کو ان کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے

نئی دہلی: مرکز نے دہلی، کیرالہ اور مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط لکھ کر ملک میں بڑھتے ہوئے کووڈ انفیکشن پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہیں آئندہ تہوار کے موسم میں محتاط رہنے کو کہا ہے۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ وزارت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے دہلی، کرناٹک، تلنگانہ، مہاراشٹرا، کیرالہ، اڈیشہ اور تمل ناڈو کے پرنسپل سکریٹریز اور ہیلتھ سکریٹریوں کو الگ الگ خط لکھے ہیں۔ مسٹر بھوشن نے ہر ریاست کے ان اضلاع کی الگ الگ تفصیلات بتائی ہیں، جہاں پچھلے ایک مہینے میں کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

خطوط میں کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں کو آئندہ تہوار کے موسم کے پیش نظر اضافی چوکسی اختیار کرنی چاہئے اور کووڈ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ افراد کے علاج کے لیے مناسب انتظامات کریں اور پورے طریقہ کار پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ کووڈ ویکسینیشن پر خصوصی زور دیا جانا چاہیے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ تمام مشتبہ افراد کے جمع کردہ نمونے اسکیننگ کے لیے بھیجیں۔

مسٹر بھوشن نے کہا ہے کہ ملک میں کووڈ انفیکشن سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ریاستوں کو ان کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔

اساتذہ تقرری گھوٹالہ: ارپیتا مکھرجی کے ایک اور فلیٹ کا انکشاف، ای ڈی کی تلاشی مہم تیز

0

اساتذہ تقرری گھوٹالہ معاملے میں گرفتار پارتھو چٹرجی اور ان کی خاتون دوست ارپیتا مکھرجی کے ایک اور فلیٹ کی ای ڈی نے لی تلاشی

کلکتہ: اساتذہ تقرری گھوٹالہ معاملے میں گرفتار پارتھو چٹرجی اور ان کی خاتون دوست ارپیتا مکھرجی کے ایک اور فلیٹ کی ای ڈی نے تلاشی لی ہے۔ 22 جولائی کی رات کو ای ڈی نے ارپیتا مکھرجی کے فلیٹ سے 21 کروڑ سے زائد نقد رقم اور کئی لاکھ کے زیورات برآمد کئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی ای ڈی ارپیتا مکھرجی اور پارتھو چٹرجی کے جائیداد اور فلیٹ کا پتہ لگارہی ہے اور تلاشی لے رہے ہیں۔

تیا روڈ پر واقع فورٹ اویسس اپارٹمنٹ میں ارپیتا کے فلیٹ ہونے کا پتہ لگنے کے بعد منگل کو ای ڈی دورہ کیا تھا۔ مگر ای ڈی کی ٹیم اندر نہیں جاسکی۔ تاہم آج ای ڈی کی ٹیم پوری تیاری کے ساتھ فلیٹ نمبر 503 میں پہنچی۔

معلوم ہوا ہے کہ فلیٹ کی ملکیت سمیتا جھن جھن والا کے نام ہے۔ اس لیے ای ڈی کو وہاں تلاشی لینے سے پہلے مقامی پولیس اسٹیشن کی اجازت لینی پڑی ہے۔ اس کے علاوہ، رابندر سروبر پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھنے والی کئی جائیدادوں میں ارپیتا مکھرجی اور پارتھو چٹرجی کی مشترکہ جائداد ہونے پتہ لگا ہے۔ تلاشی کے دوران مقامی پولیس اسٹیشن کے ساتھ ساتھ رابندر سروبر تھانے کی پولیس بھی موقع پر موجود ہے۔

چٹرجی اور مکھرجی جمعہ تک ای ڈی کی حراست میں

پارتھو چٹرجی اور ارپیتا مکھرجی جمعہ تک ای ڈی کی حراست میں رہیں گے۔ اس لیے بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کی صبح 10 بجے سے پارتھو اور ارپیتا سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی ہے۔ ای ڈی کے ذرائع کے مطابق، آپا یوٹیلیٹیز سروسز یکم نومبر، 2012 کو کھولی گئی تھی، جس میں پارتھو چٹرجی اور ارپیتا مکھرجی دونوں کا حصہ تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران ارپیتا مکھرجی نے دو بینک کھاتوں کی معلومات دی ہے۔

ای ڈی کے افسران بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے پچھلے 9 سالوں میں جو کچھ کیا ہے وہ اس پارٹنرشپ کے ذریعے کیا ہے جس کی وجہ سے چار فلیٹس خریدے گئے۔ ان سے دوبارہ پوچھ گچھ ہوگی۔ ای ڈی کو لگتا ہے کہ تحقیقات سے کئی نئے فلیٹس کا پتہ چل سکتا ہے۔

ای ڈی ذرائع کے مطابق جانچ ایجنسی پتہ چلا ہے کہ یہ پارٹنرشپ کمپنی نومبر 2012 میں بنائی گئی تھی اور اس نے کمپنی کی بیلنس شیٹ باقاعدگی سے جمع کرائی تھی اور انکم ٹیکس جمع کرایا تھا۔ اس تنظیم نے گزشتہ 9 سالوں سے کس طرح کام کیا، اس تمام معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ای ڈی کے افسران نے ارپیتا مکھرجی سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے اس کمپنی کے بارے میں معلوم حاصل کی ہے۔

اردو کی اہم کتابوں کی اشاعت کونسل کی ترجیحات میں شامل: پروفیسر شیخ عقیل احمد

0

ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ لٹریچر پینل کونسل کا ایک اہم پینل ہے، جس کے تحت وقیع علمی، ادبی و تنقیدی کتابیں شائع کی جاتی ہیں اور اس کی منظوری سے اب تک گراں قدر کتابیں شائع کی جاچکی ہیں

نئی دہلی: اردو کی اہم کتابوں کی اشاعت کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ لٹریچر پینل کونسل کا ایک اہم پینل ہے۔ جس کے تحت وقیع علمی، ادبی و تنقیدی کتابیں شائع کی جاتی ہیں اور اس کی منظوری سے اب تک گراں قدر کتابیں شائع کی جاچکی ہیں۔ یہ بات انہوں نے صدر دفتر میں لٹریچر پینل کی منعقدہ میٹنگ میں کہی۔

میٹنگ میں شرکا کا استقبال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل وقفے کے بعد قومی اردو کونسل میں آپ جیسے اہل علم و فضل کے اجتماع سے دلی مسرت ہو رہی ہے۔ کورونا کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد کونسل کی تمام سرگرمیاں حسبِ سابق آف لائن شروع ہوچکی ہیں، یہ میٹنگ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

متعدد نئے اشاعتی منصوبے

انھوں نے کہا کہ کونسل کے پیش نظر اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی ہے اور اس کے لیے ہم آپ حضرات کی تجاویز اور مشوروں کا دل سے استقبال کرتے ہیں اور انھیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں پینل کی سابقہ میٹنگ میں پیش کردہ تجاویز کی تصدیق اور اس کے تحت چلنے والے مختلف پروجیکٹس پر غور و خوض کیا گیا۔ ساتھ ہی متعدد نئے اشاعتی منصوبے بھی زیر بحث آئے۔

اس دوران میٹنگ کے شرکا نے اپنی تجاویز پیش کیں، جن پر گفتگو کے ساتھ انھیں روبعمل لانے پر زور دیا گیا۔ اس میٹنگ میں پینل کے تحت جاری اشاعتی منصوبوں پر گفتگو کے علاوہ شرکا نے کہا کہ اردو زبان میں ہندوستان کی دوسری علاقائی زبانوں کے شاہکار ادب کے ترجمے، اسی طرح اردو کے نمائندہ ادبی شہ پاروں کو دوسری علاقائی زبانوں میں منتقل کرنے کے سلسلے میں ایک منظم منصوبہ بندی کی جائے اور مختلف زبانوں اور ان کے قارئین کو باہم مربوط کرنے کے لیے کونسل کے زیر اہتمام اس منصوبے پر عمل کیا جائے۔

اردو کے کلاسیکی و نصابی ناولوں کی اشاعت کی تجویز بھی منظور

ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد اور میٹنگ کے چیئر مین پروفیسر مظفر علی شہ میری نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مفید تجویز ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدام کیا جائے گا۔ اسی طرح اس میٹنگ میں اردو کے کلاسیکی و نصابی ناولوں کی کونسل کے زیر اہتمام اشاعت کی تجویز بھی منظور کی گئی۔ اس کے تحت طلبہ کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلاسیکی و نصابی ناولوں کو از سر نو شائع کیا جائے گا، تاکہ یہ کتابیں ان تک بہ آسانی پہنچائی جاسکیں۔

اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر مظفر علی شہ میری نے کی۔ اس کے دیگر شرکا میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر قاضی جمال حسین، ڈاکٹر نریش، پروفیسر قاضی حبیب احمد، پروفیسر شبنم حمید، ڈاکٹر قدسیہ قریشی اور ڈاکٹر نکولن کنڈوتھ ولپل کے علاوہ کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر) اور محمد انصر (ریسرچ اسسٹنٹ) وغیرہ موجود رہے۔