جمعرات, اپریل 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 216

2002 کے گجرات فسادات کے مقدمات کو سپریم کورٹ نے بند کر دیا

0
2002 کے گجرات فسادات کے مقدمات کو سپریم کورٹ نے بند کر دیا
2002 کے گجرات فسادات کے مقدمات کو سپریم کورٹ نے بند کر دیا

2002 کے گجرات فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو 2002 کے گجرات فسادات کے مقدمات کی کارروائی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے بند کر دیا۔

چیف جسٹس یو یو للت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جے بی پاردی والا کی بنچ نے اپنا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کے ذریعہ تشدد کے معاملات کی مناسب انکوائری کی مانگ کرنے والی دس عرضیوں کو نمٹا دیا گیا ہے۔ اس لیے اب ان معاملات کی ضرورت نہیں رہی۔

بنچ نے کہا کہ عدالت نے فسادات سے متعلق نو مقدمات کی تحقیقات اور ٹرائل کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔ ان میں سے آٹھ میں مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ عدالت کو اب ان معاملات کو سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ایک معاملہ چل رہا ہے، جو ‘حتمی بحث’ کے مرحلے میں ہے۔

سینئر وکیل مکل روہتگی، ایس آئی ٹی کی طرف سے پیش ہوئے، بنچ کے سامنے دلیل دی کہ نو مقدمات میں سے صرف ایک زیر التوا ہے۔ نرودا گاؤں کے علاقے سے متعلق ایک معاملے پر بحث کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔

مسٹر روہتگی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ دیگر معاملات میں مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور وہ معاملات یا تو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے ہیں۔

تیستا سیتلواڑ کی سیکورٹی سے متعلق عرضی زیر التوا

عدالت عظمیٰ کے سامنے بحث کرتے ہوئے وکیل اپرنا بھٹ نے کہا کہ تیستا سیتلواڑ کی سیکورٹی سے متعلق عرضی زیر التوا ہے۔ اپرنا بھٹ نے کہا کہ انہیں سیتلواڑ سے ہدایات نہیں مل سکیں کیونکہ وہ فی الحال گجرات پولیس کے ذریعہ درج ایک نئے کیس میں حراست میں ہیں۔

اس پر سپریم کورٹ نے سیتلواڑ کو سیکورٹی کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کرنے کی اجازت دی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ درخواست گزار کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

گجرات فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ 2002 میں 27 فروری کو شرپسندوں نے گودھرا اسٹیشن پر ایک سابرمتی ایکسپریس ٹرین کو آگ لگا دی تھی، جس کے نتیجے میں 59 کار سیوک مارے گئے تھے۔ اس پرتشدد واقعہ کے بعد گجرات میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

ممتا بنرجی اور ان کے خاندان کے افراد کے جائیداد کی جانچ کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر

0
ممتا بنرجی اور ان کے خاندان کے افراد کے جائیداد کی جانچ کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر
ممتا بنرجی اور ان کے خاندان کے افراد کے جائیداد کی جانچ کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر

بی جے پی لیڈر نے کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خاندان کے افراد کے اثاثوں میں غیر معمولی شرح سے اضافہ ہوا ہے

کلکتہ: بی جے پی لیڈر اور وکیل ترون جیوتی تیواری نے کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خاندان کے افراد کے اثاثوں میں غیر معمولی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ ترون جیوتی بی جے پی کے لائرز سیل کے رکن بھی ہیں۔ اس کیس کی سماعت کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پرکاش سریواستو اور جسٹس راجرشی بھردواج کی ڈویژن بنچ کی میں اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلی کے اہل خانہ کے اثاثوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عرضی گزار کا الزام ہے کہ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ کے خاندان کے کچھ افراد کی جانب سے مختلف اوقات میں جمع کرائے گئے سرکاری حلف ناموں میں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ اس تناظر میں عرضی گزار نے کجاری بنرجی کا نام لیا جو وزیر اعلیٰ کے بھائی سمیر بنرجی کی بیوی ہیں۔

کلکتہ میونسپل انتخابات

کچھ دن پہلے کلکتہ میونسپل انتخابات میں امیدوار کے طور پر، درخواست گزار نے الزام لگایا کہ کازیری نے اپنے حلف نامے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ اس معاملے میں درخواست گزار نے دو تنظیموں کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جوڑے کا نام ایسی کئی تنظیموں میں رجسٹرڈ ہے، لیکن انتخابی حلف نامے میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کازیری نے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کے شوہر سماجی خدمات سے وابستہ ہیں۔ اس کے باوجود مدعی کی جانب سے اتنی بڑی رقم کے ذرائع آمدن پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی جائیداد کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ ریاست کے مختلف رجسٹراروں سے حاصل کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کئی سرکاری جائیدادیں وزیر اعلیٰ کے خاندان کے افراد نے بازار کی قیمت سے بہت کم پر خریدی ہے۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر جائیدادیں 2013 کے بعد خریدی گئیں۔ چٹ فنڈ گھوٹالہ ریاست میں 2013 میں سامنے آیا تھا۔ مدعی نے سوال کیا کہ کیا ان دونوں واقعات میں کوئی تعلق ہے؟

فیڈ ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے اشارے کی وجہ سے سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد ٹوٹے

0
فیڈ ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے اشارے کی وجہ سے سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد ٹوٹے
فیڈ ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے اشارے کی وجہ سے سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد ٹوٹے

عالمی منڈی میں گراوٹ کے دباؤ کے تحت مقامی سطح پر چوطرفہ فروخت کی وجہ سے آج سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 1.5 فیصد کی گراوٹ آئی

ممبئی: امریکہ میں آسمان چھوتی مہنگائی کو قابو کرنے کے لئے فیڈ ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے اشارے پر عالمی منڈی میں گراوٹ کے دباؤ کے تحت مقامی سطح پر چوطرفہ فروخت کی وجہ سے آج سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 1.5 فیصد کی گراوٹ آئی۔

بی ایس ای کا تیس شیئروں کا حساس انڈیکس سینسیکس 861.25 پوائنٹس گر کر 57972.62 پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے ایک ماہ کی کم ترین سطح 58 ہزار پوائنٹس پر آگیا۔ اس سے پہلے 29 جولائی کو یہ 57570.25 پوائنٹس پر تھا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 246 پوائنٹس گر کر 17312.90 پوائنٹس پر آگیا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بھی فروخت ہوئی۔ مڈ کیپ 0.80 فیصد گر کر 24,917.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.57 فیصد گر کر 28,254.99 پوائنٹس پر رہا۔ اس دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3703 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2045 فروخت اور 1454 خریدے گئے جبکہ 204 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 38 کمپنیاں سرخ نشان پر رہیں جبکہ باقی 12 سبز نشان پر رہیں۔

چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.14 فیصد کا معمولی اضافہ

جمعہ کو جیکسن ہال میٹنگ کے دوران ایک بیان میں امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاویل نے اشارہ دیا کہ افراط زر کو 2 فیصد کے ہدف کی حد کے اندر لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’’اعلی شرح سود، سست ترقی اور لیبر مارکیٹ میں نرمی مہنگائی کو کمی آئے گی۔ ہم یہ اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ کام مکمل ہو گیا ہے۔‘‘ اس پر عالمی مارکیٹ کا رد عمل منفی رہا، برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.70، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.43، جاپان کا نکئ 2.66 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.73 فیصد نیچے رہا۔ تاہم، چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.14 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔

اس کا اثر گھریلو اسٹاک مارکیٹ پر نظر آیا اور بی ایس ای کے 19 گروپس میں سے 16 میں بھاری فروخت ہوئی۔ اس عرصے کے دوران آئی ٹی 3.34، ٹیک 3.14، بینکنگ 1.87، میٹلز 1.69، فنانس 1.57، ریئلٹی 1.30، بیسک میٹریلز 0.87، سی ڈی جی ایس 0.54، انڈسٹریلس 0.63، ٹیلی کام 0.63، کیپٹل گڈس 0.65 اور کنزیومر ڈیوریبلس 0.67 فیصد گر گئے۔

حجاب تنازعہ پر کرناٹک حکومت کو سپریم کورٹ کا نوٹس

0
حجاب تنازعہ پر کرناٹک حکومت کو سپریم کورٹ کا نوٹس
حجاب تنازعہ پر کرناٹک حکومت کو سپریم کورٹ کا نوٹس

سپریم کورٹ نے حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر درخواستوں پر پیر کو ریاستی حکومت اور دیگر کو نوٹس جاری کیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی کو برقرار رکھنے کے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر درخواستوں پر پیر کو ریاستی حکومت اور دیگر کو نوٹس جاری کیا۔

جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیا کی بنچ نے کرناٹک حکومت اور دیگر سے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ درخواستوں پر سماعت کے بعد 5 ستمبر سے پہلے اپنے جواب داخل کریں۔  کچھ عرضی گزاروں کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی اپیل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بنچ نے کہا، “پہلے آپ بار بار جلد سماعت کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن اب آپ اسے ٹالنا چاہتے ہیں۔ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔”

کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رتوراج اوستھی کی سربراہی والی تین ججوں کی بنچ نے 15 مارچ کو اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ ہائی کورٹ کی اس بنچ نے مسلم لڑکیوں کی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔ درخواست گزار طالبات نے اسے اسلامی روایت کا حصہ قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں اسے پہننے کو جائز پیش بتایا تھا لیکن عدالت نے اسے قانونی طور پر لازمی نہیں سمجھا تھا۔ درخواست گزاروں کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے تین رکنی بنچ نے تعلیمی اداروں سے متعلق لباس پہننے کو مطابق قرار دیا تھا۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کرناٹک میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے اور کالجوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد لڑکیوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

خیال ر ہے کہ کرناٹک میں اس سال اڈپی کے پری یونیورسٹی گورنمنٹ کالج سے حجاب پہن کر آنے والی لڑکیوں پر تنازعہ شروع ہو گیا تھا۔ اس تنازعہ کے بعد کئی مقامات پر پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔

بہار کے سمستی پور میں بی جے پی لیڈر کا گولی مار کر قتل

0
بہار کے سمستی پور میں بی جے پی لیڈر کا گولی مار کر قتل
بہار کے سمستی پور میں بی جے پی لیڈر کا گولی مار کر قتل

پولیس ذرائع نے بتایا کہ بہار کے سمستی پور میں بی جے پی لیڈر ردھویر سونکار اپنے ساتھی دلیپ ساہ کے ساتھ ہفتہ کی رات دیر گئے ضلع کے الماس نگر چوک میں زیورات کی دکان بند کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر سیروپٹی گھر جا رہے تھے کہ چار بدمعاشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا

سمستی پور: بہار کے سمستی پور ضلع کے خانپور تھانہ علاقے میں بدمعاشوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اور ممتاز جوہری ردھویر سونکار کو گولی مار کر ہلاک اور ان کے ساتھی دلیپ ساہ کو شدید طور سے زخمی کر دیا۔

پولیس ذرائع نے اتوار کو یہاں بتایا کہ بی جے پی لیڈر ردھویر سونکار اپنے ساتھی دلیپ ساہ کے ساتھ ہفتہ کی رات دیر گئے ضلع کے الماس نگر چوک میں زیورات کی دکان بند کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر سیروپٹی گھر جا رہے تھے کہ چار بدمعاشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جبکہ مزاحمت کرنے پر بدمعاشوں نے ان ساتھی پر بھی گولی چلائی جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد بدمعاش روپے بھرا تھیلا لوٹ کر فرار ہوگئے۔

دریں اثنا، واقعہ کے خلاف احتجاج میں مشتعل لوگوں نے لاش کے ساتھ ضلع کے سیروپٹی چوک پر سمستی پور۔شیواجی نگر مین روڈ کو گھنٹوں تک جام رکھا۔ مشتعل لوگ خانپور کے تھانہ صدر کو معطل کرنے، بی جے پی لیڈر کے قتل میں ملوث بدمعاشوں کی گرفتاری اور ضلع میں بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لوگوں کو سمجھا کر جام ختم کرایا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

نوئیڈا: سپرٹیک کے ‘ٹوئن ٹاورس’ دھول کے غبار میں تبدیل

0
نوئیڈا: سپرٹیک کے 'ٹوئن ٹاورس' دھول کے غبار میں تبدیل
نوئیڈا: سپرٹیک کے 'ٹوئن ٹاورس' دھول کے غبار میں تبدیل

سپرٹیک کے ٹوئن ٹاورس کو منہدم کرنے میں دھماکہ خیز اشیاء کو اس طرح سے استعمال کیا گیا تھا کہ عمارت میں لگا کنکریٹ، دھماکہ ہوتے ہی دھول میں تبدیل ہوگیا، اس کے بعد پلک جھپکتے ہی ٹوئن ٹاورس دھوئیں کے غبار میں تبدیل ہوگئے

گوتم بدھ نگر: قومی راجدھانی علاقے (این سی آر) دہلی سے منسلک اترپردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر کے نوئیڈا سیکٹر 93 اے میں واقع غیر قانونی طریقے سے تعمیر شدہ کثیر منزلہ رہائشی سوسائٹی سپرٹیک کے ‘ٹوئن ٹاورس’ اتوار کو دھماکہ کر زمین دوز کردئیے گئے۔ اس کاروائی میں استعمال کئے گئے دھماکہ خیز مواد کے دھماکے سے کسی طرح کے جان و مال کے نقصان کی فی الحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بدعنوانی کی بنیاد پر تعمیر کئے گئے 32 منزلہ ٹوئن ٹاورس کو نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ضلع انتظامیہ کی نگرانی میں آج دن میں 2:30 بجے منہدم کیا جانا تھا۔ گھڑی میں ڈھائی بجتے ہی سائرن کی تیز آواز سنی گئی اور اگلے ایک منٹ میں ریموٹ کنٹرول سے کئے گئے دھماکے کے بعد پل بھر میں ٹوئن ٹاور تاش کے پتوں کی طرح بھربھرا کر گرگئے۔

نوئیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رتو مہیشوری نے کہا کہ عمارت گرائے جانے کے بعد موصول تازہ جانکاری کے مطابق ٹوئن ٹاورس کے آس پاس کسی سوسائٹی میں نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آس پاس کے علاقے میں سڑکوں پر دھول کی پرت جم گئی ہے۔ اسے صاف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ایک گھنٹے میں حالات کا صحیح تجزیہ کیا جاسکے گا۔

محض نو سیکنڈ کے اندر ٹوئن ٹاورس زمین دوز

ان ٹوئن ٹاورس کو منہدم کرنے میں دھماکہ خیز اشیاء کو اس طرح سے استعمال کیا گیا تھا کہ عمارت میں لگا کنکریٹ، دھماکہ ہوتے ہی دھول میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد پلک جھپکتے ہی ٹوئن ٹاورس دھوئیں کے غبار میں تبدیل ہوگئے۔ محض نو سیکنڈ کے اندر پوری عمارت زمین دوز ہوگئی اور اس کے ملبے سے اٹھی دھول نے آس پاس 500 میٹر کے علاقے کو ڈھک لیا۔

دھول کے غبارے کے شبہ کے پیش نظر 500 میٹر کے دائرے والی سبھی عمارتوں کو پہلے ہی کپڑے اڑھا دئیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی این سی آر کی بلڈنگ تعمیر کرنے والی کمپنی سپرٹیک کے ٹوئن ٹاورس کے دو بلاک ‘اپیکس اور سیین’ ماضی کا حصہ بن گئے۔ قابل ذکر ہے کہ ضلع انتظامیہ نے ٹوئن ٹاورس کو منہدم کرنے کی ذمہ داری پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنی’ اے ڈی فائس’ کو سونپی تھی۔

پانی کے تیز فواروں سے پورے علاقے میں چھڑکاؤ شروع

عمارت کے منہدم ہونے کے کچھ وقت بعد دھول ہٹانے کے لئے نگرنگم کی پہلے سے تعینات اینٹی اسماگ گن سے پانی کے تیز فواروں سے پورے علاقے میں چھڑکاؤ شروع کردیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ عمارت کا ملبہ ہٹانے میں تین مہینے کا وقت لگے گا۔

عمارت منہدم ہونے سے کچھ دیر پہلے نوئیڈا کے پولیس کمشنر آلوک کمار نے بتایا کہ پولیس نے ٹوئن ٹاورس کے آس پاس 500 میٹر کے علاقے کو پوری طرح سے خالی کروا لیا تھا۔ انہوں نے کہا ٹوئن ٹاور کو واٹر فال تکنیک سے گرایا گیا۔ اس تکنیک سے ملبہ بکھرتا نہیں ہے۔ بلکہ پانی کی طرح نیچے گرتا ہے۔

اس سے پہلے نوئیڈا۔گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے پر دوپہر 1:30 بجے سے ایک گھنٹے کے لئے آمدورفت کو روک دیا گیا تھا۔ نوئیڈا کے ڈی سی پی (ٹریفک) گنیش نے کہا کہ ڈائیورٹ کئے گئے راستوں کے بارے میں گوگل میپ کو پہلے ہی اپڈیٹ کردیا گیا تھا۔ اس کی مدد سے لوگوں کو بند راستوں کی جانکاری مل جائے گی۔

اروناچل پردیش میں چین کی تعمیراتی ٹیم کیا کر رہی ہے: اویسی

0
اروناچل پردیش میں چین کی تعمیراتی ٹیم کیا کر رہی ہے: اویسی
اروناچل پردیش میں چین کی تعمیراتی ٹیم کیا کر رہی ہے: اویسی

اسد الدین اویسی نے اروناچل پردیش میں چین کی صورتحال پر مرکزی حکومت پر حملہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے وضاحت کرنے کو کہا کہ چین کا تعمیری ٹیم اروناچل پردیش میں کیا کررہی ہے؟

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے ہفتہ کو اروناچل پردیش میں چین کی صورتحال پر مرکزی حکومت پر حملہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے وضاحت کرنے کو کہا کہ چین کا تعمیری ٹیم اروناچل پردیش میں کیا کررہی ہے؟

مسٹر اویسی نے ٹویٹر پر اروناچل پردیش کے انجاؤ ضلع کے مقامی لوگوں کے ذریعہ ریکارڈ کردہ ویڈیو پوسٹ کیا۔ اس ویڈیو میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکار اور مشینری اروناچل پردیش کے چگلگام میں ہدیگرا-ڈیلٹا 6 کے قریب تعمیراتی کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ "کیا ہمارے وزیر اعظم جو چین کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں، ہمیں بتائیں گے کہ چینی تعمیراتی ٹیم اروناچل پردیش میں ہمارے علاقے میں کیا کر رہی ہے؟”

ایک اور ٹویٹ میں اے آئی ایم آئی ایم کے صدر نے کہا کہ لداخ میں چینی دراندازی دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اب ہمارے پاس اروناچل میں چینی تعمیراتی ٹیموں کی تصاویر بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کی صورتحال پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ اس سے کم کچھ بھی ناکافی ہوگا۔

پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے اب تک 980 افراد ہلاک

0
پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے اب تک 980 افراد ہلاک
پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے اب تک 980 افراد ہلاک

پاکستان میں تباہ کن سیلاب، حکومت اس آفت سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرنے پر مجبور

اسلام آباد: پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے اب تک 980 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور حکومت اس آفت سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

پاکستان میں بارشوں سے متعلقہ واقعات میں 1450 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 8,02,583 جانور مر چکے ہیں جبکہ تقریباً 50 لاکھ افراد کو راحتی کیمپوں میں بھیجا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر راحت اور بچاؤ کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ اور سوات کے سیلاب سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ بلوچستان کے کئی اضلاع میں کم از کم چھ مزید باند ٹوٹ گئے ہیں۔

پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے 30 اگست تک کئی اضلاع میں بارش کے باعث ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

شہباز شریف حکومت نے تمام متاثرہ صوبوں میں فوج تعینات کر دی ہے۔

بلقیس بانو کے قصورواروں کو جلد سے جلد جیل بھیجا جائے:بائیں محاذ

0
بلقیس بانو کے قصورواروں کو جلد سے جلد جیل بھیجا جائے:بائیں محاذ
بلقیس بانو کے قصورواروں کو جلد سے جلد جیل بھیجا جائے:بائیں محاذ

سی پی آئی ایم کی پولٹ بیورو کی رکن سبھاشنی علی اور دیگر افراد نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے بلقیس بانو کے گناہ گاروں کی رہائی کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے

کلکتہ: بلقیس بانو کے قصورواروں کی رہائی کو لے کر اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بائیں محاذ نے بلقیس بانو کے گناہ گاروں کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جلد سے جلد قصورواروں کی رہائی کو منسوخ کرکے انہیں جیل بھیجا جائے۔

ایک پریس بیان میں، ریاستی بائیں محاذ نے بتایا کہ یوم آزادی کے موقع پر جہاں وزیر اعظم خواتین کے احترام کی بات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف گجرات حکومت نے بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے اور ان کے خاندان کو قتل کرنے کے ملزمان کو رہا کر دیا۔ گجرات حکومت کے ذریعہ قائم ایک کمیٹی کی سفارش پر یہ کیا گیا ہے۔

سی پی آئی ایم کی پولٹ بیورو کی رکن سبھاشنی علی اور دیگر افراد نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے بلقیس کے گناہ گاروں کی رہائی کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ سبھاشنی علی نے آل انڈیا ویمنز ایسوسی ایشن کی نائب صدر کے طور پر یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کے ساتھ صحافی اور مصنفہ ریوتی لاول اور سماجی کارکن روپریکھا ورما نے درخواست دی ہے۔

گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کے خاندان پر حملہ

2002 میں گجرات فسادات کے دوران داہود کے ایک گاؤں میں بلقیس بانو کے خاندان پر حملہ کیا گیا تھا۔ بلقیس 3 مارچ کو ہونے والے حملے کے دوران درختوں سے گھرے کھیت میں چھپی ہوئی تھی، بلقیس کے اہل خانہ اور پڑوسیوں کے ساتھ۔ 20-30 حملہ آوروں نے انہیں گھیر لیا اور حملہ کیا۔ بانو کے خاندان کے 14 افراد کو قتل کر دیا۔ بلقیس کے 3 سالہ بچے کو اس کی گود سے چھین کر ماں کے سامنے پتھر مار مار کر قتل کر دیا گیا۔ بلقیس سمیت 8 خواتین سے زیادتی کی گئی تھی۔ 21 جنوری 2018 کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 11 کو قصوروار ٹھہرایا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔ بمبئی ہائی کورٹ نے بھی یہی فیصلہ دیا تھا۔

ترنمول کانگریس کی خواتین سیل نے مہنگائی کے خلاف اور بلقیس بانو کی حمایت میں نکالا جلوس

0

بلقیس بانو کے ریپ کے مجرموں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے

کلکتہ: بی جے پی بدعنوانی کے معاملے پر بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس پر مسلسل حملہ کر رہی ہے۔ وہیں ترنمول کانگریس کی خواتین سیل نے خواتین کے تحفظ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی۔

ترنمول کانگریس کی خواتین سیل کی جانب سے آج دھرم تلہ میں جلوس نکالا گیا جس میں ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔ اس میں ریاستی وزیر خزانہ چندریما بھٹاچاریہ، ششی پانجا، مالا رائے سمیت دیگر کئی لیڈران موجود تھے۔ اس کے علاوہ ریاست کی ترنمول کانگریس کے 35 تنظیمی اضلاع کے اراکین کو بھی اس جلوس میں حصہ لینے کو کہا گیا ہے۔

حکومت عصمت دری کے ملزمین کو تحفظ فراہم کررہی ہے

یہ پروگرام آج اور کل دو دن جاری رہے گا۔ حال ہی میں، گجرات حکومت نے بلقیس بانو کیس میں سزا یافتہ 11 لوگوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے احتجاج میں بی جے پی حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ ترنمول کانگریس نے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکومت عصمت دری کے ملزمین کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔

ترنمول کانگریس اس سے قبل قیمتوں میں اضافے کے خلاف مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔

بلقیس بانو کے ریپ کے مجرموں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس کی لیڈر چندریما بھٹاچاریہ نے کہا کہ مرکزی ایجنسی میں قابل افسران موجود ہیں۔ حالانکہ اس کا استعمال سیاسی وجوہات کی بناء پر کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی لیڈر مرکزی ایجنسی کے برانڈ کو برباد کر رہے ہیں۔ اور حکومت نے عصمت دری کرنے والوں اور اجتماعی قاتلوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔

گجرات میں اجتماعی عصمت دری اور قتل کے ملزمین کو قانون کو بالائے طاق رکھ کر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔اترپردیش میں عصمت دری کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

ریاستی وزیر ششی پانجا نے کہا کہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت خاموش ہے۔اس لئے ہم ان کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔