جمعرات, اپریل 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 215

بنگال میں جلد ہی 89 ہزار اساتذہ کی تقرری کی جائے گی: ممتا بنرجی

0
بنگال میں جلد ہی 89 ہزار اساتذہ کی تقرری کی جائے گی: ممتا بنرجی
بنگال میں جلد ہی 89 ہزار اساتذہ کی تقرری کی جائے گی: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم جلد ہی 89 ہزار اساتذہ کی تقرری کیلئے کارروائی شروع کرنے والے ہیں، حکومت اس کیلئے تیار ہے

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے یوم اساتذہ کے موقع پر بتایا ہے کہ پی آئی ایل کے ذریعہ اساتذہ کی تقرری کا راستہ روکا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اسکولوں میں خالی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے تیار ہے مگر بار بار مقدمہ کرکے اس راہ میں رخنہ ڈالا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت 89 ہزار نوکریاں دینے کو تیار ہے

ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تک کسی نے پیغام پہنچایا ہے کہ اگر انہیں رقم نہیں دی گئی تو وہ پی آئی ایل دائر کرکے رخنہ ڈالیں گے۔گرچہ ممتا بنرجی نے دھمکی دینے والے کا نام ظاہر نہیں کیا ہے مگر انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں زیادہ کچھ نہیں بولا جاسکتا ہے۔

سابق وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی اس وقت تقرری میں بدعنوانی کے معاملے میں جیل میں ہیں۔ سابق وزیر مملکت برائے تعلیم پریش ادھیکاری بھی نشانے پر ہیں، ان پر اپنی بیٹی کو غیر قانونی طریقے سے نوکری دینے کا الزام ہے۔ ان کی بیٹی کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے کئی ممبران اسمبلی اور لیڈران نشانے پر ہیں۔

ممتا نے دیا پارٹی لیڈروں کے کردار پر اٹھ رہے سوالوں کا جواب

ممتا بنرجی نے پارٹی اور پارٹی لیڈروں کے کردار پر اٹھ رہے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سی پی ایم کے دور میں بڑے پیمانے پر تقرریوں میں بدعنوانی ہوئی تھی مگر ہم نے کسی کی بھی نوکری ختم نہیں کی ہے۔ سی پی ایم کے دور میں ہوئی تقرری کے کاغذات نہیں ملیں گے۔ اس لئے انہیں پکڑنا مشکل ہے۔ ہمارے دور میں جو تقرریاں ہوئیں سب کے کاغذات موجود ہیں۔ اس لئے ہماری غلطیوں کو آسانی سے پکڑ لیا جاتا ہے۔

یوم اساتذہ کے موقع پر منعقد پروگرام میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سیکنڈری، ہائر سیکنڈری کے طلبا کو انعام سے نوازا۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم جلد ہی 89 ہزار اساتذہ کی تقرری کیلئے کارروائی شروع کرنے والے ہیں، حکومت اس کیلئے تیار ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اگر کام کرنے پر کچھ غلط ہو جائے تو اس کا آدھا حصہ غلط ہو سکتا ہے۔ کیا آپ نے مدھیہ پردیش کا معاملہ دیکھا؟ وہاں بڑے پیمانے پر گھوٹالے ہوئے ہیں مگر بنگال میں معمولی بات کو بڑی بات بناکر پیش کیا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ میں نے 1995 سے کتابیں لکھنا شروع کیں۔ میں نے 125 کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے راجونشی، اردو، ساوتالی زبانوں میں کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کو ان کتابوں میں 80 سال کے بعد کی معلومات ملیں گی۔ دنیا بھر سے لیکچر دینے کے لیے بلایا گیا، مجھے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ریاست کے تعلیمی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا، ”ہم مہارت کی تعلیم میں نمبر 1 ہیں۔ ہم 15 دنوں کے اندر 30,000 بچوں کو روزگار کے خطوط دیں گے۔ سڑک پر چند لڑکے اور لڑکیاں بیٹھے تھے۔ مجھ سے بات ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ ان کا کام کیا جائے گا۔ لیکن پھر وزیر تعلیم نے کہا کہ نمبر اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کی تباہ کاریاں: اس طرف شہر، ادھر ڈوب رہا تھا سورج

0
ماحولیاتی تبدیلی کی تباہ کاریاں: اس طرف شہر، ادھر ڈوب رہا تھا سورج
ماحولیاتی تبدیلی کی تباہ کاریاں: اس طرف شہر، ادھر ڈوب رہا تھا سورج

ہم نے اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں کوتاہی سے کام لیا تو نتائج ناقابل تصور حد تک ہولناک ہوسکتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

قدرت ہمیں کسی نہ کسی طرح آگاہ کرتی رہتی ہے۔ کبھی زلزلہ تو کبھی طوفان، کبھی شدت کی گرمی تو کبھی ناقابل برداشت سردی، کبھی خشک سالی تو کبھی سیلاب۔ آئے دن دنیا میں کہیں نہ کہیں قدرتی تباہی کے مناظر ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں انسان ان قدرتی آفات کے سبب لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ قدرت کے سامنے لاچار انسان بڑی بے بسی کے ساتھ یہ سب دیکھتا رہتا ہے۔ اگرچہ ان قدرتی آفات کے پیچھے انسانوں کے لئے کچھ نہ کچھ سبق ہوتا ہے۔ مگر انسان ہے کہ اتنی تباہی و بربادی اور آگاہی کے باوجود سدھرنے کو تیار نہیں۔

جب کبھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے تو دنیا بھر کے حکمرانوں اور ماہرین کے درمیان گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی تبدیلیوں کے نام پر ملاقاتوں کا دور شروع ہو جاتا ہے، لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے ہم سب جانتے ہیں۔ ابھی آپ چین، یورپ اور امریکہ کو ہی دیکھ لیں، وہاں گرمی کی شدت نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ برطانیہ میں گرمی کی وجہ سے ہنگامی حالت کا اعلان کرنا پڑا ہے۔ فرانس جنگل کی آگ سے پریشان ہے تو امریکہ کے کئی شہر شدید گرمی کی زد میں ہیں۔

برطانیہ کا بڑا حصہ خشک سالی کی زد میں

یورپی یونین کے جوائنٹ ریسرچ سینٹر نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کا کم و بیش نصف حصہ اور برطانیہ کا بڑا حصہ خشک سالی کی زد میں ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں یہ پانچواں موقع ہے جب یورپ میں اوسط سے بھی کم بارش ہوئی ہے۔ اس وقت یورپ کا 10 فیصد حصہ ہائی الرٹ پر ہے۔ ادھر تقریباً پورے پاکستان اور ہندوستان کے کچھ حصوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ان قدرتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا ہم جائزہ تو لیتے ہیں، امداد اور راحت رسانی کے کام میں بڑی دل جمعی سے مصروف ہو جاتے ہیں، مگر مجموعی طور پر ہم قدرتی وسائل اور ذخائر کو بچانے کے لیے کیا کررہے ہیں۔

پانی قدرت کی وہ نعمت ہے، جس پر جاندار زندگیوں سے لے کر بے جان اشیاء تک انحصار کرتی ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں پانی ایک بنیادی ضرورت ہے، مگر یہی پانی اگر ہماری تباہی کا سبب بن جائے تو اس بارے میں انسانوں کو بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتی آبادی، ذخائر میں کمی، ایک ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ پانی کے مسائل اور آب پاشی وغیرہ کے انسانی نظام کے سبب یہی پانی کبھی رحمت تو کبھی زحمت بن جاتا ہے۔

فطرت سے چھیڑ چھاڑ کو بڑھاوا

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اسی وقت تک انسان کی نسل اور ان کی آنے والی نسلیں باقی رہیں گی جب تک وہاں کے درخت، پہاڑ، جنگل اور پودے محفوظ ہیں، لیکن بہت زیادہ اور جلد سے جلد کمانے کی جو پیاس گزشتہ کچھ برسوں میں مسلسل بڑھی ہے اس سے متاثر ہوئے لوگوں کے لیے تمام خوبصورت ساحلی اور پہاڑی علاقے سیاحوں کو دنیا بھر سے لا کر سنہرے انڈے دینے والی مرغیوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومتیں بھی سیاحت کو فروغ دینے کے نام پر فطرت سے چھیڑ چھاڑ کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔

پوری دنیا کے ماحولیات پر منڈلا رہے سنگین خطروں سے انجان یا لاپرواہ سیاحوں کے لیے دور دراز کے ساحلی یا ہمالیائی علاقے، سر سبز و شاداب جنگل صرف سیاحتی مقام بن گئے ہیں۔ ہندوستان کی اگر بات کریں تو وادی کیدارناتھ کی تباہی، ہر سال ممبئی جیسے شہرکا ڈوبنے کی حد تک سیلاب سے جدوجہد کرنا، برسات کے موسم میں ہماچل پردیش، جموں کشمیر، اتراکھنڈ سے لے کر کیرالہ تک تباہناک سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات سامنے ہیں۔ آخر ماحولیات کی اس تبدیلی اور اس کے تباہ کن اثرات کا ذمہ دار کون ہے؟

اس سلسلہ میں دنیا بھر میں ہونے والے اجلاس اور گفت و شنید سے ہم سب واقف ہیں۔ اس کی وجوہات اور اسباب بھی بار بار سامنے آتے رہتے ہیں، مگر اصل زندگی میں ہر انسان ایک دوسرے کو، ایک حکومت دوسری حکومت کو، ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔

گوٹیرس پاکستان کا دورہ کریں گے

فی الحال پاکستان میں غیر معمولی سیلاب سے ہونے والی تباہی نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔ مختلف ممالک نے اظہار افسوس اور امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھی اہم قدم اٹھایا ہے۔ وہ ذاتی طور پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔ گوٹیرس نے پاکستان کے لیے 160 ملین ڈالر کی امداد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس سال یورپ اور چین میں غیر معمولی گرمی اور پاکستان میں ہونے والے رجحان کو اس تباہی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہمالیائی گلیشیئرس کے پگھلنے کی وجہ سے پاکستان میں بہنے والے دریاؤں میں اچانک غیر معمولی پانی آ گیا، جس کی وجہ سے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا۔

سیلابی صورتحال نے پورے ملک میں تباہی مچا دی

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی ایک انتہائی بحرانی کیفیت اور حالات سے دوچار ہے۔ یہاں پہلے ہی سیاسی اور معاشی حالات انتہائی ناگفتہ تھے کہ مانسون کی شدید بارش کے نتیجے میں سیلابی صورتحال نے پورے ملک میں تباہی مچا دی ہے اور اس وقت پاکستان کے تقریباً تمام ہی صوبے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں۔ اس قدرتی آفت کی سنگینی میں روز بروز اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ کئی کروڑ افراد سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہواہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ جو مناظر سامنے آرہے ہیں وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایک طرف جہاں ایک ہزار سے زیادہ انسان پانی کی موجوں کی نذر ہوگئے، وہیں لاکھوں ایکڑ زرعی زمینیں بھی سیلاب کے پانی سے کیچڑ میں بدل گئی ہیں۔ آشیانوں کی بربادی کے دلدوز وہ مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں کچے گھر خس و خاشاک کی مانند بہتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کو تقریباً 4 بلین ڈالر کا نقصان

ماضی میں زلزلوں کی وجہ سے عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی رہی ہیں، مگر انہی عمارتوں کا خس و خاشاک کی طرح بہہ جانا شاید سونامی کے دوران بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ عمارتوں کے اِس طرح بہنے سے پاکستان کے سیلاب کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کم و بیش 2 لاکھ مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو تقریباً 4 بلین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے مسائل کی طویل فہرست میں ماحولیاتی تبدیلی بنیادی اور سرِ فہرست مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی پرفارمنس انڈیکس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں آب وہوا کا معیار انتہائی خراب ہے، اس کی اہم وجوہات جنگلات کی کٹائی، گاڑیوں کے نقل و حمل سے کاربن کا خارج ہونا، آبادی میں ہونے والا اضافہ، اور فیکٹریوں سے نکلنی والی زہریلی گیسز ہیں جو نہ صرف انسانی زندگی اور صحت کو خطرات لاحق کرتی ہیں، بلکہ قدرتی آفات کا بھی سبب بنتی ہیں۔ پلاسٹک بیگ کا استعمال، کھلے کچرے کے ڈھیر، بے ہنگم تعمیرات، گندے پانی کا بھاؤ، بنجر زمینیں، ذخائر میں کمی، اور غیر ذمہ دارانہ رویہ پاکستان میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا کھلا ثبوت ہیں۔

پاکستان بارش اور سیلاب کی زد میں

پاکستان میں ہونے والی اموات میں 23 فیصد حصہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کا ہے، جس میں 36 فیصد کم عمر بچے شامل ہیں۔ ان اموات کی وجہ صرف قدرتی آفات نہیں، بلکہ اس کی وجہ بے شمار کوتاہیاں ہیں۔ فی الحال پاکستان بارش اور سیلاب کی زد میں ہے، مگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق وہ ممالک جو پانی کی کمی کا شکار ہیں پاکستان کا شمار اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔

بہر حال قوموں کی زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں اور جو قومیں ان سے سبق حاصل کرتی ہیں اور قدرت کے اشاروں کو سمجھ لیتی ہیں وہ ترقی و استحکام کے راستے پر گامزن ہو جاتی ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمیں درپیش چیلنجز کی وسعت اور سنگینی کا مکمل علم اور شعور ہو۔ لہذا ہم نے اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں کوتاہی سے کام لیا تو نتائج ناقابل تصور حد تک ہولناک ہوسکتے ہیں۔ بقول شاعر؎

اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

مودی حکومت ملک میں نفرت اور خوف پیدا کر رہی ہے: راہل

0

مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگ اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری کا خوف ہے

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں بے روزگاری اور مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے حکومت نے مخالفانہ اقدامات کرکے خوف اور نفرت پھیلانے کا کام کیا ہے۔

اتوار کو یہاں رام لیلا میدان میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پارٹی کی "ہلا بول” ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ آج ملک کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں۔ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آئی ہے، ملک میں نفرت اور غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد نفرت مسلسل پھیل رہی ہے لیکن حکومت اسے روک نہیں رہی ہے۔ اسی طرح ملک میں خوف کی فضا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے آنے کے بعد سے ایک نہیں کئی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگ اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری کا خوف ہے۔

کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ یہ خوف کم نہیں ہو رہا ہے، یہ خوف بڑھتا جارہا ہے، اس کی وجہ سے ہندوستان میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ نفرت سے لوگ تقسیم ہوتے ہیں، ملک تقسیم ہوتا ہے، ملک کمزور ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری نے سب سے زیادہ مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ملک جن مشکلات سے گزر رہا ہے اس کا سارا کریڈٹ بی جے پی کی غیر ذمہ دار حکومت کو جاتا ہے۔ آج ملک چاہ کر بھی اپنے نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکے گا۔ جو بے روزگاری آج آپ دیکھ رہے ہیں، آنے والے وقتوں میں مزید بڑھے گی۔

کشن گنج میں بھی چلا بلڈوزر، معمول کی کارروائی یا بی جے پی کا مشن سیمانچل؟

0
کشن گنج میں بھی چلا بلڈوزر، معمول کی کارروائی یا بی جے پی کا مشن سیمانچل؟
کشن گنج میں بھی چلا بلڈوزر، معمول کی کارروائی یا بی جے پی کا مشن سیمانچل؟

بلڈوزر بی جے پی سے منتخب بہار ایم ایل سی ڈاکٹر دلیپ جیسوال کے ایم جی ایم میڈیکل کالج کے سامنے چلا، بی جے پی ضلع صدر سوشانت گوپ کا گھر محفوظ

کشن گنج میں ایم جی ایم میڈیکل کالج کے سامنے جمعہ کو درجنوں دکانوں پر بلڈوز چلا دیا گیا۔ نگر پریشد کی جانب سے کی گئی کارروائی سے ان لوگوں میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے، جنہوں نے سرکاری زمین پر مبینہ طور پر غیر قانونی آباد کاری کر رکھی ہے۔

بلڈوزر چلانے کی یہ کارروائی جمعہ کے روز ماتا گجری میڈیکل کالج (ایم جی ایم) کے سامنے نگر پریشد نے کی تھی۔ ایم جی ایم میڈیکل کالج اتر دیناج پور روڈ پر واقع ہے جس کے سامنے بتایا جارہا ہے کہ سرکاری زمین پر غیر قانونی مکانات اور دکانیں بنی ہوئی تھیں۔

دوسری طرف بلڈوزر چلانے کی اس کارروائی کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس کارروائی کو وزیر داخلہ امت شاہ کے آئندہ (اسی ماہ) دورۂ کشن گنج سے جوڑکر دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے ضلع صدر سوشانت گوپ کا گھر بھی ہے، جس پر بلڈوزر کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ اپنے کشن گنج دورے کے دوران ایم جی ایم کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کرنے والے ہیں، جس کے سامنے بلڈوزر چلا کر تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایم جی ایم میڈیکل کالج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دلیپ جیسوال ہیں، جو بی جے پی سے بہار کی قانون ساز کونسل کے رہن بھی ہیں۔

بلڈوزر کی اس کارروائی کو کئی وجوہات کی بنا پر خوف کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، ان میں سے چند اہم یہ ہیں:

  • اتر پردیش سے لے کر دہلی اور دیگر کئی ریاستوں تک بی جے پی کی زیر حکومت کسی بھی ریاست یا انتظامیہ میں زمینی تجاوزات اور غیرقانونی تعمیر و قبضہ کو ہٹانے کے لیے حالیہ دنوں میں بلڈوزر چلانے والی سخت موقف اختیار کرنے والی جماعت کے طور پر معروف ہوگئی ہے۔
  • بلڈوزر کی یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیر داخلہ امت شاہ اسی ماہ شہر (کشن گنج) کا دورہ کرنے والے ہیں۔
  • بلڈوزر چلانے کی یہ کارروائی ایم جی ایم میڈیکل کالج کے سامنے کی گئی ہے جس کے مالک اور ڈائریکٹر ڈاکٹر دلیپ جیسوال ہیں اور جو بی جے پی سے بہار کے ایم ایل سی ہیں۔
  • اطلاعات کے مطابق، بی جے پی کی مرکزی قیادت سیمانچل کے راستے بہار میں اپنی سیاسی رسائی حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور ایک ماہ کے اندر کئی مرکزی وزراء کا یکے بعد دیگرے سیمانچل کا دورہ اس بات کی نشاندہی کررہی ہے۔
  • مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی، قومی کمیشن برائے شیڈول کاسٹس کی رکن انجو بالا کے بعد، وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے کا ایک ہفتے کے اندر سیمانچل کا دورہ ہو چکا ہے۔
  • ذرائع کے مطابق، ستمبر کے مہینے میں پورنیہ میں وزیر داخلہ امت شاہ ایک جلسہ عام کو خطاب کرنے والے ہیں۔
  • وزیر داخلہ امت شاہ کے جلسہ عام کو بہار میں اپنی مخصوص سیاسی تحریک کے آغاز کو طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں وزیر داخلہ امت شاہ 23 ستمبر کو ایک جلسہ عام میں شرکت کریں گے وہیں وزیر داخلہ 24 ستمبر کو کشن گنج میں بھی قیام کریں گے۔ اور ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ جناب امت شاہ یہاں سے مشن بہار شروع کریں گے۔

امت شاہ کے آنے کی وجہ سے بلڈوزر کی کارروائی

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امت شاہ کے آئندہ کشن گنج دورہ کی وجہ سے بلڈوزر کی کارروائی سے کشن گنج ضلع انتظامیہ نے تعمیری تجاوزات ہٹانے کے بہانے سیکڑوں غریبوں کے گھر اجاڑ دیے ہیں اور روزی روٹی کے واحد ذریعہ پر بلڈوزر چلا دیے ہیں۔

حالانکہ یہ مہم آج سنیچر کے روز روز بھی جاری رہی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعمیری تجاوزات کرنے والوں کو 25 اگست کو نوٹس دے کر زمین خالی کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس کے بعد 31 اگست کو بھی بذریعہ لاؤڈ اسپیکر اس بات اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود سرکاری اراضی پر تجاوزات کو خالی نہیں کیا گیا تھا۔ جمعہ کے روز موسم خراب ہونے کے باوجود شہر کا انتظامیہ بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ پہنچا اور کارروائی کرتے ہوئے تمام دکانوں کو مسمار کر دیا۔

چند لوگ اپنی دکانوں سے سامان ہٹانے کے لئے مہلت مانگتے ہوئے بھی نظر آئے لیکن انتظامیہ نے ایک نہیں سنی۔ یہ کارروائی نگر پریشد کے ایگزیکٹو آفیسر دیپک کمار اور سی او سمیر کمار کی نگرانی میں کی گئی۔ کارروائی سے متعلق گہماگہمی اور شش و پنج کافی دیر تک جاری رہا۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تحفظ کے تئیں انتظامیہ کی بے رخی پر اخترالایمان نے سڑکوں پر اترنے کی دی دھمکی

ہائی کورٹ کے حکم پر ہوئی کارروائی

نگر پریشد کے ایگزیکٹو آفیسر دیپک کمار کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ہائی کورٹ کے حکم پر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکندر سنگھ نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ایس ڈی ایم کو تعمیل کی معلومات کے لیے طلب کیا تھا۔ تجاوزات سے خالی کرانے کے لیے ایس ڈی ایم امیتابھ کمار گپتا نے چھ رکنی ٹیم تشکیل دی تھی اور سرکاری اراضی کو بلا تاخیر خالی کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔

سی او سمیر کمار کے مطابق آج ہفتہ کو دوسرے دن بھی کھگرہ میلہ گیٹ سے سرکٹ ہاؤس تک کی تجاوزات کو خالی کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ لوگوں کو مناسب اطلاع دے دی گئی ہے۔

سرکاری سڑک پر بنائے گئے مکان کی شکایت پر کارروائی

ہندی روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق ایم جی ایم کے سامنے کاروائی کرتے ہوئے ٹیم دلاور گنج وارڈ نمبر 10 پہنچی۔ بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ جے سی بی گاڑیوں کے قافلے کو دیکھ کر آس پاس کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی بھاسکر مشرا نے نگر پریشد میں شکایت درج کرائی تھی کہ سرکاری سڑک 20 فٹ چوڑی ہے۔ لیکن لوگوں کی جانب سے سڑک پر مکانات و دکان بنانے کی وجہ سے سڑک سکڑ کر آٹھ فٹ رہ گئی ہے۔ شکایت کی تصدیق پر الزامات کے درست ہونے کے بعد ٹیم کاروائی کرنے پہنچ گئی۔

حکام کے مطابق کئی لوگوں نے سرکاری سڑک پر گھر اور گیراج بنا رکھے تھے۔ این پی کے ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ اسے اب ہٹا دیا جائے گا۔ تحریری طور پر سات دن کا وقت دے کر این پی کے ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ اگر وقت پر سرکاری اراضی خالی نہیں کرائی گئی تو انتظامیہ نہ صرف کاروائی کرے گا بلکہ مکان گرانے پر آنے والے اخراجات کی رقم بھی وصول کرے گا۔

بی جے پی کا مشن سیمانچل

کشن گنج ضلع میں بی جے پی کی حالت کافی خستہ ہے۔ ایم جی ایم میڈیکل کالج کے ڈاکٹر دلیپ جیسوال کے علاوہ جو یہاں سے بی جے پی کے واحد ایم ایل سی ہیں، یہاں سے نہ تو بی جے پی کا کوئی ایم ایل اے ہے اور نہ ہی کوئی ایم پی۔ کشن گنج ضلع کی 4 میں سے 3 اسمبلی سیٹوں پر آر جے ڈی (اے آئی ایم آئی ایم کے دو ایم ایل اے) اور کانگریس کا قبضہ ہے، جب کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں جناب نریندر مودی کی زبردست لہر کے باوجود کانگریس کے ڈاکٹر محمد جاوید نے کشن گنج لوک سبھا سیٹ جیت لی تھی۔ کشن گنج پورے بہار میں عظیم اتحاد (مہاگٹھ بندھن) کی واحد جیتنے والی لوک سبھا سیٹ ہے۔

سیمانچل کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے

حال ہی میں مغربی بنگال کے کوچ بہار میں منعقد ایک پروگرام میں بی جے پی کے ایک لیڈر نے سیمانچل کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنانے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ اس پروگرام میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک بھی موجود تھے۔ نوبھارت ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک نے زوردار تالیاں بجا کر اس مطالبے کی حمایت کی تھی۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی بنگال کے مرشد آباد سے لے کر شمالی بنگال تک کئی ایم ایل اے اور ایم پی ان علاقوں کو یونین ٹیریٹری بنانے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر مستقبل میں ان علاقوں کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا جاتا ہے تو بہار کے پورنیہ کے ساتھ ساتھ کشن گنج بھی اس سے منسلک ہو جائے گا۔ اس لیے پہلے ہی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے اگلے دورۂ کشن گنج کے دوران بھی یہ ایک اہم مسئلہ ہو سکتا ہے۔

کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ

میانمار: آنگ سان سوچی کو تین سال کی ’قید با مشقت‘ کی سزا

0
میانمار: آنگ سان سوچی کو تین سال کی ’قید با مشقت‘ کی سزا
میانمار: آنگ سان سوچی کو تین سال کی ’قید با مشقت‘ کی سزا

ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ بند عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی حالیہ سزا کے بعد آنگ سان سوچی کو مجموعی طور پر 20 سال جیل کی قید کا سامنا کرنا پڑے گا

ینگون: میانمار کی فوجی عدالت نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کو 2020 کے انتخابات میں انتخابی دھاندلیوں کے الزام میں جمعہ کے روز ‘سخت مشقت کے ساتھ’ 3 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ بند عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی حالیہ سزا کے بعد انہیں مجموعی طور پر 20 سال جیل کی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں سخت مشقت کے ساتھ 3 سال قید کی سزا سنائی گئی، 77 سالہ آنگ سان سوچی کی صحت اچھی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ان کے وکیل اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال بغاوت کے بعد سے نظربند، آنگ سان سوچی کو پہلے ہی ایک بند عدالت نے بدعنوانی اور دیگر الزامات کے الزام میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر ون مائینٹ، جن پر اسی الزام کا مقدمہ چل رہا تھا، ان کو بھی تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فوج نے نومبر 2020 کے انتخابات کے بڑے پیمانے پر دوران ووٹوں کی دھوکا دہی کا الزام لگایا، جس میں آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ البتہ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا تھاکہ انتخابات بڑی حد تک آزاد اور منصفانہ تھے۔

فوج نے اس کے بعد سے انتخابات کا نتیجہ منسوخ کر رکھا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ووٹروں کی دھوکہ دہی کے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ واقعات کو بے نقاب کیا ہے۔ گزشتہ ماہ فوج کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے کہا تھا کہ فوج آنگ سان سوچی کے ساتھ ‘نرم’ رویہ اختیار کر رہی ہے اور ان کے خلاف ‘زیادہ سنجیدہ اقدامات’ کر سکتی تھی۔

سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ گراوٹ

0
سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ گراوٹ
سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ گراوٹ

سینسیکس اور نفٹی گزشتہ روز کی تیزی گنواتے ہوئے آج ایک فیصد سے زیادہ گر گئے

ممبئی: دنیا کے اقتصادی سست روی کی طرف جانے کے خطرے اور عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کے خوف سے غیر ملکی بازاروں میں گراوٹ سے مایوس سرمایہ کاروں کی مقامی طور پر توانائی، آئی ٹی، ٹیک، دھاتوں، تیل اور گیس اور پاور سمیت تیرہ گروپوں میں فروخت ہونے کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی گزشتہ روز کی تیزی گنواتے ہوئے آج ایک فیصد سے زیادہ گر گئے۔

بی ایس ای کا تیس شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 770.48 پوائنٹس کی کمی سے 59 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 58766.59 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 216.50 پوائنٹس گر کر 17542.80 پوائنٹس پر آگیا۔ تاہم بڑی کمپنیوں کے برعکس، بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں میں اضافہ جاری رہا۔ مڈ کیپ 0.57 فیصد بڑھ کر 25,554.25 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.48 فیصد مضبوط ہوکر 28,789.30 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3578 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1467 فروخت جبکہ 1958 میں خریداری ہوئی اور 153 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 38 کمپنیوں میں اضافہ ہوا جبکہ باقی 12 میں گراوٹ رہی۔

بین الاقوامی سطح پر گراوٹ کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 1.44، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.16، جاپان کا نکی 1.53، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.79 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.54 فیصد گر گیا۔

اس دباؤ کے تحت بی ایس ای پر 13 کمپنیوں میں فروخت ہوئی جبکہ باقی چھ میں اضافہ ہوا۔ بیسک میٹریلس 0.49، انرجی 1.99، ایف ایم سی جی 0.69، فنانس 0.73، ہیلتھ کیئر 0.87، آئی ٹی 1.68، یوٹیلٹیز 1.00، بینکنگ 0.61، میٹلز 1.56، آئل اینڈ گیس 1.77، پاور 1.16 فی صد اور ٹیک گروپ 1.41 فیصد گرے۔

ایغور کے معاملے پر اقوام متحدہ کی چین پر تنقید، رپورٹ جاری

0
ایغور کے معاملے پر اقوام متحدہ کی چین پر تنقید، رپورٹ جاری
ایغور کے معاملے پر اقوام متحدہ کی چین پر تنقید، رپورٹ جاری

اقوام متحدہ نے اپنی انتہائی منتظر رپورٹ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی کا اندازہ لگایا ہے جس کی چین تردید کرتا ہے

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے چین پر سنکیانگ صوبے میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی پر "انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں” کا الزام لگایا ہے اقوام متحدہ نے اپنی انتہائی منتظر رپورٹ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی کا اندازہ لگایا ہے جس کی چین تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ چین فوری طور پر "تمام افراد کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔” ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ چین کے کچھ اقدامات "بین الاقوامی جرائم کمیشن بشمول انسانیت کے خلاف جرائم” کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اقوام متحدہ نے کہا کہ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت نے کتنے لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا تخمینہ ہے کہ شمال مغربی چین کے سنکیانگ علاقے کے کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ چین نے اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں رپورٹ جاری نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ چین نے اسے مغربی ممالک کی طرف سے منظم "تماشہ” قرار دیا تھا۔

دوسری جانب، تفتیش کاروں نے کہا کہ انھوں نے تشدد کے "معتبر ثبوت” کا انکشاف کیا ہے، جو ممکنہ طور پر "انسانیت کے خلاف جرائم” کے زمرے میں آتے ہیں۔

ممتا بنرجی کا پولیس سروس کی حد 27 سے بڑھا کر 30 سال کرنے کا اعلان

0
ممتا بنرجی کا پولیس سروس کی حد 27 سے بڑھا کر 30 سال کرنے کا اعلان
ممتا بنرجی کا پولیس سروس کی حد 27 سے بڑھا کر 30 سال کرنے کا اعلان

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم نے پولیس سروس کی حد کو بڑھا کر 27 سال سے 30 سال کر دیا ہے

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس سروس کی حد 27 سے بڑھا کر 30 سال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کل ریاست میں یوم پولیس کے طور پر منایا جائے گا۔ اس سے قبل ممتا بنرجی نے یہ بڑا اعلان کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ گزشتہ یوم پولیس کے موقع پر مجھے میمورنڈم دیا گیا تھا۔ ہماری حکومت بڑے اور چھوٹے افسران کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتی ہے۔ ہم نے بہت سے فیصلے لیے ہیں۔ یہ فیصلہ پوری ریاست کے لیے ہے۔ اس کے بعد ممتا نے کہا کہ ہم نے عمر کی بالائی حد کو بڑھا کر 27 سال سے 30 سال کر دیا ہے۔ وہ کافی عرصے سے عمر میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ساتھ ہی اگر ڈیوٹی کے دوران کسی کی موت ہو جاتی ہے تو اس کے خاندان کو بھی فائدہ پہنچایا جائے گا۔ انہیں ان کے زمرے کے مطابق ملازمت ملے گی۔

اس سے پہلے کلکتہ پولیس کے ڈرائیوروں کو 11,500 اور ریاستی پولیس کے ڈرائیوروں کو 13,500 ملتے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے حکم دیا ہے کہ کلکتہ پولیس کے 13,500 اور ریاستی پولیس 15,000 ہوگی۔ اس کے علاوہ کنٹریکٹ ڈرائیور کے طور پر کام کرنے والوں کو بھی کچھ مواقع دیئے جائیں گے اگر وہ آنے والے دنوں میں ٹیسٹ میں شریک ہوں گے۔

اگر مجھے علم ہوتا کہ سیاست اتنی گندی ہے تو کبھی بھی سیاست میں نہیں آتی: ممتا بنرجی

0
اگر مجھے علم ہوتا کہ سیاست اتنی گندی ہے تو کبھی بھی سیاست میں نہیں آتی: ممتا بنرجی
اگر مجھے علم ہوتا کہ سیاست اتنی گندی ہے تو کبھی بھی سیاست میں نہیں آتی: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے اپوزیشن جماعوں کے پروپیگنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ یہاں رہنے کیلئے نہیں آئی ہے اور زندگی بھر جان بوجھ کر کوئی غلط کام نہیں کیا ہے

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج سیاست کی سطح نیچے گرنے پر افسوس کا اظہار کرتے کہا کہ میں سماجی خدمت کیلئے سیاست میں آیا تھا، ایسی گندی سیاست میں رہنا میرے لئے قابل برداشت نہیں ہے، اگر مجھے اس طرح کی سیاست کا علم ہوتا تو کبھی بھی سیاست میں نہیں آتی۔

ممتا بنرجی نے اپوزیشن جماعوں کے پروپیگنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ یہاں رہنے کیلئے نہیں آئی ہے اور زندگی بھر جان بوجھ کر کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ہم نہ کسی کا کھاتے ہیں نہ پہنتے ہیں۔ میں مچھر کو مارنے سے بھی ڈرتی ہوں۔ لاشوں کی تصویریں دیکھ کر ڈر لگتا ہے۔ ہائی کورٹ میں ہمیں چور اور ڈاکو کہا جاتا ہے۔ بابی حکیم میئر کی حیثیت سے گھنٹوں میں پانی کھڑا رہ کر پانی کی نکاسی کی ہے۔ مگر اسے بھی چور کہا جاتا ہے۔ بکاش رنجن بھٹا چاریہ جب میئر تھے ان کی مدت میں پیدائش کا سرٹیفیکٹ بڑے پیمانے پر جعلی طریقے سے جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لیموں نچوڑنے پر کڑوا ہوتا ہے۔ اگر میرے خاندان کو ملوث کیا گیا تو میں قانونی جنگ کروں گی۔ لیکن یہاں بھی بی جے پی ناک بھوں چڑھا رہی ہے کہ مجھے قانون کا احترام ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ مجھے بہت سے لوگ طعنہ دے رہے ہیں

ممتا بنرجی نے کہا کہ مجھے بہت سے لوگ یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ میں نے بی جے پی سے سیٹنگ کرلی ہے۔ یہ لوگ بول رہے ہیں جنہوں نے کبھی کبھی جد و جہد نہیں کی ہے۔ میرا سر سے پاؤں تک پورا جسم زخموں سے بھرا ہے۔ اس وقت میں نے کوئی معاہدہ نہیں کیا اب کیوں۔

آپ کو ہمارے خاندان کا سارا حساب چاہیے؟ ہم ہر چیز کا حساب لگاتے ہیں۔ جن کا رنگ کوئلہ ہے وہ زیادہ کوئلہ جلاتے ہیں۔ تم اسے سنبھال کیوں نہیں سکتے؟ سی آئی ایس ایف، بی ایس ایف انچارج ہیں۔ عدالتی نظام ہی آخری راستہ ہے۔ کیونکہ میں اس پر یقین رکھتی ہوں، میں اب بھی کہتی ہوں کہ وہ جگہ ختم نہیں ہونی چاہیے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ میں نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ اگر آپ کو معلوم ہو کہ میں نے کوئی چیز غیر قانونی طریقے سے لی ہے آپ میری اجازت کے بغیر فوری طور پر پوری کریں۔

ممتا بنرجی پر بی جے پی کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کا الزام

پارتھو چٹرجی کی گرفتاری کے بعد ممتا بنرجی کے دہلی کے دوران وزیر اعظم مودی سے ملاقات، اپوزیشن جماعتوں سے دوری اور نائب صدر کے انتخاب میں حصہ نہیں لینے کے فیصلے کے بعد سے ہی ممتا بنرجی پر بی جے پی کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کے الزام لگائے جارہے ہیں۔

کابینہ کی میٹنگ کے بعد انہوں نے سیٹنگ کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘بہت سے لوگ سیٹنگ کے لیے بیٹھتے ہیں۔ میں سیٹ نہیں کرتی کیونکہ میں اس کام کے لیے موزوں نہیں ہوں۔ میں 34 سال میں سیٹنگ کر سکتی تھی۔ جب میں کانگریس میں تھی تو سی پی ایم نے اسے سر سے پاؤں تک توڑ دیا۔’

وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت ریاست کو واجب الادا رقم ادا نہیں کر رہی ہے۔ وہ اس بارے میں پوچھنے کے لیے وزیر اعظم کے پاس گئے۔

ممتا نے کہا، ‘اب صرف ایک ٹیکس ہے۔ جی ایس ٹی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والا سارا پیسہ کہاں گیا؟ پٹرول ڈیزل کی قیمت کم ہوئی تو آپ نے قیمت بڑھا دی۔ ہمیں وہ رقم نہیں دے رہے جس کے ہم مستحق ہیں۔ جب میں وہ رقم مانگنے وزیر اعظم کے پاس جاتی ہوں تو بی جے پی کے کچھ لیڈران رقص کرنے لگتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران ممتا بنرجی سابق ریاستی وزیر سبرتو مکھرجی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں آج بھی ان کی تصویر دیکھ کر چونک جاتی ہوں، انہوں نے پوری زندگی سیاست کیلئے وقف کردی اور لوگوں کی خدمت کی مگر ایسے شخص کو بھی نہیں بخشا گیا۔

روپے کو 39 پیسے مضبوطی ملی

0
روپے کو 39 پیسے مضبوطی ملی
روپے کو 39 پیسے مضبوطی ملی

موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک میں مجموعی گھریلو مصنوعات کی نمو میں اضافے کی توقعات پر چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی نے آج 2.5 فیصد سے زیادہ چھلانگ لگائی

ممبئی: دنیا کی اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 20 سال کی بلند ترین سطح سے نیچے اترنے اور گھریلو شیئر مارکیٹ میں واپس آئی تیزی کی بدولت انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ آج 39 پیسے بڑھ کر 79.52 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔ اسی وقت آخری کاروباری دن روپیہ سات پیسے گر کر 79.91 روپے فی ڈالر پر آگیا تھا۔

شروعاتی کاروبار میں روپیہ ایک پیسہ پھسل کر 79.92 روپے فی ڈالر پر کھلا اور یہ اس کی دن کی کم ترین سطح بھی تھی۔ سیشن کے دوران فروخت کی وجہ سے یہ 79.43 روپے فی ڈالر کی اب تک کی بلند ترین سطح کو پر پہنچ گیا۔ آخر کار یہ گزشتہ روز کے 79.91 روپے فی ڈالر کے مقابلے میں 39 پیسے اضافے کے ساتھ 79.52 روپے فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک میں مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی نمو میں اضافے کی توقعات پر چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی نے آج 2.5 فیصد سے زیادہ چھلانگ لگائی۔ اس سے روپے کو مضبوطی ملی۔