جمعرات, اپریل 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 213

بی جے پی کی تحریک شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس شرانگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی

0
بی جے پی کی تحریک شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس شرانگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی
بی جے پی کی تحریک شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس شرانگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی

بی جے پی پر ایجی ٹیشن کے نام پر ’افراتفری‘ پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ممتا نے کہا کہ ”پولیس اگر چاہتی تو گولی چلا سکتی تھی۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ یہ مطلوب نہیں ہے۔ پولیس کافی حد تک روکے ہوئے تھی۔ تاہم انتظامیہ بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج بی جے پی کے گزشتتہ دنوں کے احتجاج کے طریقے کار کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جس طریقے سے حالات پید ا کئے اور جس طریقے سے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اس کو روکنے کیلئے پولیس گولی بھی چلاسکتی تھی۔ لیکن ان کی حکومت کسی بھی تحریک میں رخنہ ڈالنے کے حق میں نہیں ہے۔ مگر بی جے پی نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ پولیس کافی منظم ہے۔

بدھ کو ممتا نے مشرقی مدنی پور کے تملوک میں ایک انتظامی میٹنگ میں شرکت کی۔ مشرقی مدنی پور کے کانتی سے ہی اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کا تعلق ہے۔ انہیں نوبنو مہم سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

منگل کو بی جے پی کی نوانا مہم کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا نے کہا کہ میں تحریک میں رکاوٹ ڈالنے کے حق میں نہیں ہوں۔ لیکن تحریک کے نام پر تھیلوں میں بم لائے گئے، بندوقیں لائی گئیں۔ لوگوں کو دوسری ریاستوں سے لاکر ہوڑہ اسٹیشن پر ریلوے کی محفوظ پناہ گاہ میں چھپا دیا گیا۔ بی جے پی نے بدمعاشی کے لیے نوانا مہم شروع کی تھی۔

منگل کو بی جے پی کی مہم کو پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا۔ ہوڑہ، سنترا گاچھی اور کالج اسٹریٹ میں بی جے پی کی تین ریلیوں اور بعد میں لال بازار میں چوتھی ریلی کو بھی روک دیا گیا۔ بی جے پی کا کوئی جلوس نوبنو کے قریب نہیں پہنچ سکا۔

بی جے پی قیادت نے اس سلسلے میں کلکتہ پولیس پر غیر ضروری جبر کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہاں تک الزام لگایا کہ پولیس نے ریاستی وزیر اعلیٰ اور پولیس وزیر ممتا کے کہنے پر بی جے پی لیڈروں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے بدھ کو اس کا جواب دیا کہ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے دیوجیت (کلکتہ پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر دیوجیت چٹرجی کو کیسے مارا۔ جو زخمی ہے اور ایس ایس کے ایم اسپتال کے ووڈ برن وارڈ میں زیر علاج ہے)۔ اس کا آپریشن ہونا چاہیے! لیکن اس کے بعد بھی پولیس نے گولی نہیں چلائی۔

بی جے پی پر ایجی ٹیشن کے نام پر ’افراتفری‘ پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ممتا نے کہا کہ ”پولیس اگر چاہتی تو گولی چلا سکتی تھی۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ یہ مطلوب نہیں ہے۔ پولیس کافی حد تک روکے ہوئے تھی۔ تاہم انتظامیہ بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ پوجا سے پہلے نوبنو مہم نے کاروبار کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ درگا پوجا قریب ہے اس پوجا سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ وہ بی جے پی کی مہم سے متاثر ہوئے ہیں۔ پوجا بازار کو تباہ کر دیا گیا ہے۔’ ممتا نے کہا کہ بی جے پی کی تحریک نے بھی سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی ہے اور میں کسی بھی طرح سے سرکاری کام میں رکاوٹ برداشت نہیں کروں گی۔

اترپردیش میں الکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار، مفت رجسٹریشن کی تجویز

0
اترپردیش میں الکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار، مفت رجسٹریشن کی تجویز
اترپردیش میں الکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار، مفت رجسٹریشن کی تجویز

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر تیار مسوہ پالیسی کے تحت الکٹرک گاڑی کی کل قیمت میں حکومت کی جانب سے 15 فیصد کی رعایت کی تجویز ہے

لکھنؤ: اس دہائی کے آخر تک ایندھن سے چلنی والی گاڑیوں کی جگہ پوری طرح سے الکٹرک گاڑیوں کا استعمال یقینی بنانے کے لئے ہندوستان حکم کے ہدف کو حاصل کرنے میں قائدانہ کردار نبھانے کے لئے اترپردیش حکومت نے الکٹرک گاڑی پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔

آفیشیل ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ جلد ہی مجوزہ پالیسی کو نافذ کرنے سے پہلے کی کارروائی پوری کر کے حکومت کے ذریعہ اسے عمل میں لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر تیار مسوہ پالیسی کے تحت الکٹرک گاڑی کی کل قیمت میں حکومت کی جانب سے 15 فیصد کی رعایت کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ حکومت الکٹرک گاڑیوں کے رجسٹریشن پر بھی کوئی فیس نہیں لے گی۔ قابل ذکر ہے کہ گاڑی کی قیمت میں 15 فیصدی کی رعایت اور مفت رجسٹریش کی تجویز کو اگر منظوری ملتی ہے تو اس سے گاڑی کی بازار قیمت میں کافی کمی آ جائے گی۔ ایک افسر نے بتایا کہ الکٹرک گاڑیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے حکومت نے ممکنہ صارفین کو ان گاڑیوں کے استعمال سے متعلق سبھی سہولیات دستیاب کرانے پر دھیان دیا ہے۔

الکٹرک گاڑی کی پالیسی

انہوں نے بتایا کہ ان میں قیمت اور چارجنگ سمیت دیگر انفراسٹرکچر سہولیات کا نیٹ ورک تیار کرنا شامل ہے۔ جس سے ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کا استعمال چھوڑنے میں گاڑی چلانے والوں کو پش و پیش کا شکار نہ ہونا پڑے۔ الکٹرک گاڑی کی پالیسی کے مسودے میں اس دہائی کے آخر تک (2030) سے پہلے اگلے 08 سالوں میں الکٹرک گاڑیوں سے جڑی انفراسٹرکچر ضروری سہولیات کو تیار کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

مجوزہ پالیسی میں الکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے لئے چارجنگ پوائنٹ اور سروس سنٹر سمیت دیگر سہولیات کے لئے ایکوفرینڈلی سسٹم تیار کرنے کے لئے 5000 کروڑ روپئے سے زیادہ کی سرمایہ کرنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ اس سے ریاست میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملے گا۔

پالیسی میں چارجنگ اسٹیشن کے لئے شہروں میں ہر 09 کلو میٹر پر اور ایکسپریس وے پر 25 کلو میٹر کی دوری طے کی گئی ہے۔ پالیسی میں ریاستی حکومت نے 2030 تک سبھی سرکاری گاڑیوں کو الکٹرک گاڑی میں تبدیل کرنے کا ہدف طے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی پر بریک، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ ہوئے بند

0
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی پر بریک، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ ہوئے بند
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی پر بریک، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ ہوئے بند

اسٹاک مارکیٹ میں چار دن تک جاری رہنے والی تیزی پر بریک، سینسیکس 224 پوائنٹس اور نفٹی 66 پوائنٹس گراوٹ

ممبئی: عالمی سطح سے منفی اشارے ملنے سے گھریلو سطح پر آئی ٹی، ٹیک، تیل اور گیس جیسے بڑے گروپوں میں فروخت نے آج چار دن تک جاری رہنے والے منافع کو بریک لگا دی اور سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔

بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 224.11 پوائنٹس گر کر 60346.97 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 66.30 پوائنٹس گر کر 18003.75 پر آگیا۔ گراوٹ کا اثر چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں پر بھی نظر آیا، جہاں بی ایس ای مڈ کیپ 0.10 فیصد گر کر 26225.31 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.01 فیصد گر کر 29892.37 پوائنٹس پر آ گیا۔

بی ایس ای پر کل 3611 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 1789 میں کمی جبکہ 1685 بڑھنے میں کامیاب رہیں۔ اس دوران 137 کمپنیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بی ایس ای میں شامل گروپوں سے گراوٹ میں رہنے والوں میں آئی ٹی 3.28 فیصد، ٹیک 2.85 فیصد، آئل اینڈ گیس 0.90 فیصد اور سی ڈی 0.83 فیصد شامل ہیں۔ فائدے میں رہنے والوں میں دھاتیں 1.91 فیصد، بینکنگ 1.28 فیصد، فنانس 0.93 فیصد، بنیادی مواد 1.18 فیصد شامل ہیں۔

افغانستان میں روسی سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء پر عائد کی پابندی

0
افغانستان میں روسی سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء پر عائد کی پابندی
افغانستان میں روسی سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء پر عائد کی پابندی

کابل میں 5 ستمبر کو روسی سفارت خانے کے قونصل خانے کی عمارت کے نزدیک دھماکہ ہوا تھا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گردانہ حملے میں سفارتی مشن کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے

ماسکو/کابل: افغانستان میں روسی سفارت خانے نے منگل کو کہا کہ اس نے ویزا اور دستاویزات کے اجراء پر پابندی عائد کر دی ہے، لیکن وہ پہلے سے منظور شدہ دستاویزات جاری کرنے کے متبادل پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیٹروں سے کہا کہ وہ فی الحال ذاتی طور پر قونصل خانے کے شعبہ میں نہ آئیں۔

سفارت خانے نے کہا کہ روسی شہری ہنگامی صورت حال میں قونصلر امداد کے لیے فون پر رابطہ کر سکتے ہیں: +93-798-023-793

کابل میں 5 ستمبر کو روسی سفارت خانے کے قونصل خانے کی عمارت کے نزدیک دھماکہ ہوا تھا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گردانہ حملے میں سفارتی مشن کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔ وزارت نے کہا کہ روسی سفارت خانہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے جو دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امید کا اظہار کیا کہ حملے کے ذمہ داروں اور مجرموں کو جلد از جلد پکڑ لیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف عالمی محاذ بنانے کی بات کی: اسرائیلی وزیر دفاع

0
اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف عالمی محاذ بنانے کی بات کی: اسرائیلی وزیر دفاع
اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف عالمی محاذ بنانے کی بات کی: اسرائیلی وزیر دفاع

بینی گینٹز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی اور مشترکہ سلامتی کے چینلجز جن میں ایرانی دھمکیاں بھی شامل ہیں کا مقابلہ کرنے کیلئے فومی عالمی متحد محاذ کی تشکیل کی ضرورت کی بھی بات کی

تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں ایران کی دھمکیوں کے خلاف ایک متحدہ بین الاقوامی محاذ تشکیل دینے کی بات کی ہے۔

بینی گینٹز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی اور مشترکہ سلامتی کے چینلجز جن میں ایرانی دھمکیاں بھی شامل ہیں کا مقابلہ کرنے کیلئے فومی عالمی متحد محاذ کی تشکیل کی ضرورت کی بھی بات کی۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں ایرانی وزیر دفاغ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے شام میں فوجی مقامات کو میزائل فیکٹریوں میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران نے یمن اور لبنان میں بھی فوجی صنعتیں بنانا شروع کردی ہیں جن کو روکنا ضروری ہوگیا ہے۔ ”ٹائمز آف اسرائیل” کی رپورٹ کے مطابق بینی گینٹز نے کہا شام میں فوجی تنصیبات لبنان میں حزب اللہ اور خطے میں دوسرے ایرانی دھڑوں کیلئے۔ انھوں نے کہا کہ شام کی فوجی تنصیبات لبنانی حزب اللہ اور خطے میں موجود دیگر ایرانی دھڑوں کے فائدے کے لیے درست نشانہ لینے والے میزائل بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

ایران کی یمن اور لبنان میں جدید صنعتوں کی تعمیر

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے حال ہی میں یمن اور لبنان میں بھی جدید صنعتوں کی تعمیر شروع کی ہے جن کو روکنا ضروری ہے۔ نئی قائم ہونے والی یہ مقامات، جن میں شام کے شمال مغربی شہر ”مصیاف“ کے قریب کا سائنسی تحقیقی مرکز بھی شامل ہیں، اسرائیل اور خطے کیلئے ممکنہ خطرہ ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب شام کی سرزمین کے اندر اور دمشق اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے قریب اہم ایرانی فوجی ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملے بڑھ رہے ہیں۔ان حملوں کا ہدف ایران کی جانب سے ہتھیاروں، گولہ بارود، فضائی اور دفاعی ڈرونز کی شام کو منتقلی اور حما کے قریب مصیاف سمیت کئی شامی شہروں میں گوداموں میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کو روکنا ہے۔

یاد رہے 2011 میں شام کی جنگ کے آعاز سے اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام پر سینکڑوں فضائی حملے کئے ہیں۔

ان حملوں میں شامی فوج کے ٹھکانوں اور ایرانی اور لبنانی حزب اللہ کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل شاذ و نادر ہی شام میں کئے جانے والے اپنے حملوں کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسری طرف ایران بھی شام میں اپنی فوجی موجودگی اور مستحکم پوزیشن کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

‘آپ’ حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال

0
'آپ' حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال
'آپ' حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ گجرات میں اگر آپ کی حکومت بنتی ہے تو وہ گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی سے پاک اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی

احمد آباد: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ گجرات میں اگر آپ کی حکومت بنتی ہے تو وہ گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی سے پاک اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی۔

منگل کو گجرات کے احمد آباد میں ایک پریس کانفرنس میں مسٹر کیجریوال نے گجرات کے لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی کی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ میں پچھلے کئی مہینوں سے گجرات میں گھوم کر یہاں کے لوگوں سے مل رہا ہوں۔

انہوں نے کئی ٹاؤن ہال میٹنگ کرکے تاجروں، صنعت کاروں، وکلاء، کسانوں اور آٹو ڈرائیوروں کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقات کی۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ گجرات میں بہت کرپشن ہے۔ کسی بھی سرکاری محکمے میں پیسے دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نچلی سطح پر بھی بدعنوانی ہے اور حکومت پر بڑے گھپلوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے خلاف کچھ کہتے ہیں تو وہ ڈرانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ اگر گجرات میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ہم ریاست کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ان کی حکومت میں کرپشن میں ملوث ہوا تو سیدھا جیل جائے گا۔ یہ ہم نے پنجاب میں کیا۔ جب ہمارے کسی وزیر نے کوئی اونچ نیچ کی تو اسے سیدھا جیل بھیج دیا گیا۔

اب گجرات کا کوئی پیسہ سوئس بینک میں نہیں جائے گا

ہندوستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی پارٹی نے اپنے وزیر کو اٹھا کر جیل بھیج دیا ہو۔ عوام جو ٹیکس حکومت کو دیتے ہیں اس کی ایک ایک پائی عوام پر خرچ کی جائے گی اور چوری بند ہو جائے گی۔ اب گجرات کا کوئی پیسہ سوئس بینک میں نہیں جائے گا۔ اب گجرات حکومت کا کوئی پیسہ ارب پتیوں میں تقسیم نہیں ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سرکاری دفاتر میں ہر شخص کا ہر کام رشوت دیے بغیر ہوگا۔ کسی کو بھی کام کروانے کے لیے سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم ایسا انتظام کریں گے کہ حکومت کا کوئی ملازم آپ کے گھر آئے اور کام کرے۔ ہم نے دہلی میں اس طرح کے انتظامات کیے ہیں۔

اے اے پی کنوینر نے کہا کہ گجرات کے اندر وزراء، سیاست دانوں اور بڑے لوگوں کے تمام کالے دھندے بند کئے جائیں گے۔ گجرات میں پیپر لیک ہونے کا عمل روکیں گے۔ پچھلے 10 سالوں میں جتنے پیپرز لیک ہوئے ہیں، ان تمام کیسز کی تحقیقات کی جائیں گی۔

مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری

0
مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری
مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 321.99 پوائنٹس بڑھ کر 60115.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 103 پوائنٹس بڑھ کر 17936.35 پر پہنچ گیا

ممبئی: عالمی سطح سے ملے مثبت اشاروں کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر آئی ٹی، ٹیک، رئیلٹی، یوٹیلٹیز اور بیسک میٹیریلز میں ہوئی فریداری کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی رہی اور اس دوران خریداری کے بدولت سینسیکس 60 ہزار سے تجاوز کرنے میں کامیاب رہا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 321.99 پوائنٹس بڑھ کر 60115.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 103 پوائنٹس بڑھ کر 17936.35 پر پہنچ گیا۔ بی ایس ای پر مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ ہوا، مڈ کیپ 0.89 فیصد اضافے کے ساتھ 26167.43 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1 فیصد اضافے کے ساتھ 29528.74 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای پر، تمام گروپس میں تیزی رہی جس میں آئی ٹی 1.30 فیصد، ٹیک 1.16 فیصد، ریئلٹی 2.23 فیصد، سی ڈی 1.40 فیصد اور یوٹیلٹیز 1.70 فیصد شامل تھے۔ بی ایس ای پر کل 3759 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2165 میں اضافہ اور 1428 میں کمی جبکہ 166 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے باوجود مسلم عبادت گاہوں پر تنازعات کا کیا مطلب؟

0
پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے باوجود مسلم عبادت گاہوں پر تنازعات کا کیا مطلب؟
پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے باوجود مسلم عبادت گاہوں پر تنازعات کا کیا مطلب؟

عبادت گاہوں پر تنازعات پیدا کرکے مذہبی کشیدگی کا یہ سلسلہ طویل ہوتا جارہا ہے۔ ایودھیا کے بعد اب نشانہ متھرا کی عیدگاہ، گیان واپی بنارس اور جامع مسجد شمسی بدایوں پر ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

بابری مسجد تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جو بھی فیصلہ کیا، اسے ہر طبقہ نے قبول کر لیا۔ اس امید کے ساتھ کہ اب یہ سلسلہ یہیں ختم ہو جائے گا۔ یہ بھی امید تھی کہ اب ملک کو مزید مذہبی مسائل میں نہیں الجھایا جائے گا، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خام خیالی تھی۔ کیوں کہ مذہبی کشیدگی کا یہ سلسلہ مزید طویل ہوتا جارہا ہے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد متھرا کی عیدگاہ، بنارس کی گیان واپی مسجد اور بدایوں کی جامع مسجد شمسی جیسی متعدد عبادتگاہیں اب شر پسندوں کے نشانے پر آ گئی ہیں۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

حالت یہ ہے کہ ہر تاریخی مسجد، مقبرہ یا مسلم سلاطین کی یادگاروں کو قدیم مندر بتا کر ہندوؤں کو سونپنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یکے بعد دیگرے تنازعات کھڑے کرکے عدالتوں میں مقدمے کئے جا رہے ہیں۔ افسوس اور حیرت اس بات پر ہے کہ یہ سب تب ہو رہا ہے جب ملک میں ایک ایسا قانون موجود ہے جو 1947ء سے پہلے کی تمام عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جسے ہم ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اس قانون کا وجود ہی ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نئے نئے تنازعات پر حکمرانوں کی خاموشی شر پسندوں کے ناپاک عزائم کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

ایودھیا تنازعہ

اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو ایودھیا تنازعہ جس نے ملک کی سمت ہی بدل دی، اس کے حل کے وقت نہ صرف عدلیہ بلکہ مقننہ کو بھی یہ تہیہ کرنا چاہئے تھا کہ اب بس۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بظاہر ایسی کوشش کی بھی تھی، مگر حکمراں طبقہ اور سیاسی حلقوں سے ایسی کوئی پہل نہیں کی گئی کہ جس سے محسوس ہو کہ اب کوئی دوسری ایودھیا وجود میں نہیں آئے گی۔ 9؍ نومبر 2019ء کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام مندر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کی ہدایت دی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی تھے، جنھیں سبکدوشی کے بعد موجودہ حکومت نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے نوازا، انہی کی سربراہی والی پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد کے قضیہ کا فیصلہ سنایا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ متفقہ فیصلہ ہے، لیکن عدالت کے کچھ اہم تبصروں نے اس فیصلے کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کے مطابق اس جگہ پر پہلے مندر تھا، لیکن محکمے نے یہ تصدیق نہیں کی کہ یہ مندر گرا کر بابری مسجد تعمیر کی گئی یا نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں چھ دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کو منہدم کرنے کے اقدام کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ

سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ پر اپنے 1045؍ صفحات کے فیصلے میں ’1991ء کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ‘ یعنی عبادت گاہوں کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون 15؍ اگست 1947ء کو عوامی عبادت گاہوں کے مذہبی کردار میں تبدیلی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ قانون ہر مذہبی طبقے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ان کے مذہبی مقامات کی حفاظت کی جائے گی اور ان کے کردار کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ عبادت گاہوں کا ایکٹ مقننہ کے ذریعہ بنایا گیا ایک انتظام ہے جو عبادت گاہوں کے مذہبی کردار کو ہماری سیکولر اقدار کا ایک لازمی پہلو بناتا ہے۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ لانے کا مقصد

نرسمہا راؤ حکومت نے ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ یعنی عبادت گاہوں کا قانون نافذ کیا تھا۔ قانون لانے کا مقصد ایودھیا تحریک کی بڑھتی ہوئی شدت اور جارحانہ روش کو قابو میں کرنا تھا۔ حکومت نے قانون میں یہ شرط رکھی کہ ایودھیا میں بابری مسجد کے علاوہ ملک کی کسی بھی عبادت گاہ پر دوسرے مذاہب کے لوگوں کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی آزادی کے دن یعنی 15؍ اگست 1947ء کو کسی بھی مذہبی ڈھانچے یا عبادت گاہ پر، چاہے کسی بھی شکل میں ہو، دوسرے مذاہب کے لوگ دعویٰ نہیں کریں گے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا، کیونکہ یہ تنازعہ آزادی سے قبل عدالتوں میں زیر التوا تھا۔

اب ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ کو ہی نہ صرف غیر موثر کرنے، بلکہ اسے بالکل ہی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنارس کی تاریخی گیان واپی مسجد، متھرا کی عیدگاہ، قطب مینار احاطہ میں واقع مسجد اور اب بدایوں کی تاریخی جامع مسجد شمسی جیسی لا تعداد مساجد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات قائم کرکے مسلمانوں کو ہراساں اور ذہنی طور پر پریشان کیا جارہا ہے، جبکہ عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔

عبادت گاہوں کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ 1991ء میں بنائے گئے عبادتگاہوں سے متعلق قانون کا سہارا لے کر ملک کو نئے نئے مسائل میں الجھنے سے بچایا جائے، اس کے بر عکس حکمراں طبقہ کے ذریعہ اس قانون کو ہی کالعدم قرار دینے کی تگ و دو کی جا رہی ہے۔ کیوں کہ اس معاملہ میں درجن بھر سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک عرضی پجاریوں کی انجمن نے ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین کے ذریعے دائر کی ہے۔ اس عرضی میں سپریم کورٹ سے 1991ء کے عبادت گاہوں کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ متھرا میں کرشن جنم استھان اور وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر-مسجد کے درمیان تنازعہ طے ہو سکے۔

ہندو پجاریوں کی تنظیم وشو بھدرا پجاری پروہت مہاسنگھ نے بھی اس ایکٹ کی شق کو چیلنج کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبرمنیم سوامی اور دیگر کی عرضیوں میں ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرکے اسے ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان عرضیوں پر 11؍ اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مداخلت کی عرضی اور ایک دیگر عرضی کو بھی سماعت کیلئے منظور کرلیا ہے۔ مخالف فریق نے جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ عرضی کی سخت مخالفت کی تھی، تاہم عدالت نے اس کو قبول نہیں کیا۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی حفاظت کرنا سیکولر ملک کی ذمہ داری

بہر حال، ایک ایسا قانون جس کا مقصد کسی بھی مذہبی مقام کی تبدیلی کو روکنا اور 1947ء سے پہلے کی عبادت گاہوں کو جوں کا توں رکھنا تھا۔ بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کے فیصلہ میں عدالت نے ان مقاصد کو تسلیم بھی کیا ہے۔ بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ پلیسز آف ورشپ ایکٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔ ساتھ ہی اس قانون کی حفاظت کرنا سیکولر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے۔ یہ قانون آئین ہند کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔

قانون کی دفعہ 4؍ عبادت گاہوں کی تبدیلی کو روکتی ہے۔ یہ قانون بنا کر حکومت نے آئینی ذمہ داری لی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے گی اور اس قانون کو بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سیکولرازم کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔ ایسے میں اگر موجودہ تنازعات پر خاموشی اختیار کرتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے باوجود مختلف عدالتوں میں ایک ہی طبقہ کی تاریخی عبادتگاہوں کو متنازعہ بتا کر مقدمات کیوں قائم کئے جا رہے ہیں؟

امید ہے کہ نچلی عدالتیں اس قانون کو ملحوظ نظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کریں گی اور جب سپریم کورٹ اس قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرے گی تو ملک کے سیکولر ڈھانچے، انصاف کے تقاضوں اور قانون کی بالا دستی کو مد نظر رکھے گی۔

( مضمون نگارانقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

دینی مدارس کا سروے مدارس کو بدنام کرنے کی ناپاک اور نفرت انگیز سازش: مسلم پرسنل لا بورڈ

0
دینی مدارس کا سروے مدارس کو بدنام کرنے کی ناپاک اور نفرت انگیز سازش: مسلم پرسنل لا بورڈ
دینی مدارس کا سروے مدارس کو بدنام کرنے کی ناپاک اور نفرت انگیز سازش: مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا رحمانی نے کہا کہ صرف دینی مدارس کا سروے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوشش ہے اور قطعاً ناقابل قبول ہے اور پوری ملت اسلامیہ اس کو مسترد کرتی ہے

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ بعض ریاستی حکومتوں کی جانب سے دینی مدارس کے سروے کا جو شوشہ چھوڑا گیا ہے، وہ در اصل مدارس کو بدنام کرنے اور برادران وطن کے درمیان انہیں مشکوک و مشتبہ بنانے کی ایک گھناؤنی اور ناپاک سازش ہے۔ یہ الزام اس نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں لگایا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ دینی مدارس کی ایک روشن تاریخ رہی ہے، جہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا چوبیس گھنٹہ اہتمام کیا جاتا ہے، ان مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں نے کبھی دہشت گردی اور فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی کوئی کام نہیں کیا، اگرچہ بعض دفعہ حکومت نے اس طرح کے الزامات لگائے، مگر چوں کہ یہ جھوٹا الزام تھا اس لئے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

برسر اقتدار پارٹی کے قدیم اور با اثر لیڈر ایل کے اڈوانی جب ملک کے وزیر داخلہ تھے، اس وقت انھوں نے بھی اس کا اعتراف کیا تھا، ڈاکٹر راجندر پرشاد، جواہر لال نہرو، اے پی جے عبدالکلام اور مولانا آزاد جیسے ملک کے قد آور قائدین نے مدارس کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔

جنگ آزادی میں مدارس سے نکلنے والے علماء کی غیر معمولی قربانیاں

جنگ آزادی میں مدارس سے نکلنے والے علماء نے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں اور آزادی کے بعد بھی ملک کے انتہائی غریب طبقہ کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں ان اداروں کا نمایاں کردار رہا ہے۔ اس لئے بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اس ارادہ سے باز آئے اور اگر کسی جائز ضرورت کے تحت سروے کرایا جاتا ہے تو صرف مدارس یا مسلم اداروں کی تخصیص نہ ہو، تمام قوموں کے مذہبی اور غیر مذہبی اداروں کا ایک مقررہ اصول کے تحت سروے کیا جائے، بلکہ اس میں سرکاری اداروں کو بھی شامل رکھا جائے کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کے سلسلہ میں جو ضابطہ مقرر کیا ہے، خود سرکاری ادارے اسے کس حد تک پورا کر رہے ہیں۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ صرف دینی مدارس کا سروے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوشش ہے اور قطعاً ناقابل قبول ہے اور پوری ملت اسلامیہ اس کو مسترد کرتی ہے۔

حکومت پٹرول ڈیزل میں 15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کم کرے: کانگریس

0
حکومت پٹرول ڈیزل میں 15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کم کرے: کانگریس
حکومت پٹرول ڈیزل میں 15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کم کرے: کانگریس

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حقیقی جی ڈی پی میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور عالمی بازار میں گراوٹ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں

نئی دہلی: کانگریس نے حکومت سے ایندھن کی قیمتوں کو بین الاقوامی بنیادوں پر طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح عالمی بازار میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اس کی بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل 15-15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کی فوری طور پر کمی کی جانی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حقیقی جی ڈی پی میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور عالمی بازار میں گراوٹ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بازار میں ایندھن کی قیمتیں سات ماہ کی کم ترین سطح پر ہیں اور حکومت کو اس کا فائدہ عوام تک پہنچانا چاہئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں کے مطابق ایندھن کی قیمت کم نہیں کرتی بلکہ الیکشن کے مطابق کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو آدھی رات کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اگر عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو مودی سرکار خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 13.33 فیصد کمی آئی ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کسان اور ملک کو ملنا چاہیے۔ اس کے مطابق اگر حکومت ایمانداری سے کام کرے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری طور پر 15 سے 20 روپے کی کمی ہو سکتی ہے اور اس کا فائدہ ملک کے عوام کو ملنا چاہیے۔