جمعرات, اپریل 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 212

مختار انصاری کو 7 سال قید کی سزا اور 37 ہزار روپے جرمانہ

0
مختار انصاری کو 7 سال قید کی سزا اور 37 ہزار روپے جرمانہ
مختار انصاری کو 7 سال قید کی سزا اور 37 ہزار روپے جرمانہ

جیلر نے سابق ایم ایل اے مختار انصاری کے خلاف عالم باغ پولیس اسٹیشن میں جانے سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کرایا تھا جسے عدالت سے صحیح قرار دیا ہے

لکھنؤ: نچلی عدالت کے فیصلے کو خارج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بدھ کو شہ زور لیڈر سابق ایم ایل اے مختار انصاری کو جیل میں جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں 7 سال کی قید اور 37 ہزار روپئے مالی جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی ہے۔

جسٹس دنیش کمار سنگھ کی سنگل بنچ نے جیلر کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا خاطی قرار دیا ہے۔ جیلر نے سابق ایم ایل اے کے خلاف عالم باغ پولیس اسٹیشن میں جانے سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کرایا تھا جسے عدالت سے صحیح قرار دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے جیلر ایس کے اوستھی نے مختار پر دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

جیلر کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق جیل میں مختار انصاری سے ملنے آئے افراد کی تلاشی لینے کی ہدایت دینے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اتنا ہی نہیں مختار نے جیلر کے ساتھ گالم گلوج کر اس پر پستول پر تان دی تھی۔

ایک اسپیشل ایم پی۔ ایم ایل اے عدالت نے شواہد کی کمی کی وجہ سے مختار کو بری قرار دیا تھا جس کے بعد ریاستی حکومت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل داخل کی تھی۔

اپنے فیصلے میں جسٹس سنگھ نے کہا ہے ’دلائل سننے اور موجود شواہد کو دیکھتے ہوئے موجود عرضی قبول کی جاتی ہے اور اسپیشل جج، ایم پی /ایم ایل اے،ا ڈیشنل سیشن جج، لکھنؤ کورٹ کے فیصلے کو خارج کیا جاتا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم جواب دہندہ کو تعزیرات ہند کی دفعات 353،504،506 کے تحت خاطی قرار دیا جاتا ہے‘۔

کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا ایمس میں انتقال

0
کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا ایمس میں انتقال
کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا ایمس میں انتقال

کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو نے تقریباً 40 دن تک بیماری سے لڑنے کے بعد آج آخری سانس لی

نئی دہلی: گزشتہ ایک ماہ سے بھی زیادہ وقت سے بیمار کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا بدھ کو یہاں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں انتقال ہوگیا ان کی عمر 58 سال تھی۔

پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ راجو شریواستو کو خرابی صحت کی وجہ سے 10 اگست کو ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ اسپتال میں کافی وقت تک ان کی حالت تشویشناک رہی اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔ انہوں نے تقریباً 40 دن تک بیماری سے لڑنے کے بعد آج آخری سانس لی۔

راجو شریواستو بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ تھے اور پارٹی لیڈروں سے ملنے یہاں آئے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی طبیعت یہیں بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں ایمس میں داخل کرایا گیا۔

اپوزیشن کی تحریک کو روندنا، بی جے پی کا تاناشاہی رویہ: مایاوتی

0
اپوزیشن کی تحریک کو روندنا، بی جے پی کا تاناشاہی رویہ: مایاوتی
اپوزیشن کی تحریک کو روندنا، بی جے پی کا تاناشاہی رویہ: مایاوتی

اپوزیشن جماعت کو عوام کے مسائل اٹھانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہ دینا حکومت کے تاناشاہی رویہ کو ظاہر کرتا ہے

لکھنؤ: اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے ریاست کی یوگی حکومت پر تاناشاہی رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے منگل کو کہا کہ اپوزیشن جماعت کو عوام کے مسائل اٹھانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہ دینا حکومت کے تاناشاہی رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اراکین نے پیر کو مہنگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی مخالفت میں ایس پی دفتر سے اسمبلی ہاوس تک پیدل مارچ نکالنے کی کوشش کی تھی۔ پولیس نے اس کی اجازت نہ لینے کا حوالہ دیتے ہوئے ایس پی صدر اکھلیش یادو کی قیادت میں ایس پی اراکین اسمبلی کو راج بھون سے پہلے ہی روک کر انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا تھا۔

مایاوتی نے حکومت کے اس رویہ کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا ’اپوزیشن پارٹیوں کو حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں و اس کی بربریت و ظلم و زیادہ وغیرہ کو لے کر دھرنا۔ مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دینا بی جے پی حکومت کی نیا تاناشاہی رویہ ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی بات بات پر مقدمے و لوگوں کی گرفتار اور مخالفت کو کچلنے کی بنا سرکاری تاثر کافی مہلک ہے۔

یوگی حکومت پر تحریکات کو کچلنے کا الزام

انہوں نے یوگی حکومت پر تحریکات کو کچلنے کا الزام لگاتے ہوئے اس رویہ کی مذمت کی۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی میں طلبہ کی تحریک پر پولیس کاروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ’اسی ضمن میں الہ آباد یونیورسٹی کے ذریعہ فیس میں یکمشت بھاری اضافہ کرنے کی مخالفت میں طلبہ کی تحریک کو جس طرح کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نامناسب اور قابل مذمت ہے۔ بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ یوپی حکومت اپنی آمریت کو چھوڑ کر طلبہ کے واجب مطالبات پر ہمدردانہ طور سے غور کرے۔

مایاوتی نے بی جے پی کو اپوزیشن میں رہنے کے دوران بات بات پر اسمبلی کے سامنے سڑک جام کرنے کا ان کا ماضی بھی یاد دلایا۔ انہوں نے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا ’مہنگائی، بے روزگار، غریبی، بدحال سڑک، تعلیم، نظم ونسق وغیرہ کے تئیں یوپی حکومت کی لاپرواہی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ نہ کرنے دینے و ان پر ’دمن چکر‘ سے پہلے بی جے پی ضرور سوچے کی اسمبلی ہاوس کے سامنے بات بات پر سڑک جام کر کے عام زندگی مفلوج کرنے کا ان کی ایک سفاک تاریخ ہے۔

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات: عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری

0
ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات: عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری
ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات: عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں ضلع کانگڑا کے فتح پور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے سابق ایم پی ڈاکٹر راجن سوشانت کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اماکانت ڈوگرا نگروٹا بگواں کو امیدوار بنایا گیا ہیں۔ منیش ٹھاکر کو سرمور کے پاونٹا صاحب اور لاہول اسپتی سے سدرشن جسپا کو ٹکٹ دیا گیا ہے

شملہ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے آج اس سال ہونے والے ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی۔

اے اے پی نے پہلی فہرست میں چار لیڈروں کو میدان میں اتارا ہے۔ ان میں ضلع کانگڑا کے فتح پور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے سابق ایم پی ڈاکٹر راجن سوشانت کو ٹکٹ دیا ہے۔ اماکانت ڈوگرا نگروٹا بگواں کو امیدوار بنایا گیا ہیں۔ منیش ٹھاکر کو سرمور کے پاونٹا صاحب اور لاہول اسپتی سے سدرشن جسپا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

پارٹی تمام 68 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ پارٹی نے ٹکٹوں کی تقسیم پر ایک نئی پہل کی ہے۔ ابھی تمام سیٹوں کا فیصلہ نہیں ہوا، جہاں ٹکٹ ہولڈرز کی تعداد زیادہ نہیں، آج فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے اے پی کی توجہ ہماچل پردیش سے زیادہ گجرات پر ہے، لیکن پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں حکمران بی جے پی اور کانگریس سے آگے رہنا چاہتی ہے۔ کانگریس کی جانب سے اپنائے گئے طریقہ کار کے تحت ٹکٹ کے خواہشمند قائدین سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں لیکن ابھی تک پہلی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے۔

بی جے پی میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر غوروفکر جاری ہے۔ اس پر فیصلہ علاقائی اور ذات پات کے مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، لیکن اے اے پی ٹکٹ کی تقسیم میں آگے آئی ہے۔ پارٹی کو اب تک سات لاکھ سے زائد ممبران ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بڑے چہرے نہیں مل سکے ہیں۔

چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری

0
چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری
چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 578.51 پوائنٹس یعنی 0.98 فیصد چھلانگ لگا کر 59719.74 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 194 پوائنٹس یعنی 1.1 فیصد چھلانگ لگا کر 17816.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا

ممبئی: عالمی منڈیوں کے مثبت رجحان کے درمیان مقامی سطح پر چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں آج مسلسل دوسرے دن اضافہ کا سلسلہ جاری رہا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 578.51 پوائنٹس یعنی 0.98 فیصد چھلانگ لگا کر 59719.74 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 194 پوائنٹس یعنی 1.1 فیصد چھلانگ لگا کر 17816.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی خریداری کی وجہ سے بی ایس ای کا مڈ کیپ 1.65 فیصد بڑھ کر 25,940.10 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 1.01 فیصد بڑھ کر 29,442.79 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای میں 3602 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2109 میں خریداری ہوئی، جبکہ 1364 میں فروخت ہوئی اور 129 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 42 کمپنیاں سبز رہیں جبکہ باقی آٹھ سرخ نشان پر رہیں۔

شرح سود میں اضافہ کرنے کی قیاس آرائی

افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے سویڈن کے مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرنے اور اسی ہفتے فیڈ ریزرو اور بینک آف انگلینڈ، بینک آف جاپان سمیت کئی مرکزی بینکوں کے ذریعہ شرح سود میں اضافہ کرنے کی قیاس آرائی کے درمیان عالمی سطح پر سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری میں احتیاط برت رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.02 فیصد، جاپان کے نکئی میں 0.44 فیصد، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.16 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.22 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.48 فیصد گراوٹ درج ہوئی۔

دریں اثناء، گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے مضبوط حوصلے کی وجہ سے، بی ایس ای کے تمام 19 گروپوں میں اضافہ ہوا۔ اس مدت کے دوران ہیلتھ کیئر 2.81، کنزیومر ڈیوربلز 2.17، کموڈٹیز 1.29، سی ڈی 1.47، فنانشل سروسز 1.29، انڈسٹریز 1.10، ٹیلی کام 1.06، آٹو 1.59، بینکنگ 1.25، میٹلز 1.34 اور ریئلٹی 1.53 فیصد کا اضافہ ہوا۔

سنجے راوت کی عدالتی حراست میں 14 دن کی توسیع

0
سنجے راوت کی عدالتی حراست میں 14 دن کی توسیع
سنجے راوت کی عدالتی حراست میں 14 دن کی توسیع

سنجے راوت کی گورے گاؤں میں پترا چاول کی تعمیر نو میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ان کی عدالتی تحویل میں 14 دن کی توسیع کر دی گئی

ممبئی: ممبئی کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے پیر کو شیوسینا لیڈر اور ایم پی سنجے راوت کی گورے گاؤں میں پترا چاول کی تعمیر نو میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ان کی عدالتی تحویل میں 14 دن کی توسیع کر دی۔

مسٹر راوت کی ضمانت کی عرضی خصوصی عدالت میں زیر التوا ہے، جو اب بدھ کو سماعت کے لیے آئے گی۔

مسٹر راوت کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے یکم اگست کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں 8 اگست کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد اس کی بیوی ورشا سے بھی اس معاملے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

مسٹر راوت شیوسینا کے صدر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے قریبی ساتھی ہیں۔

شیئر بازار میں گراوٹ کا سلسلہ ختم، سینسیکس اور نفٹی میں نصف فیصد تک اضافہ

0
شیئر بازار میں گراوٹ کا سلسلہ ختم، سینسیکس اور نفٹی میں نصف فیصد تک اضافہ
شیئر بازار میں گراوٹ کا سلسلہ ختم، سینسیکس اور نفٹی میں نصف فیصد تک اضافہ

سینسیکس اور نفٹی میں آج گزشتہ تین دنوں کی گراوٹ کو روکتے ہوئے نصف فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا

ممبئی: عالمی منڈیوں میں کمزور رجحان کے باوجود مقامی سطح پر توانائی، ایف ایم سی جی، مالیاتی خدمات اور آٹو سمیت دس زمروں میں خریداری کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی میں آج گزشتہ تین دنوں کی گراوٹ کو روکتے ہوئے نصف فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا انڈیکس سنسیکس 300.44 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 59141.23 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 91.40 پوائنٹس بڑھ کر 17622.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، بی ایس ای کی درمیانی درجے اور چھوٹی کمپنیوں میں فروخت کا دباؤ رہا ، جس کی وجہ سے مڈ کیپ 0.16 فیصد گر کر 25,517.81 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 0.17 فیصد گر کر 29,149.78 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس عرصے کے دوران بی ایس ای میں کل 3749 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 1715 میں اضافہ، 1899 میں گراوٹ درج ہوئی اور 135 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

بی ایس ای کے دس گروپ خریداری کی بدولت مضبوط رہے جبکہ بقیہ 9 گروپ سرخ نشان پر رہے۔ اس عرصے کے دوران انرجی 0.33، ایف ایم سی جی 0.98، فنانشل سروسز 0.58، آئی ٹی 0.30، آٹو 0.78، بینکنگ 0.34، آئل اینڈ گیس 0.35 اور ٹیک گروپ میں 0.43 فیصد کا اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ٹیلی کام 1.13، یوٹیلٹیز 0.58، کیپٹل گڈز 0.71، میٹلز 1.25، پاور 0.52 اور ریئلٹی گروپ میں 0.99 فیصد گراوٹ درج ہوئی۔

دریں اثناء، بین الاقوامی سطح کے انڈیکس میں گراوٹ کا دور جاری رہا۔ اس دوران برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.62 فیصد، جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.93 فیصد، جاپان کا نکی 1.11، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.04 اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.35 فیصد گراوٹ درج کی گئی۔

جھنجھنو میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی گئی

0
جھنجھنو میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی گئی
جھنجھنو میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی گئی

جھنجھنو ضلع کے کجرا گاؤں میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کو توڑنے کا معاملہ سامنے آیا ہے

جھنجھنو: راجستھان کے جھنجھنو ضلع کے کجرا گاؤں میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کو توڑنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کل رات توڑ پھوڑ کی گئی اس مجسمے کے معاملے میں گاؤں کے مکیش گرجر نے ذمہ داری لی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مکیش گرجر کی جانب سے مجسمے کو توڑنے سے پہلے اسٹیٹس بھی لگائی گئی تھی۔ مکیش گرجر نے واٹس ایپ اسٹیٹس کے بعد مورتی توڑنے کی دھمکی دی تھی۔ مورتی کو توڑنے کے بعد مکیش گرجر کی طرف سے دھمکی بھی دی گئی کہ کوئی روک سکتا ہے تو روک لے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گاؤں کے لوگ بڑی تعداد میں جائے واقع پر جمع ہوگئے اور کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس سلسلے میں گاؤں والوں نے پیلانی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اس مجسمے کی تعمیر سابق کابینہ وزیر پدم شری آنجہانی شیش رام اولا نے 1990 میں کروائی تھی۔ کجرا گرام پنچایت کے سرپنچ کے نمائندے منجیت سنگھ تنور نے بتایا کہ دیر رات تقریباً 10 بجے گاؤں میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی مورتی کو کچھ سماج دشمن عناصر نے توڑ پھوڑ کی۔ جس کے بعد گاؤں والوں نے سرپنچ کو اطلاع دی۔ سرپنچ نے جائے واقع پر موجود پیلانی پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی۔

میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ

0
میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ
میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں ججوں کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی اور آئین سازی کے بنیادی اصول ہیں

جبل پور: نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے آج میڈیا پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے بارے میں رپورٹنگ کرتے وقت زیادہ محتاط رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ججوں کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی اور آئین سازی کے بنیادی اصول ہیں۔

یہاں منعقدہ ‘جسٹس جے ایس ورما میموریل لیکچر’ میں مہمان خصوصی کے طور پر اپنے خطاب میں مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ایک مضبوط، منصفانہ اور آزاد انصاف کا نظام جمہوری اقدار کے پنپنے اور موثر ہونے کی یقینی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت بلاشبہ بہترین ترقی ہے جب تمام آئینی ادارے مکمل ہم آہنگی میں ہوں اور اپنے مخصوص شعبہ تک محدود ہوں‘‘۔

پہلے ‘جسٹس جے ایس ورما میموریل لیکچر’ میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس سنجے کشن کول نے کلیدی خطبہ دیا۔ راجستھان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مسٹر ورما کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ کے طور پر اپنی بہت سی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ان کے دور کو عدالتی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

وشاکھا کیس میں جسٹس ورما کے تاریخی فیصلے

سماج پر دور رس اثرات کے حامل کئی فیصلے سنانے کے لیے جسٹس ورما کی ستائش کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ وشاکھا کیس میں ان کے تاریخی فیصلے نے کام کی جگہ پر خواتین کے جنسی ہراسانی سے مناسب تحفظ کے لیے ایک پورے نظام کی تشکیل کی راہ ہموار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنجہانی جسٹس جگدیش شرن ورما کو ان کے راہ نما فیصلوں اور نظریات کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے شہریوں کو بااختیار بنایا اور حکومت کو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اداروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کے قابل بنایا۔

جسٹس مسٹر ورما کے ہندوستان میں وفاقیت سے لے کر سیکولرازم اور صنفی مساوات تک کے قوانین کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ان کی زندگی اور ان کے خیالات ہمیں اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔

کانگریس کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ بنام بی جے پی کی ‘پارٹی توڑو’ مہم

0
کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا' بنام بی جے پی کی 'پارٹی توڑو' مہم
کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا' بنام بی جے پی کی 'پارٹی توڑو' مہم

2024 کے عام انتخابات کے لئے ماحول تیار ہو چکا ہے، ہر کوئی اپنے مطابق سیاسی مہرے بٹھانے میں مصروف ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

2024ء کے عام انتخابات کے لئے ماحول تیار ہے، ہر جماعت اور اتحاد اپنے مطابق سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہے۔ کوئی تنہا خم ٹھوکنے کو تیار ہے۔ کوئی علاقائی سطح پر صد فیصد کامیابی کے دعوے کر رہا ہے، تو کوئی اپنی ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ جیت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہیں کچھ ماہر سیاستداں اور بڑے سیاسی کھلاڑی وزیر اعظم کے عہدے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس دوران کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ نے سب کا دھیان اپنی طرف کھینچا ہے۔

وہیں دوسری جانب مختلف ریاستوں میں علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں میں بی جے پی کی توڑ پھوڑ مہم سے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی اس توڑ پھوڑ مہم کو ’آپریشن لوٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کچھ ریاستوں میں بی جے پی کا یہ آپریشن کامیاب رہا ہے تو کچھ ریاستوں میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریس بھی بار بار اس کا شکار ہوئی ہے۔ اس سب کے درمیان راہل گاندھی نے ایک بار پھر پارٹی میں نئی جان پھونکنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

بھارت جوڑو یاترا کا آغاز

مشن 2024ء کیلئے ملک کے جنوبی سِرے کنیا کماری سے کانگریس پارٹی کی جانب سے بھارت جوڑو یاترا زور و شور سے شروع ہوئی ہے۔ کنیا کماری سے سری نگر تک پانچ ماہ سے زیادہ طویل عرصے تک چلنے والی ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے کانگریس کے لیڈران اور کارکنان انتہائی پرجوش ہیں۔ راہل اور کارکنان کے چہرے پر ایک چمک نظر آ رہی ہے اور ان کے ساتھی قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا ملک کے انتہائی جنوبی کنارے کنیا کماری سے شروع ہوئی ہے جس کی قیادت راہل گاندھی کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی 3؍ ہزار 570؍ کلومیٹر کی یہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ ملک کی 12؍ ریاستوں اور مرکز کے 2؍ زیر انتظام علاقوں سے ہوکر گزرے گی۔

اس دوران پارٹی کم از کم 100؍ پارلیمانی حلقوں میں براہ راست پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ جبکہ دیگر پارلیمانی حلقوں کے لئے بھی اس نے پورا منصوبہ تیار کیا ہے جسے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔ کانگریس نے راہل گاندھی سمیت 118؍ ایسے لیڈروں کا انتخاب کیا ہے، جو کنیا کماری سے کشمیر تک کے پورے سفر میں ان کے ساتھ ہوں گے۔

تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہونے والی یہ یاترا کیرالہ کے ترواننت پورم، کوچی اور نیلمبور تک جائے گی۔ اس کے بعد یہ کرناٹک کے میسور، بیلاری، رائچور، تلنگانہ کے وقارآباد، مہاراشٹر کے ناندیڑ، مدھیہ پردیش میں جلگاؤں جمود، اندور پہنچے گی۔ یہاں سے راجستھان میں الور،کوٹا، دوسہ، اتر پردیش میں بلند شہر، دہلی، ہریانہ میں امبالا، پنجاب میں پٹھان کوٹ ہوتے ہوئے جموں اور سری نگر پہنچے گی، جہاں یاترا کا اختتام ہوگا۔

کانگریس کے سینئر لیڈران نے ’بھارت جوڑو‘ یاترا کے آغاز سے پہلے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول ختم کرنے اور سب کو آپس میں جوڑنے کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس یاترا سے نفرت کو کم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوششیں کرکے نفرت کا ماحول ختم نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

بھارت جوڑو یاترا ایک اچھی پہل

راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ ایک اچھی پہل ہے۔ کیونکہ اس وقت کانگریس پارٹی کی حالت خستہ ہے اور وہ اپنے سب سے خراب دور سے گزر رہی ہے۔ اس یاترا سے یقیناً پارٹی میں نئی جان پھونکنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی یہ یاترا لوگوں کے درمیان جانے، ان کے مسائل اور رجحان کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران ریاستی اور قومی سطح کے لیڈران کے ذریعہ کانگریس چھوڑنے کے سلسلہ نے پارٹی کارکنان کو مایوس کر دیا تھا۔ ان میں یہ احساس گھر کر گیا کہ کانگریس پارٹی میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور شاید پارٹی کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ایسی مایوسی کے عالم میں راہل گاندھی کی یہ کوشش کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔

گاندھی جی نے پورے ہندوستان کا معائنہ کیا

سیاسی جماعتوں اور اہم سیاستدانوں کے ذریعہ مختلف ناموں سے ’یاترائیں‘ نکالی جاتی رہی ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جد و جہد آزادی کے علمبردار اور مجاہد آزادی گوپال کرشن گوکھلے نے مہاتما گاندھی سے کہا تھا کہ اگر آپ ہندوستان کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو پورے ہندوستان کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا۔ پھر گاندھی جی نے فقیرانہ لباس پہن کر ہندوستان کا معائنہ کیا اور ہندوستانیوں کی زمینی حقیقت اور حالت زار دیکھی۔ جس کے بعد انہوں نے ہندوستان کو انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرانے کا بیڑہ اٹھایا۔

آزاد ہندوستان میں معروف سماجوادی لیڈر چندر شیکھر نے1983ء میں چار ہزار کلومیٹر کا پیدل سفر طے کیا تھا۔ ان کی پد یاترا تامل ناڈو میں کنیا کماری سے دہلی کے راج گھاٹ تک چلی۔ اس دوران انہیں ملک کے تمام مسائل کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ سنیل دت نے امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک طویل پد یاترا کی۔ 1987ء میں انہوں نے پنجاب میں عسکریت پسندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بمبئی سے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل تک دو ہزار کلومیٹر کا سفر کیا۔ ان مشہور سیاست دانوں کے علاوہ این ٹی راما راؤ، ایل کے اڈوانی، وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور جگموہن ریڈی کی یاتراؤں نے مختلف ذرائع سے ہندوستان کو سمجھنے کی کوشش کی۔

آپریشن لوٹس کا معاملہ

ایک طرف جہاں کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا جاری ہے۔ وہیں دوسری جانب حکمراں بی جے پی کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن جماعتوں میں انتشار پیدا کرنے اور ان میں توڑ پھوڑ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔ حال ہی میں گوا میں اہم اپوزیشن کانگریس کے 11؍ میں سے 8؍ اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ دگمبرکامت اور اپوزیشن لیڈر مائیکل لوبو بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں ’آپریشن لوٹس‘ کی چرچہ تیز ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے آپریشن لوٹس کا معاملہ دہلی میں زور و شور سے اٹھا، جب عام آدمی پارٹی نے اسے مسئلہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی ان کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عام آدمی پارٹی نے پریس کانفرنس میں اپنے چار ایم ایل اے کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ جنہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں نے ان سے رابطہ کیا اور پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اس کے بدلے میں ایم ایل اے نے 20؍ سے 25؍ کروڑ روپے دینے کو کہا تھا۔ ویسے 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی لوگوں کی زبان پر’ آپریشن لوٹس‘ کا لفظ آگیا۔

آپریشن لوٹس جمہوریت کے لیے خطرہ

کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ آپریشن لوٹس کے ذریعے بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو توڑتی ہے اور اپوزیشن کی حکومتوں کو گراتی ہے۔ کرناٹک، مدھیہ پردیش، اروناچل پردیش وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ اگرچہ بی جے پی ’آپریشن لوٹس‘ کے حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ حالیہ کچھ واقعات کو دیکھیں تو بی جے پی کی تردید بے معنی سی لگتی ہے۔ بہت سے سیاسی تجزیہ کار اور اپوزیشن جماعتیں ’آپریشن لوٹس‘ کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیتی ہیں۔

ایسے پس منظر میں کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ اہمیت کی حامل ہے۔ ظاہری طور پر اس یاترا کا آغاز اچھا ہوا ہے اور عوام کا ردعمل بھی حوصلہ افزا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کی نکتہ چینوں کے رویوں میں بھی ہلکی ہلکی تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس اور راہل گاندھی اپنے اس مشن میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد کے بغیر اپوزیشن 2024ء کی جنگ نہیں لڑ سکتی۔ لیکن ان جماعتوں میں اتنے اختلافات ہیں کہ آج تک سبھی اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہو سکی ہیں۔ ایسے میں راہل گاندھی کے علاوہ نتیش کمار، شرد پوار، ممتا بنرجی اور تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر میں سے کس کے نام پر اتفاق ہوتا ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com