جمعرات, اپریل 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 211

سینسیکس-نفٹی 1.5 فیصد سے زیادہ لڑھکے

0
سینسیکس-نفٹی 1.5 فیصد سے زیادہ لڑھکے
سینسیکس-نفٹی 1.5 فیصد سے زیادہ لڑھکے

عالمی مارکیٹ میں جاری گراوٹ کے سبب سہمے سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر ہوئی چوطرفہ فروخت سے گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل چوتھے دن بھی افراتفری جاری رہی اور سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ لڑھک گئے

ممبئی: مہنگائی پر قابو پانے کے لیے پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی شرح سود کے دباؤ میں عالمی مارکیٹ میں جاری گراوٹ کے سبب سہمے سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر ہوئی چوطرفہ فروخت سے گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل چوتھے دن بھی افراتفری جاری رہی اور سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ لڑھک گئے۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 953.70 پوائنٹس یعنی 1.64 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 58 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے اور تقریباً ایک ماہ کی کم ترین سطح 57145.22 پوائنٹس پر آگیا۔ اس سے پہلے یہ 29 اگست کو 57972.62 پوائنٹس پر رہا تھا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 311.05 پوائنٹس یعنی 1.8 فیصد گر کر 17016.30 پوائنٹس پر رہا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح، بی ایس ای کی درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں بھی زبردست فروخت ہوئی، جس کی وجہ سے مڈ کیپ 2.84 فیصد گر کر 24552.76 پوائنٹس اور اسمال کیپ 3.33 فیصد گر کر 27853.67 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس دوران بی ایس ای پر کل 3707 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2925 میں کمی جبکہ 660 میں اضافہ ہوا وہیں 122 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 41 کمپنیاں سرخ نشان، جبکہ باقی نو سبز نشان پر رہیں۔

ایک بار پھر شرح سود میں اضافے کی توقع

بے قابو مہنگائی پر لگام لگانے کے لیے امریکہ، برطانیہ، سویڈن اور ناروے میں شرح سود میں ہوئے اضافے کی تعمیل کرتے ہوئے ریزرو بینک کا بھی 28-30 ستمبر کو مجوزہ دو ماہی مانیٹری پالیسی جائزے میں ایک بار پھر سے شرح سود میں اضافے کی توقع ہے۔ ساتھ ہی روپے کی اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح تک پہنچنے کا دباؤ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی مسلسل جاری فروخت کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے ہفتے ایف آئی آئی نے گھریلو اسٹاک مارکیٹ سے 4361.77 کروڑ روپے نکال لئے۔ اس کا اثر مارکیٹ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کی وجہ سے بی ایس ای کے تمام 19 گروپس میں فروخت ہوئی۔ اس عرصے کے دوران کموڈٹیز 3.32، سی ڈی 2.60، انرجی 3.17، ایم ایف سی جی2.15، فنانشل سروسز 2.40، ہیلتھ کیئر 1.41، صنعتی 2.58، ٹیلی کام 2.97، یوٹیلٹیز 3.72، آٹو 3.86، بینکنگ 2.29، کیپٹلس گڈس 2.09، دھات 4.50، تیل اورگیس 3.10، پاور 3.71 اور ریئلٹی گروپ کے حصص 4.29 فیصد گر گئے۔

بین الاقوامی سطح پر گراوٹ کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.83، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.46، جاپان کا نکئی 2.66، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.44 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 1.20 فیصد کم ہوا۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید

0
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں اور پولیس نے ایک گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب اس گاڑی کے ڈرائیور نے شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے باہر گشت کے دوران ان کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی

رام اللہ: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی جاں بحق ہو گیا اور اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجیوں نے گشت کے دوران مسلح مشتبہ شخص پر فائرنگ کی۔

ڈان میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کی جانب سے ’گاڑی اور موٹر سائیکل پر سوار مسلح مشتبہ افراد‘ کی جانب سے شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے قریب فائرنگ کی گئی، واضح رہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں کے دوران روزانہ کی بنیاد پر پرتشدد واقعات دیکھے گئے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت سعید الکونی کے نام سے ہوئی ہے۔ ’دی لائنز ڈین‘ نامی جنگجوؤں کے اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ سعید الکونی ان کے گروپ کا رکن ہے، یہ اتحاد حال ہی میں نابلس میں نمودار ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اگست میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ابراہیم البنلسی نامی نوجوان بھی جاں بحق ہوگیا تھا جس کے بعد دی لائنز ڈین نامی جنگجوؤں کے اتحاد نے دعویٰ کیا کہ یہ نوجوان بھی انہی کے گروپ کا رکن تھا۔ بعد ازاں ابراہیم النبلسی نامی نوجوان مقامی سطح پر سوشل میڈیا پر ہیرو کے طور پر مشہور ہو گیا تھا۔ تاہم ابراہیم النبلسی کے ’لاکٹ‘ نابلس شہر کے بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں، نابلس میں سعید الکونی کی موت دراصل اس علاقے میں گزشتہ 2 روز کے دوران ہونے والی دوسری ہلاکت ہے۔

فلسطینی ڈرائیور کا قتل

یاد رہے اس سے قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی ڈرائیور کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فلسطینی نے اپنی گاڑی فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ٹریفک حادثہ تھا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں اور پولیس نے ایک گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب اس گاڑی کے ڈرائیور نے شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے باہر گشت کے دوران ان کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی۔ تاہم اسرائیلی فورسز نے حملہ آور کا ارادہ ناکام بنا دیا۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے ڈرائیور کی شناخت 36 سالہ محمد علی حسین عواد کے نام سے کی تھی۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایک نہتے فلسطینی کا قتل قرار دیا گیا تھا جو کسی قسم کے خطرے کا باعث نہیں تھا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیلی پولیس نے جان بوجھ کر عواد کو گولی ماری، ان کا مقصد اسے قتل کرنا تھا کیونکہ ان کی گاڑی ٹریفک حادثے میں پولیس کی ایک گاڑی سے ٹکرا گئی تھی‘۔ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور چوکیوں پر فلسطینیوں کی جانب سے کار حادثے اور دیگر حملے ہوتے رہے ہیں۔

انکتا کے ساتھ حیوانیت ہوئی، انتظامیہ ڈرامہ کر رہی ہے: پرینکا

0
انکتا کے ساتھ حیوانیت ہوئی، انتظامیہ ڈرامہ کر رہی ہے: پرینکا
انکتا کے ساتھ حیوانیت ہوئی، انتظامیہ ڈرامہ کر رہی ہے: پرینکا

محترمہ واڈرا نے ٹویٹ کر کے کہا، "اتراکھنڈ کی انکتا کے ساتھ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، لیکن اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی انتظامیہ صرف دکھاوے کی کارروائی تک ہی محدود ہے”

نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتراکھنڈ میں انکتا کے ساتھ ہوئی حیوانیت کو دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں صرف دکھاوے کے لئے کارروائی کررہی ہے۔

محترمہ واڈرا نے ٹویٹ کر کے کہا، "اتراکھنڈ کی انکتا کے ساتھ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ لیکن اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی انتظامیہ صرف دکھاوے کی کارروائی تک ہی محدود ہے۔ ذرا سوچئے کہ انکتا کے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ اہل خانہ کا سوال ہے کہ واقعہ کے ثبوتوں کو مٹایا جا رہا ہے، پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ کیوں نہیں دی جا رہی ہے؟”

انہوں نے کہا، "انصاف کا تقاضہ ہے کہ حکومت سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ قانونی کارروائی کرے، لواحقین کی بات سنی جائے، غفلت برتنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے اور مجرموں کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلا کر جلد سزا دی جائے۔

نفرت انگیز چینلوں پر قدغن کیسے لگے؟

0
نفرت انگیز چینلوں پر قدغن کیسے لگے؟
نفرت انگیز چینلوں پر قدغن کیسے لگے؟

جب نیوز چینلوں نے صحافت کے اصولوں کو ہی بالائے طاق رکھ دیا ہے تو ان کے رویوں میں کسی مثبت تبدیلی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

ہم سب جانتے ہیں کہ میڈیا معاشرے کا ایک طاقتور آلہ ہے۔ یہ اس پیشے سے وابستہ افراد پر منحصر ہے کہ وہ اس طاقت کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔ اگر معاشرے کے اس طاقتور آلہ کا استعمال سماج اور ملک کی فلاح و بہبود کے لئے کیا جائے، تو یقیناً یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔ مگر جب اسی میڈیا کو کسی خاص ایجنڈے کے تحت استعمال کیا جائے یا سنسنی پیدا کرنے کے لئے کیا جائے تو یہی میڈیا معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آزادی رائے کا اظہار کرنا سب کا حق ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک یا کسی طبقہ کو نشانہ بنایا جائے۔ کیوں کہ ملک کے آئین کی دفعہ 19 (ا) اے اظہار رائے کی آزادی کی اجازت تو دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارا آئین فرقہ واریت اور نفرت انگیزی کو روکنے کی بھی بات کرتا ہے۔ آئین کی دفعہ 19 (2) اظہار ارئے کی آزادی کی حد مقرر کر دی ہے۔ لہذا حکومت اگر چاہے تو ملک کی سالمیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سماجی بھائی چارہ اور نظم و نسق پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ وہیں دفعہ 153 (اے) نفرت انگیز پیغامات اور اشتعال انگیز تقاریر کو قابل تعزیر جرم قرار دیتی ہے۔

چینلوں پر نفرت کی دکانیں

اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف چینلوں پر نیوز اینکر ہر شام نفرت کی دکانیں سجا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی ’تال ٹھونکتا‘ نظر آتا ہے، کوئی ’مہا مقابلہ‘ کرواتا ہے تو کوئی ’دنگل‘ اور کوئی ’سیدھی ٹکر‘ جیسے بے تکے اور عنوانات سے ٹی آر پی سے زیادہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ویسے اس نفرت انگیزی کے لئے جتنے قصوروار نیوز چینل اور اینکر ہیں، اتنے ہی ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں، جو ان غیر ضروری مباحثوں میں شرکت کرتے ہیں۔ کیوں کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر وہ لوگ بھی اس نفرت انگیز مہم میں شامل ہوتے ہیں۔

افسوس پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک کا میڈیا نفرت انگیزی کی اپنی روش پر ہنوز قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا مہذب طبقہ، ذمہ دار شہری اور مختلف شعبوں سے وابستہ سنجیدہ افراد کے علاوہ عدلیہ کی بار بار تنبیہ کے باوجود نفرت انگیز میڈیا اپنے ایجنڈے کے مطابق کام کرنے سے باز نہیں آ رہا ہے۔

آر ایس ایس سربراہ بھلے ہی مسجد یا مدرسے کا دورہ کریں، خیر سگالی یا ہندو مسلم کے درمیان خلیج کم کرنے کی کوشش کا دعویٰ کریں یا کچھ مسلم شخصیات سے گفتگو کریں، مگر زمینی سطح پر نفرت کے جو بیج بوئے گئے ہیں اور میڈیا کے ایک طبقہ نے ان میں کھاد اور پانی لگایا ہے، جب تک اس کی جڑوں میں تیزاب نہیں ڈالا جائے گا، اس وقت تک حالات سازگار ہونے والے نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی خاموشی پر اٹھائے سوال

اس ضمن میں عدلیہ یا حکومت ہی کوئی ٹھوس قدم اٹھا سکتی ہے، مگر عدلیہ نے ابھی تک صرف سخت تبصروں اور سرزنش سے ہی کام چلایا ہے۔ موجودہ حکومت سے تو فی الحال کسی خیر کی امید ہی نہیں ہے۔ آئے دن حکمراں طبقہ کے نفرت پر مبنی بیانات اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اسی لئے اپنے تازہ تبصرے میں سپریم کورٹ نے جہاں نفرت انگیز میڈیا کی سخت سرزنش کی ہے، وہیں مرکزی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے اس سے جواب طلب کیا ہے۔

نیوز اینکروں کے تعلق سے سپریم کورٹ کا تبصرہ ان کے ہوش ٹھکانے لگانے والا ہے، مگر جب ان اینکروں نے صحافت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور بے شرمی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں، تو ان کے رویوں میں کسی مثبت تبدیلی کی امید بہت کم نظر آتی ہے۔ میڈیا کی نفرت انگیزی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے میڈیا پر کئی سوال اٹھائے۔ عدالت عظمی نے پوچھا کہ جس طرح کے مباحثے میڈیا اور خاص طور پر نیوز چینلوں کے ذریعے پیش کئے جاتے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک کہاں جا رہا ہے؟ ان نیوز چینلوں کے اینکروں پر بڑی ذمہ داری ہے، لیکن وہ سب سے زیادہ نفرت انگیزی سے کام لیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مرکزسے دو ہفتوں میں جواب مانگا

اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت کے رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں مرکز خاموش کیوں ہے؟ ہمیں ریگولیٹری سسٹم ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزسے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ ملک میں نفرت انگیز مواد عام کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ نے بہت سخت تبصرے کئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اس سے سرمایہ کماتی ہیں اور ٹی وی چینل ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر نفرت انگیز مواد ٹی وی اور سوشل میڈیا پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس ٹی وی کے حوالے سے کوئی ریگولیٹری میکانزم نہیں ہے۔

انگلینڈ میں ایک ٹی وی چینل پر صرف نفرت انگیزی کی وجہ سے بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے وہ نظام ہندوستان میں موجود نہیں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اینکروں کے ذہن میں یہ بات بٹھادی جائے کہ اگر آپ غلط کریں گے تو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ جسٹس جوزف نے خاص طور پر اس معاملے میں کہا کہ نفرت انگیزی کا سب سے زیادہ فائدہ سیاست دان اٹھا رہے ہیں اور انہیں روکنے کے ساتھ ساتھ نفرت کی اس کھیتی کو روکنے کے لئے ایک باقاعدہ نظام لانے کی اشد ضرورت ہے۔

نیوز اینکروں کی دھاندلیوں پر مرکز خاموش کیوں؟

جسٹس جوزف نے اس دوران مرکز سے سوال کیا کہ نیوز اینکر اتنی بڑی دھاندلیاں کرتے ہیں تو مرکز خاموش کیوں رہتا ہے؟ سامنے کیوں نہیں آتا اور انہیں لگام کیوں نہیں دیتا۔ حکومت کو بطور ادارہ متحرک رہنا چا ہئے۔ مرکز کو پہل کرنی چا ہئے لیکن یہاں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنا رہتا ہے جس سے نیوز اینکروں کے حوصلہ بلند ہوجاتے ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک نفرت انگیزی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔

اس تعلق سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ میں سرکاری نمائندے نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیشن کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے۔ درحقیقت ریگولیشن کے سلسلہ میں کوئی باضابطہ التزام نہ ہونے کے سبب حکومت کیبل ٹی وی نیٹ ورکس کے ضابطوں کے تحت نیوز چینلوں کے نشریاتی مواد کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس میں یہ التزام ہے کہ کیبل سروس ایسا کوئی پروگرام نشر نہیں کر سکتی جو کسی خاص فرقے اور مذہب کے خلاف ہو۔

نیز ایسے پروگرام نشر نہ کیے جائیں جو معاشرے میں علیحدگی یا نفرت پھیلاتے ہوں۔ جو پروگرام حقائق پر مبنی نہ ہوں، انھیں نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ساتھ ہی حکومت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کس چینل کو نشریات کی اجازت ہے اور کس قسم کا نشریاتی مواد ہوگا، لیکن نیوز چینلوں کے مواد اور پروگراوں کو دیکھ کر کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ ان چینلوں کے ریگولیٹری ادارے بھی خاموش ہیں۔

چینل مالکان کو بھی جوابدہ بنانے کی ضرورت

نیوز براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن (این بی اے) چینلوں کی ساکھ اور اخلاقیات کے مسائل پر کچھ کرتی نظر نہیں آتی۔ یہ سوال حکومت سے کیا ہی جا سکتا ہے کہ وہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات کیوں نہیں کررہی ہے؟ بہر حال، عدالت عظمیٰ کی سخت سرزنش اور تبصروں کے تناظر میں چوتھا ستون ہونے کا دعویٰ کرنے والے میڈیا اداروں کو ذمہ داری سے کام لینا ہو گا۔ صرف اینکروں اور مباحثوں میں شامل افراد کو قصوروار ٹھہرا کر کام نہیں چل سکتا۔ چینل مالکان کو بھی اس کے تئیں جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

اساتذہ کی بھرتی بدعنوانی کیس میں نیا موڑ: سبریش بھٹاچاریہ نے سارا ملبہ پارتھو چٹرجی پر ڈال دیا

0
اساتذہ کی بھرتی بدعنوانی کیس میں نیا موڑ: سبریش بھٹاچاریہ نے سارا ملبہ پارتھو چٹرجی پر ڈال دیا
اساتذہ کی بھرتی بدعنوانی کیس میں نیا موڑ: سبریش بھٹاچاریہ نے سارا ملبہ پارتھو چٹرجی پر ڈال دیا

سی بی آئی ذرائع کے مطابق سبریش بھٹاچاریہ سے ملی معلومات کی بنیاد پر تفتیش کار اگلے ہفتے کے اوائل میں جیل جائیں گے اور کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ کریں گے

کلکتہ: اسکول سروس کمیشن کے تحت اساتذہ کی بھرتی بدعنوانی کیس میں نیا موڑ آگیا ہے۔ سی بی آئی کے ذریعہ گرفتار اسکول سروس کمیشن کے سابق چیرمین اور شمالی بنگال یونیورسٹی کے وائس چانسلر خیز سبریش بھٹاچاریہ نے سی بی آئی کو بتایا ہے کہ تقرری کے احکامات وزارت کی طرف سے آرہے تھے۔

انہوں نے جانچ ایجنسی کو بتایا ہے کہ وزیر کا قریبی شخص وزیر کی طرف سے تمام پیغامات یا ہدایات دیتا تھا۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق سبریش بھٹاچاریہ سے ملی معلومات کی بنیاد پر تفتیش کار اگلے ہفتے کے اوائل میں جیل جائیں گے اور کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ کریں گے۔

ایس ایس سی بدعنوانی کی جانچ میں کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کے دوران سبریش بھٹاچاریہ کا نام سامنے آیا تھا۔ کئی دستاویزات بھی قبضے میں لیا گیا تھا۔ سی بی آئی کو یقین ہے کہ سبریش بھٹاچاریہ بھی اس گھوٹالہ میں ملوث ہیں۔ سی بی آئی نے جنوبی کلکتہ کے بانسدرونی میں سبریش بھٹاچاریہ کے فلیٹ کی کئی بار تلاشی لی۔ سی بی آئی نے شمالی بنگال کے سلی گوڑی میں بھی تلاشی لی تھی۔ ایس ایس سی کے سابق چیئرمین سبریش بھٹاچاریہ شمالی بنگال یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔

پارتھا چٹرجی نے دعویٰ کیا کہ فائل محکمہ سے آتی تھی

اب سبریش بھٹاچاریہ نے سی بی آئی کے سامنے جرح میں دعویٰ کیا ہے کہ ہدایات اوپری طبقے سے آتی تھیں۔ جو وزیر کے قریب ہوتا تھا اس کے لیے تمام احکامات دیتا تھا۔ اس دوران ریاست کے سابق وزیر تعلیم پارتھا چٹرجی نے ایک بار پھر محکمہ تعلیم کو ایس ایس سی بھرتیوں میں بدعنوانی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ سی بی آئی کی پوچھ گچھ میں پارتھا چٹرجی نے دعویٰ کیا کہ فائل محکمہ سے آتی تھی۔ میں نے اس پر صرف دستخط کیے ہیں۔ میرے پاس بہت محدود طاقت تھی۔ میں نے ان پر بھروسہ کیا۔’ اس کے علاوہ عدالت میں کھڑے ہو کر انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ میرا کردار کیا ہے؟ ایس ایس سی ایک الگ ادارہ ہے۔ جو تقرری کرنے کا مجاز ہے۔

امبانی۔اڈانی کو دنیا کا سب سے امیر آدمی بنانا مودی کا ہدف: سنجے سنگھ

0
امبانی۔اڈانی کو دنیا کا سب سے امیر آدمی بنانا مودی کا ہدف: سنجے سنگھ
امبانی۔اڈانی کو دنیا کا سب سے امیر آدمی بنانا مودی کا ہدف: سنجے سنگھ

سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے سرمایہ دار دوست امبانی۔اڈانی کی جائیدادوں میں اضافہ کرنے کی وجہ سے مرکزی حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس معاف کردیا

مرادآباد: عام آدمی پارٹی (عاپ) کے راجیہ سبھا رکن و اترپردیش کے انچارج سنجے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ہدف ملک کے دو سرمایہ دار مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کو دنیا کا سب سے امیر آدمی بنانا ہے۔

سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ وزیر اعظم مودی کے سرمایہ دار دوستوں کی جائیدادوں میں اضافہ کرنے کی وجہ سے مرکزی حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس معاف کردیا۔ جبکہ مہنگائی سے پریشان عام عوام کی ضروری چیزیں آٹا۔دال دوا پر ٹیکس بڑھا دیاہے۔

سنگھ نے روہیل کھنڈ خطے کے کارکن سمیلن میں شرکت کرنے کے بعد میڈیا نمائندوں سے کہا کہ آپ کنوینر اروند کیجریوال نے ہندو مسلمان مسئلے سے اوپر تعلیم، صحت، نوکری اور دیگر بنیادی مسائل پر بی جے پی کو سیاست کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ جس سے بی جے پی بوکھلاہٹ میں اپوزیشن پر بے بنیاد الزامات لگارہی ہے۔ اس لئے مرکزی حکومت کی دہلی پولیس نے مجرمین کے بجائے اپوزیشن کو پکڑنے میں طاقت جھونک دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں انتخابی نتائج کے بعد پارٹی کی دنوں۔دن بڑھتی مقبولیت سے بی جے پی کے حواس باختہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی پالیسیوں میں عوام کا اعتماد بڑھنے سے بلدیاتی انتخابات میں بغیر گھپلے کے صفائی ملازمین کی تقرری تک نہیں ہوپارہی ہے۔

مدھیہ پردیش: ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ طلباء کو کیمپس پلیسمنٹ کے لیے تیار کرے گا

0
مدھیہ پردیش: ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ طلباء کو کیمپس پلیسمنٹ کے لیے تیار کرے گا
مدھیہ پردیش: ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ طلباء کو کیمپس پلیسمنٹ کے لیے تیار کرے گا

ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے تمام انجینئرنگ اور پولی ٹیکنیک کالجوں کو تربیتی پروگرام تیار کرنے کے لیے کہا ہے، پرنسپل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور کیلنڈر تیار کریں

بھوپال: ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ مدھیہ پردیش کے انجینئرنگ اور پولی ٹیکنک کے طلباء کو بھرتی کے لیے آنے والی کمپنیوں کی ضرورت کے مطابق تربیت دے گا۔

تکنیکی تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کی وزیر محترمہ یشودھرا راجے سندھیا نے اس سلسلے میں بدھ کو ایک ویبینار میں ایلیویٹ -2022 پروگرام کا آغاز کیا۔ اس دوران سیلز فورس انڈیا کے سینئر نائب صدر سنکیت اتل نے بتایا کہ کمپنی نے سیلز فورس کے پلیٹ فارم پر تقریباً 65 ہزار طلباء کا ڈیٹا اپ لوڈ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایلیویٹ 2022 پروگرام سیلز فورس کے ذریعے براہ راست اور بالواسطہ ملازمتوں تک رسائی حاصل کرنے کا طریقہ سیکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

ریاست کے انجینئرنگ اور پولی ٹیکنیک کالجوں کے طلباء کی تقرری اور ہنر مندی کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ تکنیکی تعلیم کے ذریعے مختلف سطحوں پر تربیت کا انعقاد کیا جائے گا۔ پہلے سال میں طلبا میں کمیونیکیشن کی مہارت پیدا کی جائے گی۔ دوسرے سال میں مقداری اہلیت اور تیسرے سال میں منطقی استدلال اور ڈیجیٹل روانی، آخری سال میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، مشین لرننگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اینالیسس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے مضامین کی تربیت دی جائے گی۔

ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے تمام انجینئرنگ اور پولی ٹیکنیک کالجوں کو تربیتی پروگرام تیار کرنے کے لیے کہا ہے۔ پرنسپل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور کیلنڈر تیار کریں۔ پلیسمنٹ سیل اور اسٹوڈنٹ پلیسمنٹ کمپنی کے لیے ٹائم ٹیبل میں ایک گھنٹے کا اضافی سلاٹ ترتیب دینے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔

گیان واپی معاملہ: شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ

0
گیان واپی معاملہ: شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ
گیان واپی معاملہ: شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ

ہندو فریق کی جانب سے پانچ خواتین نے گیان واپی احاطے میں شرنگار گوری اور دیگر دیوی۔دیوتاؤں کی مستقل پوجا کی اجازت دینے کے مطالبے کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے

وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گیان واپی معاملہ پر ضلع عدالت میں جمعرات کو سماعت کے دوران ہندو فریق نے گیان واپی مسجد احاطے کے اندر وضو خانے (حوض) میں موجود شیولنگ/فوارے اور ہندو علامتی نشانات سمیت دیگر اشیاء کی کاربن ڈیٹنگ کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کاربن ڈیٹنگ تکنیک سے کوئی چیز کتنی قدیم ہے اس بات کا تعین کیا جاتاہے۔ ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر اجئے کرشن وشویش نے اس معاملے میں سماعت کی اگلی تاریخ 29 ستمبر طے کی ہے۔

ملحوظ رہے کہ گیان واپی احاطے میں ویڈیو گرافی سروے کے دوران مسجد کے اندر موجود حوض کے درمیان میں گنبد نما پتھر کے حصے کو ہندو فریق نے شیولنگ ہونے کا دعوی کیا تھا جب کہ مسلم فریق کا دعوی ہے کہ یہ حوض میں لگا فوارہ ہے جیسا کہ ہر مسجد کے حوج میں فوارہ ہوتا ہے۔

سماعت کو 8 ہفتے کے لئے موخر کرنے کی مسلم فریق کی اپیل

آج کی سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے عدالت سے اپیل کی گئی کہ سماعت کو 08 ہفتے کے لئے موخر کردیا جائے تاکہ عدالت کے سابقہ فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی جاسکے۔ عدالت نے مسلم فریق کے اس مطالبے کو خارج کردیا اور سماعت کی اگلی تاریخ 29 ستمبر طے کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ضلع عدالت نے گذشتہ 12 ستمبر کو اس مقدمے کی سماعت کے جواز پر سوالیہ نشان لگانے والی مسلم فریق کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے مقدمہ کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔مسلم فریق نے سول پروسیزر کوڈ کے آرڈو 7 وصول 11 کے تحت ہندو فریق کی عرضی کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے مسلم فریق کی دلیل کو خارج کرتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ مقدمہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے ایکٹ سے پابند نہیں ہے۔ لہذا اس پر سماعت جاری رہے گی۔ ہندو فریق کی جانب سے پانچ خواتین نے گیان واپی احاطے میں شرنگار گوری اور دیگر دیوی۔دیوتاؤں کی مستقل پوجا کی اجازت دینے کے مطالبے کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ریکارڈ، 80.79 روپے فی ڈالر

0
روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ریکارڈ، 80.79 روپے فی ڈالر
روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ریکارڈ، 80.79 روپے فی ڈالر

سود کی شرح میں مسلسل تیسری بار 0.75 فیصد اضافے کی وجہ سے آج انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ہوئی

ممبئی: سود کی شرح میں مسلسل تیسری بار 0.75 فیصد اضافے کی وجہ سے دنیا کی اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کے دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے دباؤ کے تحت آج انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ہوئی۔

اسی طرح گزشتہ کاروباری روز روپیہ 22 پیسے کم ہوکر 79.96 روپے فی ڈالر پر آگیا تھا۔

کاروبار کے آغاز پر روپیہ 31 پیسے کی کمی سے 80.27 روپے فی ڈالر پر کھلا اور خرید کی وجہ سے 80.95 روپے فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگیا۔ تاہم فروخت کے باعث یہ بھی 80.27 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر رہا۔ آخر کار یہ پچھلے سیشن میں 79.96 روپے فی ڈالر کے مقابلے میں 83 پیسے گر کر 80.79 روپے فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) نے مسلسل تیسری بار شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اگلی میٹنگ میں شرح سود میں اضافے کا عندیہ دیا ہے جو امریکا میں 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا کی بڑی کرنسیوں کے مقابلے روپے میں بڑی گراوٹ ہوئی ہے اور ڈالر دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ

0
نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ
نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ

جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے 9ویں اور 10ویں کلاس کے لئے اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کی جانچ کررہی سی بی آئی سے سوال کیا ہے کہ اس نے اب تک کتنی غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف کیا ہے

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے 9ویں اور 10ویں کلاس کے لئے اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کی جانچ کررہی سی بی آئی سے سوال کیا ہے کہ اس نے اب تک کتنی غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف کیا ہے۔

جسٹس گنگولی نے کہا کہ چوں کہ اس وقت ان دونوں جماعتوں کے لئے حکومت اساتذۃ کی بحالی کرنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ سی بی آئی نے اب تک کتنے غیرقانونی طریقے سے نوکری حاصل کرنے والوں کی شناخت کی ہے۔ کمیشن کے کاغذات دیکھ کر کتنے غیر قانونی طریقے سے روزگار لینے والوں کی شناخت ہوئی ہے۔

اسکول سروس کمیشن کے وکیل نے کہا کہ سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے، کئی لوگ حراست میں ہیں اور تفتیش جاری ہے، وہ اصل تعداد بتا سکیں گے۔ جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے جواب دیا کہ سی بی آئی کو فوری طور پر ایک مختصر رپورٹ پیش کرنی چاہئے کہ کتنی غیر قانونی تقرریاں کی گئی ہیں۔ کمیشن کے وکیل نے کہا کہ غیر قانونی بھرتیوں کی اصل تعداد بتانا بہت مشکل ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک یہ کہنا مشکل ہے کہ پردے کے پیچھے کتنی غیر قانونی بھرتیاں ہوئی ہیں۔ میرٹ لسٹ شائع ہوئی، ہائی جمپ لگانے والوں سے پوچھ گچھ کی جائے تو ہی معاملہ واضح ہو گا۔‘‘

عدالت میں 17 غیر قانونی تقرریوں کی شناخت

جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے کہا کہ ویں-دسویں جماعت کے اساتذہ کی تقرری میں عدالت میں 17 غیر قانونی تقرریوں کی شناخت ہوچکی ہے۔ سی بی آئی اور کمیشن دونوں کو 17 غیر قانونی بھرتیوں کے بارے میں اصل معلومات فراہم کرنی چاہئے۔ عدالت نے سی بی آئی اور کمیشن کو 28 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت نے کہا کہ تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد غیر قانونی تقرریوں کی تعداد بتائی جائے۔ عدالت اس بنیاد پر تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کر دے گی۔ ہائی کورٹ ان لوگوں کی تقرری کرے گی جو محروم اہلیت کی ویٹنگ لسٹ میں ہیں۔ مدھیہ شکشا پریشد جمعہ (23 ستمبر) تک کلاس IX-X کے لیے کس کی تقرری کی فہرست پیش کرے گی۔