بدھ, اپریل 8, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 205

ہندوستانی ریلوے کل سے پیپر لیس ہو جائے گی

0
ہندوستانی ریلوے کل سے پیپر لیس ہو جائے گی
ہندوستانی ریلوے کل سے پیپر لیس ہو جائے گی

ریلوے کی وزارت نے آج یہاں کہا کہ ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستانی ریلوے نے منگل سے فائلوں کو ڈیجیٹائز کرکے اپنے پورے کام کاج کو پیپر لیس بنانے اور ای-آفس سسٹم کے ذریعے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے

نئی دہلی: ہندوستانی ریلوے کل سے اپنے کام کاج کو پیپر لیس کرنے جا رہا ہے۔ ملک بھر میں ریلوے کی ہر فائل اور دستاویز اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے چلائے جائیں گے۔

ریلوے کی وزارت نے آج یہاں کہا کہ ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستانی ریلوے نے منگل سے فائلوں کو ڈیجیٹائز کرکے اپنے پورے کام کاج کو پیپر لیس بنانے اور ای-آفس سسٹم کے ذریعے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

گزشتہ سال 15 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب سے متاثر ہو کر حکومت نے ستمبر-اکتوبر 2021 میں ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا تاکہ ارد گرد صفائی کو یقینی بنایا جا سکے، التوا کو کم کیا جا سکے اور کام کی جگہوں پر کام کے کلچر کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس خصوصی مہم کی کامیابی سے حوصلہ پاتے ہوئے، اس سال ستمبر میں، حکومت نے اس مہم کے سیکوئل کو ’خصوصی مہم 2.0‘ کے نام سے دوبارہ شروع کیا۔ اس میں صفائی اور گڈ گورننس کو مزید فروغ دینے اور بہتر ورک کلچر کے ذریعے اعلیٰ اہداف کا تعین کیا گیا۔

خصوصی مہم 2.0 کے تحت وزارت ریلوے نے اپنے کام کاج کے میدان میں اعلیٰ معیارات قائم کیے ہیں اور اس میں پورے ریلوے نظام کو شامل کیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے نے اپنے تمام 7337 اسٹیشنوں کو سووچھ مہم میں شامل کیا ہے۔ اسٹیشنوں کی مشینوں سے صفائی ستھرائی پر خصوصی زور دیا گیا۔ ریل گاڑیوں اور اسٹیشنوں (بشمول بڑے اسٹیشنوں تک جانے والی ریلوے لائنوں) کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے ساتھ پلاسٹک اور دیگر کچرے کو جمع کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اوپر سے نیچے تک تمام ملازمین کا خاکہ تیار

دو اکتوبر سے، وزارت ریلوے نے 9000 سے زائد صفائی مہمات چلائی ہیں، جس میں اس کے اسٹیشن، دفاتر، ورکشاپس، پروڈکٹی وٹی یونٹس اور دیگر محکموں کو شامل کیا گیا ہے اور 100 فیصد ہدف حاصل کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ دستی فائلوں اور تقریباً 30 ہزار ای فائلوں کی نشاندہی کی گئی اور ان کا جائزہ لیا گیا۔ اوپر سے نیچے تک تمام ملازمین کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے اور تمام زیر التوا معاملوں کو نمٹا دیا گیا ہے۔ ان میں وی آئی پی/ ایم پی/ ایم ایل اے حوالہ جات، پارلیمانی حوالہ جات، ریاستی حکومت/وزیر اعظم کے دفتر کے حوالہ جات شامل ہیں۔

اب تک تقریباً 80 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ خصوصی مہم 2.0 کے 20 دنوں میں، ریلوے کی وزارت نے 3000 سے زیادہ وی آئی پی حوالہ جات، 160 ریاستی حکومت کے حوالہ جات اور دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ عوامی شکایات کا ازالہ کیا ہے۔ یونٹس کے سینئر ترین افسران آپریشن کی سخت نگرانی کر رہے ہیں۔ مہم کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے وہ اپنے متعلقہ دفاتر کے باقاعدہ دورے کر رہے ہیں۔ 33 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا کباڑ فروخت کرے 16 ہزار مربع فٹ جگہ خالی کرائی گئی۔ صفائی کی بیداری کے لیے نکڑ ناٹک کا انعقاد کیا گیا۔

مہم کے دوران کئی دیگر اقدامات بھی کیے گئے جیسے آن لائن عمل کے لیے آئی ٹی ایپلی کیشن کی ترقی، وی آئی پی (ایم پی/ایم ایل اے) حوالوں کو نمٹانا اور پارلیمانی حوالوں کو حل کرنا جیسے کہ سیکشن 377 کے تحت زیرو آور کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے اٹھائے گئے معاملے۔

آئی ٹی ایپلی کیشن میں کئی نکات شامل

وی آئی پی حوالوں کی نگرانی کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ آئی ٹی ایپلی کیشن میں کئی نکات شامل ہیں، جیسے حوالہ جات کی رجسٹریشن (اپ لوڈنگ)، یونٹس/افسران کو بھیجنا، ان کے جوابات کی وصولی، متعلقہ یونٹ کے ذریعے پروسیس کی تکمیل اور وزیر ریلوے/ایم او ایس/جواب جی ایم/ ڈی آر ایم وغیرہ کی طرف سے جاری کردہ ایم آئی ایس رپورٹس کی تعداد بھی موضوع /وی آئی پی/ریاست/یونٹ (ڈائریکٹوریٹ/زونل ریلوے وغیرہ)/وقت کی مدت کے تناظر میں درج کی جا سکتی ہے۔

یہ سسٹم متعلقہ حکام کو ہفتہ وار ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے اس معاملے کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔ وزراء/افسران صرف ایک بٹن پر کلک کرکے عوامی نمائندے کو دیئے گئے جواب کے بارے میں اطلاع دے سکتے ہیں۔

اسی طرح پارلیمانی ریفرنسز کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے ایک اور ماڈیول بھی تیار کیا گیا ہے جس میں وی آئی پی ریفرنسز کی نگرانی کے لیے ایم آئی ایس کی تمام خصوصیات شامل ہیں۔ ان دونوں درخواستوں کی ترقی نے وزارت ریلوے کو ان حوالوں سے نمٹنے کے قابل بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ ’ریل مدد پورٹل‘ کے ذریعے بھی عوامی شکایات کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس میں شکایات کو حقیقی وقت میں نمٹایا جا سکتا ہے۔ اس میں زیر التوا معاملات کی نگرانی اور ان شکایات کو نمٹانا بھی ممکن ہوسکے گا۔

کیف: یوکرین کے دارالحکومت سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

0
کیف: یوکرین کے دارالحکومت سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
کیف: یوکرین کے دارالحکومت سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

خبر کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازوں کے بعد شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں

کیف: یوکرین کے دارالحکومت میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازوں کے بعد شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے عینی شاہدوں کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ آج صبح کیف سے دھماکوں کی متعدد آوازیں سُنی گئی ہیں۔ خبر کے مطابق تقریباً 10 دھماکوں کی آوازوں کے بعد شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

یوکرین کے شمالی، مشرقی اور مرکزی علاقوں سے بھی میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خارکیف بلدیہ مئیر ایہور تیریخوف نے کہا ہے کہ شہر کے اہم انفراسٹرکچر کو 2 میزائلوں کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ روس نے یوکرین کو 8 اکتوبر کے کیرچ پُل دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے بعد سے یوکرین پر حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ روسی فوجیوں سے 24 فروری کو یوکرین پر حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے عصمت دری کی متاثرہ کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر لگائی روک

0
سپریم کورٹ نے عصمت دری کی متاثرہ کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر لگائی روک
سپریم کورٹ نے عصمت دری کی متاثرہ کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر لگائی روک

تلنگانہ کی ایک عدالت نے عصمت دری کے مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، لیکن ریاست کی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز عصمت دری معاملے کی جانچ کے دوران ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کرائے جانے کو غیر سائنسی، پدرانہ، صنفی امتیاز اور متاثرہ کو دوبارہ اذیت پہنچانے والا قرار دیتے ہوئے اس طریقہ کار پر فوری طور پر روک لگانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور ہیما کوہلی کی بنچ نے مرکزی حکومت کو ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر فوری روک لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے جانچ کرنے والے کو قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عصمت دری متاثرین کا ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ نہ کروایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمام ریاستوں کے پولیس سربراہوں کو اپنے حکم کی کاپی بھیجنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے دیا ہے۔

تلنگانہ کی ایک عدالت نے عصمت دری کے مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، لیکن ریاست کی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے پیر کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی طرف سے مجرموں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو قانونی قرار دیا۔

’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں

سپریم کورٹ نے اس کیس کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ تفتیش کا یہ عمل ایک غلط عقیدہ پر مبنی ہے، جو متاثرہ کو دوبارہ اذیت دیتا ہے۔ عدالت عظمیٰ بار بار تحقیقات کا ایسا طریقہ اختیار کرنے کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہے۔

جسٹس چندر چوڑ، جنہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا، نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کا چلن آج بھی جاری ہے۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس عدالت نے عصمت دری اور جنسی زیادتی کے معاملات میں ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کے عمل کی بار بار مذمت کی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا ’’نام نہاد ٹیسٹ کے لئے کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ اس سے خواتین کو بار بار تکلیف ہوتی ہے۔ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ غلط عقیدے پر مبنی ہے کہ ایک جنسی طور پر فعال خاتون کی عصمت دری نہیں کی جا سکتی۔ سچائی سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں

0
ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں
ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں پرامن، آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کل 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں

شملہ: ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں پرامن، آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کل 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 7235 دیہی علاقوں اور 646 شہری علاقوں میں ہیں۔

یہ اطلاع ہفتہ کو یہاں چیف الیکشن آفیسر منیش گرگ نے دی۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ 1625 پولنگ سٹیشن کانگڑا ضلع میں اور سب سے کم 92 لاہول اسپتی ضلع میں ہیں۔ ریاست میں تین معاون پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں دھرم شالہ کے سدھ باڑی، بیجناتھ کے بڈبھنگل اور کسولی کے ڈھلون شامل ہیں۔ کانگڑا ضلع کے دھرم شالہ اسمبلی حلقہ کے تحت سدھ باڑی پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ 1511 ووٹر ہیں جبکہ کنور میں کم از کم 16 ووٹر ہیں۔ ریاست میں دور دراز پولنگ اسٹیشن بھی ہیں، جہاں تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ سے 14 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔

دور افتادہ چمبا ضلع میں، ڈلہوزی اسمبلی حلقہ کے تحت منولا پولنگ اسٹیشن میں سب سے زیادہ 1459 ووٹر ہیں جبکہ بھرمور کے کیونار میں صرف 84 ووٹر ہیں۔ قبائلی اسمبلی حلقہ بھرمور کا چک بٹوری ایک ایسا ہی پولنگ اسٹیشن ہے جہاں پولنگ پارٹی کو پہنچنے کے لیے 14 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا

0
یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا
یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا

مسٹر کولیبا نے کہا کہ آج مجھے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا فون آیا۔ میں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کرنے اور اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری طور پر بند کرے

کیف: یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر روس کو ‘کامی کاز’ ڈرون فراہم کر رہا ہے، جنہیں روسی فوج نے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔

تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کی اور واضح کیا کہ اس نے روس کو ڈرون سمیت کوئی ہتھیار نہیں بھیجا ہے۔

مسٹر کولیبا نے جمعہ کو دیر گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "آج مجھے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا فون آیا۔ میں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کرنے اور اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری طور پر بند کرے۔”

روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر ایک بار پھر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ تازہ ترین حملوں سے یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور کیف اور ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کو بجلی کی غیر معمولی کمی کا سامنا ہے۔

یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے حملوں میں ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے ہیں، جو اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عبداللہیان نے الزامات کی تردید کی

ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر امیر عبداللہیان نے روس کے یوکرین میں استعمال کے لیے ڈرون فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے روس سے اسلحہ لیا اور انہیں ہتھیار بھی دیے لیکن یوکرین جنگ کے دوران ہتھیاروں کا تبادلہ نہیں ہوا۔

یوکرین نے جمعہ کو کہا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے ستمبر کے وسط سے اب تک 300 سے زیادہ روسی ڈرون مار گرائے ہیں، جن کی شناخت ایک ایرانی ساختہ ڈرون ‘شاہد 136’ کے طور پر کی گئی ہے۔

شئیر بازار تیزی کے ساتھ بند

0
شئیر بازار تیزی کے ساتھ بند
شئیر بازار تیزی کے ساتھ بند

عالمی بازار میں ملے جلے رجحان کے درمیان شئیر بازار گراوٹ سے ابھرتے ہوئے آج تیزی کے ساتھ بند ہوا

ممبئی: عالمی بازار میں ملے جلے رجحان کے درمیان میٹلز، ریئلٹی، آئل اینڈ گیس اور پاور سمیت 17 گروپوں میں خریداری کی بدولت شئیر بازار گراوٹ سے ابھرتے ہوئے آج تیزی کے ساتھ بند ہوا۔

بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 212.88 پوائنٹس مضبوط کر 59756.84 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 80.60 پوائنٹس چڑھ کر 17736.95 پر پہنچ گیا۔ اس مدت کے دوران بی ایس ای کا مڈ کیپ 0.44 فیصد بڑھ کر 25,151.71 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.41 فیصد چڑھ کر 28,866.12 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3549 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1832 کے حصص سبز جبکہ 1586 سرخ نشان پر رہے جبکہ 131 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 38 کمپنیاں خریداری ہوئی جبکہ باقی 12 میں فروخت ہوئی۔

بی ایس ای میں ٹیک اور آئی ٹی گروپ کے 0.48 فیصد تک گراوٹ کو چھوڑ کر 17 گروپوں میں تیزی رہی۔ اس دوران میٹلز 3.02، رئیلٹی 2.95، کموڈٹیز 1.37، انرجی 1.14، ہیلتھ کیئر 0.69، انڈسٹریلس 0.60، ٹیلی کام 1.07، یوٹیلٹیز 1.85، بینکنگ 0.57، کیپٹل گڈز 0.73، کنزیومر ڈیوریبلز 0.73، آئل یاینڈ گیس 1.39 اور پاور گروپ کے شیئر 1.84 فیصد مضبوط ہوئے۔

بین الاقوامی سطح پر ملا جلا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.20 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.72 فیصد بڑھا جبکہ جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.62، جاپان کا نکئی 0.32 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ اس عرصے کے دوران 0.55 فیصد گرا۔

اروند کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے: دیویندر سنگھ

0
اروند کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے: دیویندر سنگھ
اروند کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے: دیویندر سنگھ

دیویندر سنگھ نے کہا کہ یہ بیان دے کر مسٹر کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے، جب کہ وہ خود ایک آئینی عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر ایک سیکولر ملک پر ہندو شاونزم مسلط کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے سیکولر اقدار اور آئین کے بنیادی اصولوں کی ناقابل معافی توہین ہے

چنڈی گڑھ: پنجاب قانون ساز اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر بیر دیویندر سنگھ نے جمعرات کو الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کرنسی نوٹوں پر گنیش لکشمی کی تصویر لگانے کی اپیل کر کے آئین کی توہین کی ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کل کہا تھا کہ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت کو بہتر بنانے اور ملک کی خوشحالی کے لیے دیوتاؤں کا آشیرواد حاصل کرنے کے لیے کرنسی نوٹوں پر گنیش-لکشمی کی تصویریں چھاپی جانی چاہییں۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ بیان دے کر مسٹر کیجریوال نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ وہ خود ایک آئینی عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر ایک سیکولر ملک پر ہندو شاونزم مسلط کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے سیکولر اقدار اور آئین کے بنیادی اصولوں کی ناقابل معافی توہین ہے۔

کیجریوال کی گرفتار کا مطالبہ

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسٹر کیجریوال کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف آئین کی سیکولر روح کی توہین کا معاملہ درج کیا جانا چاہئے۔

سابق ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ اگر مسٹر کیجریوال واقعی اس تجویز پر سنجیدہ ہیں تو ملک کی خوشحالی کے لیے وہ خود سب سے پہلے اپنے گالوں اور ماتھے پر دیوی دیوتاؤں کے ٹیٹو لگائیں اور اپنے ایم ایل اے ،ممبران اسمبلی اور اراکین سے بھی ایسا کروائیں۔ ۔ورنہ ایسی تجاویز دینا بند کریں۔

دریں اثنا کانگریس کے لیڈر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوہ نے کل ٹویٹ کرکے الزام لگایا تھا کہ مسٹر کیجریوال کے چہرے سے نقاب اتر چکا ہے اور سچ سامنے آگیا ہے۔ اب دکھاوے کے لیے بھی مکھوٹے کی ضرورت نہیں رہی۔ مسٹر کیجریوال اپنا اصلی رنگ دکھا رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے خود کو ایک وفادار ہندو ثابت کرنے کی کوشش میں مسٹر کیجریوال واقعی ملک کے سماجی اور سیکولر ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسے شرمناک اور بدقسمتی قرار دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ دیکھیں پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان اس پر کیا کہتے ہیں۔

ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کے ساتھ لکشمی گنیش کی تصویر ہو: اروند کیجریوال

0
ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کے ساتھ لکشمی گنیش کی تصویر ہو: اروند کیجریوال
ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کے ساتھ لکشمی گنیش کی تصویر ہو: اروند کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ ہندوستانی کرنسی کے ایک طرف مہاتما گاندھی کی تصویر ہے۔ یہ جوں کی توں رکھی جائے، لیکن دوسری طرف گنیش جی اور لکشمی جی کی تصویر لگائی جائے

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستانی کرنسی پر ایک طرف مہاتما گاندھی اور دوسری طرف لکشمی گنیش جی کی تصویر لگائی جائے۔ مسٹر کیجریوال نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستانی معیشت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے ڈالر کے مقابلے روپیہ دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ان سب چیزوں کا خمیازہ عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے آزادی کے 75 سال بعد بھی ہندوستان کو ترقی پذیر اور غریب ملک سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بنے۔ اس کے لیے بہت محنت اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بڑی تعداد میں سکول اور اسپتال کھولنے ہوں گے۔ ہمیں بہت بڑے پیمانے پر بجلی اور سڑک کا انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔ لیکن کوششیں تب ہی ثمر آور ہوتی ہیں جب ہمیں دیوی دیوتاؤں کا آشیرواد حاصل ہو۔ ہم کئی بار دیکھتے ہیں کہ کوششیں تو ہو رہی ہیں، لیکن نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ اس وقت لگتا ہے کہ دیوی دیوتاؤں کا آشیرواد ہو تو کوششیں پھلنے لگتی ہیں اور اس کے نتائج آنے لگتے ہیں۔

گنیش جی اور لکشمی جی کی پوجا

انہوں نے کہا کہ دیوالی پر ہم سب نے گنیش جی اور لکشمی جی کی پوجا کی۔ ہم سب نے بھگوان سے خوشی اور سکون کی پرارتھنا کی۔ ہم سب نے اپنے اپنے خاندان اور ملک کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تاجر اور صنعت کار اپنے کمرے میں لکشمی جی اور گنیش جی کی مورتی ضرور لگاکر رکھتے ہیں اور ہر صبح کام شروع کرنے سے پہلے ان کی پوجا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ ہندوستانی کرنسی کے ایک طرف مہاتما گاندھی کی تصویر ہے۔ یہ جوں کی توں رکھی جائے، لیکن دوسری طرف گنیش جی اور لکشمی جی کی تصویر لگائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا ایک مسلم ملک ہے۔ انڈونیشیا میں 85 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور وہاں دو فیصد سے بھی کم ہندو ہیں لیکن وہاں ان کے نوٹ پر گنیش جی کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔

ملکارجن کھڑگے کے لئے کانگریس کی صدارت چیلنج مگر ’بھارت جوڑو یاترا’ سے راہیں ہموار

0
ملکارجن کھڑگے کے لئے کانگریس کی صدارت چیلنج مگر ’بھارت جوڑو یاترا’ سے راہیں ہموار
ملکارجن کھڑگے کے لئے کانگریس کی صدارت چیلنج مگر ’بھارت جوڑو یاترا’ سے راہیں ہموار

اگر کھڑگے کے سامنے چیلنجز زیادہ ہیں تو ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی کامیابی کے پیش نظر ان کے لئے یہ وقت موزوں اور مناسب بھی ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حال ہی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے صدور کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ کانگریس سے ملکارجن کھڑگے، سماجوادی پارٹی سے اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل سے لالو پرساد یادو اور بی جے پی سے جے پی نڈا۔ فرق یہ ہے کہ کانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے صدور دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں اور یہ باضابطہ انتخاب کرواکر نہیں، بلکہ ان کے ناموں کا اعلان کرکے دوبارہ صدر بننے کی رسم ادائیگی کی گئی۔

کانگریس پر بھلے ہی کنبہ پروری یا ایک ہی خاندان کی پارٹی کا الزام لگتا رہے، مگر اس بات کا اعتراف ان کے حریفوں کو بھی کرنا چاہئے کہ کانگریس نے پورے انتخابی عمل کے ذریعہ ملکارجن کھڑگے کو اپنا صدر بنایا ہے۔ وہ میڈیا جسے عرف عام میں آج کل ’گودی میڈیا‘ کہا جاتا ہے، جو سرکار کی خوشنودی حاصل کرنے کے سبب کانگریس کو خاطر میں نہیں لاتا، وہ بھی اس انتخابی عمل کو اپنے یہاں جگہ دینے پر مجبور ہوا۔

کانگریس کا صدارتی انتخاب

شاید یہ پہلا موقع ہوگا جب کانگریس کا صدارتی انتخاب اس حد تک موضوع بحث بنا کہ وہ نیوز چینل بھی کسی نہ کسی زاویے سے کوریج کے لئے دوڑ پڑے جو اپوزیشن کی خبروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جبکہ باقی تینوں سیاسی جماعتوں کے صدور کے ناموں کے اعلان کی بس اطلاع دی گئی۔ اگرچہ کانگریس کے صدر کے انتخاب کے دوران جتنا ہو سکتا تھا، منفی پہلو تلاش کرکے پارٹی کی شبیہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ خیر، کھڑگے کو ایسے وقت میں کانگریس کی کمان ملی ہے، جب ان کے سامنے چیلنج ہی چیلنج ہیں۔ ان کے صدر بننے کے بعد یہی سوال سب سے اہم ہے کہ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی کانگریس کو کھڑگے کیسے دوبارہ اس کا کھویا ہوا وقار دلائیں گے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکارجن کھڑگے کو پارٹی صدر کا عہدہ اپنی سیاسی بصیرت، جد و جہد اور محنت کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ کانگریس کے صدارتی انتخاب کا عمل شروع ہونے سے پہلے تک ان کا نام خبروں میں نہیں تھا۔ راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت اس دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ انھیں پارٹی صدر بنا کر کانگریس نے ایک مسئلہ حل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، مگر گہلوت ’ایک شخص ایک عہدہ‘ کی روایت پر عمل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ راجستھان کے وزیر اعلی کے ساتھ ساتھ پارٹی کا صدر بھی بن جانا چاہتے تھے۔ لیکن کھڑگے کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

ایک شخص ایک عہدہ

انھوں نے ایک شخص ایک عہدے کو قبول کیا اور عمر رسیدہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے کانگریس کے صدرکا انتخاب لڑنے پر آمادگی ظاہر کی۔ وہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے، جو ایک اہم اور بڑا عہدہ مانا جاتا ہے۔ اس عہدہ سے استعفیٰ دینے میں اُنہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ انھوں نے اشوک گہلوت کی طرح ایک ساتھ دو عہدوں پر بنے رہنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بھی ایسے وقت میں اُنہوں نے پارٹی کے صدر کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا جب پارٹی کی صدارت کانٹوں بھرا تاج تصور کیا جا رہا ہے۔ پارٹی میں داخلی انتشار اپنے شباب پر ہے۔ انتخابی سیاست میں بار بار ناکامی ہاتھ آ رہی ہے۔ کہیں کہیں جیت کر بھی ہار جانے کی وجہ سے کانگریس کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔

کھڑگے کے سامنے گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات اہم چیلنج

حکمراں جماعت حصول اقتدار کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اور کانٹوں بھرے راستے پر چل کر کھڑگے کانگریس کو منزل کی طرف لے جاتے ہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ کھڑگے کے سامنے فوری طور پر گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات اہم چیلنج ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان میں اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان جاری رسہ کشی کو کس طرح وہ حل کرتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جسے سونیا گاندھی سے لے کر راہل اور پرینکا تک سب ناکام ہو چکے ہیں۔

کھڑگے کے سامنے یہ بھی کسی چیلنج سے کم نہیں کہ 24؍ سال کے بعد ان کی شکل میں ایک غیر گاندھی صدر پارٹی کو ملا ہے۔ انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہوگا کہ پارٹی پر گاندھی خاندان کی گرفت ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ لہذا کھڑگے کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اب پارٹی پر گاندھی خاندان کا نہیں، ان کا اثرورسوخ اور ان کی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ اگرچہ وہ غیر گاندھی صدر ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اُنہیں گاندھی خاندان کا اعتبار حاصل ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کھڑگے پارٹی کے قدآور، تجربہ کار اور بے داغ کردار کے حامل سیاستداں ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے بھی اُن کے تعلقات بہتر مانے جاتے ہیں۔ اِس وقت کانگریس جن حالات سے گزر رہی ہے، ایسے میں گاندھی خاندان کے علاوہ اگر کوئی پارٹی کو بحران سے نکال سکتا تھا، تو اس کے لئے کھڑگے سے بہتر کوئی دوسرا متبادل نظر بھی نہیں آتا ہے۔

کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں نئی روح

نچلی سطح پر کانگریس تنظیم کے لیے کام کرنے والے کارکنوں میں جوش و خروش کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے کارکنوں کو مستقبل کے بارے میں کچھ امید پیدا ہو سکے۔ ملکارجن کھڑگے یقیناً کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں نئی روح پھونکے، نئی اور پرانی نسل کے لیڈروں میں تال میل اور افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے لیڈران سے بہتر تعلقات کا فائدہ 2024ء کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ہی نہیں، اپوزیشن کو بھی ہو سکتا ہے۔ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات کو ان کے دور اقتدار کے سب سے بڑے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر آئندہ انتخاب میں بی جے پی کچھ کمزور ہوتی ہے اور اپوزیشن جماعتیں بہتر پوزیشن حاصل کرتی ہیں تو ایسے میں ملکارجن کھڑگے اہم کڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ زمین سے جڑے ہوئے سیاستداں ہیں اور پارٹی کے ساتھ کم و بیش پانچ دہائیوں سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی سے بھی ظاہر ہے کہ پارٹی کے اندر بھی وہ سب کے لئے قابل احترام ہیں۔ ان کی عمر کو اب تک ان کا منفی پہلو کہا جا رہا ہے۔ لیکن تہی عمر اور ان کا لمبا سیاسی تجربہ ان کے آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے میں سب سے بڑا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کھڑگے کا طویل سیاسی تجربہ کانگریس کے لیے بہت کام آسکتا ہے۔

کھڑگے کی قائدانہ صلاحیت کا امتحان

اس وقت صرف دو ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومت ہے۔ ہماچل پردیش اور گجرات اسمبلی انتخابات کے بعد 2023ء میں ان کی آبائی ریاست کرناٹک سمیت نو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ لہذا کھڑگے کی قائدانہ صلاحیت کا امتحان کانگریس کی انتخابی کامیابی کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کانگریس کے 51؍ سال بعد ایک دلت لیڈر پارٹی صدر کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ چونکہ گجرات، ہماچل پردیش اور کرناٹک کے انتخابات میں دلت رائے دہندگان کا اہم کردار ہے، اس لیے مذکورہ تمام انتخابات میں ملکارجن کھڑگے سے توقعات بہت زیادہ ہوں گی۔ گجرات میں 24؍ سال سے بی جے پی کی حکومت ہے، جب کہ ہماچل میں بھی بی جے پی کا قبضہ ہے۔ بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس کو بھی دونوں ریاستوں میں عام آدمی پارٹی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اروند کیجریوال جس طرح سے گجرات میں سرگرم ہیں، وہ کانگریس کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی

بہر حال، یہ صحیح ہے کہ کھڑگے کو مشکل وقت میں پارٹی کی قیادت ملی ہے، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اب پارٹی کے پاس کھونے کے لئے بہت زیادہ کچھ نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے کانگریس میں یقیناً نئی روح پھونک دی ہے۔ ابھی تک تمل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک میں اس یاترا کا تقریباً ڈیڑھ ماہ پورا ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں پارٹی کارکنان میں نیا جوش و خروش پیدا ہوا ہے اور صرف پارٹی ہی نہیں، عوام کے اندر بھی کانگریس کے تئیں اعتماد بحال ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کھڑگے کے سامنے چیلنجز زیادہ ہیں تو بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی کے پیش نظر ان کے لئے یہ وقت موزوں اور مناسب بھی ہے۔ کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی صدر کا یہ انتخاب نہ صرف کانگریس میں نئی تازگی لا سکتا ہے، بلکہ ملک کے سیاسی نظام کے لیے ایک نقطہ آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نے پارٹی کے اندر داخلی جمہوریت کی ضرورت کو دوبارہ قائم کیا ہے اور دیگر جماعتوں پر ایسے تنظیمی انتخابات کرانے کے لیے مثبت دباؤ بنادیا ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرہیں) yameen@inquilab.com

ایس ایس سی گھوٹالہ: سی بی آئی نے 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

0
ایس ایس سی گھوٹالہ: سی بی آئی نے 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
ایس ایس سی گھوٹالہ: سی بی آئی نے 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

سنٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ایس ایس سی گھوٹالہ معاملے میں مدھیامک بورڈ کے سابق صدر کلیان موئے گنگوپادھیائے سمیت کل 12 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے

کلکتہ: دیوالی کے بعد سی بی آئی ایک بار پھر سرگرم ہوگئی۔ سنٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ایس ایس سی گھوٹالہ معاملے میں مدھیامک بورڈ کے سابق صدر کلیان موئے گنگوپادھیائے سمیت کل 12 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔ اس میں سبریش بھٹاچاریہ، ایس پی سنہا بھی سی بی آئی کی ملزمین کی فہرست میں شامل ہیں۔

ایس ایس سی بھرتی بدعنوانی کے ایک اور معاملے میں، سی بی آئی نے پہلے پارتھو چٹرجی اور 16 دیگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ 2016 میں کلاس گیارہویں اور بارہویں کی بھرتیوں میں بدعنوانی کے الزامات لگے تھے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے منگل کو 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔ چارج شیٹ آج علی پور کی عدالت میں پیش کی گئی۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں ایس ایس سی کے کچھ اہلکاروں کے علاوہ کچھ ایجنٹ کے نام بھی شامل ہیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی سمیت کئی دفعات میں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سی بی آئی نے پوجا کی تعطیلات سے پہلے پارتھو چٹرجی اور ارپیتا مکھرجی کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ اس سے قبل سی بی آئی نے مدھیامک بورڈ کے سابق صدر کو ستمبر کے وسط میں گرفتار کیا تھا۔ 15 ستمبر کو کلیان موئے کو نظام پلس میں بلایا گیا اور 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ کلیان موئے جرح کے دوران سی بی آئی کے کئی سوالوں کے جواب نہیں دے سکے۔ پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ پارتھا چٹرجی کے ساتھ ان کے تعلقات کا بھی ثبوت ملے ہیں۔

سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں پر جانبداری برتنے کا الزام غلط نہیں

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ شانتنو سین نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کی چارج شیٹ کے بارے میں کہا کہ یہ تحقیقات کا حصہ ہے۔ ہمیں زیر التواء معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری پارٹی نے کہا ہے کہ ہم بدعنوانی کے خلاف کارروائی پر یقین رکھتے ہیں۔ گجرات کے ایک وزیر کو ریپ کے الزامات کے باوجود کابینہ میں رکھا گیا ہے۔ ہماری حکومت نے سابق وزیر تعلیم کے خلاف 6 دن کے اندر کارروائی کی۔ اس کے علاوہ ہم تحقیقاتی ایجنسی کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائیں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سی بی آئی ایف آئی آر میں نام آنے کے باوجود بی جے پی لیڈروں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہے۔ ایسے میں سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا جانا غلط نہیں ہے۔

دوسری جانب ریاستی بی جے پی لیڈر شیامک بھٹاچاریہ نے چارج شیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کروڑوں روپے برآمد ہورہے ہیں، متوفی کے اکاؤنٹ میں رقم کہاں سے مل رہی ہے، کہیں اسکول ٹیچر کے اکاؤنٹ میں رقم پائی جارہی ہے۔ کروڑ روپے، یہ رقم کہاں سے آئے ہیں؟ یہ سوالات پوچھے جائیں گے۔ تفتیش بطور تفتیش جاری رہے گی۔ لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ 350,000 اسامیوں پر کب تقرری ہوگی؟