بدھ, اپریل 8, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 203

فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح

0
فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح
فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح

فیفا ورلڈ کپ فٹبال میچ میں آسٹریلیا نے تیونس کو شکست دے کر تین قیمتی پوائنٹس حاصل کر لیے

دوحہ: مچل ڈک کے فیصلہ کن گول کی بدولت آسٹریلیا نے فیفا ورلڈ کپ فٹ بال کے میچ میں تیونس کو شکست دیکر تین قیمتی پوائنٹس حاصل کرلیے۔

آسٹریلوی ٹیم کو پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن فرانس کے ہاتھوں چار ایک کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آسٹریلیا کے دو میچوں میں تین جبکہ تیونس کا دو میچوں میں ایک پوائنٹ ہے، میچ کے دوران تیونس کو پانچ جبکہ آسٹریلیا کو دو کارنر ملے، تیونس کے کھلاڑیوں کو فاؤل پلے کا مظاہرہ کرنے پر ریفری کی جانب سے تین یلو کارڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل گروپ ڈی میں تیونس اور ڈنمارک کے درمیان میچ برابر رہا تھا۔

الجنوب فٹ بال اسٹیڈیم میں گروپ ڈی کے اسٹیج گروپ میں کھیلے جانے والے میچ کے پہلے ہاف کے23 ویں منٹ میں آسٹریلیا کی بہترین موو کے نتیجے میں مچل نے ہیڈر کے ذریعے خوبصورت گول کیا۔ ساتھی کھلاڑی نے ڈی کے باہر سے ہٹ لگائی جسے مچل نے جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلوا دی۔

40 ویں منٹ میں تیونس کے کھلاڑیوں نے جوابی وار کیا اور تیونس کے کھلاڑی کی ہٹ جو براہ راست گول میں جارہی تھی آسٹریلوی دفاعی کھلاڑی نے خوبصورتی سے کلیئر کی۔

تھوڑی دیر بعد ہی تیونس نے آسٹریلوی گول پر حملہ کیا لیکن اس کے کھلاڑی کی ہٹ گول پوسٹ کے برابر سے ہوتی ہوئی باہر چلی گئی۔ وقفے پر اسکور ایک صفر تھا۔ دوسرے ہاف میں آسٹریلوی کھلاڑیوں نے دو حملے کیے لیکن گول نہ کرسکے۔

یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ

0
یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ
یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے قابل ہے، لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہے

یروشلم: فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے اسرائیلی حکومت کو فلسطینی عوام کے خلاف "جنگ کی حکومت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین نے یورپی یونین کے ممالک سے کہا تھا کہ وہ اس حکومت میں شامل متعدد نئے وزراء کا بائیکاٹ کریں۔ کیونکہ اسرائیل کی نئی حکومت میں شامل ہونے والے فلسطینیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

العربیہ کے مطابق اشتیہ نے اخبار”الشرق” کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ فلسطین "انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں یہودی بستیوں، قتل و غارت اور قابض ریاست کے تسلط پر اسرائیل کا پیچھا جاری رکھے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "(حالیہ اسرائیلی کنیسٹ کے) انتخابات کے نتائج نے ظاہر کیا کہ اسرائیل میں امن کے لیے کوئی شراکت دار نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومتی جماعتیں امن عمل کے بارے میں ایک موقف رکھتی ہیں۔”

فلسطینی وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ امن مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مسٹر اشتیہ نے اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ دو ریاستی حل کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی ریاست کے امکان کو ختم کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب کو "اس سے سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔”

فلسطینیوں کی تعداد

فلسطینی وزیر اعظم اشتیہ نے اشارہ کیا کہ دو ریاستی حل کا متبادل "ایک ریاست ہوگی جس میں فلسطینیوں کی تعداد یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی۔ آج فلسطینیوں کی تعداد 350,000 ہے جو یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

مسٹر اشتیہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین اب بھی عرب اقدام کے مطابق دو ریاستی حل کے آپشن پر یقین رکھتا ہے۔ یہ حل "سیاسی سطح پر اب بھی ممکن ہے۔ "اشتیہ نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل جو ان کے بقول عرب ممالک اور یورپ چاہتے ہیں کا مطلب 67 کی سرحدوں پر واپسی اور پناہ گزینوں کی واپسی ہے۔” انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ "بین الاقوامی کوارٹیٹ کی موت” کے بعد ایک نئے بین الاقوامی اقدام کی ضرورت کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی صہیونی سازشوں کو ناکام کرانے پر زور دیا۔

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ "امریکی انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے قابل ہے، لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینیوں کے ساتھ کئی وعدے کیے، جیسے کہ یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنا، یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے کام کرنا، دو ریاستی حل کی بنیاد پر مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے ’اونروا‘ کی مالی مدد بحال کرنا جیسے وعدے شامل تھے۔ امریکا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ

0
بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ
بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ

اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد اور خواتین میں 9.4 فیصد ہے

نئی دہلی: ملک میں پیداواری سرگرمیوں اور زراعت پر مبنی کاموں میں تیزی کی وجہ سے موجودہ مالی سال کی جولائی-ستمبر سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد و شمار اور پروگرام کے نفاذ کی مرکزی وزارت نے جمعرات کو یہاں جاری ‘پیریوڈیکل لیبر فورس سروے جولائی-ستمبر سہ ماہی 2022’ میں کہا ہے کہ جولائی-ستمبر 2022 میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد رہی ہے۔ جولائی تا ستمبر 2021 کی سہ ماہی میں یہ تعداد 9.8 فیصد تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد اور خواتین میں 9.4 فیصد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سہ ماہی اپریل تا جون 2022 میں بے روزگاری کی شرح 7.6 فیصد تھی۔

لیبر فورس سروے میں پورے ملک سے شہری علاقوں میں 15 سال سے زیادہ عمر کی لیبر فورس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جولائی تا ستمبر 2022 کے سروے میں 5,669 شہروں اور قصبوں کے 44,358 گھرانوں کے 1,71,225 افراد کا احاطہ کیا گیا۔

دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان

0
دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان
دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان

آج ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس کی تیاری کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، ذرائع کے مطابق دہلی میں مودی-ممتا کی علیحدہ ملاقات کا بھی امکان ہے

کلکتہ: ستمبر 2023 میں G-20 سربراہی اجلاس ہندوستان میں منعقد ہونا ہے۔ اجلاس کی تیاری ہونے جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے سرکردہ رہنما شریک ہوں گے۔ کانفرنس کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ممتا بنرجی پارٹی کی چیئرپرسن کے طور پر تیاری کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گی۔ ممتا بنرجی اور وزیر اعظم مودی کے درمیان علاحدہ ملاقات کا امکان ہے۔

آج ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس کی تیاری کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دہلی میں مودی-ممتا کی علیحدہ ملاقات کا بھی امکان ہے۔

تاہم، ممتا بنرجی نے قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم ان سے الگ ملاقات کریں گے۔ اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ جی -20 سے متعلق اہم پروگراموں میں سے ایک شمالی بنگال کے سلی گوڑی-دارجلنگ میں منعقد ہونے والا ہے۔

سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد

0
سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد
سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد

سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے کے لئے معروف ماہر تعلیم محترم مبارک کاپڑی علاقۂ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے اور آپ کے بچوں کی تقدیر جگمگانے کے لیے 20 نومبر سے 23 نومبر تک سیمانچل میں اپنا تعلیمی پیغام لے کر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور تقریریں کیں

کشن گنج: تعلیم اور سماجی بیداری پر کام کرنے والی تنظیم نصیریہ فاؤنڈیشن نے بہار کے ضلع کشن گنج کے انتہائی پسماندہ علاقہ کے ایک قصبہ پناسی (کشن گنج، بہار) میں 22 نومبر 2022 بروز منگل ایک تعلیمی کیمپ منعقد کیا۔ یہ تعلیمی کیمپ جناب اخترالایمان ریاستی صدر مجلس اتحاد المسلمین بہار و رکن اسمبلی بہار کے زیر صدارت سہ روزہ سیمانچل انقلابی تعلیمی کانفرنس کا حصہ تھا۔

واضح رہے کہ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے کے لئے معروف ماہر تعلیم محترم مبارک کاپڑی (ممبئی) علاقۂ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے اور آپ کے بچوں کی تقدیر جگمگانے کے لیے 20 نومبر سے 23 نومبر تک سیمانچل میں اپنا تعلیمی پیغام لے کر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور تقریریں کیں۔

تعلیمی مجلس کا آغاز آکسفورڈ انٹرنیشنل کشن گنج کے جناب تفہیم الرحمن صاحب نے اپنے تعارفی بیان سے کیا پھر اس کے بعد جناب قاری عیسی برکاتی نے تلاوت قرآن مجید کی اور مہمانوں کو گلدستے پیش کئے گئے۔

ترقی اور کامیابی کے لئے بنیادی چیز تعلیم

اس مہم میں جن اہم مسئلوں پر بحث کی گئی ان میں سے اہم بات ممبئی سے تشریف لائے ہوئے اہم مقرر جناب مبارک کاپڑی نے باور کرانے کی کوشش کی کہ کسی بھی شخص کسی بھی ملت یا کسی بھی ملک کی ترقی اور کامیابی کے لئے بنیادی چیز تعلیم ہے۔ جس میں جتنی زیادہ تعلیم ہوگی وہ اتنا ہی ترقی یافتہ اور سر بلند ہوگا۔

جناب اختر الایمان صاحب نے کہا کہ بہت افسوس کا مقام یہ ہے کہ سیمانچل کے بچے ملک کی سبھی ریاستوں سے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اسی لیے ہمارا سیمانچل بھی تعلیمی معاشی سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے پیچھے ہے۔ آج کے زمانے میں ساری ترقی اور عزت کا انحصار تعلیم اور صرف تعلیم پر ہے۔ لہذا ہم نے اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں۔ انہیں پڑھا لکھا کر ٹیچر، پروفیسر آفیسر، قانون دان اور جج بنائیں اور سیمانچل کو ملک کا سب سے ترقی یافتہ خطہ بنائیں۔

مغربی بنگال سے سیاسی کارکن جناب جاوید اختر اور جناب ڈاکٹر صادق الاسلام نے بھی اپنی اپنی تقریروں میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیمانچل میں تعلیم زبوں حالی ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس کے سد باب کے لیے جگہ بہ جگہ اور وقتا فوقتا ایسے مہموں کی ضرورت ہے۔
مقرر خصوصی جناب مبارک کاپڑی صاحب کی تقریر کے بعد حاضرین طلباء نے کریئر سے متعلق اپنے سوالات کئے جن کا کاپڑی صاحب نے جواب دیا۔

مجلس کا اہتمام مدرسے میں ہونے کی وجہ سے مدرسہ کے طلباء نے بھی عالمیت اور فضلیت کے بعد کریئر آپشنز پر سوالات کئے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کی خدمات

نصیریہ فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اپنی نظامت کے دوران کہا کہ سائنس، آرٹس اور ہیومنٹیز جیسے تعلیمی شعبوں کی مختلف اہمیتیں ہیں اور کسی بھی فیلڈ میں مہارت کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نصیریہ فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو ایجوکیشن، ہیلتھ اور سماجی بیداری پر کئی سالوں سے کام کرتا آیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مسجد، مدرسہ، خانقاہ کے علاوہ این سی پی یو ایل کے بھی کئی تعلیمی و ٹریننگ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں میں سینکڑوں غریب سٹوڈینس کو کمپیوٹر سیوی بنانے کا کام کیا ہے۔

انڈونیشیا میں منعقد جی 20 اجلاس حسب روایت نشستن، گفتن، برخاستن

0

انڈونیشیا میں منعقد جی 20؍ ممالک کا اہم اجلاس بھی حسب روایت ’نشستن، گفتن، برخاستن‘ تک ہی محدود رہا

ڈاکٹر یامین انصاری

دنیا میں قیام امن کے مقصد سے 24؍ اکتوبر 1945ء کو اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کے منشور یا چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔ بنیادی انسانی حقوق کا احترام بحال کریں گے اور انسانی اقدار کی قدرومنزلت کریں گے۔ مرد و عورت کے حقوق برابر ہوں گے اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔ ایسے حالات پیدا کریں گے کہ معاہدوں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔ لہذا یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔ ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔

شروع میں اقوام متحدہ کے صرف 51؍ ممبر تھے، بعد میں ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ موجودہ وقت میں اس کے 193؍ رکن ممالک جنرل اسمبلی کے ارکان ہیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکہ ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں رائے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے علاوہ بھی بہت سے عالمی ادارے، گروپس اور تنظیمیں ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ ان کا قیام بھی دنیا میں امن اور تحفظ، بھائی چارہ، ہمسایوں اور قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات، ترقی و خوشحالی اور عالمی سطح پر اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کی بہتری کے لئےگتھیوں کو سلجھانا ان کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

اب ذرا ہم اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک رکن ممالک، بالخصوص سلامتی کونسل کے ممبر ممالک جن پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو حالات اس کے بر عکس نظر آئیں گے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں بہت سارے کام ہو رہے ہیں، لیکن یہ ادارہ دنیا میں ہونے والے کئی اہم انسانی المیوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی طرح ایک تنظیم جی 20؍ ہے۔ اس میں دنیا کے 19؍ ممالک شامل ہیں، جبکہ یورپی یونین کو ایک ملک کے طور پر اس میں شامل کرکے اسے ’جی20؍ ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جی 20؍ دنیا کی بڑی معیشتوں کی تنظیم ہے، جو 80؍ فیصد جی ڈی پی پر مشتمل ہے۔ جی 20؍ کا مقصد عالمی معیشت کے حوالے سے بنیادی امور پر تبادلہ خیال کرنا اور دنیا کو درپیش معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس کے اراکین میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کناڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، روس، ہسپانیہ، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ یہ گروپ بھی کس حد تک اثر انداز رہا ہے یا مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہا ہے، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔

حال ہی میں انڈونیشیا کے ساحلی سیاحتی شہر بالی میں جی 20؍ کا سالانہ سربراہی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یوکرین پر روس کے حملے جاری ہیں۔ دونوں ہی ممالک جی 20؍ میں شامل ہیں۔ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بڑے مسئلے کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ یہاں تک کہ اس جنگ کے عالمی جنگ میں تبدیل ہو جانے کے خطرات عالمی سطح پر برقرار ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا کے تقریباً سبھی اہم ممالک کے اس اجلاس میں اس مسئلہ کا کوئی ٹھوس اور پائیدار حل نکالنے کی کوشش کی جاتی، مگر حسب سابق یہ اجلاس بھی نشستن، گفتن، برخاستن تک ہی محدود رہا۔

اس اجلاس میں اجتماعی طور پر ایسا کوئی فیصلہ تو نہیں ہونا تھا جس کے اثرات عالمی سیاست و معیشت پر پڑتے، اس کے باوجود عالمی رہنمائوں کی باہمی ملاقات اور براہِ راست تبادلۂ خیال پر پوری دُنیا کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ یوکرین بحران تھا۔ امریکہ کی کوشش بھی تھی کہ اس اجلاس میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کی جائے، مگر امریکہ اِس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ عالمی سطح پر روس یوکرین جنگ پر تشویش کا اظہار تو کیا جارہا ہے، لیکن کھلے الفاظ میں کوئی بھی ملک روس کی مذمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اسی طرح امریکہ چاہتا ہے کہ روس کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے، بالخصوص روس سے تیل اور گندم کی خریداری پر پابندی عائد کر دی جائے، تاکہ روس پر دبائو بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے یورپی ممالک بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس یوکرین جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی سے امریکہ اور یورپ کے باشندے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے حوالے سے چین نے جہاں روس کی مذمت سے گریز کیا ہے، وہیں کھلی حمایت بھی نہیں کی ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے چین اور امریکہ کی سرد جنگ سے معاملات روس اور امریکہ کش مکش میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ روسی صدر ولادیمر پوتن نے جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کی، حالانکہ روسی وفد کی قیادت وزیر خارجہ نے کی۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی بھی اجلاس میں شامل نہیں ہوئے، مگر انھوں نے اجلاس کو آن لائن خطاب کیا۔ کل ملا کر اگر ہم دیکھیں تو اس اجلاس کا اہم واقعہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات رہی۔ ایک طرف جہاں چینی صدر سے ملاقات سے قبل امریکی صدر مستقل چین کے عزائم کے خلاف باتیں کرتے رہے تھے۔ پھر بھی چین اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کے باوجود دونوں سربراہوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

وہیں دوسری جانب اس اجلاس نے تقریباً 20؍ ماہ سے ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کی برف کو پگھلنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ وزیر اعظم مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے دوران عشائیہ کی میز پر ملاقات کی اور گفتگو کی۔ اگرچہ یہ پہلے سے طے شدہ ملاقات نہیں تھی، محض غیر رسمی ملاقات تھی، مگر دونوں رہنماؤں نے خوشگوار ماحول میں تقریباً تین چار منٹ تک بات کی۔

دونوں کے درمیان 24؍ ماہ بعد یہ پہلی روبرو ملاقات تھی، جو کیمروں میں قید ہوئی۔ اس سے قبل مودی اور جن پنگ ستمبر 2022ء میں بھی سمرقند میں ایک ساتھ تھے، لیکن ان کے درمیان کسی ملاقات یا بات چیت کی کوئی تصویر سامنے نہیں آئی۔ بالی سے پہلے، دونوں رہنماؤں نے نومبر 2019ء میں برازیلیا میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کی تھی۔

تاہم اس کے بعد پہلے کورونا اور پھر مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے کا راستہ بند کردیا۔ یہی نہیں، جون 2020ء میں ہندوستان اور چین کے درمیان وادی گلوان تنازع اور اس میں 20؍ ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت نے بات چیت کے امکانات کو بند کر دیا۔

ویسے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سرحدی کشیدگی کے درمیان دونوں سربراہوں کی ملاقات ہوئی ہے اور رشتوں پر جمی برف پگھلنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اس سے قبل 2017ء میں ڈوکلام سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں رہنماؤں نے جولائی 2017ء میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میںبھی جی 20؍ کے اجلاس کے دوران ملاقات کی تھی۔

یہی نہیں، اس ملاقات کے بعد اپریل 2018ء میں وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ پہلے ووہان اور پھر مہابلی پورم میں آگے بڑھا۔ لیکن 2019ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ سلسلہ تقریباً تین سال سے رک گیا ہے۔

لہذا بالی میں ہوئی چھوٹی اور غیر رسمی ملاقاتوں نے یقیناً بند دروازے کھولنے میں مدد کی ہے۔ بہر حال، یہ خوش آئند ہے کہ آئندہ برس کے جی 20؍ سربراہی اجلاس کی میزبانی ہندوستان کو ملی ہے۔ ایسے میں امید کی جا سکتی ہے کہ چین، امریکہ اور روس جیسی بڑی معیشتوں کی میزبانی کرکے عالمی سطح پر ہندوستان کو اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی دنیا میں قیام امن میں ہندوستان اپنا اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ بقول احمد فراز؎
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

(مضمون نگارانقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ

0
موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ
موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ

گزشتہ کئی مہینوں سے کلکتہ اور آس پاس کے بازاروں میں پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلو تھی، اب یہ بڑھ کر 45 سے 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے

کلکتہ: موسم سرما ابھی کلکتہ میں شروع نہیں ہوا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں سبزیوں، آلو اور پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے کلکتہ اور آس پاس کے بازاروں میں پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلو تھی۔ اب یہ بڑھ کر 45 سے 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ کلکتہ کے مختلف بازاروں میں کچھ اچھی کوالٹی کی پیاز 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ گڑیا، مانک تلہ سمیت مختلف بازاروں میں اس قیمت پر پیاز فروخت ہو رہی ہے۔

پیاز کے تھوک فروشوں کا کہنا ہے کہ دیگر ریاستوں سے پیاز کی درآمد میں کمی سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چند روز سے جاری بارش کے باعث پیاز کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بہت جلد اس اضافی قیمت میں کمی کا امکان نہیں ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کو پیاز کی برآمد میں اضافہ بھی پیاز کی درآمد میں کمی کی ایک وجہ ہے۔

دوسری جانب مرغی کے گوشت کی قیمت بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ کلکتہ میں کٹے ہوئے چکن کا گوشت کم از کم 220 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ کہیں قیمت 230 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ شادی اور پکنک کا موسم ابھی شروع ہونے والا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ مرغی کے گوشت کے ساتھ مرغی کے انڈوں کی قیمت میں بھی ہوشربا اضافہ پرچون مارکیٹ میں انڈے کا ہر ٹکڑا ساڑھے چھ سے سات روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ

0
پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ
پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ

جس طرح دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے سامنے مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح صحافیوں کو بھی انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے—–

ڈاکٹر یامین انصاری

کسی بھی جمہوری ملک کے چار ستون نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس نظام کا چوتھا ستون میڈیا کو کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ چوتھے ستون یعنی صحافت سے وابستہ لوگ بھی نظام کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ یہاں میڈیا کے نظام کا حصہ ہونے کا مطلب یہ قطعی نہیں لیا جانا چاہئے کہ وہ ملک کے نظام یا حکومت کے مطابق کام کرے۔ کیوں کہ صحافت کوئی پیشہ نہیں، بلکہ ایک خدمت ہے، ایک مشن ہے۔ ایک سچا صحافی وہ ہے جو حق بینی اور حق گوئی کا علمبردار رہے۔

اس مضمون میں در اصل بحث اس پر نہیں کرنا ہے کہ صحافت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، اس کی اقدار و روایات کیا ہیں، بلکہ گفتگو یہ کرنی ہے کہ ملک و قوم کی خدمات انجام دینے والے صحافیوں کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے سامنے مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح صحافیوں کو بھی انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کا مسئلہ

کسی جمہوری ملک میں جس طرح پہلے تین ستونوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، اتنا مضبوط چوتھے ستون یعنی میڈیا یا اس سے وابستہ افراد کے تحفظ کو نہیں بنایا گیا۔ کئی مرتبہ جھگڑے فساد، جنگ و جدال اور مختلف قسم کے خطرات کے درمیان کام کرنے والے صحافی بے یار و مددگار نظر آتے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر حملے کو نظام پر براہ راست حملہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پہلو پر دنیا بھر کی تنظیمیں اور حکومتیں گفتگو کرتی ہیں اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مختلف رائے اور مشورے سامنے آتی ہیں، مگر زمینی سطح پر ایسا کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ بقول زبیر رضوی؎

سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں
لوگ اپنے بند کمروں میں پڑے سوتے رہے

دنیا بھر کے صحافیوں کے تحفظ، آزادانہ صحافت کو یقینی بنانے اور انھیں بنیادی حقوق و انصاف کی فراہمی کے لئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال 2؍ نومبر کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اس سال صحافیوں کی سلامتی کے لئے ایکشن پلان کی دسویں سالگرہ بھی منارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2006ء سے 2020ء تک رپورٹنگ اور معلومات عوام تک پہنچانے کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 1200؍ سے زائد صحافی ہلاک ہوئے، جبکہ ہر دس میں سے نو معاملوں میں قاتلوں کو سزا نہیں ملی۔ اس میں خواتین صحافیوں کی حالت اور بھی دگرگوں ہے۔

صحافی شیریں ابو عاقلہ کا قتل

مئی 2022ء میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح اسرائیلی فوجیوں نے الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انکشاف ہوا کہ شیریں کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے نہیں، بلکہ اسرائیلی فوج نے ہی قتل کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک عالمی سروے کے مطابق 73؍ فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھیں صحافتی فرائض کے دوران دھمکیوں اور توہین آمیز رویہ کا سامنا رہتا ہے۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ 2016ء سے 2020ء کے دوران تقریباً 400؍ صحافیوں کو ان کی ڈیوٹی کے وقت قتل کیا گیا اور 2020ء میں 274؍ صحافیوں کو قید کیا گیا جو کہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد بنتی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی ایک عالمی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اپنی رپورٹ میں 2021ء کے دوران ہندوستان اور میکسیکو کو صحافیوں کے لئے مہلک ترین ملک قرار دیا تھا۔ اگرچہ صحافت کسی مخصوص زبان یا خطے تک محدود نہیں ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے سبب برصغیر میں ایک اردو صحافی نے سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ جنھیں ہم مولوی محمد باقر کے نام سے جانتے ہیں۔

اردو صحافت کے پہلے شہید صحافی

مولوی محمد باقر کو 16؍ ستمبر 1857ء کو دہلی دروازے کے سامنے توپ کا گولہ مار کر شہید کردیا گیا۔ بعض جگہ گولی مار کر شہید کرنے کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ اس طرح مولوی محمد باقر اردو صحافت کے پہلے شہید صحافی تھے، جنھیں انگریزوں نے انوکھی سزا سنائی تھی۔

صحافیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی یا ان کے قتل کی وارداتیں تو دنیا بھر میں ہوتی ہی رہتی ہیں، اس کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے قاتلوں اور ان پر ظلم کرنے والوں کو سزائیں بھی نہیں ملتیں۔ پچھلے دنوں یونیسکو نے کہا کہ دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے بیشتر معاملوں میں قصورواروں کو سزائیں نہیں ملتیں۔ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے مطابق 2020ء اور 2021ء میں کم از کم 117؍ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم، یونیسکو، نے حال ہی میں جاری ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دنیا بھر میں ہلاک کر دیے جانے والے صحافیوں کے بیشتر معاملوں میں قصوروار سزا سے بچ جاتے ہیں۔ تنظیم نے صحافیوں کے خلاف جرائم کے لیے استثنا کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر یعنی 2؍ نومبر 2022ء کو جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ صحافیوں کے قتل کے لیے عالمی سطح پر استثنا کی شرح ’حیران کن حد تک بلند‘ ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے لیے استثنا ناقابل قبول حد تک بہت زیادہ یعنی 86؍ فیصد ہے۔

اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ

یونیسکو نے صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی مناسب تفتیش اور ان کے مرتکب افراد کی شناخت اور سزا کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے نے ایک بیان میں کہا کہ ’اگر غیر حل شدہ مقدمات کی اتنی حیران کن تعداد موجود ہو تو اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا‘۔ صحافیوں کو قتل کرنے والے افراد کی بڑی تعداد قتل کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یعنی سی پی جے گلوبل امیونٹی انڈیکس 2022ء کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران عالمی سطح پر کام کرنے والے 263؍ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا گیا اور تقریباً 80؍ فیصد واقعات میں مجرموں کو کوئی سزا نہیں ملی۔

صومالیہ اس سنگین جرم کے حوالے سے مسلسل آٹھویں سال انڈیکس میں سرفہرست ہے۔ شام، جنوبی سوڈان، افغانستان اور عراق بالترتیب انڈیکس میں سرفہرست ہیں۔ یہ یکم ستمبر 2012ء سے 31؍ اگست 2022ء تک کے واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے پہلے زیادہ تر ممالک انڈیکس میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی تاریخ کے تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور کمزور قوانین صحافیوں کے قاتلوں کو سزا سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

میانمار کی فوجی حکومت

میانمار اور میکسیکو کی ہی اگر مثال لیں تو میانمار کی فوجی حکومت نے فروری 2021ء کی بغاوت اور جمہوریت کو معطل کرنے کے بعد آزاد رپورٹنگ کو دبانے کے لیے درجنوں صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا اور ریاست مخالف اور جھوٹی خبروں کے قوانین کا استعمال کیا۔ یہاں کم از کم تین صحافی مارے گئے ہیں، جبکہ میکسیکو اور برازیل میں صحافیوں کو پہلے ہی جرائم، بدعنوانی اور ماحولیاتی مسائل پر تنقیدی رپورٹنگ کے لیے مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ میکسیکو کی پوزیشن اس انڈیکس میں سب سے زیادہ سنجیدہ ممالک میں سے ایک ہے۔ سی پی جے نے گزشتہ ۱۰؍ سال میں صحافیوں کے 28؍ حل نہ ہونے والے قتل ریکارڈ کیے ہیں۔

بہر حال، اس مسئلہ پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نواز اور ہندوستان کی تازہ اصطلاح ’گودی میڈیا‘ کو چھوڑ دیں تو واقعی خطرات کا سامنا کرنے والے دنیا بھر کے صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کی بے حد ضرورت ہے۔ملک و بیرن ملک کی تنظیموں اور اداروں کو چاہئے کہ صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں پرہونے والے مظالم کی تحقیقات اور مقدمات کے لئے پختہ عزم کا اظہار کریں۔ ورنہ بقول شاعر؎

تجھے شناخت نہیں ہے مرے لہو کی کیا
میں روز صبح کے اخبار سے نکلتا ہوں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

پوری نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا لیا جائزہ

0
پوری نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا لیا جائزہ
پوری نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا لیا جائزہ

مسٹر پوری نے کہا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس ایک ماحول دوست عمارت بن رہا ہے۔ اس کے فن تعمیر کے کچھ حصے ہندوستان کے قدیم ثقافتی ورثے سے متاثر ہیں

نئی دہلی: مرکزی ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہفتہ کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔

ٹویٹر پر زیر تعمیر عمارت کی کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے مسٹر پوری نے کہا کہ ’عمارت کا تعمیراتی کام اچھی طرح سے جاری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ نیا پارلیمنٹ ہاؤس ایک ماحول دوست عمارت بن رہا ہے۔ اس کے فن تعمیر کے کچھ حصے ہندوستان کے قدیم ثقافتی ورثے سے متاثر ہیں۔

مسٹر پوری نے اس زیر تعمیر عمارت کو "جدیدیت اور روایت کا سنگم” قرار دیا ہے۔

حکام نے کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر میں چار ہزار سے زائد لوگ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اس کی تعمیر کا کام جلد مکمل ہونے کی امید ہے۔

پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں ہی بنائے جانے والے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا ہال میں 888 اور راجیہ سبھا میں 384 سیٹوں کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے مشترکہ اجلاس کے لیے بنائے جانے والے ہال میں 1272 نشستوں کا انتظام ہوگا۔

نئی عمارت میں ممبران پارلیمنٹ کے لیے علیحدہ دفاتر، ڈیجیٹل سہولیات، ایک عظیم الشان آئینی ہال، ممبران پارلیمنٹ کے بیٹھنے کے لئے بڑا ہال، لائبریری، کمیٹیوں کے اجلاسوں کے لیے کئی چھوٹے کمرے، کھانے کے کمرے اور پارکنگ کی سہولیات ہوں گی۔

اس نئی عمارت کی تعمیری لاگت کا تخمینہ تقریباً 971 کروڑ روپے ہے۔

پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار

0
پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار
پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار

مصدق ملک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار ہے، اس حوالے سے روس کو توانائی کی ضروریات کے حوالے سے خط لکھ چکے ہیں

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار ہے، اس حوالے سے روس کو توانائی کی ضروریات کے حوالے سے خط لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر پابندی لگنے والا کوئی کام نہیں کریں گے، ٹاپی منصوبے کو آگے لیکر جائیں گے۔

وزیر مملکت پٹرولیم نے کہا کہ ٹاپی 8 ارب ڈالرز کا طویل المدتی منصوبہ ہے، جس کے تحت تقریبا 1.4 ارب مکعب فٹ گیس درآمد کی جاسکے گی۔ انھوں نے بتایا کہ اس سال گیس کا بہت بڑا شارٹ فال ہوگا، جنوری اور فروری کیلئے ایک ایک اضافی ایل این جی کارگوز کا بندوبست کرلیا ہے، سردیوں میں گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیاد پر گیس دیں گے۔

مسٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ حکومت میں آئے تو پاکستان کمرشل بنیادوں پر ڈیفالٹ کرچکا تھا۔