بدھ, اپریل 8, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 202

پریکشا پہ چرچا 2023 کی چھٹی تقریب میں حصہ لینے کی دھرمیندر پردھان کی اپیل

0

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک منفرد انٹر ایکٹو پروگرام – پریکشا پہ چرچا کا تصور پیش کیا

نئی دہلی: تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے آج طلبا، اساتذہ اور والدین کو ‘‘پریکشا پہ چرچا 2023’’ کی چھٹی تقریب میں حصہ لینے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی پانے کا موقع حاصل کرنے کی دعوت دی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک منفرد انٹر ایکٹو پروگرام – پریکشا پہ چرچا کا تصور پیش کیا جس میں ملک بھر کے اور بیرون ملک سے بھی طلبا، والدین، اساتذہ ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے امتحانات سے پیدا ہونے والے تناؤ پر قابو پانے پر بات چیت کر سکیں تاکہ زندگی کو اتسو کے طور پر منایا جا سکے۔

اس تقریب کا انعقاد پچھلے پانچ برسوں سے وزارت تعلیم کے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کا محکمہ کامیابی کے ساتھ کرتا آ رہا ہے۔ درجہ نہم 9 سے یازدہم 11 تک کے اسکولی طلبا، اساتذہ اور والدین کا انتخاب ایک آن لائن تخلیقی تحریری مقابلے کے ذریعے کیا جائے گا۔

پورٹلhttps:nnovateindia.mygov.in/ppc-2023 نیچے دئیے گئے موضوعات کے گلدستے سے متعلق 25 نومبر 2022 سے رجسٹریشن کے لئے لائیو ہے اور یہ 30 دسمبر 2022 تک کھلا رہے گا۔

مائی گوو پر مقابلوں کے ذریعے منتخب ہونے والے تقریباً 2050 طلبا، اساتذہ اور والدین کو پی پی سی کٹس اور این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر کی جانب سے توصیفی سند دی جا سکتی ہے۔

بہار کو پسماندہ ریاست بنانے میں نتیش کمار کا بڑا ہاتھ : چراغ

0

چراغ پاسوان نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاست کو پسماندہ ریاست بنانے میں موجودہ وزیر اعلیٰ مسٹر کمار کا بڑا ہاتھ ہے

چھپرا: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی-رام ولاس) کے صدر-کم-جموئی کے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاست کو پسماندہ ریاست بنانے میں موجودہ وزیر اعلیٰ مسٹر کمار کا بڑا ہاتھ ہے.

مسٹر پاسوان نے اتوار کو سارن ضلع کے پرسا تھانہ علاقہ کے ماڈرگاؤں میں شری رام اسپورٹس گراؤنڈ میں منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں آج تک سوئی کی ایک فیکٹری تک نہیں لگی ہے۔ حکومت صرف شراب بند کرنے کا ڈرامہ کررہی ہے۔ جب کہ حکومت کے من پسند لوگ غیر قانونی طور پر شراب کا کاروبار کر رہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام تباہ ہوچکا ہے۔ جس پر موجودہ حکومت توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار جنہوں نے پہلے تمام گاﺅں میں شراب کی دکانیں اور بھٹیاں کھولی تھیں، اچانک خود کو صاف ستھرے امیج میں بدلنے کے لئے شراب بندی کا نعرہ لگا کر بہار کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بہار فرسٹ بہار ی فرسٹ کے نعرے کے ساتھ نئے بہار کی تعمیر کی مہم شروع کی ہے۔اس موقع پر سیکڑوں لوگ ایل جے پی میں شامل ہوئے۔

سونیا گاندھی بھی ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں ہو سکتی ہیں شامل

0

محترمہ سونیا گاندھی 8 دسمبر کی شام یا 9 دسمبر کی صبح کوٹا آ سکتی ہیں اور یہاں پر ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں حصہ لے سکتی ہیں

کوٹا: کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی بھی راہل گاندھی کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں شامل ہو سکتی ہیں اور اس کے لیے ان کے کوٹا آنے کا امکان ہے۔

کوٹا سٹی کانگریس کے صدر رویندر تیاگی نے آج بتایا کہ محترمہ سونیا گاندھی 8 دسمبر کی شام یا 9 دسمبر کی صبح کوٹا آ سکتی ہیں اور یہاں پر ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں حصہ لے سکتی ہیں۔ محترمہ سونیا گاندھی کی سالگرہ 9 دسمبر کو ہے اور وہ اپنی سالگرہ بیٹے راہل گاندھی کے ساتھ منا سکتی ہیں۔

مسٹر راہل گاندھی کا 8 دسمبر کو کوٹہ سے جھالواڑ کا سفر کرتے ہوئے جگ پورہ میں رات کے قیام کا پروگرام ہے۔ اور اگلے دن 9 دسمبر کو وہ ضلع بوندی کے لیے روانہ ہوں گے اور اس دن وہ نیا پورہ علاقے میں واقع امید کلب میں دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 9 دسمبر کو کیشاورائی پاٹن کے قریب گڈلی پھاٹک میں رات کا قیام کریں گے۔

بھارت جوڑو یاترا ‘میں کئی دیگر کانگریسی لیڈروں کے بھی شامل ہونے کی امید

مسٹر تیاگی نے بتایا کہ ‘بھارت جوڑو یاترا ‘میں شامل ہونے کے لئے محترمہ سونیا گاندھی کے کوٹہ آنے کے پروگرام کے پیش نظر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت 8 دسمبر کو کوٹا آ سکتے ہیں اور ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں محترمہ سونیا گاندھی کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ، اس دن ‘ بھارت جوڑو یاترا ‘میں کئی دیگر کانگریسی لیڈروں کے بھی شامل ہونے کی امید ہے، جن میں ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا ، چند مرکزی قائدین اور ریاستی کانگریس کے سینئر لیڈران اور وزراء شامل ہیں۔

حالانکہ محترمہ سونیا گاندھی نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی حتمی پروگرام نہیں بنایا ہے، لیکن محترمہ سونیا گاندھی کے دورہ کوٹا اور راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شرکت کے حوالے سے آج شام یا کل کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ مسٹر تیاگی نے بتایا کہ اگر محترمہ گاندھی کوٹا آتی ہیں تو 9 دسمبر کو ان کا یوم پیدائش کوٹا میں ہی منایا جائے گا۔

واضح رہے کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 4 دسمبر کو مدھیہ پردیش سے ضلع جھالواڑ کے چنوالی کے راستے راجستھان میں داخل ہوگی۔ اس دن مسٹر راہل گاندھی چنولی میں ہی رات کا آرام کریں گے اور چیف منسٹر اشوک گہلوت نے جمعہ کے روز وہاں کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ نکڑ سبھا 6 دسمبر کو ہیریاکھیڈی میں منعقد ہوگی۔

ملک میں تین ریاستوں میں کورونا انفیکشن کے نئے معاملے درج

0

کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے 18 ایکٹو کیسز کے اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد بڑھ کر 1,643 ہوگئی

نئی دہلی: ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران دو ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا انفیکشن کے نئے معاملے سامنے آئے ہیں اور دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال معاملات میں کمی آئی ہے۔

کورونا کے سب سے زیادہ نئے کیس کرناٹک میں (18) اور دہلی (چار) میں آئے ہیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے ہفتہ کو کہا کہ صبح 7 بجے تک 219.93 کروڑ سے زیادہ ویکسین دی گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا کے 75 ایکٹو کیسز میں کمی کے بعد ان کی تعداد کم ہو کر 4597 ہو گئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 251 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اسی عرصے میں 325 افراد اس انفیکشن سے نجات حاصل کرچکے ہیں جن کل تعداد 4,41,37,942 ہو گئی ہے۔ ملک میں صحت یابی کی شرح 98.80 فیصد ہے۔

اسی عرصے میں کورونا وبا کے انفیکشن سے ایک مریض کی جان جانے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 5,30,627 ہو گئی ہے۔ ایکٹو کیس کی شرح 0.1 فیصد ہے اور موت کی شرح 1.19 فیصد ہے۔

قومی راجدھانی میں کورونا انفیکشن

قومی راجدھانی میں کورونا انفیکشن کے چار فعال کیسوں میں اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد 31 ہو گئی ہے۔ اس بیماری سے چھٹکارا پانے والوں کی تعداد 19,80,432 ہوگئی ہے۔ ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 26,518 ہو گئی ہے۔

کیرالہ میں 18 فعال کیسوں کی کمی کے ساتھ، ان کی کل تعداد کم ہو کر 1,614 ہو گئی ہے۔ کورونا وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 67 لاکھ 53 ہزار 364 ہو گئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 71 ہزار 500 ہے۔

کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے 18 ایکٹو کیسز کے اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد بڑھ کر 1,643 ہوگئی ہے۔ اس سے چھٹکارا پانے والوں کی کل تعداد 40,29,394 ہوگئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 40,303 پر مستحکم ہے۔

مہاراشٹر میں، 13 ایکٹو کیسز کم ہو کر 360 پر آ گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران 72 افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد اس سے نجات پانے والوں کی مجموعی تعداد 79 لاکھ 87 ہزار 133 ہو گئی ہے۔ ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 1,48,407 پر مستحکم ہے۔

گجرات اسمبلی انتخابات: پہلے مرحلے میں 57 فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے جانے کی توقع

0

گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تقریباً 57.75 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا

گاندھی نگر: گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو سوراشٹرا-کچھ اور جنوبی گجرات کے 19 اضلاع کی 89 سیٹوں کے لیے ہوئے تقریباً 57.75 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے ختم ہوگئی۔ مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد بھی کئی بوتھوں پر ووٹروں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور قواعد کے مطابق ووٹ ڈالنے کے بعد ہی ای وی ایم مشینوں کو سیل کیا جائے گا۔ اس سے ووٹنگ فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

امریلی میں سب سے کم 52.73 فیصد پولنگ

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے بتایا کہ ووٹنگ فیصد کی گنتی اور مرتب کرنے کا کام ابھی جاری ہے۔ شام 5 بجے تک رائے دہندگان کا ابتدائی اوسط تخمینہ ٹرن آؤٹ 57.75 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاپی ضلع میں زیادہ سے زیادہ 72.32 فیصد، ڈانگ میں 64.84، نرمدا میں 68.09 فیصد، گیر سومناتھ میں 60.46 فیصد، کچھ میں 54.91، جام نگر 53.98، جوناگڑھ 54.95، دیو بھومی دوارکا 59.11، نواساری 65.91، پوربندر 53.84، بوٹاد 57.15، بھاو نگر 57.81، موربی 61.96، راجکوٹ 55.93، ولساڈ 65.24، سورت 57.83، سریندر نگر 60.71 اور امریلی میں سب سے کم 52.73 فیصد پولنگ ہوئی۔

چیف الیکٹورل آفیسر پی بھارتی نے کہا کہ پہلے مرحلے کے لیے 1,06,963 ملازمین/ افسروں کو تعینات کیا گیا تھا، جن میں 27,978 ریٹرننگ افسران اور 78,985 پولنگ عملہ شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 19 اضلاع کی 89 نشستوں کے لیے کل 2,39,76,670 ووٹر اہل تھے، جن میں 1,24,33,362 مرد، 1,15,42,811 خواتین اور 497 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔ ان میں سے 57.75 فیصد سے زائد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں اور عملے کے تمام ضروری انتظامات اور الیکشن میں استعمال ہونے والے ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی (34324 BUs، 34324 CUs اور 38,749 VVPATs) کا استعمال کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 65-موربی سیٹ پر 17 امیدوار ہونے سے 02 بیلٹ یونٹ تھے، جب کہ سورت کے 163-لمبایت حلقے میں 44 امیدوار ہونے سے تین بیلٹ یونٹ تھے۔

فیڈ ریزرو کے مثبت اشاروں سے مسلسل چھٹے روز شیئر بازار ہوا گلزار

0

عالمی منڈیوں میں آنے والی تیزی کی بدولت آج مسلسل چھٹے روز شیئر بازار گلزار رہا

ممبئی: امریکی فیڈ ریزرو کی بیاج کی شرح میں اضافے کی رفتار کم ہونے کے اشاروں سے عالمی منڈیوں میں آنے والی تیزی کی بدولت آج مقامی سطح پر آئی ٹی، دھات، ریئلٹی، ٹیک اور کموڈٹیز سمیت 12 زمروں میں خریداری دیکھی گئی جس کی وجہ سے آج مسلسل چھٹے روز شیئر بازار گلزار رہا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سنسیکس 184.54 پوائنٹس یعنی 0.29 فیصد کے اضافے سے 63284.19 پوائنٹس کی نئی چوٹی پر پہنچ گیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 54.15 پوائنٹس کے اضافے سے 18812.50 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اسی طرح بی ایس ای مڈ کیپ بھی 0.62 فیصد اضافے سے 26,112.00 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.63 فیصد اضافے سے29,704.91 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای میں کل 3636 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2073 میں خریداری ہوئی 1411 میں فروخت ہوئی۔ جبکہ 152 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح، این ایس ای میں، 23 کمپنیوں میں اضافہ ہوا جبکہ باقی 27 میں گراوٹ ہوئی۔

دسمبر سے شرح سود میں اضافے کا امکان

امریکی سینٹرل بینک فیڈر ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے بدھ کے روز کہا کہ سینٹرل بینک دسمبر سے شرح سود میں اضافے کی رفتار کو کم کر سکتا ہے۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاول کے بیان سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ملا ہے۔ نیز، ہفتوں کے مظاہروں کے بعد، توقع ہے کہ چین جلد ہی کووِڈ کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرے گا۔

ان عوامل کی بدولت بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.09، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.36، جاپان کا نکئی 0.92، ہانگ کانگ کا ہینگسینگ 0.75 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

ہندوستان اور انڈونیشیا کے علما کے ساتھ بات چیت کا مقصد بین الاقوامی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے: سراج الدین قریشی

0
ہندوستان اور انڈونیشیا کے علما کے ساتھ بات چیت کا مقصد بین الاقوامی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے: سراج الدین قریشی
ہندوستان اور انڈونیشیا کے علما کے ساتھ بات چیت کا مقصد بین الاقوامی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے: سراج الدین قریشی

انڈونیشیا کے نائب وزیر اعظم محمد محفوظ ایم ڈی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرکے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے

نئی دہلی: انڈونیشیا کے ایک اعلی سطحی وفد کے نئی دہلی کے دورے کے دوران ہندوستانی علما اور انڈونیشیائی وفد میں شامل علما کے درمیان کل یہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں مذاکرات کا اہتمام کیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان بین الاقوامی سماجی تانے بانے کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی نے آج یہاں ذرائع ابلاغ سے ملاقات کے دوران مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیائی وفد کے سربراہ نائب وزیر اعظم ڈاکٹر محمد محفوظ ایم ڈی مذاکرات میں شرکت کریں گے اور وفد میں شامل انڈونیشیائی علما بھی شرکت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال بھی کل منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کریں گے۔ ان کے علاوہ ہندوستان کی سرکردہ مسلم تنظیموں کے اہم علما بھی مذکرات میں شامل ہوکر دونوں ملکوں کے قومی اور ملی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انڈونیشیا میں آج بھی سنسکرت زبان بولی جاتی ہے

مسٹر سراج الدین قریشی نے بتایا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے رہن سہن، کھان پان اور کلچر میں کافی یکسانیت ہے۔ یہی وجہ ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کے کافی قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم ملک ہونے کے باوجود انڈونیشیا میں آج بھی سنسکرت زبان بولی جاتی ہے اور وہاں کے ہوائی اڈوں، سڑکوں یہاں تک کہ گھروں میں آج بھی مورتیاں نصب ہیں، جن کے تقدس، عظمت اور احترام کو وہاں کے عوام نے آج بھی برقرار رکھا ہے۔

مسٹر قریشی نے بتایا کہ انڈونیشیا میں منعقدہ جی 20 کی میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی نے شرکت کی تھی، جہاں سے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پرزور آواز بلند کی تھی اور انہیں اس پر بھرپور تائید ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ مذہبی علما زمین سے جڑے ہوتے ہیں اور عوام سے بہت قریب ہوتے ہیں اسی لئے علما کے درمیان مذاکرات اور گفتگو سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اچھا پیغام جائے گا۔

انڈیا اسلاملک کلچرل سینٹر کے صدر نے کہا کہ نائب وزیر اعظم محمد محفوظ ایم ڈی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرکے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

ملک میں کچھ سیاسی پارٹیوں کے بعض لیڈروں کی طرف سے الیلکشن کے دنوں میں بار بار دیے جانے والے نفرت انگیز بیان کے بارے میں سوال کئے جانے پر مسٹر قریشی نے کہا کہ کچھ لوگ سیاسی فائدے کے لئے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں جنہیں نظرانداز کئے جانے کی ضرورت ہے۔

شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط

0
شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط
شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط

گھریلو شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط ہوکر 81.68 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

ممبئی: درآمد کنندگان اور بینکروں کی فروخت کے ساتھ ہی گھریلو شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت آج انٹر بینک کرنسی مارکیٹ میں روپیہ تین پیسے مضبوط ہوکر 81.68 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

وہیں پچھلے کاروباری دن روپیہ ایک پیسہ پھسل کر 81.71 روپے فی ڈالر پر رہا تھا۔

شروعاتی کاروبار میں روپیہ 10 پیسے گراوٹ کے ساتھ 81.81 فی امریکی ڈالر پر کھلا اور سیشن کے دوران خریداری کے دباؤ میں 81.83 روپے فی ڈالر کی نچلی سطح پر لڑھکر گیا۔ اگرچہ فروخت کے باعث یہ 81.61 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ آخر میں پچھلے سیشن کے 81.71 روپے فی ڈالر کے مقابلے تین پیسے اضافے کے ساتھ 81.68 روپے فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور

0
اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور
اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور

اردو صحافت کادو سو سالہ سفر بہت سے نشیب و فراز والا رہا، مگر بیش بہا قربانیوں اور صحافتی اصولوں پر چل کر ایک عظیم اور روشن تاریخ رقم کی ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

اردو صحافت نے 27؍ مارچ 2022ء کو 200؍ سال مکمل کر لئے۔ یہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہے۔ اتنا ہی غیر معمولی اردو صحافت کا سفر بھی ہے۔ اردو صحافت نے یقیناً دو سو سال میں ایک عظیم اور شاندار تاریخ رقم کی ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اردو صحافت کی اس عظیم تاریخ میں اپنا ایک ادنیٰ سا کردار اداکر سکے۔ اگر ہم اس کے دو سو سالہ سفر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اردو صحافت نے نہ صرف اس زبان کی خدمت اور آبیاری کی ہے، بلکہ ملک و قوم کے لئے ایثار و قربانی اور جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے میں پیش پیش رہی ہے۔

جد و جہد آزادی سے لے کر حصول آزادی تک اور اس کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی تک اردو صحافت کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اردو صحافت نے ہمیشہ سیکولرازم، تفہیم ادیان، کثرت میں وحدت اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اردو صحافت کا کردار

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اردو صحافت کا کردار زیادہ تر سیکولر ہی رہا ہے۔ اگر آزادی سے پہلے کا دور دیکھیں تو مسلم لیگ کی حمایت میں اردو صحافی کم ہی نظر آئیں گے۔ جس وقت مسلمانوں کا ایک طبقہ مسلم لیگ سے وابستہ ہو گیا تھا، اس وقت بھی بیشتر اردو صحافی یا اخبارات، چاہے وہ کلکتہ کا آزاد ہند ہو، چاہے وہ انقلاب ہو، چاہے وہ دہلی سے الجمعیت ہو، یا لاہور سے زمیندار ہو یا دوسرے اخبارات ہوں، ان کا کردار قومی یکجہتی والا ہی رہا۔ وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے، مولانا آزاد کے ساتھ رہے۔

خود مولانا آزاد کا البلاغ ہو یا الہلال، انھوں نے ہندوستان کی جد و جہد آزادی کے دوران جو ذہن سازی کی، اس نے مسلمانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی، جس نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے مولوی محمد باقر نے اپنے ’دہلی اردو اخبار‘ میں 1857ء کی بغاوت کا آنکھوں دیکھا حال پیش کرنے کی کوشش کی۔

ہندوستان کی بغاوت کو انگریز حکمرانوں نے غدر قرار دے کر ایک اشتہار چھاپا، اسے جامع مسجد کے دروازوں اور کئی نمایاں مقامات پر چسپاں کیا۔ مولوی محمد باقر نے اس اشتہار کا دندان شکن جواب دیا۔ اس طرح وہ حاکم انگریزوں کی نگاہوں میں کھٹکنے لگے۔ مولوی محمد باقر کو گرفتار کیا گیا اور فرنگی جاسوسی محکمہ کے انچارج کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے حکم سے انہیں 16؍ستمبر 1857ء کو دہلی میں شہید کردیا گیا۔ اس طرح اردو کے پہلے صحافی نے جام شہادت نوش کیا اور حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اور محب وطن کی قربانی ہوئی۔ بقول شاعر؎

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

اردو کا پہلا اخبار

ہم سب جانتے ہیں کہ اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ 27؍ مارچ 1822ء کو کولکاتہ سے جاری ہوا تھا۔ اس کے مالک ہری ہردت اور مدیر سدا سکھ لال تھے۔ اس کے بعد بھی لا تعداد غیر مسلم صحافی اردو صحافت کے فروغ اور اس کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہے۔ اس کی ایک طویل فہرست ہے، جس پر تفصیل سے اور علیحدہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔

آج بھی ملک کا مقبول ترین اخبار ’انقلاب‘ ہو یا ’روزنامہ سہارا‘ یا پھر ای ٹی وی نیٹ ورک، برادران وطن اردو صحافت کے فروغ میں اپنا بھر پور تعاون پیش کر رہے ہیں۔ لہذا ہم اردو کو کسی مذہبی یا مخصوص دائرے میں قید نہیں کر سکتے۔ یہ در اصل اس ملک کی زبان ہے، اس ملک کے لوگوں کی زبان ہے، اس ملک کے ہر باشندے کی زبان ہے، یہی وہ زبان ہے جو شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک بولی اور پڑھی لکھی جاتی ہے۔ اردو صحافت کے دائرے کو بھی ہمیں اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اپنے دو سو سالہ سفر میں اردو صحافت نے کتنے نشیب و فراز دیکھے، کیسے کیسے حالات کا سامنا کیا، اردو صحافیوں نے کتنی صعوبتیں برداشت کیں، اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، ملک و قوم کی بے لوث خدمت انجام دی اور ملک کے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اقدار و روایات کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا۔ غرض یہ کہ اردو صحافت اپنے اندر ایک روشن تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ اردو صحافت کی انہیں خدمات کے اعتراف میں ملک بھر میں پورے سال مختلف مقامات پر جشن کا سلسلہ جاری رہا۔ دہلی، کلکتہ، حیدرآباد، پٹنہ،ممبئی وغیرہ میں مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔

اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن

اس سلسلے میں 30؍ مارچ 2022ء کو دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ملک کی مقتدر اور معتبر شخصیات نے اردو صحافت کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اسی طرح مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن منایا۔

دہلی میں واقع غالب اکیڈمی نے بھی اسی سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ مختلف یونیورسٹیوں، اداروں اور تنظیموں کے زیر اہتمام بھی مختلف پروگرام اور سیمینار وغیرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اخبارات، رسائل اور جرائد میں لاتعداد مضامین قلم بند کئے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان میں سب سے پر وقار اور اہم تقریب حال ہی میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت نے منعقد کی۔

اس میں ملک بھر سے نہ صرف اردو صحافیوں کو شامل کیا گیا، بلکہ دیگر زبانوں کے اہم ترین صحافیوں نے بھی شرکت کرکے نہ صرف اردو اور اردو صحافت پر تبادلہ خیال کیا، بلکہ مجموعی طور پر اردو صحافت کے ’ماضی ، حال اور مستقبل‘ اور موجودہ دور میں صحافت کے کردار پر بحث و مباحثہ کیا گیا۔

اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ

’کاروانِ اُردو صحافت‘ کے عنوان سے 13، 14؍ اور 15؍ نومبر کو منعقد سہ روزہ عالمی جشن اُردو صحافت میں ملک بھر کے سنجیدہ، فعال، وسیع تجربے کے حامل اور صحافت کو صحافتی معیارات پر برتنے والے اہل علم و قلم کی گفتگو نے اس جشن میں چار چاند لگا دئیے۔ سبھی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ واقعی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانے اور شجاعت و قربانی کی مثال قائم کرنے والی تاریخ رہی ہے۔

اگر ہم دیکھیں تو زندگی کا کوئی بھی شعبہ صحافت کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ اردو صحافت نے بھی ملک اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ یہ اردو صحافت ہی ہے جس نے ہمیشہ حقیقی تناظر میں حق اورسچ کو پیش کرنے کو ہی ترجیح دی، جو دراصل حقیقی صحافت ہے۔

باشعور سماج کی تعمیر صحافت کی اہم ذمہ داری ہے، معاشرے کو ظلم و استبداد کے اندھیروں سے نکال کر روشنی سے متعارف کرنے کا نام ہے صحافت ہے، صحافت قوموں کی فکر سازی اور نظریاتی تبدیلی میں ایک کارگر وسیلے کا کام کرتی ہے، قوموں کے عروج و زوال میں صحافت کا اہم رول ہوتا ہے، عوامی ذہن سازی اور فکر سازی میں صحافت کا کردارنا قابل فراموش رہا ہے۔ معلومات پہنچانے میں حقیقت بیانی ،سچ جھوٹ، صحیح غلط، خبر کے تمام ممکنہ زاویوں اور امکانات پر روشنی ڈالنا صحافت کا خاصہ ہوتا ہے۔

دو سو سالہ تاریخ میں اردو صحافت

اپنی دو سو سالہ تاریخ میں اردو صحافت نے ان تمام رموز و نکات کا خیال رکھا اور صحافت کے ان اصولوں کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا۔ آج بھی جبکہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ نفرت کا آتش فشاں بن چکا ہے، نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ اس کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اسلاموفوبیا سے متاثر ہو کر میڈیا میں جھوٹ اور پروپیگنڈہ پر مبنی خبریں چلائی جا رہی ہیں اور بے بنیاد کہانیاں سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں۔ یہی نہیں، کبھی مبینہ ’لو جہاد‘، کبھی ’یوپی ایس سی جہاد‘ اور کبھی ’کورونا جہاد‘ جیسے عنوانات سے مباحثے ہورہے ہیں ۔ لہذا ایسے حالات میں جب موجودہ میڈیا اپنا فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہے اردو صحافت اپنا منصبی کردار اور فرض ادا کرکے صحافت اور ملک کی خدمت میں مصروف ہے۔
بقول افتخار عارف ؎

وقت شاہد ہے کہ ہر بیعت فاسق کے خلاف
خط تنسیخ جو کھنچتا ہے، وہ ہم کھینچتے ہیں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر

0
پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر
پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر

پنجاب کے لوگوں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا لیکن اب یہ سچ ثابت ہو گیا ہے

چنڈی گڑھ: پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ریاست کے 95 فیصد سے زیادہ خاندانوں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا جس سے انہیں بڑی راحت ملے گی۔

مسٹر مان نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ لوگوں کو ہر بل پر 600 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ جس سے پہلی بار 86 فیصد گھرانوں کو بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے اور آنے والے مہینوں میں 95 فیصد سے زائد گھرانوں کو مفت بجلی کا یہ فائدہ گھریلو صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ جنہیں اب تک ہر ماہ بجلی کے بلوں کی مد میں بہت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو بھی وعدہ کرتے ہیں اسے پورا بھی کرتے ہیں۔ صاف نیت کے ساتھ کیے گئے اعمال کے نتائج ہمیشہ اچھے ہوتے ہیں۔ پنجابیوں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا لیکن اب یہ سچ ثابت ہو گیا ہے۔ اب بہت سے خاندانوں نے بجلی کی بچت بھی شروع کر دی ہے، تاکہ وہ 600 یونٹ مفت بجلی کا فائدہ اٹھا سکیں۔ اس سے بجلی کی کھپت میں بھی کمی آئے گی۔

بجلی کی پیداوار بڑھانے کا بڑا اعلان

ریاست میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کا بڑا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایس پی سی ایل۔ جھارکھنڈ میں الاٹ کی گئی پچواڑہ کے قریب کان آپریشنل ہو گئی ہے اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں اس کان سے پنجاب کو کوئلہ سپلائی کیا جائے گا، جس سے پنجاب میں بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ کان 2015 سے بند پڑی تھی اور ہماری حکومت نے اس کان کو شروع کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں جس کے نتیجے میں اب کوئلے کی سپلائی شروع ہونے جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے سرکاری عمارتوں کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے خود کفیل بنانے کے لیے کہا کہ تمام سرکاری عمارتوں میں سولر پینل لگائے جائیں گے جس سے حکومت پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی کم ہوگا اور بہت زیادہ رقم کی بچت ہوگی۔

اس موقع پر وزیر توانائی ہربھجن سنگھ ای ٹی او، چیف منسٹر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اے کے۔ وینو پرساد، پی ایس پی سی ایل بلدیو سنگھ سرن، چیئرمین کم منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔