بدھ, اپریل 8, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 201

فیفا ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے باوجود تاریخ میں ایمباپے کا نام امر

0
فیفا ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے باوجود تاریخ میں ایمباپے کا نام امر
فیفا ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے باوجود تاریخ میں ایمباپے کا نام امر

جہاں لیونل میسی کو فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کو بہترین کھلاڑی کی گولڈن بال دی گئی وہیں دوسرے بہترین کھلاڑی کی سلور بال ایمباپے کو دی گئی

دوحہ: فرانس کے نوجوان سپر اسٹار کائلیان ایمباپے فرانس کو فتح کے انتہائی قریب پہنچانے کے باوجود دوبارہ عالمی چیمپیئن تو نہ بنوا سکے لیکن اپنی عمدہ کارکردگی سے انہوں نے تاریخ میں اپنا نام امر کر لیا۔

محض 23 سال کی عمر میں ورلڈ کپ فائنل کھیلنا اور اس میں گول کرنا کسی بھی کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے لیکن کائلیان ایمباپے نے اس کم عمری میں ناصرف لگاتار دوسرا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ ایک ہی میچ میں چار گول کا نیا عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا۔ لوسیل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں ہیٹ ٹرک سمیت چار گول کرنے والے نوجوان فٹبالر نے عالمی کپ میں سب سے زیادہ 8 گول اسکور کیے اور گولڈن بوٹ کا ایوارڈ حاصل کیا۔

فٹبال ورلڈ کپ کی 92 سالہ تاریخ میں آج تک کسی بھی کھلاڑی نے ورلڈ کپ فائنل میچ میں ایمباپے سے زیادہ گول اسکور نہیں کیے۔ اس سے قبل 2018 میں کروشیا کے خلاف ورلڈ کپ فائنل میں بھی ایمباپے نے گول کیا تھا اور ان کے ورلڈ کپ میں مجموعی گولوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے اور وہ عالمی کپ میں 10 سے زائد گول کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ان دونوں فائنل مقابلوں میں گول کی بدولت نوجوان اسٹار برازیل کے عظیم کھلاڑی پیلے، مغربی جرمنی کے پال بریٹنر اور فرانس کے زین الدین زیڈان کے ہم پلہ ہو گئے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ جیتنے کا تاج میسی کے سر

جہاں لیونل میسی کو ٹورنامنٹ کو بہترین کھلاڑی کی گولڈن بال دی گئی وہیں دوسرے بہترین کھلاڑی کی سلور بال ایمباپے کو دی گئی۔ ادھر دوسری جانب لیونل میسی نے اپنے کیریئر کے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بناتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ جیتنے کا تاج سر پر سجا لیا۔ 25 سالہ میسی نے فائنل میں تین گول سمیت مجموعی طور پر 7 مرتبہ گیند کو گول کی راہ دکھائی اور اپنی ٹیم کو چیمپیئن بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

میچ اور ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیتنے والے میسی دو ورلڈ کپ میں گولڈن بال جیتنے والے دنیا کے پہلے فٹبالر بن گئے ہیں، اس سے قبل انہوں نے 2014 کے عالمی کپ میں بھی گولڈن بال کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ ٹورنامنٹ میں دوسرے سب سے زیادہ گول اسکور کرنے پر میسی سلور بوٹ جیتنے میں کامیاب رہے جبکہ فرانس کے اولیور جیرو کو برانز بوٹ دیا گیا۔

ٹورنامنٹ میں تین کلین شیٹس سمیت فائنل کے ایکسٹرا ٹائم کے آخری لمحات میں شاندار گول بچانے پر ارجنٹائن کے گول کیپر کو بہترین گول کیپر قرار دیا گیا جبکہ 21 سالہ نوجوان اینزو فرنینڈیز ایونٹ کے بہترین ینگ کھلاڑی قرار پائے۔

پورے ٹورنامنٹ میں سب سے کم فاؤل کرنے پر انگلینڈ کی ٹیم کو فیئر پلے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بھارت جوڑو یاترا کے 100 دن بعد کیا ‘آئیڈیا آف انڈیا’ کے جذبہ کو تحریک ملی؟

0
بھارت جوڑو یاترا کے 100 دن بعد کیا 'آئیڈیا آف انڈیا' کے جذبہ تحریک ملی؟
بھارت جوڑو یاترا کے 100 دن بعد کیا 'آئیڈیا آف انڈیا' کے جذبہ تحریک ملی؟

راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ 7؍ ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوا تھا اور 16؍ دسمبر کو 100؍ دن کا سفر مکمل ہوا

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا اب تک 8؍ ریاستوں کے 42؍ اضلاع سے گزرتے ہوئے 2763؍ کلو میٹر، یعنی کل سفر ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کا تقریباً دو تہائی حصہ طے کر چکی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی اس یاترا میں خوف، نفرت، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسئلے کو اہم ایجنڈے کے طور پر پیش کیا ہے۔

انھوں نے یاترا کے 100؍ دن مکمل ہونے پر جو ٹویٹ کیا، اس میں بھی لکھا ہے کہ ’’نفرتوں کے شور میں محبت کی چیخیں گونج رہی ہیں۔ ٹوٹتی ہوئی امیدوں کے درمیان اعتماد کی کڑیاں جڑ رہی ہیں۔ تاریخ کی دھارا نئی سمت مڑ رہی ہے۔ بے روزگاری کے خلاف، مہنگائی کے خلاف، نفرت کے خلاف، ہماری اس تپسیا کو، نہ کوئی روک سکا ہے، نہ روک سکے گا!‘‘

اس طرح انھوں نے ملک کے سنجیدہ عوام کے کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ کیوں کہ آج ملک کا سنجیدہ طبقہ مذکورہ معاملات پر بے حد فکرمند ہے۔ اسے یہ فکر لاحق ہے کہ اگر وقت رہتے اس جانب توجہ نہیں دی تو ملک تاریکی میں چلا جائے گا۔ لہذا راہل گاندھی کی اس یاترا کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ انھوں نے ملک کے ایک بڑے طبقہ کو نہ صرف اپنی جانب متوجہ کیا ہے، بلکہ ان میں امید کی ایک کرن بھی روشن کر دی ہے۔

یاترا کی سب سے بڑی کامیابی

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اس یاترا کی سب سے بڑی کامیابی راہل گاندھی کا ایک سنجیدہ سیاستدان کے طور پر سامنے آنا ہے، جس نے ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی اور کارکنان کو جوش و خروش سے بھر دیا ہے۔ یاترا میں امنڈنے والی بھیڑ اس بات کا بین ثبوت ہے۔ راہل گاندھی اپنی اس یاترا کے دوران یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ یہ وقت نظریات کی جدوجہد کا ہے۔ ایک طرف فرقہ پرست طاقتیں آئین کو بدلنے پر آمادہ ہیں تو دوسری طرف آئین کی پاسداری میں یقین رکھنے والی سیاسی قوتیں ہیں جو ملک کی اقدار و روایات اور اتحاد و یکجہتی کو قائم رکھنا چاہتی ہیں۔

ایسے میں ملک کے عوام کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ نظریات کی اس جد و جہد میں وہ کس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ساورکر اور آر ایس ایس پر مسلسل سوالات اٹھاتے ہوئے راہل نے کانگریسی ہونے کی نظریاتی بنیاد کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ جو کانگریسی مودی کے اقتدار کی طاقت سے خوفزدہ ہیں یا آر ایس ایس کے ساتھ نظریاتی طور پر لڑنے سے ہچکچاتے ہیں، ان کو پارٹی چھوڑنے کے لئے کہنا راہل کی پختگی اور عزم مصمم کو ہی ظاہر کرتا ہے۔

کیا عوام کا اعتماد جیتنے میں راہل واقعی کامیاب ہوئے؟

ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کانگریس اور کارکنان میں تو راہل گاندھی نے جوش بھر دیا ہے، کیا مایوس ہو چکے ملک کے عوام کا اعتماد جیتنے میں وہ واقعی کامیاب ہوئے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے حال ہی میں دو اہم شخصیات کے بیانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت جوڑو یاترا کے 100؍ دن مکمل ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے ’کولکاتہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ میں بالی ووڈ کے ’شہنشاہ‘ امیتابھ بچن نے ’اظہار رائے کی آزادی‘ کا مسئلہ اٹھا دیا۔ فلم فیسٹیول میں مغربی بنگال کے گورنر ڈاکٹر سی وی آنند بوس، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، بالی ووڈ کے ’بادشاہ‘ شاہ رخ خان، اداکارہ رانی مکھرجی اور بنگالی فلم انڈسٹری کی کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔

ہندوستانی سنیما میں سنسر شپ کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے امیتابھ بچن نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ اسٹیج پر موجود میرے ساتھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ شہریوں کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر اب بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ عام طور پر وہ ان مسائل پر بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ امیتابھ بچن کو مودی کا پسندیدہ شخص بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ یہ بولنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کا یہ بیان بہت زیادہ واضح نہیں ہے، مگر اتنا بھی کہنا اس جانب اشارہ ہے کہ موجودہ حالات نے سبھی کو اپنی زبان کھولنے پر مجبور کر دیا ہے۔

فلم ’پٹھان‘ کے ایک گانے پر تنازعہ

وہیں فلم ’پٹھان‘ کے ایک گانے پر جاری تنازع کے درمیان اداکار شاہ رخ خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کا منفی رجحان ایک تفرقہ انگیز اور تباہ کن ذہن سازی کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں سینما کا کردار اہم ہے۔ شاہ رخ خان نے کہا کہ ’دنیا کچھ بھی کر لے، میں، آپ اور تمام مثبت لوگ زندہ ہیں۔‘ یہی وہ سوالات ہیں جو ملک کا ایک بڑا طبقہ جن میں بہت سے دانشور، صحافی اور دیگر افراد شامل ہیں، پہلے ہی اٹھا چکے ہیں۔ لہذا ان بیانات کو ملک کے ’بدلتے موسم‘ کے طور پر بھی دیکھنا چاہئے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا سہرا یقیناً 100؍ دن کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ اور راہل گاندھی کو دینا چاہیے۔ کیوں کہ یاترا کے آغاز سے ہی راہل گاندھی نے ان سوالات کو اٹھایا ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ ’ڈرو نہیں‘۔

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو مین اسٹریم میڈیا نے تقریباً نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے باوجود ایک ریاست سے دوسری ریاست تک لاکھوں لوگ جوش و خروش سے اس یاترا میں شامل ہو رہے ہیں۔ راہل گاندھی لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ’آئیڈیا آف انڈیا‘ پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ جس میں آئین کے ذریعے پہلی بار دلتوں، آدیواسیوں، خواتین کو خاص طور پر آزادی اور مساوات کا آئینی حق دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اقلیتوں کو ان کے مذہب اور شناخت کے ساتھ تمام شہری حقوق کے ساتھ باوقار زندگی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ جس آئین کے ذریعے یہ کام ہونا تھا وہ ہی آج نشانے پر ہے۔

راہل نے انتخابات پر اپنی بھارت جوڑو یاترا کو ترجیح دی

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی ایک بڑی حصولیابی یہ بھی رہی ہے کہ انھوں نے عوام سے مکالمے کی روایت کو زندہ کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمہوریت عوام اور سیاستدانوں کے مکالمے کے پہیے سے چلتی ہے۔ اگر مکالمہ نہ ہو تو جمہوریت میں استحکام اور مضبوطی نہیں رہ جائے گی۔ چند واقعات کو چھوڑ کر، پچھلی کچھ دہائیوں میں سیاستدانوں اور عوام کے درمیان راست مکالمہ تقریباً بند ہو گیا ہے۔ بھارت جوڑو یاترا نے اس تعطل کو ختم کیا ہے۔

یقیناً راہل گاندھی کی یہ بڑی کامیابی ہے۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ذریعے لاکھوں لوگوں سے مکالمہ کیا گیا ہے، جس نے ماحول کو کافی حد تک بدل دیا ہے۔ یہ یاترا اس لحاظ سے بھی بے مثال ہے کہ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی بھی سیاستدان نے ایسی پد یاترا کی ہو جس کا مقصد فوری سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ محبت اور خیر سگالی جیسی انسانی اور تہذیبی خصوصیات کو فروغ دینا رہا ہو۔ اس کی مثال حالیہ گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات اور دہلی میں بلدیاتی انتخابات ہیں۔ راہل گاندھی نے ان انتخابات پر اپنی بھارت جوڑو یاترا کو ترجیح دی۔

ایک یاترا نے پوری کانگریس کو بدل دیا

اس کے علاوہ اس یاترا سے راہل گاندھی کی ’پپو‘ والی شبیہ بنانے والوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔ راہل نے یاترا کے دوران خود کہا ہے کہ ’میں نے پرانے راہل گاندھی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے‘۔ ان کی اسکولی بچوں، نوجوانوں، خواتین، ماہی گیروں، کسانوں اور یہاں تک کہ ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن کے ساتھ بات چیت کے ویڈیوز لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکے ہیں، جس سے وہ ایک سنجیدہ سیاستدان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہی نہیں، اس یاترا نے کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کی مایوسی کو دور کر دیا ہے، جوجی 23؍ کے شور و غل کے درمیان بکھری ہوئی صورت حال کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس یاترا نے نہ صرف راہل بلکہ پوری کانگریس کو بدل دیا ہے۔

آج سماجی کارکنوں سے لے کر سابق بیورو کریٹس، سابق فوجی افسر، سابق جج، دانشور، ادیب، کھلاڑی اور اداکار جس طرح اس یاترا میں شامل ہو رہے ہیں، شاید یہ ممکن نہ تھا۔ آج یہ یاترا ہر اس شخص میں کچھ کرنے کا جذبہ بیدار کرنے میں کامیاب ہے جو ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کو ’حکمرانوں کی منظم نفرت انگیز مہم‘ سے بچانا چاہتا ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

بھارت جوڑو یاترا کا مقصد، عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ: کھابری

0
بھارت جوڑو یاترا کا مقصد، عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ: کھابری
بھارت جوڑو یاترا کا مقصد، عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ: کھابری

راہل گاندھی کی قیادت میں نکالی جارہی بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ملک کے آئینی اقدار کو بچانا اور لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے

اجودھیا: اترپردیش کانگریس کے صدر برج لال کھابری نے جمعرات کو کہا کہ سابق صدر راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی جاری بھارت جوڑو یاترا کا مقصد عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور آئینی اقدار کا تحفظ کرنا ہے۔

اجودھیا میں ریاستی یاترا کا آغاز کرتے ہوئے کھابری نے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک راہل گاندھی کی قیادت میں نکالی جارہی بھارت جوڑو یاترا ملک کے آئینی اقدار کو بچانے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی پد یاترا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگار، خاتون سیکورٹی کے لئے وہ کانگریس کے جھنڈے و بینر کے ساتھ سڑک سے لے کر اسمبلی تک پارٹی کی آواز کو مضبوطی سے اٹھاتے رہیں گے۔ پوروانچل میں نکالی جارہی یاترا کے کنوینر اور ایم ایل اے ویریندر چودھری نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کو جس طرح سے عام عوام کی حمایت مل رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے حکمراں جماعت میں گھبراہٹ پیدا ہورہی ہے۔

سابق ریاستی صدر و سابق ایم پی ڈاکٹر نرمل کھتری نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں نکالی جارہی بھارت جوڑو یاترا پورے ملک میں تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، کاروبار میں مندی، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی کھائی، وسائل کی لوٹ اور کسانوں کی خودکشی میں ہورہا اضافہ اور ان کی خستہ حالی سے پوری ریاست کے ساتھ ساتھ پورا ملک اس کی زد میں ہے۔

نتیش سے استعفیٰ اور معافی کے مطالبے پر مسلسل دوسرے دن اسمبلی میں اپوزیشن کا ہنگامہ

0
نتیش سے استعفیٰ اور معافی کے مطالبے پر مسلسل دوسرے دن اسمبلی میں اپوزیشن کا ہنگامہ
نتیش سے استعفیٰ اور معافی کے مطالبے پر مسلسل دوسرے دن اسمبلی میں اپوزیشن کا ہنگامہ

وقفہ صفر کے بعد اسمبلی اسپیکر مسٹر چودھری نے جب بی جے پی اراکین کے دیئے گئے تحریک التوا کو مسترد کر دیا تو ناراض اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آﺅٹ کر گئے

پٹنہ: بہار اسمبلی میں اہم اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے زہریلی شراب معاملے پر کئے گئے تبصرے کے مد نظر وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے استعفیٰ اور معافی کے مطالبے پر آج مسلسل دوسرے دن بھی جم کر ہنگامہ کیا۔

اسمبلی کی کاروائی جمعہ کو شروع ہوتے ہی بی جے پی اراکین اپنے مطالبات کی حمایت میں کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے پوسٹر لیکر ایوان کے بیچ میں آگئے۔ اسپیکر اودھ بہاری چودھری نے اراکین سے درخواست کی کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں اور ایوان کی کاروائی کو بہتر طریقے سے چلنے دیں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر وجے کمار سنہا سے بھی اپنے اراکین کو منظم کرنے کی گذارش کی لیکن اپوزیشن اراکین نے ان کی ایک نہیں سنی۔

اس کے بعد اسپیکر نے مارشل کو ہنگامہ کررہے اپوزیشن اراکین کے ہاتھوں سے پوسٹر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے شور و غل کے درمیان ہی وقفہ سوالات و جوابات کی کاروائی شروع کی۔

اپوزیشن لیڈر مسٹر سنہا نے کہا کہ اسپیکر کی ذمہ داری ہیکہ وہ ایوان اور چیئر کے وقار کو برقرار رکھیں اس پر اسپیکر نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈر جمہوری اقدار کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہیں ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔

بی جے پی لیڈر پر شراب کی سپلائی کا الزام

دریں اثناء راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) رکن اسمبلی بھائی ویریندر نے بی جے پی پر راست الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بی جے پی لیڈر شراب کی سپلائی کروا رہے ہیں، جس کی گہری تفتیش ہونی چاہئے۔ انہوں نے الزامات لگایا کہ بی جے پی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کر رہی ہے۔

دریں اثناء مداخلت کرتے ہوئے دیہی ترقیات کے وزیر اور جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے چیف وہپ شرون کمار نے اپوزیشن لیڈر کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ لیڈر اپنے اراکین کو بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے ان کے خلاف کے کاروائی کا مطالبہ کیا۔

اسپیکر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنے اراکین کو ایوان میں بد انتظامی پیدا نہیں کرنے دینا چاہئے اور اس کا دھیان رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل مسٹر تیجسوی پرساد یادو جب اپوزیشن لیڈر تھے تب انہوں نے اپنے اراکین کو کبھی ایوان کے بیچ میں جانے کی اجازت نہیں دی۔

جے ڈی یو لیڈر مسٹر شرون کمار کے تبصرے اور مطالبے سے ناراض اپوزیشن اراکین نتیش حکومت کے خلاف رپورٹر کی ڈیسک تھپتھپاتے ہوئے نعرے بازی کی اور زہریلی شراب معاملے پر کئے گئے تبصرے کے مد نظر وزیراعلیٰ نتیش کمار سے استعفیٰ اور معافی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران بی جے پی کے کچھ اراکین دھرنے پر بھی بیٹھ گئے۔ وقفہ صفر کے بعد اسمبلی اسپیکر مسٹر چودھری نے جب بی جے پی اراکین کے دیئے گئے تحریک التوا کو مسترد کر دیا تو ناراض اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آﺅٹ کر گئے۔

فیڈ کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے اشارے سے عالمی مارکیٹ خوفزدہ

0
فیڈ کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے اشارے سے عالمی مارکیٹ خوفزدہ
فیڈ کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے اشارے سے عالمی مارکیٹ خوفزدہ

مرکزی بینک افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے اگلے سال شرح سود میں مزید اضافہ کیا جائے گا، چاہے معیشت کساد بازاری میں ہی کیوں نہ جائے

ممبئی: امریکی فیڈ ریزرو کی جانب سے اگلے سال شرح سود میں مزید اضافہ کرنے کے اشارے پر عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کے دباؤ میں مقامی سطح پر چوطرفہ فروخت نے آج شیئر مارکیٹ میں ہلچل پیدا کردی۔

بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 878.88 پوائنٹس یعنی 1.40 فیصد گرکر تین ہفتوں کے بعد 62 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 61799.03 پوائنٹس پر آگیا۔ اس سے قبل 24 نومبر کو اس نے 62 ہزار کا ہندسہ عبور کیا تھا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 245.40 یعنی 1.32 فیصد گر کر 18414.90 پوائنٹس پر آگیا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح بی ایس ای کی درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے شیئروں پر فروخت کا غلبہ رہا۔ اس کی وجہ سے مڈ کیپ 1.05 فیصد گر کر 26,115.55 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.61 فیصد گر کر 29,802.29 پوائنٹس پر آگیا۔ اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3680 کمپنیوں کے شیئروں میں کاروبار ہوا جن میں سے 1405 کے شیئر خریدے گئے 2152 میں فروخت ہوئے جبکہ 123 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 45 کمپنیوں میں کمی ہوئی جبکہ باقی پانچ میں تیزی رہی۔

عالمی مارکیٹ میں بھاری فروخت

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاویل نے بدھ کے روز کہا کہ مرکزی بینک افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے اگلے سال شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا، چاہے معیشت کساد بازاری میں ہی کیوں نہ جائے۔ اس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں بھاری فروخت ہوئی جس کی وجہ سے برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.69، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.30، جاپان کا نکئی 0.37، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.55 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.25 فیصد تک گر گیا۔

بین الاقوامی رجحان کا اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑا۔ جس کی وجہ سے بی ایس ای کے تمام 19 گروپس سیلنگ کا شکار ہو گئے۔ اس عرصے کے دوران سی ڈی 0.86، ایف ایم سی جی 0.95، فنانشل سروسز 1.19، انڈسٹریل 1.13، آئی ٹی 2.06، ٹیلی کام 0.84، آٹو 0.69، بینکنگ 1.18، کیپٹل گڈز 1.16، کنزیومر ڈیوریبلز 1.37 فیصد، میٹل 1.82، پاور 0.61 فیصد، ریئلٹ 1.25 فیصد اورٹیک گروپ کے شیئر 1.92 فیصد گر گئے۔

کانگریس اور مسلمان: تین ریاستوں کے انتخابی نتائج کے تناظر میں

0

تین ریاستوں کے انتخابی نتائج تین سیاسی جماعتوں کے حق میں آئے ہیں، ساتھ ہی کانگریس اور مسلمانوں کے لئے ایک خاص پیغام بھی دیا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حال ہی میں تین ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں۔ ان انتخابات پر سبھی کی نظریں مرکوز تھیں۔ ان میں دو ریاستوں گجرات اور ہماچل پردیش کی اسمبلیوں کے لئے انتخاب ہوئے، جبکہ دہلی میں کارپوریشن کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ انتخابی سیاست میں یوں تو ہر انتخاب کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، مگر یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت اور رائے دہندگان کا کون سا طبقہ ان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ دہلی، گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج نے اس پہلو کو بہت حد تک واضح کر دیا ہے۔

دہلی میں جہاں عام آدمی پارٹی نے کارپوریشن میں بی جے پی کے 15 سالہ تسلط کو ختم کیا، وہیں گجرات میں 27 سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی بی جے پی نے جیت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ ہماچل پردیش کی روایت رہی ہے کہ یہاں ہر پانچ سال کے بعد اقتدار تبدیل ہوتا ہے۔ لہذا یہاں کانگریس نے اپنے سب سے خراب دور میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، اس لئے وہ مبارکباد کی مستحق تو ہے، مگر اس کامیابی کا اصل سہرہ ریاست کے عوام کے سر جاتا ہے۔

کانگریس اور مسلمانوں کے لیے خاص پیغام

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ تین ریاستوں کے انتخابی نتائج تین سیاسی جماعتوں کے حق میں آئے ہیں۔ ساتھ ہی ان نتائج نے کانگریس اور مسلمانوں کے لئے ایک خاص پیغام بھی دیا ہے۔

کانگریس کے لئے یہ پیغام ہے کہ اگر اس کے لیڈران نے انتخابات کے دوران اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو شکست در شکست کا سلسلہ توڑنے میں اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے پیغام یہ ہے کہ اب اگر انھوں نے سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسی طرح منتشر رہے تو ان کے ووٹ بالکل بے وقعت ہو کر رہ جائیں گے اور کوئی بھی سیاسی جماعت ان کو کوئی اہمیت نہیں دے گی۔

دہلی اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج تو حسب توقع ہی رہے ہیں، مگر گجرات کے نتائج نہ صرف حیران کن بلکہ کانگریس اور مسلمانوں کے لئے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 27؍ سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی بی جے پی کا ریکارڈ جیت درج کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔

جبکہ الیکشن سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ گجرات کے حالات اس مرتبہ بی جے پی کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی نے وہ کر دکھایا جس کی توقع کسی نے نہیں کی تھی۔ شدید اقتدار مخالف لہر کے باوجود وہ ریاست کی 182؍ میں سے 156؍ اسمبلی سیٹیں جتنے میں بی جے پی کامیاب ہو گئی۔ جبکہ کانگریس کی کارکردگی گجرات کی تشکیل سے لے کر اب تک کے 42 سال میں سب سے خراب رہی ہے۔ وہ حکومت مخالف لہر کا فائدہ اُٹھانے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی۔

بی جے پی کی کامیابی حیران کن

کانگریس کو اب بی جے پی سے سیکھ لینا چاہئے کہ وہ کس طرح چھوٹے سے چھوٹا الیکشن بھی بڑے سے بڑے الیکشن کی طرح لڑتی ہے۔ بی جے پی نے ہر وہ قدم اُٹھایا جس سے اسے فتح کی ضمانت مل سکتی تھی۔

انتخابی ضابطہ ٔ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے گجرات پر سرکاری نوازشوں اور اعلانات کی خوب برسات ہوئی۔ اس کے بعد انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں سرکاری نوازشوں کی خوب زور شور سے تشہیر کی گئی۔ طاقت اور وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا، غیر معمولی توانائی صرف کی گئی اور ایسا ہر موضوع اُٹھانے کی کوشش کی گئی جس سے گجرات کے برگشتہ عوام کو اپنی جانب متوجہ کیا جا سکے۔ ورنہ انتخابات سے پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ گجرات کے عوام بی جے پی سے بیزار ہو چکے ہیں۔

ریاست میں سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کا مسئلہ ہو، مقابلہ جاتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کا معاملہ ہو، موربی پل حادثہ ،جس نے 135؍ افراد کی جان لے لی، زہریلی شراب کا سانحہ جس میں 42؍ افراد فوت ہوئے، کورونا دَور کی عوامی بے بسی، کئی قسم کے آندولن اور مہنگائی، نیز بے روزگاری جیسے بحران کے باوجود بی جے پی کی کامیابی حیران کن ہے۔

کیا یہ کانگریس کی بے حسی کا نتیجہ ہے یا اس کی انتخابی عدم دلچسپی، یا پھر عام آدمی پارٹی اور دیگر جماعتوں نے کانگریس کا کھیل بگاڑ دیا؟ ان سب پہلوؤں پر کانگریس کو سوچنا بھی چاہئے اور جواب بھی دینا چاہئے۔ کانگریس کو بتانا چاہئے کہ گجرات میں شدید اقتدار مخالف لہر کا فائدہ اُٹھانے میں وہ کیوں ناکام رہی؟

گجرات اسمبلی میں پہنچنے والے واحد مسلم

گجرات کے انتخابی نتائج مسلمانوں کے تعلق سے بھی حیران کن ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 182؍ رکنی اسمبلی میں اس بار صرف ایک مسلم امیدوار کامیاب ہوا ہے۔ کانگریس کے امیدوار عمران کھیڑا والا نے جمال پور کھڈیا سے بی جے پی کے امیدوار بھوشن بھٹ کو 13؍ ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ وہ اس بار اسمبلی میں پہنچنے والے واحد مسلم رکن اسمبلی ہوں گے۔

ریاست میں تقریباً 11 فیصد مسلم رائے دہندگان ہیں، لیکن صرف ایک امیدوار کامیاب ہوسکا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ریاست کے تقریباً 11؍ فیصد مسلم ووٹر ریاست کی ایک درجن سے زائد سیٹوں پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 182؍ رکنی گجرات اسمبلی میں 30؍ نشستیں ایسی ہیں، جہاں مسلمانوں کی آبادی 15؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ جہاں مسلمان کسی بھی امیدوار کی جیت یا شکست کو یقینی بناسکتے ہیں۔ 20؍ سیٹوں پر مسلمانوں کی تعداد 20 فیصد سے بھی زائد ہے۔

تاہم ،حیران کن بات یہ ہے کہ 10؍ میں سے 8؍ مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی، جہاں مسلمانوں کی تعداد 26؍ سے 48؍ فیصد تک ہے۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں سہ فریقی مقابلے اور ووٹوں کی زبردست تقسیم کی وجہ سے ریاست کے مسلم اکثریتی علاقے بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔

عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین

عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کی زبردست انتخابی مہم نے مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنایا۔ عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں نے مسلم حلقوں کے روایتی ووٹ میں زبردست تقسیم کی، اس طرح بی جے پی ان سیٹوں پر بھی کامیاب ہوگئی، جہاں اس کا کوئی امکان نہیں تھا۔

اگر ہم مسلم امیدواروں کی بات کریں تو اس بار کانگریس، عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین نے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا۔ دوسری طرف بی جے پی کی طرف سے کوئی مسلم امیدوار میدان میں نہیں تھا۔ کانگریس نے جہاں چھ مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا، وہیں مجلس اتحاد المسلمین نے 13؍ مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے، جبکہ ’ آپ‘ نے بھی تین مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیئے تھے۔ لیکن کانگریس کے علاوہ ایک بھی کسی بھی پارٹی کا امیدوار جیت حاصل نہیں کر سکا۔ مسلمانوں نے کانگریس کے علاوہ ہر پارٹی کے مسلم امیدواروں کو تقریباً مسترد کر دیا۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات کا جائزہ

اگر ہم گزشتہ اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو کانگریس کے تین مسلم امیدوار الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچے تھے۔ مسلم اکثریتی آبادی والی 17 سیٹوں میں سے 12؍ پر بی جے پی نے جیت درج کی ہے۔ یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں 6؍ زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر مسلم اکثریتی دریا پور سیٹ پر 10؍ سال سے کانگریس کا قبضہ تھا، جہاں کانگریس کے امیدوار غیاث الدین شیخ بی جے پی کے کوشک جین سے شکست کھا گئے۔ غیاث الدین شیخ کو تقریباً بی جے پی کے امیدوا رسے 6؍ ہزار ووٹوں سے شکست ملی، جبکہ اسی سیٹ پر عام آدمی پارٹی سے ایک مسلم امیدوار تاج محمد قریشی کو چار ہزار 164؍ ووٹ ملے، مجلس کے امیدوارحسن خان کو 1771؍ ووٹ ملے۔

روایتی طور پر مسلمانوں کو بی جے پی کا ووٹر نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے میں یہ بات حیران کن ہے کہ بی جے پی نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ لہذا سوال اٹھتا ہے کہ آخر بی جے پی نے انتخابی جیت کا ایسا کیا فارمولہ تیار کیا ہے کہ اس نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی اپنا جھنڈا لہرانا شروع کر دیا ہے۔

آخر مسلمان کس الجھن کا شکار ہیں؟ ان کے ووٹ کیوں تقسیم ہو رہے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہے؟ اگر یہ بی جے پی کی حکمت عملی ہے تو وہ اس میں کامیاب کیسے ہو رہی ہے؟ ان سبھی پہلوؤں پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ گجرات کے علاوہ دہلی کے کچھ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کامیاب ہوئی ہے۔

yameen@inquilab.com (مضمون نگار ’انقلاب‘ دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش

0
کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش
کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش

ملک ارجن کھڑگے کے کانگریس صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش میں پہلی جیت آنے والے وقت میں پارٹی کو نئی توانائی دینے میں مددگار ثابت ہوگی

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ مسٹر ملک ارجن کھڑگے کے کانگریس صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش میں پہلی جیت آنے والے وقت میں پارٹی کو نئی توانائی دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

کانگریس کے ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے چیف آبزرور مسٹر بگھیل نے یہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے دھواں دار مہم چلائی اور ہماچل پردیش کے لوگوں نے ان کی طرف سے دی گئی 10 ضمانتوں پر بھروسہ کیا۔ اس جیت میں ہماچل کے لوگوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کارکنان بشمول ایم پی راجیو شکلا، تمام قومی سکریٹریوں، ریاستی پارٹی لیڈروں اور عہدیداروں نے دن رات اپنا حصہ ڈالا ہے۔

گجرات میں چونکا دینے والے نتائج

انہوں نے کہا کہ پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ اب لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ جلد ہوگی اس میں اراکین اسمبلی سے رائے لی جائے گی۔ اس کے بعد اعلی کمان کو اس سے واقف کرایا جائے گا، ریاست میں جلد نئی حکومت بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔ مودی کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے بھی بی جے پی کو اتنی سیٹیں نہیں ملیں۔ مسٹر بگھیل نے کہا کہ انہوں نے بھی گجرات میں بھی انتخابی مہم چلائی لیکن یہ صورتحال زمین پر نظر نہیں آئی۔

انہوں نے ریاست کی بھانو پرتاپ پور اسمبلی سیٹ پر جیت کو ریاستی حکومت کے چار سال کے کام پر عوام کی مہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آنجہانی منوج منڈاوی کے علاقے کے لوگوں کے خاندانی تعلقات نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی نے اپنے چیف الیکشن منیجر کو ذمہ داری سونپی اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ نے ان پر ذاتی حملے کیے، سرو آدیواسی سماج سے بھی مدد کی خبریں ملتی رہیں لیکن اس کے باوجود بی جے پی اپنا ووٹ بینک نہیں بڑھا سکی۔

ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شاندار کامیابی

0
ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شاندار کامیابی
ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شاندار کامیابی

کیجریوال نے کہا، ایم سی ڈی انتخابات میں اس شاندار جیت کے لیے دہلی کے لوگوں کا شکریہ اور تمام کو بہت بہت مبارکباد۔ اب ہم سب کو مل کر دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہے

نئی دہلی: دہلی کی حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کے 250 وارڈوں میں سے 134 پر کامیابی حاصل کی ہے اور اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی اے اے پی نے 15 سال سے اقتدار میں رہنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جیت کے بعد ٹویٹ کیا اور دہلی کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور دہلی کی بہتری کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے آشیرواد مانگا۔ مسٹر کیجریوال نے کہا، ’’اس شاندار جیت کے لیے دہلی کے لوگوں کا شکریہ اور تمام کو بہت بہت مبارکباد۔ اب ہم سب کو مل کر دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہے۔

دہلی ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق تمام 250 وارڈوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس الیکشن میں اے اے پی نے 134 سیٹیں جیتی ہیں، بی جے پی نے 104 سیٹیں جیتی ہیں اور کانگریس کو نو سیٹوں سے مطمئن ہونا پڑا ہے۔ دیگر جماعتوں نے تین نشستیں جیتی ہیں۔

دہلی کے لوگوں کو مبارکباد

جیت کے بعد اے اے پی ہیڈکوارٹر پہنچے مسٹر کیجریوال نے کہا، "دہلی کے لوگوں نے 15 سال پرانی بدعنوان بی جے پی کو کارپوریشن سے ہٹاکر اے اے پی حکومت کو اکثریت دی ہے جس کے لئے عوام کا شکریہ۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ دہلی کے لوگوں نے مجھے دہلی کی صفائی، بدعنوانی کو دور کرنے، پارک کو ٹھیک کرنے سمیت کئی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ میں آپ کے اس اعتماد کو قائم رکھنے کی دن رات کوشش کروں گا۔ میں دہلی کے لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ اتنی بڑی اور شاندار جیت کے لیے دہلی کے لوگ تبدیلی کے لیے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

خیال رہے کہ اس سال دہلی میونسپل کارپوریشن دہلی کی تین میونسپل کارپوریشنوں کو ملا کر دوبارہ تشکیل دی گئی ہے۔ اس سے پہلے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے الگ الگ میئر ہوا کرتے تھے لیکن اب صرف ایک میئر کا انتخاب کیا جائے گا۔ وارڈوں کی حد بندی اسی سال کی گئی تھی۔ پہلے کل 272 وارڈ تھے، حد بندی کے بعد ان کی تعداد 250 رہ گئی ہے۔

اس سال کے شروع میں ایم سی ڈی کے پھر سے ایک ہونے کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا۔ 4 دسمبر کو ہوئے انتخابات میں صرف 50.48 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ کل ملاکر 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 73 لاکھ لوگوں نے ووٹ ڈالا۔

دہلی ریاستی الیکشن کمیشن کے ذریعہ شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی دہلی کے خوشحال علاقوں میں میونسپل انتخابات میں سب سے کم پولنگ دیکھی گئی۔ دیہی علاقوں اور شمال مشرقی دہلی کے کچھ حصوں میں، جہاں 2020 میں فسادات ہوئے تھے، سب سے زیادہ پولنگ کا فیصد دیکھا گیا۔

اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری

0
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری

گھریلو سطح پر مسلسل پانچویں بار ریپو ریٹ بڑھانے کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج گراوٹ کا رجحان جاری رہا

نئی دہلی: عالمی سطح سے موصول ہونے والے منفی اشاروں کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک کی جانب سے گھریلو سطح پر مسلسل پانچویں بار ریپو ریٹ بڑھانے کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج گراوٹ کا رجحان جاری رہا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 215.68 پوائنٹس گر کر 62410.68 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 82.25 پوائنٹس گر کر 18560.50 پوائنٹس پر آگیا۔ اس دوران درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں بھی فروخت کا رجحان جاری رہا جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 0.41 فیصد گر کر 26101.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.44 فیصد گر کر 29759.79 پوائنٹس پر آگیا۔

بی ایس ای میں شامل زیادہ تر گروپس نے سرخ نشان دکھایا جس میں یوٹیلٹی، رئیلٹی، پاور، آئی ٹی، ٹیک، بینکنگ، مالیاتی خدمات، دھاتیں، آٹو اور سی ڈی نمایاں طور پر شامل ہیں۔ فائدہ میں صرف ایف ایم سی جی، انڈسٹریل، سی جی اور آئل اینڈ گیس گروپس شامل تھے۔

بی ایس ای میں کل 3641 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 1981 سرخ نشان میں جبکہ 1518 سبز نشان میں دیکھی گئیں۔ 142 میں کوئی تبدیلی نہیں۔

عالمی سطح پر امریکی مارکیٹ کے علاوہ تمام اہم انڈیکس گراوٹ کا شکار رہے۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.20 فیصد، جرمنی کا ڈیکس 0.35 فیصد، جاپان کا نکئ 0.72 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 3.22 فیصد اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.40 فیصد رہا۔

بابری مسجد کی شہادت کی 30 ویں برسی پر اذان دی گئی

0

سعید نوری نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کو تین دہائی ہوگئیں، لیکن ہمارے احتجاج کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہیگا

ممبئی: آج اجودھیا میں مسمار کی گئی تاریخی اہمیت کی حامل بابری مسجد کی شہادت کی 30/ویں برسی پر ممبئی سمیت مہاراشٹر کے متعدد شہروں میں جگہ جگہ اذانیں دے کر احتجاج اور اس کے بعد تشدد میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اس موقع پر رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری نے کہا کہ مسجد کی شہادت کو تین دہائی ہوگئیں، لیکن ہمارے احتجاج کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہیگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین عشرے سے ہر سال 6 دسمبر کو ممبئی سمیت مہاراشٹر کے مالیگاوں، بھیونڈی، ممبرا، اورنگ آباد اور دیگر شہروں میں بابری مسجد کی برسی پر سہ پہر پونے چار بجے اذانیں دی جاتی ہیں، کیونکہ اس وقت مسجد کو شہید کردیا گیا تھا۔

آج جنوبی ممبئی کے اکثریتی علاقہ مینارہ مسجد پر ٹھیک چار بجکر 45 منٹ پر پہلی اذان دی گئی۔ اس کے بعد نواب ایاز مسجد اور مانڈوی پوسٹ آفس کے نزد اور پھر آخر میں مولانا جوہر چوک بھنڈی بازار پر اذان دی گئی، جس کی قیادت رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری نے کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے عقیدے کے مطابق ایک بار مسجد جہاں تعمیر ہوگئی، وہ تاقیامت وہیں رہیگی۔ اس لیے ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔

انہوں نے گیان واپی مسجد کے مقدمہ پر تبصرہ نہ کرتے ہوئے کہا کہ آج 6 دسمبر ہے اور ہم اس کی شہادت اور شہداء کی یاد منا رہے ہیں اور انہیں ایصال ثواب پیش کیا جارہا ہے۔ اس موقع ایک بڑی تعداد میں احتجاجی موجود تھے۔